...................... .................

’’شجرِحیات‘‘، زندگی کی تصاویری دستاویز۔۔۔۔۔۔ میم سین بٹ

اردو ادب میں ناول کی صنف انگریزی ادب سے آئی تھی اس سے پہلے نثری اردو ادب میں صرف قصے کہانیاں ہی پائی جاتی تھیں وہ بھی عربی اور فارسی ادب سے ترجمہ ہو ئی تھیں،انگریزی ادب نے بھی ناول کی صنف اطالوی ادب سے لی تھی،ناول اطالوی زبان کا لفظ ناولا ہے اوراس کے معنی ”نیا“ ہیں،اطالوی ادیب جینو وینو کا شیو نے 1355ء میں ”سٹوریا“ کے نام سے دنیا کا پہلا ناول لکھا تھا،بعض محقق جاپانی ادیبہ موراساکی کی داستان کو دنیا کا پہلا ناول قرار دیتے ہیں، انگریزی کا پہلا ناول ”پامیلا“ تھا جبکہ اردو کا پہلا ناول ”مراۃ العروس“ کو قراردیا گیا جسے ڈپٹی نذیر احمد نے 1869ء میں تخلیق کیا تھا ان سے پہلے لکھی جانے والی مولوی کریم الدین کی تحریر ”خط تقدیر“ کو نقادوں نے ناول تسلیم نہیں کیا تھا،اردو ادب میں نظم، غزل، ہجو،قصیدہ وغیرہ پر مشتمل شاعری کے بعد پہلے افسانہ مقبول صنف رہی پھر ریڈیو اور ٹی وی ڈرامہ افسانے کو کھا گیا اور کہانی کی جگہ ناول کی صنف نے اردو ادب میں زیادہ مقبولیت حاصل کرلی تھی۔

ہمارے ادب میں ناول کے بانی تو مرد تھے لیکن اس صنف کو خواتین نے پروان چڑھایا شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ طویل بات کرنے کی عادی ہوتی ہیں تفنن برطرف۔اردو کی معروف خاتون ناول نگاروں میں قرۃ العین حیدر، حجاب امتیاز علی، عصمت چغتائی،اے آر خاتون، خدیجہ مستور،ہاجرہ مسرور، رشیہ جہاں، رضیہ فصیح احمد، خالدہ حسین،جمیلہ ہاشمی،الطاف فاطمہ، بانو قدیہ،بشریٰ رحمان،رضیہ بٹ اور عمیرہ احمد کے نام خاص طور قابل ذکر ہیں جبکہ آزادی کے بعد پاکستانی مرد ناول نگاروں میں نسیم حجازی،،ممتاز مفتی،،ابن صفی،شوکت صدیقی، اشفاق احمد، انتظار حسین، عبدللہ حسین، اے حمید،مستنصر حسین تارڑ،مرزا اطہر بیگ، محمد عاصم بٹ جیسے چند نام اہم ہیں بیشترلکھاری خواتین کے ناولوں میں ساس بہو کے جھگڑے ہی ملتے ہیں اور اگر چند خواتین الگ راستہ بھی چنتی ہیں تو اپنے ناولوں میں تصوف لے آتی ہیں۔

ہم اب تک سیکڑوں ناول پڑھ چکے ہیں جنہیں معروف اور غیرمعروف ادیبوں اور دانشوروں نے تحریرکیا ان میں سے کچھ ناول خود نوشت آپ بیتی نماتھے اکثر ناولوں کا مواد تخیلاتی ہوتاہے تاہم بعض ناولوں میں کہیں کہیں قلمکاروں نے ذاتی حالات بیان کئے یا مشاہدات کی عکاسی کی متعدد ناولوں میں مصنف نے شعوری یا غیر شعوری طور پر اپنی شخصیت کو ہیرو کے طور پر پیش کیا گزشتہ دنوں ہم نے مختصررومانی ناول ”شجرحیات“ کا مطالعہ کیاتو مرکزی کردار بہزاد کی شخصیت میں ہمیں ناول نگار ریاظ احمد (ریاض احمد خان)کی شخصیت کی کچھ جھلکیاں محسوس ہوئیں دونوں مصور اور فلسفی لگے یہ ناول الحمدپبلی کیشنز پرانی انارکلی کے تحت شائع ہوا اور ناول نگار نے اس کا انتساب والدہ کے نام کیا،ناول نگارریاظ احمد کتابی دنیا میں بنیادی طور پر مصوراور گرافک ڈایزائنر کی شناخت رکھتے ہیں اوراب تک ہزاروں کتابوں کے سرورق بنا چکے ہیں بک ہوم کے تحت 2007 ء میں چھپنے والی ہماری دوسری کتاب ”نواز شریف۔ وزارت عظمیٰ سے جلاوطنی تک“ کا سرورق بھی انہوں نے ہی تیار کیا تھا۔

رومانی ناول ”شجر حیات“ سے پہلے ریاظ احمد کی دو کتابیں ”تاریخ فلسفہ“(تدوین و ترجمہ) اور ”ہندی کے بے مثال ناولٹ (انتخاب) بھی شائع ہو چکی ہیں انہوں نے پی ٹی وی کیلئے طویل دورانیے کا ڈرامہ ”میں ،وہ اور میں“ بھی لکھا،نجی ٹی وی چینلز کیلئے خزینہ دانش، چہرے پہ چہرہ، مہرباں کیسے کیسے اورہم نہیں کم کے عنوان سے پروگرامز کے سکرپٹ تحریر کئے،پروگرام ”اعتقاد“ کی میزبانی کی، پنجابی سٹیج ڈرامہ ”گل نکی جئی“ کے منظوم مکالمے بھی لکھے،ان دنوں ریاظ احمد سہ ماہی استعارہ لاہور کے مدیر معاون اور انجمن ترقی پسند مصنفین لاہور کے صدر ہیں ماضی میں مزدور کسان پارٹی کے صدر بھی رہ چکے ہیں،وزارت اطلاعات سے مضمون ”قائد تجھے سلام“ لکھنے پر 2007 ء میں کار بھی بطور انعام حاصل کر چکے ہیں،انہیں حلقہ ارباب ذوق انتظامیہ سے شیلڈ اور بلھے شاہ ایوارڈ بھی مل چکا ہے۔

ریاظ احمد کے ناول کا باقاعدہ آغاز ہی موٹر وے پر حادثے سے ہوتا ہے جس میں ہیرو کے والدین مرجاتے ہیں جبکہ خود بہزاد کو بھی پہلے تو ڈاکٹر ز مردہ قرار دیدیتے ہیں مگر لاش مردہ خانے منتقل کرتے ہوئے ہسپتال ملازم بہزاد کے جسم کوجنبش کرتے دیکھ کر اسے وارڈ میں واپس لے جاتا ہے اور ڈاکٹر ز اس کی جان بچالیتے ہیں جس کے بعد ناول میں فلیش بیک کے ذریعے بہزاد کی فیملی کا تعارف کروایا جاتا ہے،بہزاد کے بچن میں مارشل لاء نافذ تھا وہ اپنے والدین کے سامنے خواہش بیان کرتارہتا ہے کہ بڑا ہو کر فوجی افسر بنے گا اور حکومت چلائے گا،ناول کی کہانی مصور ہیرو، اس کی مصوری اور نصف درجن کرداروں کے گرد گھومتی ہے اس میں روائتی طور پر ہیرو بہزاد،ہیروئن نیلوفر اور ویلن جوزف موجود ہوتا ہے عارضی ظالم سماج کی نمائندگی ہیروئن کا بشپ باپ اور آرٹ کلکٹرآذر صمدانی کرتے ہیں جبکہ پروفیسر اور پرویز کے کردار بہزاد کے ہمدرد ہوتے ہیں۔

بہزاد فائن آرٹس میں ماسٹر ڈگری لے کر اپنا زیادہ وقت کہانی باغ میں گزارتا ہے اور فطرت کے مناظر کو مصور کرتا رہتا ہے باغ کے ایک بزرگ درخت کو اس نے صوفی شجر کا خطاب دے رکھا ہوتا ہے،نیلوفر عرف نیلی سے اس کی پہلی ملاقات اسی باغ میں ہوتی ہے جو اس سے اپنی تصویر بنانے کی خواہش ظاہر کرتی ہے جس کا حسن بہزاد کو اپنے طلسم میں لے لیتا ہے وہ یہ کہہ کر اس کی تصویر بنانے سے انکار کردیتا ہے کہ وہ چونکہ بہت خوبصورت ہے لہذا اس کی تصویر بنانا لامحدود کو چھونے کے مترادف ہوگا، ہیروبہزاد کے والدین سکول ٹیچر تھے اور انہوں نے محبت کی شادی کروائی تھی بلکہ ہیروئن کے ماں باپ نے بھی لو میرج کروائی تھی غالباََ اسی لئے آخر میں ناول نگار نے بھی ہیرو اور ہیروئن کی لو میرج ضروری سمجھی تھی۔

شجر حیات ایک پرعزم نوجوان کی کہانی ہے جو اپنی منزل کی طرف بڑھ رہا تھا ناول نگار پہلے باب میں لکھتے ہیں کہ مشکلات بہت زیادہ تھیں مگر اسے صعوبتوں اور مشکلوں کو دھول میں اڑاتے ہوئے آگے بڑھنا تھا سفر کی تھکاوٹ،بھوک اور پیاس کی وجہ سے اس کا ذہن پوری طرح کام نہیں کررہا تھا وہ اپنا راستہ بھول رہا تھا،شجر کے نیچے بیٹھ کر اس نے اپنی ڈائری کھولی اور اپنی ترجیحات دیکھنے لگا ایک صفحے کا عنوان ”حیات جاوداں“ تھا عنوان کے نیچے لکھا ہوا تھا کہ وہ بہشت سے نکالے ہوؤں کا بیٹا ہے اور مرنے کے بعد اسے بہشت میں واپس جانا ہے اس نے ڈائری میں اپنی عجیب آرزو لکھی ہوئی تھی کہ وہ بہشت میں زندہ جائے گا!“ ناول کا ہیرو غالبا“ اسی خواہش کے باعث خوفناک ٹریفک حادثے میں زندہ بچ گیا تھا،ہمارے خیال میں ریاظ احمد نے اپنے ناول میں زندگی اور موت کا فلسفہ بیان کیا ہے۔

جواب لکھیں

%d bloggers like this: