...................... .................

ناکام لاک ڈائون میں نرمی کا خمیازہ……. شعیب علی

عالمی ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ کورونا وائرس کے جلد خاتمے کا کوئی امکان نہیں۔ یہ طویل عرصے تک ہمارے ساتھ رہے گا۔ اس کے پھیلاؤ کو روکنے اور خاتمے کا اب تک صرف ایک ہی طریقہ ہے کہ لاک ڈاؤن جیسے سخت حفاظتی اقدامات، سماجی دوری اور حفظان صحت کی احتیاط کے ساتھ جارحانہ ٹیسٹنگ کے ذریعے مریضوں کی شناخت کی جائے، ان کے رابطے والوں کو تلاش کر کے قرنطینہ میں رکھا جائے۔ دنیا کی مثال ہمارے سامنے ہے کہ جن ممالک نے حفاظتی اقدامات میں غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا وہاں وائرس سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد اتنی بڑھی کہ قبرستانوں میں جگہ کم پڑ گئی۔ لیکن وہیں ایسی حکومتوں کی مثال بھی موجود ہے جنھوں نے جدید طریقوں کو اپنا کر ٹیکنالوجی، قانون سازی اور دیگر موثر اقدامات کے ذریعے وائرس کو کنٹرول کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ اس تحریر میں وباء کے سب سے پہلے مرکز چین سمیت صرف ان ممالک کے موثر اقدامات کا جائزہ لیا گیا ہے جو چین کے اطراف میں ہونے کے باعث وائرس کے شدید خطرے میں تھے اور وہاں بڑے پیمانے پر کیسز سامنے آنے کی وارننگ جاری کی جا رہی تھی۔ لیکن ان کی حکومتوں نے انتہائی سمجھداری سے کم وسائل استعمال کرتے ہوئے لاک ڈاؤن یا جزوی پابندیاں عائد کر کے ایسے موثر اقدامات اٹھائے کہ وائرس پنپنے میں کامیاب نہیں ہوا۔

ان ممالک میں سر فہرست چین ہے جس نے دنیا کی سب سے بڑی آبادی ہوتے ہوئے بھی لاک ڈاؤن کے دوران ایسے اقدامات اٹھائے جن کے نتیجے میں وہاں معیشت اور زندگی کی رونقیں بحال ہو چکی ہیں۔ چائنا نے لاک ڈاؤن میں پانچ پانچ ہیلتھ ورکرز پر مشتمل 1800 ٹیمیں تشکیل دیں جنھوں نے گھر گھر جا کر مریضوں کو شناخت کر کے الگ کیا، پھر ان کے رابطے میں رہنے والے افراد کو تلاش کیا اور قرنطینہ میں رکھا۔ اسی طرح چائنا کی حکومت نے جب دنیا لاک ڈاؤن میں تھی ایک اور موثر قدم اٹھا کر بتایا کہ جب نیت ہو تو ایک موبائل ایپلیکیشن بھی معیشت کو اپنے پیروں پر دوبارہ کھڑا کرنے میں کتنی مددگار ہو سکتی ہے۔ لاک ڈاؤن میں نرمی سے قبل چائنا نے ”گرین کوڈ” کے نام سے ایپ متعارف کروا کر ایک بار پھر دنیا میں نئی مثال قائم کی۔ آج چائنا میں کسی بھی جگہ داخلے کے لئے ہر شخص کا موبائل سکرین پر گرین کوڈ دکھانا لازم ہے۔ تربیت یافتہ حفاظتی لباس میں ملبوس سیکیورٹی گارڈ کوڈ چیک کرتا ہے۔ اگر موبائل سکرین پر سبز کی بجائے کوڈ سرخ رنگ کا ہو تو اس کا مطلب ہو گا کہ وہ شخص کنفرم مریض ہے یا بیمار ہے اور لیبارٹری تشخیص کا انتظار ہے۔ اسی طرح پیلا کوڈ بتاتا ہے کہ وہ شخص متاثرہ مریض کے رابطے میں رہا اور ابھی اس کے قرنطینہ کے 14 روز پورے نہیں ہوئے۔ یعنی اس وقت اسے ہسپتال یا قرنطینہ میں ہونا چاہیے تھا۔

اداروں کے مظبوط باہمی تعاون اور موثر نیٹ ورک کے باعث ایسی اطلاع موصول ہونے پر اسی وقت پولیس اور دیگر متعلقہ محکمے حرکت میں آ جاتے ہیں۔یوں وائرس سے متاثرہ شخص کے وائرس پھیلانے کا امکان ناممکن بنا دیا گیا ہے۔ جاپان نے ابتداء میں ہی سخت لاک ڈاؤن کا راستہ اپنانے کی بجائے کلسٹر بسٹر ٹیمیں تشکیل دے کر وائرس کو پھیلنے سے روکنے میں کامیابی حاصل کی۔ ان ٹیموں نے بھی چین کی طرز پر گھر گھر جا کر کلسٹرز کی شناخت کر کے وائرس کو محدود کیا۔ کلسٹر ماڈل میں ہر ایک کلسٹر کو انفیکشن کے اصل ذریعہ تک تلاش کیا جاتا ہے اور پھیلاؤ کی تیز ترین صلاحیت رکھنے والے افراد کو الگ تھلگ کردیا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے اس ماڈل میں آبادی کی وسیع پیمانے پر ٹیسٹنگ کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ مخصوص علاقوں اور پوائنٹس کی جانچ کی جاتی ہے۔ معاشرتی دوری کو یقینی بنانے کے لئے جاپان کا دوسرا بڑا قدم تھری سی ( Three Cs) ماڈل اپنانا تھا۔ اس میں آب و ہوا کی گزر سے محروم بند جگہیں (Closed places), بھیڑ والے مقامات (Crowded places) اور قریب بیٹھ کر گفتگو (Close contact sitting) پر پابندی عائد کی گئی۔

تیسرا ملک چین کی سرحد سے متصل تائیوان ہے۔ جس نے وباء کے آغاز پر موثر اقدامات کے ذریعے وائرس کے پھیلاﺅ کے تمام راستے مسدود کر دیئے اورآج یہ ملک دنیا کے لیے ایک مثال بن گیا ہے۔ تائیوان میں ہر آنے والے مسافرکی کڑی چیکنگ کے علاوہ لاک ڈاﺅن کرکے بڑے پیمانے پر ٹیسٹ شروع کیے گئے۔ تائیوان میں مریضوں کی مجموعی تعداد صرف 440 تک گئی لیکن مریضوں کی تعداد صفر ہو جانے کے باوجود حکومت نے کسی حد تک لاک ڈاﺅن جاری رکھا ہوا ہے۔ چوتھے نمبر پر ویتنام ہے جہاں مریضوں کو تنہائی میں رکھنے کے بعد ان لوگوں کے رابطے میں آنے والے لوگوں کی تلاش اور ان تمام لوگوں کا ٹیسٹ کروانے کی حکمت عملی اپنائی گئی۔ صرف یہی نہیں بلکہ ویتنام اپنے ملک میں ہی کم لاگت کی ٹیسٹنگ کٹس تیار کرنے میں بھی کامیاب رہا۔

دنیا بھر میں جرمنی کو وائرس سے متاثر ہونے والے ممالک میں سب سے کم اعداد و شمار کا حامل سمجھا جاتا ہے۔ جرمنی میں وباء کے ابتدائی مرحلے میں بڑے پیمانے پر ٹیسٹ کئے گئے اور رابطوں کا فوری سراغ لگایا گیا۔ زیادہ سے زیادہ لوگوں کی ٹیسٹنگ کے نتیجے میں معمولی علامات والے مریضوں کی نشاندہی بھی ہو گئی۔ جرمنی میں پہلی موت سے قبل سیکڑوں واقعات کی تصدیق ہو چکی تھی اور انھیں الگ کر دیا گیا تھا۔ جرمنی میں کیس کی اموات کی شرح کم رکھنے میں ہسپتال میں شدید نگہداشت کے بیڈز کی دستیابی بھی ہے۔جرمنی کو انتہائی نگہداشت کی سہولیات میں پورے یورپ میں دوسرے نمبر پر سمجھا جاتا ہے۔ اس طرح وہ دوسرے ممالک کے مقابلے میں اضافی مریضوں کی آمد پر بہتر طبی سہولیات دینے میں کامیاب رہا۔ کینیڈا میں وائرس ابتداء میں ٹورنٹو، مونٹریال اور برٹش کولمبیا کے علاقے وینکوور میں پھیلا۔ حکومت کے بروقت تینوں شہروں کو مکمل طور پر بند کرنے سے وائرس کے پھیلنے کی شرح کم رہی۔کینیڈا میں صحت کی سہولیات بہترین ہیں اور یہ شعبہ حکومت کی ذمہ داری ہے۔ مریضوں کو ہسپتالوں میں کوئی بل نہیں ادا کرنا پڑتا۔ سماجی دوری کی خلاف ورزی پر قانون سازی کے ذریعے پانچ سے زائد افراد کے اجتماع پر فی کس 850 ڈالر جرمانہ کی سزا مقرر کی گئی ہے۔

کینیڈا میں حفاظتی کٹ اور میڈیکل آلات وافر ہونے کے باعث ہیلتھ ورکرز محفوظ ہیں۔ ورکرز کو ہر مریض کے بعد حفاظتی کٹ کی تبدیلی کے لیے دس مِنٹ کا وقفہ دیا جاتا ہے جبکہ ماسک ہر تھوڑی دیر میں تبدیل کیا جاتا ہے۔اسی طرح ہر 20 سے 30 منٹ کے بعد اپنی حفاظتی کٹ تبدیل کرنا لازم ہے چاہے کسی مریض کو دیکھا جائے یا نہیں۔ اب اگر پاکستان کے حالات کا جائزہ لیں تو دیکھا جا سکتا ہے کہ حکومت نے وائرس کنٹرول کرنے والے ممالک کے تجربات سے فائدہ اٹھانے کی بجائے لاک ڈاؤن کے قیمتی وقت سے بھی کوئی فائدہ نہیں اٹھایا اور زبانی جمع خرچ کے ساتھ ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھی رہی۔ لاک ڈاؤن کی واضح ناکامی کے بعد حکومت نے کاروبار اور مارکیٹوں کو کھولنے کی اجازت دے کر ایک بار پھر وائرس کو بےلگام کر دیا ہے۔ حکومت کے مارکیٹوں کو کھولنے کے اعلان کے فوری بعد سے ہر جگہ بھیڑ اور سماجی دوری کی پامالی کا نیا سلسلہ چل نکلا ہے، جس کا خمیازہ یقیقنا آنے والے دنوں میں بھگتنا پڑے گا۔

جواب لکھیں

%d bloggers like this: