...................... .................

فلم ڈائریکٹر نے ابتدا میں انتہائی بولڈ اور عریاں کردار دیئے

بولڈ پرفارمنس کی وجہ سے کیریئر کے آغاز میں ہی فلمی دنیا کے اعلیٰ ترین ایوارڈز کے لیے نامزد ہونے والی 34 سالہ ہولی وڈ اداکارہ اسکارلٹ جانسن نے اعتراف کیا ہے کہ انہیں ابتدا میں انتہائی بولڈ اور عریاں کردار دیے گئے۔

اسکارلٹ جانسن کو زندگی کا پہلا فلمی کردار ہی قدرے بولڈ دیا گیا تھا، ان کی پہلی فلم ’نارتھ‘ 1994 میں ریلیز ہوئی تھی اور اس وقت ان کی عمر 15 برس سے بھی کم تھی۔

اگرچہ اداکارہ کو اپنی پہلی فلم میں اتنا بولڈ نہیں دکھایا گیا تھا، تاہم انہیں آنے والی فلموں میں قدرے بولڈ کردار دیے گئے۔
اسکارلٹ جانسن نے جلد ہی فلم سازوں کی توجہ حاصل کرلی تھی اور انہیں شہرت 1996 میں ریلیز ہونے والی فلم ’فال‘ اور 1997 میں ریلیز ہونے والی فلم ’ہوم الون 3‘ سے ملی۔

دونوں فلموں کی شہرت کے بعد انہیں بولڈ کردار دیے جانے لگے اور انہوں نے 2003 میں ریلیز ہونے والی فلم ’لوسٹ ان ٹرانسلیشن‘ میں خود سے دگنی عمر کے مرد کے ساتھ رومانس کرتے دکھایا گیا۔

اسی سال اسکارلٹ جانسن کی فلم ’گرل ود پرل ایرنگس‘ بھی ریلیز ہوئی، جس میں انہیں ایک مرتبہ پھر خود سے بڑی عمر کے مرد کے ساتھ رومانس کرتے دکھایا گیا۔

نہ صرف کیریئر کے ابتدائی دور میں بلکہ اسکارلٹ جانسن اب بھی بولڈ کرداروں میں دکھائی دیتی ہیں، تاہم انہوں نے کیریئر کے آغاز میں ایسے کردار دیے جانے پر فلم سازوں کو قصور وار ٹھہرایا۔

اسکارلٹ جانسن نے حال ہی میں شوبز میگزین ’ہولی وڈ رپورٹر‘ کو دیگر ہولی وڈ اداکاراؤں جینیفر لوپیز، لپیتا نیانگو، لارا ڈیرن، رینی زلویگر اور آکوافینا کے ساتھ اپنے زندگی کے تجربات شیئر کرتے ہوئے اپنی پیشہ ورانہ زندگی پر کھل کر بات کی۔

اسی انٹرویو کے دوران دیگر اداکاراؤں نے بھی اپنے تجربات شیئر کیے اور ادھیڑ عمر جینیفر لوپیز نے انکشاف کیا کہ کیریئر کے آغاز میں ایک فلم ساز نے انہیں کمرے میں برہنہ ہونے کا کہا تھا۔

جینیفر لوپیز کے مطابق فلم کا کاسٹیوم ڈائریکٹر ان کے ’بریسٹ‘ دیکھنا چاہتا تھا، اسی لیے انہوں نے ان سے شرٹ اتارنے یا اوپر کرنے کو کہا تھا۔

اسی انٹرویو کے دوران جینیفر لوپیز کے علاوہ دیگر اداکاراؤں نے بھی اپنے تجربات شیئر کیے اور اسکارلٹ جانسن نے انکشاف کیا کہ انہیں بھی کیریئر کے آغاز میں حد سے زیادہ بولڈ کردار دیے گئے۔

اسکارلٹ جانسن کے مطابق چوں کہ اس وقت انہیں اداکاری سے متعلق اتنی خبر نہیں تھی اور خواتین کے لیے انڈسٹری میں آگے آنے کے لیے مواقع بھی کم تھے، اس لیے ان کے ساتھ ایسا کیا گیا۔

اداکارہ کا کہنا تھا کہ ان کی بلکل بھی یہ خواہش نہیں تھی کہ انہیں نسوانی یا جنسی طور پر اتنا بولڈ اور پرکشش دکھایا جائے کہ بعد میں انہیں مسائل کا سامنا کرنا پڑے۔

اسکارلٹ جانسن کا کہنا تھا کہ انہیں 20 سال کی عمر تک پہنچتے ہی فلم سازوں نے انتہائی بولڈ اور حد سے زیادہ رومانوی اور جنسی مناظر والے کردار دینا شروع کیے۔

اگرچہ اسکارلٹ جانسن نے کہا کہ انہیں ان کی مرضی کے بغیر حد سے زیادہ بولڈ کردار دیے گئے، تاہم انہوں نے ان کرداروں کے اپنی ذہنی صحت پر پڑنے والے اثرات کا ذکر نہیں کیا اور کہا کہ اس وقت شاید ایسے کردار خواتین کی ضرورت تھے۔

اداکارہ نے اپنے حد سے زیادہ بولڈ کرداروں کی وضاحت بھی نہیں کی لیکن بتایا کہ 20 سال کی عمر کو پہنچتے ہیں انہیں رومانوی اور جنسی مناظر والے کردار دیے جانے لگے۔

خیال رہے کہ اسکارلٹ جانسن نے اب تک 90 کے قریب فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے ہیں، وہ ہولی وڈ کی سب سے زیادہ کمائی کرنے والی اداکاراؤں میں بھی شمار ہوتی ہیں۔

شاندار اداکاری دکھانے پر وہ متعدد اعلیٰ فلمی ایوارڈ بھی اپنے نام کر چکی ہیں۔

جواب لکھیں