...................... .................

آہ سعید اظہر! ایک انٹرویو جو ہو نہ سکا…… طارق کامران

کچھ عر صہ قبل میں نے دنیا ئے اد ب وصحافت کی نامور شخصیات کے انٹرویوز کا سلسلہ شروع کیا تھا۔ اس حوالے سے کچھ انٹرویوز کرنے میں کا میاب ہو گیا، جن میں سے چند ایک ویب سائٹس پر شائع ہوئے اور احباب کی جانب سے انہیں پسند بھی کیا گیا۔ اس بات سے میرا حوصلہ بڑھا اور میں نے ان شخصیات کی ایک فہرست مرتب کی جن کے انٹرویوز کرنے کی میں آرزو رکھتا تھا۔ اس میں جناب سعید اظہر کا نام سرفہرست تھا۔ میں ان کا انٹرویو سب سے پہلے کرنا چاہتا تھا، اس مقصد کے لئے میں نے ان سے رابطہ کرنے کی کوشش بھی کی جس پر مجھے بتایا گیا کہ ان دنوں سعید صاحب کو صحت کے معاملات درپیش ہیں، اسی بنا پر وہ دفتر بھی نہیں آ رہے ہیں، ذرا بہتر ہو جائیں تو تمہیں ان سے وقت مل جائیگا۔ لیکن ان کی صحت نہ سنبھل سکی اور ہر گزشتہ دنوں وہ ہم سے جدا ہو کر اس دار فانی سے کوچ کر گئے۔ یوں سعید صاحب کا انٹرویو کرنے کا میرا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا۔

سعید اظہر صاحب سے میرا سے تعارف 85- 1984ء میں ہفت روزہ زنجیر میں شائع ہونیوالے حسن نثار کے ایک کالم کے ذریعے ہوا تھا، جس میں حسن نثار نے ایک موقع پر سعید اظہر کو مخاطب کرتے ہوئے پوچھاتھا ”سعید! اگر تم جنگل میں تنہا جا رہے ہو اور سامنے سے شیر آجائے تو تم کیا کروگئے، سعید صاحب کاجواب تھا ”تب میں نے کیا کرنا ہے، جو کرنا ہے شیر نے ہی کرنا ہے۔ یہ جواب مجھے ا چھا لگا اور میں سوچنے لگا کہ یہ تو دلچسپ آ دمی ہیں۔ ان کے بارے میں مزید جاننے کی جستجو ہوئی تو میں نے اپنے ایک سینئر بشیر ہمدرد سے رابط کیا اور پوچھا ”یہ سعیدا ظہر صاحب کون ہیں“۔ ان کا جواب تھا ”ہیرا اے مولوی سعید اظہر، سچا تے کھرا بندہ“ پھر میں نے ان کے کالموں کو باقاعدگی سے پڑھنا شروع کر دیا، اس طرح ان سے ایک عقیدت مند قاری کے طور پر میرا رشتہ استوار ہوگیا۔

جب کئی سال بعد اوکاڑہ سے لاہو آکر صحافت کو ایک پیشے کے طور پر اپنا لیا تو اپنے ہم عصرکولیگز سے جب بھی سعید صاحب کا نام سنا، اچھے الفاظ میں سنا، ہر کوئی ان کا گرویدہ اور مداح دکھائی دیا، ایک کہتا ”سعید اظہر جیسا شفیق چیف نیوز ایڈیٹر میں نے کوئی اور نہیں دیکھا، جونئیرز کو اپنا ماتحت نہیں، بچے سمجھتے ہیں“۔ دوسرا بولتا ”مولوی سعید اظہر اتنے پیارے انسان ہیں کہ اگر وہ مجھے میرا کوئی ناپسند دیدہ کام کرنے کو بھی کہیں تو میں اس کے لئے ہمہ وقت تیار ہوں، کیا بات اے سعید صاحب دی“۔

احباب کی ان آرا نے سعید اظہر صاحب سے میرے عقیدت واحترام کے رشتے کو مزید گہرا کر دیا، اور وہ میرے آئیڈیل سینئر بن گئے۔ جہاں بھی ان کو دیکھنے کا موقع ملتا میں رک رک کر انہیں دیکھتا، اور مجھے بے پناہ خوشی ہوتی، تاہم بات کرنے کا حوصلہ نہ ہوتا۔

چند سال پہلے لاہور پریس کلب میں جب اس وقت کے سیکرٹری عبدالمجید ساجد نے ان کے اعزاز میں ایک تقریب کا اہتمام کیا تو میں نے خاص طور پر دفتر سے چھٹی کر کے اس نشست میں شرکت کی، اور ان کی براہ راست گفتگو سننے کا اعزاز حاصل کیا، جب وہ فیس بک پر آئے تو میں نے انہیں فرینڈ ریکوئسٹ سینڈ کی اور اس وقت میری خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ رہا جب انہوں نے میری درخواست کو قبول کرتے ہوئے اس برقی رابطے پر مجھے اپنا دوست بنا لیا، جہا ں ان کی فکر سے آگاہی کا مزید موقعہ ملا، جب کبھی وہ میرے کسی کمنٹ پر اپنی پسنددیدگی کا اظہار کرتے تو میں خو د کوایک معتبر سا شخص سمجھنے لگتا، کچھ ایسا قلبی تعلق تھا میرا جنا ب مولوی سعید اظہر کے ساتھ۔

کالم کے آغاز میں ان کے ساتھ جس انٹرویو کا تذکرہ کیا ہے، مجھے نہیں معلوم اگر یہ موقع میسر آجاتا تو میں ان سے کیا کیا سوالات کرتا مگر یہ سوال ضرور کرتا ”سر! یہ تو بتائیں کہ آپ کو راست گوئی، قناعت اور اطمینان قلب کی دولت کیسے حاصل ہوتی ہے“؟

جواب لکھیں

%d bloggers like this: