...................... .................

صرف دُعا سے کام نہیں چلتا!…… جے ایم تیموری

نیویارک میں بھی لاہور کی طرح چار موسم ہی ہوتے ہیں، سردی، گرمی، بہار اور خزاں۔ آبادی کے لحاظ سے نیویارک دنیا کا اٹھائیسواں بڑا شہر ہے۔ اس کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ ساٹھ ملین سیاح ہر سال اس شہر کو دیکھنے اور اس کی سیر کے لیے آتے ہیں ۔ یہاں اتنے ریسٹورنٹ ہیں کہ آپ ہر روز ایک ریسٹورنٹ میں کھانا ٹرائی کرو تو آپ کو تقریباً بائیس سال درکار ہیں ہر ریسٹورنٹ پر جانے کے لیے اور اس کا کھانا ٹرائی کرنے کے لیے۔ دنیا کے تقریباً سبھی ملکوں کے باشندے ہرروز یہاں آتے اور آباد ہوتے رہتے ہیں۔ 1999ء میں محمد نواز بھی ان لوگوں میں شامل ہو گیا تھا۔ وہ دوسرے پاکستانیوں کی طرح آنکھوں میں امارت کے خواب سجا کر نیویارک میں آیا اور پھر یہاں پر ہی بس گیا تھا۔ محمد نواز اور دوسرے پاکستانیوں میں ایک بڑا فرق یہ تھا کہ اُس نے پہلے دن سے ہی جسمانی مشقت سے محنت کا آغاز کر دیا تھا۔ وہ چوبیس گھنٹوں میں اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے کام کرتا تھا۔ اور کبھی کبھی تو چوبیس گھنٹے بھی۔ محنت کرتے کرتے پہلے وہ کنڈیکٹر اور پھر ایک کنٹریشن کی کمپنی کا مالک بن گیا تھا۔ محمد نواز نے ترقی کی یہ منازل آنکھوں میں خواب دل میں یقین اور ہونٹوں پر بڑا آدمی بننے کی دعا سے طے کی تھیں۔

دُعا اور اُمید سے ایک مقناطیسی قوت پیدا ہوتی ہے، آپ دعا کو اُمید کے ساتھ جوڑیں یا اُمید کو دعا کے ساتھ نتیجہ ایک طرح کا ہی آتا ہے یعنی قوتِ کشش کا آغاز ہو جاتا ہے۔ اب اس قوتِ کشش کو اپنے فائدے میں استعمال کرنے کے لئے جس تیسرے عنصر کی ضرورت پڑتی ہے، وہ ہے یقین۔ اگر آپ یقین کے ساتھ دعا اور اُمید کو جوڑیں تو جو کشش کی قوت پیدا ہوتی ہے، وہ آپ کے لئے معجزے پیدا کرتی ہے۔ قوت کشش کیا ہے؟ یہ مغرب سے مستعار فلاسفی ہے جس کو انگریزی میں لاء آف ایٹریکشن کہتے ہیں۔

قانونِ کشش کے مطابق آپ کی زندگی میں آپ کے ساتھ جو بھی کچھ ہوتا ہے۔ ”اچھا یا برا“ وہ صرف اور صرف آپ کی اپنی وجہ سے ہی ہوتا ہے۔ جیسا آپ ہر وقت سوچتے رہتے ہیں ویسا ہوتا ہے۔آپ ہی اُس کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ آپ اچھائی یا برائی کو اپنی طرف مقناطیسی قوت کی طرح کھینچتے ہیں تو وہ آپ کی طرف دوڑی چلی آتی ہیں۔

جیسے کوئی دور پار کا یار دوست آپ کو اُس وقت قرض دیتا ہے جب آپ کو بہت ضرورت ہوتی ہے۔ وہ آپ کی طرف قانونِ کشش کے متحرک ہونے سے کھنچتا چلا آتا ہے۔ اور آپ کی خواہش کے مطابق آپ کی مدد کرتا ہے۔ آپ کو خبر بھی نہیں ہوتی کہ یہ سب کچھ قانونِ کشش کی وجہ سے ہو رہا ہے۔ اس کے برعکس آپ کا کوئی استاد، کوئی کلائنٹ، کوئی کام کا ساتھی سارا دن آپ کو کسی نہ کسی نئی مصیبت میں الجھائے رکھتا ہے اور آپ کا جینا دوبھر کر دیتا ہے۔ یہ بھی آپ کی اُس کشش ہی کی بدولت ہوتا ہے۔

اس قانون کو ہم ہر روز، ہر وقت، ہر جگہ استعمال کر رہے ہوتے ہیں حالانکہ ہمیں معلوم بھی نہیں ہوتا کہ یہ کس قانونِ قدرت کے تحت ہو رہا ہے۔ جیسے اس وقت آپ کی توجہ اس کالم نے اپنی طرف مبذول کروائی ہے جو آپ پڑھنے جا رہے ہیں۔ اس کے لئے بھی آپ اس آفاقی قانونِ کشش کو مورد الزام ٹھہرا سکتے ہیں۔ اس قانون کی تین بنیادی اکائیاں ہیں اور وہ ہیں چاہیں، سمجھیں اور پائیں۔

چاہیں میں ،سب سے پہلے آپ کو اپنی خواہش سے مکمل آگاہی ہونی چاہیے۔ یاد رکھئے آپ قدرت سے کچھ مانگنے جا رہے ہیں۔ جو آپ نے سوچا ہے یا جو آپ کی ضرورت ہے۔ اگر آپ اپنی خواہش کے بارے میں زیادہ پُریقین نہیں ہیں تو قدرت تو عمل کرنا شروع کر دے گی۔ پھر آپ کی ادھوری خواہش ہی پوری ہو جائے گی۔ اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ سب سے پہلے اپنی ضرورت یا خواہش کے متعلق واضح رویہ رکھیں۔

دوسری اکائی سمجھیں ہے۔ اس اکائی کے دو حصے ہیں پہلا احساس اور دوسرا تشکر۔ مانگنے کے بعد آپ کا کام یہ ہے کہ آپ اُس ضرورت یا آرزو یا خواہش کو مجسم صورت میں محسوس کریں۔ اگر آپ کسی کی محبت مانگتے ہیں تو اُس کو اپنے روبرو محسوس کریں۔ اُس کو اپنے اتنے قریب پائیں جیسے آپ اُسے چھو سکتے ہیں۔ آپ کو ایسے کرنا ہے کہ آپ کے عمل سے، کہنے سے یا سوچنے سے وہ چیز یا خواہش آپ کے دماغ میں ہو۔ آپ کا یقین کامل ہی اُس چیز کو آپ کے لئے مجسم کرے گا۔

تیسری اکائی پائیں ہے یعنی جس چیز کی خواہش تھی اس کو پانا یا حاصل کرنا۔آپ تصور کریں کہ جو آپ کی خواہش یا ضرورت تھی وہ پوری ہو گئی ہے۔ یا پوری ہونے والی ہے۔ یا پھر پوری ہو کر کس طرح لگے گی۔ آپ کیا محسوس کریں گے۔ جب وہ چیز جس کی آپ تمنا کر رہے تھے وہ آپ کو مل جائے گی۔

دُعا اور اُمید بھی قانون کشش کی طرح کسی مقصد کو سامنے رکھ کر ہی کی جاتی ہے، آپ کا جو بھی مقصد ہو، آپ جو بھی اپنے معبود سے چاہتے ہیں، اُس کو ہی مقصد کہا جائے گا، آپ اپنے لئے چاہتے ہیں یا کسی دوسرے کے لئے، وہ ہوتا مقصد ہی ہے۔ مقصد کے بغیر دعا نہیں مانگی جا سکتی، نہ ہی کوئی اُمید ہی کی جا سکتی ہے۔ جو مقصد ہو اُس کو اپنی اُمید میں اور دعا میں ہر وقت یاد رکھنا ہوتا ہے، پھر جب یقین کے ساتھ وہ دعا اور اُمید ہو کہ وہ مقصد پورا ہوگا تو پھر قدرت آپ کے سامنے دوسرے کئی مواقع ایک کے بعد ایک لاتی رہتی ہے۔ پہلے مرحلے میں آپ کو بس ان مواقع پر نظر رکھنی ہوتی ہے۔

بہت سارے لوگوں کا المیہ یہ ہے کہ وہ دعا اور امید کے مرحلے تک تو رہتے ہیں، اس سے اگلے مرحلے تک بھی نہیں جاتے۔ یعنی یقین کے مرحلے تک بھی نہیں پہنچ پاتے۔ انہیں ہمیشہ یہ شک رہتا ہے کہ ہماری دعائیں قبول بھی ہوں گی یا نہیں، وہ کیوں یہ سمجھتے ہیں کہ اُن کی دعائیں قبول بھی ہوں گی یا نہیں، اس کے پیچھے آپ کے حالات اور اُن کا رویہ ہوتا ہے جو اُن کو یقین تک نہیں پہنچنے دیتا۔ جو لوگ دعا، امید اور یقین مستحکم کر لیتے ہیں وہ کامیاب ہو جاتے ہیں، یہ ایک فارمولا ہے، ایک پروسس ہے جو اسی ترتیب سے وقوع ہوتا ہے۔ زیادہ تر لوگ کامیاب کیوں نہیں ہوتے اس کے لئے ایک مثال دیکھتے ہیں۔

جواب لکھیں

%d bloggers like this: