...................... .................

دنیا بھر میں لاک ڈاؤن، ہر طرف خوف کے سائے، اللہ خیر کرے: مسعود احمد صدیقی

چین سے سفر کا آغاز کرنے والے کورونا وائرس نے دنیا بھر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ دنیا کے تقریباً 90 فیصد ممالک اس کی لپیٹ میں آچکے ہیں۔ جہاں جہا کورونا پہنچا وہاں کے ممالک نے لاک ڈاؤن کر کے اس کے پھیلاؤ کو روکنے کی کووش کی۔ ”ورلڈ لاک ڈاون“ نے دنیا کی بڑی بڑی طاقتوں کو چکنا چور کر دیا۔

کورونانے ثابت کر دیا ہے اس سے انسان خود اپنی پرواہ کر کے ہی بچ سکتاہے۔ کورونا نے یہ بھی ثابت کیا کہ امریکہ اتنا بڑا طاقتور ملک نہیں جتنا وہ سمجھتا ہے یعنی کورونا نے اسے بھی تگنی کاناچ نچا دیا اور اگر امریکاکی پلاننگ کچھ اور ہے تو اس پر کچھ آگے چل کر غور کیا جا سکتا ہے۔

دنیا بھر میں کورونا نے انسانوں کوگھروں میں قید کر دیا ہے۔ اب ہمیں احساس ہو رہا ہے کہ جانور چڑیا گھر میں کیسا محسوس کرتے ہوں گے۔کاروباری افرادگھروں میں رہ کر بھی امپور وایکسپورٹ کر رہے ہیں، شپمنٹس جاری ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کاروبار گھر میں بیٹھ کر بھی کیا جا سکتا ہے۔ ایک بات یہ بھی کہ ہم فاسٹ فوڈ اور غیر ضروری سرگرمیوں کے بغیر بھی زندہ رہ سکتے ہیں۔ ہمارے پاس وقت بہت ہے اگر ہم اس کا درست استعمال کریں۔ کورونا نے یہ بھی بتا دیا کہ جس کے پاس حد سے زیادہ سرمایہ ہے وہ اس کے لئے بیکار ہے۔ بڑے بڑے سائنسدان سر جوڑے بیٹھے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ دنیا کتنی بھی ترقی کر لے وہ قدرت کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔

پاکستان میں بھی کورونا وائرس بہت حد تک پھیل رہا ہے۔اس کو پاکستانی تاجروں نے بھاری کمائی کا ذریعہ سمجھ لیا ہے، ہر شے مہنگی بک رہی ہے، ڈرے سہمے لوگوں کی مجبوری کا فائدہ اٹھایا جا رہا ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومت نے غریبوں کو راشن دینے کے جو وعدے کئے وہ تاحال بیانات تک محدود ہیں۔ سائیں سرکار 15 روز بعد بھی عوام کو راشن نہ دے سکی بلکہ اطلاعات یہ بھی سامنے آئیں کہ راشن کے بیگ رات کی تاریکی میں چنیسر گوٹھ میں پی پی پی رہنما کے گھر پہنچا دیئے گئے اور بے چارے صوبائی وزیر سعید غنی صفائی ہی پیش کرتے رہے۔ اس حوالے سے ایک وڈیو بھی سوشل میڈیا پر دیکھی گئی۔ ویڈیو پر سعید غنی کا کہنا تھا کہ سرکاری راشن کی ابھی تقسیم شروع ہی نہیں ہوئی لیکن وہ یہ نہ بتا پائے کہ راشن کب تقسیم ہو گا۔

صوبائی وزراء اپنے وزیراعلیٰ سید مردا علی شاہ کی محنت کو ضائع کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے زیادہ بہتر انداز سے تو الخدمت، خدمت خلق فاؤنڈیشن، سیلانی، عالمگیر، جے ڈی سی اور دیگر سماجی تنظیمیں راشن کی تقسیم کا عمل جاری رکھے ہوئے ہیں لیکن کچھ جعلی تنظیمیں مال بٹورنے میں بھی مصروف ہیں جن پر حکومت قابو نہیں پا سکی ہے۔ اسی طرح کراچی کی سڑکوں پر راشن لینے کیلئے مافیاز کے کارندے بھی دکھائی دے رہے ہیں جو مزدوروں اور محنت کش خواتین کے نام پر گاڑیاں بھر بھر کے راشن لے جاتے دیکھے گئے مگر سفید پوش طبقہ اب بھی حکومت کی امداد کا منتظر ہے۔ حکومت نے ضرورت مندوں کو ڈپٹی کمشنر آفس بلا لیا تاکہ ان کی رجسٹریشن کی جا سکے مگر شہر کے تمام اضلاع کے ڈی سی آفسز میں ان افراد کو تماشہ بنایا گیا۔

کوروناوائرس کے حوالے سے جو رپورٹس امریکا کی زبانی سامنے آرہی ہیں ان میں یہ بات اہم ہے کہ امریکہ میں ہر آنے والے منٹ میں 21 نئی کیس سامنے آ رہے ہیں بلکہ زیادہ تر لوگ تو یہ بھی کہہ رہے ہیں وہاں قیامت خیز منظر ہے اللہ ہی بچا سکتا ہے۔ ایک اطلاع یہ بھی آئی کہ دوروز قبل امریکہ میں صرف ایک دن میں 29 ہزار 800 نئے کوروناکیس سامنے آئے۔ امریکا کے حوالے سے یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ وہاں کورونا کی تباہ کاریاں وہ نہیں جو وہاں کی سرکار بتا رہی ہے۔ اگر ایسا ہے تو امریکا یہ سب کیوں کر رہا ہے؟ نائن الیون کا واقعہ ابھی دنیا بھولی نہیں۔ سب جان چکے ہیں کہ یہ کیا کسی نے اور بھرا کسی نے تھا۔ اب سوال یہ ہے کہ کہیں امریکا میں کورونا نائن الیون کی طرح تو نہیں؟

میری ایک عزیز سے فون پر بات ہو رہی تھی، جیسے جیسے میں ان کی بات سنتا گیا، میرے ذہن میں پوشیدہ کئی سوالوں کے جواب ملتے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا کی کل آبادی کا 70 فیصد حصہ 65 سال سے 90 سال یا پھر اس سے بھی زائد عمر کے لوگوں کا ہے۔ امریکا کے خزانے سے ان 70 فیصد افراد پر بھاری سرمایہ خرچ کیا جاتا ہے اور ایک تاثر یہ ہے کہ یہ افراد امریکا کی معیشت پر بوجھ ہیں کیونکہ 65 سال سے زائد افراد کو حکومت پینشن دیتی ہے، ان کا علاج ومعالجہ کی ذمہ درای ہے لیتی ہے۔ یہی حال یورپی ممالک، برطانیہ اور دیگر ملکوں کا بھی ہے۔ امریکا اور یورپ میں کورونا 65 سال سے زائد عمر کے لوگوں پر زیادہ حملہ آور ہے اور 90 فیصد 75 سے 95 سال کی عمر کے افراد دنیا سے رخصت ہو رہے ہیں۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ اس طرح امریکا، یورپ وغیرہ کا خزانہ محفوظ بنایا جا رہا ہے۔ خیر یہ تو ایک فرد کا نظریہ ہے مگر بہت کچھ سوچنے پر مجبور بھی کرتا ہے کیونکہ چین نے جس ہمت سے کورونا وائرس کا مقابلہ کیا اور اس نے یہ الزام بھی لگایا کہ اس وائرس کو چین میں پھیلانے کا ذمہ دار امریکا اسرائیل گٹھ جوڑ ہے۔ اگر چین کے اس الزام کو درست مان لیا جائے تو پھر امریکا میں کورونا وائرس کا شکار مریضوں اور مرنے والوں کی تعداد میرے عزیز کی اس بات کی تصدیق تو نہیں کرتی کہ امریکا 65 سال سے زائد عمر کے افراد بالخصوص 75 سال سے 95 سال تک کے امریکیوں کو کورونا میں مبتلا کر کے علاج سے ہی نجات دلوا رہا ہے تاکہ اس کے خزانے پر بوجھ کم ہو سکے۔

جواب لکھیں

%d bloggers like this: