...................... .................

طارق عزیز مزید اداس کرگئے…… میم سین بٹ

زندگی پہلے ہی بہت مشکل میں بسر ہو رہی تھی کرونا وباء نے اسے مزید بے کیف بنا ڈالا ہے روزانہ اموات کی خبریں پڑھ پڑھ کر ہمارا تو دنیا سے جی اچاٹ ہوتا جا رہا ہے حالیہ دنوں میں ادب و صحافت اور ثقافت کے شعبوں سے تعلق رکھنے والی 3 شخصیات کی رحلت نے ہماری مایوسی میں مزید اضافہ کردیا ہے، پروفیسر محمد خالد حلقہ ارباب ذوق کے معروف نقاد تھے فروری کے دوران سیکرٹری حلقہ ارباب ذوق عامر فراز نے پاک ٹی ہاؤس کی گیلری میں پروفیسر محمد خالدکی زیر صدارت اجلاس کروایا تھا جس میں ڈاکٹر ضیاء الحسن نے مضمون اورمقصود وفا نے نظم تنقید کیلئے پیش کی تھی آخر میں پروفیسر محمد خالد نے اپنا کلام بھی سنایا تھا،حافظ عبدالودود مشہور صحافی تھے چند ماہ سے شدیدعلیل چلے آ ر ہے تھے دو تین مرتبہ صحتیاب ہو گئے مگر اب انہیں بلاوا آ گیا جبکہ طارق عزیز تو ہمہ جہت شخصیت تھے،زیادہ ترلوگ انہیں ٹی وی کمپیئرکے طور پر جانتے تھے لیکن وہ سیاستدان، ریڈیواناؤنسر، فلمی اداکار، کالم نگارصحافی اور شاعر بھی تھے ان کی پنجابی نظموں کا مجموعہ ”ہمزاد دا دکھ“ ہم نے کالج دورمیں پڑھا تھا۔۔۔

پچھلا پہر اے شام دا
دل نوں عجیب اداسی اے
انج لگدا اے سارے نگردی
کوئی وڈی چیزگواچی اے

طارق عزیز سے ہماراابتدائی تعارف بھی ٹی وی شو”نیلام گھر“ کے ذریعے ہی ہوا تھا لڑکپن میں 1980ء کی دہائی کے دوران پی ٹی وی پر ان کے پروگرام کا ہفتہ بھرشدت سے انتظار رہتا تھا جمعرات کو نیلام گھر شروع ہوتے ہی طارق عزیزساتھی خاتون میزبان کے ساتھ سٹیج پر آتے تو ہال تالیوں سے گونج اٹھتا،طارق عزیز ہمیشہ دیکھتی آنکھوں اورسنتے کانوں کو سلام پہنچا کر پروگرام کا باقاعدہ آغازکیاکرتے، ان کا یہ مخصوص جملہ اور لب و لہجہ نصف ٖصدی تک ان کی پہچان بنا رہا ہمیں یاد ہے اسی 1980ء کے عشرے میں ہم نے کراچی کے شوبز میگزین ماہنامہ ٹی ٹائمز کیلئے ”نیلام گھر“ کی”انعام گھر“ کے عنوان سے پیروڈی کی تھی جو دو قسطوں میں شائع ہوئی تھی اسے ہم نے بعدازاں اپنے مضامین کے مجموعے میں بھی شامل کیا تھا جس کا مسودہ بھی کمپوز کروا لیا تھا مگر وہ کتاب چھپنے کی نوبت نہیں آ سکی تھی۔

اس زمانے میں نجی ٹی وی چینلزنہیں ہوتے تھے،پی ٹی وی کی نشریات پورے پاکستان میں دیکھی جاتی تھیں فلم اندسٹری بھی زندہ ہوتی تھی اس لئے شوبزکے درجن بھر رسالے بھی شائع ہوا کرتے تھے طارق عزیز بھی ماہنامہ نیشنل ٹائم کے چیف ایڈیٹر رہے تھے ادب وصحافت سے وابستگی انہوں نے ورثے میں پائی تھی ان کے والد میاں عبدالعزیز تقسیم ہند کے موقع پر جالندھر سے بال بچوں کے ساتھ ہجرت کرکے ساہیوال میں مقیم ہوئے تھے جہاں سے وہ ”پاکستانی“ کے نام سے اخبارشائع کرتے رہے تھے،طارق عزیز روزنامہ نوائے وقت میں ”داستان“ کے مستقل عنوان سے کالم بھی لکھتے رہے تھے اور اسی نام سے ان کا کالموں کا مجموعہ بھی شائع ہوا تھا۔

ادب سے طارق عزیزکو شروع ہی سے لگاؤ تھاگورنمنٹ کالج ساہیوال میں زمانہ طالبعلمی کے دوران کالج مجلہ کے نائب مدیر بھی رہے تھے پروفیسر اے ڈی نسیم ان کے استاد تھے، طارق عزیز پنجابی کے بہت اچھے شاعر بھی تھے اور ان کا شعری مجموعہ ”ہمزاد دا دکھ“ چھوٹی چھوٹی پنجابی نظموں پر مشتمل ہے اس میں شامل ایک مختصر نظم کرونا وباء کے موجودہ حالات کی مکمل عکاسی کرتی ہے۔۔۔

بند مکان شہراں دے
ڈرے ہووئے نیں لوک
آیامیرے مرن دا ویلا
کون مناوے گا سوگ

ہماری طارق عزیز سے زندگی میں پہلی اورآخری ملاقات ماڈل ٹاؤن میں نوازشریف کی رہائش گاہ پر ہوئی تھی ان دنوں آرمی چیف جنرل پرویز مشرف نے اپنی برطرفی کا حکم دینے والے وزیراعظم نواز شریف کو معزول اورقید کرکے اقتدار پر قبضہ کر رکھا تھا جبکہ بیگم کلثوم نواز اپنی رہائش گاہ پرآمر کیخلاف احتجاج کے طورپرکھلی کچہری لگایا کرتی تھیں ایک اتوارکو علامہ ساجد میرکے علاوہ طارق عزیز بھی میاں منیر کے ساتھ کھلی کچہری میں شریک ہوئے تھے تاہم نواز شریف کی قید سے رہائی اور سعودی عرب جلاوطنی کے بعد طارق عزیز بھی میاں منیراورچوہدری اختر رسول کے ساتھ مسلم لیگ (ن) چھوڑ کر مسلم لیگ (ق) میں شامل ہو گئے تھے،طارق عزیز کی اہلیہ ڈاکٹرحاجرہ خانم خواتین کی مخصوص نشست پر ایم این اے بنادی گئی تھیں طارق عزیز نے بہت تاخیر سے شادی کروائی تھی اوراولاد سے محروم رہے تھے۔

عملی سیاست میں طارق عزیز پہلے ذوالفقار بھٹو کے ساتھ رہے، جنرل ضیاء کے مارشل لاء دور میں صرف فن کی خدمت کرتے رہے بعدزاں نوازشریف کے ساتھ ہوگئے تھے،بھٹو نے انہیں صرف کارکن ہی رکھا تھا البتہ نواز شریف نے انہیں لاہورکے حلقے سے ایم این اے بنوادیا تھا تاہم سپریم کورٹ حملہ کیس میں ملوث ہونے پر میاں منیر اور چوہدری اختر رسول کے ساتھ طارق عزیزکو بھی عدالت نے پارلیمان کی رکنیت رکھنے سے نااہل قراردیدیا تھا آخری عمر میں طارق عزیز سیاست سے لاتعلق ہوگئے تھے ویسے بھی ان کی جماعت ق لیگ حکومت میں تحریک انصاف کی اتحادی بن چکی تھی جس کے چیئرمین اوروزیراعظم عمران خان کو انہوں نے 1997 کے عام انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پرلاہورسے تقریباََ نصف لاکھ ووٹوں سے شکست دی تھی۔

جواب لکھیں

%d bloggers like this: