...................... .................

فوج کے استفسار پر مولانا فضل الرحمن کا یو ٹرن

اداروں کے غیرجانبدار رہنے کے بیان سے متعلق فوج کے استفسار پر مولانا فضل الرحمن نے یو ٹرن لیتے ہوئے کہا ہے کہ ادارے ماضی میں مداخلت کر رہے تھے، اب نہیں کر رہے۔
ایچ ٹی وی پاکستان کے مطابق جمعیت علماءاسلام ف (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے اداروں کی جانبداری کے بیان پر یوٹرن لے لیا، کہتے ہیں کہ اداروں نے ماضی میں مداخلت کی ہے لیکن اب کوئی مداخلت نہیں کر رہے۔
ان سے سوال پوچھا گیا ’ادارے کہاں مداخلت کر رہے ہیں‘ اس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اداروں کی مداخلت اب نہیں پہلے تھی۔
یاد رہے کہ جوش خطابت میں مولانا نے کسی ادارے کا نام لئے بنا کہا تھا کہ میں اداروں سے بات کرنا چاہتا ہوں کہ ہمارے ادارے غیرجانبدار رہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم اپنے اداروں کو مضبوط اور غیرجانبدار دیکھنا چاہتے لیکن اگر اس حکومت کی پشت پر ہمارے ادارے ہیں تو پھر ہم اداروں کو دو دن کی مہلت دے رہے ہیں کہ اس پر بات کریں گے کہ ہم اداروں کے بارے میں اپنی کیا رائے رکھتے ہیں؟
مولانا فضل الرحمن نے یہ بھی کہا تھا کہ کسی ادارے کو عوام پر مسلط ہونے کا حق نہیں ہے۔
انہوں نے اپنے پرجوش خطاب میں کہا تھا کہ حکومت کو تو جانا ہی جانا ہے لیکن میں اداروں سے بات کرنا چاہتا ہوں کہ ہمارے ادارے غیر جانبدار رہیں۔
جوابا پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور نے واضح کیا کہ افواج پاکستان غیرجانبدار ادارہ اور منتخب جمہوری حکومت کے ساتھ ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی جمہوری حکومت ہو افواج پاکستان بطور ادارہ اس کو سپورٹ کرتا ہے۔
انہوں نے صاف الفاظ میں واضح کیا کہ ملکی امن کو کسی صورت نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور نہ ہی ملکی استحکام کو خراب ہونے دیا جائے گا۔
البتہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے فوج کا موقف سامنے رکھنے کے بعد مولانا سے استفسار کیا کہ وہ کس ادارے کی بات کر رہے ہیں؟
شاید مولانا کو اس قدر واضح اور 2 ٹوک جواب کی توقع نہیں تھی، لہذا مولانا نے یہ تو اب بھی ظاہر نہیں کیا کہ ان کا اشارہ کس ادارے کی جانب تھا تاہم فوج کے جمہوری حکومت کو سپورٹ کرنے کے واضح بیان کے بعد مولانا نے تاریخی یوٹرن لیتے ہوئے کہا کہ ادارے ماضی میں مداخلت کر رہے تھے، اب نہیں کر رہے۔
مولانا کے اس معصومانہ بیان پر اکثر مبصرین بس مسکرا کر رہ گئے۔

جواب لکھیں