...................... .................

حلقہ ارباب ذوق کی آن لائن نشست…… میم سین بٹ

حلقہ ارباب ذوق قدیم ترین ادبی تنظیم ہے جس کے آٹھ عشروں سے ہفتہ وار اجلاس باقاعدگی سے منعقد ہوتے چلے آرہے ہیں، عید پر بھی ناغہ نہیں کیا جاتا، کرونا وباء پھیلنے پر لاک ڈاؤن کے باعث پاک ٹی ہاؤس بند ہونے پر حلقے کا پہلا اجلاس سابق سیکرٹری حسین مجروح کی رہائش گاہ پر نوید صادق کی زیر صدارت منعقد ہواجس کے بعد سیکرٹری عامر فراز نے سابق جائنٹ سیکرٹری ناصر علی کے تعاون سے واٹس ایپ گروپ کے ذریعے آن لائن اجلاس شروع کردیئے تھے جو بالکل ہی نیا تجربہ تھا،ہمارے خیال میں کرونا لاک ڈاؤن کے دوران پاک ٹی ہاؤس کی بندش پر سیکرٹری عامر فراز کو حلقہ ارباب ذوق کا ہفتہ وارتنقیدی اجلاس سبزی منڈی یا کینٹ کے علاقے میں منعقد کروا لینا چاہیے تھا وہاں یہ ناہنجار وائرس کسی پر حملہ کرنے کی جرات نہیں کرسکتا۔

تفنن برطرف حلقے کے آن لائن اجلاس کاسب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ ہر ہفتے پاک ٹی ہاؤس کی گیلری کا کرایہ اور چائے و بسکٹوں کے اخراجات نہیں کرنا پڑتے اس کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ اب لوگ گھر بیٹھے حلقہ ارباب ذو ق کی تنقیدی نشست میں شریک ہو سکتے ہیں انہیں شہر کے مختلف مقامات سے طویل فاصلہ طے کرکے پاک ٹی ہاؤس نہیں پہنچنا پڑتا بلکہ دوسرے شہروں حتی کہ بیرون ملک مقیم ادیب، شاعر بھی آن لائن اجلاس میں شریک ہو سکتے ہیں چند برس قبل لاہور سے باہر مقیم حلقہ ارباب ذوق کے ارکان کی رکنیت ختم کرنے والے سابق سیکرٹری اور ان کی مجلس عاملہ کے ارکان نے کبھی سوچا بھی نہ ہوگا کہ مستقبل میں حلقے کے ممبرز کو آن لائن اجلاس کی سہولت بھی حاصل ہو جائے گی تاہم آن لائن اجلاسوں کا ازھر منیر سمیت حلقہ ارباب ذوق کے ان ممبرز کو فائدہ نہیں ہو سکے گا جواپنے موبائل فون سیٹ پر واٹس ایپ استعمال نہیں کرتے ان بیچاروں کو کرونا لاک ڈاؤن مکمل طور پر ختم ہونے اور پاک ٹی ہاؤس کھلنے کا انتظار کرنا پڑے گا۔

اتوار کی سہ پہر سیکرٹری عامر فراز نے عاصم بٹ کی زیر صدارت حلقہ ارباب ذوق کے آن لائن اجلاس میں آمنہ مفتی کے ناول ”اختری“ کا باب اور شاہد اشرف کی نظم تنقید کیلئے شیڈول کی تھی،عاصم بٹ کی اجازت سے جائنٹ سیکرٹری فریحہ نقوی نے گزشتہ اجلاس کی کارروائی سنائی تو عاصم بٹ نے حسب دستور اعتراضات طلب کئے جس پر جاوید انور نے اعتراض کیا کہ انہوں نے دو مرتبہ بات کی تھی مگر ان کی دوسری بار کی جانے والی گفتگو کو کارروائی کا حصہ نہیں بنایا گیا جس پر فریحہ نقوی نے وضاحت کی کہ کارروائی بہت طویل ہو جاتی ہے جس کی حماد نیازی نے مکمل تائید کردی ناصر علی نے بھی اتفاق کیا اور عاصم بٹ نے جاوید انور کی شکایت نمٹا دی۔

آمنہ مفتی نے ناول کے باب میں منظر کشی کی انتہا کردی تھی ان کی آواز اور لب و لہجہ بھی ریڈیو کے کسی ماہر صداکار جیسا تھا جس نے سنتے ہوئے ہمیں جکڑے رکھا،ناول کے باب کی ابتداء سات سالہ یتیم بچی اختری کے ذکر سے ہوتی ہے جس کی جواں سالہ بیوہ ماں عقد ثانی کرلیتی ہے اور سوتیلے باپ کو مرجانے کی بددعا دینے پر اختری کو اس کی نانی سزا کے طورپرکمرے میں بند کردیتی ہے،محلے کی عورت نصیبن اسے دو روز تک گلی کی بیرونی کھڑکی کے ذریعے کھانا پہنچاتی ہے اور تیسرے دن صبح سویرے غالباََ نصیبن کمرے کے دروازے کی بیرونی کنڈی کھول دیتی ہے اختری بھاگ کر دریا پر چلی جاتی ہے اور کشتی میں سوار ہو کر سوجاتی ہے کچھ دیر بعد کشتی دریا کے پانی میں تیرتی ہوئی خود بخود کسی انجانی منزل کی طرف روانہ ہوجاتی ہے اسکے ساتھ ہی ناول کا پہلا باب ختم او رصدا کاری کا سحر ٹوٹ جاتا ہے۔

عاصم بٹ نے ناول کے باب پر بحث کی دعوت دینے سے پہلے ناول نگارکے حوالے سے بتایا کہ آمنہ مفتی نئے لکھنے والوں میں اہم نام ہے انہوں نے ناول،افسانے اور ڈرامے میں نمایا ں کام کیا ہے، ناول کے باب پرگفتگو کا آغازعارفہ شہزاد نے کیا انہیں ناول کا کرافٹ، واقعات کی بنت،تجسس اور اسلوب بیحد پسند آیا،میاں شہزاد کو منظر نگاری اور جزئیات نگاری اچھی لگی،انہیں تحریر کی زبان انیسویں صدی عیسوی کے اوائل میں لے گئی انہوں نے یہ بھی نشاندہی کہ کمسن بچی کے منہ سے دو مقامات پرپختہ عمر انسان کے جملے کھٹکتے ہیں،محمد عباس نے رائے دی کہ ناول کے اس باب میں یہ خوبی موجود ہے کہ اسے پڑھ کر آگے پڑھنے کو بیتاب ہو جائیں،شاہد اشرف کو ناول کا باب مکمل افسانہ لگا،فرح رضوی نے بجنور سے تعلق کی بناء پر تحریرکی زبان کا بیحد لطف اٹھایا،ابرار احمد نے بھی داد دی،ضیاء الحسن نے باب کی بنیاد پر رائے دی کہ ایک اچھا ناول تخلیق کے مراحل میں ہے۔

عامر فراز نے آمنہ مفتی کے چوتھے ناول کی زبان کو ان کے تیسرے ناول کی زبان سے مختلف قرار دیا، شہزاد نیئر کو ناول کی زبان نے ہاجرہ مسرور اور خدیجہ مستور کی یاد دلا دی انہوں نے کچھ زائد الفاظ استعمال ہونے اور غلط املا کی نشاندہی بھی کر ڈالی جس سے عارفہ شہزاد نے بالکل اتفاق نہ کیا،بینا گوئندی نے آمنہ مفتی کو مبارکباد دی،شاہد بلال نے فکشن میں بچوں کو فلسفی بنا کر پیش نہ کرنے کا مشورہ دیا تاہم عامر فراز نے چند ذاتی مثالوں کے ذریعے ان کے اعتراض سے اتفاق نہ کیا،عاصم بٹ نے ناول کے باب پر بحث کو سمیٹتے ہوئے قراردیا کہ آمنہ مفتی نے اپنی تحریر پڑھنے کا حق ادا کردیا،ناول کی ا ٹھان بھی بہت واضح ہے کہ ناول کی مکمل عمارت کیسی تعمیر ہو گی،زبان و بیان کے حوالے سے اگر چھوٹی موٹی چیزیں رہ گئی ہیں تو ناول مکمل کرتے ہوئے آمنہ مفتی انہیں ٹھیک کر لیں گی۔

آخر میں عاصم بٹ نے شاہد اشرف کو اپنی نظم تنقید کیلئے پیش کرنے کی دعوت دی ان کی آزاد نظم دیکھ کر ہمیں مایوسی ہوئی دراصل ہم پابند نظم کے قائل ہیں،نظم گو شعراء ابراراحمد،توقیر عباس،واصف اختر کے علاوہ شاعر کے گرائیں مقصود وفا اور عارفہ شہزادکو بھی شاہد اشرف کی نظم زیادہ پسند نہ آئی البتہ ناصر علی نے نظم کو عمدہ،بینا گوئند ی نے مجموعی طور پر اچھی اور جنید رضا نے بہتر تخلیق قراردیا،عاصم بٹ نے نظم پر صدارتی رائے دیتے ہوئے اسے انفرادی حیثیت میں متاثر کرنے والی نظم قراردیا اور شاعر کو معروضات کی روشنی میں نظم پر نظر ثانی کا مشورہ بھی دیا،شاہد اشرف کی نظم کا آخری بند کچھ یوں تھا۔۔۔

جتنی دیر میں کوئی حادثہ دیکھ کررکتا ہوں
پھر بوجھل دل سے آگے بڑھ جاتا ہوں
اتنی دیر میں اک نظم کا خاکہ بن جاتا ہے
جانے کتنے خاکے میں روز بناتا ہوں
اورپھر ادھورے چھوڑ کر سوجاتا ہوں

جواب لکھیں

%d bloggers like this: