...................... .................

روزہ اور ہماری جسمانی و روحانی صحت

ماہ رمضان میں ہر مسلمان کی دلی خواہش ہوتی ہے کہ وہ پورے جوش وجذبے کے ساتھ اس مہینے میں اپنے اللہ کو راضی کرنے کیلئے بھرپور عبادت کرے، سحری سے لے افطار تک طویل گھنٹے گزارنے والے روزہ دار کو کمزوری اور نقاہت کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے، اس کے باوجود اس کا عبادت کا جذبہ کم نہیں ہوتا، اس کے علاوہ کمزوری کی وجہ نیند کی کمی اور ڈپریشن بھی ہوسکتا ہے لیکن کچھ طریقے ایسے بھی ہیں جن پر عمل کرکے روزہ دار اپنی ان کمزویوں پر با آسانی قابو پا سکتا ہے۔

روزہ جسم کے دفاعی نظام کو مضبوط بناتا ہے جس کی وجہ سے ہم مختلف جراثیم اور وائرس سے محفوظ رہ سکتے ہیں، ماہرین امراض پیٹ اور جگر کا کہنا ہے کہ روزہ نہ صرف ہمارے جسم کی زکوۃ ہے بلکہ روزہ رکھنے سے قوت مدافعت میں اضافہ ہوتا ہے جو مختلف جراثیموں اور وائرس سے لڑنے میں مدد دیتا ہے۔

روزے میں کمزوری کو دور کرنے کیلئے بھرپور سانس لینا بہت ضروری ہے، جب ہم صحیح طرح سانس نہیں لیتے تو ہمارے پھیپھڑوں میں کم آکسیجن جاتی ہے جس کے بدلے میں جسم میں موجود کاربن ڈائی آکسائڈ بھی کم خارج ہوتی ہے۔ اس کے نتیجے میں جسم میں رہ جانے والی کاربن ڈائی آکسائڈ جسم کے سیلز کو نقصان پہنچانا شروع کر دیتی ہے۔ لہٰذا روز کے دوران اچھی طرح سانس لیں تاکہ خالی پیٹ رہنے سے ہونے والی کمزوری جسم میں آکسیجن کی کمی سے مزید نہ بڑھے۔

اس کے علاوہ ورزش توانائی کو کم کرتی ہے جس کی وجہ سے کمزوری محسوس ہوتی ہے جب کہ ایسا ہرگز نہیں ہے۔ ورزش جسم کو نقصان پہنچانے والے ٹوکسن کو خارج کر کے ایسے ہارمونز بناتی ہے جو توانائی میں اضافہ کرتے ہیں، روزے میں کمزوری سے بچنے اور توانائی کو بڑھانے کے لئے ضروری ہے کہ سحری یا افطار کے بعد ہلکی پھلکی ورزش ضرور کی جائے۔

ماہ رمضان میں اکثر اوقات بھوک اور پیٹ کی خرابی کی سب سے بڑی وجہ سحر اور افطار میں کھایا جانے والا مضر صحت کھانا ہوتا ہے۔ لوگ افطار اور سحری میں اپنی پسند اور مرضی کا کھانا کھاتے ہیں یہ سوچے بغیر کہ روزے کی حالت میں یہ کھانا ان پر کیا اثر ڈالے گا۔اس طرح یا تو سحری کے بعد سے ہی انھیں بھوک لگنا شروع ہو جاتی ہے اور اگر وہ زیادہ مقدار میں کھاتے ہیں تو ان کا ہاضمہ خراب ہو جاتا ہے اور انھیں پیاس لگنا شروع ہو جاتی ہے۔

ان مسائل سے بچنے کے لئے بہتر ہو گا کہ آپ اپنے لئے ایسی غذا کا انتخاب کریں جس میں ہر طرح کی توانائی فراہم کرانے والے اجزاء موجود ہوں۔ سحری میں کاربوہائڈریٹ والی غذا کھانی چاہئے تا کہ دیر تک توانائی بحال رہے۔ جبکہ افطار میں پروٹین والی غذا کھانی چاہئے کیونکہ پروٹین مسلز کو طاقتور بناتے ہیں۔ اپنی غذا میں صحت بخش چیزیں شامل کریں تاکہ دن میں بھوک سے بچے رہیں۔ افطار میں طرح طرح کے مشروبات رکھے جاتے ہیں اور لوگ تھوڑا سا پانی پی کر دوسرے مشروبات زیادہ، پیتے ہیں ان میں کیفین والے مشروب بھی شامل ہوتے ہیں۔ افطار سے سحری کے دوران پانی کے بجائے دوسرے مشروب پینے سے جسم میں پانی کی کمی ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے روزے میں کمزوری محسوس ہوتی ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ افطار سے سحر کے دوران زیادہ سے زیادہ پانی پیا جائے تاکہ جسم کے خلیات کی ضرورت پوری ہوسکے اور زیادہ سے زیادہ ٹوکسن خارج ہو۔

ان تمام چیزوں کے ساتھ خود کو اللہ کی عبادت میں مصروف رکھیں تا کہ آپ کی توجہ بھوک سے ہٹ جائے۔ نماز،قرآن پاک کی تلاوت اور دینی کتابوں کے مطالعہ کریں تاکہ آپ کو روحانی تقویت ملے اور آپ اپنی بھوک کو بھول جائیں۔

جواب لکھیں

%d bloggers like this: