...................... .................

از محبت تلخ ہا شیریں شود…… مولانارومؒ

از محبت تلخ ہا شیریں شود
از محبت مسّہا زرّیں شود

محبت کی وجہ سے کڑوی چیزیں میٹھی ہو جاتی ہیں
محبت سے مختلف تانبے سونا بن جاتے ہیں

از محبت دُرد ہا صافی شود
و ز محبت درد ہا شافی شود

محبت سے تلچھٹیں صاف ہو جاتی ہیں
اور محبت سے درد شفا بخشنے والا بن جاتا ہے

از محبت خار ہا گل می شود
وز محبت سرکہا مل می شود

محبت سے کانٹے پھول بن جاتے ہیں
اور محبت سے سِرکے شراب بن جاتے ہیں۔

از محبت سجن گلشن می شود
بے محبت روضہ گلخن می شود

محبت سے قید خانہ چمن بن جاتا ہے
بغیر محبت کے باغ بھٹی بن جاتا ہے

از محبت نار نورے می شود
وز محبت دیو حورے می شود

محبت سے آگ نور بن جاتی ہے
اور محبت سے جِن حور بن جاتا ہے

از محبت سنگ روغن می شود
بے محبت موم آہن می شود

محبت سے پتھر تیل بن جاتا ہے
بغیر محبت موم لوہا بن جاتا ہے

از محبت حزن شادی می شود
وز محبت غُول ہادی می شود

محبت سے غم خوشی بن جاتا ہے
اور محبت سے چھلاوا راہبر بن جاتا ہے

از محبت نیش نوشے می شود
وز محبت شیر موشے می شود

محبت سے ڈنگ شہد بن جاتا ہے
محبت سے شیر چوہا بن جاتا ہے یعنی بے ضرر ہو جاتا ہے

از محبت سُقم صحت می شود
وز محبت قہر رحمت می شود

محبت سے بیماری تندرستی بن جاتی ہے
اور محبت سے قہر رحمت ہو جاتا ہے

از محبت خار سوسن می شود
و ز محبت خانہ روشن می شود

محبت سے کانٹا سوسن (پھول) بن جاتا ہے
اور محبت سے گھر روشن ہو جاتا ہے

از محبت مردہ زندہ می شود
وز محبت شاہ بندہ می شود

محبت سے مردہ زندہ ہو جاتا ہے
اور محبت سے شاہ غلام بن جاتا ہے

ایں محبت ہم نتیجہ دانش ست
کے گزافہ بر چنیں تختے نشست

یہ محبت بھی سمجھ کا نتیجہ ہے
بکواسی ایسے تخت پر کب بیٹھ سکتا ہے؟

دانشِ ناقص کجا ایں عشق زاد
عشق زاید ناقص اَما بر جماد

ناقص عقل نے یہ عشق کب جنا ہے؟
ناقص(عقل) عشق پیدا کرتی ہے لیکن پتھر سے

انتخاب از مثنوی معنوی
مترجم: آزر جمال

جواب لکھیں

%d bloggers like this: