...................... .................

پہلا روزہ…… طارق کا مران

ہم بابوں کا بھی عجیب حال ہے،کل کی بات تو یاد نہیں رہتی، جبکہ برسوں پرانی باتیں پوری تفصیل ک ساتھ یاد آنے لگتی ہیں،کچھ ایسا ہی میرے ساتھ بھی ہوا۔

گزشتہ دنوں کی ایک صبح جب اہلیہ نے نیند سے بیدار کرتے ہوئے کہا ”اٹھو بڑے میاں، روزہ نہیں رکھو گئے، تو مجھے سحری کرتے ہوئے پچاس پچپن سال قبل رکھا ہوا اپنا پہلا روزہ یاد آگیا۔

یہ 1965 کا ذکر ہے، جنگ کا زمانہ تھا، ہم ان دنوں کراچی کینٹ میں رہتے تھے۔ ابو سمیت اکثر فوجی جوان محاذ پر گئے ہوئے تھے، اور چھاؤنی کا رہائشی علاقہ سُونا سُونا دکھائی دے رہا تھا، فیملی کوارٹرز میں ان کی بیویاں، اور ہم جیسے بچے رہ گئے تھے، دن میں بھی مرد کم کم ہی دکھائی دیتے، سامنے والی بڑی سڑک سے کبھی کبھار کوئی فوجی ٹرک گزر جاتا، رات کو بلیک آؤٹ ہوتا، تاریکی اور اندھیرے کا راج، ہم اپنی ماؤں کے سینوں سے لگے دبکے رہتے، کبھی کبھی سائرن زور زور سے بجنے لگتا، ہم بھاگ کر گھروں کے صحنوں میں بھی خندقوں میں جا چھپتے، کچھ دیر بعد ہوائی جہازوں کے آنے کا شور سنائی دینے لگتا، پھر اینٹی ائر کرافٹ گنوں کی فائرنگ کی آوازیں آنے لگتیں، کچھ دیر یہ سلسلہ چلتا، اور پھر سنانا چھاجاتا، اس ماحول میں رمضان کا بابرکت مہینہ آگیا، بچہ پارٹی دن کا بیشتر حصہ سامنے کے کھلے میدان میں کھیل کود کر وقت گزارتی، سکول جو بندہوگئے تھے، میں ابھی ابھی تو پہلی سے دوسری جماعت میں گیا تھا۔
لیکن مکار دشمن نے رات کی تاریکی میں حملہ کر دیا تھا، تو جنگ شروع ہو گئی۔

ایک دن کھیلتے کھیلتے اچانک پڑوس میں رہنے والے انکل مطیع الرحمان کے بیٹے سمیع الرحمان نے مجھے بڑے فخر سے بتایا ”سالہ، آج ہم نے روزہ رکھا ہے، اچھا، کیسے رکھا؟ میں نے تھوڑی حیرانی کے ساتھ پوچھا، سمیع کا جواب تھا ”صبح صبح اماں نے کھانا دیا، اور کہا تم بڑا ہو گیا ہے، آج تمہارا روزہ ہے، نماز پڑھے گا، سارا دن کچھ نہیں کھائے گا، شام کو، جب اذان ہو گا تو روزہ کھلے گا، اپنے بنگالی لہجے کی اردو میں اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے میری معلومات میں اضافہ کرتے کہا کہ ہم نے اب تک کچھ نہیں کھایا، پانی بھی نہیں پیا۔ اچھا! میری حیرت میں اضافہ ہونے لگا، بھوک، پیاس نہیں لگی تم کو، ”لگا، مگر اماں بولا ”شام سے پہلے کھائیں گے تو اللہ میاں بہت ناراض ہو گا“۔اچھا! میں سمیع الرحمان کو دیکھتا رہ گیا، اور مجھے اس سے تھوڑی سا حسد ہونے لگا، یہ سالہ تو بہت بڑا آدمی بن گیا ہے۔ یہ ہی سوچتا ہوا میں گھر چلا آیا اور آکر امی سے کہا ”کل میں بھی روزہ رکھوں گا، یہ سن امی نے ایک خوش گوار حیرانی سے مجھے دیکھا اور کہا ”مگر تم ابھی چھوٹے ہو، سمیع الرحمان رکھ سکتا ہے تو میں بھی رکھ سکتا ہوں، میں نے دو ٹوک انداز میں کہا، تویہ بات ہے، امی وجہ جان کر میری طرف دیکھ کر مسکرانے لگیں، چلو ٹھیک ہے۔

اور صبح عین سحری کے وقت امی نے مجھے نیند سے بیدار کر دیا، اورکہا ”اٹھو میاں، روزہ رکھ لو“۔ اب جو آنکھیں کھول کر دیکھا تو میر ے پلنگ کے ساتھ رکھے ٹیبل پر دو پلیٹوں میں گرماگرم پراٹھے اور ہاف فرائی انڈے رکھے ہوئے تھے، یہ میرا پسنددیدہ ناشتہ تھا، میری تو بھوک جاگ اٹھی، بھا گ کر غسل خانے میں جا کر قلعی کی اور کھانے پر ٹوٹ پڑا، فارغ ہوا تو ریڈیو کی آوا ز سنائی دی، ”یہ ریڈیو پاکستان کراچی ہے، آپ ہماری رمضان المبارک کی خصوصی نشریات سن رہے ہیں، سحری کا وقت ختم ہونے میں پندرہ منٹ باقی ہیں۔

تھوڑی دیر بعد اذان سنائی دینے لگی، تو امی بولیں ”جلدی جلدی پانی پی لو، روزہ رکھنے کا وقت ختم ہونے والا ہے، جب پانی پی چکا تو دیکھا کہ امی مصلے پر بیٹھی تھیں، کہنے لگیں ”میرے پاس آکر بیٹھ جاؤ، اب ہم نماز پڑھیں گے“۔ میں ان کے پاس بیٹھ گیا تو مجھے بتانے لگیں جیسے میں کروں ِ، کرتے جانا، او ر دل میں الحمد اللہ، الحمد اللہ پڑھتے جانا، جی اچھا، میں نے جواب دیا اور اس طرح امی کی رہنمائی میں نے اپنی پہلی نما ز ادا کی۔ اب جو پلنگ پر لیٹا تو نیند نے آلیا، کافی دیر بعد آنکھ کھلی تو دن چڑھ چکا تھا، امی گھر کے کام کاج میں مصروف تھیں، میں جلدی سے باہر نکل آیا، میدان میں جاکر سمیع اللہ کو تلاش کرنے لگا، تھوڑی دیر بعد وہ آیا تو اسے بڑے رعب سے بتانے لگا، ”آج میرا بھی روزہ ہے، او سالہ، تم نے بھی رکھ لیا، پہلے تو میں نے رکھا ناں، ہماری نقل کرتا، کس کو بولا نقل کرتا ہے، میں غصے سے اس کی طرف بڑھنے لگا۔ اس سے پہلے میں کہ سمیع اللہ کا گریبان پکڑ لیتا، آفریدی بھائی بیچ میں آگئے، کیا کرتے ہو، رمضان میں لڑتے ہو، مسلمان بھائی بھائی، آپس میں پیار سے رہتے ہیں۔ وہ سمجھانے لگے، اب میں جہاں تھا ویہیں رک گیا، آفریدی بھائی ہم سب کے بھائی جان تھے، اور ان کا کہا ہم سب مانتے تھے، وہ ہائی سکول میں پڑھتے تھے۔

خیر تھوڑی دیر کی کھیل کود کے بعد گھر کی راہ لی، پہنچے تو بھوک اور پیاس سستانے لگی، لیکن خیال آیا امی نے تو افطار تک کھانے سے منع کیا ہے، مگر پانی پینے کو بہت دل چا رہا تھا، امی اندر باروچی خانے میں مصروف تھیں، سامنے جگ میں پانی اور گلاس میز پر رکھا تھا۔ میں نے سوچا چپکے سے پی لیتا ہوں، امی تو اندر ہیں، ابھی میں نے جگ کی طرف ہاتھ بڑھایا تھا کہ باروچی سے امی کی آوازسنائی دی، طارق، جی، گنا ہو گا، اللہ میاں ناراض ہوں گے۔ اچھا! میں نے بادل نخواستہ پانی پینے کا ارادہ ترک کر دیا، اور سوچنے لگا کہ روزہ رکھنا تو بڑا مشکل کام ہے، تھوڑی دیر بعدامی نے مجھے آواز دی، اور مٹھائی سے بھری ایک پلیٹ میری طرف بڑھاتے ہوئے کہا، یہ ساتھ والی جہاں آرا آنٹی کو دے آؤ، انہیں بتانا تم نے روزہ رکھا ہے، اور دیکھو خود نہ کھانا۔ اس میں سے، جہنم میں جگہ ملے گی، اچھا جی! میں نے للچائی نظروں سے مٹھائی والی رکابی کو دیکھتے ہوئے کہا۔ پتہ نہیں امی نے یونٹ کی کینٹین سے مٹھائی کب منگوا لی تھی، میں آس پڑوس کے کئی گھروں میں مٹھائی دینے گیا اور سب آنٹیوں کو بڑے فخر سے بتایا، آج میرا پہلا روزہ ہے، سب نے سر پر ہاتھ پھیر کر مجھے شاباش دیتے ہوئے کہا ”واہ بھئی، واہ“۔

اس مصروفیت میں پتہ ہی نہ چلا اور افطاری کا ٹاٹم قریب آگیا، اس کا اندازہ اس وقت ہوا جب امی نے دسترخوان سجا دیا،جس پر مٹھائی، پکوڑے، سموسے اور سب سے بڑھ کر میرا پسنددیدہ ٹھنڈا ٹھنڈا روح افزا بڑے سے شیشے کے جگ میں رکھا ہوا تھا، اس وقت بھی تپائی پر رکھا ہوا ٹرانسسٹر آن تھا، اور اس وقت کوئی خوش الحان صاحب نعت مبارکہ پیش کر رہے تھے، کچھ دیر بعد اعلان کیا گیا”کراچی اور اس کے گرد ونواح میں روزہ افطار کرنے کا وقت ہوا چاہتا ہے“۔ امی نے میری طرف پیار سے دیکھا اور کہا روزہ کھول لو“ میرا ہاتھ سب سے پہلے شربت سے بھرے گلاس کی طرف بڑھا۔

بڑے میاں، روزہ رکھتے ہیں تو نماز بھی پڑھتے ہیں، سامنے کھڑی اہلیہ کی آواز مجھے حسین ماضی سے حال میں لے آئی۔

اچھا جی! میں نے جواب دیا اور وضو کرنے کے لئے غسل خانے کی طرف بڑھ گیا۔

(یاد داشتوں پر مبنی کتاب ”گزرا ہوا زمانہ“سے اقتباس)

جواب لکھیں

%d bloggers like this: