...................... .................

شخصیات

بھٹوشہید: خوش شکل، خوش لباس اور ذہین و فطین رہنما…… اختر سردار چودھری

ذوالفقارعلی بھٹو 5 جنوری 1928ء کو لاڑکانہ میں پیدا ہوئے۔ وہ سر شاہنواز بھٹو کے تیسرے بیٹے تھے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے بمبئی اور آکسفورڈ یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی۔ 1950ء میں کیلیفورنیا یونیورسٹی سے پولیٹیکل سائنس میں گریجویشن کیا۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد کراچی میں وکالت کا آغاز کیا، اور پھر 1953ء میں ایس ایم لاء کالج میں ...

مزید پڑھیں »

بانو قدسیہ: فیروزپور سے داستان سرائے تک…… راجا نیئر

فنون لطیفہ میں شاذونادر ہی ایسا ہوا ہے کہ زندگی میں وابستہ دو افراد ایک ہی چھت کے نیچے گزر بسر کرتے ہوں لیکن دونوں ہی کسی ایک شعبہ سے وابستہ ہوں۔ خوش قسمت ہوتے ہیں وہ افراد جن کا شعبہ ایک ہی ہو اور اس میں دونوں نے ایک ہی سطح کی ترقی کی ہو، آج ہم آپ سے ...

مزید پڑھیں »

مجددِ عہدِ حاضر: شیخ الاسلام ڈاکٹر طاہر القادری…… اختر سردار چودھری

شیخ الاسلام ڈاکٹر طاہر القادری 19 فروری 1951ء کو جھنگ میں پیدا ہوئے تھے۔ آپ عمرِ عزیز کے ستر برس گزار چکے ہیں۔ آپ نے اس مختصر عمر میں علم و تحقیق کا جو سرمایہ امت مسلمہ کے لیے مرتب کیا ہے وہ قابل تحسین ہے۔ آپ کی علمی و عملی خدمات پر ایک ضخیم کتاب لکھی جا سکتی ہے۔ ...

مزید پڑھیں »

شہیدِ جمہوریت، محترمہ بینظیر بھٹو…… زکریا رائے

ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی زندگی کی ابھی 25 بہاریں ہی دیکھی تھی کہ ان کے گھر ایک ایسی شخصیت کا جنم ہوا جسے تاریخ میں سہنری الفاظ کے ساتھ خراج عقیدت پیش کیا جاتا رہے گا۔ ایسی شخصیت جس سے بابا کو سب سے زیادہ پیار تھا، جس کی تعلیم و تربیت میں بابا نے کوئی کسر نا چھوڑی۔ ...

مزید پڑھیں »

ڈاکٹر طہٰ حسین، بصارت سے محروم ڈبل پی ایچ ڈی سکالر…… ڈاکٹر رئیس احمد صمدانی

پروفیسر ڈاکٹر طہٰ حسین (1889۔ 1973ء) دنیائے عرب کی ایک ایسی عظیم شخصیت کا نام ہے جس کی تمام زندگی حصول علم، فروغ علم اور تر سیل علم سے عبارت ہے۔ مصر کے اس مرد آہن نے تعلیم کے میدان میں ایسے کارہائے نمایاں انجام دئے جنہیں تاریخ میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے سنہرے حروف سے لکھا جا چکا ہے۔ ...

مزید پڑھیں »

ایڈیٹر ادبِ لطیف: آپا صدیقہ بیگم بھی چل بسیں…… محمد نوید مرزا

یہ ان دنوں کی بات ہے جب ا شرف سلیم راولپنڈی سے نیا نیا لاہور آیا تھا اور دفتر میں میرا اس سے تعارف یونس نشاط صاحب نے کروایا تھا۔ ہم دونوں مختلف مزاج ہونے کے باوجود جلد ہی ایک دوسرے کے قریب ہو گئے اور دوستی کا یہ سفر آج تک جاری ہے۔ انہی دنوں اشرف سلیم نے مجھے ...

مزید پڑھیں »

دلدار پرویز بھٹی: بے مثال فنکار، بہترین انسان…… محمد ہمایوں

میرے ماموں کے بیٹوں مظہر اور طارق کے ماموں انور اکرم صاحب دلدار بھٹی کے بہنوئی تھے اور یہ محکمہ کسٹم میں میرے کولیگ تھے۔ دلدار پرویز بھٹی میرے ان عزیزوں کو جانتے تھے اور وہ ٹی وی پر ان کے پروگرام ”میلہ“ میں شریک بھی ہو چکے تھے۔ مجھے اس تعلق کا پتہ تھا، لیکن بھٹی صاحب مجھے نہیں ...

مزید پڑھیں »

پیا نام کا دِیا اور بانو آپا…… اختر سردار چودھری

اردو کی مقبول و معروف ناول و افسانہ نگار بانو قدسیہ اپنے عہد کی قدآور مصنفہ تھیں۔ وہ معروف ادیب اشفاق احمد کی اہلیہ تھیں۔ ان کی کہانیاں، افسانے اور ناول معاشرے کی عکاس ہیں۔ ان کی تحریروں میں حقیت پسندی اور معاشرتی مسائل کی بھر پورجھلک نظر آتی ہے۔ بانو قدسیہ لاہور میں 4 فروری 2017ء کو انتقال کر ...

مزید پڑھیں »

داستان سرائے کا درویش…… حافظ شفیق الرحمٰن

جب میں نے ”داستان سرائے“ کے ”بوڑھے مسافر“اشفاق احمد کے بارے یہ خبر سنی کہ وہ اس سرائے کو چھوڑ کر انجانی اگلی منزلوں کی جانب روانہ ہو گیا ہے تو یہ خبر سنتے ہی ساحر لدھیانوی کی اْس نظم کا ایک مصرعہ جو اس نے آغا شورش کاشمیری کے چھوٹے بھائی یورش کے انتقال پر کہی تھی، میرے حافظے ...

مزید پڑھیں »

بابا جی! اشفاق احمد…… آکاش

پہلے بابا جی پر مضمون لکھنا چاہیے تھا، لیکن یہ واردات سے ہٹ کر بات ہو تی۔ جیسے شہاب صاحب نے ”ماں جی“ لکھا اور بابا جی نے ”اماں سردار بیگم“۔ بھلا اس راستے سے ہٹ کر کیسے لکھا جا سکتا ہے۔ مجھے تو مفتی صاحب کی سمجھ نہیں آ رہی۔ جب جب بھی بابا جی پر لکھنے کے لیے ...

مزید پڑھیں »