...................... .................

امریکی صدارتی دوڑ: کیا بائیڈن اپنا بندہ ہے؟…… چوہدری فرخ شہزاد

کرونا کی سنگینی نے تمام عالمی سیاسی امور کو پیچھے دھکیل دیاہے یہی وجہ ہے کہ جب ڈیمو کریٹ امیدوار جو بائیڈن کو پارٹی نے ٹرمپ کے مقابلے میں امیدوار نامزد کرنے کا فیصلہ کیا تو اس پر کوئی شور برپا نہیں ہوا۔ امریکی سیاست سے قطع نظر ہم نے یہ دیکھنا ہے کہ صدارت کے دو امیدواروں ڈونالڈ ٹرمپ اور جو بائیڈن میں سے پاکستان کیلئے کون فائدہ مند ثابت ہو گا۔ ہمارے ہاں سفارش اور ذاتی جان پہچان اور اپنا بندہ کلچر اتنا زیادہ ہے کہ ہماری قومی بصیرت بھی اس آسیب کا شکار نظر آتی ہے کہ فلاں امریکی صدر چونکہ ذاتی طور پر ہمارے فلاں وزیراعظیم کا دوست ہے اس لئے ہمیں فائدہ ہو گا حالانکہ امریکہ میں کوئی بندہ اپنا بندہ نہیں ہوتا جو بھی آتا ہے وہ پارٹی پالیسی اور ایجنڈے کو آگے بڑھاتا ہے میرے نزدیک ٹرمپ اور بائیڈن میں اتنا ہی فرق ہے جتنا کوکا کولا اور پیپسی کولا کے ذائقہ میں ہے۔ البتہ کچھ چیزیں پھر بھی قابل غور ہیں۔

پہلے ہم ٹرمپ پالیسیوں کا جائزہ لیتے ہیں۔ عمران خان کی حکومت آنے سے پہلے اگست 2017میں جب نواز شریف کی حکومت تھی تو ٹرمپ کا پاکستان کے بارے میں بیان پاکستان کی 73سالہ تاریخ میں کسی امریکی صدر کی جانب سے سخت ترین اور غیر سفارتی بیان تھا جس میں پاکستان کو دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کا ذمہ دار قرار دیاگیا اور سخت مذمت کے ساتھ دھمکی دی گئی ۔ عمران خان کے وزیراعظیم بننے کے بعد ٹرمپ کے موقف میں قدرے نرمی آگئی ہے سب سے بڑی حمایت یہ ہے کہ انہوں نے کشمیر پر مصحالحت کی پیش کش کی ہے جو نئی بات نہیں۔

کرونا کی آیئسولیشن تو اب شروع ہوئی ہے مگر صدر ٹرمپ نے اقتدار سنبھالتے ہی امریکہ کو باقی دنیا سے آئیسولیٹ کرنے پر کام کا آغاز کیا ان کا نعرہ ہی ’’امریکہ فرسٹ ‘‘تھایعنی ہمیں اپنے ملک پر توجہ دینی چاہیے اس وجہ سے امریکہ جو کبھی عالمی قیادت کا دعویٰ کرتا تھا وہ عالمی منظر

سے مٹنے لگا۔ موسمیاتی تبدیلیوں پر معاہدے منسوخ کر دئیے گئے امریکہ ایران کے ساتھ صلح کے معاہدے سے منحرف ہو گیا اسی طرح بہت سے بین الاقوامی معاہدے منسوخ کر دئیے گئے۔ امیگریشن قوانین میں مسلمان ممالک کو نشانہ بنایا گیا۔ البتہ ٹرمپ کے ایجنڈے میں انڈیا سے تعلقات نمایاں رہے۔ 2019میں مودی کے دورہ امریکہ میں جس طرح ہیوسٹن میں ان کیلئے جلسہ عام کا اہتمام کیاگیا سب کے سامنے ہے اس سال کے شروع میں ٹرمپ انڈیا گئے اور مودی نے نمستے ٹرمپ کے نام سے ان کیلئے جلسہ عام کیا جس میں

مودی نے ٹرمپ کا نام غلط تلفظ سے پکارا۔ امریکہ میں لاکھوں کی تعداد میں انڈین نژاد امریکیوں کے ووٹوں کی خاطر ٹرمپ مودی کے پیچھے پیچھے ہے۔ جبکہ مسلمانوں پر امریکی سرحدیں بند کی جا رہی ہیں۔ جن ممالک کے شہریوں کے امریکی ویزا پر پابندیاں لگائی گئیں وہ سب مسلمان ہیں۔ جبکہ مودی کے ساتھ ٹرمپ کا Love Affair ابھی جاری ہے۔ کرونا کنٹرول پر کوتاہی کے باعث امریکہ میں 80 ہزار سے زیادہ شہری ہلاک ہوئے جس کی وجہ سے امریکی عوام ٹرمپ سے نالاں ہیں اورحکومتی نااہلی کا الزام لگاتے ہیں کہ امریکہ نے بہت دیر سے ردعمل دکھایا۔ اب ذرا جوبائیڈن کی بات کرتے ہیں۔ ٹرمپ کا شمار امریکہ کے کھرب پتی امیر ترین لوگوں میں ہے ٹرمپ ٹاور کے نام سے اس کی لگژری ہوٹل کا ایک بہت بڑا چین ہے جبکہ اس کے مقابلے میں بائیڈن ایک سیاستدان ہے وہ جب اوبامہ کے دور میں امریکہ کا نائب صدر تھا تو اس کا بیٹا کینسر کا شکار ہو کر ہلاک ہو گیا۔ بائیڈن کے پاس اس کے علاج کے لئے رقم نہیں تھی جس کی وجہ سے اوبامہ نے سرکاری فنڈ سے اس کے بیٹے کے علاج کا اعلان کیا توبائیڈن کی آنکھوں میں آنسو آ گئے جسے دنیا بھر کے ٹی وی چینلز نے دکھایا۔ بائیڈن ایک منجھے ہوئے سیاستدان ہیں ٹرمپ کی طرح جذباتی نہیں ہیں۔ وہ گزشتہ 36 سال سے سیاست میں ہیں اور ٹرمپ کی طرح اچانک سیاست میں وارد نہیں ہوئے۔

ٹرمپ کو صدارتی امیدوار بننے سے پہلے کوئی جانتا تک نہ تھا مگر بائیڈن کا معاملہ بالکل برعکس ہے۔ وہ 30 سال سے سینٹ کے رکن ہیں اور فارن ریلیشن کمیٹی جیسی اہم ذمہ داری نبھا چکے ہیں وہ اس کمیٹی کے چیئرمین بھی رہے ہیں۔ اوبامہ کے دور میں 2 دفعہ نائب صدر رہے ہیں۔ اوبامہ کے دور میں 8 سال تک افغانستان عراق اور Conflict Zones میں ساری پالیسی سازی بائیڈن کی رہی ہے وہ لاتعداد بار پاکستان آ چکے ہیں اور پاکستان کو ٹرمپ سے کہیں زیادہ جانتے ہیں کیونکہ ان کا Exposure بہت زیادہ ہے۔ وہ 2009ء کے امریکی کیری لوگر بل کے خالق ہیں جس کے تحت پاکستان کو 7.5 ارب ڈالر کی نان ملٹری امداد دی گئی جس کی وجہ سے 2015ء میں اسلام آباد میں انہیں پاکستان کا اعلیٰ ترین اعزاز ہلال پاکستان دیا گیا لہٰذا اگر وہ امریکہ کے صدر بن جاتے ہیں تو یہ صدارت ان کے معمولات زندگی کا حصہ ہو گی وہ عثمان بزدار کی طرح یہ کبھی نہیں کہیں گے کہ میں ابھی نیا آیا ہوں اور سیکھ رہا ہوں۔ وہ چین اور انڈیا کو انگیج کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور پاکستان اور انڈیا کے درمیان سفارتی ڈیڈلاک کا خاتمہ کر سکتے ہیں جو خطے کے لئے بہتر ہو سکتا ہے۔

وہ climate change جیسے اہم عالمی ایشو پر معاہدہ فرانس میں واپسی کا ارادہ رکھتے ہیں اور دنیا بھر میں جمہوریت کی شکست وریخت کے عمل کو روکنے کیلئے امریکی کردار کو اہم سمجھتے ہیں اور مریکہ کو دوبارہ اپنے پرانے منصب پر واپس لانے کا اعلان کر چکے ہیں۔ مسلمانوں سے مخاطب ہوکر کہتے ہیں کہ نئی امیگریشن پالیسی اخلاقی دلوالیہ پن اور نسلی تعصب سے پاک ہو گی۔ انہوں نے واشگاف الفاظ میں اعلان کیا ہے کہ وہ صدر بن گئے تو رمضان اور عید کے موقع پر وائٹ ہائوس کے دروازے مسلمانوں کیلئے کھول دیں گے۔ یاد رہے کہ امریکی صدور کی روایت رہی ہے کہ رمضان میں وائٹ ہائوس میں صدرکی جانب سے روایتی افطار پارٹی کا اہتمام کیا جاتا تھا مگر ٹرمپ نے آ کر یہ سلسلہ ختم کر دیا۔ ان حقائق کے پیش نظر میراذاتی ووٹ تو بائیڈن کے حق میں ہے جبکہ امریکی عوام بھی ٹرمپ کی حمایت سے دست کش ہو چکے ہیں دیگر وجوہات کے علاوہ اس میں کروناپر غفلت سر فہرست ہے۔

جواب لکھیں

%d bloggers like this: