...................... .................

'خواتین برابری کی بات کرتی ہیں تو مرد کا گینگ ریپ بھی کرلیں'

پاکستان کے نامور مصنف خلیل الرحمٰن قمر کا ڈراما ‘میرے پاس تم ہو’ اس وقت سوشل میڈیا پر بےحد مقبول ہورہا ہے۔
اس ڈرامے میں حمایوں سعید نے ایک محبت کرنے والے شوہر، عائزہ خان نے دھوکا دینے والی بیوی اور عدنان صدیقی نے ایک بزنس مین کا کردار نبھایا جو عائزہ خان سے تعلقات استوار کرتے ہیں۔
اس ڈرامے کو شائقین کو ملا جلا ردعمل موصول ہورہا ہے، جہاں اداکاروں کی اداکاری کو سراہا گیا وہیں متعدد افراد ڈرامے کی کہانی تحریر کرنے والے خلیل الرحمٰن کو خواتین کے لیے اس قسم کے کردار لکھنے پر تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔
اس حوالے سے خلیل الرحمٰن قمر نے ایک انٹرویو میں اس ڈرامے کے حوالے سے بات کرنے کے ساتھ ساتھ یہ بھی بتایا کہ ان کی کہانیوں میں خواتین کو اس قسم کے کردار کیوں دیے جاتے ہیں۔
خلیل الرحمٰن قمر کا کہنا تھا کہ ‘میرے پاس تم ہو، ایک نہیں بلکہ بہت سے مردوں کی کہانی ہے، میں نے ایسے کئی مردوں کو دیکھا ہے جن کے ساتھ ایسا ہوا’۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘میں نے دیکھا ہے کہ جب ایک عورت بےوفائی کرتی ہے تو آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرتی ہے، کیوں کہ اسے کسی دوسرے مرد کا سہارا ہوتا ہے، لیکن جب ایک شادی شدہ مرد بےوفائی کرتا ہے تو وہ نظریں جھکا کر بات کرتا ہے کیوں کہ اسے شرمندگی ہوتی ہے’۔
انہوں نے مزید کہا کہ ‘خواتین کو میرے پاس تم ہو ڈرامے پر تنقید نہیں کرنی چاہیے، کیوں کہ انہوں نے مل کر مردوں کو بھی بہت ذلیل کیا ہے’۔
مصنف کا مزید کہنا تھا کہ ‘میں ہر عورت کو عورت نہیں کہتا، میری نظر میں عورت کے پاس ایک خوبصورتی ہے اور وہ اس کی وفا اور حیا ہے اگر وہ نہیں تو میرے لیے وہ عورت ہی نہیں ہے’۔
ان کا یہ کہنا تھا کہ ‘مجھ سے بڑا فیمنسٹ پاکستان میں کوئی نہیں، لیکن میں صرف اچھی خواتین کو سپورٹ کرتا ہوں’۔
انہوں نے کہا کہ ‘ایک مرد جو اپنا سارا وقار اور سرمایہ اپنی بیوی کی مٹھی میں رکھ کر اس کے لیے کام کرنے باہر جاتا ہے، تو میں لعنت بھیجتا ہوں ایسی عورتوں پر جو شوہر کے جانے کے بعد اپنی مٹھی کو کھول لیتی ہیں’۔
خلیل الرحمٰن کے مطابق ‘میں نے فیمنسٹ خواتین کے ایک گروپ سے حال ہی میں برابری کے حوالے سے پوچھا کہ کیا آپ نے یہ خبر پڑھی ہے کہ پانچ مردوں نے ایک لڑکی کو اغوا کرلیا؟ تو انہوں نے کہا ہاں پڑھی ہے تو میں نے کہا یہ خبر پڑھی ہے کہ پانچ لڑکیوں نے مل کر ایک لڑکے کو اغوا کرلیا تو انہوں نے کہا نہیں، تو میں نے کہا کہ کیوں نہیں کیا پھر؟ برابری کی بات ہے تو پھر لڑکیاں اٹھا کر لے جائیں مردوں کو گینگ ریپ کریں ان کا، پھر بات ہو برابری کی اور پتا چلے کہ کون سی برابری مانگ رہی ہیں’۔
مصنف کے مطابق ایک مرد میں نہ کہنے کی صلاحیت نہیں البتہ اچھی خواتین نہ کہہ سکتی ہیں اور انہیں کہنا چاہیے۔
واضح رہے کہ میرے پاس تم ہو میں ہمایوں سعید کے کردار ‘دانش’ کا تعلق متوسط طبقے سے ہے جو اپنی کالج کی دوست ‘مہوش’ عائزہ خان سے شادی کرلیتے ہیں۔
عائزہ کا کردار ‘مہوش’ کو نہایت لالچی پیش کیا گیا ہے جو ہر صورت میں امیر ہونا چاہتی ہیں اور اس ہی نہیں عدنان صدیقی ‘شاہ وار’ کے دفتر میں نوکری کرتی ہیں۔
دوسری جانب شاہ وار اور مہوش کے درمیان تعلقات استوار ہوجاتے ہیں جس کے بعد مہوش اپنے شوہر دانش سے علیحدگی کی ڈیمانڈ کرتی ہیں۔
یہ ڈراما ہر ہفتے کی رات اے آر وائے ڈجیٹل پر نشر ہوتا، اب تک اس کی 11 اقساط سامنے آچکی ہیں۔
اس ڈرامے کی ہدایات ندیم بیگ دے رہے ہیں جبکہ پروڈکشن خود ہمایوں سعید نے کی ہے۔

جواب لکھیں