...................... .................

کورونا کے مریضوں کی دہائیاں…… شعیب علی

پاکستان میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کا اندازہ شرح اموات سے لگایا جا سکتا ہے۔ وائرس سے متاثرہ مریضوں کی اموات کی تعداد اوسطاً تیرہ روز میں دوگنا ہو رہی ہے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے اعدادوشمار کے مطابق یکم مئی کو پاکستان میں مجموعی طور پر کنفرم مریض 16817 اور اموات کی تعداد 385 تھی۔ 14 مئی کو کنفرم مریضوں کی تعداد دوگنا ہو کر 35787 اور 770 اموات ہو چکی ہیں۔ ڈبلیو ایچ او کے مطابق اس موقع پر وائرس کا پھیلاؤ روکنے اور زندگی بچانے کے لئے لاک ڈاؤن جیسے سخت حفاظتی اقدامات کر کے متاثرہ مریضوں کی تلاش اور بہترین طبی سہولیات فراہم کرنا بہت ضروری ہے۔ اگر فرنٹ لائن کے تخفظ کو یقینی بنانے کے ساتھ نظام صحت کو مظبوط نہ کیا گیا تو کوئی ملک یہ بوجھ برداشت نہیں کر سکے گا۔ مگر جو حکومتی رویہ وباء کے آغاز پر تھا، بھاری مالی امداد لینے کے باوجود نہیں بدلا۔

وائرس سے متاثرہ افراد کا آج بھی کوئی پرسان حال نہیں۔ مریضوں کے لئے مختص کرہ ہسپتالوں اور قرنطینہ سینٹرز میں نظر آنے والے مناظر اتنے دردناک اور پریشان کن ہیں کہ شدید تکلیف کے باوجود مریض علاج کے نام سے بھاگنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ بلاشبہ وائرس سے متاثر ہونے والے ممالک کی فہرست میں پاکستان وہ واحد ملک ہے جہاں مریضوں کے ساتھ جانوروں جیسا سلوک کیا جا رہا ہے۔ پنجاب یا ملک کے دیگر حصوں کی بجائے صرف لاہور کے ہسپتالوں اور قرنطینہ سینٹرز کا جائزہ لیں تو طبی سہولیات کی عدم فراہمی، گندگی کے ڈھیر اور تیسرے درجے کے انتظامات کے باعث یہ علاج گاہیں بھی وائرس کے پھیلاؤ کی آماجگاہ بن چکی ہیں۔ میو ہسپتال، جناح ہسپتال سروسز ہسپتال اور ایکسپو سینٹر سمیت دیگر قرنطینہ سینٹرز میں زیر علاج بزرگ افراد، مرد و خواتین اور نوجوان لڑکے اور لڑکیاں میں کوئی ایسا نہیں جو روتے بلکتے حکومت کو بدعائیں نہ دے رہا ہو۔

لاہور کے ایکسپو سینٹر میں قائم ہزار بیڈز کا فیلڈ ہسپتال مریضوں کی بے بسی کی انتہائی ہولناک تصویر پیش کر رہا ہے۔ یہاں ہزار مریضوں کے لیے مجموعی طور پر 54 باتھ روم بنائے گئے ہیں۔ حالانکہ عالمی ہدایات کے مطابق ایک مریض کے لئے ایک باتھ روم ہونا ضروری ہے۔ کنفرم اور مشتبہ مریض اگر ایک ہی باتھ روم استعمال کریں گے تو کسی کے وائرس سے بچنے کا کوئی امکان باقی نہیں رہے گا۔ اسی طرح تینوں ہالز میں مشتبہ اور کنفرم مریضوں کے درمیان فرق روا رکھنے کی بجائے انھیں اکٹھے رکھا گیا ہے، حتی کہ بیڈز کے درمیان فاصلہ بھی سماجی دوری کی تدبیر کے منافی رکھا ہے۔

حکومت کا دعویٰ ہے کہ یہ لاہور میں بہترین سہولیات کے ساتھ بنایا گیا سب سے بڑا قرنطینہ سینٹر ہے لیکن درحقیقت یہی وہ سینٹر ہے جہاں رکھے گئے کنفرم اور مشتبہ مریض طبی سہولیات کی عدم فراہمی کے باعث اب تک دو دفعہ احتجاج کرتے ہوئے سڑک پر آ چکے ہیں۔ اسی طرح حکومت نے مریضوں سے برتاؤ اور علاج کی ایسی پالیسی وضع کی ہے کہ وائرس سے متاثرہ افراد کو معاشرے میں اچھوت بنا دیا ہے۔ پالیسی بناتے وقت ہماری معاشرتی روایات اور کلچر کو بھی مدنظر نہیں رکھا گیا۔ کسی گھر میں مریض کی موجودگی کی اطلاع موصول ہونے پر وہاں پولیس اور محکمہ صحت کی ریڈ لازم ہے۔ کورونا کے مریضوں کو ان کے گھروں سے ہسپتال لے جانا ان کی عزت کا جنازہ نکالنے جیسا عمل بنا دیا گیا ہے۔ مریضوں کو ان کے گھروں سے ایسے ہانکا کر کے لے جایا جاتا ہے کہ جیسے کوئی بہت بڑے مجرم ہوں۔ حوصلہ دینے اور ہمدردی کرنے کی بجائے ہتک آمیز سلوک کے باعث شاید صحتیاب ہونے کے بعد بھی ان مریضوں پر لگا یہ بدنما سماجی داغ ختم نہیں ہو سکے گا۔

متاثرہ گھر کے سربراہ، خواتین، بچیوں سمیت تمام افراد کو اٹھا کر اس طرح مختلف مقامات پر منتقل کر دیا جاتا ہے کہ باپ نہیں جانتا اس کے بیٹے یا بیٹی کو کہاں رکھا گیا ہے۔ ماں نہیں جانتی اس کے گھر والے کہاں ہیں۔ نہ ہی پریشان حال مریضوں کو کوئی بتانے کی زحمت گوارہ کرتا ہے کہ ان کے پیارے کہاں اور کس حال میں ہیں۔ اسی طرح لاہور کے میو ہسپتال میں زیر علاج وائرس سے متاثرہ خواتین کے سٹور نما وارڈ کی حال ہی میں سامنے آنے والی فوٹیج میں چھ فٹ سے کم فاصلے پر لگے مریضوں کے بیڈز، کٹھمل، چوہوں اور دیگر حشرات کی بھرمار، واش روم کی سہولت سے محروم، رمضان میں بھوک اور پیاس سے بلکتی خواتین اور بچیاں حکومت کے بہترین اقدامات کا نوحہ سنا رہی ہیں۔

اسی طرح میو ہسپتال کے ایک اور کورونا وارڈ کی فوٹیج بھی منظر عام پر آئی ہے جس میں مریض وارڈ میں پڑی ایک لاش کے بارے بتا رہے ہیں کہ صبح سے ڈیڈ باڈی وہیں پڑی ہے، تعفن اس قدر ہے کہ سانس لینا مشکل ہے۔ مریضوں کا کہنا تھا کہ اگر انھیں پتہ ہوتا کہ حکومت اس طرح ذلیل کرے گی تو بہتر تھا کہ ہم گھر میں ہی رہتے۔ وہاں شاید بچ جاتے لیکن ہسپتال میں بچنے کی بالکل امید نہیں۔ ایم سی ایچ پمز میں کورونا وارڈ کی ڈیوٹی پر مامور ڈاکٹر ثروت کی ویڈیو بھی منظر عام پر آ چکی ہے۔ جس میں وہ بتا رہی ہیں کہ وہاں ان کی ایک ساتھی ڈاکٹر کا کورونا ٹیسٹ پازیٹیو آیا، بعد ازاں ان میں بھی علامات نمودار ہونا شروع ہو گئیں لیکن انھیں قرنطینہ بھجوانے کے بجائے ڈیوٹی کرنے پر مجبور کیا گیا۔ ان کا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد انھیں ہسپتال کے ہی ایک سٹور میں لاک کر دیا گیا۔ جہاں نہ پینے کا پانی اور نہ ہی کچھ کھانے کو میسر ہے حتیٰ کہ واش روم کی سہولت بھی میسر نہیں۔

لاہور کے علاقے مزنگ میں قائم قرنطینہ سینٹر سے موصول ہونے والی ایک مریض کی دردناک فوٹیج حکومت کے اقدامات کا الگ بھانڈہ پھوڑ رہی ہے۔ طارق رشید نامی یہ بزرگ مریض لاہور کا رہائشی اور یونین کونسل 82 کا حکومتی جماعت تحریک انصاف کا کونسلر بھی ہے۔ جس کی یہ خواہش تھی کہ اس کے درد میں ڈوبے ہوئے الفاظ کو حکمرانوں تک پہنچایا جائے، اسی لیے اس کے الفاظ کو اختصار کے ساتھ جوں کا توں پیش کیا جا رہا ہے۔ فوٹیج میں متاثرہ شخص پنجابی میں اپنی بات کا آغاز کرتا ہے، السلام و علیکم حکمرانو، میرا نام طارق رشید اے تے میں یو سی بیاسی توں پی ٹی آئی دا ممبر کونسلر وی آں۔ میں پچھلے پنج چھ دناں تو ایتھے آں، میں پیٹ پیٹ کے تھک گیا واں میری شوگر بہت ہائی جا رہی اے، میں بے ہوش رہیا واں تے ایتھے کوئی کسے نوں نئیں پچھ رہیا۔ اسی ذلیل وخوار ہو گئے آں۔ نہ کوئی ایتھے محکمے دا بندہ آ رہیا اے تے نہ کوئی دفتر دا بندہ آ رہیا اے۔ حکمرانو اینا ڈر گئے او کہ ایتھے کرسچن توں علاوہ کوئی نئیں آوندا۔ کادے فنڈ اکٹھے کر رہیاں ایں عمران خان، ایتھے کسے کول دین واسطے دوائی تک نہیں، میں او وی پلے توں منگا رہیا واں۔ درد اور تکلیف میں ڈوبے لہجے میں زارو قطار روتے ہوئے یہ شخص کہتا ہے، حکمرانو تانوں اللہ تے رسول صلی اللہ علیہ و سلم دا واسطہ ساڈے لئی وی سوچو……..!

جواب لکھیں

%d bloggers like this: