...................... .................

نواز شریف کو بیرون ملک جانے کی مشروط اجازت

حکومت نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کو بیرون ملک جانے کی اجازت دے دی۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے کہا کہ نوازشریف کو 4 ہفتوں کے لیے ایک بار بیرون ملک جانے کی مشروط اجازت دی ہے اور یہ فیصلہ نواز شریف کی صحت کی تشویش ناک صورت حال کے باعث کیا گیا ہے۔ نواز یا شہباز شریف کو 7 ارب روپے کے سیکیورٹی بانڈ جمع کرانا ہوں گے۔ کسی کو ایک مرتبہ اجازت دینے کا مقصد ای سی ایل سے مستقل نام نہیں نکالنا ہوتا، پہلے بھی کئی ملزمان کوایک وقت کی اجازت مل چکی ہے آج ہی اس کا اجازت نامہ جاری کردیا جائے گا۔
وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ حکومت کو کسی بھی سزایافتہ مجرم سے شورٹی اور سیکیورٹی بانڈ لینے کا حق حاصل ہے، نواز شریف کو شیورٹی بانڈ دینا ہوگا، حکومت شرائط کے ساتھ نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا فیصلہ جاری کرے گی، باقی ان کی مرضی ہے کہ وہ کیا فیصلہ کرتے ہیں۔ اگر وران علاج نعواز شریف کی طبیعت بہتر نہیں ہوتی تو انہیں ملنے والی مدت میں توسیع ہوسکتی ہے۔
اس موقع پر معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے کہا کہ نواز شریف کی ضمانت میں 6 ہفتے رہ گئے ہیں۔ وفاقی حکومت کی جانب سے ضمانت مانگنا سیاسی فائدے کے لیے نہیں بلکہ وفاقی حکومتی کی ذمہ داری بنتی ہے کہ نواز شریف سے ضمانت لے۔ ماضی میں کچھ لوگ بیرون ملک گئے اور واپس نہیں آئے، کیا ضمانت ہے کہ نواز شریف وطن واپس آئیں گے؟ ہم سے سوال ہوسکتا ہے کہ جانے کی اجازت دی تو کیا کوئی ضمانت بھی لی۔
گزشتہ روز وزیر قانون فروغ نسیم کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس ہوا تھا جوبے نتیجہ رہا، طویل اجلاس کے بعد بھی نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا فیصلہ نہیں ہوسکا تھا تاہم اس بارے میں کابینہ کی ذیلی کمیٹی کا آج اجلاس ہونا تھا جو کئی گھنٹے کی تاخیر سے شروع ہوا۔
بدھ کو کابینہ کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس وزیر قانون فروغ نسیم کی زیر صدارت دوبارہ ہوا جس میں معاون خصوصی شہزاد اکبر اور سیکریٹری داخلہ بھی شریک تھے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کا نام ای سی ایل سے باہر نکالنے کے لیے اجلاس میں سفارشات کو حتمی شکل دے دی گئی ہے جس کے بعد وزیر قانون فروغ نسیم نے وزیراعظم عمران خان کو اس بارے میں آگاہ کردیا ہے۔
اس دوران وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے معاملے پر مشاورت کی ہے جس میں معاون خصوصی شہزاد اکبر اور سیکرٹری داخلہ نے شرکت کی تھی، حتمی سفارشات تیار کرکے وزیراعظم عمران خان اور کابینہ کو بھیجیں گے، جو بھی فیصلہ ہوگا اس سے باقاعدہ آگاہ کریں گے۔
فروغ نسیم نے کہا تھا کہ نواز شریف کی رضامندی سے ہمارا فیصلہ مشروط نہیں ہو گا، جو فیصلہ ہوگا ہم دے دیں گے، نواز شریف کی میڈیکل رپورٹ کے مطابق ان کی صحت خراب ہے۔
دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کے نمائندے عطا تارڑ کا کہنا ہے کہ اجلاس میں فیصلہ لینے آیا تھا تاہم بتایا گیا کہ حکومت پریس کانفرنس میں فیصلے کا اعلان کرے گی، حکومتی فیصلے کا بعد مسلم لیگ (ن) اپنا آئندہ کے لائحہ عمل دے گی۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز وفاقی کابینہ نے نواز شریف کو علاج کے لیے بیرون ملک جانے کی مشروط اجازت دینے کی منظوری دی تھی تاہم سابق وزیراعظم نے حکومتی شرائط تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے بیرون ملک جانے سے انکار کردیا تھا۔

جواب لکھیں