...................... .................

80 فیصد مریضوں میں کرونا وائرس کی کوئی علامات ظاہر نہیں ہوتیں: ماہرین

ویب ڈیسک: ماہرین کا کہنا ہے کہ اکثر افراد میں کرونا وائرس سے پیدا ہونے والی بیماری کووڈ 19 کی کوئی علامات ظاہر نہیں ہوتیں۔

اس حوالے سے سب سے پہلے جنوری میں چین کے نیشنل ہیلتھ کمیشن وزیر ما شیاﺅوی نے بتایا تھا کہ اس وائرس کے شکار 80 فیصد افراد میں ایک سے 14 دن تک کوئی علامات سامنے نہ آنے کا امکان ہوتا ہے اور اس دوران یہ کسی دوسرے فرد میں منتقل ہوسکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس وجہ سے وائرس کو پھیلنے سے روکنا مشکل ہو رہا ہے جبکہ اس کے ایک سے دوسرے فرد میں منتقل ہونے کی صلاحیت مضبوط ہوتی جا رہی ہے۔

بعد ازاں امریکا کے محکمہ صحت سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونٹیشن (سی ڈی سی) کے ڈائریکٹر ڈاکٹر رابرٹ ریڈ فیلڈ نے ایک انٹرویو میں کہا کہ اس بات کی تصدیق کر سکتے ہیں کہ بڑی تعداد میں اس کا شکار افراد میں اس بیماری کی علامات ظاہر نہیں ہوتیں، اور 25 فیصد کیسز میں ایسا ہو سکتا ہے۔

اس کے بعد آئس لینڈ میں محققین نے بتایا تھا کہ کرونا وائرس کے 50 فیصد سے زائد کیسز ایسے تھے جن میں علامات نظر نہیں آئیں اور کیسز کی تصدیق ملک میں بڑے پیمانے پر ہونے والی ٹیسٹنگ کے دوران ہوئیں۔

بعد ازاں ایک اور رپورٹ میں امریکی ادارے سی ڈی سی نے کہا تھا کہ سنگاپور کے محققین نے متعدد ایسے کیسز کی نشاندہی کی ہے جن میں وائرس بغیر علامات ظاہر کیے ایک سے دوسرے فرد میں منتقل ہوا۔

اب مزید 2 حالیہ تحقیقی رپورٹس میں عندیہ دیا گیا ہے کہ کووڈ 19 کے اکثر مریضوں میں علامات ظاہر نہیں ہوئی تھیں۔

ڈاکٹر ریڈ فیلڈ کے مطابق ایسے بغیر علامات والے مریض وائرس کو پھیلانے میں اہم ترین کردار ادا کر رہے ہیں اور ممکنہ طور پر علامات ظاہر ہونے سے 48 گھنٹے پہلے ان سے وائرس صحت مند افراد میں منتقل ہو سکتا ہے۔

ان کے بقول اس سے سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ امریکا بھر میں یہ وائرس بہت زیادہ تیزی سے کیوں پھیل رہا ہے کیونکہ علامات سے پاک مریض اس میں اہم ترین کردار ادا کر رہے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسی صورتحال میں فیس ماسک کے استعمال کی اہمیت از حد بڑھ جاتی ہے۔ ماہرین کی تجویز ہے کہ باہر نکلتے ہوئے ماسک کا استعمال ضرور کیا جائے تا کہ نہ صرف ایسے ممکنہ مریضوں سے حفاظت کی جا سکے جن میں اس کی علامات ظاہر نہیں ہوئیں، بلکہ اگر وہ خود بھی اس کا شکار ہوچکے ہیں تو لاعلمی میں اسے دوسروں تک نہ پہنچائیں۔

جواب لکھیں

%d bloggers like this: