...................... .................

اداکارہ میڈونا کورونا وائرس سے کیسے صحت یاب ہوئی؟

امریکی پاپ گلوکارہ، اداکارہ و لکھاری 61 سالہ میڈونا نے انکشاف کیا ہے کہ وہ بھی کورونا وائرس کا شکار ہوگئی تھیں، تاہم اب وہ صحت مند ہیں۔

میڈونا سے قبل بھی متعدد شوبز شخصیات کورونا وائرس میں مبتلا ہوچکے تھے اور ان میں سے اب کئی صحت یاب ہوچکے ہیں۔

رواں برس 10 مارچ کو کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے باعث میڈونا نے یورپی ملک فرانس کے دارالحکومت پیرس میں ہونے والے اپنے میوزک کنسرٹ کو منسوخ کردیا تھا۔

میڈونا نے اگرچہ مارچ میں ہونے والے میوزک کنسرٹ کو منسوخ کردیا تھا تاہم انہوں نے فروری میں پیرس میں ہونے والے ایک کنسرٹ میں پرفامنس کی تھی اور وہ اپنی ٹیم سمیت دیگر آرٹسٹس کے ہمراہ پیرس موجود تھیں۔

مارچ میں پیرس کی موجودگی کے دوران ہی کورونا کی طبیعت خراب ہوگئی تھی اور اب انہوں نے انکشاف کیا ہے کہ وہ مارچ میں کورونا کا شکار ہوگئی تھیں اور اس وقت انہیں بھی لگا کہ وہ کورونا کا شکار نہیں ہوئیں بلکہ انہیں شدید نزلہ و زکام ہوا ہے۔

میڈونا نے اپنی انسٹاگرام پوسٹ میں بتایا کہ وہ مارچ کے وسط سے قبل ہی کورونا کا شکار ہوگئی تھیں اور اس بات کو 7 ہفتے گزر گئے لیکن اب وہ صحت مند ہیں۔

اداکارہ کا کہنا تھا کہ ان کے علاوہ دیگر افراد بھی بیمار ہوگئے تھے اور ہم سب کا خیال تھا کہ ہمیں موسمی نزلہ و زکام ہوا ہے۔

میڈونا نے 6 مئی کو انسٹاگرام پوسٹ میں بتایا کہ اب وہ بلکل صحت مند ہیں اور اپنے مداحوں کو تاکید کی کہ وہ کورونا جیسی وبا کے حوالے سے گمان میں نہ رہیں اور اس متعلق افواہوں پر یقین نہ رکھیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے بھی میڈونا کی اسی پوسٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ معروف گلوکارہ نے اگرچہ کورونا کا ٹیسٹ نہیں کروایا تھا تاہم انہوں نے اینٹی باڈیز کا ایک ٹیسٹ کروایا تھا جو مثبت آیا تھا۔

اداکارہ و گلوکارہ کا کہنا تھا کہ اینٹی باڈیز کے مثبت ٹیسٹ کا مطلب ہوتا ہے کہ وہ شخص پہلے کورونا کا شکار رہ چکا ہے۔

اے ایف پی نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ اینٹی باڈیز کے ٹیسٹ مثبت آنے کے حوالے سے ماہرین میں تنازع پایا جاتا ہے اور کچھ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس بات کے کوئی مستند شواہد نہیں ہیں کہ جس شخص کا اینٹی باڈیز کا ٹیسٹ مثبت آئے وہ کورونا کا شکار رہا ہے۔

اسی طرح کئی ماہرین کا خیال ہے کہ اینٹی باڈیز کے ٹیسٹ کے مثبت آنے سے متعلق نتائج کے حوالے سے لیباٹریز جھوٹا دعویٰ بھی کرتی ہیں، تاہم اس حوالے سے تصدیقی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ جس شخص کے اینٹی باڈیز ٹیسٹ مثبت آئیں وہ کورونا کا شکار رہا ہوگا۔

میڈونا کی جانب سے اپنے کورونا کے شکار ہونے کا دعویٰ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کہ انہوں نے حال ہی میں کورونا کی ویکسین کی تیاری و تحقیق کے لیے عالمی فنڈز میں 10 لاکھ امریکی ڈالر سے زائد کی رقم عطیہ کی تھی۔

میڈونا نے 4 مئی کو یورپین یونین کی میزبانی میں ہونے والی ایک عالمی کانفرنس کے دوران کورونا کی تحقیق و ویکسین کی تیاری کے لیے فنڈز دینے کا اعلان کیا تھا۔

مذکورہ کانفرنس میں دنیا کے متعدد عالمی رہنماؤں، معروف شخصیات اور مخیر حضرات سمیت کئی ممالک کی حکومتوں نے بھی فنڈز فراہم کرنے کا اعلان کیا تھا اور مجموعی طور پر ویکسین کی تحقیق و تیاری کے لیے 8 ارب 10 کروڑ ڈالر کے فنڈ کا اعلان کیا گیا تھا۔

اس وقت دنیا میں کورونا سے بچاؤ کی ویکسین دستیاب نہیں تاہم دنیا کے 100 سے زائد ادارے و کمپنیاں ویکسین کی تیاریوں میں مصروف ہیں اور کم از کم 4 ویکسینز کی انسانوں پر آزمائش کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

اس وقت کورونا کے مریضوں کا علاج مختلف طریقوں کے تحت کیا جا رہا ہے اور دنیا بھر میں وبا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے لاک ڈاؤن نافذ ہے تاہم اس باوجود کورونا کا پھیلاؤ جاری ہے اور 7 مئی کی سہ پہر تک دنیا بھر میں مریضوں کی تعداد 37 لاکھ 68 ہزار سے زائد جب کہ ہلاکتوں کی تعداد 2 لاکھ 64 ہزار سے زائد ہو چکی تھی۔

جواب لکھیں

%d bloggers like this: