...................... .................

100 ممالک کا کورونا وائرس پر عالمی ادارہ صحت کے ردِعمل کی تحقیقات کا مطالبہ

ویب ڈیسک: ورلڈ ہیلتھ اسمبلی کے سو سے زائد رکن ممالک نے کورونا وائرس کی وباء سے نمٹنے میں عالمی ادارۂ صحت کے ردِعمل کی تحقیقات کا مطالبہ کر دیا۔

ادارے کے ڈائریکٹر جنرل نے خامیوں کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ ادارہ اپنے اقدامات کا آزادانہ جائزہ لے گا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ اگر عالمی ادارۂ صحت نے خود کو چین کے اثر سے آزاد نہ کیا اور ایک ماہ کے اندر ٹھوس بہتری نہ آئی تو وہ ادارے کے لیے امریکی فنڈنگ مستقل طور پر منجمد کر دیں گے۔

چینی صدر شی جن پنگ کا کہنا ہے کہ وائرس پر قابو پانے کے بعد تحقیقات کرانی چاہئیں۔

صدر ٹرمپ نے ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈ راس کو لکھا گیا ایک خط ٹوئٹر پر شیئر کیا ہے جس میں کورونا کی وباء سے نمٹنے میں ڈبلیو ایچ او کی خامیوں کی نشاندہی کی ہے، ان میں وائرس کے پھیلاؤ کی ابتدائی رپورٹس کو نظر انداز کرنے اور چین سے بہت زیادہ قربت کے الزامات بھی شامل ہیں۔

خط میں صدر ٹرمپ نے لکھا ہے کہ ڈبلیو ایچ او کے مسلسل غلط اقدامات کی دنیا کو انتہائی سنگین قیمت ادا کرنی پڑرہی ہے۔

اس سے پہلے ورلڈ ہیلتھ اسمبلی کے اجلاس میں ایک قرار داد پیش کی گئی جس میں سو سے زائد ممالک نے کورونا وائرس سے متعلق عالمی ادارۂ صحت کے ردِ عمل کی تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا۔

چینی صدر شی جن پنگ نے ویڈیو لنک پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وائرس پر قابو پانے کے بعد ہی اس کی تحقیقات ہونی چاہئیں۔

اس سے قبل پیر کو ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈ راس نے کورونا وائرس سے نمٹنے میں ادارے کے اقدامات کی آزادانہ تحقیقات کا اعلان کیا تھا۔

اسمبلی سے خطاب کے دوران ٹیڈ راس نے اعتراف کیا تھا کہ ادارے کی طرف سے خامیاں رہی ہیں اور وہ جانچ پڑتال کے مطالبے کا خیر مقدم کرتے ہیں۔

جواب لکھیں

%d bloggers like this: