...................... .................

ساری دنیا مقبوضہ کشمیر بن گئی…… میم سین بٹ

دنیا میں بڑے بڑے خطرناک وائرس آئے تھے مگر کرونا وائرس نے تو انسانیت دشمنی میں گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ ہی توڑ ڈالا ہے۔ یہ وائرس جان سے کم مارتا اور ڈراتا زیادہ ہے۔ اس کی دہشت نے انسانوں کوکاروبارِزندگی بند کر کے گھروں میں نظر بند ہونے پر مجبور کر دیا ہے۔ ہم تو اسے دہشت گرد وائرس ہی قرار دیں گے۔ کرونا وائرس انسانوں کے ساتھ ساتھ مذہب کا بھی بدترین دشمن ثابت ہوا ہے۔ اس نے مساجد، مندر،گرجے،گوردوارے سب ویران کر ڈالے ہیں۔ لوگ اجتماعی عبادات ترک کر کے جان بچانے کیلئے تنہائی کی زندگی بسرکرنے پر مجبورہو چکے ہیں، اور شاعر بھی عشق ومحبت کے قصے بھول بیٹھے ہیں، بقول فراق گورکھپوری۔۔۔

اب تو ان کی یاد بھی نہیں آتی
کتنی تنہا ہو گئیں تنہائیاں

تنہائی ہمیں شروع ہی سے پسند رہی ہے، ہم لکھنے پڑھنے کا زیادہ تر کام رات کے آخری پہر میں کرتے ہیں جب سارا جگ سو رہا ہوتا ہے، فضا خاموش ہوتی ہے ایسے میں ہم مکمل سکون اور یکسوئی سے لکھتے پڑھتے ہیں لہذا ازھر منیر کی طرح عشروں سے تنہائی کے عادی ہیں تاہم اس معاملے میں ازھر منیرکو یہ سبقت حاصل ہے کہ وہ اپنے ہاسٹل کے کمرے میں عشروں سے اکیلے رہ رہے ہیں جبکہ ہم اپنے فلیٹ میں دوست رانا سرمان کے پارٹنر ہیں۔ پنجاب حکومت نے جب پہلے دو روز کیلئے لاک ڈاؤن کیا تو ہمارے روم میٹ رانا سرمان علی ہفتہ وار چھٹی منانے فیصل آباد گئے ہوئے تھے۔ بعدازاں صوبے میں مزید دو ہفتے کیلئے لاک ڈاؤن کر دیا گیا جس پر بلڈنگ کے بیشتر مکین بھی آبائی علاقوں کو روانہ ہو گئے مگر ہم صحافتی ذمہ داریوں کے باعث فیصل آباد نہ جا سکے، دفتر میں نائٹ ڈیوٹی کے بعد دن رات فلیٹ پر پڑے رہتے ہیں، اب تو تنہائی سے بھی خوف آنے لگا ہے بقول افتخار عارف۔۔۔

خواب کی طرح بکھر جانے کو جی چاہتا ہے
ایسی تنہائی کہ مر جانے کو جی چاہتا ہے

صبح دن چڑھے سونے سے پہلے جب کبھی تنہائی سے گھبرا کر فلیٹ سے باہر نکلتے ہیں تو فضائی آلودگی ختم ہونے کی وجہ سے آسمان تو صاف اور نیلگوں دکھائی دیتا ہے مگر شہرکو سنسان دیکھ کر دل مزید ڈوبنے لگتا ہے۔ وہ سڑکیں جنہیں پار کرنے کیلئے کافی دیر تک انتظارکرنا پڑتا تھا اب ویران پڑی رہتی ہیں۔ شملہ پہاڑی چوک پر کھیلنے کے وسیع میدان کا گماں ہوتا ہے، ایبٹ روڈ پر لکشمی چوک تک اور ایمپریس روڈ پر پولیس لائنز بلکہ ریلوے ہیڈ کوارٹرز سے بھی آگے دور ریلوے سٹیشن تک اکادُکا موٹر سائیکل یاگاڑی آتی جاتی دکھائی دیتی ہے۔ ڈیوس روڈ جیسی مصروف رہنے والی سڑک بھی اب اداس اور نوحہ خواں رہتی ہے، ایجرٹن روڈ پر نادرا آفس کے گیٹ کی رونقیں ختم ہو چکی ہیں، پریس کلب میں اس وقت سکیورٹی سٹاف کے سواکوئی نہیں ملتا ہم شملہ پہاڑی کے اردگرد گھوم پھر کر فلیٹ پر لوٹ آتے ہیں۔ بقول نصیر ترابی۔۔۔

شہر میں کس سے سخن رکھئے،کدھرکو چلئے
اتنی تنہائی تو گھر میں بھی ہے، گھر کو چلئے

پاک ٹی ہاؤس اور الحمراء ادبی بیٹھک کے بعد پریس کلب کو بھی بند کر دیاگیا تھا تاہم کلب کا صرف کیفے ٹیریاکھلا رکھا گیا ہے تاکہ اخبارات اور ٹی وی چینلز سے منسلک ہاسٹلز اورکرایہ کے مکانوں میں مقیم دوسرے شہروں سے تعلق رکھنے والے صحافی کھانا کھا سکیں، سوشل میڈیا پر سابق سیکرٹری کلب شفیق اعوان کی اس تجویز پر عمل کا ہم پردیسی صحافیوں کو بہت فائدہ پہنچا ورنہ شاید بھوک سے ہی مر جاتے۔ پریس کلب کے صحن میں دن کے وقت چند صحافی کھانا کھا کر بیٹھے چائے اور سگریٹ پیتے مل جاتے ہیں مگر ہم دور سے ہی علیک سلیک کر کے دفتر چل دیتے ہیں کیونکہ ان میں سے بیشتر ماسک اور دستانوں جیسی احتیاطی تدابیر کے قائل نہیں ہوتے اور مصافحہ کرنا ضروری خیال کرتے ہیں بلکہ بعض تو معانقہ کر ڈالتے ہیں البتہ رات کے وقت کیفے ٹیریا پر ازھر منیر کے ساتھ مختصر نشست ہو جاتی ہے۔ ہماری طرح انہیں بھی کینٹین سے کھانا کھانے کیلئے مجبوراََ پریس کلب آنا پڑتا ہے۔ ازھر منیر بنیادی طور پر شاعر ہیں اور شعراء عموماََ ہجر میں وصل کے خواہشمند رہتے ہیں۔ ان رومانی شعراء کی شاعری بھی عموماََ اسی مشن یا مشق سخن کا نتیجہ ہوتی ہے تاہم کروونا وائرس کے باعث لاک ڈاؤن کی خوفناک تنہائی نے ازھر منیر کو بھی یہ شعر کہنے پر مجبورکردیا ہے۔۔۔

دل عشاق میں بھی موسم کرونا میں
بجائے وصل کے اب ہجرکی تمنا ہے

سوشل میڈیا نے جہاں دنیا کوعالمی گاؤں بنا دیا وہاں انسان کو جسمانی طور پر ایک دوسرے سے دور بھی کر دیا۔ ہم ایک ہی شہر،گھر اور کمرے میں رہتے ہوئے موبائل پر فیس بک، واٹس ایپ یا ٹوئٹر کے ذریعے قریبی لوگوں سے ذہنی طور دور اور دور دیس میں بسنے والوں کے قریب رہتے ہیں۔ کرونا وائرس کے خوف نے لوگوں کو دفتر اور دکانیں بند کر کے گھروں میں محصور ہونے پر مجبور توکر دیا لیکن انہوں نے سماجی رابطوں کیلئے سوشل میڈیاکا استعمال مزید بڑھا دیا ہے۔ ہم یہ سوچ کر لرز جاتے ہیں کہ دفاتر اور کاروبار کے ساتھ اگر موبائل اور انٹرنیٹ سروس بھی بند ہو جاتی تو حساس لوگ تو شایدگھٹ کر ہی مر جاتے۔ کرونا وائرس نے ہمیں مقبوضہ کشمیرکا لاک ڈاؤن بھی یاد دلا دیا ہے شاید یہ وباء قدرت کی طرف سے دنیا کو کشمیری عوام پر مسلسل بھارتی کرفیوکا ظلم بند نہ کروانے کی سزا ہے، کسی مسلم ملک یا سپر طاقت نے بھارت کو مقبوضہ کشمیرسے کرفیو اٹھانے پر مجبور نہ کیا تھا بلکہ سعودی عرب سمیت خلیجی مسلم ممالک نے تو بھارتی وزیراعظم مودی کو ایوارڈز دے کر مظلوم کشمیری عوام کے زخموں پر نمک چھڑکا تھا۔ اب سپر طاقتوں اور فارس وخلیجی ممالک کو بھی کرونا وائرس کے باعث لاک ڈاؤن کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ کسی نے اس ”مکافات عمل“ کی یوں عکاسی کی ہے۔۔۔

تخیل ہی تخیل میں تصویر بن گئی
ساری دنیا مقبوضہ کشمیر بن گئی

جواب لکھیں

%d bloggers like this: