...................... .................

کورونا وائرس: وبائی امراض سے بچاؤ کا نبوی ؐطریقہ۔۔۔۔ ڈاکٹر محمد طاہرالقادری

کورونا وائرس نے پوری دنیا کو متاثر کیا ہے اسے ایک عالمگیر وبا قرار دیا گیا ہے، اس سے بچاؤ کے لیے ملکی بین الاقوامی ہیلتھ آرگنائزیشن جو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایات جاری کر رہی ہیں ان پر من و عن عمل درآمد کیا جائے، ایسی آفات پر قرآن و سنت اور نبوی تعلیمات سے جو ہدایات اور راہنمائی ملتی ہے میں وہ آپ تک پہنچانا چاہتا ہوں۔ انسانی تاریخ میں کورونا وائرس سے قبل دس تباہ کن وبائیں پھوٹ چکی ہیں، جن میں ایک وبا طاعون کی بھی تھی جسے پلیگ کہتے ہیں، ایسی عالمگیر وباؤں کے موقع پر کچھ کام اور اقدامات حکومتوں کے کرنے کے ہوتے ہیں اور کچھ کام سوشل ریسپاسبیلٹی کے تحت عامۃ الناس کی ذمہ داری ہوتے ہیں۔ سوسائٹی کے ہر فرد اورخاندان پر لازم ہے کہ ایسی آفات کی آمد پر وہ اپنا ذمہ دارانہ سماجی کردار ادا کریں، کورونا وائرس ایک خطرناک وبا ہے یہ کوئی روایتی وبا نہیں ہے کہ اس سے روایتی طور طریقے اختیار کر کے نمٹا جا

کچھ حفاظتی اقدامات کا ذکر اگرچہ تکرار کے زمرے میں آتا ہے اور آپ متعدد بار یہ ہدایات سن بھی چکے ہونگے تاہم معاملہ کی حساسیت کے پیش نظر بار بار دہرائے جانے کا مقصد ذہن نشین کرنا ہے،کرونا وائرس سے بچنے کیلئے ہر شخص پر لازم ہے کہ وہ صابن سے ہاتھوں کو اچھی طرح دھوتا رہے، یہ پہلا حفاظتی قدم ہے،ایک وقت میں کم از کم 20 سیکنڈ تک ہاتھوں کو دھوئیں،اس آفت سے خود کو اور دوسروں کو محفوظ بنانے کی یہ ایک ناگزیر ضرورت ہے، کھانسی اور چھینک کی صورت میں ٹشو پیپر، رومال یا کوئی کپڑا منہ پر رکھیں تاکہ جراثیم ہوا میں نہ جائیں اگر ہاتھ دھلے ہوئے نہیں ہیں تو اپنے ہاتھوں کو منہ، ناک، آنکھ چہرے کو نہ لگائیں۔ کرونا وائرس منہ، ناک اور آنکھ کے راستے سے جسم میں داخل ہوتا ہے اگر نزلہ فلو، بخار ہے تو کسی دوسرے کو ٹچ نہ کریں گھر میں رہیں، اس دوران مصافحہ بھی نہ کریں،کسی کو گلے بھی نہ ملیں، اجتماعات میں جانے سے پرہیز کریں اس کا اطلاق نماز جمعہ کے اجتماعات،سیاسی، سماجی،سوشل میٹنگز پر بھی کریں یہاں تک کہ خاندان اور گھر کے اندر بھی اس پر عمل پیرا رہیں۔ ان ہدایات کو نظر انداز ہر گز نہ کریں اور خوفزدہ ہونے کی بھی ضرورت نہیں، احتیاط اور تدبیر کو نظر انداز کرنے والا اللہ اور اس کے رسولؐ کو پسند نہیں ہے۔ تدبیر اور احتیاط کو نظر انداز کرنے کا نام توکل نہیں ہے اور نہ ہی اس تعلق تقدیر سے ہے۔ تقدیر اور تدبیر الگ الگ موضوعات ہیں، پیشگی حفاظتی اقدامات بروئے کار لانا الگ چیز ہے، اللہ اور اس کی مشیت پر بھروسہ کرنا الگ باب اور موضوع بحث ہے، بعض لوگ کم علمی کی وجہ سے ان دونوں امور کو آپس میں خلط ملط کرتے ہیں، بیماریوں سے بچنے کیلئے تدابیراختیار کرنے کا حکم اللہ اور اس کے رسول ؐ نے سختی سے دیا ہے، موجودہ ہنگامی صورتحال کے پیش نظر بڑے یا محدود پیمانے پر باڈی کا انٹرایکشن ختم کر دیں، غیر ضروری سفر ختم کر دیں، گھروں میں رہیں، اگر ناگزیر نہ ہو تو سفر اختیار نہ کریں، اگر آپ سفر کریں گے تو لامحالہ جس ٹرین، بس، رکشے، ٹیکسی میں آپ سفر کریں گے اس میں آپ کے بیٹھنے سے قبل کوئی اور بھی بیٹھا ہو گا، آپ کو نہیں معلوم کہ کس انسانی جسم کی علامات کیا تھیں، کس باڈی میں وائرس تھا یا نہیں تھا،کرونا وائرس کی یہ خاصیت ہے کہ وہ لکڑی پر بھی منتقل ہو جائے تو ایک مخصوص مدت تک کسی دوسرے نفس میں منتقل ہونے کی طاقت رکھتا ہے، کرونا وائرس لکڑی، کرسی،ٹیبل، کیبل زیر استعمال رہنے والی اشیاء کے ذریعے دوسروں تک منتقل ہو سکتا ہے، نہ صرف یہ وائرس بلاواسطہ منتقل ہونے کی طاقت رکھتا ہے بلکہ بلواسطہ بھی یہ منتقل ہو سکتا ہے، جس جگہ بھی آپ بیٹھیں اسے اچھی طرح صاف کریں اور اپنے زیر استعمال اشیاء کی صفائی کا بھی پوری طرح خیال رکھیں، سب سے اہم چیز ہاتھوں کی صفائی ہے۔

ہر شخص پر لازم ہے کہ وہ ان تدابیر کو اختیار کرے، میں تمام تنظیمی، تحریکی ذمہ داران،کارکنان کو یہ سختی سے ہدایت کررہا ہوں کہ وہ اپنی سماجی، قومی، ملی،جماعتی، تحریکی،معاشرتی ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے مذکورہ بالا حفاظتی تدابیر اختیار کرے اور اس ضمن میں کسی قسم کی غفلت کا مرتکب نہ ہو، نا صرف خود ان ہدایات پر عمل کرے بلکہ اپنے اہلخانہ، عزیز و اقارب اور دوست احباب تک بھی یہ پیغام قومی، ملی، دینی فریضہ سمجھ کر پہنچائے، سکولوں، کالجوں، یونیورس ٹیز،نجی محفلوں میں ہر جگہ ان ہدایات پر عمل ہونا چاہیے۔ میری دنیا بھر کے کارکنان، تنظیمات اور ذمہ داران کو یہ ہدایت ہے کہ کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے حفاظتی تدابیر اختیار کرنے کے ضمن میں حکومتوں اور ان کے متعلقہ اداروں کی طرف سے جو ہدایات ملیں ملک، معاشرے اور انسانیت کی حفاظت اور بقا ء کے جذبہ کے ساتھ ان پر عمل کریں اور حکومتی مہمات کے ساتھ تعاون کریں اس سے وباء کو روکنے میں مدد ملے گی۔اس حوالے سے ماڈرن سائنس سے آگاہی مل رہی ہے، ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشنز کی طرف سے بھی تلقین کی جارہی ہے اورڈاکٹرز بھی اپنا فریضہ انجام دے رہے ہیں۔

طاعون کی وباء
بحیثیت مسلمان ہمارا یہ ایمان ہے کہ سب سے بڑی آگاہی، رہنمائی اور ہدایت کا سرچشمہ حضور نبی اکرم ؐ کی تعلیمات ہیں، پہلے وقتوں میں طاعون کی وباء آتی تھی یہ بھی ایک طرح کا وائرس تھا، اس سے ہزار ہا اموات ہوتی تھیں، تاریخ میں مختلف معاشروں اور سوسائٹیز میں یہ وباء آتی رہی ہے، اس وقت میڈیکل سائنس، شعور اور آگاہی نہیں ہوتی تھی اور احتیاط بھی نہیں برتی جاتی تھی جس کی وجہ سے ہزاروں اموات ہوتی تھیں،بخاری شریف کی کتاب میں ایک باب الطب کے نام سے اس میں ایک مضمون طاعون کا ہے۔ بخاری شریف میں حدیث نمبر5728 میں ہے کہ حضور نبی اکرم ؐ نے فرمایا جس کا مفہوم ہے اگر تم سنو کسی ملک، کسی شہر، کسی سرزمین کے بارے میں کہ وہاں طاعون کی وباء پھیل گئی ہے تو اس ملک میں، اس خطے میں، اس علاقے میں ہر گز داخل نہ ہوں اور اگر کسی علاقے، شہر، ملک میں یہ وباء پھیل جائے جہاں آپ پہلے سے موجود ہوں تو پھر وہاں سے باہر نہ جاؤ، اس زمانے میں ٹیسٹ لیبارٹریز نہیں ہوتی تھیں کہ اس بات کا پتہ چلایا جا سکے کہ کس شخص میں وباء کے اثرات ہیں اور کس میں نہیں ہیں؟ لہٰذا حضور نبی اکرم ؐ نے اس کی ایک ایسی احتیاطی تدبیر بتا دی جس کی آج کی ماڈرن سائنس توثیق کررہی ہے کہ متاثرہ علاقہ، ملک اور معاشرہ کا سفر اور آمدروفت کو روک دیا جائے تا کہ اس موذی وباء سے ان علاقوں، خطوں اور ملکوں کے عوام کو بچایا جا سکے چونکہ طاعون ایک متعدی مرض ہے جو ایک شخص سے دوسرے شخص میں منتقل ہوتا ہے اسی لیے دونوں صورتوں میں انٹرایکشن سے روک دیا گیا، یہ حدیث بخاری شریف کے علاوہ مسلم شریف میں بھی روایت ہوئی ہے جس کا نمبر2218 ہے۔ حضرت حبیب ؓ روایت کرتے ہیں کہ ہم مدینہ میں تھے،ہمیں خبر ملی کہ کوفہ میں طاعون کی وباء پھوٹ پڑی ہے، مجھے حضرت عطاء بن یسار، صحابہ اور تابعین نے بتایا کہ حضور نبی اکرم ؐ کا ارشاد ہے اگر تم کسی علاقے، خطے یا ملک میں پہلے سے موجود ہوں اور وہاں وباء آ جائے تو پھر اس شہر سے نکل کر باہر نہ جاؤ جہاں وباء نہیں ہے تاکہ اس کے جراثیم تم ساتھ لے کر نہ جاؤ۔ اگر آپ کو یہ خبر پہنچے کہ یہ وباء پہلے سے کسی علاقے،ملک یا شہر میں موجود ہے اور آپ باہر ہیں تو پھر اس ملک یا شہر میں داخل نہ ہوں، ایک دوسری روایت میں امام مسلم نے یہ الفاظ بھی لکھے ہیں اگرکسی ایک علاقے میں یہ وباء آگئی ہے اور تم وہاں موجود ہو تو پھر اس علاقے کو چھوڑ کر نہ جاؤ ورنہ تم ان علاقوں تک بھی یہ وباء اپنے ساتھ لے جاؤ گے۔ حضور نبی اکرم ؐ نے متعدی امراض کے پھیلاؤ کی روک تھام کیلئے جو ہدایات اور گائیڈ لائن دے دی ہے اس پر سختی سے عمل کرنا ہم سب پر فرض اور لازم ہے۔

جواب لکھیں

%d bloggers like this: