...................... .................

خواتین کے ’گینگ ریپ‘ کا منصوبہ ’بوائز لاکر روم‘ کیا ہے؟

 اگرچہ ماضی میں سوشل میڈیا پر خواتین کی تضحیک کرنے، ان کے خلاف نامناسب زبان استعمال کرنے اور انہیں ریپ سمیت قتل کی دھمکیاں دیے جانے کے مسائل سامنے آتے رہے ہیں، تاہم رواں ہفتے ’بوائز لاکر روم‘ نامی سوشل میڈیا اسکینڈل سامنے آنے کے بعد لوگوں میں غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔

’بوائز لاکر روم‘ دراصل سوشل شیئرنگ ایپلی کیشن انسٹاگرام پر 2 درجن کے لڑکوں کی جانب سے بنایا جانے والا چیٹ گروپ کا نام ہے، جس کے اسکرین شاٹ پہلی بار 3 مئی کو بھارتی سوشل میڈیا پر سامنے آنے کے بعد ہنگامہ کھڑا ہوگیا۔

بھارتی اخبار انڈیا ٹوڈے کے مطابق ’بوائز لاکر روم‘ نامی چیٹ گروپ میں 18 سال کی عمر تک کے 20 لڑکے شامل تھے اور وہ مذکورہ چیٹ گروپ میں خواتین، طالبات اور کم عمر لڑکیوں کی تصاویر شیئر کرنے سمیت ان کے جسمانی خدوخال پر فقرے کستے تھے۔

مذکورہ چیٹ میں جنوبی دہلی کے 3 اعلیٰ و مہنگے نجی اسکولوں سمیت نوئیڈا کے ایک اسکول کے طالب علم شامل تھے اور زیادہ تر کی عمریں 15 سے 18 سال کے درمیان ہیں تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا کہ مذکورہ گروپ میں کتنے افراد کی عمریں 18 سال سے زائد ہیں۔

انڈیا ٹوڈے کے مطابق مذکورہ گروپ میں لڑکوں کی جانب سے اپنے اسکول کی لڑکیوں سمیت دیگر خواتین اور کم عمر لڑکیوں کی تصاویر شیئر کی جاتی رہیں اور پھر ان تصاویر پر لڑکوں کی جانب سے جنسی جملے کسے جاتے رہے۔

’بوائز لاکر روم‘ نامی چیٹ کے ارکان لڑکی کی تصویر شیئر کیے جانے کے بعد ان کے جسمانی خدوخال پر بات کرتے اور ایک دوسرے کو لڑکی کا گینگ ریپ کرنے پر اکسانے سمیت دیگر طرح کی جنسی استحصال کی باتیں کرتے۔

مذکورہ چیٹ گروپ کا ایک اسکرین شاٹ پہلی بار 3 مئی کو ایک خاتون نے شیئر کیا تھا، جس میں لڑکوں کی جانب سے کسی خاتون کا گینگ ریپ کیے جانے کی باتیں کی جا رہی تھیں۔

سامنے آنے والے اسکرین شاٹ میں واضح طور پر پڑھا جا سکتا ہے کہ ارکان ایک دوسرے کو کہہ رہے ہیں کہ وہ آسانی سے خاتون کا گینگ ریپ کردیں گے۔

مذکورہ چیٹ میں ایک لڑکا ساتھی ارکان کو کہتا ہے کہ وہ دوسرے ساتھیوں کو بھی گینگ ریپ کے لیے ساتھ لائے گا۔

مذکورہ اسکرین شاٹ سامنے آنے کے بعد ’بوائز لاکر روم‘ پر سیاسی، سماجی، انسانی حقوق کی شخصیات سمیت بولی وڈ شخصیات نے بھی برہمی و غصے کا اظہار کیا اور ملزمان کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔

انڈیا ٹوڈے نے اپنی ایک اور خبر میں بتایا کہ دہلی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے 6 مئی کی دوپہر کو مذکورہ گروپ کے ایڈمن کو گرفتار کرلیا اور ابتدائی تفتیش سے پتہ چلا ہے کہ وہ نابالغ نہیں۔

گروپ کے ایڈمن کی گرفتاری کے بعد اب خیال کیا جا رہا ہے کہ مزید ارکان کو بھی گرفتار کیا جا سکے گا، پولیس نے ایڈمن کی گرفتاری کے بعد معاملے کی تفتیش کا دائرہ بڑھاتے ہوئے گروپ میں شیئر کی جانے والی خواتین اور لڑکیوں کی تصاویر سے متعلق جانچ کرنا شروع کردی۔

اس سے قبل 5 مئی کو بھی دہلی پولیس نے مذکورہ چیٹ گروپ کے ایک رکن کو گرفتار کیا تھا۔

بھارتی نشریاتی ادارے این ڈی ٹی وی نے گزشتہ روز بتایا تھا کہ ’بوائز لاکر روم‘ چیٹ گروپ کے اسکرین شاٹ سامنے آنے اور اس پر لوگوں کی جانب سے غصے کا اظہار کیے جانے کے بعد دارالحکومت نئی دہلی کی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے چیٹ کے ایک رکن 15 سالہ لڑکے کو گرفتار کرلیا۔

پولیس نے 5 مئی کو کارروائی کرتے ہوئے ’بوائز لاکر روم‘ کے رکن 15 سالہ لڑکے کو گرفتار کرکے تھانے منتقل کردیا جب کہ پولیس نے چیٹ روم تک رسائی کے لیے فیس بک انتظامیہ کو بھی خط لکھ دیا۔

پولیس کے مطابق اب تک ہونے والی ابتدائی تفتیش سے ’بوائز لاکر روم‘ کے تمام ارکان کی نشاندہی کی جا چکی ہے، تاہم تاحال صرف ایک ہی رکن کو گرفتار کیا جا سکا ہے۔

پولیس نے ’بوائز لاکر روم‘ کے ایک رکن کو گرفتار کرنے کے بعد نامعلوم افراد کے خلاف دھوکے، نامناسب مواد کی تشہیر، جنسی استحصال، جھوٹ بولنے، توہین عزت، خواتین کی عزت مجروح کرنے سمیت سائبر کرائم کی دفعات کے تحت مقدمہ دائر کردیا۔

پولیس نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے خود ہی سوشل میڈیا پر معاملہ سامنے آنے کے بعد نوٹس لیتے ہوئے کارروائی کی ہے اور تمام ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

دوسری جانب دہلی کمیشن فار وویمن کی چیئرپرسن سواتی جین نے بھی اپنی ویڈیو میں پولیس سے مطالبہ کیا کہ وہ تمام ملزمان کو گرفتار کرکے ’بوائز لاکر روم‘ میں شامل تمام ارکان کے اصل نام، اکاؤنٹ نام، گھر کا ایڈریس اور فون نمبرز بھی فراہم کرے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ بات انتہائی خطرناک ہے کہ نوجوان لڑکے خواتین اور خاص طور پر کم عمر لڑکیوں کے گینگ ریپ کی باتیں کر رہے ہیں۔

ادھر ’بوائز لاکر روم‘ کا معاملہ سامنے آنے کے بعد سیاسی و سماجی شخصیات کی طرح شوبز شخصیات نے بھی برہمی کا اظہار کیا اور ’بوائز لاکر روم‘ کے تمام ملزمان کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کیا۔

نیوز 18 کے مطابق متعدد بولی وڈ شخصیات جن میں ریچا چڈا، سوارا بھاسکر اور چندن رائے سمیت دیگر شخصیات شامل ہیں، انہوں نے ’بوائز لاکر روم‘ اسکینڈل کو خطرناک قرار دیتے ہوئے تمام ملزمان کو گرفتار کرکے انصاف کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کیا۔

سوارا بھاسکر نے اس حوالے سے ٹوئٹ میں کہا کہ ’بوائز لاکر روم‘ میں خواتین اور کم عمر بچیوں کا گینگ ریپ کرنے والے ملزمان کو سامنے لانا، ان کے والدین اور اساتذہ پر ملامت کرنا یا پھر ان ملزمان کو پھانسی پر لٹکا دینا مسئل کا حل نہیں، اس ذہنیت کو کچلنا ہوگا۔

سوارا بھاسکر کے علاوہ ریکھا بھردواج، وشال بھردواج اور کئی صحافیوں اور شوبز شخصیات سمیت ریچا چڈا نے بھی اس مسئلے پر ٹوئٹ کی اور انہوں نے لکھا کہ ہمارے سماج میں جنسی تعلیم اور سیکس پر بات کرنا معیوب سمجھا جاتا ہے، جس وجہ سے ایسے مسئلے کھڑے ہوتے ہیں اور جب ایسے مسئلے کھڑے ہوتے ہیں تو وہ انتہائی بھیانک اور خطرناک ہوتے ہیں۔

جواب لکھیں

%d bloggers like this: