...................... .................

باب 52 (آخری): بڑے خواب دیکھیں، سیکھیں اور چیلنج قبول کریں!

جوانی محض بچپن سے شباب تک کے سفر کا نام ہی نہیں ہے۔ اس بات میں کوئی مبالغہ آرائی نہیں کہ یہ عرصہ آپ کی آنے والی زندگی کی راہوں کا تعین کرتا ہے۔ زندگی کا سفر جمع تفریق، مثبت منفی، امید اور مایوسی کا مرکب ہوتا ہے۔ آپ اپنی جوانی جس تصور اور احساس کے ساتھ گزارتے ہیں، وہی عمر بھر آپ کے ساتھ رہتا ہے۔

جیسا کہ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ تاریخ خواب دیکھنے والوں کی ہے۔ وہ قومیں جو خواب دیکھتی، انہیں سچ ثابت کرتی اور تقسیم کرتی ہیں، وہی اقوامِ عالم کی رہنما کہلاتی ہیں۔ آپ کے خواب چشمے کے پانی کی طرح شفاف اور پاکیزہ ہونے چاہئیں۔ ہمیشہ بڑے خواب دیکھیں۔اپنے دلوں میں کائنات بسائیں اور آنکھوں میں خواب سجائیں۔ کسی فلاسفر کا کہنا ہے کہ جوانی میں خواب نہ دیکھنا نفسیاتی خود کشی کے مترادف ہے۔ لہٰذا بڑے، شفاف اور پاکیزہ خواب دیکھیں۔

تخلیقی لوگ ہی تاریخ کا رخ موڑتے ہیں۔ تخلیقی ذہنوں کی حوصلہ افزائی کرنے والا معاشرہ کبھی زوال آشنا نہی ہوتا۔ اگر آپ مثبت اور تعمیری سوچ کی دولت سے مالامال ہیں، ہر طرح کے حالات میں مثبت پہلو تلاش کر لیتے ہیں تو آپ ہی حقیقی معنوں میں دنیا کے لیڈر ہیں۔

چیلنج اور ہمت تاریخ کی گاڑی کے دو پہیے ہیں۔ چیلنج قبول کرنے والے ہی کامیاب ہوتے ہیں۔ جوانی مشکلات سے محبت اور ناکامی سے نفرت کرتی ہے۔ خوف سے کام کا شروعات کرنے والے توآغاز سے پہلے ہی ہار جاتے ہیں۔ آپ کے اندر کام کو انجام دینے کے جذبے کی آگ لگی رہنی چاہئے۔کام کی تکمیل کے اس جذبے کو پروان چڑھانے کے لئے سیکھنے کاعمل مسلسل جاری رکھیں اور جدوجہد کا دامن کبھی ہاتھ سے نہ جانے دیں۔

تاریخ قربانیوں پر پروان چڑھتی ہے۔ ایک نسل کو آنے والی نسل کی خوشحالی کے لئے قربانی دینا پڑتی ہے۔

کوئی بھی تنہا نہیں رہ سکتا۔ انسان کو دوسروں کے ساتھ مل جل کر رہنے کے لئے ہی بنایا گیا ہے۔ اناپرستی اور ذاتی غرض سے اپنا دامن داغ دار مت ہونے دیں۔ خود سے پہلے دوسروں کے بارے میں سوچیں۔ اپنے مفاد پر اجتماعی مفاد کو ترجیح دیں اور محبت اور یقین کے ساتھ آگے بڑھتے جائیں۔

میں سوچتا ہوں کہ میری نسل نے خود کے ساتھ مخلص رہنے کی نہ جانے کتنی کوشش کی ہے مگر خاندان اور کام کی مجبوریوں نے اس امر کو انتہائی مشکل بنا دیا ہے۔کبھی کبھار ہم وہ کچھ کرنے یا کہنے پر مجبور ہو جاتے ہیں جو ہم نہیں چاہتے۔ مگر آپ اپنے ساتھ ایسے حالات کبھی پیدا نہ ہونے دیں۔ اس امرکو یقینی بنائیں کہ آپ خود کو کبھی ان مجبوریوں کے ہتھے نہیں چڑھنے دیں گے۔ خود کے ساتھ مخلص رہنے کا بہترین اور عظیم طریقہ یہ ہے ”وہی کریں جو آپ کا من چاہے“۔

بڑھوتری اور ترقی صرف سیکھنے سے حاصل ہوتی ہے۔ بڑھوتری اسی لمحے رک جاتی ہے جب آپ کے اندر یہ احساس جاگ اٹھے کہ آپ اہم ہیں یا بہت کچھ جانتے ہیں۔ بہتری خود کو عاجز بنانے اور ہر وقت سیکھنے کی جستجو کا نام ہے۔ اس لئے زندگی میں مقام ومرتبہ ملنے پر عاجزی اختیار کی جانی چاہئے۔ آپ سیکھیں …… کسان کے چہرے پر بہتے ہوئے پسینے کے قطروں سے۔ آپ کے لئے سبق ہے…… ایک مزدور کے تیل کی وجہ سے سیاہ ہو جانے والے کپڑوں میں۔ سیکھیں، اس ماں سے جو انتہائی محبت سے صبح سویرے آپ کے لئے ناشتہ تیارکرتی ہے۔ اپنے آس پاس موجود نظاروں پر نظر دوڑائیں، فضا میں بکھرے ان گنت ساز سنیں، عاجزی اختیار کریں، مطالعہ کی عادت اپنائیں اور وہ بن جائیں جس کی آپ کو تمنا ہے۔

جواب لکھیں

%d bloggers like this: