...................... .................

بچے کس انداز میں بیٹھیں تو ان کے اعتماد میں اضافہ ہوتا ہے؟

ویب ڈیسک: تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ بچوں کے بالکل سیدھے بیٹھنے سے ان کی خود اعتمادی میں اضافہ ہوتا ہے اور یہ انداز انہیں سکول میں بہتر محسوس کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔

جرمنی کے تحقیق کاروں نے چوتھی جماعت کے 108 بچوں کے نفسیاتی ٹیسٹ کی تکمیل اس انداز میں کی کہ وہ بڑے غالب یا موثر انداز میں یا پھر اس سے ہلکے انداز میں بیٹھے نظر آئیں۔

پاور پوز میں کھڑے ہونا، ٹیبل کے مخالف جھکنا جس میں بازو پھیلے ہوئے ہوں اور کرسی پر پیچھے کی جانب جھکا ہوا انداز، بازو سر کے پیچھے اور پائوں ڈیسک پر ہوں۔ کچھ زیادہ ہی ڈھیلا ڈھالا انداز جیسا کہ کرسی پر نیم دراز انداز میں بیھٹنا اور ٹانگوں کو اکٹھے لمبے کر لینا، سرجھکا لینا جبکہ بازو اور ٹانگوں کو کراس شیپ میں رکھنا شامل ہے۔

محققین نے اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ جو غالب یا پاورپوز ہوتے ہیں وہ بچوں میں عارضی طور پر ان کے مزاج میں خوداعتمادی بڑھاتے ہیں، اس کے برخلاف وہ بچے جو کہ سمٹ اور سکڑ کر بیٹھتے ہیں ان میں اس قسم کی خود اعتمادی نہیں پائی جاتی۔

اس ٹیسٹ سے یہ بھی پتہ چلا کہ اس خود اعتمادی کا اظہار اسکول میں پوچھے جانے والے سوالات اور اس سے متعلق معاملات میں بھی ہوتا ہے۔

جرمنی کے مارٹن لوتھر یونیورسٹی کے ماہر نفسیات رابرٹ کورنر، جنھوں نے اس تحقیق کو جانچا اور نام نہاد پاور پوزنگ کے محسوسات اور خوداعتمادی کے اثرات کا مطالعہ کیا، اس کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ جسمانی حرکات و سکنات صرف محسوسات کا ہی اظہار نہیں کرتے بلکہ یہ کسی بھی شخص کے محسوسات کی وضع اور ساخت کو بھی تشکیل دیتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اٹھنے بیٹھنے کے اسٹائل سے جرات مندانہ اور غالب انداز کے ساتھ جسمانی وضع قطع بھی تبدیل ہوتے ہیں۔

جواب لکھیں

%d bloggers like this: