...................... .................

دس گُنا کامیابی…… رانا اشتیاق احمد

گرانٹ کارڈن امریکی بزنس مین، رئیل اسٹیٹ ٹائیکون، لیڈرشپ موٹیویشنل سپیکر اور مصنف ہیں۔ انہوں نے بزنس اور تحریر و تقریر میں جادوئی کامیابی کیسے حاصل کی، وہ کون سے اصول تھے جن پر عمل کر کے انہوں نے دوسروں سے زیادہ اور تیزی کے ساتھ کامیابی حاصل کی…… اس راز سے وہ پردہ اُٹھاتے ہیں اپنی کتاب The 10 x Rule: The Only Difference between Success and Failure میں۔

اگر آپ اپنی موجودہ زندگی سے ناخوش ہیں، اگر آپ اپنے بینک اؤکانٹ یا جمع پونجی سے مطمئن نہیں، اگر آپ اپنے صاحب حیثیت دوستوں، رشتے داروں اور دیگر حباب سے ملتے وقت نادم رہتے ہیں، اگرآپ اپنی موجودہ نوکری یا کاروباری سٹیٹس سے نالاں ہیں، اگر آپ کو اپنے بچوں اور اہل خانہ کی ضروریات پوری کرنے سے پہلے سو بار سوچنا پڑتا ہے، اگر آپ اپنی دبی ہوئی خواہشوں کو زندہ کر کے حقیقت کا روپ دینا چاہتے ہیں تو یہ کتاب ……………… The 10x Rule آپ کے لئے ہے۔

آپ نے کبھی غور کیا کہ چیونٹی اور شہد کی مکھی کس طرح ہر وقت مصروف عمل رہتی ہیں؟…… آپ نے کبھی سوچا کہ موسم خاص ترتیب سے ہی کیوں بدلتے ہیں؟…… آپ کا دھیان کبھی اس طرف گیا کہ پرندے ہر صبح تلاشِ رزق میں کیوں نکلتے ہیں؟…… آپ نے کبھی سوچا کہ دریا بہتے ہی کیوں رہتے ہیں؟ آپ نے کبھی یہ سوچا کہ بیج مٹی کے نیچے دب کر کچھ دنوں بعد خود ہی کیوں اُگ جاتا ہے…… اور اُگنے کے بعد مرحلہ وار غیر محسوس طریقے سے ہی کیوں پودے اور درخت کی صورت اختیار کرتا ہے؟ وہ ایک ہی دن میں تناور درخت کیوں نہیں بن جاتا؟………… اگر نہیں …… تو بھی The 10x Rule آپ ہی کیلئے ہے۔

آپ غربت اور مایوسی کی گہرائیوں سے نکلنا چاہتے ہیں؟…… آپ مالی آسودگی اور سوشل سٹیٹس سے لطف اندوز ہونا چاہتے ہیں؟ ……آپ اپنے تنگ دست رشتے داروں اور دوست احباب کی مدد کرنا چاہتے ہیں؟…… آپ جسمانی، روحانی، فکری اور مالی صحت حاصل کر کے بھرپور زندگی جینا چاہتے ہیں تو پھر Rule The 10x آپ کیلئے ہے۔

کیوں؟…………

اس لئے کہ آپ کو کامیاب ہونے کی ضرورت ہے۔

اگر آپ کامیاب ہونا چاہتے ہیں تو پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ کامیابی کیا ہے؟

دوستو! کامیابی کوئی غیرمتحرک یا جامد شے نہیں بلکہ ایک جیتی جاگتی ہے حقیقت اور کامیاب ہونا آپ کا فرض ہے۔ یہ ایسی حقیقت ہے جس کی نوعیت زندگی کے مراحل کیساتھ تبدیل ہوتی رہتی ہے۔

اگر آپ چھوٹے بچے ہیں تو آپ کی کامیابی خوبصورت بیگ اور ٹفن کیساتھ کسی اچھے سکول میں جانا ہے۔

آپ ٹین ایجر ہیں تو آپ کے لئے کامیابی اچھے گریڈ حاصل کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں! ڈریئے مت، آگے بڑھیئے! رانا اشتیاق احمد

آپ جوان ہیں تو اچھی نوکری، بہترین کارروبار اور خوبصورت جیون ساتھی حاصل کرنا کامیابی ہے۔

آپ ان میں سے کسی بھی اسٹیج پر ہیں تو گرانٹ کارڈن کی کتاب 10x Rule The کامیابی کا روڈ میپ لئے آپ کی منتظر ہے۔

گرانٹ کارڈن بتاتے ہیں کہ اگر آپ کامیابی کو دس گُنا زیادہ کرنا چاہتے ہیں تو یہ کام کیجئے!

مقصد کا تعین
سب سے پہلے آپ کو مقصد کا تعین کرنا ہے یعنی کوئی Goal بنانا اور ٹارگٹ سیٹ کرنا ہے۔ یاد رکھیں! Goal ہمیشہ بڑھا رکھیں۔ خدا کے واسطے حقیقی اور غیر حقیقی ٹارگٹ کی بحث سے نکل جائیں۔ اور یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کر لیں کہ کوئی بھی ٹارگٹ غیر حقیقی نہیں ہوتا، کسی بھی ٹارگٹ، کسی بھی ’گول‘ کو حقیقت کا روپ دیا جا سکتا ہے، بشرطیکہ کہ یہ انسان کی فطری صلاحیتوں کے دائرہ کار میں آتا ہو۔ فرق صرف یہ ہے بڑے ٹارگٹ کیلئے آپ کو عام ٹارگٹ کی نسبت 10 گنا زیادہ محنت کرنا پڑتی ہے…… تب ہی تو آپ کی کامیابی دس گنا زیادہ ہو سکتی ہے۔ گرانٹ کارڈن کہتے ہیں: Any target attached with the right actions in the right amounts with persistence is attainable. ”درست عمل اور مستقل مزاجی سے کوئی بھی ٹارگٹ حاصل کیا جا سکتا ہے۔“

کامیابی ہر جگہ ہے!
ہم اپنے دوستوں اور بڑوں سے اکثر سنتے ہیں کہ فلاں شعبے میں نہیں جانا…… وہاں تو پہلے ہی لوگوں کی بہتات ہے، اس فیلڈ میں بہت زیادہ Saturation ہو چکی ہے۔ ہر کوئی یہ بن رہا ہے…… وہ بن رہا ہے…… وغیرہ وغیرہ

یاد رکھیں! ایسی باتیں صرف اور صرف ہماری لاعلمی اور کامیابی کے فلسفہ سے ناواقفیت کی وجہ سے کی جاتی ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ کامیابی نا تو محدود ہے اور نہ ہی کسی ایک جگہ پر قید ہے۔ بلکہ یہ……

ہر جگہ ہے
لامحدود ہے
اور آپ کا فرض ہے

Success is important, success is your duty and there is no shortage of success

یاد رکھیں! کامیابی نہ تو کوئی تیل کا کنواں ہے جو خشک ہو جائے گا…… نا ہی یہ آپ گاڑی کی گیس کٹ میں بھری گیس ہے جو ختم ہو جائے گی………… بلکہ کامیابی قدرت کے کارخانے میں موجود اس توانائی کی طرح لامحدود ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتی۔

اس سوچ، اس نظریے کو لے کر کامیابی کی تلاش میں نکلیں …… آپ کو دس گنا زیادہ ملے گی۔

کامیابی، کامیابی سے نکلتی ہے!
کبھی بھی کسی ایک فیلڈ میں کامیابی کسی ایک شخص یا کمپنی پر جا کر ختم نہیں ہوتی…… بلکہ کسی ایک کی کامیابی تو آپ کے لئے سنگ میل ثابت ہوتی، آپ کیلئے Mile stone بن جاتی ہے۔

اگر شعیب افضل یہ سوچتے کہ پراپرٹی میں ملک ریاض ہیں، ان کا بحریہ ٹاؤن ہے تو ایس اے گارڈن جسی بڑی کمپنی کبھی وجود میں نہ آتی۔ اگر میاں عامر بیکن ہاؤس سکول سسٹم سے ڈر جاتے تو کیا آج ہمارے بچے پنجاب کالجز میں پڑھ رہے ہوتے…… اگر چوہدری عبدالرحمان یہ سوچتے کہ پنجاب کالج کی موجودگی میں کوئی دوسرا ادارہ نہیں چل سکتا تو کیا ہمارے پاس سپیریئر کالجز اور یونیورسٹی ہوتی۔ یہ لوگ اس خوف سے نکل کر میدان عمل میں آئے تو کئی دوسرے لوگوں کی کامیابی کا ذریعہ بنے۔

اسی طرح اگر گوگل، فیس بک اور یوٹیوب جیسے پیلٹ فارمز نہ ہوتے تو کیا آج لوگ ڈیجیٹل مارکیٹنگ سے لاکھوں، کروڑوں روپے کما رہے ہوتے۔

جواب لکھیں

%d bloggers like this: