...................... .................

باغی تخت لہور دے…… میم سین بٹ

لاہور شروع ہی سے پنجاب کا صوبائی دارالحکومت چلا آرہا ہے اور محمود غزنوی کے دور سے لے کر تقسیم ہند تک بیرونی حملہ آور ہی تخت لاہور پر قابض رہے ہیں بلکہ آزادی کے بعد بھی ربع صدی تک باہر کے لوگ پنجاب پر حاکم رہے ہیں، تخت لاہور پر بیٹھنے والا پہلا پنجابی حاکم آدینہ بیگ اوردوسرا رنجیت سنگھ تھا۔ آدینہ بیگ کا تعلق جالندھر کے آرائیں خاندان جبکہ رنجیت سنگھ کا گوجرانوالہ کے سکھ گھرانے سے تھا، لاہور کے رہائشی پہلے مقامی وزیراعلیٰ ملک معراج خالد، دوسرے حنیف رامے اور تیسرے نواز شریف تھے بلکہ نواز شریف کو لاہور شہر میں پیدا ہونے والے پہلے وزیراعلیٰ بننے کا اعزاز حاصل ہوا۔ وہ تین مرتبہ وزیر اعلیٰ اور بعدازاں تین مرتبہ ہی وزیراعظم کے عہدے پر بھی فائز رہے، نواز شریف کا ریکارڈ ان کے چھوٹے بھائی شہباز شریف نے توڑا، شریف برادران کی وجہ سے ہی جنوبی پنجاب صوبہ تحریک نے نیا جنم لیا تھا۔

آزادی سے قبل پنجاب کے گورنرز تو انگریز رہے لیکن وزرائے اعلی بھی لاہور کے نہیں رہے تھے، سر سکندر حیات خاں اٹک اور سر خضر حیات ٹوانہ سرگودھا سے تعلق رکھتے تھے، تقسیم ہند کے بعد بھی پنجاب کے بیشتر گورنرز اور وزرائے اعلی کا تعلق لاہور سے نہیں تھا۔ آزادی کے بعد پنجاب کے گورنرز میں سے میاں امین الدین، میاں محمد اظہر، خواجہ احمد طارق رحیم اور سلمان تاثیر جبکہ وزرائے اعلیٰ میں سے ملک معراج خالد، حنیف رامے، نواز شریف اور شہباز شریف لاہور شہر سے تعلق رکھتے تھے بلکہ وزرائے اعلیٰ میں سے صرف شریف برادران ہی لاہور شہر کے جم پل ہیں۔

تقسیم ہند کے بعد پنجاب کے وزیراعلیٰ رہنے والے نواب افتخار حسین خان ممدوٹ فیروز پور (مشرقی پنجاب) کے رہنے والے تھے جبکہ میاں ممتاز دولتانہ کا تعلق وہاڑی، ملک فیرو زخان نون خوشاب، سردار عبدالحمید خان دستی مظفر گڑھ، ملک غلام مصطفٰے کھر مظفر گڑھ، صادق حسین قریشی ملتان، غلام حیدر وائیں میاں چنوں خانیوال، میاں منظور وٹو اوکاڑہ، سردار عارف نکئی قصور، چوہدری پرویز الہیٰ گجرات، سردار دوست محمد کھوسہ ڈیرہ غازی خاں اورسردار عثمان خاں بزدار بھی ڈیرہ غازی خان سے تعلق رکھتے ہیں۔ پنجاب کے سابق نگران وزرائے اعلیٰ شیخ منظور الہیٰ میاں افضل حیات، شیخ اعجاز نثار، نجم سیٹھی اور حسن عسکری رضوی میں سے بھی غالباً کوئی لاہور کا جم پل نہیں تھا۔

لاہورکے تخت پر آزادی کے بعد زیادہ عرصہ دوسرے علاقوں کے لوگ قابض رہے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تعداد جنوبی پنجاب کے سیاستدانوں کی تھی موجودہ وزیراعلیٰ عثمان بزدار بلکہ وزیراعظم عمران خان بھی جنوبی پنجاب سے تعلق رکھتے ہیں، ماضی قدیم میں لاہور اور ملتان الگ الگ صوبے ہوتے تھے جبکہ بہاولپور ریاست ہوتی تھی تاہم تینوں کی زبان خاصی ملتی جلتی پنجابی ہوتی تھی۔ بہاولپور کی زبان ریاستی، ملتان کی ملتانی اور ڈیرہ غازی خان ڈویژن کی ڈیروی بولی کہلاتی تھی، سرائیکی سندھ کے کچھ علاقوں میں بولی جانے والی زبان تھی، پنجاب اور سندھ کے سرحدی علاقے کوٹ سبزل کے لوگ سندھی اور ریاستی (بہاولپوری) زبان بولتے تھے سب سے پہلے ان کی مخلوط زبان کو سرائیکی کہا گیا۔ بعدازاں 1962ء کے دوران ملتان میں ہونے والے جنوبی پنجاب اورسندھ کے دانشوروں کے اجتماع میں جنوبی پنجاب کے تمام اضلاع کی بولیوں کو سرائیکی قرار دیدیا گیا تھا حالانکہ صوفی شاعر خواجہ غلام فریدؒ نے اپنی زبان کو کہیں بھی سرائیکی نہیں کہا۔

جنوبی پنجاب کے لوگوں نے ہی سب سے پہلے مہاراجہ رنجیت سنگھ کے دور میں ”اساں قیدی تخت لہور دے“ کا نعرہ لگایا تھا حالانکہ رنجیت سنگھ نے خود گوجرانوالا سے حملہ کر کے امرتسر کی سسرالی فوج کے ذریعے تخت لہور پر قبضہ کیا تھا مہاراجہ بننے کے بعد رنجیت سنگھ کی فوج نے ملتان کی اینٹ سے اینٹ بجا دی تھی اور صوبہ ملتان کے حاکم نواب مظفر خان کو بیٹوں سمیت قتل کر کے نواب کے زندہ بچ جانے والے بیٹے کو قیدی بنا کر لاہور لے آئی تھی یہ ملتانی نوابزادہ انگریز دور میں غالباً آنریری مجسٹریٹ اور بلدیہ لاہور کا ممبر بھی رہا تھا، لاہور پر رنجیت سنگھ کے قبضے کی وجہ بھی ملتان کا پٹھان نواب ہی بنا تھا جو قصور کے پٹھان نواب کو لاہور پر قبضے کی ہلاشیری دیتا رہا تھا جس پر لاہور کے مہر محکم دین نے رنجیت سنگھ کو گوجرانولے خط لکھ کر لاہور پر قبضہ کرنے کی دعوت دیدی تھی۔

”باغی تخت لہور دے“ کے عنوان سے عاشق بزدار نے نظم کہی تھی۔ اگر سردار عثمان بزدار پہلے وزیراعلیٰ پنجاب بن جاتے تو عاشق بزدار کو یہ نظم نہ کہنا پڑتی، تفنن برطرف، مظفر گڑھ سے تعلق رکھنے والے عبدالمالک کھوکھر المعروف ساحر رنگ پوری نے اپنے شعری مجموعے کا نام عاشق بزدار کی نظم سے لیا تھا ”باغی تخت لہور دے“ کا انتساب شاعر نے اپنے والد حاجی احمد بخش کھوکھر کے نام کیا تھا،کتاب ”باغی تخت لہور دے“ کو ایک عشرہ قبل جھوک پبلشرز دولت گیٹ ملتان نے شائع کیا تھا۔ہمارے خیال میں یہ نظمیں لاہور شہر سے حسد اور نفرت کے باعث کہی گئی ہیں۔ شاعر ساحر رنگ پوری خود کتاب کے دیباچے ”دل کی بات“ میں لکھتے ہیں کہ وہ اعلیٰ تعلیم کیلئے لاہور منتقل ہوئے تو لاہور کی کارپٹ سڑکیں، رنگین فوارے، عالیشان کوٹھیاں بڑے تعلیمی ادارے اور فلائی اوورز دیکھ کر دنگ رہ گئے۔ انہیں ان سب میں سے اپنی پھٹی کی خوشبو آئی وہ شاید اجناس کی جگہ بھی کپاس استعمال کرتے تھے۔

لاہورکی ترقی سے جلنے اور شہر بے مثال سے نفرت کرنے والے لوگ یہ بات فراموش کر دیتے ہیں کہ لاہور صوبائی دارالحکومت ہے صوبے کے ہر ضلع سے تعلق رکھنے والے لوگ روزگار کے سلسلے میں یہاں مقیم ہیں۔ ان میں جنوبی پنجاب کے عوام ہی نہیں ان کے منتخب نمائندے بھی شامل ہیں جن کی لاہور کی پوش بستیوں میں عالیشان کوٹھیاں ہیں جو الیکشن تو آبائی علاقوں سے لڑتے ہیں لیکن لاہور کے بڑے تعلیمی اداروں میں پڑھتے اور مختلف حکومتوں میں وزیر بنتے رہتے ہیں، عید الفطر، عید الاضحی اور دیگر قومی ایام پر دوسرے شہروں کے لوگ آبائی علاقوں کو روانہ ہو جاتے ہیں تو لاہور خالی ہوجاتا ہے اس کی سڑکیں سنسان ہو جاتی ہیں جن پر لاہوریئے نوجوان چھٹیوں میں کرکٹ کھیلتے رہتے ہیں لاہور کے ان اصل باسیوں کو توکارپٹ سڑکوں اور فلائی اوورز کی ضرورت ہی نہیں ہوتی۔ ان سہولتوں کی تو باہر سے آنے والی آبادی کے دباؤ کے باعث ضرورت پیش آئی تھی۔ شاعر ساحر رنگ پوری نے اپنی ایک نظم میں کہا ہے کہ ہمیں لاہوریئے اگر صوبہ نہیں دیتے تو ہم اتنی طاقت رکھتے ہیں کہ ان سے صوبہ چھین سکتے ہیں مگر عمران خان کے وزیراعظم اور عثمان بزدار کے وزیراعلیٰ پنجاب بننے کے بعد تخت لہورکے خلاف ”بغاوت“ دم توڑ چکی ہے۔ وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے الگ صوبہ بنانے کے بجائے جنوبی پنجاب کیلئے ہفتہ قبل ایڈیشنل چیف سیکرٹری اور ایڈیشنل آئی جی پولیس تعینات کرکے تخت لاہورکے ”باغیوں“ کونیا لالی پاپ دیدیا ہے۔

جواب لکھیں

%d bloggers like this: