...................... .................

بھٹیارن (اجنبی)…… طارق بلوچ صحرائی

تخلیق کار اور قلمکار سے بڑا کوئی بادشاہ نہیں ہوتا وہ خوابوں کے اُڑن کھٹولے پر بیٹھا جہاں جانا چاہتا ہے وہیں پہنچ جاتا ہے۔ ماضی حال، مستقبل اور کائنات کی ہر شے ہر گوشے تک اس کی رسائی ہوتی ہے۔ کتاب بھی ایک خاموش داستان گو ہے، ماضی، حال اور مستقبل کی کہانیاں اس کے صفحات پر بکھری پڑی ہیں۔ نہ گور سکندر نہ ہے قبرِ دارا بڑے بڑے نامی مٹ جاتے ہیں قبروں تک کا نشان باقی نہیں رہتا مگر گئے وقتوں کے انسانوں کے کارہائے نمایاں، زمانوں کا ادبی و تعمیری مزاج، اعزازات، افتخار کبر و غرور کی داستانیں ہم سے کون بیان کرتا ہے کوئی بھی تو نہیں یہ اعزاز صرف اور صرف کتاب کو حاصل ہے جس کا ورق ورق زمانوں کے خدوخال، عروج و زوال سے مزین ہم تک آن پہنچتا ہے. قلمکار کو کتاب سے بڑھ کر کوئی راستہ، کوئی وسیلہ دستیاب نہیں ہو سکتا جس پر چلتے ہوئے وہ آنے والے زمانوں تک پہنچ سکے۔ ایک وقت تھا جب داستان گو ہوا کرتے تھے۔ کہانی سُننا کہانی سنانا اور داستان گوئی ہماری ثقافت کا حصہ ہوا کرتی تھی کسی بھی علاقے کے تہوار، رسم و رواج اور ثقافت اس علاقے کے رہنے والوں میں سانجھ اور خوشی و انبساط کے جذبے کو پروان چڑھاتے ہیں اور ان میں ہم آہنگی اور یکجائی کو مضبوط کرتے ہیں۔ اساطیر اور داستانوں سے آدمی کا تعلق اُتناھی پرانا ہے جتنا کہ انسان خود، ماں کی گود کے لمس کا خمار اسے چاند پر چرخے پر سوت کاتتی بڑھیا تک پہنچا دیتا ھے جو اس کی انگلی کو پکڑ کر کوہ قاف پر لے جاتی ہے۔ جہاں پریاں رقص کر رہی ہوتی ہیں۔ جہاں پانی کے میٹھے چشمے بہہ رہے ہوتے ہیں جہاں پنچھی لہراتے اور گاتے اُڑ رہے ہوتے ہیں جہاں مور مستی میں آکر ناچتا ہے۔ جہاں صرف خوابوں کا بسیرا ہے جہاں زندگی صرف خوشی و مسرت کا دوسرا نام ہوتی ہے۔ جہاں اسے بتایا جاتا ہے ہماری زمین کو بیل نے اپنے سینگوں پر اُٹھایا ہوا ہے اور جب وہ تھک جاتا ہے تو زمین کو دوسرے سینگ پر اُٹھا لیتا ہے۔ زمین کو ایک سینگ سے دوسرے سینگ پر منتقل کرنے کے ا س عمل سے جو ہچکولاآتا ہے اسے زلزلہ کہتے ہیں۔

جب ہجر ڈس لیتا ہے تو انسان انتظار کے نیلے سانسوں سے خوفزدہ ہو کر کہانیاں بُننا شروع کر دیتا ہے۔ لاشعوری طور پر وہ داستانوں اور کہانیوں کو وصل کا بدل سمجھتا ہے، اسے موت سے شدید نفرت ہے وہ کچھ بھی گنوانا نہیں چاہتا اس لئے وہ ہر بچھڑ جانے والے، مرنے والے، گم ہو جانے والے اور بدل جانے والے کو یاد کی آکسیجن کے ذریعے زندہ رکھنے کی سعی کرتا ہے اور جس کو آگہی کا روگ لگ جائے اس کی ہجرت بھی عجیب ہوتی ہے خانہ بدوشوں کی طرح یعنی ایک ویرانے سے دوسرے ویرانے میں، جب کوئی تہذیب اُجڑتی ہے تو حساس انسان اپنے ہی وجود میں مہاجر بن جاتا ہے وہ کواڑوں کو اندر سے کھٹکھٹاتا ہے ہاتھوں سے پیٹتا ہے مگر اسے یہ جان کر دکھ ہوتا ہے کہ کنڈی تو باہر سے لگی ہوئی ہے جہاں ایک بھی قابیل پیدا ہو جائے وہاں پوری تہذیب ہابیل بن جایا کرتی ہے۔ داستان گوئی اور بُت پرستی شاید انسان کی جبلت میں شامل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے من کے مندر میں کوئی نہ کوئی مورتی مقفّل رہتی ہے اور ہر دور کے ہیر رانجھا کو کسی وارث شاہ کی آرزو رہتی ہے کوئی بچھڑ جائے تو زندگی مقفّل ہو جاتی ہے۔ درد آواز چھین لے تو الفاظ بے بسی کی آہ بن کر دلوں کو یوں چھوتے ہیں کہ ٹھہرا ہوا خون گردش کرنے لگتا ہے اور متروک گنگ الفاظ پھر زندہ ہونے لگتے ہیں۔

حیف ہے اس دنیا پر جس نے وقت کو ماضی، حال اور مستقبل میں بانٹ دیا ہے، سرائے میں بیٹھے ہر شخص نے غور سے اس عجیب لباس میں ملبوس اجنبی مسافر کی طرف دیکھا جس کی کلائی پر کوئی عجیب سی چیز بندھی ہوئی تھی، جس میں لگی تین سوئیاں حرکت کر رہی تھیں اس کا حلیہ مقامی لوگوں سے بہت مختلف تھا یوں لگتا تھا جیسے وہ کئی قرنوں کا فاصلہ طے کر کے یہاں پہنچا تھا۔ اجنبی مسافر نے لوگوں کی طرف دیکھا جن کی آنکھوں میں حیرت کا کاجل چمک رہا تھا اجنبی مسافر مسکرایا اور اپنی کلائی پر بندھی گھڑی کی طرف دیکھ کر بولا: زنگ آلود قفل کے ہجر کے علاوہ بھی کئی دکھ ہوتے ہیں اور چلتے سمے کو لگے ز نگ میرا سب سے بڑا دکھ ہے۔ یہ رستا ہوا گھاؤ میری آنکھوں کے میدانی مزاج کو سمندر بنا دیتا ہے. کاش! انسان کو لمحوں میں پیار بھرنا آ جائے تو پھر لمحے کیا، سال کیا صدیاں روشن ہو جاتی ہیں، سمے خوشبو اور زندگی دھنک بن جاتی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ خوشبو کا اصل ادراک صرف خزاں گزیدہ ہی کو ہوتا ہے۔ محبت پوری کائنات میں رقصاں ہے جسے معلوم ہو جائے تو وہ دھوپ چھاؤں کو صرف برداشت ہی نہیں کرتا لطف اندوز بھی ہوتا ہے۔

اے اجنبی مسافر تو کہاں سے آیا ہے اور تجھے کس کی تلاش ہے، ایک بوڑھے نے جس کا چہرہ چراغ سحر کی طرح چمک رہا تھا سوال کیا:

میں مستقبل سے آیا ہوں مجھے اپنی تلاش ہے کیونکہ میں بدل گیا ہوں جو مرکز سے دور ہو جائے یا بدل جائے وہ دراصل گم ہو جایا کرتا ہے بدل جانا یا گم ہو جانا مفہوم ایک ہی ہوتا ہے. اجنبی مسافر نے جواب دیا مستقبل سے؟ کئی آوازیں اُبھریں

ہاں مستقبل سے اس نے جواب دیا:

جہاں اونچی عمارتوں نے وحشت خرید لی ہے جہاں ہجوم کرگِساں ہے۔ جہاں جنگلوں اور صحراؤں میں بھی اسیری ہے جہاں ہر شخص بھوک کے خوف کے زنداں میں قید ہے۔ جہاں وقت کے فرعونوں کو ’’کرونا‘‘ کو آ کر سمجھانا
پڑا کہ حقیقی بادشاہت کس کی ہے اور فطرت کو کثافت پسند نہیں ہے۔

ہم کچھ سمجھے نہیں یہ کرونا کیا ھے؟ بیک وقت کئی آوازیں گونجیں۔

اجنبی مسافر نے ہجر کی طرح جلتے ہوئے چراغ کی طرف دیکھا اور بولا:

’’کرونا‘‘ طاعون کی طرح ایک وباء ہے۔ یہ وہ ڈائن ہے جو خون پیتی ہے، لگتا ہے شاید کسی مظلوم نے آسمان پر کوئی FIR درج کروا دی ہے۔

مگر کوئی مستقبل سے کیسے آ سکتا ہے؟ ایک نوجوان بولا:

اجنبی مسکرایا:

میں اصحاب کعف کے قصے کا حوالہ نہیں دوں گا۔ مگر اتنا کہوں گا، وقت کا راز ابھی تک راز ہے۔ وہم آدھی بیماری ہے کیا آپ کو سب اور مکمل علم عطا ہو چکا ہے اگر نہیں تو جو اس وقت نظر آ رہا ہے. اسی پر یقین کر لو انسان کا سفر مستقبل کی طرف ہوتا ہے مگر اس کا محبوب ہمیشہ ماضی ہی ہوتا ہے جہاں سے میں آیا ہوں وہاں پھیپھڑے صرف گدلی ہوا ہی سہہ سکتے ہیں جہاں شفائی نابینا کر دیتی ہے جہاں شاہِ وقت کی تھوکی ہوئی زندگی جینا پڑتی ہے جہاں چُپ کی زہریلی وبا پھیل چکی ہے۔ مستقبل کے پاس سب کچھ ہے یہی اس کا المیہ ہے اسی لئے تو اسے کچھ بھی نہیں ملتا کیونکہ جس کے پاس کچھ نہیں ہوتا وہ چراغ ہوتا ہے۔ روغن کا بندوبست مالک کے ہاں ہے اور خالی ہوئے بغیر مالک کے یہاں سے چراغی نہیں ملتی۔ آپ لوگ اچھے ہیں خوش قسمتی سے آپ کے ہاتھ خالی ہیں یا مالِ دنیا بہت کم ہے۔ ہمارے پاس بہت کچھ تھا اسی تکبر کی وجہ سے ہم نے دو عالمی جنگیں لڑیں اور کروڑوں انسانوں اور اللہ کی تسبیح کرتی مخلوق کو فنا کی اذیت سے آشنا کیا ہم نے اس دھرتی کو ہیروشیما اور ناگا ساکی کی قیامتیں دیں ہم نے ثابت کیا ہم انسان سے خونخوار درندے بن چُکے ہیں۔ جنگ موت کا دوسرا نام ہے جب تک جنگ جاری رہتی ہے لاشوں کا رقص جاری رہتا ہے گورکنوں کی کدالوں کی موسیقی بجتی رہتی ہے جنگ کے بعد زندہ رہ جانے والے اکثر فاقوں سے مر جاتے ہیں۔ فاتح قبرستان آباد کرنے کی خلش لئے دنیا چھوڑ جاتے ہیں اور اہلِ دانش سیاہ لاشوں کے تعفن سے گُھٹ کر مر جاتے ہیں۔

اے اجنبی سیانے تو کس زمانے سے آیا ہے ایک بوڑھے نے جس کی جھریوں نے اس کا سارا چہرہ فتح کرلیا تھا سوال کیا:

میں نے بتایا نہ میں مستقبل سے آیا ہوں اور پھر وہیں لوٹ جاؤں گا جہاں اب بھی لوگ سچی کڑوی باتوں کو سُن نہیں سکتے سب سقراط کو زہر پلانے والے قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں۔ جہاں اب بھی دانش کے پیالے کو زہر ہی سے بھرا جاتا ہے جہاں فضا اب بھی سرمایہ دارانہ نظام کے تعفن سے بھری پڑی ہے جہاں سانس لینا بھی محال ہے۔ یہ زرپرست متعفن لوگ خوشبو کی بات کر ہی نہیں سکتے اور غریب کے درد کا احساس تو خوشبو سے منسلک ہے۔ نہ جانے کیوں سرمایہ داروں کی ہتھیلیوں سے خون کی بو آتی ہے۔

بھٹیارا اُٹھا اور بولا:

اے اجنبی مسافر یہاں صدیوں سے ایک روایت ہے آتے جاتے قافلے یہاں سرائے میں دم لیتے ہیں رات گزارتے ہیں بھٹیارن سے کہانی سنتے ہیں اور پھر اپنی منزل کی طرف بڑھ جاتے ہیں۔ اجنبی مسافر بڑے دُکھ سے بولا مگر میں جس زمانے سے آیا ہوں وہاں کہانی سنانے کی روایت کب کی مر چکی ہے اگرچہ وہاں ہر شخص خود ایک کہانی ہے جس کی آنکھوں کی بے نوری کے پیچھے کئی خوابوں کئی دلاسوں کا لہو بکھرا ہوا ہے۔ وہاں سب اکٹھے ہو کر اپنی اپنی زندگی جیتے ہیں یہاں تک کہ ہجوم میں ہر آدمی اکیلا ہوتا ہے جہاں اب دستار کے قابل کوئی سر نہیں ملتا۔ جہاں اب گھر کی کانچ لگی منڈھیروں پر چراغ نہیں جلتے نہ پرندے چہچہاتے ہیں نہ کاگا کسی مہمان کے آنے کا سندیسہ دیتا ہے۔ مکّر و فریب کے شیر نے معصوم بیلوں کو جُدا کر کے شکار کرلیا ہے۔ آبادیاں وہاں اب ریوڑ کی طرح ہیں جنہیں سدھائے ہوئے سگ ہانکتے ہیں وہاں ہر شہر ہر نگر میں کئی پاگل خانے کئی نفسیاتی شفاخانے ہیں مگر کوئی ایسا کندھا نہیں ملتا جو لوگوں کو پاگل ہونے سے بچا لے جو خود کُشی سے بچالے جو جی بھر کر رونے دے جوبار بار کہے مت رونا نہ رونا میں ہوں ناں، میں ہوں ناں حاکم رعایا کے ساتھ ایسے رہتے ہیں جیسے مندر میں کوئی بُت رہتا ہے۔

سرائے میں موت کی سی خامشی چھا گئی ایسا سناٹا ایسی چپ کہ جس میں بُتوں کو بھی خدا یاد آ جاتا ہے۔
بھٹیارا اُٹھا اور اس نے دوسرا چراغ بھی جلا دیا۔

بھٹیارن نے کہانی سننا شروع کی۔

سُنا ھے پرانے وقتوں میں سورج دیوتا کے بیٹے، بھاگا کو چاند دیوتا کی بیٹی چندرا سے محبت ہو گئی بھاگا کو گمان تھا دنیا سورج کی روشنی کے بغیر نہیں رہ سکتی۔ پس اس نے دُور ایک جگہ کی طرف اشارہ کیا اور چندرا سے کہا جو پہلے پہنچے گا دنیا ہمیشہ اس کا نام پہلے لے گی۔

سرائے میں ایک نوجوان مسافر اٹھا اور بولا اے بھٹیارن تیری کہانیاں تو ہم آتے جاتے سُنتے آئے ہیں آج کیوں نہ اس اجنبی مسافر کی کہانی سُن لیں جو یہ کہتا ہے میں آنے والے وقتوں سے آیا ہوں یہ دُکھی لگتا ہے یہ ہمارا مہمان ہے کیوں نہ ہم اس کو اپنا کندھا پیش کریں یہ جی بھر کر رولے تا کہ یہ دوبارہ اپنے زمانے میں واپس چلا جائے جہاں بھیڑ میں بھی تنہائی ہوتی ہے جہاں میں رشتوں کا لفظ گنک اور متروک ہو چکا ہے اور لمس کو چُپ لگ گئی ہے۔
بھٹیارن خاموشی سے بیٹھ گئی۔

اجنبی مسافر کا ماتھا خوشی سے دمکنے لگا جیسے اسے کوئی کندھا مل گیا ہو یا کوئی بچھڑنے والے لوٹ آیا ہو
وہ مسکرایا اور بولا:

ادھوری کہانیاں دُکھ تو دیتی ہیں مگر پیاس بھی بڑھا دیتی ہیں ہمیں پیاس کو قائم رکھنے کے بعد بھید سے آشنا ہونا ہے پیاس کو بجھنا نہیں چاہیے وگرنہ کنویں کی تلاش رک جاتی ہے اور ایک دریافت ہونے والا کنواں کئی زندگیاں بانٹتا ھے ایک مسافر اُٹھا اور بولا اے پراسرار اجنبی مسافر تیری بائیں آنکھ اور سیدھی گال پر بڑا خوبصورت تِل ہے جس کی وجہ سے تو ہمیں ہمیشہ یاد رہے گا۔

اجنبی مسکرایا اور بولا ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم نشانیوں کے غلام ہیں صرف اسی لئے تو ہم کو بے نشانیوں کا ادراک نہیں چراغ کی ٹمٹاتی لو میں وہ ایک درویش کی طرح بڑا پیارا لگ رہا تھا۔ کہانی شروع کرنے سے پہلے اس نے دیے کی لو کو دیکھا معلوم نہیں کہاں سے آٹھ دس پروانے آن پہنچے تھے اور دیکھتے ہی دیکھتے چار پانچ نے اس کی لو پر اپنی ننھی سی جان نچھاور کر دی تھی۔

وہ پروانوں کو دیکھ کر بولا جہاں بھی چراغ جلے تو پروانے پہنچ ہی جاتے ہیں انہیں جانیں نثار کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا بالکل ایسے ہی صدیوں پہلے عرب کے صحرا میں ایک چراغ جلا تھا تو دنیا بھر کے خوش نصیب پروانے ان کے گرد منڈھلانے لگے اور اپنی جانیں نچھاور کرنے لگے۔ وہ ایسا چراغ تھا جس سے ساری کائنات بقہء نور بن گئی اور فضا خوشبوؤں سے بھر گئی اور فلک دھنک رنگوں سے سج گیا ساری انسانیت اس محسنِ انسانیت کے چراغ کی احسان مند اور شکر گزار ھے جس نے ان کو اندھیروں سے نکالا اور زیست اور حاصل زیست کاراز عطا فرمایا۔ سرائے میں درودِ پاکؐ کی خوشبو پھیل گئی۔

اس نے اپنے آنسو پونچھے اور بولا:

اب ایک میرا زمانہ ہے جہاں شمع بھی بے حرارت ہے برسات کا زمانہ بھی جن کو پروانے نہیں دیتا اب ہر طرف اندھیرا ہی اندھیرا ہے۔ میرے دور کی چمگادڑوں کو یہ فکر نہیں کہ اندھیرا کہاں گیا انہیں خوشی ہے جو اندھیرا انہیں اب میسر ہے، گئے وقتوں سے لے کر اب تک دھرتی پر ایسی تاریکی کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ یہ میرے زمانے کی کہانی ہے۔ تین کاروباری شناسا بہت دُور دوسرے علاقے میں گئے راستے میں انہیں کوئی چھوٹا سا جنگل پڑتا تھا جنگل کے اختتام کے قریب انہیں ایک ٹرنک ملا جس میں بہت سی دولت تھی آپس میں جھگڑا شروع ہو گیا کہ یہ دولت میری ہے کافی دیر بحث مباحثہ کے بعد طے پایا تینوں اس کو برابر تقسیم کریں گے اس دوران ان کو بڑے زور کی بھوک لگی فیصلہ یہ ہوا کہ کھانا کھانے کے بعد اس کو آپس میں بانٹ لیں گے ایک شناسا کو بازار سے کھانا لانے بھیج دیا گیا لالچ غالب آیا تو دونوں نے فیصلہ کیا کہ جب وہ آئیگا تو قتل کر دیں گے اور رقم کو دونوں آپس میں بانٹ لیں گے اور انہوں نے ایسا ہی کیا جب وہ واپس آیا تو دونوں نے اس کو مل کر مار دیا۔ کھانا کھانے کے بعد رقم تقسیم کرنے لگے تو وہیں ڈھیر ہو گئے کیونکہ تیسرے شناسا نے ساری دولت خود لینے کے لئے کھانے میں زہرملا دیا تھا۔ تینوں جان سے گئے اور دولت وہیں کی وہیں دھری رہ گئی۔ سرائے میں یہ کہانی سن کر کچھ رونے لگے اور کوئی افسوس کا اظہار کرنے لگے۔ سرائے میں ایک بوڑھا اٹھا اور بولا اے اجنبی مسافر تو صحیح کہتا ہے انسان کی ملکیت تو اس کے سائے جتنی ہی ہے باقی سب تو تجاوزات ہے لیکن ایسی کہانی تو ہمارے پُرکھے بھی سناتے تھے وہ کہتے تھے یہ تین دوستوں کا قصہ تھا جنہوں نے شیطان کے ورغلانے پر لالچ میں آکر نقصان اٹھایا ، ملتا تو وہی ہے جو مقدر میں ہوتا ہے۔

اجنبی مسافر مسکرایا اور بولا:

آپ درست کہتے ہیں بابا جی مگر میرے زمانے میں اب کوئی کسی کا دوست نہیں رہا جب کردار کو زوال آتا ہے تو لفظ بھی زوال کا شکار ہو جاتے ہیں پھر الفاظ کے شجر میں معنی کے پھل نہیں لگتے اب وہاں کوئی کسی کا دوست نہیں ہے سب ایک دوسرے سے فقط شناسا ہیں ان کی ایک ایجاد عارضی تعلقات ہیں یعنی اگر مفاد مشترک ہوں تو کچھ قدم ساتھ بھی چل لیتے ہیں کبھی کبھی جذبات میں آکر اسے دوستی بھی کہہ لیتے ہیں مگر یہ دوستی نہیں ہوتی دوست تو وہ ہوتا ہے جس کی لاش سے گزر کر ہی کوئی تم تک پہنچے آپ کے لئے تو یہ فقط ایک قصہ، کہانی ہوگا مگر بدقسمتی سے یہ ہماری تہذیب کا لازمی جزو بن گئی ہے. ہمارے ساتھ المیہ یہ ہوا کہ ہم پرندوں سے توکل نہ سیکھ سکے وگرنہ ہم بھی ان کی طرح بے فکرے ہوتے۔ بھوک کا خوف ہم پر غالب آ گیا ہے۔ جب بھوک کا خوف بسیرا کرلے بقا کی جنگ کو تہذیب کہتے ہیں یہ ذخیرہ اندوز انسانوں کو بھوکے بھیڑیے بنا دیتی ہے جب بھوک غالب آ جائے تو پھر کونسی تہذیب، کونسی معاشرت اور کونسی اخلاقیات رہ جاتی ہے ۔ بھوک جی اُٹھے تو انسانیت مرجاتی ہے، بھوک مر جائے تو انسانیت جی اُٹھتی ہے۔ ہمارے دِلوں میں چور چُھپ گئے ہیں بدقسمتی سے جس کے دل میں چور ہو گا اسے ہر سامنے آنے والا سگ نظر آتا ہے۔

بوڑھا دُکھی ہو کر بولا:

ہمیں بڑا دُکھ ہوا ہے اے اجنبی مسافر ہم جنت سے آئے تھے مگر اپنی تقدیس بھول گئے ہیں شاید اسی لئے ہم دوزخ کو آباد کرنا چاہتے ہیں شاید کچھ آباد بھی ہو گئی ہے اے اجنبی شاید تیرے زمانے میں مکمل ہو گئی ہو گی۔

بھٹیارا بولا:

اس کا واحد حل پریت ہے پھر زباں بات کرے گی محبت پانی کی صورت صحرا کی رگوں میں اُترے گی اور دریا یہ منظر دیکھ کر کروٹ لے گا اور اسی کا گیت شروع ہوجائیگا بس دھرتی کے ساتھ رویہ بدلنا ہوگا اور دھرتی کی نظر اُتر جائیگی محبت والی آنکھ اسرار کیوں نہ دیکھے کہ سب سے بڑا ستّار خود محبت کا عاشق ہے۔

بھٹیارن نے اپنے آنسو اپنے پَلُو سے صاف کئے اور بولی اے اجنبی مسافر اپنے زمانے والوں سے کہنا اس زخمی زخمی تاریخ کے پیچھے مت جھگڑنا مورخ ہمیشہ فاتح کا قصیدہ لکھتا ھے سائنس کی ترقی اور مہلک ہتھیاروں نے تجھے طاقتور بنا دیا ھے اور یہ سچ ھے کہ طاقت کی کوئی اخلاقیات نہیں ہوتی لیکن اگر طاقتور اخلاقیات کے دائرے میں رہے اور عاجزی کی دستار پہن لے تو رب اسے اپنا قرب عطا فرماتا ہے۔ سنو جہاں محبت نہیں ہوتی جہاں گفتگو کی بھوک اور وصل کی چاہت نہیں ہوتی وہاں آنکھ خواب اور بے لباسی صرف کفن مانگتی ہے اور تسخیر میں صرف راکھ ہی ہاتھ آتی ہے۔

پھر اس کے موٹے جسم نے جُھرجھری لی اور بولی اے اجنبی مسافر تو اپنے زمانے میں واپس لوٹ جا اور ان کو بتا تم بدبخت رب کو بھول بیٹھے ھو وہ تو بے نیاز ھے خدا نہ کرے خدا نہ کرے اگر رب ذوالجلال بھی تم کو بھول گیا پھر کائنات کی کوئی چیز تم کو بچا نہ پائے گی جب وہ بھلانے پہ آتا ھے تو دنیا کیا، اپنے کیا، اولاد کیا تابوت بھی اپنے لاشے پہچاننے سے انکار کر دیتے ہیں۔

وہ اجنبی مسافر رنجیدہ ہو کر اپنے زمانے میں لوٹ آیا ھے سنا ھے مگر وہ اپنا آپ وہیں چھوڑ آیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جواب لکھیں

%d bloggers like this: