...................... .................

کرونا لاک ڈاؤن کے دوران 3 اسکلز سیکھیں، زندگی بدلیں!…… رانا اشتیاق احمد

کرونا وائرس کی وجہ سے گزشتہ اڑھائی تین ماہ سے زندگی جمود کا شکارہے…… پوری دنیا میں لوگ کووڈ 19کے خوف سے گھروں میں سمٹے، ڈرے اور سہمے بیٹھے ہیں …… سیاسی، سماجی اور معاشی سرگرمیاں معطل ہیں …… کاروبار بند ہونے سے ہر انسان: چاہے کوئی مالک ہے یا مزدور، اجر ہے یا اجیر، امیر ہے یا غریب، بادشاہ ہے یا فقیر…… پریشانی کا شکار ہے۔ کوئی راشن کیلئے قطار میں لگا ہے تو کوئی اپنی سفید پوشی کا بھرم رکھتے ہوئے شدید ذہنی دباؤ یعنی Depression کا سامنا کر رہا ہے۔

دستو! یہ حالات کسی انسان کے پیدا کردہ نہیں، قدرت کی طرف سے ایک سخت امتحان ہے…… کڑا وقت ہے جو بہرحال کٹ جائے گا۔ ان حالات میں مثبت رہیں، اللہ سے دُعا کریں اور Corona days کے بعد کا سوچیں۔ سوچیں! کہ کیا زندگی پھر اُسی رنگینی اور تابانی سے شروع ہو گی، کیا پہلے سے ہی معاشی مسائل میں گھرے لوگ جلد معمول پر آ جائیں گے؟

مجھے پوچھیں تو ہاں! …… زندگی کی روانی تو شروع ہو گی لیکن زندگی پہلے جیسی نہیں رہے گی…… آپ کے اٹھنے بیٹھنے، ملنے جلنے کے اطوار بدلیں گے، روزی روٹی کمانے کے ڈھنگ بدل جائیں گے…… یہاں تک کہ کاروبار چلانے کے انداز بھی مختلف ہوں گے۔

کیا لاک ڈاؤن کے دنوں میں آپ نے کبھی یہ سوچا کہ بعد میں کیا کرنا ہے؟ اگر آپ کو اپنے آفس کی جانب سے قرنطینہ کے نام پر چھٹیاں دی گئی ہیں تو کیا آپ کو یقین ہے کہ آپ دوبارہ اسی پوسٹ، اسی سِیٹ پر بیٹھے ہوں گے؟ آپ کو دوبارہ وہی سہولتیں ملیں گی۔ اللہ کرے ایسا ہی ہو لیکن حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک بار خود سوچیئے گا ضرور۔

کیا فراغت کے ان دنوں میں آپ کے ذہن میں کبھی یہ خیال آیا کہ کاش میں کوئی ایسا کام کر سکوں جس کی وجہ سے گھر بیٹھے پیسے ملتے رہیں۔ ایسا ہے تو بہت اچھا…… شاباش…… آپ آنے والے وقت کا سامنا کرنے کیلئے تیار ہیں۔ اور اگر نہیں تو دیر مت کیجئے، کہیں جانے کی ضرورت نہیں، کسی کو بھاری فیس دینے کی ضرورت نہیں، آپ کے پاس انٹرنیٹ ہے تو یوٹیوب سے آپ سب کچھ سیکھ سکتے ہیں۔

لاک ڈاؤن کے دوران سوشل میڈیا کے چٹکلوں پر وقت ضائع کرنے، حکومتی پالیسیوں پر تنقید کر کے اپنا خون جلانے، فضول گپ شپ میں وقت برباد کرنے کے بجائے کچھ اسکلز سیکھ لیں جو زندگی بھر آپ کے کام آئیں …… آپ ان کو فُل ٹائم استعمال کر سکتے ہیں یا ان کے ذریعے ملازمت کے ساتھ پارٹ ٹائم کام کر کے اپنی آمدن کو دو تین گنا بڑھا سکتے ہیں۔

دوستو! اگر آپ تیار ہیں تو ہم آپ کو بتاتے ہیں ایسی تین اسکلز جو آپ کی زندگی بدل سکتی ہیں۔ یہ ایسی اسکلز ہیں جو آپ کی زندگی پر فوری اور مثبت اثرات مرتب کر سکتی ہیں۔ دوسرا یہ کہ انہیں سکیھنے کیلئے کئی سال اور مہنیے درکار نہیں بلکہ یہ دنوں اور ہفتوں میں ہونے والا کام ہے۔ آپ انہیں اپنے گھر میں، اپنے کمپیوٹر سے، اپنی مرضی اور وقت کے مطابق سیکھ سکتے ہیں۔ آئیں! ان تین اسکلز کے بارے میں جانتے ہیں۔

ڈیجیٹل مارکیٹنگ
کورونا بحران کے بعد دنیا بالکل بدلنے جا رہی ہے، انڈسٹری ری اسٹرکچر ہو گی، آپ کو بھی ہونا پڑے گا۔ پہلے اگر کچھ کمپنیاں اپنی چند پڑوڈکٹس آن لائن فروخت کر رہی تھیں، تو اب وہ زیادہ کریں گی…… ان کے نزدیک آن لائن سیل روایتی سیل کے ساتھ ساتھ چلنے والا ایک اچھا آپشن تھا، مگر آپ شائد یہ سب سے اچھا اور مؤثر ترین آپشن بن جائے؟ ہم میں سے زیادہ تر لوگ اپنا وقت انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر گزارتے ہیں، وہاں مختلف پروڈکٹس کے اشہتارات دیکھتے اور کبھی کبھار کچھ خرید بھی لیتے ہیں، آپ آن لائن چیزیں خریدنے کے ساتھ ساتھ انہیں لوگوں تک پہنچانے کا ہُنر کیوں نہیں سیکھتے؟

یاد رکھیں! ادھر اُدھر اچھل کُود کرنا اور Look busy, do nothing والی پالیسی اختیار کرنا اب نہیں چلے گا۔ آنے والی زندگی کے چیلنجز کا سامنا کرنے کیلئے آپ کو اسمارٹ ورک کرنا ہو گا …… ڈیجیٹل مارکیٹنگ اس ضمن میں انتہائی مفید اور کار آمد ثابت ہو سکتی ہے۔ ڈیجیٹل مارکیٹنگ کے کئی پہلو ہیں جنہیں یہاں بیان کرنا ممکن نہیں، ابھی ہمارا مقصد صرف آپ کو یہ بتانا ہے کہ آپ اس سے بھرپور فائدہ اُٹھا سکتے ہیں۔

کلوزنگ اسکلز
جب آپ کسی سے بات کرتے ہیں اور اسے اپنے نقطہ نظر سے متفق کرنے کی کوشش میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو یہ effective communication کہلاتی ہے۔ جب یہی ٹیکنیک سیل میں استعمال کی جائے، آپ کسی پروڈکٹ کا تعارف کرائیں، خریدنے والے کو اس بات پر قائل کر لیں کہ یہ اُس کی ضرورت ہے…… وہ آپ سے متفق ہو کر پروڈکٹ خرید لے تو یہ good closing ہے۔ روایتی اور آن لائن سیل میں کلوزنگ کی بہت زیادہ اہمیت ہے۔ آپ اچھا بول لیتے ہیں، آپ میں convincing power ہے تو یہ انتہائی مفید اور دنوں میں خوشحال کر دینے والی اسکل آپ کے لئے ہے۔

اکثر لوگوں کے ذہن میں سیل کا نام سنتے ہی کسی شاپنگ مال میں گاہکوں سے بحث کرتا شخص، کندھے پر بیک لٹکائےdoor to door گھومنے والا نوجوان، یا پھر ہنٹوں میں پینسل دبائے کسی دکاندار کی جلی کٹی سننے والا ادھیڑ عمر آدمی آتا ہے۔ بالکل درست۔ یہ سب لوگ سیلز میں ہی ہیں، اور کرتے بھی ایسا ہی ہیں، لیکن آپ سے کون کہہ رہا ہے کہ آپ بھی ایسا ہی کریں، آپ کلوزنگ اسکلز کا مظاہرہ گھر بیٹھ کر انٹرنیٹ یا فون پر دنیا کے کسی بھی کونے میں کر سکتے ہیں۔ بس یہ بات سمجھ لیں good closing skills کے حامل انسان کی تنخواہ اس کی کمپنی نہیں بلکہ وہ خود طے کرتا ہے۔ آپ بھی ایسے لوگوں میں سے ایک بن سکتے ہیں جو من چاہا پیسہ کماتے ہیں، بس کلوزنگ اسکلز سیکھیں بلکہ انہیں سیکھنا آج اور ابھی سے شروع کر دیں۔

کاپی رائٹنگ
دوستو! کاپی رائٹنگ ایسا کام ہے جو ہم میں سے ہر کوئی کرتا ہے…… آپ نے کسی کو ای میل لکھی، وٹس ایپ، فیس بُک، ٹوئٹر پر کوئی پیغام لکھا، یہ سب کاپی رائٹنگ ہی ہے۔ آپ روز ٹی وی پر اشتہار دیکھتے ہیں، ان میں جو کچھ سنتے ہیں، وہ کاپی رائٹنگ ہے، آپ میڈیسن کی سیشی یا گولیوں کے پتوں پر احتیاط، گرامیج، فارمولا، کمپنی کا نام پڑھتے ہیں یہ بھی کاپی رائٹنگ ہے۔

جواب لکھیں

%d bloggers like this: