...................... .................

سیاحت

سفراشتیاق: قسط 12 پتایا کی واکنگ سٹریٹ، بوڑھی عورت اور کار والی لڑکی…… رانا اشتیاق احمد

جب بیچ روڈ سے میں اپنے ہوٹل کی طرف مڑا تو کونے میں ایک بازار نظر آیا، یہ بازار روشنیوں سے جھوم رہا تھا، گہما گہمی عروج پر اور میوزک کی آواز دبنگ تھی۔ لوگ جوق در جوق اس بازار میں آرہے تھے۔ بازار کے داخلی راستے پر ہلکے ہجوم کی کیفیت تھی اور داخلی راستے کے عین اوپر Walking ...

مزید پڑھیں »

سفرِاشتیاق: قسط 11 مہاراجہ ریسٹورنٹ، چیتا پاکستانی اور مشکوک لیگ پیس…… رانا اشفاق احمد

میں کچھ مزید آگے گیا تو ایک انڈین لڑکے سے ملاقات ہوئی۔ اس نے بتایا کہ انڈین اور پاکستانی کھانوں کے لیے سامنے مارکیٹ میں ہمارے مہاراجہ ریسٹورنٹ میں تشریف لائیں۔ میں نے اس سے پوچھا کہ کیا یہاں کوئی پاکستانی ریسٹورنٹ نہیں ہے؟ اس نے جواب دیا کہ ہمارے ریسٹورنٹ میں ایک پاکستانی لڑکا بھی کام کرتا ہے، آپ ...

مزید پڑھیں »

میروں کے دیس میں: قسط 29 اے وادیِ ہنزہ الوداع…… عرفان ریاض

سامان سے لدے بھاری بھرکم بیگ اپنی کمروں پر لادے ہم اسلام شاہ کے ہوٹل پہنچے۔ ہنزہ میں اپنا آخری برنچ کر کے دربار ہوٹل کی خوبصورت عمارت کے سامنے کھڑے ہو کر علی آباد جانے والی ویگن کا انتظار کرنے لگے۔ پتھروں کے درمیان اس ہوٹل کی عمارت ایک آسودہ مگر مہنگی رہائش تھی جو ہم جیسے ٹورسٹوں کی ...

مزید پڑھیں »

سفرِاشتیاق: قسط 10 معذور انگریز سیاح اور تھائی حسینہ کا نمستے۔۔۔۔۔۔۔ رانا اشتیاق احمد

جب آنکھ کھلی تو میں نے حیرانگی سے کمرے میں دائیں بائیں دیکھا تو پتہ چلا کہ میں پاکستان میں نہیں ہوں۔ نیند نے سب کچھ بُھلا دیا تھا۔ کھڑکی سے باہر دیکھا تو اندھیرا تھا بس روڈ پر گاڑیوں اور دوکانوں کی لائٹیں روشن تھیں۔ میں نے سوچا اللہ کے بندے باہر نکل، کیا ادھر سونے کے لئے آیا ...

مزید پڑھیں »

میروں کے دیس میں: قسط 28 سنتی سے پھر ملاقات، زلف بکھری بکھری سی جسم سویا جاگا سا…… عرفان ریاض

کمرے میں پہنچے تو ایک بار پھر موذی تھکاوٹ ٹانگوں میں اترتی محسوس ہوئی۔ جب تک آپ چلتے رہتے ہیں تھکاوٹ اتنی نہیں محسوس ہوتی جتنی بیٹھنے پر آہستہ آہستہ بدن میں سرایت کرتی محسوس ہوتی ہے۔ پاؤں کو جرابوں اور بوٹوں سے بے نیاز کیا تو دہری ہوتی انگلیوں میں ٹیسیں اٹھنا شروع ہو گئیں اور انگلیوں کی پوریں ...

مزید پڑھیں »

سفرِاشتیاق:9 پتایا بیچ، بھوک کی شدت اور تھائی لڑکی کی سیٹی…… رانا اشتیاق احمد

کمرے میں اے سی چلانے کر کچھ دیر لیٹا تو نیند محسوس ہونے لگی لیکن بھوک سے بُرا حال تھا۔ میں نے سوچا کہی ایسا نہ ہو کہ بھوک کی وجہ سے کوئی حادثہ پیش آجائے، اس لئے کچھ کھا لینا ہی بہتر ہے۔ اس لئے کمرے سے باہر نکلا۔ کھانے پینے کی دوکانیں تو کم نظر آئیں البتہ مساج ...

مزید پڑھیں »

میروں کے دیس میں: قسط 27 دوئی کار، جہاں پربت گیت گاتے ہیں۔۔۔۔۔۔ عرفان ریاض

دوئی کار کے بارے میں جیسا سنا تھا اسے ویسے ہی پایا۔ یہاں پر بت گیت گاتے ہیں، چٹانوں میں ردھم نظر آتا ہے اور قوس قزح جل پری بن کر زمین پر اترتی ہے۔ وادیاں جمال خداوندی کی جلوہ گاہ ہیں تو پہاڑ جلال خداوندی کا پرتو ہوتے ہیں اور دوئی کار میں ہر دو کا امتزاج بکثرت نظر ...

مزید پڑھیں »

بھنبھور: سسی سے ہاتھی دانت کی مصنوعات تک…… علی بھاء

دریائے سندھ سے بہتی ایک نہر، چھوٹی سی پہاڑی، سمندر کا کنارہ اوراس میں لنگر ڈالے رنگین بادبانوں والے جہاز، کئی خطوں سے آتے اور مختلف زبانیں بولتے تاجر، ہر وقت لوگوں سے کھچاکھچ بھرا رہتا شہر کا بازار۔ یہ ہے ماضی کے اس شہر کا منظرنامہ لیکن، اب اس میں صدیوں سے ویرانی ہی بس رہی ہے۔ اب یہاں ...

مزید پڑھیں »

سفرِ اشتیاق: قسط 8 کھٹملوں کا حملہ اور تھائی حسینہ کی ہمدردی…… رانا اشتیاق احمد

واپس کاؤنٹر پر آ کر میں نے اپنا پاسپورٹ آنٹی کو تھما دیا، اس نے 700 باتھ کا مطالبہ کیا تو میں نے اپنا پاسپورٹ واپس مانگا، اس پر خاتون نے دراز سے پاسپورٹ کا ایک بنڈل نکال کر دکھایا، یعنی اس نے یہ ثابت کیا کہ تمام وزٹرز کا پاسپورٹ یہیں جمع رہتا ہے۔ میں مان تو گیا لیکن ...

مزید پڑھیں »

میروں کے دیس میں: قسط 26 کاستن بھوم اور سنتی کا ہنی مون ٹرپ……عرفان ریاض

نیم پختہ مکانوں سے گزر کر ہم کھیتوں کے بیچوں بیچ سے گزرنے والے کچے مگر کشادہ رستے پر آ گئے جس کے دونوں جانب پتھروں کی چھوٹی چھوٹی دیوار تھی اور اس دیوار سے پرے مقامی کھیتوں میں کام کرنے والی خواتین نظر آ رہی تھیں۔ سامنے ایک ہوٹل تھا جس کے ٹیلے نما ٹیرس پر چند غیر ملکی ...

مزید پڑھیں »