...................... .................

کامیاب لوگوں کی صبح…… رانا اشتیاق احمد

ہم میں سے اکثر لوگ یہ شکایت کرتے نظر آتے ہیں کہ صبح کا وقت تو پلک جھپکنے میں گزر جاتا ہے۔ اس کی وجہ شائد یہ ہے کہ ہماری آنکھیں کلاک پر جمی ہوتی ہیں اور ہم معمولی نوعیت کے کاموں میں پھنس کر انتہائی اہم اور کارآمد کاموں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔

اگر آپ ان چھوٹے چھوٹے کاموں کو احسن طریقے سے سر انجام دینے کے ساتھ خود کو سارے دن کے کاموں کیلئے بہتر اور مؤثر طریقے سے تیار کرنا چاہتے ہیں تو امریکی مصنف اور موٹیویشنل سپیکر لارا وینڈرکام کی کتاب What the successful people do before Breakfast آپ ہی کے لئے ہے۔

صبح سویرے جاگ جانا ایک الگ چیز اور جاگ کر ان کاموں کی طرف توجہ دینا جو دن بھر کے معمول میں آپ کے معاون ہوں …… انہیں خاص ترتیب سے انجام دینے کی منصوبہ بندی کرنا اور اہم کاموں میں رکاوٹ بننے والی چیزوں کو درست کرنا بالکل الگ چیز ہے۔

اپریل 2011ء میں امریکی ادارے نیشنل سلیپ فاؤنڈیشن نے ایک سروے کیا جس کے مطابق تیس سے پنتیس سال کی عمر کے لوگ صبح چھ بجے جاگ جاتے ہیں لیکن وہ اپنے اپنے دفاتر یا کام پر آٹھ یا نو بجے پہنچتے ہیں۔

یہ دو سے تین گھنٹے آپ کے سارے دن کا رخ متعین کرنے کیلئے اہم ہوتے ہیں۔ یہ وقت بغیر سوچے سمجھے ضائع کرنے کے بجائے کارا وینڈرکام ہمیں تین طرح کی مصروفیات بتاتی ہیں۔

1: آپ اپنے کیرئر کو بہتر بنانے کے حوالے سے کوئی کام کر سکتے ہیں۔
2: آپ کے اہل خانہ کے حوالے سے آپ کے ذمہ جو کام ہیں ان کو کر سکتے ہیں۔
3: آپ اپنی ذات اور شخصیت میں بہتری کیلئے وزرش، عبادت کر سکتے ہیں یا اپنا کوئی مشغلہ پورا کر سکتے ہیں۔

سب سے اہم یہ ہے کہ یہاں بیان کئے گئے تین معمولات میں سے آپ کسی دو کا کمبینیشن بنا لیں جس کی وجہ سے یہ آپ کا ”اپنا وقت“ یعنی Me time بن جائے۔

اس شیڈول پر عمل کر کے آپ صبح کے وقت کو نہ صرف بہت زیادہ کارآمد اور Productive بنا سکتے ہیں بلکہ سارے دن کی افراتفری سے بچ بھی سکتے ہیں۔

دنیا کے کامیاب ترین لوگ انہیں اصولوں پر عمل کر کے اپنی صبح کو زرخیز بناتے اور ترقی کے زینے طے کرتے ہیں جبکہ عام لوگ افراتفری میں یہ قیمتی وقت ضائع کر دیتے ہیں۔

وینڈرکام یہاں کامیاب لوگوں میں سے پیپسی کے شریک بانی، سابق سی ای او اور چئیرمین سٹیو ریمنڈ کی مثال دیتی ہیں جو صبح پانچ بچے تک ٹریڈ مِل پر پانچ کلومیڑ دوڑ لگانے کے بعد باقی وقت مطالعہ، عبادت اور مراقبہ میں گزارتے تھے۔ ایسا کرنے کیلئے آپ کے اندر قوت ارادی موجود ہونی چاہئے۔

قوت ارادی
زندگی میں آگے بڑھنے اور دوسروں کی نسبت زیادہ مؤثر انداز میں روزمرہ کے معمولات کی ادائیگی کیلئے قوت ارادی کی افادیت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔

لارا وینڈر کام بتاتی ہیں کہ ہماری قوت ارادی کا لیول صبح کے وقت نقطہ عروج پر ہوتا ہے اور وقت گزرنے کیساتھ ساتھ اس میں کمی آ جاتی ہے۔

اس کی مثال وہ یوں دیتی ہیں کہ اکثر لوگ وزرش وغیرہ کے لئے شام کا انتخاب کرتے ہیں لیکن اس وقت کام کا بوجھ، سر پر آئی ڈیڈ لائنز کا پریشر اور باس کا رویہ اس میں رکاوٹ بن جاتا ہے۔ اس لئے ورزش جیسے اہم کام کی عادت صبح کے وقت ڈال لی جائے تو سارا دن انتہائی احسن اور Productive انداز میں گزرتا ہے۔

وینڈرکام فلوریڈا سٹیٹ یونیورسٹی کے شعبہ نفسیات کے پروفیسر رائے ایف بامیسٹر کی تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے بتاتی ہیں کہ جیسے تھکاوٹ انسانی مسلز پر اثر انداز ہوتی ہے ویسے ہی اس کا اثر قوت ارادی پر بھی پڑتا ہے۔ اسی لئے اکثر ہم شام تک کوئی بھی کام انتہائی مستعدی سے کرتے ہیں لیکن شام کے وقت اس میں نا چاہتے ہوئے بھی وقفے آنا شروع ہو جاتے ہیں۔ اس لئے نتقیدی سوچ و بچار، اور جسمانی، روحانی اور ذہنی صحت ٹھیک رکھنے کیلئے صبح کا وقت ہی سب سے زیادہ مؤثر اور پیداواری ہوتا ہے۔ لہذا صبح کے وقت ان کاموں کو اتنے تواتر کیساتھ کرنا چاہئے کہ یہ آپ کی عادت ثانیہ بن جائیں۔

اہم مگر فوری نہیں
اب جبکہ ہم صبح کے وقت کی افادیت سے آگاہ ہو چکے ہیں تو ہم نے یہ فیصلہ کرنا کہ اس وقت آخر کیا کیا جائے۔ یاد رکھیں کہ اس وقت کئے گئے کام فوری نتائج والے نہیں بلکہ طویل مدتی ہوتے ہیں اور زندگی بھر فائدہ دیتے ہیں۔

انتہائی کامیاب لوگ کن چیزوں پر فوکس کرتے ہیں؟ آئیے! دیکھیں کہ لارا وینڈرکام کیا بتاتی ہیں۔ لارا کے نزدیک ایسے لوگ اپنے کیرئر پر، رشتوں پر اور اپنی ذات میں بہتری پر روز دیتے ہیں۔

کیرئر پر فوکس
کامیاب لوگ صبح کے ان پیداوری گھنٹوں Productive Hours میں ہمیشہ Focused Work کرتے ہیں۔ جب دوسرے لوگ یہ وقت چھوٹے چھوٹے کاموں میں ضائع کرتے ہیں تو کامیاب لوگ اس وقت میں ہر وہ کام کر لیتے ہیں جو سارے دن کے معمول میں رکاوٹ بن سکتے ہوں، لارا کئی ایسے کامیاب لوگوں کے بارے میں بتاتی ہیں جن کا یہ عقیدہ ہے کہ صبح کا وقت زیادہ Critical امور کیلئے مختص ہونا چاہئے اور وہ خود ایسا کرتے بھی ہیں۔

رشتوں کی آبیاری
ہم میں سے زیادہ تر لوگ اپنے بچوں اور اہل خانہ کے لئے شام کا وقت رکھتے ہیں۔ جبکہ حقیقت میں یہ وقت اتنے اہم کام کیلئے موزوں ہی نہیں، کیونکہ اس وقت آپ سارے دن کے کام کے بعد تھک چکے ہوتے ہیں، آپ کے ذہن میں دن بھر کے معمولات کا اثر ہوتا ہے، اس لئے آپ ان رشتوں کو وہ توجہ نہیں دے سکتے جو انہیں زندہ رکھنے کے لئے ضروری ہوتی ہے۔

اسی لئے کامیاب لوگ رشتوں کی اہمیت اور ان کی نزاکت کو سمھتے ہوئے اس کام کو زیادہ بہتر اور رزخیر وقت میں کرتے ہیں۔ جی ہاں! وہ اپنے پیاروں کو صبح کا وہ وقت دیتے ہیں جب وہ جسمانی اور ذہنی طور تروتازہ اور مضبوط قوت اردی کے مالک ہوتے ہیں۔

جواب لکھیں

%d bloggers like this: