...................... .................

شہر خالی، رستے خالی…… میم سین بٹ

کرونا وائرس کا صرف انسان براہ راست شکار ہوئے ہیں البتہ چرند پرند،درند بالواسطہ طورپرمتاثر ہوئے ہیں،چڑیا گھر کے مکین شہریوں کی صورت کو ترس گئے ہوں گے،چڑیا گھر سے باہر آزاد پرندوں اورجانوروں کوہوٹلزبندہونے کی وجہ سے غذا نہیں مل رہی،ہمارے فلیٹ کی بالکونی کے باہر گھر بنانے والے کبوتر لاک ڈاؤن سے پہلے روزانہ صبح سویرے رزق کی تلاش میں نکل جایا کرتے تھے اب بیچارے دن رات وہیں بیٹھے غٹرغوں غٹرغوں کرتے رہتے ہیں،دنیا بھر میں کرونا وائرس کے باعث ہزاروں افراد موت کے منہ میں جا چکے ہیں، لاکھوں لوگ زندگی اورموت کی جنگ لڑ رہے ہیں جبکہ کروڑوں افراد نظربندی کی زندگی بسرکررہے ہیں اس عالمی وباء نے شہر ویران کر ڈالے ہیں،سڑکیں سنسان پڑی ہیں ہر طرف سناٹوں کا راج ہے لوگ صرف ضروری سامان کی خریداری کیلئے ماسک میں چہرہ ڈھانپ کر باہر نکلتے ہیں اورپھردکھائی نہ دینے والی آفت سے بچنے کیلئے واپس جا کر گھروں میں دبک جاتے ہیں۔

لاہور میں بھی ہوٹلز، دکانیں، مارکیٹیں اور دفاتر بند ہیں البتہ سکیورٹی گارڈز بیچارے مارکیٹوں اور دفاترکی حفاظت کیلئے دن رات ڈیوٹی کررہے ہیں نائٹ ڈیوٹی کیلئے شام کے وقت فلیٹ سے دفتر جاتے اور رات گئے پریس کلب واپس آتے ہوئے سنسان سڑکوں پر سرکاری عمارتوں اور پرائیویٹ دفاتر کے باہر تعینات سکیورٹی گارڈز کے باعث ہمیں تحفظ کا احساس رہتا ہے اورسفر کے دوران زیادہ خوف محسوس نہیں ہوتا ان سکیورٹی گارڈز کو دیکھ کر سوچتے ہیں کہ ہمیں تو پریس کلب کیفے ٹیریا سے کھانا کھانے کی سہولت حاصل ہے سکیورٹی گارڈز بیچارے نجانے کہاں سے کھانا کھاتے ہوں گے ہوٹلز تو بند پڑے ہیں اور دسترخوان بھی منظر سے غائب ہو چکے ہیں۔

لاک ڈاؤن کے دوسرے مرحلے میں دولتتمند افراد تو گھروں میں کھانے پینے کی اشیاء ذخیرہ کر لیتے ہوں گے لیکن غریب دیہاڑی دار مزدورطبقہ تو کاروبار زندگی بند ہونے کے باعث فاقوں پر مجبور ہوتے جا رہے ہوں گے متوسط طبقے کی حالت ان سے بھی بری ہوگی کیونکہ وہ کسی سے مالی امداد بھی نہیں مانگ سکتے، حکمران مخیر حضرات سے امدادی چیک وصول کرنے کے بعد اب مستحقین میں احساس کفالت پروگرام کے تحت مالی امداد بانٹنے میں مصروف ہیں حکومت نے فلاحی تنظیموں کو اپنے طور پر مستحقین کی مدد کرنے سے روک کر اچھا نہیں کیا، حکومتی امداد ناکافی ہو گی خدشہ ہے کہ بھوک کے مارے غریب لوگ کہیں دوسروں کے گھر اور گودام نہ لوٹنا شروع کر دیں. تاجر طبقے کی برداشت بھی جواب دینے لگی ہے اور انہوں نے کاروبار کھولنے کی اجازت مانگ لی ہے، حکومت نے تعمیراتی شعبے کیلئے پیکج دیدیا ہے اسے کرونا وائرس کے حوالے سے احتیاطی تدابیر کے ساتھ دوسرے کاروبار شروع کرنے کی اجازت بھی دے دینی چاہیے ویسے بھی پاکستان میں عالمی وباء کی وہ شدت نہیں جو مغربی ممالک میں دکھائی دیتی ہے پاکستانی لوگ تو ملاوٹ والی اشیاء کھا کر بھی نہیں مرتے کرونا وائرس ان کی قوت مدافعت کو شکست نہیں دے سکتا۔

ہفتہ وارچھٹی کے روز اتوارکی شام پاک ٹی ہاؤس میں گزارنا ہمارا برس ہا برس سے معمول رہا ہے جہاں بالائی گیلری میں حلقہ ارباب ذوق کی تنقیدی نشست میں شرکت کے ذریعے نہ صرف کتھارسس ہوجاتا بلکہ ادبی دوستوں سے گپ شپ کا موقع بھی مل جاتا لیکن لاک ڈاؤن کے باعث پاک ٹی ہاؤس بند ہو جانے سے حلقہ ارباب ذوق کے ہفتہ وار اجلاس بھی اب آن لائن ہوتے ہیں اور وٹس ایپ گروپ میں تخلیقات پوسٹ کرکے ان پر نقاد حضرات کمنٹس کے ذریعے تنقید وتوصیف کرلیتے ہیں،لاک ڈاؤن کے باعث حلقہ ارباب ذوق کے سالانہ انتخابات کا شیڈول بھی جاری نہیں ہو سکا دنیا بھر میں کرونا وائرس پھیلانے والے چین کے شہر ووہان میں تو زندگی لوٹ آئی ہے اب پاکستان سمیت باقی ممالک میں عالمی وباء اورلاک ڈاؤن سے نجانے کب نجات ملے گی۔

بعض ستم ظریف لوگ ان سنگین حالات میں بھی لطیفے گھڑنے سے باز نہیں آرہے سوشل میڈیا پر ایسا ہی ایک لطیفہ پڑھنے کو ملا کہ کرونا وائرس آبادی گھٹانے کا منصوبہ تھا لیکن لاک ڈاؤن نے اسے ناکام بنا دیا،ان دنوں ہم موبائل سیٹ پر ڈاؤن لوڈکی جانے والی فارسی نظم باربارسنتے رہتے ہیں آشوب شہر نما یہ فارسی نظم ہرات کے شاعر امیر جان صبوری کی تخلیق ہے جوبنیادی طورپربیرونی حملہ آوروں کے ہاتھوں بار بار تباہ وبرباد ہونے والے افغانستان کے شہر ہرات کا نوحہ ہے تاہم یہ فارسی نظم کرونا وائرس سے دنیا کے بیشتر شہروں کی ویرانی کی بھی مکمل عکاسی کرتی ہے جسے تاجک گلوکارہ نگورا خولوہ نے اپنی پرسوز آواز میں گا کر امرکردیا ہے اور سوشل میڈیا پر اس نظم کی دھوم مچی ہوئی ہے،ازھرمنیر اگر آزادی صحافت کیلئے پریس کلب کے سامنے فٹ پاتھ پر علامتی بھوک ہڑتال نہ کررہے ہوتے تو وہ امیر جان صبوری کی طویل فارسی نظم کو اردو میں دوسرا جنم ضروردیتے بہرحال پروفیسر ضیاء المظہری نے اس فارسی نظم کو اردوکے قالب میں ڈھال دیا ہے جس کے چند اشعار ہیں۔۔۔

شہرخالی، رستے خالی، گلیاں خالی، خانہ خالی
جام خالی، مینا خالی، ساغر ومیخانہ خالی
چل دیئے ہیں دوستوں اور بلبلوں کے قافلے
باغ خالی،شاخیں خالی اورخالی گھونسلے

وائے اے دنیا کہ یار اب یار سے ڈرنے لگے
پیاسے غنچے اپنے ہی گلزار سے ڈرنے لگے
عاشق اب محبوب کے دیدار سے ڈرنے لگے
موسیقار اب ساز ہی کے تار سے ڈرنے لگے
شہسوار اب رستہ ہموار سے ڈرنے لگے
دیکھنے کو چارہ گر بیمار سے ڈرنے لگے

جو شناسا تھے ہمارے، ہو گئے نا آشنا
ایسا کہنا بھی ہے جیسے کوئی آفت یا بلا
خشک چشمے ہو گئے دریا بہت ہی کم رواں
آسماں بھی ہنس دیا سن کر ہماری داستاں
لوٹ آؤ تاکہ لوٹیں جانے والے قافلے
لوٹ آؤ پھر اٹھائیں ناز اہل ناز کے

جواب لکھیں

%d bloggers like this: