...................... .................

انتظار نہیں، کمر کس لیں اور میدانِ عمل میں اُتریں!…… رانا اشتیاق احمد

آپ جو چاہیں، کر سکتے ہیں، جو چاہیں بن سکتے ہیں۔ انسان کو قدرت نے ایسی صلاحیتوں سے نوازا ہے کہ وہ کچھ بھی کر سکتا ہے…… بس وہ کرنا چاہے، اسے راہ مل جائے یا پھر کوئی راہ دکھانے والا۔ رچرڈ برین سن کی کتاب Screw it, Let’s Do it ایسی کتاب ہے جو آپ کو راہ ہی نہیں دکھاتی بلکہ یہ بھی بتاتی ہے کہ آپ نے جو کچھ کرنا…… وہ کیسے کرنا ہے؟ Let’s Do it میں بیان کردہ کامیابی کی سائنس کا ست، اس کا جوہر، اس کی روح یعنی essence آج میں آپ کیلئے لے کر آیا ہوں۔ اُن کی بیان کردہ کامیابی کی تراکیب میں سے پانچ کچھ یوں ہیں:

بچنے کے بہانے نہیں، کرنے کے طریقے ڈھونڈیں!
ہماری ناکامی کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم کام سے بچنے کے بہانے ڈھونڈتے ہیں، اسے انجام دینے کے طریقے نہیں۔ یہ ایسی عادت ہے جو کامیاب اور ناکام لوگوں میں فرق کرتی ہے۔ ناکام انسان بچنے کے بہانے تلاش کرتا جبکہ کامیاب انسان کام کو انجام دینے کے طریقوں پر غور کرتا ہے۔ ناکام انسان ہر پہلو میں مایوسی دیکھتا ہے جبکہ کامیاب لوگ مایوسی میں بھی امید کی کرن تلاش کر لیتے ہیں …… انہیں جب روشنی مل جائے، اُمید کی کرن نظر آ جائے تو وہ اندھیروں سے ڈرتے نہیں …… بلکہ آگے ہی آگے بڑھتے ہیں۔ آپ بھی ہمت کریں …… بہانے چھوڑیں اور پہلا قدم اُٹھا لیں …… کیونکہ A journey of a thousand miles begins with a step. ”ہزار میل کا سفر بھی شروع تو ایک قدم سے ہی ہوتا ہے۔“

جب آپ چل پڑیں، تو راہ میں چھوٹی بڑی کئی مشکلات آئیں گی، ان کا سامنا کیجئے! ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالئے، لیکن پسپائی کا مت سوچئے۔ وہ اس لئے کہ Challenges may knock you back but they can never knock you out ”چیلنج آپ کو کچھ دیر کیلئے روک ضرور سکتے ہیں لیکن گیم سے باہر ہرگز نہیں کر سکتے۔“

ماضی کو چھوڑیں، رسک لیں!
جو گزر گیا، وہ واپس نہیں آسکتا، اس لئے اسی کو لے کر بیٹھے رہنا کاہلی، نااہلی اور نالائقی کی انتہا ہے۔ جب تک آپ ماضی کی ناکامی سے ڈرتے رہیں گے، آپ آگے نہیں بڑھ سکیں گے۔ کیونکہ ماضی آپ کے بس میں نہیں لیکن آنے والا کل سو فیصد آپ کے ہاتھ میں ہے۔ رچرڈ برین سن کو سُنیے! You can’t change the past, but you can afffect the future ”آپ ماضی کو بدل نہیں سکتے لیکن مستقبل پر اثر انداز ضرور ہو سکتے ہیں۔“ اس لئے گزرے کل کو بھول جائیں اور آنے والے کل کا سوچیں۔ اور رسک لیں۔

رسک لیں لیکن یہ بات ذہن میں ضرور رکھیں کہ رسک لینا اور خود کو خطرے میں ڈالنا دو مختلف چیزیں ہیں۔ آپ کو تیرنا آتا ہے، دریا میں قدرے طغیانی ہے، آپ کو خود پر بھروسہ ہے اور آپ ہمت کر کے دریا میں چھلانگ لگا دیتے ہیں، اسے کہتے ہیں رسک لینا۔ اور اگر آپ کو تیرنا ہی نہیں آتا اس کے باوجود دریا میں کود پڑنا جان لیوا خطرہ ہوتا ہے۔ اب آپ نے رسک کو سمجھ لیا تو پھر اس سے ڈرنا کیوں؟

بڑا سوچئے، خود کو بدلئے!
آپ کی شخصیت آپ کی سوچ کی عکاس ہوتی ہے۔ سوچ ہی آپ کی زندگی ہے۔ آپ نے ماضی میں جیسا سوچا ویسے آپ اب ہیں اور جیسا اب سوچیں گے ویسا کل بن جائیں۔ اس لئے بڑی کامیابی کیلئے بڑا سوچیں۔ مشکلات اور چیلنجز سے مٹ ڈریں! بڑا سوچنے کا مطلب یہ نہیں آپ چھوٹی چھوٹی تبدیلیوں اور کامیابیوں کو نظر انداز کرتے جائیں، ایسا ہرگز نہیں کرنا کیونکہ چھوٹی کامیابیاں ہی انسان کو بڑے چیلنجز کا سامنا کرنے کے قابل بناتی ہیں: کیسے؟ رچرڈ برین سن کی زبانی سنئے! Small victories fortify you for bigger challenges. ”چھوٹی کامیابیاں آپ کو بڑے چیلنجز کیلئے مضبوط بناتی ہیں۔“ اسی طرح خود کو تھوڑا تھوڑا مسلسل بدلتے رہیں …… آہستہ آہستہ ایک نیا انسان بن جائیں۔ خود کو حقیر مت جانیں، اپنے آپ کو چیلنج کریں، آپ کی ہمت بڑھے گی۔ اس حوالے سے رچرڈ برین سن کا کہنا ہے۔Your life will change when you challenge yourself ”جب آپ خود کو چیلنج کریں گے تب ہی آپ کی زندگی بدلے گی۔

چیلنج سے مت ڈریں، یہی تو زندگی کی اصل ہے…… معروف مصنف اور کوہ پیما جیمز اولمین نے اس ضمن میں بڑی پتے کی بات کی ہے۔ وہ کہتے ہیں ”اگر سمندر ہے تو ہم اس کو عبور کرتے ہیں …… بیماری موجود ہو گی تو اس کا علاج سامنے آئے گا…… غلط ہو گا تو اسے ٹھیک کیا جائے گا…… ریکارڈ پہلے سے موجود ہو گا تو اس کو توڑیں گے…… اور پہاڑ سامنے ہے تو ہی اس پر چڑھنے کی کوشش کی جاتی ہے“۔ یاد رکھیں! چیلنج آپ کو ڈراتے نہیں …… کامیابی کیلئے بلاتے ہیں۔

خواب دیکھیں، خود پر بھروسہ رکھیں!
یہ حقیقت ہے کہ آپ جتنے بڑے خواب دیکھتے ہیں، آپ کو اتنی ہی بڑی کامیابی ملتی ہے بشرطیکہ آپ اس کے لئے مطلوبہ عمل بھی کرتے ہیں۔ ذہن نشین رہے کہ کامیابی کبھی بھی پلیٹ میں رکھ کر نہیں ملتی، آپ دوسروں کے ساتھ چلیں، انہیں ساتھ چلائیں، لیکن اپنی منزل کیلئے ان کی طرف مت دیکھیں، اپنی ذات پر بھروسہ رکھیں۔ آپ نے جو خواب دیکھے وہ آپ کے اپنے ہیں، انہیں حقیقت کا روپ بھی آپ نے ہی دینا ہے۔ کیونکہ your own ship and the master of your fate. your You are the captain of”آپ اپنے جہاز کے کپتان اور اپنی قسمت کے مالک خود ہیں“۔

وقت کی قدر، زندگی سے محبت کیجئے!
وقت زندگی ہے…… ایک ایک لمحے کی قدر کریں، اپنا محاسبہ کریں اور سوچیں کہ چوبیس گھنٹوں میں آپ کہاں اور کتنا وقت ضائع کرتے ہیں؟ وقت سے قدر زندگی سے محبت ہے…… جب آپ نے اس کی قدر کرنا شروع کر دی تو آپ کئی ایسے چھوٹے چھوٹے کام بھی کر لیں گے جن کیلئے آپ کے پاس وقت نہیں ہوتا۔

اس کے لئے ایک چھوٹی سی مثال لیتے ہیں۔ فرض کریں آپ روزانہ دوستوں کے ساتھ گپ شپ میں دو گھنٹے گزارتے ہیں۔ آپ اسے بالکل ختم نہیں کر سکتے…… نہ کریں! کیونکہ اچھے دوست سرمایہ ہوتے ہیں، انہیں کے باعث زندگی کی رونقیں ہیں …… لیکن دو کے بجائے اس معمول کو ایک گھنٹے پر لے آئیں۔ آپ کے پاس روز ایک گھنٹہ بچے گا، ایک ماہ میں تیس گھنٹے اور ایک سال میں 360 گھنٹے یعنی پورے 15 دن اضافی ہوں گے…… اب آپ خود سوچیں کہ ان 15دنوں میں آپ کیا کر سکتے ہیں؟

جواب لکھیں

%d bloggers like this: