...................... .................

لڑکا بن کر اپنے ہی ’گینگ ریپ‘ کا منصوبہ بنانے والی لڑکی

رواں ماہ کے آٖغاز میں بھارت میں سامنے آنے والے فحش چیٹ کے سوشل میڈیا اسکینڈل ’بوائز لاکر روم‘ میں ایک نیا موڑ سامنے آنے پر لوگ حیران رہ گئے۔

بھارتی پولیس نے دعویٰ کیا ہےکہ مذکورہ اسکینڈل کا سوشل میڈیا پر لڑکی کے گینگ ریپ کے پیغام کا وائرل ہونے والا اسکرین شاٹ دراصل کسی لڑکے نے نہیں بلکہ ایک لڑکی نے لکھا تھا۔

ساتھ ہی پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ جس لڑکی نے لڑکا بن کر اپنے ایک دوست کو گینگ ریپ کی ترغیب دی تھی دراصل اس نے دوست کو اپنے ہی گینگ ریپ کے لیے اکسایا۔

جی ہاں، نئی دہلی پولیس کے مطابق ایک لڑکی نے سدھارتھ کے نام سے سوشل شیئرنگ ایپلی کیشن اسنیپ چیٹ پر لڑکے کا جعلی اکاؤنٹ بنا کر اپنے ایک مرد دوست کو ایک لڑکی کے گینگ ریپ کرنے پر اکسایا۔

ٹائمز آف انڈیا کے مطابق دہلی پولیس کے سائبر سیل کے افسر انیش رائے کا کہنا تھا کہ لڑکی جب مرد کے نام سے جعلی اکاؤنٹ بنا کر ایک لڑکے سے دوستی کی اور اس عمل کے ذریعے لڑکی دراصل اپنے دوست کی نیت اور لڑکیوں سے متعلق خیالات جاننا چاہتی تھی۔

انیش رائے کا کہنا تھا کہ تفتیش سے پتہ چلا کہ جس لڑکی نے اسنیپ چیٹ پر سدھارتھ کے نام سے جعلی اکاؤنٹ بنایا وہ ابھی نابالغ ہے اور اس نے اپنے ہی مرد دوست کو ایک لڑکی کے گینگ ریپ کرنے پر اکسایا اور اسے اسنیپ چیٹ پر پیغام بھیجا کہ اس نے لڑکی کے گینگ ریپ کا مکمل منصوبہ بنالیا ہے۔

پولیس کے مطابق سدھارتھ کے اکاؤنٹ سے اس نے اپنے دوست کو بتایا کہ اس نے فلاں لڑکی کے گینگ ریپ کا منصوبہ بنالیا ہے اور سدھارتھ نے جس لڑکی کا نام بتایا وہ دراصل خود ہی تھیں تاہم اس کے دوست نے سدھارتھ کے پیغامات اس لڑکی کو بھیج دیے جس کا نام اس نے بتایا تھا۔

یعنی لڑکی کی جانب سے بنائے گئے گینگ ریپ کی منصوبہ بندی کا پیغام گھوم پھر کر واپس اسی لڑکی کے پاس آیا جس نے لڑکا بن کر اپنے ہی گینگ ریپ کا منصوبہ بنایا تھا۔

پولیس کے مطابق سدھارتھ کی جانب سے لڑکی کا گینگ ریپ کرنے کا منصوبہ سننے کے بعد لڑکا پریشان ہوگیا اور اس نے گینگ ریپ کرنے سے انکار کرنے سمیت سدھارتھ کو جوابات دینا ہی چھوڑ دیے۔

انیش رائے کے مطابق بعد ازاں اس لڑکے نے پریشان ہوکر سدھارتھ کے منصوبے سے متعلق اپنے دوستوں کو بھی آگاہ کیا اور اس نے سدھارتھ کے پیغامات کے اسکرین شاٹس دوستوں کو بھیجے، جس کے بعد ان کے دوستوں میں سے کسی ایک نے وہ اسکرین شاٹ اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر لگائے۔

پولیس کے مطابق انسٹاگرام اسٹوری پر شیئر کیے اسکرین شاٹس کو دیگر افراد نے دیکھنے کے بعد شیئر کرنا شروع کردیا جب کہ اسی اسکرین شاٹ کو ’بوائز لاکر روم‘ نامی چیٹ گروپ میں بھی شیئر کیا اور پھر اسی گروپ کے اسکرین شاٹ کو بھی وائرل کیا گیا اور لوگوں کو لگا کہ لڑکی کے گینگ ریپ کا منصوبہ ’بوائز لاکر روم‘ نامی چیٹ گروپ میں بنایا گیا۔

پولیس نے واضح کیا کہ لڑکی کے گینگ ریپ کا وائرل ہونے والے اسکرین شاٹ ’بوائز لاکر روم‘ نامی چیٹ گروپ کا حصہ نہیں بلکہ وہ اسنیپ چیٹ پر ایک لڑکی کی جانب سے سدھارتھ کے نام سے بنائے گئے جعلی اکاؤنٹ کا اسکرین شاٹ ہے جو اس نے اپنے ایک دوست کو پیغام بھیجا تھا۔

نئی دہلی پولیس کے مطابق چوں کہ لڑکا بن کر اپنے ہی گینگ ریپ کا جھوٹا منصوبہ بنانے والی لڑکی ابھی نابالغ ہے اور اس نے یہ سب غیر ارادی طور پر کیا اور اس کا مقصد لڑکے کی نیت کو جانچنا تھا، اس لیے اس لڑکی کے خلاف کوئی قانونی چارہ جوئی نہیں کی جا رہی۔

تاہم ساتھ ہی پولیس نے واضح کیا کہ لڑکی کے گینگ ریپ کے منصوبے والے پیغام کا تعلق لڑکوں کے چیٹ گروپ ’بوائز لاکر روم‘ سے نہیں اور اس گروپ کو خوام خواہ اس معاملے میں گھسیٹا جا رہا ہے۔

ساتھ ہی پولیس کے مطابق ’بوائز لاکر روم‘ چیٹ گروپ میں بھی خواتین اور لڑکیوں کے حوالے سے نامناسب باتیں کرنے کے معاملے کی تفتیش جاری ہے۔

پولییس کے مطابق اب تک ’بوائز لاکر روم‘ نامی انسٹاگرام چیٹ گروپ کے 27 ارکان کا پتا لگالیا گیا ہے جس میں سے 24 سے ابتدائی پوچھ گچھ بھی کرلی گئی ہے اور گروپ کے ایڈمن سمیت اہم ارکان کو بھی حراست میں لیا جا چکا ہے۔

تاہم پولیس کو تاحال ’بوائز لاکر روم‘ نامی چیٹ گروپ کے ارکان کے خلاف ٹھوس ثبوت نہیں ملے اور پولیس نے انسٹاگرام سے بھی مذکورہ گروپ سے متعلق معلومات فراہم کرنے کی درخواست کردی ہے۔

پولیس کو شبہ ہے کہ مذکورہ ’بوائز لاکر روم‘ چیٹ گروپ میں خواتین اور لڑکیوں کی جسامت پر کی جانے والی نازیبا گفتگو کے زیادہ تر پیغامات کو ڈیلیٹ کردیا گیا ہوگا تاہم اس حوالے سے پولیس کی تفتیش جاری ہے۔

’بوائز لاکر روم‘ کیا ہے؟

’بوائز لاکر روم‘ دراصل سوشل شیئرنگ ایپلی کیشن انسٹاگرام پر 2 درجن سے زائد لڑکوں کی جانب سے بنایا جانے والا چیٹ گروپ کا نام ہے، جس کے اسکرین شاٹ پہلی بار 3 مئی کو بھارتی سوشل میڈیا پر سامنے آنے کے بعد ہنگامہ کھڑا ہوگیا تھا۔

’بوائز لاکر روم‘ نامی چیٹ گروپ میں 18 سال کی عمر تک کے 20 لڑکے شامل تھے اور وہ مذکورہ چیٹ گروپ میں خواتین، طالبات اور کم عمر لڑکیوں کی تصاویر شیئر کرنے سمیت ان کے جسمانی خدوخال پر فقرے کستے تھے۔

مذکورہ چیٹ میں جنوبی دہلی کے 3 اعلیٰ و مہنگے نجی اسکولوں سمیت نوئیڈا کے ایک اسکول کے طالب علم شامل تھے اور زیادہ تر کی عمریں 15 سے 18 سال کے درمیان ہیں تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا کہ مذکورہ گروپ میں کتنے افراد کی عمریں 18 سال سے زائد ہیں۔

مذکورہ گروپ میں لڑکوں کی جانب سے اپنے اسکول کی لڑکیوں سمیت دیگر خواتین اور کم عمر لڑکیوں کی تصاویر شیئر کی جاتی رہیں اور پھر ان تصاویر پر لڑکوں کی جانب سے جنسی جملے کسے جاتے رہے۔

’بوائز لاکر روم‘ نامی چیٹ کے ارکان لڑکی کی تصویر شیئر کیے جانے کے بعد ان کے جسمانی خدوخال پر بات کرتے اور ایک دوسرے کو لڑکی کا گینگ ریپ کرنے پر اکسانے سمیت دیگر طرح کی جنسی استحصال کی باتیں کرتے۔

مذکورہ چیٹ گروپ کا ایک اسکرین شاٹ پہلی بار 3 مئی کو ایک خاتون نے شیئر کیا تھا، جس میں لڑکوں کی جانب سے کسی خاتون کا گینگ ریپ کیے جانے کی باتیں کی جا رہی تھیں۔

سامنے آنے والے اسکرین شاٹ میں واضح طور پر پڑھا جا سکتا ہے کہ ارکان ایک دوسرے کو کہہ رہے ہیں کہ وہ آسانی سے خاتون کا گینگ ریپ کردیں گے۔

تاہم اب پولیس کی جانب سے کی جانے والی تفتیش سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ مذکورہ اسکرین شاٹ دراصل ایک لڑکی کی جانب سے سدھارتھ کے نام سے بنائے جانے والے اسنیپ چیٹ کے جعلی اکاؤنٹ کا ہے جو اس نے اپنے ایک دوست کو بھیجا تھا تاہم اس پیغام کو کسی نے بوائز لاکر روم میں شیئر کردیا تھا۔

مذکورہ اسکرین شاٹ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد 6 مئی کو دہلی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے بوائز لاک روم کے 2 ارکان کو گرفتار کرلیا تھا۔

لیکن جیسے جیسے اس معاملے کی تفتیش آگے بڑھتی گئی، اس حوالے سے نئے تنازعات اور حیران کن معلومات سامنے آتی گئی اور پھر چند روز قبل پولیس نے بوائز لاکر روم کی طرز کا گرلز لاکر روم نامی چیٹ گروپ کو بھی پکڑا۔

جواب لکھیں

%d bloggers like this: