...................... .................

ریپ کی کوشش پر ملزم کیخلاف کارروائی میں تاخیر، لڑکی نے ‘خودکشی’ کرلی

بہاولپور: ریپ کی کوشش سے پریشان 18 سالہ لڑکی نے پولیس کی جانب سے مشتبہ شخص کے خلاف کارروائی میں تاخیر کے بعد خودکشی کرلی۔

رپورٹ کے مطابق موٹر وے اجتماعی زیادتی کے واقعے کے بعد سامنے آنے والی حالیہ عوامی ناراضگی پر فوری رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر صہیب اشرف نے اسٹیشن ہاؤس آفیسر سمیت 3 پولیس اہلکاروں اور ملزم کو گرفتار کرلیا۔

پنجاب کے وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان نے میڈیا کو بتایا کہ وزیر اعلی عثمان بزدار نے بہاولپور کے ڈی پی او کو سخت کارروائی کرنے کا حکم دیا ہے۔

خیرپور تمیوالی پولیس کی جانب سے پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 322 کے تحت درج ایف آئی آر کے مطابق شکایت کنندہ (متوفی لڑکی کی ماں) نے بتایا کہ مشتبہ شخص، جو ان کے ہی گاؤں کا ہے، نے بدھ کے روز چیلیواہن گاؤں میں ان کی بیٹی سے زیادتی کی کوشش کی تھی۔

لڑکی کے شور مچانے پر چند گاؤں والوں نے جائے وقوع پر پہنچ کر لڑکے کو مارنے پیٹنے کی کوشش کی تاہم وہ فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔

شکایت کنندہ نے بتایا کہ ان کی بیٹی اس قدر پریشان اور افسردہ تھی کہ اس نے کیڑے مار دوائیں کھالیں۔

بعد ازاں اسے بہاول وکٹوریہ پسپتال لے جایا گیا جہاں جمعرات کے روز وہ انتقال کرگئی۔

انہوں نے بتایا کہ جب ان کے شوہر مقامی پولیس اسٹیشن گئے تو ڈیوٹی پر موجود عملے نے انہیں علاقے میں پولیس چیک پوسٹ بھیج دیا۔

پولیس کے ترجمان جام ساجد نے ایک پریس ریلیز میں کہا کہ ڈی پی او صہیب اشرف نے جائے وقوع کا دورہ کیا اور غفلت برتنے پر خیرپور تمیوالی تھانے کے ایس ایچ او انوارالحق، انوسٹی گیشن آفیسر (آئی او) اے ایس آئی اشفاق اور موہرر محمد صدیق کو گرفتار کرنے کا حکم دیا۔

ڈی پی او نے غمزدہ خاندان سے تعزیت بھی کی۔

فیاض الحسن چوہان کا کہنا تھا کہ حکومت عصمت دری کے واقعات اور پولیس کی غفلت کو بالکل برداشت نہ کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور اس بات کو یقینی بنائے گی کہ مجرموں کو سزا دی جائے۔

جواب لکھیں