...................... .................

اپوزیشن کا اسمبلیوں سے استعفےٰ اور دھرنے کی مخالفت

اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کے اجلاس میں اپوزیشن کی اکثر جماعتوں نے جمعیت علمائے اسلام کے پلان بی کی مخالفت کردی۔
ذرائع کے مطابق کنوینر اکرم درانی کی سربراہی میں ہونے والے رہبر کمیٹی کے اجلاس میں آزادی مارچ کے آئندہ کے لائحہ عمل پر پلان بی پیش کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق جے یو آئی کی قیادت نے دیگر اپوزیشن جماعتوں کے سامنے پلان بی پر بریفنگ دی اورتمام جماعتوں کو حکومت کو دیے گئے2 دن کےالٹی میٹم پر اعتماد میں لیا۔
ذرائع کے مطابق جے یو آئی کے پلان بی میں دھرنے کو طول دینا اور تمام اپوزیشن جماعتوں کے اسمبلیوں سے مستعفیٰ ہونے کے نکات شامل تھے۔
رہبر کمیٹی کے اجلاس میں پی پی،اے این پی اور ن لیگ نے طویل دھرنا دینے کی تجویز کی مخالفت کردی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پیپلزپارٹی، ن لیگ اور اے این پی نے پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں سے استعفوں کی بھی مخالفت کی ہے۔
فضل الرحمٰن کے خلاف عدالت جارہے ہیں، پرویز خٹک
دوسری طرف حکومت نے بھی فضل الرحمٰن کے خلاف عدالت میں جانے کا فیصلہ کیا ہے ۔
حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ پرویز خٹک کا کہنا ہے کہ ہم مولانا فضل الرحمٰن کے خلاف عدالت میں جارہے ہیں، اپوزیشن نے کل جو تقاریر کی ہیں ان پر بہت افسوس ہوا ہے ۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پرویز خٹک نے کہا کہ ہمارے دروازے اپوزیشن کے لیے کھلے ہیں ہم ان کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہیں ۔
پرویز خٹک نے کہا کہ اپوزیشن کے لوگ اگر دھمکی دیتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ یہ اپنی بات پر قائم نہیں ہیں اور زبان کے کچے ہیں۔
پرویز خٹک نے کہا کہ وزیر اعظم کے استعفےپر کوئی بات نہیں ہوگی کوئی اس کا سوچے بھی نہیں، ہم ان سے ڈبل ڈبل ووٹ لے کر اقتدار میں آئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارا اکرم دارنی سے رابطہ ہے، امید ہے یہ اپنے معاہدے پر رہیں گے، ورنہ انتظامیہ ایکشن لے گی۔
وزیر دفاع نے کہا کہ کوئی غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے، حکومت لاچار نہیں ہوتی، کوئی نقصان ہوا تو ذمہ داری ان پر آئے گی اور ملک میں جو کچھ بھی ہوگا وہ ان کے گلے پڑے گا ۔
پرویز خٹک نے کہا کہ انہوں نے اپنی تقریروں میں زیادہ تنقید اداروں پر کی ہے اپوزیشن کو ملک دشمنی نہیں کرنی چاہیے یہ سب کے ادارے ہيں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اتنا معمولی ملک نہیں کہ پچاس ہزار لوگ آکر تختہ الٹا دیں، اگر تیس چالیس ہزار لوگ آکر استعفٰی مانگیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ جمہوریت چل ہی نہیں سکتی۔

جواب لکھیں