...................... .................

صدق و صفا، حصہ اول ۔۔۔ ڈاکٹر سلیم خان

حصہ اول
ڈاکٹر سلیم خان
……………………………………………………….
انتساب
میرے بیٹے اشرف اور بہو شمع کے نام جو میرے لیے عصائے موسیٰ اور ید بیضاء کی طرح ہیں
…………………………………
ریوتی کی سازش
جیکب کے بچپن کا دوست وجئے اپنی اہلیہ کنگنا کے ساتھ پہلی مرتبہ سیر و تفریح کے لیے متحدہ عرب امارات آیا ہوا تھا۔ اس دوران اتفاق سے جیکب اور ثناء کے شادی کی سالگرہ بھی آ گئی۔ جیکب نے اس موقع پر امارات کے پر فضا مقام راس الخیمہ میں ایک زبردست تقریب کا اہتمام کیا اور اس میں البرٹ اور سوژان کو بھی شرکت کی دعوت دی۔
وجئے تو اپنے رکھ رکھاؤ میں پوری طرح انگریز بن چکا تھا مگر کنگنا اپنے لباس اور چال ڈھال میں خالص ہندوستانی تھی اس لیے ثنا پروین سے فوراً دوستی ہو گئی اور دونوں برسوں پرانی سہیلیوں کی طرح گھل مل گئیں۔
ثنا نے کنگنا سے پوچھا سنا ہے وجئے کئی مرتبہ امارات آنے کا پروگرام بنا کر ملتوی کر چکا ہے آخر اس بار تم نے اسے کیسے راضی کر لیا؟
کنگنا بولی در اصل وجئے کا نروس بریک ڈاؤن ہو گیا تھا اور اسے اسپتال میں داخل کرنا پڑا۔ ڈاکٹروں نے رائے دی کہ صدمے سے نکلنے کے لیے کسی اور ماحول میں جانا ضروری ہے۔ ہم دونوں کا تعلق ہندوستان اور سری لنکا سے ضرور ہے لیکن ہماری پیدائش برطانیہ کی ہے اور بچپن وہیں گذرا ہے۔ جب ہم بہت چھوٹے تھے تو والدین ہمیں اپنے وطن لے جایا کرتے تھے لیکن جب بڑے ہوئے تو ان کا آنا جانا کم ہو چکا تھا اور ہمارا تو بند ہی ہو گیا۔ کبھی کسی ایمرجنسی کے سبب انہیں جانا بھی پڑتا تو ہمیں چھوڑ جاتے بلکہ ہاسٹل میں تو معلوم بھی نہیں ہوتا کہ وہ کب گئے اور کب آئے؟
ایمرجنسی کا مطلب میں نہیں سمجھی؟
وہی ناگزیر صورتحال کسی کی بیماری یا سگائی اور کسی کی موت یا شادی وغیرہ
تم بیماری کے ساتھ موت اور سگائی کے ساتھ شادی بھی تو بول سکتی تھیں؟
ہاں لیکن ترتیب سے کیا فرق پڑتا ہے ویسے بھی سگائی کے بعد انسان مرض الموت میں مبتلاء ہو جاتا ہے۔
بہت خوب اور شادی کے بعد اس کی موت واقع ہو جاتی ہے۔ آخر انسان برضا و رغبت اس بیماری کو پالتا کیوں ہے؟
تاکہ اس کی من مانی مراد یعنی اپنی پسند کی موت نصیب ہو جائے۔
لیکن کنگنا انسان مرنا نہیں چاہتا اس کے باوجود موت کو کیوں خوشی خوشی گلے لگاتا ہے؟
در اصل یہ ایک ایسی موت ہے بہن کہ اس پر سو زندگی قربان ہے۔ اس کا اندازہ مجھے اپنے ساس سسر کی وفات سے ہوا۔
کیا ان کے انتقال سے تم نے زندگی کا یہ اہم سبق سیکھا؟
جی ہاں اور ان کی موت نے ہی وجئے کا نروس بریک ڈاؤن کر دیا۔
اچھا تو کیا وہ اپنے والدین سے بہت زیادہ محبت کرتا تھا؟
جی نہیں اس نے اپنے والدین کو پوری طرح نظر انداز کر رکھا تھا۔ جب تک حیات تھے ان کی کوئی قدر نہیں کی لیکن جب گزر گئے تو وہ صدمے کے گہرے سمندر میں ایسا ڈوبا کہ ابھرنا مشکل ہو گیا۔ میں بھی طرح طرح کے اندیشوں میں مبتلا ہو گئی لیکن خدا شکر ہے کہ وہ آج زندہ اور صحتمند ہے ورنہ تو میرا جہان اجڑ جاتا۔
ثنا پروین کو کنگنا اور وجئے کی محبت پر رشک آ گیا وہ بولی وجئے کتنا خوش نصیب ہے جو اسے تم جیسی جان چھڑکنے والی شریک حیات مل گئی۔
لیکن کیا تمہیں پتہ ہے کہ میں ایسی نہیں تھی۔ ویسے تو ہماری شادی کو کئی سال گذر گئے اور ہم ساتھ بھی رہے لیکن جب مجھے وجئے نے اپنے والدین کی داستانِ حیات سنائی تو میرا دل دہل گیا اور میں بھی ٹوٹ کر محبت کرنے لگی۔
لیکن یہ ہوا کیسے؟
اسپتال سے جب وجئے واپس آ گیا تو میں نے اس کی پریشانی کاسبب پوچھا اور اس نے اپنی محرومی کہانی یعنی والدین کی آپ بیتی سنادی۔ اس دوران وجئے کئی بار بار رویا اور میں بھی اس کے ساتھ زار و قطار روتی رہی۔ جب یہ داستان ختم ہوئی تو میرے دل کی دنیا بدل چکی تھی۔
اگر ایسا ہے تمہیں وہ داستان مجھے اور سوژان کو بھی سنانی ہو گی۔
لیکن ممکن ہے اس چینی عورت کو اس میں دلچسپی نہ ہو؟
وہ چینی نہیں فلپینی ہے اور میں ہندی ہوں۔ ہماری جنس پہلے اور قوم بعد میں آتی ہے۔ ساری دنیا کی خواتین یکساں دلچسپیوں کی حامل ہوتی ہیں۔ ویسے کل یہ مرد حضرات مچھلی مارنے جا رہے ہیں۔ ہمارا کام ان کی واپسی کے بعد شروع ہو گا اور وہ لوگ جب جھک مار رہے ہوں گے ہم تمہارے ساس سسر کی سوانح حیات سنیں گے۔ دوسرے دن جب البرٹ، ڈیوڈ اور وجئے اپنی مہم پر نکل گئے تو یہ تینوں سہیلیاں ایک جگہ جمع ہو گئیں اور سوژان بولی کنگنا اب تم شروع ہو جاؤ۔ مجھے نانے تمہاری کل کی گفتگو سے آگاہ کر دیا ہے اور یقین کرو کہ میں اس کہانی کو جاننے کے لیے بہت زیادہ مشتاق ہوں۔
کنگنا بولی شکریہ در اصل میرے خسر کمارسنگے اپنی نوجوانی کے زمانے میں ایک سبزی کی دوکان پر کام کرتے تھے۔ سبزی کی دوکان راجن نامی ایک ملباری کی تھی۔ راجن جب خوشحال ہوا تو اس نے اپنی اہلیہ اور بچوں کو بھی برطانیہ بلوا لیا۔ اب اسے ایک گھریلو ملازم کی ضرورت تھی لیکن لندن میں گھریلو ملازم رکھنا عام آدمی کے بس کا روگ نہیں تھا اور نہ اب ہے۔ اس لئے راجن نے اپنی بیوی ریوتی کے مشورے سے ایک نئی ترکیب نکالی۔
کمار سنگے دن بھر دوکان میں کام کرتا اور رات میں اسی کے خستہ حال عقب میں سو جاتا تھا۔ کمار اپنے ایک دوست کے کہنے پر کسی طرح زائر کا ویزا لگا کر برطانیہ پہنچا تھا اور غیر قانونی طور پر وہاں رہائش پذیر تھا۔ راجن کو اس کی مجبوری کو احساس تھا اس لئے وہ خوب جم کر استحصال کرتا تھا۔
کمار جب بھی راجن کے گھر سبزی پہچانے جاتا دروازے سے ریوتی سامان لے کر اسے لوٹا دیتی تھی اندر جانے کی نوبت ہی نہ آتی۔ ایک دن کمار کو راجن نے اپنے گھر بلایا اور اس بار جب کمار نے دروازے پر دستک دی تو ریوتی نے دروازہ کھولا اور اسے اندر آ کر بیٹھنے کیلئے کہا۔ کمار کیلئے یہ حیرت کا جھٹکا تھا۔ وہ دیوان خانے میں ایک طرف دبک کر بیٹھ گیا۔ ریوتی نے چائے کی ایک پیالی اسے تھماتے ہوئے کہا راجن ابھی آ رہا ہے اور اندر چلی گئی۔
کمار کی سمجھ میں نہیں آیا تھا کہ اس عنایت خاص کی وجہ کیا ہے۔ وہ چائے کی پیالی کو ہاتھ میں لئے بے حس و حرکت خلاء میں گھور رہا تھا کہ راجن کی آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی۔ کیوں کمار کیا سوچ رہے ہو؟ چائے ٹھنڈی کر کے پیتے ہو کیا؟
راجن بولا جی نہیں جناب ۰۰۰۰۰۰۰۰ چائے؟ چائے ۰۰۰۰۰۰۰۰میں ۰۰۰۰۰۰نہیں ۰۰۰۰۰۰ پتہ؟
راجن مسکرا کر بولا عجیب بات ہے؟ تم سری لنکن لوگ ساری دنیا کو چائے پلاتے ہو اور خود نہیں پیتے؟ یہ تو غلط بات ہے۔
کمار نے کہا جی نہیں جناب۔ کولمبو میں جب میں رہتا تھا تو خوب چائے پیتا تھا لیکن یہاں آنے کے بعد میں نے چائے پینا چھوڑ دی ہے۔
راجن نے پوچھا کیوں بھئی یہاں کی چائے تمہیں پسند نہیں ہے کیا؟
ایسی بات بھی نہیں ہے جناب چائے تو وہی ہے جو سری لنکا میں ہوتی تھی اور چینی اور دودھ میں کوئی فرق نہیں ہے مگر۰۰۰۰۰۰۰۰
راجن نے پوچھا مگر کیا؟ جب سب وہی ہے تو رکاوٹ کیا ہے؟
کمار کچھ دیر خاموش رہا اور پھر بولا اس کی قیمت ہے۔ ہم لوگ جس قیمت میں اسے سری لنکا میں بیچتے ہیں اس سے کچھ زیادہ قیمت میں وہاں خرید کر استعمال کرتے ہیں لیکن یہاں آنے کے بعد تو وہ کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔
راجن بولا لیکن یہاں آمدنی بھی تو روپیوں کے بجائے پاؤنڈ ہوتی ہے؟ ایک پاؤنڈ کے ڈیڑھ سو سری لنکن روپئے بنتے ہیں۔
کمار نے کہا وہ تو درست ہے صاحب لیکن ہم جیسوں کو کتنے پاؤنڈ ملتے ہیں اور اس میں سے بچا کر اپنے گھر والوں کو بھی تو بھیجنا پڑتا ہے۔
راجن نے پوچھا تمہارے گھر میں کون کون ہے؟
ایک بوڑھی ماں ہے اور ایک بیوی۰۰۰۰۰۰۰۰
بال بچے نہیں ہیں تمہارے؟
ایک بچہ ہے وجئے جسے چار مہینے کا چھوڑ کر میں یہاں آ گیا تھا اب دو سال کا ہو گیا ہے۔ اس کی شکل دیکھنے کوترس رہا ہوں۔
تم نے اپنے گھر والوں کو یہاں بلانے کا نہیں سوچا؟
کمار پہلی بار راجن کے سامنے مسکرایا اور بولا جناب آپ تو جانتے ہیں کہ میرے ویزے کی مدت ایک سال پہلے ختم ہو چکی ہے۔ میں خود یہاں غیر قانونی طور پر قیام پذیر ہوں نہ جانے کب پولس مجھے گرفتار کر کے واپس بھیج دے اور آپ کہہ رہے ہیں کہ۰۰۰۰
اور اگر میں تمہارا کفیل بن کر تمہارے نام باقاعدہ ویزا نکلوا دوں تو؟
کمار ہنس کر بولا میں پاگل ہو جاؤں گا۔
یہ کیا بات ہوئی؟ میں سمجھا نہیں۔
جناب آپ نے نہیں سنا کہ لوگ خوشی سے پاگل ہو جاتے ہیں؟ ایسا ہی کچھ میرے ساتھ بھی ہو جائے گا۔
میں تمہارے ساتھ مذاق نہیں کر رہا ہوں۔ تمہارے کام اور ایمانداری سے میں بہت خوش ہوں اس لئے سوچتا ہوں کہ تمہیں باقاعدہ اپنی دوکان کے ویزے پر بلوا لوں لیکن میری ایک شرط ہے؟
کمار مسکرا کر بولا مجھے پتہ ہے صاحب! میں جانتا ہوں؟
راجن کے حیرت کی انتہا نہیں رہی اس نے سوچا کہیں بے وقوف ریوتی نے اسے سارا منصوبہ بتا تو نہیں دیا لیکن ریوتی ایسا نہیں کر سکتی۔ وہ اس کی نہایت فرمانبردار اور وفا شعار بیوی جو تھی۔ اس نے سوال کیا تم کیسے جانتے ہو کمار۔ تم کہیں نجومی تو نہیں ہو؟
یہ جاننے کیلئے کسی کو جیوتش ودیّا کی کیا ضرورت؟ مجھے پتہ ہے آپ میرے ساتھ دل لگی کر رہے ہیں۔ آپ ایک ایسی شرط لگائیں گے جسے میں پورا نہیں کر سکوں گا اور پھر اسی حالت میں رہوں گا۔ گھٹ گھٹ کر جیوں گا۔ ایک دن چپ چاپ مر جاؤں گا۔
راجن نے سکون کا سانس لے کر پوچھا تم ایسا کیوں سوچتے ہو کمار؟
اس لئے کہ اس میں آپ کا کوئی فائدہ نہیں ہے اور آپ جیسا سمجھدار آدمی کوئی بے سود کام کر ہی نہیں سکتا بلکہ اس میں آپ کا سیدھا سیدھا نقصان ہے اور اپنا بلاوجہ نقصان بھلا کون کرتا ہے؟
سوال فائدے یا نقصان کا نہیں انسانی ہمدردی کا ہے۔
لیکن جناب شرائط و ضوابط تو تجارت میں ہوتے ہیں انسانیت میں نہیں۔
راجن نے سوچا یہ کمار ایسا احمق بھی نہیں کہ جیسا وہ خیال کرتا تھا۔ اس نے محتاط ہو کر کہا دیکھو کمار میں نے اپنی پیشکش کر دی اب تمہاری مرضی؟
کمار کی چائے ختم ہو چکی تھی وہ شکریہ ادا کر کے دروازے کی جانب بڑھا لیکن پھر اسے راجن کی شرط والی بات یاد آ گئی۔ اس نے مڑ کر پیچھے دیکھا تو راجن اس کی جانب سوالیہ نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔ وہ واپس آ گیا اور بولا جناب وہ آپ کی شرط؟
بیٹھ جاؤ کمار! میری شرط یہ ہے کہ تم اپنی اہلیہ اور بچے کو بھی یہاں بلاؤ گے؟
کمار بولا مجھے پتہ تھا صاحب مجھے پتہ تھا۔ مجھ جیسا مزدور آدمی جس کے اپنے رہنے کا ٹھکانہ نہیں ہے وہ اپنے بیوی بچوں کو بلا کر کہاں رکھے گا؟ میں سمجھ گیا نہ نو من تیل ہو گا اور نہ رادھا ناچے گی۔
راجن بولا دیکھو کمار اس مسئلہ پر میں نے ریوتی سے بات کر لی ہے جب تمہاری بیوی یہاں آ جائے گی تو وہ اس گھر کے عقب میں موجود ملازمین کے کوٹھری میں رہے گی۔ تم دونوں عارضی طور پر وہیں ٹک جانا پھر اس کے بعد تمہاری قسمت۔
لیکن خاندان کے ساتھ اخراجات بھی تو بڑھ جائیں گے؟
کمار تم یہ نہ بھولو کہ تمہاری بیوی چندریکا ایک منہ مگر دو ہاتھ لے کر آئے گی۔ جس طرح تم میری مدد کرتے ہو وہ ریوتی کا تعاون کرے گی اور آمدنی دوگنی ہو جائے گی۔ کمار یہ سن کر سوچ میں پڑ گیا۔ راجن نے بات آگے بڑھائی اب کیا سوچ رہے ہو کمار؟
میں اپنی ماں کے بارے میں سوچ رہا ہوں؟ میرے علاوہ اس کا اس دنیا میں کوئی نہیں ہے اگر چندریکا بھی یہاں آ جائے گی تو اس کی دیکھ بھال کون کرے گا؟ اس عمر میں اس کا کیا ہو گا؟
راجن نے سوچا آسمان سے گرا تو کھجور میں اٹکا۔ وہ بولا دیکھو کمار تم تو جانتے ہی ہو یہاں رہائش سب سے بڑا خرچ ہے۔ میرے اس چھوٹے سے گھر میں تین لوگوں کی گنجائش نہیں ہے اور پھر تمہارا بیٹا بھی دیکھتے دیکھتے بڑا ہو جائے گا۔ تم ایسا کرو کہ اپنی بیوی اور ماں سے بات کر کے دیکھو۔ مجھے یقین ہے کہ وہ دونوں تیار ہو جائیں گے اور کوئی متبادل انتظام بھی ہو جائے گا۔
مجھے نہیں لگتا۔ یہ بہت مشکل ہے۔
بہر حال تم بات تو کر کے دیکھو اس میں حرج کیا ہے؟
میں سوچوں گا۔ یہ کہہ کر کمار لوٹ آیا لیکن وہ اپنے آپ کو اس سنگدلی کیلئے تیار نہیں کر پایا۔ اس نے اپنی بیوی کو اپنے پاس بلانے کا خیال دل سے نکال دیا۔ ایک دن جب راجن نے استفسار کیا تو وہ بولا جناب میں نے آپ سے کہا تھا یہ مشکل ہے۔ اپنی ماں کی خدمت نہ کرنے کا قلق ویسے ہی میرے لئے سوہانِ جان ہے۔ ریوتی اس احساسِ جرم میں کسی قدر کمی کر دیتی ہے۔ میں اس میں مزید اضافہ نہیں چاہتا۔
راجن کو کمار کے رویہ پر حیرت تھی اس لئے کہ وہ دنیا کے سارے لوگوں کو اپنی مانند خودغرض سمجھتا تھا۔ راجن کے نزدیک یہ سراسر حماقت تھی اس کے باوجود منافقانہ ہمدردی جتاتے ہوئے وہ بولا راجو میں تمہاری مشکل سمجھتا ہوں۔ اس لئے کہ میں بھی تمہاری طرح اپنے والدین کو چھوڑ کر کسی زمانے میں لندن آیا تھا۔ اگر تمہیں بات کرنے میں کوئی دقت ہو تو اور تم مناسب سمجھو تو اپنی اہلیہ کا فون نمبر مجھے دے دو۔
(چونک کر) آپ اس نمبر کو لے کر کیا کریں گے؟
میں وہ نمبر ریوتی کو دے دوں گا۔ یہ اسی کی تجویز ہے۔ وہ تمہاری اہلیہ اور والدہ دونوں سے بات کر کے انہیں سمجھائے گی اور مجھے یقین ہے کہ کامیاب ہو جائے گی۔
اس یقین کی وجہ؟
در اصل بات یہ ہے کہ عورتوں کو کوئی بات سمجھانا ہم جیسے مردوں کے بس کا روگ نہیں۔ ہم جب انہیں کوئی بات سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں تو الٹا وہ ہمیں اپنے دام میں پھنسا لیتی ہیں لیکن میرا طویل تجربہ شاہد ہے کہ وہ ایک دوسرے کو بہ آسانی سمجھا لیتی ہیں۔ اس لئے ایک کوشش کر کے دیکھنے میں کیا حرج ہے؟
لیکن اگر خدا نخواستہ بات بگڑ جائے تو کیا ہو گا؟ میں اپنی ماں کو کسی صورت ناراض نہیں کرنا چاہتا۔ میری روزی روٹی کا یہ سلسلہ میری ماں کی دعاؤں کی بدولت ہے اور جس دن وہ ناراض ہو جائے گی سارا کچھ برباد ہو جائے گا۔ مجھے بہت ڈر لگتا ہے۔
میں سمجھتا ہوں لیکن اس میں خطرہ بہت کم ہے۔ اگر کوئی اونچ نیچ ہو جائے تو اپنی ماں سے کہہ دینا کہ ریوتی نے اپنے طور پر بات چلا دی اور تم خود اس سے اتفاق نہیں کرتے، تم اپنی ماں کے سامنے ریوتی کو برا بھلا کہو گے تو اس بڑھیا کا غصہ کافور ہو جائے گا اس لئے ایک کوشش کر کے دیکھ لینے میں حرج نہیں ہے۔
راجن کمار کو اپنی مکاری کے دام میں پھنسانے میں کامیاب ہو گیا۔ ریوتی نے بڑی آسانی سے کمار کی ماں کو اس کی اولاد کے روشن مستقبل کی دہائی دے کر راضی کر لیا۔ وہ چندریکا اور وجئے کو لندن روانہ کرنے پر آمادہ ہو گئی۔ کمار کو کچھ کرنا ہی نہیں پڑا۔ اس کی ماں نے الٹا کمار کو تجویز پر پس و پیش کیلئے ڈانٹا اور اپنے ایک غریب بھانجے کو گود لے لیا۔ کمار اپنی ماں کے طفیل اس کا سر پرست بن گیا۔ اس فیصلے سے نہ صرف کمار کی ماں کو ایک سہارا مل گیا بلکہ اس کے بھانجے کیلئے بھی تعلیم کا بندوبست ہو گیا۔
کمار کی خالہ کو یقین تھا کہ اب بہن کے گھر کا وارث اس کا بیٹا ہی ہو گا اس لئے کہ کمار تو لوٹ کر آئے گا نہیں اور اگر کمار اس خدمت کے عوض بہن کی موت کے بعد اس کے بیٹے کو لندن بلوا لے تو تب تو سونے پر سہاگہ۔
٭٭٭
ونود کا افسانہ
راجن اور ریوتی کی سازش کامیاب رہی۔ چندریکا کی شکل میں انہیں گھر کے اندر کام کرنے والی ایک نہایت سستی ملازمہ میسر آ گئی لیکن چندریکا کے طفیل اسی کے شوہر کمار کا ویزا بن گیا اور بیٹے راجن کی تعلیم کا انتظام ہو گیا۔ چندریکا چونکہ ریوتی کی بہت احسانمند تھی اس لئے دل لگا کر خدمت کرتی تھی۔ وہ بیچاری نہیں جانتی کہ اس کا کس پیمانے پر استحصال ہو رہا ہے۔
راجن نے کمار اور چندریکا کے ساتھ جو کیا سو کیا لیکن ان کے بیٹے وجئے کے حق میں ایک بہترین فیصلہ کر دیا۔ اس نے وجئے کا داخلہ اپنے بیٹے سنجے کے اسکول میں کروا دیا۔ وہ اپنے آپ کو سمجھانے کیلئے وجئے کی فیس بھی کمار کی تنخواہ میں شمار کیا کرتا تھا لیکن اس نے یہ راز کمار یا چندریکا پر افشاء نہیں کیا تھا۔ گردشِ ایام نے راجن، ریوتی، کمار اور چندریکا کو بوڑھا کر دیا۔ وجئے اور سنجے جوان ہو گئے۔ گوں ناگوں وجوہات کی بناء پر کمار کو اس کی ماں کے موت اطلاع بہت تاخیر سے دی گئی۔ کمار کے لیے اب سری لنکا آنے کی نہ کوئی وجہ تھی اور نہ ضرورت۔ صبر کا گھونٹ پی کر اس نے اپنا گھر خالہ کو ہبہ کر دیا۔
تعلیم کے میدان میں وجئے کو سنجے پر واضح فوقیت حاصل تھی۔ اسے بہت جلد اسکول میں وظیفہ ملنے لگا جس سے راجن کا بوجھ ہلکا ہو گیا اور اس نے کمار کی تنخواہ میں معمولی اضافہ کر دیا۔ اسکول کے بعد وجئے کو امتیازی کامیابی کے سبب انجینیرنگ کالج میں داخلہ مل گیا اور سنجے اپنے باپ کا کاروبار سنبھال کر اسے ترقی دینے لگا۔ اس نے سب سے پہلے اپنی دوکان کا نام راجن ویجن سے بدل کر فریش اینڈ مور رکھ دیا۔
اس علاقہ میں چونکہ غیر انگریز آباد تھے اس لئے دوکان کے نام کا ترجمہ پہلے اردو اور ہندی میں ’’تازہ اور زیادہ ‘‘ کیا لیکن آگے چل ہر ایشیائی زبان میں وہ نام مشہور ہو گیا۔ اس دوکان پر چینی و کوریائی زبان میں بھی نام کی تختی لگی ہوئی تھی۔ اس طرح راجن کے زمانے دوکان سے دور رہنے والے لوگ بھی قریب آ گئے تھے۔
سنجے نے دوکان میں سبزی کے ساتھ پھلوں کا اضافہ کر دیا۔ ہر موسم کے خاص پھل وہ ہند و پاک سے براہِ راست منگوانے لگا۔ ہندوستان اور پاکستان سے آنے والے بھانت بھانت کے آم کی قسموں نے تو ہنگامہ مچا دیا۔ سنجے ان کامیابیوں سے مطمئن ہو کر بیٹھنے والوں میں سے نہیں تھا۔ اس نے اپنے پڑوس والی جوتے کی دوکان کرائے پر لے کر اس میں فریش اینڈ مور کے نام سے مچھلی کو دوکان کھول دی۔ وہ دوکان مچھلی کے بڑے بڑے سردخانوں اور کاٹنے و صفائی کے جدید آلات سے آراستہ تھی۔ بیچنے والے کے تن پر سفید صاف ستھرا یونیفارم، سر پر ٹوپی اور ہاتھوں میں دستانے ہوتے تھے۔ فریش اینڈ مور بہت جلد حفظانِ صحت کیلئے مشہور ہو گئی۔ وہ اعلیٰ درجے کے متوسط طبقے کو اپنی جانب متوجہ کرنے میں کامیاب ہو چکا تھا۔
اول تو دوکان کا نام بدل جانا راجن کو گراں گذرا تھا۔ برسوں سے قائم کئے گئے تشخص کا یکسر مٹ جانا اس کو ناگوار تھا لیکن ریوتی کے سمجھانے بجھانے پر اس نے وہ صدمہ برداشت کر لیا۔ مچھلی والے معاملے میں ریوتی خود بھی سنجے سے ناراض ہو گئی۔ ریوتی تمل ناڈو کی اینگر براہمن تھی۔ اس نے راجن سے اس شرط پر شادی کی تھی کہ زندگی بھر اس کے باورچی خانے میں گوشت مچھلی کا گزر نہیں ہو گا۔ راجن کو گھر کے باہر اپنی مرضی سے کھانے پینے کی اجازت تھی لیکن وہ احمق ریوتی کے عشق میں ایسا گرفتار ہوا کہ باہر بھی گوشت اور مچھلی کو چھونے سے توبہ کر لی۔ وقت کے ساتھ راجن بھی اینگر جیسا بن چکا تھا۔
راجن نے اپنے آپ کو مصروف رکھنے کے لیے اس نے سنجے سے الگ ہو کر پاس کے محلے میں پھر سے راجن ویجن نامی سبزی کی دوکان کھول لی اور کمار کو اپنے ساتھ لے گیا۔ زمانے کی گردش نے اپنے محور کے گرد ایک چکر پورا کر لیا تھا۔ کسی زمانے میں راجن نے ایک پرانی دوکان کرائے پر لے کر نیا کاروبار شروع کیا تھا اور اب اس نے ایک نئی دوکان کرائے پرلے کر پرانے کاروبار کا آغاز نو کیا۔ اس وقت بھی راجن کے ساتھ کمار تھا اس وقت بھی وہ دونوں ایک ساتھ تھے لیکن اس دوران تھیمس ندی کے اندر بہت سارا پانی بہہ چکا تھا۔ جو پانی بہہ گیا تھا وہ لوٹ کر نہیں آ سکتا تھا اسی طرح عمر کا جو حصہ ان لوگوں نے گزار دیا تھا اس کا واپس آنا نا ممکن تھا۔ راجن اور کمار اس صورتحال سے خوش نہیں تھے لیکن مجبور تھے۔ زندگی کی کشتی کو آگے بڑھانے کے علاوہ ان کے پاس کوئی اور متبادل نہیں تھا۔ وہ دونوں وقت کے دھارے پر بے یار و مدد گار تنکوں کی مانند بہے جا رہے تھے۔
سنجے اور اجئے کی کیفیت اپنے والدین سے یکسر مختلف بلکہ متضاد تھی۔ وہ دونوں وقت کے دھارے کے ساتھ نبرد آزما تھے اس کی سمت اور رفتار کو اپنے قابو میں کرنا چاہتے تھے۔ سنجے کیلئے پرانی ساخت کا کمار بے مصرف تھا اس کے باوجود اس کو ملازمت سے نکالنے کی اخلاقی جرأت اس کے اندر نہیں تھی۔ سنجے کو کمار کے راجن کے ساتھ چلے جانے کا ذرہ برابر قلق نہیں تھا بلکہ خوشی تھی کہ کمار سے چھٹکارہ مل گیا۔
بچپن سے سنجے نے کمار کو اپنے گھر کے فرد کی طرح دیکھا تھا۔ سنجے نے جتنا وقت ریوتی کی گود میں گزارہ تھا اس سے کم وقت چندریکا کے پہلو میں نہیں گزارہ تھا۔ وجئے اور سنجے دونوں ریوتی اور چندریکا کو ممی کہہ کر پکارتے تھے۔ ویسے راجن اور کمار کو وہ پاپا یا انکل کہتے تھے۔ وقت تیزی کے ساتھ گزر رہا تھا۔ فریش مور کے ساتھ وجئے بھی تعلیم ختم کر کے مائکرو سوفٹ کی لندن شاخ کا ایک ہونہار انجینیر بن چکا تھا۔
وجئے کا منیجر پنجاب کے رہنے والے ونود کھنہ تھے۔ ان کی بیٹی کنگنا کھنہ کالج میں وجئے کے ساتھ پڑھتی تھی۔ ان دونوں کے درمیان ملک و قوم اور زبان و تہذیب کا فرق ضرور تھا مگر مزاج میں بلا کی یکسانیت تھی۔ کنگنا کی سفارش پر ونود کھنہ نے وجئے کو ملازمت پر رکھا تھا۔ ونود کھنہ کی خصوصی توجہ اور اپنی محنت و جانفشانی کے ساتھ بہت جلد وجئے کا شمار کمپنی کے سب سے ہونہار ملازمین میں ہونے لگا۔ ونود کھنہ اس کو ایسے اہداف دیتا جو سہل الحصول ہوتے اور پھر اس کی کامیابیوں کا خوب چرچا اور تشہیر ہوتی۔ اس حکمت عملی کے سبب وجئے بڑی تیزی کے ساتھ اپنے ہمعصروں کو پچھاڑتا ہوا ترقی کی منازل طے کر رہا تھا اور دیکھتے دیکھتے وہ پروجکٹ منیجر کے عہدے پر فائز ہو گیا۔
ایک دن کھنہ صاحب نے وجئے کو اپنے کمرے میں بلایا۔ وجئے نے سوچا کہ شاید کسی نئے پروجکٹ کے سلسلے میں یاد فرمائی ہوئی ہے لیکن جب کھنہ صاحب نے کہا وجئے ذرا دروازہ بند کر دو تو وہ چونک پڑا اس لئے کہ کھنہ صاحب کھلے دربار کے قائل تھے۔ ان کے دفتر میں آنے سے لے کر واپس جانے تک دروازے کو بند ہونا نصیب نہ ہوتا تھا۔ ان سے ملنے کے خواہشمند لوگ جب دیکھتے کہ وہ کسی کے ساتھ بات کر رہے ہیں تو از خود لوٹ جاتے بلکہ اگر کوئی نہایت ضروری کام ہوتا تو درمیان میں ہی معذرت طلب کر کے خلل بھی ڈال دیتے تھے۔ کھنہ صاحب ان باتوں کا برا نہیں مانتے تھے۔
دروازے کو بند کرتے ہوئے وجئے نے دفتر پر نظر دالی تو اکثر و بیشتر لوگ جا چکے تھے۔ دوچار لوگ اپنی میز پر جلدی جلدی کام نمٹا رہے تھے تاکہ رفو چکر ہو سکیں۔
کھنہ کے سامنے بیٹھ کر وجئے بولا فرمائیے؟ آپ نے آج بڑی تاخیر سے یاد کیا؟
جی ہاں ایک تاخیر سے متعلق گفتگو کرنی تھی اس لئے اس وقت کا انتخاب کیا۔
وجئے اپنے سارے کاموں کا جائزہ لینے لگا۔ اتفاق سے اس کے سارے کام قابو کے اندر تھے یعنی مدت عمل میں پورے ہو رہے تھے بلکہ ان میں سے کچھ کے قبل از وقت پورا ہو جانے کا امکان تھا۔ دو روز پہلے وہ اپنی ہفتہ وار رپورٹ میں اہداف کا جائزہ پیش کر چکا تھا اور اس پر کوئی منفی تبصرہ موصول نہیں ہوا تھا۔ سارے متعلقین اس کی رفتار کار سے مطمئن تھے۔ وجئے نے سوال کیا آپ کا مطلب میں نہیں سمجھا؟
کھنہ صاحب بولے وجئے تم اپنے سارے کام تو اپنے وقت پر کر دیتے ہو لیکن ایسا لگتا ہے کہ ایک اہم کام کو بلاوجہ متاخر کر رہے ہو۔
کس اہم کام کی بات آپ کر رہے ہیں؟
کھنہ صاحب بولے دیکھو وجئے میں کنگنا کے پہلے جنم دن کے ایک ہفتہ بعد پروجکٹ منیجر بنا تھا جبکہ تمہیں پروجکٹ منیجر بننے کے بعد ایک ہفتہ گزر چکا ہے۔ اس کے باوجود۰۰۰تم سمجھ رہے ہو کہ۰۰۰۰۰۰۰ میں کیا کہنا چاہتا ہوں۔
کھنہ صاحب نے بڑی حکمت کے ساتھ شادی اور کنگنا دونوں کا ذکر ایک ساتھ کر دیا تھا حالانکہ اس کا حقیقت سے کوئی دور کا بھی واسطہ نہیں تھا۔ ونود کھنہ کو وجئے کی مانند کوئی گاڈ فادر میسر نہیں آیا تھا۔ جس وقت اسے پروجکٹ منیجر کا عہدہ ملا تھا کنگنا پانچویں کلاس کا امتحان دے چکی تھی لیکن اس سے کیا فرق پڑتا تھا یہ پرانے وقتوں کی باتیں تھیں۔ کسی کے پاس نہ اس کی تحقیق و تفتیش کیلئے فرصت تھی اور نہ ضرورت خیر۔
وجئے نے اپنے آپ کو سنبھال کر کہا جی ہاں کھنہ صاحب آپ کی بات درست ہے لیکن شادی کیلئے صرف ملازمت اور عہدہ ہی تو کافی نہیں ہے۔
جی ہاں مجھے پتہ ہے سب سے زیادہ اہمیت زوج کی ہوتی ہے۔ کیا تم نے اس بابت کوئی پیش قدمی نہیں کی؟
وجئے کو کنگنا نے تو یہ بتا رکھا تھا کہ کھنہ صاحب کو ان کے بیاہ پر کوئی اعتراض نہیں ہے پھر بھی وہ کنگنا کا نام اپنی زبان پر لانے کی جرأت نہیں کر سکا۔ بات بنانے کیلئے بولا کھنہ صاحب آپ کی بات درست ہے شادی تو زن و شو کے رشتے سے ہو جاتی ہے لیکن پھر ان لوگوں کو ساتھ رہنے کیلئے ایک گھر کی ضرورت بھی پیش آتی ہے۔ آپ تو جانتے ہی ہیں کہ لندن میں گھر کا مسئلہ کس قدر سنگین ہے؟
کھنہ مسکرا کر بولے دیکھو وجئے میرا تو یہ ماننا ہے کہ دنیا کا کوئی مسئلہ ایسا نہیں ہے کہ جس کا حل موجود نہ ہو۔ یہ اور بات ہے کہ انسان اس کو جانتا نہ ہو یا اس کی جانب قدم بڑھانے کی جرأت اس کے اندر نہ ہو۔
جی ہاں میں آپ سے پوری طرح اتفاق کرتا ہوں اور تسلیم کرتا ہوں کہ میرا شمار پہلی قسم کے لوگوں میں ہے جو کہ حل نہیں جانتے۔
لیکن میں جانتا ہوں۔
کھنہ صاحب کے اس جواب سے وجئے چونک پڑا۔ وہ سوچنے لگا کہ کہیں کھنہ صاحب اسے گھر داماد تو بنانا نہیں چاہتے۔ اول تو کسی کا گھر داماد بننا وہ اپنی عزت نفس کے خلاف سمجھتا تھا اور دوسرے اس کے والدین بھی تھے۔ اپنے والدین کے ساتھ کھنہ صاحب کے گھر میں جا کر رہنا نا ممکن تھا۔ اس نے کہا کھنہ صاحب آپ کا شکریہ لیکن شاید یہ حل اس قدر سہل بھی نہیں۔
کھنہ صاحب کا زوردار قہقہہ بلند ہوا اور وہ بولے برخوردار لگتا ہے اب تم پہلے زمرے سے دوسرے زمرے میں شامل ہو گئے ہو میرا مطلب ہے جرأت کا فقدان والے لوگوں میں۔
جی نہیں ایسی بات نہیں ویسے تو میں جرأت مند آدمی ہوں پھر بھی۔
پھر بھی ڈر لگتا ہے ہاں؟ دیکھو تم نے حل جانے بغیر اس پر قیاس آرائی شروع کر دی۔ یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ تمہارا اندازہ غلط ہو؟
وجئے کو اپنی غلطی کا احساس ہو گیا وہ بولا جی ہاں ممکن ہے جلد بازی میں ۰۰۰۰۰
جی ہاں انسان ویسے بھی جلد باز واقع ہوا ہے اور اس عمر میں تو کچھ زیادہ ہی خیر۰۰۰۰۰۰مجھے پتہ ہے اس لئے کہ ایک زمانے میں ۰۰۰۰۰میں بھی
وجئے نے کہا جی ہاں جب کنگنا پہلی کلاس میں رہی ہو گی۔
وجئے کی زبان پر پہلی مرتبہ کنگنا کا نام آیا تھا۔ وہ کھنہ صاحب کے چہرے پر ظاہر ہونے والے تاثرات کو بغور دیکھ رہا تھا۔ وہ جاننا چاہتا تھا کہ کہیں کھنہ صاحب اس رشتے سے ناراض تو نہیں ہیں۔ ورنہ چھوکری کے ساتھ ساتھ نوکری کے بھی ہاتھ سے نکل جانے کا خطرہ تھا اور اگر اچھی خاصی نوکری ہاتھ سے نکل جاتی تو چھوکری کا نکل جانا تقریباً طے تھا۔ وجئے نے دیکھا کھنہ صاحب پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوا۔
وہ بولے جی نہیں وجئے کنگنا کی پہلی کلاس نہیں بلکہ میرے کالج کی آخری کلاس کا زمانہ تھا جب کنگنا کی ہونے والی ماں نے مجھ سے پوچھا تھا ونود کہیں کالج سے رشتہ توڑ لینے کے بعد تم مجھے بھی تو نہیں بھول جاؤ گے۔
کھنہ صاحب نے ایک نیا افسانہ چھیڑ دیا۔ کھنہ صاحب کی بیوی تو اسکول کے آخری امتحان میں فیل ہو چکی تھا۔ وہ تو ان کے والدین نے دونوں کا رشتہ طے کیا اور شادی ہو گئی۔
وجئے کیلئے کھنہ صاحب کی بات ماننے کے سوا کوئی چارۂ کار نہیں تھا۔ وہ بولا جی ہاں تو آپ نے کنگنا کی ماں سے کیا کہا؟
کھنہ صاحب بگڑ کر بولے تم کیا بکتے ہو۔ میں اس وقت برطانیہ میں نہیں بلکہ ہندوستان میں تھا۔ اس دور میں تو کوئی برطانیہ میں بھی یہ سوچ نہیں سکتا تھا کہ شادی سے پہلے ہی کوئی کسی بچے کی ماں یا باپ بن جائے۔ یہ تو نئے زمانے کی مغربی خرافات ہے۔ یقین کرو آج بھی ہندوستان میں اسے بہت معیوب سمجھا جاتا ہے۔
سچ تو یہ ہے کہ کھنہ صاحب کے وجئے پر بہت زیادہ خوش ہونے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ کنگنا کے ساتھ اس قدر قدیم تعلقات کے باوجود ان لوگوں نے اپنے آپ کو حدود و قیود کا پابند بنا رکھا تھا ورنہ وہ اپنے دوستوں کے کئی ایسے بچوں سے واقف تھے جو اس کا پاس و لحاظ نہیں رکھ پانے کے سبب خوار ہو چکے تھے۔ خیر اس میں ان کا کم اور ماحول کا قصور زیادہ تھا اس کے باوجود رسوائی تو رسوائی تھی۔
وجئے نے معذرت چاہتے ہوئے کہا جناب آپ بہت دور نکل گئے میں اپنی غلطی کی معافی چاہتا ہوں۔ مجھے کہنا چاہئے تھا کہ کنگنا کی ہونے والی ممی یا میری آنٹی نے کیا جواب دیا تھا۔
کھنہ صاحب نے اپنی کہانی آگے بڑھائی اور بولے میں نے کہا میری جان میں نے کالج میں جو کچھ پڑھا ہے وہ سب بھول سکتا ہوں لیکن تمہیں نہیں بھول سکتا اور ہوا بھی یہی کہ اگر آج کوئی مجھ سے پوچھے کہ میں نے دہلی کے دین دیال کالج میں کیا کیا پڑھا تھا تو مجھے کچھ بھی یاد نہیں لیکن کنگنا کی ممی! اس کی ایک ایک ادا اب بھی میرے قلب و ذہن کے نہاں خانے میں نقش ہے۔
یہ سن کر تو آنٹی خوش ہو گئی ہوں گی۔
جی نہیں وہ کنگنا کی مانند نہایت ذہین عورت تھی۔ میرے اس جواب کو سن کر وہ غمزدہ ہو گئی اور سوال کیا۔ صرف مجھے یاد ہی کرتے رہو گے کہ کچھ اور بھی کرو گے؟
کہانی دلچسپ موڑ میں داخل ہو گئی تھی وجئے نے پوچھا پھر کیا ہوا؟
کھنہ صاحب بولے ہونا کیا تھا؟ میں نے موقع غنیمت جان کر کہہ دیا کہ میری جان میں تو آج تمہارے ساتھ سات کیا دس پھیرے لگانے کیلئے تیار ہوں لیکن پھر اس کے بعد تمہارے گھر والے تمہیں اپنے گھر سے نکال دیں گے اور میرے گھر میں ہمارے لئے جگہ نہیں ہے اس لئے رہیں گے کہاں؟ بالکل وہی سوال جو تم آج کر رہے ہو میں نے بھی کر دیا تھا۔
وجئے سمجھ گیا اب کھنہ صاحب اس کے مسئلے کا حل بتایا چاہتے ہیں۔ اس نے سوال کیا اچھا تو آنٹی جی نے کیا کہا۔
کھنہ صاحب بولے اس وقت آنٹی تھوڑی نہ تھی۔ پھر بھی وہ بیچاری کیا کہتی اس نے ایک بھارتیہ ناری کی طرح لجا شرما کر کہا آپ میرے پتا شری سے بات کریں۔ وہ ضرور اس سمسیا کا سمادھان کر دیں گے۔ ان کا شمار شہر کے امیر کبیر لوگوں میں ہوتا ہے۔
وجئے نے سوال کیا پھر کیا ہوا؟
کھنہ صاحب کے اندر کا داستان گو جوان ہو چکا تھا وہ بولے میں نے کہا یہی تو سب سے بڑا مسئلہ ہے کہ وہ شہر کے رئیس آدمی ہیں اور میں ایک غریب طالبعلم ہوں۔ میں ان سے بات کرنے کی ہمت کیسے کر سکتا ہوں؟
وجئے نے سوچا یہ تو فلمی کہانی بن رہی ہے پھر بھی اس نے پوچھا تو آپ کو آنٹی جی نے کیا جواب دیا؟
وہ بولی آپ جو بھی ہیں لیکن میں بھی تو ایری غیری نتھو خیری نہیں ہوں۔ میں سیٹھ دینا ناتھ اگروال کی اکلوتی کنیا بھان متی ہوں۔
مجھے پتہ ہے۔ یہ کہہ کر میں کالج سے نکل کر سیدھے سیٹھ جی کی آڑھت پر پہنچ گیا۔ دوپہر کے وقت سیٹھ جی اکیلے بیٹھے تھے میں نے ڈرتے ڈرتے اپنا مدعا بیان کر دیا تو پتہ چلا بھان متی یعنی تمہاری آنٹی نے انہیں پہلے ہی تیار کر رکھا ہے۔ انہوں نے مجھے اپنے ایک خالی مکان کا پتہ دیا اور کہا کہ میں اسے ایک بار دیکھ لوں۔ اگر پسند ہو تو اسے تیار کروا دیا جائے اور مکان کی تیاری کے دوران کنیا دان کی تیاری بھی کر لی جائے۔
اس وقت سے پہلے میں بھان متی کا عاشق تھا لیکن اس کے بعد میں اس کا بندۂ بے دام ہو گیا اور اب بھی وہی حال ہے۔ ویسے میرا بھی ایک خالی مکان شہر کے مضافات میں ہے اگر تم مناسب سمجھو تو اسے دیکھ سکتے ہو۔
اس کی کیا ضرورت؟ اگر کنگنا کو پسند ہے تو مجھے کنگنا کی ہر پسند لازماً پسند ہے۔
ویسے تو تمہاری یہ بات سمجھداری کی ہے پھر بھی میری رائے ہے کہ تم ایک بار کنگنا کے ساتھ جا کر اس گھر کو دیکھ لو تاکہ آگے چل کر کوئی بدمزگی نہ ہو۔
کھنہ صاحب نے من گھڑت کہانی کی مدد سے اپنی بات نہایت سلیقہ سے کہہ دی تھی۔ وجئے ان کا شکریہ ادا کر کے باہر آیا اور کنگنا کو فون پر ساری تفصیل بتا دی۔ کنگنا کو حیرت نہیں ہوئی تھی۔ اس لیے کہ سب کچھ حسب توقع و منشاء ہو رہا تھا۔
وجئے کے پسند والے جملے نے کنگنا کو خوش کر دیا۔ اس نے سوال کیا تو کب چلیں گے؟
وجئے بولا جب تم کہو۔ میں تو ابھی بھی تیار ہوں۔
کنگنا بولی ایسی بھی کیا جلدی ہے؟ کل شام پانچ بجے مڈویسٹ ریلوے اسٹیشن پر آ جانا۔ وہیں سے ساتھ چلے چلیں گے۔
اس رات وجئے اور کنگنا بالکل نہیں سوئے۔ دونوں اپنے مستقبل کے نت نئے خواب سجاتے رہے لیکن ان کے درمیان خاصہ فرق تھا۔
٭٭٭
کنگنا کا گھر
وجئے اور کنگنا وقت مقر رہ پر مڈویسٹ اسٹیشن پر موجود اسٹار بکس نامی کافی ہاوس میں ملے۔ دونوں نے اپنی اپنی پسند کی کافی بنوائی اور کاغذ کے گلاس لے کر چل دیئے۔ ان کے ہاتھوں میں مختلف قسم کی کافی تھی یہ دیکھ کر کنگنا کو وجئے کا وہ جملہ یاد آیا جو اس نے کھنہ صاحب سے کہا۔ ’’کنگنا کی ہر پسند، لازماً میری پسند‘‘ ہے۔ کنگنا نے سوچا یہ سب کہنے سننے کی باتیں ہیں۔ ان کا حقیقت سے کیا تعلق ہے؟ حقیقت پسندی کا تقاضہ یہی ہے کہ انہیں نظر انداز کر دیا جائے۔ اس کے والد ونود کھنہ نے بھی گھر کو دیکھ لینے پر اصرار کر کے یہی کیا تھا۔
دونوں باپ بیٹی نہایت معقولیت پسند تھے اور بھان متی وہ تو کنگنا کی ماں تھی۔ ونود کھنہ کو حقیقت پسند بنانے کا سہرہ اسی کے سر تھا ورنہ کسی زمانے ونود بھی وجئے کی طرح جذباتی نوجوان تھا۔ بھان متی نے اپنے وقت میں جو سلوک ونود کے ساتھ کیا تھا اب اس کی بیٹی کنگنا وجئے کے ساتھ وہی سب کر رہی تھی۔ کال چکر اپنی متعینہ رفتار سے گھوم رہا تھا۔
ریلوے اسٹیشن کے آس پاس بہت ساری دوکانیں تھیں۔ مسافروں کی چہل پہل اور بسوں اور کاروں کی آمدورفت جاری تھی لیکن کچھ دور ساتھ چلنے کے بعد ماحول بدل گیا۔ اب ایک وسیع و عریض باغ کے ساتھ لگی فٹ پاتھ پر وہ دونوں رواں دواں تھے۔ ہوا کی سرسراہٹ اور پرندوں کی چہچہاہٹ تو تھی لیکن دور دور تک نہ آدم تھانہ آدم زاد۔
وجئے بولا اس علاقہ میں عجب ویرانی سی ویرانی ہے کنگنا۔
ہے بھی اور نہیں بھی۔
یہ کیا بات ہوئی؟ یا تو ہے یا نہیں ہے۔ دونوں بیک وقت کیسے ہو سکتے ہیں؟
کنگنا بولی کیوں نہیں ہو سکتے؟ بالکل ہو سکتے ہیں۔
وجئے کی سمجھ میں یہ منطق نہیں آئی وہ بیزار ہو کر بولا ویسے ہونے کو تو کچھ بھی ہو سکتا ہے لیکن ہوتا نہیں ہے۔
تم اس بات کو بہت دور لے گئے۔ ویرانی در اصل ایک احساس ہے جسے ناپنے کا کوئی پیمانہ تو ہے نہیں کہ تول کر بتا یا جا سکے کہ جناب یہ چار سو گرام کدو ہے۔
وجئے کو اپنے والد کمار سنگے کا خیال آیا جو دن بھر ناپ تول اور لین دین میں مصروف رہا کرتے تھے۔ اس کو محسوس ہوا کہ کنگنا اس کے والد کا مذاق اڑا رہی ہے۔ وہ بولا تمہیں اس معاملے میں میرے والد کو نہیں گھسیٹنا چاہئے۔
کنگنا نے حیرت سے پوچھا، میں نے تمہارے والد کے بارے میں کیا کہا؟
وہی ناپ تول والی بات!
یہی تو میں کہہ رہی تھی کہ ایک کیفیت کا مختلف احساس ہو سکتا ہے اور وہ متضاد بھی ہو سکتا ہے۔ ناپ تول کی مثال کے دوران مجھے تمہارے والد کا خیال تک نہیں گذرا لیکن تم نے اسے ان سے جوڑ دیا۔
تو کیا میں نے غلط کیا؟
یہ کس نے کہا۔ میں تو کہتی ہوں کہ یہ اختلاف فطری ہے۔ جو اس ماحول میں رہنے کا عادی نہ ہو اس کیلئے یہ ویرانی ہے اور جو اس کا عادی ہو اس کیلئے وہ چہل پہل جو ہم پیچھے چھوڑ آئے ہیں شور شرابہ ہے۔ اب ہمیں پیچھے کے بجائے آگے بڑھنا ہو گا۔
میں تمہاری بات نہیں سمجھا کنگنا؟
در اصل میں یہ کہنا چاہتی تھی کہ ہمیں اپنے آپ کو حالات کا عادی بنانا ہو گا۔ اس مصالحت کے بعد ہمیں یہ ویرانی اچھی لگنے لگی۔
اور وہ گہما گہمی؟
کنگنا بولی دیکھو وجئے دو افراد کیلئے ایک ہی کیفیت کا احساس کا مختلف ضرور ہو سکتا ہے لیکن ایک فرد ایک وقت میں ایک احساس رکھتا ہے وہ بیک وقت متضاد محسوسات کے ساتھ نہیں جی سکتا۔
اور اگر وقت بدل جائے؟
احساس بدل بھی سکتا ہے۔ نہیں بھی۔ میں تو یہی کہہ رہی ہوں کہ وقت کے ساتھ ہمیں اپنے آپ کو برضا و رغبت بدل لینا چاہئے ورنہ ۰۰۰۰۰۰
ورنہ کیا ہو گا؟
ورنہ گردش ایام کا جبر ہمیں بزور قوت بدل کر رکھ دے گا۔
وجئے کو ایسا محسوس ہوا گویا کنگنا اسے دھمکی دے رہی ہے۔ یہ گردش ایام کوئی اور نہیں خود کنگنا کھنہ ہے۔ وہ بولا لیکن اگر کوئی اس جبر کے آگے سپر ڈالنے سے انکار کر دے تو اس کا کیا ہو گا؟
بغاوت کرنے والوں کو گردش زمانہ اپنے قدموں تلے بڑی بے دردی سے روند دیتا ہے وجئے۔ اس لئے کبھی اس کا خیال بھی اپنے دل میں نہ لانا۔
وجئے کیلئے اب دھمکی بہت ہی واضح ہو گئی تھی۔ وہ ڈر گیا۔ زندگی کے اس خوشگوار موڑ پر وہ کچلے جانے کا تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔ وجئے بولا کنگنا یہ تمہارا گھر دنیا کے کس کنارے پر ہے کہ ہماری باتیں ختم ہو گئیں لیکن راستہ ختم نہیں ہوا۔
کنگنا ہنس کر بولی وہ میرا گھر نہیں ہے بلکہ میرے والد ونود کھنہ کا مکان ہے۔
وہی میرا مطلب جو ان کا ہے وہ تمہارا ہے۔
جی نہیں وجئے جو ان کا ہے وہ ان کا ہے اور جو ہمارا ہو گا وہی ہمارا۔
تو کیا ہمارا کچھ نہیں ہے؟
یہ کس نے کہا۔ میں تمہاری ہوں ۰۰۰۰۰تم میرے ہو ۰۰۰۰۰ہم دونوں ایک دوسرے کے ہیں۔
لیکن وہ گھر جسے دیکھنے کیلئے ہم لوگوں نے رختِ سفر باندھا ہے؟
وہ گھر! وہ گھر بھی ہمارا ہو سکتا ہے اگر میرے والد اور تمہارے ہونے والے ۰۰۰۰۰۰۰۰تم سمجھ گئے یا نہیں؟
جی ہاں ہمارے نام کر دیں۔ میں نے تم سے گھر کا محل وقوع پوچھا تو تم نے ملکیت کا قصہ چھیڑ دیا۔ میں تو صرف یہ جاننا چاہتا تھا کہ کیا کبھی ہم اپنی منزل تک پہنچیں گے بھی یا یوں ہی راستے میں مٹر گشتی کرتے رہ جائیں گے؟
دیکھو وجئے تم جانتے ہی ہو میری منزل وہ گھر نہیں بلکہ ۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰ ۰
وجئے بولا ہاں بابا سمجھ گیا وہی پرانی بات میری منزل تم ہو، تمہاری منزل میں ہوں اور ہم دونوں ایک دوسرے کی ۰۰۰۰۰۰
کنگنا ہنس کر بولی یار وجئے تم غصہ ہوتے ہو نا تو مجھے بہت اچھے لگتے ہو مگر ۰۰۰
مگر کیا؟
مگر یہ کہ تم بہت کم غصہ ہوتے ہو۔
تو کیا تم چاہتی ہو کہ میں ہمیشہ غصے میں رہوں؟
جی نہیں میں تو چاہتی ہوں کہ تم کبھی بھی غصے میں نہ آؤ۔
سمجھ گیا وجئے شوخی سے بولا تم نہیں چاہتیں کہ میں تمہیں بہت اچھا لگوں۔
یہ کس نے کہا؟
تم نے ہی تو ابھی ابھی کہا تھا کہ ۰۰۰۰۰۰۰
میں نے یہ تو نہیں کہا تھا کہ جب تم غصہ ہوتے ہو تبھی بہت اچھے لگتے ہو۔
اچھا تو کیا کہا تھا؟
یہی کہ غصے میں تو بہت اچھے لگتے ہی ہو لیکن ویسے بھی اچھے لگتے ہوا کیونک ہ۰۰۰
میں نہیں سمجھا؟
اس لئے کہ تم بہت اچھے ہو؟
کہیں یہ تمہارا وہ احساس تو نہیں ہے جو غلط بھی ہو سکتا ہے؟
مجھے اس کے درست یا غلط ہونے کی پرواہ نہیں۔ بس اچھے لگتے ہو تو لگتے ہو۔ میں اس سے زیادہ کچھ نہیں جانتی اور نہ جاننا چاہتی ہوں۔
وجئے بولا لیکن کنگنا تم نے یہ بھی کہا تھا کہ وقت کے ساتھ۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰ ۰
وجئے کیا تم ان ساری باتوں کو بھول نہیں سکتے جو میں نے تم سے کہی تھیں؟
یہ کیا کہہ رہی ہو کنگنا۔ اب تم یہ کہہ دو گی کہ ان باتوں کے ساتھ مجھے بھی بھول جاؤ۔ یہ تو نا ممکن ہے۔
یہ کس نے کہا؟ میں تو بس یہ کہہ رہی تھی کہ ۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
ہمیں چلتے چلتے آدھے گھنٹے کا وقت گزر چکا ہے۔ اس دوران تم نے بہت کچھ کہا لیکن وہ گھر کہاں ہے ۰۰۰۰۰۰وجئے الفاظ کے استعمال میں محتاط ہو گیا تھا۔ یہ کنگنا کی صحبت کا اثر تھا کہ وہ اس کے مکالمے میں سے کسی نہ کسی غیر ضروری لفظ کوپکڑ کر بات کو کسی اور سمت موڑ دیتی تھی۔
وہ گھر۰۰۰۰۰۰وجئے وہ تو بہت پیچھے چھوٹ گیا۔
ارے یہ کیا حماقت ہے۔ ہم جس کام کیلئے یہاں آئے تھے اس کو بھول کر دیگر مباحث میں ایسے الجھے کہ اپنے مقصد سے غافل ہو گئے۔
یہ کس نے کہا؟
ہر بات کا کہنا ضروری تو نہیں ہوتا۔ یہ حقیقت اظہر من الشمس ہے۔
چلو مان لیا۔ اب میرے ایک سوال کا جواب دو۔
وہ کیا؟
در اصل ہم لوگ نصف نہیں بلکہ ایک گھنٹے سے اس علاقے میں گھوم رہے ہیں۔ کیا اس دوران تمہیں ویرانی کا احساس ہوا؟
اس سوال نے وجئے کو چونکا دیا۔ وہ کچھ دیر خلاء میں دیکھتا رہا۔ خلاء نہ صرف اس کے سر پر آسمان میں تھا بلکہ چہار جانب پھیلا ہو تھا۔ اس کے دماغ میں بھی ایک بہت بڑا خلاء رونما ہو گیا تھا۔ اس کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سلب ہو چکی تھی۔
اس کے کانوں سے کنگنا کی آواز ٹکرائی۔ کس سوچ میں گم ہو گئے ہو وجئے؟ تم میرے سوال کا جواب کیوں نہیں دیتے؟ کھنہ صاحب تو کہتے ہیں تم بہت حاضر جواب ہو؟ میرے سوال کا جواب دو وجئے۔
میرے چاروں طرف ایک مہیب خلاء ہے کنگنا۔ وہ میرے اندر بھی داخل ہو گیا ہے۔ میں اندر ہی اندر کھوکھلا ہو گیا ہوں۔ میرا دماغ شل ہو گیا ہے۔ میں سوچ نہیں سکتا۔ میں تنہا ہو گیا ہوں۔ میرے پاس تمہارے سوال کا جواب نہیں ہے۔ میں خلاء میں ہوں۔
کنگنا کو ایسا لگا کہ گویا وجئے پر کوئی دیوانگی کا دورہ پڑا ہے۔ وہ بولی تم اپنے دل میں جھانک کر دیکھو ممکن ہے تمہاری تنہائی دور ہو جائے۔
جی ہاں، جی ہاں کنگنا تم سے سچ کہا وہاں خلاء نہیں ہے۔
تو کیا ہے؟
وہاں تم ہو کنگنا تم۔ میں بھی کیسا احمق انسان ہوں۔ میں اپنی تنہائی کو دور کرنے کی خاطر نہ جانے کہاں کہاں مارا پھرا لیکن ویرانی نے میرا پیچھا نہیں چھوڑا لیکن جب اپنے دل میں جھانک کر دیکھا تو دنیا بدل گئی۔ سب کچھ بدل گیا۔ اب ویرانی کا نام و نشان نہیں ہے۔ رونق ہی رونق۔ ہر طرف مختلف رنگوں کی شمعیں روشن ہیں اور ان سب پر ایک ہی نام لکھا ہے۔
مجھے پتہ ہے وجئے کہ ان پر کس کا نام لکھا تھا۔ وہ دیکھو ان مکانوں کے سلسلے میں درمیانی مکان ہمارا ہے۔
لیکن تم نے تو کہا تھا کہ ہم آگے نکل آئے ہیں۔ ابھی ہم پیچھے مڑے بھی نہیں اور اپنے گھر پر پہنچ گئے یہ کیسے ہو گیا؟
یہ دنیا گول ہے وجئے۔ اس میں اگر انسان اپنے ناک کی سیدھ میں بے تکان چلتا چلا جائے تو وہیں پہنچ جاتا ہے جہاں سے چلا تھا۔ کسی مقام پر لوٹ کر آنے کیلئے پیچھے مڑ کر واپس آنا ضروری نہیں ہے۔
تو پھر لوگ پیچھے کیوں مڑ جاتے ہیں؟
اس لئے کہ وہ آسان ہوتا ہے۔ لوگوں کی سہل پسندی ان سے یہ بزدلانہ حرکت کرواتی ہے لیکن اگر وہ صبر واستقامت کے ساتھ اپنا سفرجاری رکھیں تو کھوئی ہوئی منزلیں بھی دوبارہ آن کر ان کے قدم چوم لیتی ہیں۔
تو کیا پیچھے مڑ جانے والوں کے ساتھ یہ نہیں ہوتا؟
جی نہیں اکثر ان کے ساتھ ایسا نہیں ہوتا اس لئے کہ ان کی تلونّ مزاجی انہیں تذبذب کا شکار کر دیتی ہے اور وہ راستہ بھٹک جاتے ہیں۔ گم گشتہ راہ ہو جاتے ہیں۔
اگر ایسا ہے تو ہمیں مزید وقت ضائع کئے بغیر اپنی منزل میں قدم رکھ دینا چاہئے کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم یہیں کھڑے کے کھڑے رہ جائیں اور منزل ہماری آنکھوں سے اوجھل ہو جائے؟
یہ کیوں کر ممکن ہے وجئے؟
میں نے پڑھا ہے زمین گھومتی ہے اس لئے لازماً اس پر رہنے بسنے والی ہر چیز محو گردش رہتی ہے۔
یہ تو میں نے بھی پڑھا ہے لیکن اگر دو اشیاء ایک رفتار سے ایک ہی سمت میں سرگرم سفر ہوں تو وہ دونوں ایک دوسرے کیلئے ساکت ہو جاتے ہیں۔
حالانکہ ساکت نہیں ہوتے۔ وہی احساس والی بات جو تم نے کہی تھی لیکن میں نے یہ بھی سنا ہے منزلیں بھی چلتی ہیں اور راستے بھی چلتے ہیں۔
کنگنا مسکرا کر بولی میں نے یہ سب نہیں سنا۔ میں تو یہ جانتی ہوں کہ مسافر چلتے ہیں آؤ چلو ہم اپنے گھر میں چلتے ہیں۔
٭٭٭
لکشمی کا الّو
لندن کے مضافات میں واقع مڈویسٹ ایک نیم غیر آباد مسکین انگریزوں کا محلہ تھا۔ اس میں مختلف سڑکوں کے اطراف ایک دوسرے سے متصل مکانات کے طویل سلسلے تھے جسے ’رو ہاوس‘ کہا جاتا تھا۔ ویسے فارسی زبان میں تو یہ مناسب حال نام تھا مگر اردو میں اس کے ساتھ رونا دھونا وابستہ ہو گیا تھا۔ مکان کے اندر آ کر وجئے نے دیکھا کہ اس میں ایک کمرہ اور ایک باورچی خانہ ہے جس کے ساتھ ایک حمام لگا ہوا ہے۔ اسے دیکھ کر وجئے کے منھ سے نکلا اتنا چھوٹا؟
کنگنا بولی جب میں یہاں اپنے والد صاحب کے ساتھ آئی تھی تو میں نے بھی یہی سوال کیا تھا۔
اچھا تو ان کا جواب کیا تھا؟
انہوں نے بتایا کہ یہ نصف مکان ہے۔ پہلے پہل یہ دوگنا ہوا کرتا تھا لیکن اس وقت گھروں کی قیمت کم تھی اس لئے بک جایا کرتا تھا۔ بعد میں جب لندن کی آبادی میں اضافہ ہو گیا۔ ریل گاڑیوں اور بسوں میں بھیڑ بھاڑ ہونے لگی سڑکوں پر ٹرافک بڑھ گیا تو خوشحال لوگ یہاں کوچ کرنے لگے۔ اس دوران گھر مہنگے بھی ہو گئے تھے اس لئے متوسط طبقہ کے جو لوگ یہاں آنا چاہتے ان کیلئے مشکل تھی۔ اس مسئلہ کا حل مکان کو دو حصوں میں تقسیم کر کے نکالا گیا تا کہ اسے گاہکوں کی قوت خرید کے مطابق کر دیا جائے۔
وہ تو ٹھیک ہے لیکن اس میں ہم دونوں کے علاوہ کوئی اور تو رہ نہیں سکتا۔
کنگنا مسکرا کر بولی ہمارے علاوہ کسی کو یہاں رہنا بھی کب ہے؟
وجئے نے پوچھا کیا مطلب؟
میں تمہارا مطلب سمجھتی ہوں۔ تم بہت دور کی سوچتے ہو۔ جب ہمارے درمیان کوئی تیسرا آئے گا اور وہ ہوش سنبھالے گا تب تک کھنہ صاحب ملازمت سے سبکدوش ہو چکے ہوں گے اور ان کی جگہ تم جنرل منیجر بن چکے ہو گے اور تم تو جانتے ہی ہو کہ جنرل منیجر کمپنی کے مکان میں رہتا ہے جیسے کہ تمہارے کھنہ صاحب رہتے ہیں۔
وجئے کو کنگنا کی خود اعتمادی نے خوش کر دیا وہ حیرت سے بولا لیکن میری جان اگر ہم لوگ کھنہ صاحب کے مکان میں پہنچ جائیں گے تو وہ کہاں جائیں گے؟
وجئے کا یہ سوال نہایت نامعقول تھا ا سے کم از کم کھنہ صاحب کی بیٹی سے یہ نہیں پوچھنا چاہئے تھا لیکن اب تو تیر کمان سے نکل چکا تھا۔ اسے حیرت ہوئی کہ کنگنا پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوا وہ اٹھلا کر بولی او ہو وجئے تم واقعی بہت سوچتے ہو۔ وہ اس مکان میں منتقل ہو جائیں گے۔ جب وہ جنرل منیجر نہیں تھے تو اس مکان میں رہتے تھے اور جب وہ جنرل منیجر نہیں ہوں گے تو پھر اسی مکان میں رہیں گے اس میں حیرت کی کیا بات ہے؟
وجئے نے سوچا یہ کنگنا کمال سنگدل عورت ہے۔ اس پر تو کوئی زہر سے بجھا تیر بھی اثر انداز نہیں ہوتا۔ خیر وہ جیسی بھی تھی وجئے کو اچھی لگتی تھی۔ اس نے پوچھا لیکن میرے والدین یہاں کیسے رہیں گے؟
تمہارے والدین؟ ان کا کیا مسئلہ ہے؟ کیا انہیں اپنا مکان خالی کرنا ہے؟
جی نہیں ایسی بات نہیں۔
پھر کیا بات ہے؟
بات یہ ہے کہ میں ان کے ساتھ رہتا ہوں نا؟
ہاں وہ تو مجھے پتہ ہے۔ تمہارے کم ہو جانے سے ان کا گھر اور کشادہ ہو جائے گا۔
میں ان کی اولاد ہوں کنگنا! یہ تم کیسی باتیں کر رہی ہو؟
دیکھو وجئے رشتے دار ہو یا کرایہ دار جب وہ آتا ہے تو تنگی بڑھ جاتی ہے اور جب جاتا ہے تو کشادگی میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ ابھی ابھی تو تم نے کہا تھا کہ جب ہمارے بچے بڑے ہو جائیں گے تو یہ مکان تنگ ہو جائے گا۔
وجئے سوچنے لگا کہ اس نے یہ بات کب کہی تھی؟ کنگنا نے کہے بغیر ہی سب سمجھ لیا اور اب وہ اس کو وجئے سے منسوب کرنے لگی تھی۔ وجئے بولا اولاد کے آنے سے اگر والدین تنگ ہوتے ہیں تو وہ ان کے خواب کیوں سجاتے ہیں؟
میں نے والدین کے تنگ ہونے کی بات نہیں کہی وجئے بلکہ گھرکی وسعت کا ذکر کیا اور کوئی مانے یا نہ مانے یہ ایک حقیقت ہے۔
اگر یہ بات درست بھی ہے تو میں انہیں تنہا چھوڑ کر یہاں کیسے آ سکتا ہوں؟
ویسے ہی جیسے میں اپنے والدین کو تنہا چھوڑ کر یہاں آ جاؤں گی۔
لیکن میں جب ان کے ساتھ رہتا ہوں تو مختلف کاموں ان کا ہاتھ بٹاتا ہوں۔
ہاں ہاں تو اس میں کیا پریشانی ہے تم یہاں رہو گے تو میرا ہاتھ بٹاؤ گے۔
وہ تو ٹھیک ہے لیکن میرے یہاں آ جانے سے انہیں دقت بھی تو ہو سکتی ہے؟
کیوں نہیں، لیکن یہ تو ان کا مقدر ہے۔ تم یقین کرو تم سے کہیں زیادہ میں گھر پر رہتی ہوں اور اپنی ماں کا ہاتھ بٹاتی ہوں۔ اس کے باوجود میری ماں کا اصرار ہے کہ ہم لوگ یہاں آ کر رہیں۔ اب تمہیں اندر کی بات بتاتی ہوں۔ تم تو جانتے ہی ہو کہ تمہارے کھنہ صاحب کی سرکاری کوٹھی خاصی کشادہ ہے۔ اس میں تین خوابگاہیں، ایک دیوان خانہ اور باورچی خانے کے علاوہ دو حمام ہیں۔ ملازمین کیلئے بھی دو کمرے بھی ہیں اور میرے والد چاہتے تھے کہ شادی کے بعد تم اسی گھر میں آن بسو اس لئے کہ میرا نہ کوئی بھائی ہے نہ بہن۔
اچھا! وجئے نے حیرت سے کہا
جی ہاں لیکن میری ماں بھان متی نے اس تجویز کو مسترد کر دیا اور یہ حقیقت ہے کہ گھر کے اندر وزیر اعظم سے زیادہ وزیر داخلہ کی چلتی ہے۔
وجئے بولا جی ہاں میڈم جانتا ہوں لیکن اب یہ بتا دو کہ تمہاری ممی نے کہا کیا؟
انہوں نے وہی کہا جو ہو رہا ہے۔ اس گھر کو آباد کرنے کا فرمان جاری کر دیا۔
اور کھنہ صاحب نے سرِ تسلیم خم کر دیا۔
جی نہیں وہ بھی تمہاری طرح کندۂ نا تراش ہیں اس لئے انہوں نے وہی سوال کیا جو تم نے کچھ دیر پہلے کیا تھا کہ جب وہ سبکدوش ہو جائیں گے تو کہاں جائیں گے؟
وجئے بولا سمجھ گیا اور اس کے جواب میں جو کچھ تم نے کہا تھا وہ تمہارا نہیں بلکہ آنٹی جی کا جواب تھا۔ وہی تو میں سوچ رہا تھا کہ تم اس قدر ذہین کیونکر ہو گئیں؟
کنگنا بولی کیوں؟ اگر تم میرے والد کی طرح کند ذہن ہو سکتے ہو تو میں اپنے ممی کی مانند ذہین کیوں نہیں ہو سکتی؟
وجئے نے سوچا کنگنا واقعی ذہین ہے اگر وہ اس وقت اپنے والد کے بجائے تمہارے والد کی طرح کند ذہن کہہ دیتی تو بڑی لڑائی ہو جاتی حالانکہ بات ایک ہی ہے۔ وجئے بولا کنگنا تمہاری اس بات پر مجھے ایک کہانی یاد آ گئی۔
بہت خوب مجھے بھی تو پتہ چلے کہ آج کل ہمارے صاحب کن قصے کہانیوں میں کھوئے رہتے ہیں۔
کہانی کیا لطیفہ سمجھو۔
سناو تو سہی اس کے بعد میں فیصلہ کر لوں گی کہ وہ لطیفہ بھی تھا یا نہیں۔
اچھا کیا تمہاری ممی نے اس کی بھی کوئی کسوٹی تھما دی ہے؟
ضرورت کیا ہے؟ اگرہنسی آ جائے تو مزاحیہ ورنہ فکاہیہ۔ خیر تم اپنی سناؤ۔
لیکن اس سے پہلے یہ بتاؤ کہ تم جانتی ہو لکشمی کی سواری کیا ہے؟
لکشمی؟ میری سہیلی لکشمی؟ تم اسے کیسے جانتے ہو؟ اور تمہیں یہ کیسے پتہ چل گیا کہ اس نے ابھی ابھی نئی نویلی پورش گاڑی خریدی ہے؟
سوالات کی بوچھار سن کر وجئے ڈر گیا۔ وہ بولا لگتا ہے تم پر آنٹی جی کا نہیں بلکہ کھنہ صاحب کا سایہ پڑا ہے ورنہ یہ سوالات نہیں کرتیں۔
تم بات کو اِدھر اُدھر نہ گھماؤ۔ اب جبکہ پکڑے جا چکے ہو تو سیدھے سیدھے بتاؤ کہ لکشمی کو کیسے جانتے ہو؟ اور نہ جانے کس کس کو جانتے ہو؟
میں تمہارے سوا کسی کو نہیں جانتا میری ماں۔ اب بس بھی کرو۰۰۰۰۰۰۰۰
یہ ماں کون ہے؟ کیا میں تمہیں اپنی ماں لگتی ہوں؟ کیا تم پاگل ہو گئے ہو؟
وجئے ہنس کر بولا ہوا تو نہیں ہوں لیکن جلد ہی میں باؤلہ ہو جاؤں گا۔
وہ تو ہو گا لیکن اس سے پہلے مجھے بتانا ہو گا کہ لکشمی کو کیسے ۰۰۰۰۰۰۰
بھئی میں تمہاری کسی سہیلی کے بارے میں نہیں بلکہ لکشمی دیوی کے بارے میں پوچھ رہا تھا۔ اندر بھگوان کی وزیر خزانہ لکشمی دیوی۔ جس کی سارے سناتن دھرمی دیوالی کے موقع پر پوجا کرتے ہیں۔
او ہو سمجھ گئی۔ اس لکشمی دیوی کو سواری کی کیا ضرورت؟ اس کو تو لوگ سرآنکھوں پر بٹھا کر اپنے گھر لے جانے کیلئے بے چین رہتے ہیں۔
جی ہاں یہ بات درست ہے لیکن وہ لوگوں کی خواہش پر نہیں بلکہ اپنی مرضی سے اپنی سواری پر جہاں چاہتی جاتی ہے اور جب چاہتی ہے نکل جاتی ہے۔
سمجھ گئی تب تو اس کو اپنی سواری کی ضرورت ہے اس لئے کہ اس کو اپنے گھر لانے کیلئے تو ہر کوئی سواری فراہم کرے گا لیکن جب وہ واپس جانے لگے گی تو سب کی نانی مر جائے گی۔
وہ تو جو ہو گا سوہو گا لیکن اب یہ مان لو کہ تمہیں لکشمی کی سواری کا علم نہیں ہے؟
جی ہاں بابا میں ہار گئی چونکہ میری ممی نے مجھے نہیں بتایا اس لئے مجھے نہیں معلوم بس۔ اب تم ہی بتا دو کہ ۰۰۰۰۰۰
ارے بھائی اس کی سواری الوّ ہے الوّ۔
جی ہاں سمجھ گئی اور مجھے یہ بھی پتہ چل گیا کہ لکشمی دیوی اپنی منزل کا تعین خود نہیں کرتیں بلکہ اپنی سواری پر چھوڑ دیتی ہیں۔
اچھا تمہیں یہ معرفت کیسے حاصل ہو گئی؟
کھول آنکھ زمیں دیکھ، فلک دیکھ، فضا دیکھ ۰۰۰۰۰۰۰۰۰
میں نہیں سمجھا؟
میرے پپا کو جب بھی کوئی بات سمجھ میں نہیں آتی ہے ممی علامہ اقبال کا یہ شعر پڑھ دیتی ہیں۔
اور اگر شعر بھی سمجھ میں نہ آئے تو؟
تو وہ کہتی ہیں ’الوّ کا پٹھا‘
اچھا تو کیا تمہارے پپا اس سے ناراض نہیں ہوتے؟
وہ کیوں ناراض ہوں؟ میری ممی نے ان کو تو الوّ نہیں کہا۔
اچھا پھر کسے کہا؟
ان کے والدین کو۔ کیا تمہیں نہیں معلوم کے پٹھا کے معنی اولاد کے ہوتے ہیں۔
تب تو یہ اور بھی بڑی گالی ہے۔
جی ہاں لیکن تمہاری طرح میرے والد بھی پٹھا کا مطلب نہیں جانتے۔ ان کا لگتا ہے اگر بھان متی انہیں الوّ کہتی ہے تو اس میں کیا غلط ہے۔
کیا مطلب ان کو الوّ کہلوانا پسند ہے؟
ویسے تو نہیں لیکن اگر بیوی اس لقب سے نوازے تو ہاں۔
میں اس فرق کو نہیں سمجھا؟
یہ فرق میری بھی سمجھ میں نہیں آتا تھا اس لئے ایک دن اکیلے میں ان سے میں یہ سوال کر ہی دیا تھا کہ ممی آپ کو الوّ کا پٹھا کہتی ہیں تو آپ کیوں کھلکھلا کر ہنس پڑتے ہیں؟
اچھا تو کھنہ صاحب نے کیا جواب دیا؟
وہ بولے کہ تمہاری ممی کی بات درست ہے اگر میں الوّ نہیں بلکہ سمجھدار ہوتا تو بھان متی کے ساتھ شادی کرنے کی غلطی کیسے کرتا؟ خیر تم اپنا لطیفہ نما کہانی سناؤ۔
ہاں تو ہوا یوں کہ ایک دن لکشمی کی سواری الوّ نے شکایت کی آپ کے بھکت آپ کی پوجا تو کرتے ہیں لیکن کوئی میری پوجا یاچنا نہیں ہوتی۔
یہ معقول اعتراض ہے اس لیے کہ اگر سوار نہ لے جائے تو سواری کیسے جائے؟
لکشمی بولی اگر ایسا ہے تو اندر بھگوان سے کہہ کر میں دیپاولی سے ۱۱ دن قبل کروا چوتھ کا تہوار شروع کروا دیتی ہوں۔ الوؤں کی پوجا شروع ہو جائے گی۔ وہ دن ہے اور آج کا دن۰۰۰۰۰۰۰۰
کنگنا چہک کر بولی دیکھا تم نے لکشمی دیوی نے بھی وہی کہا جو میری ممی کہتی ہیں اور میرے پاپا جسے درست مانتے ہیں۔
اب میری سمجھ میں کھول آنکھ زمیں دیکھ کا مطلب آ گیا۔ لکشمی دیوی کی سواری اپنے جیسے لوگوں کا رخ کرتی ہے اور لکشمی انہیں کے گھر میں قیام فرماتی ہے۔
کنگنا بولی جی ہاں وہ دن دور نہیں جب اس گھر کے اندر میں کروا چوتھ پر آپ کی پوجا کر کے لکشمی دیوی کی سواری کو بتلا دوں گی کہ تمہارا ایک بھکت یہاں بھی رہتا ہے۔ اب ہمیں یہاں سے چلنا چاہئے ورنہ ہمارے گھر کی لکشمی اور اس کی سواری میرا مطلب ہے میرے ممی پاپا ہمارے متعلق نہ جانے کن بد گمانیوں کا شکار ہو جائیں گے؟
جی ہاں چلو چلتے ہیں۔
یہ کہہ کر دونوں اپنے خوابوں کے محل سے باہر نکل آئے۔
٭٭٭
سنجے کا جوتا
وجئے اور کنگنا نے واپسی کا سفر پیدل طے کرنے کے بجائے بس سے کیا اور مڈویسٹ اسٹیشن پہنچ کر مخالف سمتوں میں روانہ ہو گئے۔ زیر زمین ریل گاڑی میں بیٹھا ہوا وجئے کنگنا کے ساتھ اپنی گفتگو پر غور کر رہا تھا۔ کنگنا کی ساری منطق اور دلائل کے باوجود اس کو اپنے والدین سے الگ ہو جانا غلط لگ رہا تھا۔ وہ اپنے اطمینان کیلئے اس مسئلہ پر کسی سے گفتگو کرنا چاہتا تھا۔ اس ادھیڑ بن میں اسے اپنے لنگوٹیا یار سنجے کا خیال آیا۔
سنجے راجن آج کل رات گئے گھر آتا تھا تب تک وہ سوچکا ہوتا۔ صبح سویرے جب وہ دفتر کیلئے نکلتا تھا تو سنجے سورہا ہوتا تھا۔ آخر ہفتہ میں وجئے کو فرصت ہوتی تو سنجے کی مصروفیت زیادہ ہوتی اور دوپہر کے وقت جب سنجے فارغ ہوتا تو وجئے دفتر کے اندر مصروفِ کار ہوتا۔ اس لئے دونوں ایک مکان میں رہنے کے باوجود ایک دوسرے سے کم ہی ملتے تھے۔
وجئے نے سنجے کو فون لگایا ہیلو سنجے کیسے ہو؟
سنجے فوراً وجئے کی آواز پہچان گیا اور خوش ہو کر بولا بھئی زہے نصیب۔ یہ بتاؤ کیسے یاد کیا؟ خیریت تو ہے؟
وجئے بولا ویسے تو سب خیر ہے لیکن پھر بھی تم سے ملنا ہے۔
کیوں نہیں کیوں نہیں؟ واقعی بڑا لمبا عرصہ ہو گیا تمہارے ساتھ بیٹھ کر بات ہی نہیں ہوئی بس یونہی چلتے پھرتے سلام دعا پر گذارا ہو رہا ہے خیر ایسا کرتے ہیں کہ اس اتوار کو دوپہر کا کھانا ساتھ میں کھاتے ہیں۔ میں ممی سے کہہ دوں گا۔ وہ تمہاری پسند کے سارے پکوان بنا دیں گی اور تم تو جانتے ہی ہو؟
جی ہاں مجھے پتہ ہے۔ تم سے ملاقات نہیں ہوتی لیکن ان کے ہاتھوں کا بنا کچھ نہ کچھ وقتاً فوقتاً ملتا ہی رہتا ہے لیکن یار اتوار تو بہت دور ہے۔
کس نے کہا؟ آج جمعرات ہے جو تقریباً ً گزر چکا ہے درمیان میں جمعہ اور ہفتہ بس دو دن پھر اتوار اور دعوت۔ بڑی چالاکی سے سنجے نے چار دنوں کے وقفہ کو دو دن میں بدل دیا تھا۔
وجئے نے اصرار کیا نہیں میں اپنی ایک خاص الجھن پر تم سے گفتگو کرنا چاہتا ہوں اس لئے آج، ابھی اور اس وقت ملنا ضروری ہے۔ یہ بتاؤکہ تم کہاں ہو؟
سنجے سمجھ گیا معاملہ سنگین ہے ورنہ مرنجان مرنج طبیعت کا مالک وجئے کیا جانے کہ آج کے آج اور ابھی کے ابھی کی اہمیت کیا ہوتی ہے؟ یہ تو کوئی سنجے جیسا کائیاں تاجر ہی جان سکتا ہے۔ وہ بولا میں فی الحال ریل گاڑی میں سوار ہونے جا رہا ہے اور میرا ارادہ گرین پارک جا کر جوتے خریدنے کا ہے۔
وجئے ہنس کر بولا بھائی سنجے جوتا نہ ہوا ہے نہ غذا۔ اس کو اگر انسان دوچار دن نہ کھائے تو کیا مر جائے گا؟
وہ تو صحیح ہے لیکن میرے جوتے ایک ماہ سے پھٹے ہوئے ہیں۔ آج پاپا نے آخری وارننگ دے دی ہے اگر میں پھٹے ہوئے جوتوں میں گھر واپس آیا تو اسی سے مار مار کر گنجا کر دیں گے۔ ویسے تم فی الحال کہاں ہو؟
میں مڈویسٹ سے ٹرین میں سوار ہوا ہوں۔ لگتا ہے جوتا سر سے اونچا ہو گیا ہے۔
ہاں تو ٹھیک ہے ایسا کرو کہ وارنگٹن سے ٹرین بدل لو۔ میرا خیال ہے ہم ایک ساتھ گرین پارک اسٹیشن پہنچ جائیں گے۔ دونوں نے پلیٹ فارم پر موجود اخبار کے اسٹال پر ملنے کا وعدہ کیا اور فون بند کر دیا۔
گرین پارک میں ان کا بچپن گزرا تھا۔ ایک زمانے میں وہ ہر روز چندریکا کے ساتھ گرین پارک کے سینٹ مائیکل اسکول میں جاتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ وہ اس بازار کی ہر دوکان سے واقف تھے۔ کہاں کیا اچھا ملتا ہے؟ کس وقت کس ہوٹل میں کیا بنتا ہے؟ کہاں عید پر پاکستان سے کپڑے درآمد کئے جاتے اور کس دوکان سے دیوالی کی خریداری کی جاتی ہے۔ یہ سب ان کو پتہ تھا لیکن یہ بھی ایک حقیقت تھی کہ ایک عرصے کے بعد وہ دونوں گرین پارک پر ایک دوسرے سے مل رہے تھے بلکہ اسکول کے بعد پہلی بار۔
وجئے جب گرین پارک پہنچا تو سنجے اس کا منتظر تھا۔ سنجے بولا یار مزہ آ گیا میں نہ جانے کتنی بار اکیلے یہاں آیا لیکن نہ بھولا کی چاٹ کھائی اور بٹ کی مٹھائی چل وہیں چلتے ہیں اس دوران تیری بات بھی ہو جائے گی پھر واپسی میں جوتے خرید لیں گے۔
وجئے بولا یار مجھے لگتا ہے کہ یہ ترتیب غلط ہے۔ یہ سامنے اپنے باٹا کی دوکان ہے پہلے وہاں سے جوتے خرید لو ورنہ ۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
بھائی میرے پیر کے جوتے شاید اس دوکان میں نہ ملیں اس لئے ہمیں ملن پان کے پاس کلارک کی دوکان میں جانا پڑے گا۔ مجھے نہیں لگتا کہ وہ اتنی جلدی بند ہو گی۔
عجیب آدمی ہو۔ مجھے پتہ ہے کہ کلارک بڑا نام ہے اور اس کے جوتے بھی مہنگے ہوتے ہیں لیکن گرین پارک میں سب سے بڑی جوتوں کی دوکان یہی باٹا ہے اور اس میں جوتے نہ صرف ہندوستان و چین بلکہ اٹلی سے بھی بن کر آتے ہیں اور تم قیمتی سے قیمتی جوتا خرید سکتے ہو۔ مجھے دیکھو میں ہمیشہ یہیں سے جوتا خریدتا ہوں۔
سنجے کے انکار کے باوجود وجئے اسے باٹا کی دوکان میں لے گیا اور اپنے شناسا سیلس میں سے بولا بھائی یہ میرے خاص دوست ہیں ان کے پیر کا اچھا سا جوتا دکھاؤ۔ قیمت کا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ یہ چہرے سے نہیں لگتا مگر آدمی امیر کبیر ہے۔ سیلس میں نے سنجے کے پاؤں دیکھے اور وجئے سے بولا معاف کیجئے میرے پاس ان کیلئے جوتے نہیں ہیں۔
سنجے کھسیا گیا لیکن وجئے اس سے الجھ گیا۔ نہیں ہے کیا مطلب؟ اتنی بڑی دوکان اتنے سارے جوتے؟ کیا تمہیں ان سے دشمنی ہے؟
جی نہیں صاحب گدھا گھاس سے دشمنی کرے گا تو کیا کھائے گا؟
وجئے بولا دوستی یا دشمنی؟
بھئی ایک ہی بات ہے آپ تو زبان پکڑ لیتے۔
سنجے نے وجئے سے کہا بھائی اس قدر عظیم اعتراف کے باوجود تم اس کی گردن نہیں چھوڑتے۔ اب اسے چھوڑو ہم لوگ کلارک کی دوکان میں چلتے ہیں راستے میں ۰۰۰۰۰۰
مجھے پتہ ہے بھولا چاٹ والا لیکن یہ اپنے آپ کو کیا سمجھتا ہے میں اس کے منیجر سے شکایت کروں گا۔
صاحب، منیجر کیا جنرل منیجر سے شکایت کیجئے مجھے فرق نہیں پڑتا ہے۔ ہم تو آپ لوگوں کی خدمت پر تعینات ہیں۔
مجھے پتہ ہے تمہاری خدمت یہ بتاؤ کہ تمہارا منیجر کدھر ہے؟
سنجے بولا چھوڑو یار وقت ضائع کرنے سے کیا فائدہ سر سلامت تو پگڑی ہزار۔
وجئے بولا مسئلہ پگڑی کا نہیں جوتے کا ہے میں اسے نہیں چھوڑوں گا۔
سنجے کو کسی کا فون آ گیا اور وجئے منیجر کے کمرے میں چلا گیا۔ اس کے تعاقب میں سیلس میں بھی پہنچ گیا۔
منیجر بولا فرمائیے جناب میں آپ کی کیا خدمت کر سکتا ہوں؟
اس سیلس میں کا دماغ آپ کسی اطالوی جوتے سے درست کر دیجئے۔
منیجر نے سیلس میں کو مخاطب کر کے پوچھا کیا معاملہ ہے؟
اس سے پہلے کہ وہ کچھ بولتا وجئے بولا یہ بے وقوف کہتا ہے کہ اس کے پاس میرے لئے جوتے نہیں ہیں جبکہ برسوں سے میں اس دوکان کا گاہک ہوں۔
جناب ان کیلئے نہیں بلکہ ان کے دوست کیلئے۔ یہ بلاوجہ بگڑ رہے ہیں۔
وجئے نے اپنی اصلاح کی اور بولا ہاں ہاں میرے دوست کیلئے لیکن اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ میں یا میرا دوست؟
بہت فرق ہے جناب اُن کے پیر کا ناپ ۶ نمبر ہے اور اس دوکان میں بچوں کے جوتے نہیں بکتے۔
منیجر بولا جی ہاں جناب! معاف کیجئے ہم صرف بڑوں کے جوتے بیچتے ہیں۔
وجئے بولا لیکن میرا دوست کوئی بچہ تھوڑی نا ہے ہم دونوں ہم عمر ہیں۔
منیجر بولا اس سے کیا ہوتا ہے جناب عالی۔ جس طرح کسی بچے کے پیر بڑے ہو سکتے ہیں اس طرح کسی بڑے کے پیر چھوٹے بھی ہو سکتے ہیں۔ ہماری معذرت قبول فرمائیں۔ آپ کے دوست کو جوتے ہر اس دوکان میں مل جائیں گے جہاں بچوں کے جوتے بکتے ہیں۔
وجئے کو اپنی غلطی کا احساس ہو گیا۔ وہ سوری بول کر باہر آ گیا۔ سنجے اب بھی فون پر لگا ہوا تھا۔ عقب سے منیجر کی آواز آ رہی تھی وہ خوش گفتار سلیقہ مند غلام اپنے سیلس میں پر الفاظ کے کوڑے برسا رہا تھا اور اس سے پو چھ رہا تھا کہ تم نے اسے یہ بات کیوں نہیں بتائی؟ کیا تمہارے منہ میں دہی جمی ہوئی تھی؟
سیلس میں بولا صاحب وہ بد دماغ گاہک سنتا کب تھابس اپنی ہانکے چلا جاتا تھا۔ میرے تو جی میں آیا کہ اطالوی ایمبیسیڈر سے اس کا دماغ درست کر دوں لیکن کیا کروں پاپی پیٹ کا سوال آڑے آ گیا۔
وجئے کو ایسا لگا جیسے واقعی اس کے سرپر جوتے برس رہے ہیں اس نے سنجے کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور دونوں دوست کلارک کی جانب چل پڑے۔ راستے میں جب بھولا چاٹ والے کی دوکان آئی تو سنجے کا منہ بھر آیا اس نے اشارے پوچھا کیا ارادہ ہے۔ وجئے نے اشارے سے کہا واپسی میں۔ کلارک کی دوکان آ گئی لیکن سنجے کی بات ختم نہیں ہوئی۔ وجئے کو کوفت ہونے لگی تھی مگر چونکہ سنجے سے غرض تھی اس لئے وہ نخرے برداشت کرتا رہا۔ سنجے کا فون بند ہوا تو وہ دونوں دوکان میں داخل ہو گئے۔ یہاں پر سنجے رو بوٹ کی مانند ایک الماری کے قریب جا کر اس میں جوتے دیکھنے لگا۔
ایک جوتا اٹھا کر اس نے وجئے سے پوچھا اس کے بارے میں کیا خیال ہے؟
وجئے بولا لگتا تو اچھا ہے لیکن کتنے کا ہے؟
یار دیکھو انسان روز روز جوتا تو نہیں خریدتا کہ مینو میں قیمت دیکھے۔ کلارک کے جوتے ایک مرتبہ لو کم از کم تین سال کی فرصت اس لئے میں قیمت نہیں صرف ڈیزائن دیکھتا ہوں۔ اوپر کا ڈیزائن اور نیچے کا سول۔
وجئے نے پوچھا یار سنجے مجھے تمہاری یہ منطق سمجھ میں نہیں آئی۔
اس میں سمجھنے والی کیا بات ہے؟ ڈیزائن دوسروں کیلئے اور سول اپنے لئے۔
میں اب بھی نہیں سمجھا؟
میرا مطلب ہے دیکھنے والے ڈیزائن دیکھ کر تعریف کرتے ہیں بھئی کیا زبردست جوتا خریدا ہے لیکن پہننے والے کو آرام سول سے ملتا ہے جسے کوئی نہیں دیکھتا۔ وہی تو ہمارا بوجھ ڈھوتا ہے اور وہی سب سے پہلے گھستا یا پھٹتا ہے۔
وجئے کا خیال تھا کہ وہ پڑھ لکھ بہت قابل ہو گیا ہے لیکن اب پتہ چلا کہ جس سنجے کو وہ نرا احمق سمجھتا ہے کم از کم جوتوں کے معاملے میں کافی سمجھدار ہے ممکن دیگر معاملات میں بھی یہی کیفیت ہو۔ وجئے نے اپنی پیٹھ تھپتھپائی کہ ایک اہم مسئلے پر گفتگو کیلئے اس نے نہایت موزوں فرد کا انتخاب کیا ہے۔ جوتے کا انتخاب کر لینے کے بعد وہ اسے ہاتھ میں لے کر ایک اور الماری کی جانب چلا گیا اور بہت دیر تک اسی کی مانند جوتا تلاش کرتا رہا۔ جب ناکامی ہوئی تو دوبارہ پہلے والی الماری کے پاس جا کر ایک اور جوتا نکالا۔ اس بار وجئے رائے لینے کی زحمت نہیں کی۔ وہ اس جوتے کے ساتھ دوسری الماری کے پاس آیا اور اس میں سے بھی بالکل اسی طرح کے جوتے کا جوڑا نکال کر کاؤنٹر پر آ گیا۔ سنجے نے آخر تک جوتوں کی قیمت نہیں دیکھی تھی۔ اس نے جوتے اور کریڈٹ کارڈ اد ائے گی کیلئے دے دئیے۔ وجئے کو خیال ہوا کہ اس کا دوست کس قدر سعادتمند ہے اپنے ساتھ ساتھ اپنے والد کیلئے بھی بالکل مماثل قیمتی جوتے خرید لئے۔ وجئے کی نظروں میں سنجے کا احترام بڑھ گیا تھا اس لئے کہ اسے خود کبھی ایسا کرنے کی توفیق نہیں ہوئی تھی۔
جوتے کی دوکان سے نکل کر دونوں دوست بھولا چاٹ کی دوکان میں آ گئے۔ اپنے پسندیدہ چھولے بٹورے کا آرڈر دینے کے بعد وجئے نے کہا مجھے خوشی ہے کہ تم انکل کا اتنا خیال رکھتے ہو۔
سنجے بولا بہت زیادہ تو نہیں پھر بھی اچانک تمہیں یہ خیال کیوں آیا؟
ارے بھائی تم نے اپنے ساتھ ساتھ انکل کیلئے بھی ۰۰۰۰۰۰۰
یہ کس نے کہا؟
کسی کے کہنے کی کیا ضرورت۔ میں نے خود تمہیں دو جوڑے جوتے خریدتے دیکھا جو اب اس میز کے نیچے پڑے ہوئے ہیں۔
سنجے بولا لیکن وہ دونوں میرے اپنے لئے ہیں۔
تمہارے اپنے لئے؟ لیکن وہ مختلف ۰۰۰۰۰۰۰۰
جی ہاں اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟ ایک داہنے اور دوسرا بائیں پیر کیلئے۔
اس جواب نے وجئے کو حیرت زدہ کر دیا وہ بولا لیکن دونوں پیر یکساں ہوتے ہیں بالکل ایک دوسرے کے عکس معکوس۔
یہ کس نے کہا؟
تیسری بار سنجے کے منہ سے کنگنا کا تکیہ کلام سن کر وجئے اسی طرح چونک پڑا جس طرح لکشمی کا نام سن کر کنگنا کی حالت ہوئی تھی۔ وہ بولا سنجے یہ کیا بار بار کس نے کہا، کس نے کہا لگا رکھا ہے؟ پہلے تو یہ تمہارا تکیہ کلام نہیں تھا۔
جی ہاں وجئے پہلے تو بہت کچھ نہیں تھا لیکن اب ہو گیا ہے۔ زمانے کے ساتھ بہت کچھ بدلتا رہتا ہے مثلاً میرے جوتوں کا ناپ۔
میں نہیں سمجھا؟
در اصل پہلے میرا مسئلہ وہ تھا جس کا مشاہدہ تم نے باٹا میں کیا۔ عام دوکانوں میں جہاں بڑوں کے جوتے بکتے ہیں میرے جوتے نہیں ملتے تھے لیکن یہ کوئی بڑا مسئلہ نہیں تھا۔ میں ان دوکانوں کا رخ کرنے لگا جہاں بچوں کے جوتے ملتے ہیں اور بڑے بچوں کے جوتوں سے میرا کام چل جایا کرتا تھا لیکن پھر یہ ہوا کہ میرا ایک پیر بڑھنے لگا اور داہنے پیر کی جسامت بائیں پیر سے مختلف ہو گئی۔
اچھا یہ کیسے ہو گیا؟
میں نہیں جانتا کہ یہ کیوں اور کیسے ہوا؟ لیکن اب میرا مسئلہ سنگین ہو گیا اگر میں ایک پیر کے ناپ کا جوتا خریدتا تو دوسرے میں تنگ ہو جاتا اور جب دوسرے کے ناپ کا خریدتا تو پہلے میں ڈھیلا ہو جاتا۔
وجئے بولا او ہو یہ تو بڑا سنگین مسئلہ ہے۔
ہے نہیں بلکہ تھا بالآخر اس کو بھی میں نے حل کر دیا۔ دنیا کا کوئی مسئلہ ایسا نہیں ہے جس کا کوئی حل نہ ہو اور کئی مرتبہ مسائل کے حل نہایت سہل ہوتے ہیں لیکن ان کی جانب ہماری توجہ نہیں جاتی۔
وجئے بولا میں سمجھ گیا بھان متی آنٹی نے تمہیں یہ بات بتائی ہو گی۔
بھان متی یہ کون ہے؟ میں کسی بھان متی کو نہیں جانتا۔
ہاں، ہاں تم تو نہ کھنہ صاحب کو جانتے ہو اور نہ کنگنا کا
سنجے بولا یہ تم کن لوگوں کی بات کر رہے ہو۔ میں ان لوگوں کو نہیں جانتا۔
کوئی بات نہیں بہت جلد جان جاؤ گے۔ یہ بتاؤ کہ تم نے اس مشکل سے کیسے نجات حاصل کی؟
او ہو تم اب بھی نہیں سمجھے میں تو تمہیں پڑھا لکھا آدمی سمجھتا تھا۔
وجئے بولا اب لومڑی کے کھٹے انگور والا قصہ چھوڑو اور اپنا حل بتاؤ۔
ارے بھئی میں دو سائز کے جوتے خریدنے لگا اور کیا؟
لیکن پھر ہر ایک کے جوڑے کا کیا کرتے ہو؟
سنجے قہقہہ لگا کر بولا ان سے اپنے سر کی مالش کرتا ہوں کیا سمجھے؟
کچھ نہیں سمجھا؟
ارے بھائی پھینک دیتا ہوں اور کیا کر سکتا ہوں میرے باپ۔ سنجے نے ویٹر کو دوعددآئس کریم کے ساتھ فالودہ لانے کا آرڈر دے دیا اور بولا کیوں ٹھیک ہے؟
لیکن تم تو صرف آئس کریم کھاتے تھے اور وہ بھی بٹر سکاچ۔ یہ فالودہ کب سے کھانے لگے؟
تم مجھ سے جھوٹ سننا چاہتا ہو یا سچ؟
پہلے جھوٹ بولو اور پھر سچ۰۰۰۰
جھوٹ تو یہ ہے کہ تمہارے اعزاز میں، چونکہ تمہیں فالودہ پسند ہے اس لئے آج فالودہ ہو جائے۔
اور سچ؟
سچ تو یہ ہے دوست کہ میری پسند بھی وقت کے ساتھ بدل گئی ہے اب مجھے آئس کریم بھی اچھی لگتی ہے اور فالودہ بھی۔
لیکن یہ کیسے ہو گیا؟
بھئی اگر پیروں کا ناپ بدل سکتا ہے تو مشروب کی پسند کیوں نہیں بدل سکتی؟ خیر تم اپنے بجائے میرے جوتوں میں الجھ کر رہ گئے۔ یہ تو بتاؤ کہ آج ملنے کی غرض و غایت کیا ہے؟
سچ بتاؤں یا جھوٹ؟
پہلے جھوٹ پھر سچ۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
جھوٹ تو یہ ہے کہ تیرے ساتھ جوتا خریدنا تھا۔
اور سچ؟
سچ یہ ہے کہ میں اپنے جس مسئلے کا حل پوچھنا چاہتا تھا وہ مجھے مل گیا۔
سنجے بولا بہت خوب تم واقعی پڑھے لکھے آدمی ہو۔
شکریہ زہے نصیب ۰۰۰۰۰چلو گھر چلتے ہیں۔
٭٭٭
وجئے کی سائیکل
اپنے آپ میں مست وجئے ایک غیر آباد ویران راستے پر محو سفر ہے۔ اپنی منزل سے بے نیاز وہ اپنے بچپن کی سائیکل پر سوار ہے کہ دوران سفراچانک ایک حیرت انگیز واقعہ رونما ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ وہ جیسے جیسے آگے بڑھتا جاتا ہے اس کی سائیکل کا پچھلا پہیہ اپنے آپ بڑا ہوتا جاتا ہے لیکن اگلے والے کی جسامت پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوتا وہ جوں کی توں رہتی ہے۔ سائیکل کے توازن بھی قائم رہتا ہے اور وہ ہوا سے باتیں کرتی رہتی ہے۔ اس بیچ وجئے کو دور ایک بڑی سی عمارت کی دھندلی سی شبیہ نظر آتی ہے۔ وجئے کو محسوس ہوتا ہے کہ اس کی منزل از خود اس کے استقبال میں آن کھڑی ہوئی ہے۔
منزل اور مسافر کا فاصلہ بتدریج کم ہوتا جاتا ہے اور پچھلے پہیے کا قطر بھی اسی لحاظ بڑھتا جاتا ہے۔ قریب آنے پر وجئے کو پتہ چلتا ہے کہ ہے یہ ہوائی اڈہ ہے۔ اس ویرانے میں ہوائی اڈے کی موجودگی وجئے کے تجسس میں اضافہ کر دیتی ہے اور وہ اس کے داخلے کے باب کے سامنے پہنچ جاتا ہے جہاں موجود پہریدار مسافروں کے کاغذات کی جانچ پڑتال کر کے انہیں اندر جانے کی اجازت دے رہے ہوتے ہیں۔ وہ حیرت سے ان مناظر کو دیکھ رہا ہوتا ہے کہ ایک چوکیدار کی نظر اس پر پڑ جاتی ہے۔ وہ فوراً دوسرے مسافروں کو ایک طرف کر کے وجئے کو سلام کرتا ہے اور اسے خوش آمدید کہتا ہے۔
وہاں موجود کوئی مسافر پہریدار کی اس حرکت پر اعتراض نہیں کرتا۔ وجئے سائیکل سمیت ہوائی اڈے میں داخل ہو جاتا ہے۔ سارے لوگ حیرت سے اس کو اور اس کی بے ڈھب سائیکل کو دیکھتے تو ہیں لیکن نہ کوئی روکتا ہے اور نہ کچھ پوچھتا ہے۔ بورڈنگ کارڈ اور ایمیگریشن وغیرہ کے تکلفات سے بے نیاز وجئے ہوائی جہاز کے اندر جانے والے دروازے کی جانب رواں دواں ہے جہاں سے ایک سرنگ نما راستہ اسے ہوائی جہاز تک لے جاتا ہے۔ جہاز میں موجود ائیر ہوسٹس مسکرا کر اس کا خیرمقدم کرتی ہے۔ اس کی سائیکل کا اگلا پہیہ جہاز کے اندر چلا جاتا ہے لیکن پچھلا والا باہر رہ جاتا ہے۔ اس لئے کہ اس کی جسامت ہوائی جہاز کے دروازے بڑی ہو چکی ہے۔
ائیر ہوسٹس اس سے مؤدبانہ گذارش کرتی ہے جناب عالی آپ سے التماس ہے کہ اپنی سائیکل سے اتر کر پیدل اندر تشریف لائیں۔
وجئے سوال کرتا ہے کیوں؟ یہ نہیں ہو سکتا۔
معزز مہمان یہ سائیکل جہاز کے اندر داخل نہیں ہو سکتی۔ اس کا دوسرا پہیہ ہمارے دروازے سے بڑا ہے۔
وجئے کہتا ہے یہ میرے بچپن کی سائیکل ہے۔ اسی پر چڑھ کر میں نے جوانی کی دہلیز پر قدم رکھا ہے۔ اس نے ہر موڑ پر میرا ساتھ دیا ہے۔ یہ میرا سہارا ہے میں اسے نہیں چھوڑ سکتا۔
ائیر ہوسٹس اسے نرمی سے سمجھاتی ہے اس سائیکل کے ساتھ آپ کی جو انسیت و محبت ہے وہ ہمارے لئے قابلِ قدر ہے۔ کاش کہ ہمارے جہاز کا دروازہ ایسا بلند ہوتا کہ آپ اپنی سائیکل سمیت اس میں تشریف لاتے لیکن افسوس کہ یہ نا ممکن ہے۔
اگرایسا ہے تو میرے لئے بھی یہ ممکن نہیں ہے کہ میں سائیکل کو چھوڑوں۔
اچھا تو کیا آپ یونہی درمیان میں کھڑے رہیں گے۔ نہ آگے جائیں گے اور نہ پیچھے۔ آپ کے اس فیصلے سے دیگر مسافر اور اہلکار بھی زحمت میں مبتلا رہیں گے اس لئے ہماری پھر سے درخواست ہے کہ آپ یہ ضد چھوڑ دیں۔
وجئے بولا میں آگے نہ صحیح پیچھے تو جا سکتا ہوں۔ میں اپنی سائیکل کے ساتھ واپس چلا جاتا ہوں۔
اب یہ بھی نا ممکن ہے جناب۔ جس وقت آپ اس سرنگ میں داخل ہوئے تھے اس کا پچھلا پہیہ سرنگ کی چھت کچھ نیچے تھا اس دوران اس کے قطر میں مزید اضافہ ہوا ہے اس لئے اب یہ پچھلے دروازے سے باہر نہیں نکل سکے گا اور آپ جہاز اور ہوائی اڈے کے درمیان لٹکے رہیں گے۔
وجئے کو اب یہ سہانا سفر ایک پر فریب جال لگنے لگتا ہے جس میں وہ بری طرح سے پھنس چکا تھا۔ وہ کہتا ہے عجیب مصیبت ہے۔
ائیر ہوسٹس بولی یہ مصیبت نہیں حقیقت ہے۔ آپ جس راستے سے یہاں پہنچے ہیں وہ آگے ہی آگے جاتا ہے پیچھے نہیں مڑ تا۔ اس بلندی کے سفرکو جاری رکھنے کیلئے سائیکل سے سبکدوشی ناگزیر ہے۔
وجئے کا دماغ ٹھکانے آ گیا وہ بولا اچھا تو آپ لوگ میری اس سائیکل کا کیا کریں گے؟
ہم اس کے پہیے الگ کر کے انہیں سائیکل سمیت نیچے سامان کے ساتھ بحفاظت رکھوا دیں گے تاکہ وقت ضرورت آپ کے کام آ سکے۔ ویسے ہوائی جہاز کے اس سہانے سفر میں آپ کو سائیکل کی ضرورت شاید ہی محسوس ہو۔ اگر کبھی اس کی یاد آئے تو ہم سے کہیے۔ اس خصوصی ہوائی جہاز کے اندر سے ایک راستہ نیچے بنے گودام میں جاتا ہے۔ آپ وہاں جا کر اپنی سائیکل کے درشن کر سکتے ہیں۔ یہ راستہ ایسا تنگ و تاریک ہے کہ اس سے آپ تو آ جا سکتے ہیں لیکن آپ کی سائیکل نہیں آ سکتی۔
حزن و ملال کا پیکر وجئے اپنی چہیتی سائیکل سے اتر کر ہوائی جہاز میں داخل ہو گیا۔ ائیر ہوسٹس نے وہاں موجود اہلکاروں سے کہا۔ اس سائیکل کے پہیے الگ کر دو اور اسے نیچے سامان کے ساتھ رکھ دو۔ ائیرہوسٹس جانتی تھی کہ اب وجئے کا سائیکل سے رشتہ ٹوٹ چکا ہے۔ اب وہ اس سائیکل کی جانب مڑ کر بھی نہیں دیکھے گا پھر بھی حفظ ماتقدم کے طور پر اس نے سائیکل کو پھنکوانے کے بجائے رکھوا دیا تھا۔
جہاز جب ہوا میں محو پرواز ہوا تو وجئے کے ساتھ ایک اور عجیب و غریب معاملہ ہونے لگا۔ اس کی دائیں آنکھ اچانک بڑی ہونے لگی جبکہ بائیں آنکھ بالکل پہلے جیسی تھی۔ اس نے دیکھا اس کا بایاں ہاتھ اچانک لمبا ہونے لگا جبکہ دایاں ہاتھ ویسا ہی تھا۔ وہ گھبرا کر حمام میں گیا تو آئینے میں کیا دیکھتا ہے کہ اس کا بایاں کان بھوپوں کی طرح بڑا ہوا گیا مگر دایاں بالکل پہلے جیسا ہے۔ جب وہ واپس اپنی نشست پر آ رہا تھا تو اس نے محسوس کیا کہ توازن بگڑ رہا ہے۔ دائیں ٹانگ لمبی ہوتی جا رہی ہے اور بائیں جوں کی توں ہے۔
ہوائی جہاز کے عملے میں چہ مے گوئیاں ہونے لگی۔ مسافروں کو یقین ہو گیا تھا کہ وجئے آسیب زدہ ہے۔ انہیں اندیشہ لاحق ہو گیا کہ کہیں وجئے کا آسیب ان سے نہ لپٹ جائے اور انہوں نے فیصلہ کر لیا کہ کسی تاخیر کے بغیر وجئے کو اڑتے جہاز سے نیچے پھینک دیا جائے۔ جیسے ہی وجئے کو ہوا میں اچھالا گیا اس کی آنکھ کھل گئی۔
اس عجیب و غریب خواب نے وجئے کی چولیں ہلا دیں۔ اس کے سر میں شدید درد ہونے لگا۔ بدن ٹوٹ رہا تھا۔ رگ رگ سے ٹیس اٹھ رہی تھی۔ وہ دفتر جانے کی حالت میں نہیں تھا۔ چندریکا نے وجئے کا پسندیدہ ناشتہ اپما تیار کر دیا تھا لیکن وجئے اب بھی تک بستر میں پڑا تھا۔ چندریکا کیلئے یہ حیرت کی بات تھی۔
اس نے باورچی خانے سے چلآ کر پوچھا دفتر نہیں جانا؟ آج چھٹی ہے کیا؟ جواب ندارد، وہ گھبرا گئی۔ دوڑ کر وجئے کے پاس آئی اور پوچھا بیٹے طبیعت تو ٹھیک ہے نا؟
جی ہاں، سر میں ہلکا سا درد ہے۔
ہلکے سے درد نے میرے لال کی یہ حالت بنا دی؟ تمہاری جھوٹ بولنے کی عادت نہیں گئی۔ مجھے تو لگتا ہے تمہیں بخار ہے۔ کہیں فلو تو نہیں؟ آج کل ہر تیسرا آدمی انفلوئنزا کے بخار کا شکار ہے۔
جی نہیں ممی آپ بہت سوچتی ہیں۔ چلئے میں نہا کر ناشتے کیلئے آتا ہوں۔ کیا بنایا ہے آپ نے؟
بنایا تو اپما تھا لیکن مجھے کیا پتہ تھا کہ تمہاری طبیعت خراب ہے؟ ورنہ میں اڈلی بناتی خیر اس میں کون سا وقت لگتا ہے۔ تم نہا کر آؤ تب تک اڈلی بن جائے گی۔ گرم گرم اڈلی بلکہ میں تو کہتی ہوں ایک دن کی چھٹی لے لو۔ آرام کرو آج ڈاکٹر کو دکھاؤ اور کل دفتر جانا۔ بیماری کو بڑھانا ٹھیک نہیں ہے۔
چندریکا نے وجئے کے دل کی بات کہہ دی تھی پھر بھی اس نے تائید نہیں کی اس لئے کہ ہاں کہنے کے بعد دفتر جانا نا ممکن تھا۔ وہ ناشتے کے بعد فیصلہ کرنا چاہتا تھا کہ دفتر جایا جائے یا نہیں؟ وہ بولا ممی اب اڈلی کی زحمت نہ کریں میں اپما کھا کر دفتر چلا جاؤں گا۔
تم نہ اپما کھاؤ گے اور نہ دفتر جاؤ گے۔ چندریکا نے تحکمانہ لہجے میں کہا۔ تم اڈلی کھاؤ گے اور آرام کرو گے کیا سمجھے؟ کل تک اگر طبیعت سنبھل جائے تو کل ورنہ جب طبیعت ٹھیک ہو گی تب دفتر جاؤ گے۔ تم نے نہیں سنا
تندرستی اگرچہ ہو غالب
تنگدستی میں کیا ملامت ہے
وجئے کومحسوس ہوا کہ اس کی ماں کچھ غلط پڑھ رہی ہے لیکن چونکہ اصلاح اس کے بس کا روگ نہیں تھا اس لئے وہ حمام میں چلا گیا۔ وہ سوچ رہا تھا کہ دفتر جائے یا نہ جائے جسم کہہ رہا تھا آرام کرنا چاہئے اور دل دفتر جانے کیلئے بے چین تھا۔ اس لیے کہ ذمہ داری کا بوجھ اگر سر پر ہو تو آرام بھی حرام ہو جاتا ہے۔ وجئے کے واپس آنے تک سامبر کی سوندھی سوندھی خوشبو کمرے میں پھیل گئی تھی اور گرائنڈر زور شور کے ساتھ کھوپرے کی چٹنی پیس رہا تھا۔ وجئے کے آگے ناشتہ لگا کر چندریکا نے کمار سنگے کو فون لگا دیا۔
اجی سنتے ہو؟ تمہارا اکلوتا بیٹا یہاں بخار میں تڑپ رہا ہے اور تمہیں اس کی کوئی فکر ہی نہیں ہے۔
تڑپ رہا ہے؟ ابھی صبح میں تو میں نے دیکھا تھا وہ گھوڑے بیچ کر سو رہا تھا۔ اس ایک گھنٹے میں کون سی قیامت آ گئی؟ کیا وہ دفتر نہیں گیا؟
میں نے بہت سارے سنگدل لوگ دیکھے ہیں آپ جیسا باپ نہیں دیکھا۔ آپ کو اس کے دفتر کی پڑی ہے اور جیسا مالک ویسا گھوڑا وہ بھی دفتر جانے کیلئے پریشان ہے لیکن میں نے اس سے کہہ دیا ہے کہ آج وہ دفتر نہیں جا سکتا اور کان کھول کرسنو میں تم سے کیا کہہ رہی ہوں؟
ہاں ہاں جلدی بکو ورنہ کان تو کھلے رہیں گے مگر فون بند ہو جائے گا۔ یہ گاہکوں کا وقت ہے جلدی بولو۔
اچھا تو تمہارے یہ گاہک مجھ سے اور میرے بیٹے سے زیادہ اہم ہیں کیوں؟ چندریکا فون پر رونے لگی۔ تمہارے لئے ہم سب بے کار کی چیزیں ہیں بس وہی سبزی ترکاری اور دھندہ بیوپار۔ میں تو تنگ آ گئی ہوں اس گورکھ دھندے سے۔
اری بھاگوان تم غصے میں بھول گئیں کہ کیا کہہ رہی تھیں۔ اب فون بند کروں یا۰۰۰۰۰۰۰
تمہاری کیا مجال کے فون بند کرو؟ میں اسے توڑ کر پھینک دوں گی۔
اگر ایسا ہے تو زہے نصیب میری جان چھوٹ جائے گی اس لئے کہ فی الحال تم وہی فون توڑ سکتی ہو جو تمہارے ہاتھ میں ہے۔ نہ نو من فون ہو گا اور نہ چندریکا گائے گی۔
میں اس فون کو نہیں بلکہ تمہاری دوکان میں آ کر تمہارا فون اور سر دونوں پھوڑ دوں گی کیا سمجھے؟
سمجھ گیا بھاگوان سمجھ گیا اب بول بھی دو کہ کان کھول کر میں کیا سنوں۔ کس لئے تم نے فون کرنے کی زحمت گوارہ کی تھی؟
وجئے کو اپنے والدین کی نوک جھونک پر رشک آ رہا تھا۔ اس کے ذہن میں ایک سوال آیا شادی کے تیس سال بعد بھی یہ جس طرح کی خوشگوار زندگی گزار رہیں کیا وہ کنگنا کے ساتھ تین سال بھی اس طرح گزار سکے گا؟ شاید نہیں اس لئے کہ کنگنا بہت معقولیت پسند مزاج کی حامل تھی اس کے نزدیک ہمیشہ دو اور دو چار ہوا کرتا تھا جس پر اختلاف ممکن نہیں تھا لیکن چندریکا اور کمار میں سے ایک دو اور دو کو پانچ تو دوسرا تین کہتا تھا۔ ان کے باہمی اختلافات نہ کبھی ختم ہوتے اور نہ زندگی کی چاشنی میں کوئی کمی آتی تھی۔ اس نے سوچا معروضیت کی بہتات بھی زندگی کو سپاٹ اور بے مزہ کر دیتی ہے۔
ہاں تو میں کہہ رہی تھی کہ آپ فوراً دوکان بند کر کے گھر چلے آئیں۔
دوکان کیوں بند کروں۔ میرے علاوہ اور ملازم بھی تو یہاں کام کرتے ہیں۔ میں راجن کو بلاتا ہوں اور اس کے آنے کے بعد گھر آ جاتا ہوں۔
آپ کو زحمت کرنے کی ضرورت نہیں راجن گھر پر ہے تو میں اسے فوراً دوکان پر روانہ کر دیتی ہوں آپ وہاں سے نکلیں۔
کمار قہقہہ لگا کر بولا میڈم آپ میری مالکن ضرور ہیں لیکن راجن میرا سوامی یعنی مالک ہے اس لئے آپ کا حکم مجھ پر تو چل سکتا ہے لیکن اس پر نہیں۔
مجھے نہ پڑھاؤ۔ مجھے سب پتہ ہے میں یہ بات راجن کی مالکن ریوتی سے کہوں گی کیا سمجھے؟
ٹھیک ہے لیکن ایک بات بولوں اب اپنا وجئے چھوٹا بچہ نہیں ہے۔ ہم کب تک اس کو سنبھالتے رہیں گے۔
کیا مطلب؟ وہ میرا لاڈلا بیٹا جیسے پہلے تھا اب بھی ہے۔
ہاں بابا جانتا ہوں اور میں نے کب تمہیں اس کو لاڈ پیار کرنے سے منع کیا ہے۔
ابھی ابھی تو منع کر رہے تھے اور ابھی بدل گئے
جی نہیں میں تو صرف یہ کہہ رہا تھا کہ کوئی اچھی سی بہو لے آؤ تاکہ تمہاری بھی جان چھوٹے اور۰۰۰۰۰۰۰۰
آپ کی جان تو پہلے ہی چھوٹی ہوئی ہے۔ میں تو کہتی ہوں اگر اولاد کے ساتھ یہی سلوک کرنا تھا تو ۰۰۰۰۰۰۰چندریکا پھر سے رونے لگی۔
کمار بولا اری بھاگوان تم کام کی بات کو چھوڑ کر فالتو الفاظ پکڑ لیتی ہو۔
ہاں اگر میں ایسا کرتی بھی ہوں تو اس میں آپ کا قصور ہے۔ آپ کام کی بات کے ساتھ فالتو بات کیوں کہتے ہیں۔ اب بھلا مجھ جیسی سیدھی سادی عورت ان میں فرق کرے بھی تو کیسے کرے؟
جی ہاں ساری غلطی میری ہی ہے لیکن میں بہو لانے کے بارے میں کہہ رہا تھا۔
چندریکا کا چہرہ کھل گیا وہ بولی آپ کے منہ میں گھی شکر لیکن بہو لائیں گے کہاں؟ ہمارے گھر ان لوگوں کیلئے جگہ کہاں ہے؟ اور پھر میرے وجئے کیلئے راج دلاری کسی سڑک کے کنارے تو کھڑی نہیں نہ مل جائے گی۔
کمار ہنس کر بولا تو کیا تم اس کیلئے کوئی سوئمبر رچاؤ گی؟
کیا سوئمبر آپ تو سارے سنسکار بھول گئے۔ کیا آپ نہیں جانتے کہ سوئمبر دولہے کیلئے نہیں بلکہ دلہن کیلئے رچایا جاتا ہے۔
ارے بھاگوان یہ پرانے وقتوں کی باتیں ہیں۔ یہ کل یگ ہے اور تم لندن میں رہتی ہو یہاں کون جانتا ہے کہ رامائن اور مہابھارت میں کیا لکھا ہے۔ میں تو کہتا تو اگر تم نے اپنے وجئے کے لیے سوئمبر کا اعلان کر دیا تو راون کی قسم قطار لگ جائے گی۔
راون کی قسم تم رام اور راون کا فرق بھی بھول گئے کیا؟
دیکھو ہم لوگ سری لنکا کے رہنے والے ہیں۔ ہمارا ہیرو تو لنکا دھیش راون ہے۔ ہم اس کی قسم کیوں کھائیں جس نے اپنے دست راست ہنومان کی مدد سے لنکا جلا دی تھی۔
چندریکا پھنس گئی تھی وہ بولی مجھے سب پتہ ہے میں آپ سے زیادہ دھرم کا گیان میں رکھتی ہوں آپ فوراً دوکان سے گھر آئیں میں راجن کو بھجواتی ہوں۔
٭٭٭
کمار اور چندریکا
وجئے نے اپنی ماں کی زبان سے اس کی شادی سے متعلق دونوں خدشات سن لئے تھے اور سوچ رہا تھا بھان متی کی بات میں کس قدر سچائی ہے۔ کئی مرتبہ مسائل کا حل ہمارے سامنے موجود ہوتا ہے لیکن ہم اس کی جانب نظر اٹھا کر دیکھنے کی زحمت گوارہ نہیں کرتے۔ وہ سوچ رہا تھا کنگنا کا ذکر اپنے والدین سے کر دینے کا یہ بہترین موقع ہے ورنہ اگر ان لوگوں نے اپنے لئے کسی بہو کا انتخاب کر لیا تو سنگین مسائل پیدا ہو جائیں گے۔ سائیکل کے دونوں پہیوں کی ہوا بیک وقت نکل جائے گی۔
چندریکا نے ریوتی کی مدد سے راجن کو دوکان پر روانہ کیا اور کافی بنا کر اپنے بیٹے کے پاس آ بیٹھی۔ وہ جانتی تھی کہ راجن کے دوکان میں پہنچنے سے قبل کمار وہاں سے نہیں نکلے گا۔ ان تیس سالوں میں وہ کمار کی رگ رگ سے واقف ہو چکی تھی۔ وجئے نے دفتر جانے کا ارادہ ترک کر دیا تھا۔ گرم گرم کافی کے گھونٹ لیتے ہوئے بولا ممی مجھے لگتا ہے کہ پاپا ٹھیک کہتے ہیں۔
یہ جانے بغیر کہ وہ کمار کی بات کی تائید کر رہا ہے چندریکا بولی دیکھو تم اپنے پاپا کی بہت زیادہ حمایت نہ کیا کرو میں اچھی طرح سے جانتی ہوں کہ وہ کتنا ٹھیک اور کیا غلط کہتے ہیں۔ مجھے سب پتہ میں تیس ۰۰۰۰۰۰۰
مجھے پتہ ہے ممی کے آپ تیس سال سے ان کے ساتھ ہیں اور ۲۸ سال سے میری پرورش کر رہی ہیں۔ یہ ایک طویل دورانیہ ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ آپ آرام کریں اور آپ لوگوں کی خدمت کی جائے۔
بیٹے کی زبان سے اپنے دل کی بات سن کر چندریکا کا دل باغ باغ ہو گیا۔ وہ بولی بیٹے تمہارے پاپا کو بھی ایسا لگتا ہے کہ اب میں بوڑھی ہو گئی ہوں لیکن ایسا نہیں ہے۔ میں اب بھی تمہاری اور اپنی بہو کی خدمت کر سکتی ہوں۔ چندریکا کی آنکھوں میں شفقت کے تارے جھلملا رہے تھے۔
ممی آپ نے جن خدشات کا ذکر کیا وہ بجا ہیں لیکن اب زمانہ بدل گیا ہے؟
چندریکا بولی تم کیا کہنا چاہتے ہو میں نہیں سمجھی بیٹے۔
در اصل پہلے زمانے میں جو مسائل والدین حل کے ہوئے تھے اب بچے خود انہیں حل کرنے کی سعی کرتے ہیں۔
چندریکا اب بھی وجئے کا اشارہ نہیں سمجھ سکی لیکن اس بیچ کمار کمرے میں داخل ہو گیا۔ وہ بولا او ہو میں تو اپنے ساتھ ایمبولنس لانے والا تھا لیکن یہاں تو ناشتہ ہو رہا کافی کا دور چل رہا ہے۔ اگر یہ سب بیماری کی حالت میں ہوتا ہے تو ۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۔
چندریکا نے مڑ کر دیکھا اور بولی یہ کباب میں ہڈی کہاں سے آ گئی؟
کمار بولا ہڈی نہیں سبزی۔ میں آتے آتے لوکی اپنے ساتھ لے آیا تاکہ دوبارہ دوکان جانے کی پریشانی نہ اٹھانی پڑے۔
چندریکا بولی اچھا کیا۔ کم از کم بڑھاپے میں کچھ تو سمجھ آنے لگی ہے خیر یہ سبزی باورچی خانے میں رکھو۔ میں ابھی آتی ہوں۔ اس کے بعد وہ وجئے سے بولی بیٹا اب تو کچھ دیر آرام کر پھر اگر ضرورت ہوئی تو ڈاکٹر کے پاس چلتے ہیں۔
وجئے کو افسوس تھا بات ادھوری رہ گئی اور ایک اچھا موقع ہاتھ سے نکل گیا۔ اس کی طبیعت سنبھل چکی تھی لیکن دفتر جانے کا خیال وہ اپنے دل سے نکال چکا تھا۔ اس نے فون پر اطلاع دے دی کہ آج اس کی طبیعت ناساز ہے۔ وہ دفتر نہیں آئے گا اگر کوئی ضروری کام ہو تو ای میل کر دیا جائے، وقفہ وقفہ سے میل دیکھتا رہے گا۔
باورچی خانے کے اندر چندریکا نے کمار سے کہا دیکھو اب ہمارا بیٹا جوان ہو گیا وہ ہماری باتیں سمجھنے لگا ہے اس لئے آپ اپنی زبان پر لگام رکھا کریں۔
کمار بولا بھئی میں نے بھی یہی کہا تھا کہ ہمارا بیٹا جوان ہو گیا ہے اب اس کی شادی ہو جانی چاہئے تاکہ ۰۰۰۰۰۰
پھر وہی فضول بات۔ در اصل مجھے لگتا ہے آپ کی بات سے اس کی دلآزاری ہو گئی۔ وہ کہہ رہا تھا میرے خدشات بجا ہیں، زمانہ بدل گیا ہے۔ آج کل والدین کے بجائے ۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
ہاں ہاں میں سمجھ گیا لیکن تم نہیں سمجھیں۔
کیا؟ میں نہیں سمجھی کیا مطلب؟
جی ہاں آخر تم ایک معمولی سبزی فروش کی بیوی جو ہو اس لئے اپنے ہونہار انجینئر بیٹے کی بات کیسے سمجھ سکتی ہو؟
چندریکا منہ بگاڑ کر بولی تم بھی تو سبزی فروش کے سبزی فروش ہی رہے۔ اگر کلکٹر بن جاتے تو میں بھی کلٹرائن بن جاتی۔ اس میں سارا قصور آپ کا ہے؟
جی ہاں بھاگوان جب بھی کوئی قصور ہوتا ہے وہ میرا ہی ہوتا ہے اس لئے کہ اس پر میری اجارہ داری ہے۔ اس دوران میں کلکٹر تو نہیں لیکن ایک ہونہار کمپیوٹر انجینیر کا باپ ضرور بن گیا لیکن تم رہیں وہی گھامڑ کندۂ نا تراش۔
اچھا تو کیا میرے وجئے کی ماں ہونے میں کوئی شک شبہ ہے؟
طبعی حیثیت سے تو تمہارے ماں ہونے کو کوئی چیلنج نہیں کر سکتا لیکن اس کا عقلی باپ میں ہوں اس لئے اس کے اشاروں کنایوں کو سمجھتا ہوں۔
اچھا اگر آپ سمجھتے ہیں تو مجھے بھی سمجھانے کی زحمت گوارا کریں۔
بھئی بات صاف ہے اس نے تمہارے لئے بہو ڈھونڈ لی ہے اور غالباً رہائش کا بھی انتظام کر لیا ہے۔
اچھا یہ تو بڑی خوشخبری ہے لیکن اس نے مجھے بتایا کیوں نہیں؟
اس نے یہ بات مجھے نہیں بلکہ تمہیں ہی بتائی لیکن اس کو سمجھنے کیلئے جس عقل کی ضرورت۰۰۰۰۰۰۰۰
پھر وہی جھگڑے والی بات؟
اچھا بابا غلطی ہو گئی۔
لیکن آپ نے جو سمجھا ہے وہ غلط بھی تو ہو سکتا ہے۔ اس کی تصدیق کیسے ہو گی؟
وہ میں کر لوں گا۔ تم اس کی فکر نہ کرو۔
بڑے آئے فکر کرنے والے۔ میں سب جانتی ہوں۔
ٹھیک ہے تم یہ تو جانتی ہو نا کہ لوکی کیسے پکائی جاتی ہے اور اس کے ساتھ تمہارا بیٹا کیا کھاتا ہے؟
جی ہاں بالکل جانتی ہوں۔
تو پھر اس کام لگ جاؤ اور جو کر سکتی ہو کرو بلاوجہ سوچنے سمجھنے کے بکھیڑے میں نہ پڑو۔ کیا سمجھیں؟
کمار کی باتوں نے چندریکا کا دل خوش کر دیا تھا لیکن اسے اطمینان نہیں ہو رہا تھا کہ یہ سب سچ ہے یا بس کمار کی خام خیالی ہے۔ ویسے وہ جانتی تھی کہ پیشے سے سبزی فروش ہونے کے باوجود کمار نہایت زیرک اور ذہین آدمی ہے۔
کمار نے وجئے کی پیشانی پر ہاتھ رکھ پوچھا بیٹے بخار تو نہیں ہے؟
جی نہیں پاپا مجھے نہیں لگتا۔
زبان کا ذائقہ کیسا ہے؟
معمولی سی کڑواہٹ ضرور ہے لیکن ٹھیک ہے۔
اچھا یہ بتاؤ کہ ہمیں اپنی بہو سے کب ملا رہے ہو؟
وجئے اس اچانک حملے کیلئے تیار نہیں تھا۔ اس نے چونک کر پوچھا کیا؟ دروازے کی اوٹ سے چندریکا یہ سب سن رہی تھی۔
کمار نے قہقہہ لگا کر پوچھا میرا مطلب تھا ہونے والی بہو سے کب ملا رہے ہو۔ اب اتنی بات تو تمہیں سمجھنی چاہئے۔
آپ ۰۰۰۰۰آپ جب مناسب سمجھیں ۰۰۰۰۰میں ۰۰۰۰۰میرا مطلب ہے ۰۰۰۰۰۰کبھی بھی۔
کیا وہ تمہارے ساتھ دفتر میں کام کرتی ہے؟
جی ۰۰۰۰۰جی نہیں ۰۰۰۰۰۰وہ کام نہیں کرتی ۰۰۰۰۰۰وہ کالج میں پڑھتی تھی ۰۰۰۰۰میرا مطلب ہے۔
سمجھ گیا اور گھر کہاں ہے؟
مڈ ویسٹ ریلوے اسٹیشن کے قریب۔
کیا؟ وہ تو بہت دور مضافات میں ہے؟ کیا وہ لوگ مڈویسٹ میں رہتے ہیں؟
جی ۰۰۰۰۰۰جی نہیں ۰۰۰۰۰۰۰وہ تو سینٹرل لندن میں رہتی ہے۔ اپنے والدین کے ساتھ۔
اور مڈ ویسٹ؟ ۰۰۰۰۰۰۰۰۰ہاں اچھا سمجھ گیا۔ مڈویسٹ میں تم نے گھر دیکھ لیا ہے بہت خوب۔ تو ہم لوگوں کو اپنے نئے گھر میں کب لے کر چلو گے؟
وجئے نے اپنا پرانا جواب دوہرا دیا۰۰۰ آپ ۰۰۰۰۰آپ جب مناسب سمجھیں ۰۰۰۰۰میں ۰۰۰۰۰میرا مطلب ہے ۰۰۰۰۰۰کبھی بھی۔ وجئے کو کو خوف تھا کہ اگر یہ لوگ آج ہی تیار ہو جائیں تو اس گھر کنجی کنگنا کے پاس ہے۔ یہ راز ابھی افشاء نہیں ہوا تھا کہ وہ مکان کنگنا کے والد کھنہ صاحب کا ہے۔
کمار بولا ویسے کوئی جلدی نہیں ہے کسی اتوار کو چلے چلیں گے۔
اس جملے کو سن کر وجئے کی جان میں جان آئی لیکن باہر کھڑی چندریکا مایوس ہو گئی۔ وہ آج ہی دونوں کام کرنا چاہتی تھی۔ اپنی ہونے والی بہو سے بھی ملنا چاہتی تھی اور اپنے بیٹے کا گھر بھی دیکھنا چاہتی تھی۔ در اصل وہ بھول گئی تھی وجئے نے بیماری کے سبب چھٹی لی ہے اور سچ بھی یہی تھا کہ اپنے والد سے بات کرنے کے بعد وجئے کی طبیعت سنبھل گئی تھی۔ اس کے باوجود دفتر جانے کا موڈ نہیں تھا۔
کمار نے کہا ٹھیک ہے بیٹے تم آرام کرو میں دوکان پر جاتا ہوں۔
وجئے بولا شکریہ پاپا اور بستر پر لیٹ گیا۔ اب اس کی آنکھیں بند تھیں اور وہ مستقبل کے حسین خواب سجا رہا تھا۔
وجئے کے سامنے اب دو مراحل تھے۔ ایک تو کنگنا سے اپنے والدین کی ملاقات کرو انا اور دوسرے اپنا نیا گھر ان کو دکھلانا۔ اس کو یقین تھا کہ کنگنا انہیں پسند آ جائے گی لیکن گھر والا معاملہ ذرا ٹیڑھا تھا۔ نہ اِس گھر میں کنگنا کیلئے جگہ تھی اور نہ اُس گھر میں والدین کیلئے گنجائش تھی خیر زندگی چکی کے ان دو پاٹ کے درمیان گھوم رہی تھی۔ وجئے نے جب اپنے والدین کی خواہش کا ذکر کنگنا سے کیا تو وہ بولی اس بابت تم اپنے باس سے بات کرو اور گھر کی چابی بھی لے کر اپنے پاس رکھ لو تاکہ وقتِ ضرورت اپنے والدین کو لے جا سکو۔ اس سے پہلے کہ وجئے کھنہ صاحب سے بات کرتا کنگنا نے یہ بات ان کے گوش گزار کر دی تاکہ وہ ذہنی طور پر تیار ہو جائیں۔
وجئے نے جب ان سے ذکر کیا تو کھنہ صاحب نے بڑی کشادہ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس سے کمار کا فون نمبر لیا اور تمام تکلفات کو ایک جانب رکھ کر اپنے دوست و احباب کے ساتھ کوٹھی پر آنے کی دعوت دے دی۔ کمار کو کھنہ صاحب کی خوش مزاجی بہت پسند آئی۔ اتوار کی دوپہر میں کمار، چندریکا، راجن، ریوتی اور سنجے کا قافلہ وجئے کے ساتھ کمار صاحب کی کوٹھی میں پہنچ گیا۔
بھان متی نے ان سب کی بہت خاطر مدارات کی۔ کنگنا بھی بڑے احترام کے ساتھ پیش آئی اور سب کا دل جیت لیا۔ اس نشست میں کھانے پینے کے بعد شادی کا مہورت بھی طے کر دیا گیا۔ ریوتی سنجے کے ساتھ ساتھ وجئے کو اپنا بیٹا مانتی تھی۔ وہ بہت خوش تھی کہ وجئے کا بیاہ ایک نہایت پر وقار خاندان میں ہونے جا رہا تھا۔ چندریکا کو یقین تھا کہ سنجے کی بھی شادی اسی طرح طے ہو گی اور دونوں بیٹے اپنا اپنا گھر بسائیں گے۔
اس تقریب کے ایک ہفتہ بعد جب وجئے اپنے والدین کو لے کر مڈویسٹ پہنچا تو وہ لوگ راستے میں ہی بیزار ہو گئے۔ ایک تو وہاں پہنچنے کیلئے انہیں دو مرتبہ ٹرین بدلنا پڑا دوسرے ریلوے اسٹیشن سے گھر کا فاصلہ اور وہاں کا سونا پن یہ سب کمار اور چندریکا کیلئے بہت تکلیف دہ تھا۔ ڈیڑھ گھنٹے کی مسافت کے بعد جب وہ گھر میں داخل ہوئے تو اس کی وسعت نے ان کی مایوسی میں اضافہ کر دیا۔ گھر چونکہ بند تھا اس لئے وہاں بیٹھنے کیلئے چند کرسیاں اور باورچی خانے میں صرف چائے کا سامان تھا۔ بسکٹ اور نمکین وجئے اپنے ساتھ لیتا آیا تھا۔
وجئے جب اپنے والدین کیلئے چائے بنا رہا تھا چندریکا نے کمار سے پوچھا۔ یہ ہمارا بیٹا شہر سے دور کس جنگل میں چلا آیا ہے؟ ہم یہاں کیسے رہیں گے؟
کمار بولا ہم یہاں کیوں رہیں گے؟ ہم اپنے گھر میں رہیں گے۔ یہاں تو وہ کنگنا کے ساتھ رہے گا۔
لیکن وہ بھی اس ویران سنسان علاقہ میں کیسے رہے گا؟
یہ بھی انسانوں کی بستی ہے۔ یہاں بہت سارے لوگ آباد ہیں۔ جیسے دوسرے لوگ رہتے ہیں ویسے وہ بھی رہے گا۔
لیکن اتنی دور آنا جانا بھی تو ایک مسئلہ ہے؟
لیکن ہم جیسے غریب لوگوں کیلئے شہر کے اندر مکان لینا تو درکنار اس کا کرایہ ادا کرنا بھی مشکل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ ان علاقوں میں آ کر بس گئے ہیں۔ وجئے جوان ہے اس کیلئے فی الحال سفر میں دقت نہیں ہے۔ تم اس کی فکر نہ کرو۔
چندریکا بولی لیکن آپ کنگنا کے بارے میں نہیں سوچتے؟ اپنے وجئے کے باعث وہ وسط لندن کی شاندار کوٹھی سے نکل کر اس گھونسلے میں آ کر کیا خوش رہ سکے گی؟
یہ سوال کمار کو پچیس سال قبل کے ماضی میں لے گیا۔ وہ بولا چندریکا تم بھول گئیں وہ دن جب تم اپنا دیس، اپنے لوگ، اپنا گھر سنسار چھوڑ چھاڑ کر ایک اجنبی دیس میں چلی آئی تھیں۔ ہم لوگ راجن کے پرانے خستہ حال مکان کے پچھواڑے میں ایک چھپر نما جھونپڑے میں رہتے تھے۔ سردیوں کی رات کاٹے نہیں کٹتی تھی۔ برف باری کے سبب دروازہ نہیں کھلتا تھا لیکن اس کے باوجود کیا تم خوش نہیں تھیں؟
چندریکا خاموشی کے ساتھ خلاء میں دیکھ رہی تھی۔
راجن نے کہا بولو چندریکا چپ کیوں ہو؟ کیا تم اس زمانے میں افسردہ تھیں؟
چندریکا کے پاس کمار کے سوالات کا جواب نہیں تھا۔ سچ تو یہ ہے کہ کمار کو جواب کی ضرورت بھی نہیں تھی۔ وہ تو صرف یاددہانی کی خاطراستفسار کر رہا تھا۔ چندریکا کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔ محبت کے آنسو، عقیدت کے آنسو، رفاقت کے آنسو۔
وجئے نے چائے کی پیالیاں ایک ننھی سی تپائی پر رکھ دیں۔ اس کے پاس ایک رکابی میں بسکٹ اور نمکین رکھ دیا۔ پہلی بار وجئے اپنے والدین کی خدمت کر رہا تھا اور کیوں نہ کرتا۔ وہ اس کے گھر جو آئے تھے۔ وہ اس گھر میں مہمان تھے لیکن وجئے خود ان کے گھر میں مہمان نہیں تھا۔ یہ معمہ وجئے کی سمجھ سے باہر تھا کہ اگر وہ ان کے گھر میں مہمان نہیں تھا وہ اس کے اپنے گھر میں مہمان کیسے ہو گئے تھے؟ کمپیوٹر انجینیر کی حیثیت سے ہر سوال کا جواب وہ پہلے گوگل سے پوچھتا تھا لیکن اسے یقین تھا کہ یہ کوشش بے سود ثابت ہو گی۔ یہ ایک ایسا سوال ہے جو گوگل بابا کو بھی لا جواب کر دے گا۔
چائے سے فارغ ہونے کے بعد دروازے کی جانب بڑھتے ہوئے وجئے نے پوچھا پاپا آپ کو یہ گھر کیسا لگا؟
کمار بولا بیٹے جب میں تمہاری عمر کا تھا تو میرا گھر اتنا اچھا نہیں تھا۔
چندریکا بولی اُس عمر کی چھوڑو اِس عمر میں بھی آپ کا مکان میرے بیٹے کے گھر سے اچھا نہیں ہے۔
وہ دونوں جھوٹ بول رہے تھے لیکن اس جھوٹ پیچھے چھپا سچ یہ تھا کہ نادانستہ طور پر گھروں کی تقسیم مکمل ہو چکی تھی۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰ اور سارے فریق اس پر راضی ہو گئے تھے۔
٭٭٭
دیدارِ یار
وجئے کی شادی کے سارے مراحل بخیر و خوبی طے ہو گئے۔ اس نے کنگنا کے ساتھ اپنی نئی دنیا بسا لی۔ کمار اور چندریکا اپنے جہان میں خوش تھے۔ ابتداء میں وجئے کا والدین سے ربط ضبط بہت زیادہ تھا جو وقت کے ساتھ کم ہوتا چلا گیا۔ کنگنا مڈویسٹ میں بور ہونے لگی تو اس نے ایک مقامی اسکول گلزارِ اطفال (کنڈر گارٹن) میں ملازمت کر لی۔ یہ ہلکی پھلکی مصروفیت تھی۔ وجئے کو چونکہ دفتر جانے کیلئے صبح جلدی نکلنا پڑتا تھا اس لئے وہ اس کے جانے کے بعد کام پر جاتی تھی اور شام میں وجئے کو گھر آنے میں اس قدر تاخیر ہو جاتی تھی کہ جب وہ واپس آتا تو کنگنا کھانا بنانے کے بعد ٹی وی دیکھ رہی ہوتی۔ چھٹی کے دن وہ لوگ ایک ساتھ مڈویسٹ اسٹیشن آتے کنگنا وہاں سے میکے چلی جاتی اور وجئے چندریکا کے پاس آ جاتا۔
تین سال کا عرصہ دیکھتے دیکھتے ہوا ہو گیا۔ کنگنا نے ایک چاند سے بیٹے کو جنم دیا جس کا نام کشور رکھا گیا۔ کشور کا ناک نقشہ بالکل کمار کی مانند تھا۔ وجئے چونکہ اپنی ماں چندریکا کی فوٹو کاپی تھا اس لئے کشور اور وجئے ایک دوسرے سے بہت مختلف لگتے تھے۔ گولڈ کئیر کلینک کھنہ صاحب کے گھر سے قریب تھا۔ چندریکا کا خیال تھا کہ کنگنا دوا خانے سے نکل کر میکے جائے گی پھر بھی اس نے پوچھ لیا۔
بیٹی اس دوا خانے میں آپ کب تک رہو گی؟
ڈاکٹر کی رائے ہے دو روز بعد مجھے گھر جانے کی اجازت مل جائے گی۔
اچھا تو پھر تم یہاں سنٹرل لندن میں کب تک رہو گی؟
سینٹرل لندن میں کیوں؟
اچھا تو تم اپنے اس نونہال کے ساتھ کہاں رہو گی؟
میں یہاں سے سیدھے مڈویسٹ کے اپنے مکان میں جاؤں گی۔
مڈویسٹ؟ لیکن وہاں تم اکیلے کیسے رہو گی؟ اس بچے کے ساتھ تمہیں پریشانی ہو سکتی ہے؟ اس حالت میں تمہارا اور بچے کا خیال کون رکھے گا؟
کنگنا ہنس کر بولی ممی آپ نے میرے اور اس بچے کے بارے میں سوچا لیکن مجھے تو اس کے باپ کے بارے میں بھی سوچنا پڑتا ہے۔
وجئے؟ وجئے کو کیا پریشانی ہے؟
وہ در اصل میرے والد کے گھر میں نہیں رہنا چاہتے۔ اب آپ ہی سوچئے کوئی انسان اکیلے مڈویسٹ میں کیسے رہ سکتا ہے۔ صبح تڑکے نکلنا اور رات ڈھلے پہنچنا اپنے آپ میں ایک تھکا دینے والا کام ہے۔ اس لئے میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میں یہاں سے سیدھے مڈویسٹ جاؤں گی اور پھر جیسے بھی ممکن ہو ہم گزارہ کر لیں گے۔
چندریکا اس جواب سے لاجواب ہو گئی۔ اس نے کہا ٹھیک ہے بیٹی جیسا بھی آپ لوگ مناسب سمجھیں حالانکہ اس مسئلہ کا آسان حل یہ تھا کہ جب تک کنگنا اپنے میکے میں رہتی وجئے اپنے والدین کے پاس چلا آتا لیکن چندریکا اسے پیش کرنے کی جرأت نہ کر سکی۔ وہ آگے بڑھنے سے قبل کمار کے ساتھ اس بابت مشورہ کرنا چاہتی تھی۔
دوا خانے سے واپس ہوتے ہوئے اس نے کمار سے کہا یہ کنگنا بھی آپ کی مانند تھوڑی سی پاگل ہے۔
کمار بولا کیا میرے بارے تمہاری رائے بدل گئی ہے؟
چندریکا کو اس جواب کی توقع نہیں تھی وہ بولی جی نہیں یہ تو میری پرانی رائے ہے۔ میں نے کبھی بھی آپ کو عقلمند نہیں مانا۔
مجھے پتہ ہے لیکن پہلے تم مجھے بہت بڑا پاگل کہتی تھیں اس بار غالباً کنگنا کی رعایت میں چھوٹا کر دیا۔
بھئی بال کی کھال نکالنے سے کیا فائدہ پاگل تو پاگل ہوتا ہے چھوٹا کیا اور بڑا کیا اس سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا۔
خیر تم مجھے کنگنا کے پاگل پن کے بارے میں بتا رہی تھیں۔
جی ہاں آپ بات کو کہیں اور لے گئے اس میں میرا کیا قصور؟
ہاں بھاگوان سارا قصور میرا ہے اب اپنی بات بتاؤ۔
وہ ایسا ہے کہ کنگنا دوا خانے سے نکل کر مڈویسٹ اپنے گھر جانا چاہتی ہے۔
اچھا تو اس میں کیا غلط ہے؟ تم یہ تو نہیں چاہتیں کہ وہ دوا خانے سے سیدھے تمہارے گھر آ دھمکے۔
چندریکا بولی اس میں کیا حرج ہے۔ اس گھر پر جیسے وجئے کا حق ہے اسی طرح کنگنا بھی وہاں رہنے کی حقدار ہے۔ آپ کو اس پر اعتراض ہے کیا؟
میں کون ہوتا ہوں ساس بہو کے درمیان دخل دینے والا۔ آپ لوگوں کی جو مرضی ہو وہ کرو۔ میرا کیا؟
یہ ہوئی نا سمجھداری کی بات کہ آپ ہمارے درمیان دخل اندازی نہیں کر سکتے لیکن وہ ہمارے گھر نہیں آنا چاہتی۔
یہ تو تم مجھے بت اچکی ہو کہ وہ مڈویسٹ میں اپنے گھر جانا چاہتی ہے اس میں پریشانی کی کیا بات ہے؟
پریشانی کیوں نہیں ہے۔ آپ کیا جانیں خواتین کے مسائل؟ یہ پہلا بچہ ہے۔ اس بیچاری کو بچہ سنبھالنے کا تجربہ نہیں ہے۔ اس کے پاس کوئی بزرگ تو درکنا ایسا ساتھی بھی نہیں ہے جو ہاتھ بٹا سکے۔ میرے خیال میں تو اسے اپنے میکے چلے جانا چاہئے تھا۔ وہاں اس کی ماں کے علاوہ نوکر چا کر بھی ہیں۔
ہاں ہاں تو کس نے منع کر دیا اسے اپنے میکے جانے سے۔
تمہارے بیٹے وجئے نے۔
کمار نے حیرت سے کہا وجئے نے؟ میں نہیں مانتا۔
کیوں نہیں مانتے؟ وجئے ایسا کیوں نہیں کر سکتا؟
بھئی وجئے اس لئے ایسا نہیں کر سکتا کہ وہ میری طرح سنگدل نہیں ہے۔
آپ کی یہ بات بھی درست ہے میرا بیٹا آپ کی طرح پتھر دل ہو بھی کیسے سکتا ہے؟ خیر وجئے نے منع تو نہیں کیا مگر وجئے کی زحمت کے خیال نے کنگنا کو روک دیا۔ وجئے چونکہ اپنی سسرال میں رہنا نہیں چاہتا اس لئے مجبوراً کنگنا کو مڈویسٹ جانے کا فیصلہ کرنا پڑا۔
بھئی وجئے اگر اپنی سسرال نہیں جانا چاہتا تو اپنے میکے بھی تو آ سکتا ہے؟ اسے کس نے منع کیا ہے؟
میکہ؟ مردوں کا بھی کہیں میکہ ہوتا ہے؟
کیوں نہیں ہوتا یہ مساواتِ مردو زن کا دور ہے۔ اگر خواتین کی سسرال کے ساتھ ساتھ میکہ بھی ہوتا ہے تو مردوں کا کیوں نہیں ہو سکتا؟
فالتو بحث تو کوئی آپ سے سیکھے۔ میرا خیال ہے کہ آپ وجئے سے کہیں کہ وہ عارضی طور پر ہمارے یہاں منتقل ہو جائے اور کنگنا کو اپنے میکے روانہ کر دے۔
کمار بولا دیکھو چندریکا تمہیں یاد رکھنا چاہئے کہ اب وجئے بچہ نہیں بلکہ بچے کا باپ ہو گیا ہے۔ اس کی ازدواجی زندگی کے فیصلے اب وہ خود کرے گا ۰۰۰۰ہم نہیں۔
کیا آپ کو وجئے کے اپنے پاس آ کر رہنے پر اعتراض ہے؟
جی نہیں وہ بصد شوق آ کر رہے۔ جو کچھ ہمارا ہے وہ اس کا ہے لیکن اس کا فیصلہ وہ خود کرے۔ میں یہ فیصلہ اس پر تھوپ نہیں سکتا۔
میں تم دونوں کو جانتی ہوں بلکہ شاید یہ سارے مردوں کی مشترک صفات ہیں۔ انہیں کوئی سمجھا نہیں سکتا۔
کنگنا تو مرد نہیں ہے اسے سمجھا دو۔
چندریکا منہ بسر کر بولی وہ بیچاری ابلہ ناری کیا کر سکتی ہے؟ جیسی میں ویسی وہ۔
مجھے تم دونوں سے بلکہ ساری خواتین برادری سے ہمدردی ہے۔
لیکن اس زبانی جمع خرچ کا کیا فائدہ۔ سردیوں کا موسم سر پر ہے۔ مجھے تو ڈر ہے کہ ایسے میں نہ صرف کشور بلکہ کنگنا بھی بیمار نہ ہو جائے۔ اور اگر خدانخواستہ ایسا ہو جائے تو کیا ہو گا؟
وہی ہو گا جو منظورِ خدا ہو گا۔ کمار کندھے اچکا کر بولا
چندریکا بولی میرے پاس اس مسئلے کا ایک اور حل ہے۔
وہ کیا ہمیں بھی تو پتہ چلے؟
میں تین چار ماہ تک ہر روز صبح کنگنا کے پاس جایا کروں گی اور شام میں لوٹ کر آپ کے پاس آ جایا کروں گی۔
تمہارا دماغ درست ہے۔ تمہیں پتہ ہے اپنے گھر سے مڈویسٹ کا فاصلہ اور پھر ہر روز آنا جانا کوئی مذاق ہے کیا؟
ویسے بھی آپ کے دوکان پر چلے جانے کے بعد میں گھر پر کیا کرتی ہوں۔ بیٹھی بیٹھی بور ہو جاتی ہوں۔ جب دل نہیں لگتا تو کچھ دیر ریوتی کے ساتھ گپ لگا لیتی ہوں۔ اب کنگنا کے ساتھ گپ شپ کر لیا کروں گی اور کشور کے ساتھ وقت بھی گذر جائے گا۔
وہ تو ٹھیک ہے لیکن آنا جانا کوئی کھانے کا کام ہے؟
مجھے پتہ ہے صبح مڈویسٹ کی طرف سے آنے والی گاڑیوں میں بھیڑ ہوتی ہے جانے والی خالی ہوتی ہے اور شام جانے والی میں جبکہ میں آ رہی ہوں گی اس لئے وقت تو لگے گا لیکن کوئی خاص دقت نہیں ہو گی۔
کمار نے سپر ڈال دئیے اور کہا تمہاری مرضی۔ میں تو پہلے ہی کہہ چکا ہوں کہ ساس بہو کے درمیان ۰۰۰۰۰۰۰
ایک ہی بات بار بار دوہرایا نہ کرو مجھے سب پتہ ہے۔ آپ یہ کرو کہ ایک بار یہ بات وجئے کے ساتھ کر کے دیکھو ہو سکتا ہے اسے ۰۰۰۰۰
کمار بولا اسے کیا اعتراض ہو سکتا ہے وہ تو خوشی سے پاگل ہو جائے گا۔
پھر بھی آپ ایک بار اس سے بات تو کرو۔
کمار نے کہا لو میں ابھی فون ملاتا ہوں۔ ہیلو وجئے کیسے ہو؟
اچھا ہوں پاپا۔ مجھے پتہ چلا آپ لوگ آج بھی دوا خانے آئے تھے۔ در اصل دفتر میں اس قدر کام تھا کہ سر کھجانے کی بھی فرصت نہیں ملی۔ ابھی سیدھے گھر جا رہا ہوں۔ کل کنگنا کے پاس جانے کی کوشش کروں گا۔
دیکھو بیٹے کام کا کیا ہے کہ وہ تو چلتا ہی رہتا ہے۔ کبھی ختم نہیں ہوتا لیکن انسان کو اپنی دیگر ذمہ داریوں کی جانب بھی توجہ دینی چاہئے۔
جی ہاں پاپا کنگنا بھی یہی کہہ کر مجھے عار دلا رہی تھی دیکھو ممی پاپا کتنی دور سے ہر روز اسپتال آ جاتے ہیں اور تم بہانے بناتے رہتے ہو۔ وہ تو آپ دونوں کی تعریف کرتے نہیں تھکتی۔
احسانمند بیٹی ہے کنگنا خیر تمہاری ممی نے ابھی ابھی ایک نیا فرمان صادر کیا ہے اور مجھے حکم دیا ہے کہ میں وہ تمہارے گوش گزار کر دوں۔
وجئے ڈر گیا۔ کہیں ممی نے ان دونوں کو اپنے گھر بلا لیا تو مصیبت ہو جائے گی۔ پہلے تو دو تھے اب تین مہمان کہاں رہیں گے؟ وہ بولا پاپا کیا کہتی ہیں ممی۔ ان کا ہر حکم سر آنکھوں پر۔
بہت خوب اسے کہتے ہیں سعادتمند اولاد خیر۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ اگلے چار ماہ تک ہر روز تمہارے گھر آیا جایا کرے گی تاکہ زچہ اور بچہ کا شایانِ شان خیال رکھا جا سکے۔
ہر روز؟ یہ تو بہت مشکل ہے۔
کیوں اس میں تمہیں کیا مشکل ہے؟
مجھے ۰۰۰۰مجھے کیا مشکل ہو سکتی ہے۔ یہ ان کیلئے بڑی زحمت کا سبب ہو سکتا ہے۔ ویسے وہ جب بھی آئیں جائیں یہ ہمارے لئے سعادت ہے۔
ٹھیک ہے بیٹے تو کل ہم لوگ دوا خانے نہیں آئیں گے پرسوں تمہارے گھر پر ملاقات ہو گی۔ تم ایک دن کی چھٹی لے لینا۔
جی ہاں پاپا۔ ضرور پرسوں تو چھٹی لینی ہی پڑے گی۔
فون بند کرنے کے بعد وجئے کا سینہ فخر سے پھول گیا۔ اس کی ساس بھان متی یقیناً بہت ذہین عورت تھی لیکن چندریکا کو اس پر فوقیت حاصل تھی۔ چندریکا کے دردمند دل کے آگے بھان متی کا تیز دماغ ہیچ تھا۔
چندریکا کے مڈویسٹ آنے جانے سلسلہ چل پڑا۔ ایک ہفتہ کے اندر وہ اس قدر عادی ہو گئی تھی کہ اسے محسوس ہی نہ ہوتا تھا کہ کب نکلی اور کب پہنچ گئی۔ وجئے نے اسے انٹرنیٹ کنکشن کے ساتھ ایک نیا اسمارٹ فون دلا دیا تھا۔ وہ راستے بھر کبھی واٹس اپ کی پیغامات پڑھتی رہتی کبھی اس سے موصول ہونے والے ویڈیو دیکھتی رہتی اور کبھی فیس بک کے اوٹ پٹانگ نقش دیوار دیکھنے میں مگن رہتی۔ پتہ ہی نہیں چلتا کہ سفر کب شروع ہوا اور کب ختم ہو گیا؟
کشور تو چندریکا کے ساتھ اس قدر گھل مل گیا تھا کہ کنگنا سے زیادہ اس کی آغوش میں خوش رہتا۔ صبح صبح جیسے ہی اپنی دادی کو دیکھتا مست ہو جاتا اور شام میں جب وہ واپس چلی جاتی تو اداس ہو جاتا تھا۔
وقت کا پہیہ گھوم رہا تھا۔ کنگنا کو اسکول سے ایک ماہ کی چھٹی ملی تھی۔ وہ مدت تمام ہوئی تو اس نے ایک ماہ کی اضافی چھٹی مانگ لی۔ جب وہ مدت بھی پوری ہو گئی تو چندریکا کی مرضی سے اس نے اسکول جانا شروع کر دیا۔ کشور اور چندریکا دن بھر ایک دوسرے میں مگن رہتے شام میں کنگنا کے لوٹنے کے بعد چندریکا اپنے گھر کی راہ لیتی۔ اس دوران ایک دن اچانک چندریکا کی طبیعت خراب ہو گئی۔ صبح سے اس کی طبیعت کچھ بوجھل تھی مگر شام ہوتے ہوتے اس کے سینے میں شدید درد ہونے لگا۔
اس نے کمار کو فون کر کے کہا میرے راجکمار کیسے ہو؟
کمار نے ایک طویل عرصے کے بعد یہ لقب سنا تھا۔ جب ان دونوں کی نئی نئی شادی ہوئی تھی تو کبھی کبھی کبھار کمار کو چھیڑنے کیلئے چندریکا یہ کہا کرتی تھی۔ یہ اس زمانے کی بات ہے جب وہ لندن نہیں آئے تھے۔ برطانیہ میں آنے کے ۲۸ سال بعد پہلی مرتبہ چندریکا کے منہ سے یہ سن کر وہ چونک پڑا۔ وہ بولا کیوں چندریکا خیریت تو ہے؟ آج اچانک تم نے مجھے ۰۰۰۰۰۰۰۰
جی ہاں۔ میں نے سب سے پہلے تمہیں یہی کہہ کر پکارا تھا اور اب شاید میرا آخری وقت آ گیا۔ آپ جلد از جلد میرے پاس آ جائیں۔
وجئے کہاں ہے؟ کیا کنگنا وہاں نہیں ہے؟
جی نہیں یہاں میرے پاس صرف کشور ہے ۰۰۰۰ میرا پوتا کشور اب آپ سوالات میں اپنا وقت ضائع نہ کریں ورنہ ممکن ہے میں آپ کا آخری دیدار نہ کر سکوں؟ اسی کے ساتھ فون بند ہو گیا۔
کمار کی سمجھ میں کچھ نہیں آیا۔ چندریکا نے اس طرح کی گفتگو پہلے کبھی نہیں کی تھی۔ اس کے لہجے میں بلا کا اعتماد تھا۔ ایسا لگتا تھا گویا اس نے تقدیر کا لکھا پڑھ لیا ہے۔
کمار نے اپنے آپ کو سنبھالا راجن سے اجازت لے کر گھر آیا اور نکلنے سے پہلے سوچا شاید کے وہاں رک جانا پڑے اس لئے ایک جوڑا کپڑا ساتھ لے لیا۔ دروازہ بند کرتے ہوئے اسے خیال آیا کہ ممکن ہے وجئے اپنی ماں کے ساتھ آئے اس لئے اس نے بستر کو درست کیا اور اس پر صاف چادر ڈال دی۔ تکیہ درست کیا اور باہر نکل آیا۔ اتفاق سے اسی وقت سنجے اندر داخل ہو رہا تھا۔
سنجے نے پوچھا انکل خیریت تو ہے آپ کچھ پریشان لگ رہے ہیں؟
ہاں بیٹے تمہاری آنٹی کی طبیعت کچھ خراب ہو گئی ہے۔
اچھا؟ کہاں ہیں آنٹی؟
وہ تو مڈویسٹ میں وجئے کے گھر پر ہے۔
اچھا تو آپ مڈویسٹ جا رہے ہیں؟
جی ہاں بیٹے وہیں جا رہا ہوں۔
او ہو اس وقت تو ٹرین میں خاصی بھیڑ بھاڑ ہو گی۔ آپ دو منٹ رکیے میں آپ کو اپنی گاڑی میں لئے چلتا ہوں۔
کمار بولا شکریہ بیٹے لیکن مجھے جلدی ہے۔
میں ابھی آیا۔ چند منٹ کے اندر وہ دونوں مڈویسٹ کی جانب رواں دواں تھے۔
کمار نے فون کر کے خیریت معلوم کی اور بتایا کہ وہ بہت جلد سنجے کے ساتھ گاڑی میں اس کے پاس پہنچ جائے گا۔
چندریکا نے بتایا وہ لیٹی ہوئی ہے۔ وجئے آ چکا ہے اور ٹی وی دیکھ رہا ہے کنگنا بازار لینے گئی ہے۔ وہ جلد ہی آ جائے گی۔ آپ نیچے پہنچ کر ہارن بجائیں میں آ جاؤں گی۔
سنجے نے ایک بار چندریکا کے بارے میں پوچھا اور پھر فون پر لگ گیا۔ اس کو نہ جانے کتنے فون آتے جاتے تھے کہ اپنے پاس بیٹھے کسی شخص سے بات کرنے کا موقع ہی نہ ملتا تھا لیکن فون کے ساتھ ساتھ گاڑی کا پہیہ بھی تیزی سے گھوم رہا تھا اور کمار ہر پل اپنی منزل سے قریب تر ہوتا جا رہا تھا۔
اس سے پہلے کہ کنگنا واپس آتی گاڑی کا ہارن بجا۔ سنجے کی گاڑی کا ہارن چندریکا پہچانتی تھی۔ وہ اپنے بستر سے اٹھی اور کشور کی جانب مڑ کر دیکھا۔ کشور بھی اس کو کنکھیوں میں دیکھ رہا تھا۔ چندریکا نے خلاف عادت اس کی پیشانی پر بوسہ دیا تو وہ ہوا میں ہاتھ مارنے لگا اس کے گلے سے کلکاریاں نکل رہی تھیں۔ کشور کی مسکراہٹ نے چندریکا کا نصف درد کم کر دیا۔ وہ کمرے سے باہر آئی اور دیکھا وجئے ٹی وی پر تمل ٹائے گرس سے متعلق نشر ہونے والی ایک دستاویزی فلم میں کھویا ہوا ہے۔ چندریکا نے دروازے کے پاس سے کہا بیٹے تمہارے پاپا آ گئے ہیں میں جا رہی ہوں۔
وجئے نے اس کی جانب دیکھے بغیر کہا ٹھیک ہے ممی۔
نحیف و کمزور چندریکا کو دیوار کے سہارے گھر سے باہر آتے ہوئے کمار نے دیکھا۔ اس کے ساتھ نہ وجئے تھا اور نہ کنگنا تھی۔ اس نے سنجے کی جانب مڑ کر دیکھا تو فون پر لگا ہوا تھا۔ کمار کا دل ڈوبنے لگا۔ اس نے چندریکا کو سہارا دینے کیلئے گاڑی کا دروازہ کھولنے کی کوشش کی مگر اس کے ہاتھ شل ہو چکے تھے۔ اس نے اپنے پیروں کو جنبش دی تو وہ اپنی جگہ منجمد تھے۔ چندریکا دور سے اپنے کمار دیکھ رہی تھی۔ کمار کی آنکھیں پتھرا رہی تھیں۔ وہ دور سے سہی اپنے راج کمار کا آخری دیدار کر رہی تھی۔
کنگنا جس وقت یہ منظر بیان کیا تینوں کے آنکھیں نم تھیں۔
ثناء نے ماحول بدلنے کی خاطر سوال کیا اچھا تو کشور کہاں ہے؟ اس کو تم لوگ اپنے ساتھ کیوں نہیں لائے؟
کنگنا بولی وہ کیا ہے کہ میری ماں نے اس کو اپنے پاس یہ کہہ کر رکھ لیا کہ تم دو بچوں کو ایک ساتھ نہیں سنبھال سکتیں؟
سوژان نے پوچھا دو؟ دوسرا کہاں سے آ گیا؟
عقب سے وجئے کی آواز آئی دوسرا یہ ہے بھابی۔ یہ ماں بیٹی مجھے کشور سے ننھا بچہ سمجھتی ہیں۔
جیکب بولا وہ تو ٹھیک ہے لیکن تم لوگوں نے یہ کیا روتی صورت بنا رکھی ہے۔
رابرٹ نے کہا یہ سوچ رہی ہیں کہ ہمارے ہاتھ کوئی مچھلی نہیں لگی۔ ہم لوگ بے نیل مرام لوٹے ہیں۔
سوژان بولی اگر ایسا بھی ہے تو کیا مشکل؟ کراؤن پلازہ کا مطعم جو ابھی بند نہیں ہوا ہے۔
ثناء بولی جی نہیں مجھے تو یقین ہے کہ جیکب کے ہوتے آپ لوگ خالی ہاتھ نہیں لوٹ سکتے۔
سوژان نے تائید کرتے ہوئے کہا ویسے البرٹ بھی کم تجربہ کار نہیں ہے بحیرہ اوقیانوس سے لے کر خلیج چین تک ہر جگہ کے شکار کا تجربہ رکھتے ہیں۔
اس نوک جھونک سے بے نیاز کنگنا اپنے تصور کی دنیا میں کھوئی ہوئی تھی۔ وہ اپنے من کی آنکھوں سے چندریکا اور کمار سنگے کا دیدار کر رہی تھی۔
کنگنا سوچ رہی کہ کاش:
وہ اس روز بازار نہیں جاتی!
سنجے فون پر مصروف نہ ہوتا!!
وجئے ٹیلیویژن کے بجائے چندریکا کی جانب متوجہ ہوتا!!!
٭٭٭
گلی ڈنڈا
البرٹ اپنی زوجہ سوژان کے ساتھ راس الخیمہ میں چھٹی منا رہا تھا۔ رضوان سالانہ تعطیلات گذارنے کے لیے بنگلا دیش گیا ہوا تھا۔ کوٹھی میں صرف غضنفر اور کرشنن رہ گئے تھے۔ ایسے میں وقت گزاری کے لیے غضنفر نے پی ٹی وی چلا دیا جس پر ایک پرانا ڈرامہ نشر ہو رہا تھا۔
کرشنن نے اسے بند کرنے کے لیے ہاتھ بڑھایا تو غضنفر وہ بولا میں ملیالی ڈرامے دیکھتے دیکھتے تمہاری زبان سیکھ چکا ہوں۔ آج تو تمہیں اردو ڈرامہ دیکھنا ہی ہو گا۔
کرشنن نے ہنس کر کہا بدلہ لے رہے ہو کیا؟
نہیں انصاف کی بات ہے اگر تم مجھے بور کرنے کا حق رکھتے ہو تو مجھے بھی یہ حق ملنا چاہیے۔ میں نے تمہارے چکر میں اس قدر ملیالم سیریل دیکھے ہیں کہ خدا کی قسم دنیا کی مشکل ترین زبان سیکھ گیا۔
ملیالم میں کیا مشکل ہے؟ ہمارے صوبے کا بچہ بچہ یہ زبان بولتا ہے۔
غضنفر کا دماغ چکرا گیا۔ وہ بولا کیا مطلب ملیالی بچے مجھ سے زیادہ ذہین ہیں؟
یہ میں نے کب کہا؟ میں نے تو بس ایک حقیقت کا اظہار کیا ہے۔
اگر ایسا ہے تو ہمارا بھی بچہ بچہ پشتو بولتا ہے۔ کیرالہ کا بچہ تو کجا بوڑھا بھی پشتو جانتا ہے؟
ٹھیک ہے بھائی نہیں جانتا جیسے صوبہ پختونخواہ کا بچہ ہو یا بڑا ملیالم نہیں جانتا۔ میچ ڈرا ہو گیا ٹھیک ہے۔ اب فٹبال لگاؤ جو نہ پشتو ہے اور نہ ملیالم۔
میں تمہارے جھانسے میں نہیں آؤں گا۔ دیکھو بچے تو ایک دوسرے کی زبان نہیں جانتے لیکن میں تمہاری زبان جانتا ہوں اور تم ہماری زبان نہیں جانتے۔ اب بولو؟
مجھے نہیں لگتا کہ تم جیسا پٹھان کچھ سیکھ سکتا ہے
اچھا اگر یقین نہیں آتا تو امتحان لے لو؟
ایسی بات ہے تو بتاؤ کہ ملیالم میں پانی کو کیا کہتے ہیں؟
بھئی پانی کو پانی کہتے ہیں اور کیا کہتے ہیں؟
وہ تو مجھے پتہ ہے کہ اردو میں پانی کہتے ہیں لیکن کیا دنیا کی ساری زبانوں میں پانی کو پانی ہی کہتے ہیں؟ میں پوچھ رہا ہوں کہ ملیالی زبان میں پانی کو کیا کہتے ہیں؟ ابھی ابھی تم نے دعویٰ کیا تھا کہ ملیالم زبان سیکھ گئے ہو اور امتحان کے لیے تیار ہو۔
غضنفر دماغ پر زور ڈال کر بولا ویلم کہتے ہیں۔
یہ کرشنن کی توقع کے خلاف تھا۔ وہ بولا کمال ہو گیا اچھا اب یہ بتاؤ کہ ٹھنڈے پانی کو کیا کہتے ہیں؟
یار اب یہ ٹھنڈے گرم کا چکر چھوڑو تم تو جانتے ہو کہ میں جاڑے کے موسم میں بھی ٹھنڈے پانی سے نہاتا ہوں۔
میں نہیں جانتا کہ تم سردیوں میں نہاتے بھی ہو یا نہیں اور نہ جاننا چاہتا ہوں۔ میں تو یہ پوچھ رہا تھا کہ پینے کے ٹھنڈے پانی کو کیا کہتے ہیں؟
بھائی پینے کا پانی تو ٹھنڈا ہی ہوتا ہے فریج کا ہو مٹکے کا؟ ہوتا تو ٹھنڈا ہی ہے بلکہ ہینڈ پمپ کا پانی تک ٹھنڈا ہوتا ہے۔ ویسے میں نہیں جانتا کہ کیرالا میں ہوتا ہے یا نہیں مگر ہمارے پاورش میں تو یہی ہوتا ہے۔
بھائی میں پاورش کی نہیں یہاں کی بات کر رہا تھا کیا تم نے ہر ملیالی ہوٹل میں پینے کا گرم پانی نہیں دیکھا اور اس کے ساتھ ٹھنڈا پانی بھی ہوتا ہے۔
دیکھا تو ہے لیکن کبھی گرم پانی پینے کی ہمت نہیں کی۔
کوئی بات نہیں لیکن اس کو کہتے کیا ہیں؟
یار تم کبھی گرم پانی کے بارے میں پوچھتے ہو کبھی ٹھنڈے پانی کے بارے میں آخر یہ چکر کیا ہے؟
یہ امتحان ہے۔ اچھا چلو ان دونوں میں سے کسی ایک نام بتا دو تب بھی سمجھو کہ تم کامیاب ہو گئے۔
غضنفر نے پھر اپنے دماغ پر زور ڈالا اور ڈرتے ڈرتے بولا ایک کیا دونوں کے نام بتا دیتا ہوں۔
دونوں کے! اچھا تو جلدی سے بتاؤ؟
ایک کا نام ہے چوڑ اور دوسرے کا تڑتل۔ کیوں ٹھیک ہے نا؟
کرشنن کو غضنفر کی زباندانی نے حیرت میں ڈال دیا تھا۔ اس نے کہا اچھا یہ بتاؤ کہ کھانے کو کیا کہتے ہیں۔
غضنفر آئے دن یہ الفاظ کیرالہ والوں کے ہوٹلوں میں سنا کرتا تھا اس لیے وہ فوراً بولا ساپڑ کہتے ہیں چاہو تو یہ بھی بتا دوں کہ موٹے یا باریک چاول کو کیا کہتے ہیں؟
وہ تو اردو کا موٹا اور باریک ہے لیکن یہ بتاؤ کہ چاول کو کیا کہتے ہیں؟
چاول کو!!! یہ کہہ کر غضنفر زور زور سے ہنسنے لگا۔
کرشنن بگڑ کر بولا اگر نہیں جانتے تو تسلیم کر لو اس میں ہنسنے کی کیا بات ہے؟
یار اگر معلوم نہیں ہوتا تو کیوں ہنستا۔ میں تو اس لیے ہنس رہا ہوں کہ مجھے معلوم ہے اور حیرت ہے کہ میں نے اس پر آج تک غور کیوں نہیں کیا۔ مجھے یقین ہے کہ تم لوگوں نے بھی نہیں کیا ہو گا ورنہ اس کا نام ضرور بدل دیتے۔
کیوں ہم کیوں بدلتے اس کا نام؟
تم لوگ خوب دبا کر چاول کھاتے تو ہو مگر اس کو چور کہتے ہو چور۔ اب بھلا چور بھی کوئی کھانے کی چیز ہے؟
ارے احمق یہ اردو کا چور تھوڑے ہی ہے۔ یہ تو ملیالم چور ہے۔
ہاں ہاں وہی تو۔ چور تو چور ہے وہ اردو بولے یا ملیالم کیا فرق پڑتا ہے؟
فرق کیوں نہیں پڑتا؟ اردو میں چور کو پکڑتے ہیں اور ملیالم میں اسے کھاتے ہیں۔
ہاں ہاں کھانے کے لیے بھی تو اسے پکڑنا پڑتا ہے۔ وہ اپنے آپ چل کر منہ میں تو نہیں جاتا اور آپ لوگ تو اسے با قاعدہ لڈو بنا کر ہوا میں اچھالتے ہو۔
دیکھو اس طرح کسی کا مذاق اڑانا اچھی بات نہیں۔ ہر کسی کے کھانے کا اپنا طریقہ ہوتا ہے۔ اچھا یہ بتاؤ کہ سالن کو کیا کہتے ہیں؟
کیا پوری لغت پوچھو گے یہ بھی کوئی امتحان ہوا کہ ہر عمل کا حساب لیا جا رہا ہے؟
اب نہیں معلوم تو مان لو کہ نہیں معلوم اس میں بگڑنے کی کیا بات ہے کھیل میں ہار جیت تو ہوتی ہی ہے۔
نہیں ایسی بات نہیں اگر تم وعدہ کرو کہ یہ آخری سوال ہے تو میں اس کا جواب بھی دے سکتا ہوں۔ در اصل یہ غضنفر کی سیاست تھی۔ اس کو ملیالم زبان کے جتنے الفاظ ازبر تھے وہ ختم ہو چکے تھے اس لیے وہ اس معاملے تو سمیٹ دینا چاہتا تھا۔ یہ حسن اتفاق تھا کہ کرشنن نے روزمرہ کے وہ الفاظ پوچھے جو اسے معلوم تھے۔
ٹھیک چلو آخری سہی۔ کرشنن کسی طرح اپنی خجالت مٹانا چاہتا تھا۔
ہاں تو بھائی کان کھول کر سنو کہ اس کو چار کہتے ہیں اور تم لوگوں کو زندہ رہنے کے لیے چار چور کی کافی ہیں اور مرنے کے بعد چار کندھوں کی ضرورت پڑتی ہے۔ اب یہ نہ پوچھ لینا کہ کندھے کو کیا کہتے ہیں؟ اس لفظ کا ملیالی ترجمہ غضنفر کو واقعی نہیں معلوم تھا۔ اس نے اپنی مدافعت میں کرشنن پر ہلہّ بول دیا اور پوچھ لیا اچھا یہ بتاؤ کہ آپ لوگ پراٹھا کو پروٹھا کیوں کہتے ہو؟
کرشنن بولا یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ پروٹھا ہی درست ہو اور آپ لوگ اسے غلط کہتے ہوں؟
یہ نہیں ہو سکتا پراٹھا اردو ہے اور ہم لوگ جو تلفظ ادا کرتے ہیں وہی صحیح ہے۔
اچھا تو کیا تمہارا پراٹھا اور ہمارا پروٹھا ایک جیسا ہوتا ہے؟
کون کہتا ہے کہ ایک جیسا ہوتا ہے؟ دونوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔
اگر واقعی زمین آسمان کا فرق ہے تو نام ایک جیسا کیوں ہو؟ اس میں تو خیر اتنا زیادہ فرق نہیں ہے۔
غضنفر لاجواب ہو گیا اس کی یہ کیفیت دیکھ کر کرشنن نے چین کا سانس لیا۔ کرشنن کا اعتماد پہلے ہی متزلزل ہو چکا تھا اس نے سوچا کہ جس پٹھان کو اس قدر ملیالم الفاظ معلوم ہیں ممکن ہے کندھے کی ملیالم بھی معلوم ہو اور وہ اسے بھی طنزو تشنیع کے تیر برسا کر بتا دے اس لیے بولا ہاں بھئی مان گئے تم ملیالم کے پنڈت ہو۔ میں ہار گیا اور تم جیت گئے بس اب تو خوش ہو؟
یار ایسی بیزاری سے مبارکباد نہیں دیتے۔ یہ تو کھیل ہے اور کھیل میں ہار جیت تو ہوتی ہی رہتی ہے کیوں؟ غضنفر انتقام لے رہا تھا۔
کرشنن کا موڈ خراب ہو گیا۔ ٹیلیویژن پر عمر شریف کے گھسے پٹے ڈرامے دکھلائے جا رہے تھے۔ وہ کھڑکی سے باہر سڑک کا نظارہ کرنے لگا کہ اچانک اس کی ہنسی چھوٹ گئی۔ اب وہ زور زور سے ہنس رہا تھا۔
غضنفر یہ دیکھ کر کھڑکی میں آ گیا۔ اس نے کرشنن کو دیکھا پھر باہر دیکھا اسے کوئی ایسی غیر معمولی بات نظر نہ آئی جس پر اس طرح بے ساختہ ہنسا جائے۔ غضنفر نے کرشنن سے پوچھا پاگل ہو گئے ہو کیا؟
کیوں؟ کیا صرف پاگل ہی ہنستے ہیں تم نہیں ہنستے؟
میں بھی ہنستا ہوں اور ہر کوئی ہنستا ہے لیکن ہماری ہنسی کے پیچھے کوئی نہ کو ئی سبب ہوتا ہے۔ ہاں پاگل بلاوجہ ہنستے ہیں اس لئے اگر کسی کو یونہی ہنستا ہوا دیکھا جائے تو اسے پاگل سمجھا جاتا ہے۔
لیکن غضنفر اگر کسی کو پاگل سمجھا جائے تو ضروری نہیں ہے کہ وہ پاگل ہو۔ کوئی کسی سیانے کو اگر پاگل سمجھے تو تم اسے کیا کہو گے؟
میں! میں اسے پاگل کہوں گا۔ غضنفر اپنا سوال بھول گیا تھا۔
تو پھر اپنے آپ کو سمجھ لو۔ کرشنن نے مسکرا کر کہا
میں کیوں اپنے کو پاگل سمجھوں؟
اس لئے کہ تم ایک سیانے کو پاگل سمجھ رہے ہو۔
خیر مذاق چھوڑو اور یہ بتاؤ کہ تمہارے بے ساختہ ہنسنے کی وجہ کیا تھی؟
ہاں اب تم نے صحیح سوال کیا۔ سمجھداروں والاسوال، اگر پہلے الزام تراشی کے بجائے یہ پوچھتے تو بلاوجہ کی بحث ہی نہ ہوتی۔
خیر بحث کو ختم کرو اور میرے سوال کا درست جواب دو۔
تم اندھے ہو کیا؟ کرشنن نے پوچھا اور پھر قہقہہ لگا کر ہنسنے لگا۔
یہ میرے سوال کا جواب ہے یا کہ احمقانہ سوال ہے؟
سوال نہیں جواب ہے۔ سامنے سے گذرتے ہوئے دو لوگوں کو تم نہیں دیکھ رہے ہو۔ کیا تمہیں انہیں دیکھ کر ہنسی نہیں آتی؟ کرشنن نے اس طرح کی شکل و شباہت والے لوگ کیرالا میں کبھی نہیں دیکھے تھے۔
غضنفر نے دیکھا سامنے سے دو پٹھان گذر رہے تھے ایک دبلا پتلا سرو قد اور دوسراٹھنگنامگر خوب موٹا تازہ گول مٹول۔ لمبے والے کے سرپر بڑا سا صافہ تھا اور چہرے پر لمبی سی داڑھی اور پستہ قد کا موچھ داڑھی صاف سر گھٹا ہوا۔ دونوں آپس میں باتیں کرتے ہوئے چلے جا رہے تھے غضنفر کو ان میں کوئی ایسی بات نظر نہیں آئی جس پر ہنسا جائے وہ بچپن سے اس طرح کے لوگوں کو دیکھتا رہا تھا۔ اس نے پوچھا اس میں ہنسنے کی کیا بات ہے؟
ہنسنے کی بات نہیں بالکل گیند اور بلے کی طرح یہ دونوں چلے جا رہے ہیں کیا کوئی ایک بھی شئے ان کے درمیان مشترک ہے؟
غضنفر کے لیے یہ سوال ہی عجیب سے تھا ا س نے کہا ایک چیز؟ ہر چیز مشترک ہے دونوں کی تہذیب ایک ہے۔ زبان ایک، دین ایک ہے لباس ایک ہے، قوم ایک ہے اور ملک بھی ایک ہے۔ کیا چیز مشترک نہیں ہے ان دونوں میں؟
مگر یار دیکھو ایک کس طرح لمبا تڑنگا اور دوسراکس قدرپستہ قد ٹھنگنا۔ ایک کیسا منحنی اور دوسرا کتنا فربہ۔
او ہو یہ بھی کوئی فرق ہے یہ تو سب ظاہر بینی کی تفریق ہے؟ اور اس پر ان کا کیا اختیار اوپر والے نے جیسا بنایا ویسے ہیں چھوٹا بنایا تو ٹھنگنا اور لمبا بنایا تو اونچا۔ دبلا بنایا تو پتلا موٹا بنایا تو فربہ اسے کوئی کیا کر سکتا ہے؟
کرشنن کو اپنی دوسری غلطی کا احساس ہو گیا تھا لیکن انسان آسانی سے خطا مانتا کب ہے؟ اس نے کہا ٹھیک ہے قد اور صحت انسان کے اختیار میں نہیں ہے لیکن داڑھی مونچھیں اور بالوں کا کیا؟
او ہو تو تمہارا مطلب ہے کہ کوئی داڑھی والا مونچھوں والے سے دوستی نہیں کر سکتا؟ گویادوست کا انتخاب بالوں کی لمبائی اور چہرے کی تراش خراش پر منحصر ہونا چاہیے؟ کرشنن تمہارا دماغ تو درست ہے نا؟ غضنفر کے اندرون کو ٹھیس لگی تھی اس لئے بات دل سے نکل رہی تھی۔
کرشنن نے پھر بھی ہار نہیں مانی اور بولا نہیں میرا اعتراض توبس اس حد تک ہے کہ تمہارے مطابق ہر چیز مشترک ہے جبکہ میں کہہ رہا ہوں کچھ چیزیں مختلف بھی ہیں۔
غضنفر کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا وہ بولا کرشنن میں تو تمہیں کتابوں کے الفاظ چگنے والا عالم فاضل آدمی سمجھتا تھا لیکن افسوس کہ تم رضوان سے بھی زیادہ گھامڑ، بدھو اور جاہل نکلے۔ کرشنن کی سمجھ میں بدھو کے علاوہ کچھ نہ آیا لیکن وہ خاموش رہا۔ غضنفر نے اپنی تقریر جاری رکھی وہ کہہ رہا تھا ان کے درمیان جس فرق کی بات تم کر رہے ہو وہ یا تو طبعی ہے مثلاً جسم کی ساخت یا ظاہری ہے جیسے بال یا لباس وغیرہ لیکن جو اشتراک ہے وہ نہ صرف اختیاری ہے بلکہ باطنی نوعیت کا ہے اور ظاہر کو باطن پر نیز اختیار کو جبر پر یقیناً فوقیت حاصل ہے۔
کرشنن پوری طرح ڈھیر ہو چکا تھا لیکن پھر بھی بات بنانے کیلئے وہ بولا غضنفر ایک بات بتاؤ یہ جو بڑی سی پگڑی اس شخص نے باندھ رکھی ہے کیا تمہیں نہیں لگتا کہ یہ کئی گز کپڑے کا ضائع کرنا ہے؟
نہیں کرشنن مجھے نہیں لگتا۔ تمہیں لگتا ہے اس لئے کہ تم اس کے فائدوں سے ناواقف ہو۔ یہ پگڑی اس کی شخصیت کو سنوارتی اور نکھارتی ہے جس طرح ہیٹ ہمارے صاحب کی شخصیت کو نکھارتا ہے اور شماغ عربوں کو سنوارتا ہے۔ اس کا اندازہ تمہیں اس وقت تک نہیں ہو گا جب تک کہ تم اسے بغیر پگڑی کے نہ دیکھ لو۔ نیز گرمی میں یہ سورج کی تیز دھوپ سے اسے محفوظ رکھتی ہے۔ ٹھنڈ میں سرد ہواؤں سے حفاظت کرتی ہے۔ بوقت ضرورت وہ اسے تکیہ، چادر اور جاء نماز بنا لیتا ہے۔ ویسے ایک اور بھی بہت بڑا فائدہ ہے جس کا اندازہ کرنے کے لیے تمہیں ہمارے گاؤں پارہ چنار چلنا ہو گا۔
کرشنن نے پوچھا وہ کیا؟
در اصل ہمارے گاؤں میں پگڑی کا تعلق لاٹھی سے ہے وہاں ہر شخص سر پر پگڑی اور ہاتھ میں لاٹھی لے کر بے خوف و خطر سر اٹھا کر چلتا ہے۔ وہ اپنا سر اپنے جیسے لاٹھی بردار انسانوں کے آگے نہیں جھکاتا۔ اگر کوئی زور زبردستی پر اتر آئے تو لاٹھی کی مدد سے اسے لاٹھی کی طرح سیدھا کر دیتا ہے۔
او ہو تو گویا یہ ہیلمٹ کا کام بھی کرتی ہے؟ کرشنن لاجواب ہو چکا تھا لیکن پھر بھی بولا اگر اس کے فائدے اتنے زیادہ ہیں تو دوسرا آدمی اس سے استفادہ کیوں نہیں کرتا؟
اس کی مرضی آج وہ اس کی ضرورت محسوس نہیں کرتا تو نہیں باندھتا کل محسوس کرے گا تو باندھ لے گا۔ کوئی زور زبردستی ہے کیا؟
کرشنن نے زچ ہو کر بحث کا رخ غضنفر کی جانب موڑ دیا ا اور بولا اچھا تو تمہارا اپنا کیا ارادہ ہے؟ کل سے تم بھی مجھے پگڑی باندھے نظر آؤ گے؟
ہو سکتا ہے اور نہیں بھی یہ میری مرضی کا معاملہ ہے لیکن ایک بات طے ہے میں ایسا کروں یا نہ کروں دوسروں پر ہنسوں گا نہیں کسی کے لباس کا تمسخر نہیں اڑاؤں گا۔
کرشنن شرمندہ ہو گیا اور بولا یاراس لایعنی بحث کو چھوڑو میں اپنی غلطی تسلیم کرتا ہوں میں مانتا ہوں کہ اختلاف کو حقارت کی نظر سے دیکھنا غلط ہے اور اگر میرے ایسا کرنے سے تمہاری دل آزاری ہوئی ہے تو معافی چاہتا ہوں بس۔
نہیں دوست اس میں معذرت کی کیا بات ہے وہ تواچھا کیا جو تم نے اظہار کر دیا اور مجھے وضاحت کا موقع مل گیا ورنہ یہ غلط فہمی کبھی دور نہ ہوتی۔
تم ٹھیک کہتے ہو غضنفر جو بھی ہوا اچھا ہوا اور جو بھی ہوتا ہے اچھا ہی ہوتا ہے یہی گیتا کا گیان ہے۔
غضنفر بولا اچھا؟ مجھے نہیں لگتا لیکن اس مسئلہ پر بات ابھی نہیں پھر کبھی اس لئے کہ آج رضوان واپس آ رہا ہے اور مجھے اس کو لانے کیلئے ائیر پورٹ جانا ہے کرشنن نے مسکرا کر تائید کی اور غضنفر نکل کھڑا ہوا۔
٭٭٭
یادِ ماضی
رضوان الحق کو چھٹی جانا تھا۔ اس مختصر سے پردیسی خاندان سے جو کوئی بھی تعطیل جاتا اسے ہوائی اڈہ لے کر جانا اور وہاں سے واپس لانا غضنفر کی ذمہ داری ہوتی تھی۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب کرشنن بھی ان کے ساتھ رہتا تھا۔ غضنفر نے رضوان سے پوچھا کیوں بہت خوش نظر آ رہے ہو کوئی خاص بات ہے کیا؟
جی ہاں اس بار میری واپسی ہمیشہ سے مختلف ہو گی ان شاء اللہ۔
وہ کیسے؟
ایسے کہ اس بار میں اکیلے نہیں آؤں گا۔
اچھا؟
ہاں اس بار میں اپنی بیوی چمیلی کو بھی ساتھ لاؤں گا۔ صاحب نے ویزے کا بندوبست کر دیا ہے۔
بہت خوب۔ یہ تو بڑی اچھی بات ہے۔
جی ہاں جب سے سوژان آئی ہیں صاحب ہم لوگوں کے اہل خانہ کا خاص خیال رکھنے لگے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ ہم بھی اپنے بیوی بچوں کے ساتھ رہیں۔
لیکن ہم بیوی بچوں کے ساتھ کیسے رہ سکتے ہیں؟
کیوں نہیں رہ سکتے؟
تیری ایک بیوی ہے تو بچے نہیں ہیں۔ میری اور کرشنن کی بیوی بھی نہیں ہے۔
تواس میں کیا مشکل ہے بچے نہیں ہیں تو ہو جائیں گے۔ بیوی نہیں ہے تو آ جائے گی۔ دونوں دوست ہنسنے لگے۔
رضوان پھر خاموش ہو گیا۔ غضنفر نے پوچھا اب منہ کیوں لٹکا لیا؟
غضنفر! بات یہ ہے کہ ہر مرتبہ میں چھٹی کا انتظار کرتا تھا تاکہ اپنی زوجہ سے ملنے جاؤں۔ لیکن جب وہ یہاں آ جائے گی تو پھر انتظار ۰۰۰ اور انتظار کا لطف سب کچھ ختم ہو جائے گا؟
یار انتظار میں بھی کوئی مزہ ہوتا ہے بھلا؟ وہ تو تکلیف دہ چیز ہے۔
نہیں غضنفر ایسانہیں ہے مجبوری کا انتظار کلفت ہوتا ہے لیکن اگر اس میں محبت شامل ہو جائے تو اس کا ہر ہر لمحہ فرحت بخش ہو جاتا ہے کیونکہ انسان محسوس کرتا ہے کہ گویا وہ ہر لمحہ اپنے محبوب سے ایک لمحہ قریب تر ہو گیا ہے۔
یار رضوان تیری یہ بنگالی منطق میری سمجھ میں نہیں آئے گی۔
رضوان ہنس کر بولا تو ہے آخر پٹھان! تم لوگوں کے پاس نہ دماغ ہوتا ہے نہ دل، بات سمجھ میں آئے بھی تو کیسے؟ پھر سے دونوں دوست ہنسنے لگے۔ سامنے کھڑا بیلجیم کا رہنے والا البرٹ بھی بغیر سمجھے مسکرا رہا تھا۔
غضنفر نے سوچا اس بار رضوان قدرے ہلکا پھلکا جا رہا تھا سب سے زیادہ سامان وہ اپنی اہلیہ کے لئے خرید تا تھا لیکن اس مرتبہ خریداری معمولی تھی۔ چمیلی کو ساتھ جو آنا تھا کیا فائدہ یہاں سے سامان اٹھا کر لے جاؤ اور وہاں سے اٹھا کر واپس لاؤ۔ پھر یہاں آنے کے بعد چمیلی اپنی پسند سے ساری چیزیں خرید سکتی تھی۔ اپنی پسند تو آخر اپنی پسند ہوتی ہے۔ جس طرح رضوان کی پسند چمیلی اور چمیلی کی پسند رضوان۔
گاڑی کے پہیوں کی مانند غضنفر کا دماغ بھی گھوم رہا تھا پھر ایک موڑ ایسا آیا کہ چمیلی کی جگہ شہر بانو نے لے لی۔ شہر بانو اس کی اپنی پسند جسے وہ پسند تھا۔ کون جانے کہ شہر بانو کو وہ پسند تھا یا نہیں؟ ایک اندیشے نے سر اٹھایا لیکن غضنفر نے اسے فوراً کچل دیا یہ کیسے ممکن ہے کہ جسے وہ پسند کرے اسے وہ پسند نہ کرے؟ ایسا تو نہیں ہوتا۔
غضنفر کو محسوس ہوا رضوان صحیح کہتا ہے انتظار کا بھی اپنا مزہ ہے مدتِ وصال میں ہر لمحہ واقع ہونے والی کمی کا لطف وہ محسوس کرنے لگا تھا۔ اس نے اپنے آپ سے کہا تو پٹھان ہے تو کیا ہوا۔ تیرے پاس اگر دماغ نہیں ہے تو کوئی بات نہیں لیکن تیرے پاس دل ضرور ہے یقیناً ً اس کے پاس بھی ایک دل ہے! اس کی اپنی شہر بانو کیلئے دھڑ کنے والا دل۔ اگلے موڑ پر اچانک غضنفر اپنے تخیل کی دنیا سے باہر نکل آیا اور ایف ایم ریڈیو کا بٹن دبا دیا۔ اتفاق سے اس وقت آر جے نوید ایک گھسا پٹا شعر اپنے منفرد انداز میں سنا رہا تھا ؎
میں تو غزل سنا کے اکیلا کھڑا رہا
سب اپنے اپنے چاہنے والوں میں کھو گئے
غضنفر کے دماغ نے پھر سے یو ٹرن لے لیا اب گاڑی آگے جا رہی تھی اور غضنفر پیچھے ماضی کے دھندلکوں میں محو سفر تھا۔ پرانی یادوں کا وہ جھروکا کھل گیا تھا جب اس کی رضوان سے پہلی ملاقات ہوئی تھی۔ غضنفر ایک بنگالی بوفیہ میں بیٹھا چائے کے ساتھ کڑک پراٹھا کھا رہا تھا کہ اس نے دیکھا اک دبلا پتلا سہما سا بنگالی نوجوان ویٹر سے بنگالی میں باتیں کر رہا ہے۔ کچھ دیر بعد ویٹر نے دور سے آواز لگائی ایک سبزی سفری۔
اس بنگالی نے کہا سفری نہیں پارسل۔
ویٹر بولا پارسل کو عربی میں سفری کہتے ہیں؟
پوچھنے والے کو اچانک احساس ہوا کہ وہ عرب دنیا میں ہے اس لئے کہ یہاں عربوں جیسا کچھ بھی نہیں تھا کل شام سے وہ اِدھر اُدھر بھٹک رہا تھا کوئی بنگالی نظر آتا تو کوئی ہندوستانی، کوئی پاکستانی تو کوئی فلپائنی اِکا دُکّا عرب یا انگریز دکھائی پڑ جاتے اس طرح کے عرب اور انگریز تو اس نے ڈھاکہ میں بھی دیکھے تھے۔ لیکن پارسل کی عربی سفری نے اسے محسوس کرا دیا تھا کہ یہ بنگلہ دیش نہیں عرب دیش ہے یعنی ابو ظبی میں ہے۔
اب کی بار کچن میں کھڑے باورچی نے پوچھا بڑا یا چھوٹا۔
اس نے کہا گوشت نہیں سبزی۔ اس لئے کہ وہ گائے کے گوشت کو بڑا اور بکرے کے گوشت کو چھوٹا کہتا تھا لیکن یہ تو سبزی کے بارے میں پوچھ رہا تھا۔
ویٹر بولا ہاں ہاں سبزی کا بڑا ڈبہ یا چھوٹا ڈبہ۔
او ہو لیکن بڑے کی قیمت کیا ہے اور چھوٹا کتنے کا ہے؟
ویٹر نے بتلایا بڑے کی قیمت ہے تین درہم اور چھوٹے کی دو درہم۔
اب وہ گاہک سوچ میں ڈوب گیا غضنفر بھی نووارد ہی تھا اس لئے نوجوان کی کیفیت کو بھانپ گیا۔ پاکستانی روپئے کو تو صرف بیس سے تقسیم کرنا پڑتا تھا مگر وہاں بنگلہ دیشی ٹاکا کو درہم میں بدلنے کے لئے پچیس سے تقسیم کرنا ضروری تھا گویا اس کی مشکل پچیس فی صد زیادہ تھی تھوڑی دیر غور کرنے کے بعد اس نے پوچھا چائے کتنے کی ہے؟
جواب ملا پچاس پیسے کی وہ پھر سوچنے لگا تھا۔ غضنفر سمجھ گیا کہ اب یہ کیا سوچ رہا ہے اس لئے کہ پچاس فلس سے کم یہاں کچھ بھی نہیں تھا۔
پھر اس نے کہا ٹھیک مجھے چائے دے دو پارسل میرا مطلب سفری۔ وہ نہیں جانتا تھا کہ پچاس فلس میں ملنے والی چائے تھرما کول کے گلاس والی سفری نہیں بلکہ چینی کے کپ والی ٹیبل چائے ہوتی ہے اور اسے یہیں بیٹھ کر پیا جاتا ہے۔ پارسل چائے کپ کی قیمت سمیت۷۵ فلس ہو جاتی ہے۔ کسی نئے آدمی کی سمجھ میں یہ فرق مشکل سے ہی آتا ہو گا۔ اس کے گاؤں میں جو چائے ایک ٹکہ میں ملتی ہے اس کی قیمت یہاں ۱۰ ٹکہ ہے اور اس کے گلاس کی قیمت ۵ ٹکہ ہے۔ ۵ ٹکہ بہت ہوتا ہے ۵ ٹکہ میں تو آدمی پیٹ بھر کھانا کھا لیتا ہے لیکن وہ بھول رہا تھا کہ یہ سب اس کے اپنے گاؤں میں ہوتا ہے اور وہ فی الحال ابو ظبی میں ہے۔ لیکن چائے منگانے کے بعد اسے احساس ہوا؟ کہ صرف چائے سے کام چلنے والا نہیں ہے۔ اس نے شیشے کے فریم لگی ہوئی اشیاء پر نظر ڈالی اور پوچھا یہ سب بھی پچاس پچاس پیسے کی ہیں؟
ہوٹل کے مالک نے کہا نہیں اوپر والی پچاس فلس کی اور نیچے والی ایک درہم کی اس گاہک کی نظر اوپر والی الماری پر ٹک گئی اور وہ دیکھنے لگا مختلف اقسام کے بسکٹ اور ڈبل روٹی کے ٹکڑے رکھے تھے اس نے سب سے بڑی ڈبل روٹی کی طرف اشارہ کیا۔ غضنفر کو اس سے یہی توقع تھی۔ غضنفر کا ناشتہ ختم ہو چکا تھا پھر بھی وہ بیٹھا رہا تاکہ اس نووارد کی حرکات سے لطف اندوز ہو سکے بلکہ اب اسے رحم آنے لگا تھا وہ سوچ رہا تھا کہ اگر اس کے پاس صرف ایک درہم ہو اور ہوٹل والا ۲۵ فلس کے لئے اس سے لڑنے لگے تو کیا ہو گا؟ غضنفر نے ارادہ کر لیا کہ وہ اپنی جیب سے ادا کر دے گا۔
نیا گاہک ڈبل روٹی کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کر کے چائے میں ڈبو کر کھاتا جاتا تھا۔ اس کی نظریں نہ روٹی کو دیکھ پا رہی تھیں اور نہ چائے کو۔ نہ جانے خلاء میں وہ کیا دیکھ رہا تھا۔ یہ ڈرا سہما سا شخص کسی انجانے خوف و اندیشہ کا شکار تھا۔ غضنفراسے دیکھ رہا تھا۔ اپنا ناشتہ ختم کر کے اس اجنبی نے جیب سے بٹوا نکالا۔ غضنفر نے دیکھا کہ بٹوے میں کچھ نوٹ تھے۔ وہ اندازہ نہیں لگا سکا کہ درہم ہیں یا ٹکہ۔ لیکن گاہک نے بٹوے کے اندر کی جیب کو کھولا اس میں سے ایک درہم کا سکہ نکالا اسے دو تین بار الٹ پلٹ کر دیکھا اور پھر بٹوہ بند کیا اس بار اس نے بٹوہ جیب میں رکھنے کے بجائے کندھے سے لٹکے جھولے میں رکھنے کا فیصلہ کیا۔
جھولے میں گلف ایر کا بلّا لگا ہوا تھا غضنفر کا اندازہ صحیح نکلا یہ بالکل نیا رنگروٹ ابھی تازہ دم کارزارِ خلیج میں وارد ہوا تھا۔ بیگ میں ہوائی جہاز کا ٹیگ تھوڑے ہی دن کا مہمان ہوتا ہے جیسے جیسے سفر کی ہوا دماغ سے نکلتی جاتی ہے یہ ٹیگ اپنے آپ ہوا میں تحلیل ہو جاتا ہے اس نے اپنا بٹوہ بیگ کے اندر کی جیب میں رکھا اس پر چین لگا ئی پھر بیگ بند کیا اور بوفیہ کے مالک کو ایک درہم دے دیا۔ ہوٹل کے مالک نے کہا پچیس فلس اور دو۔
نوجوان بولا پچیس؟ کیسے پچیس فلس، ۵۰ فلس کی ڈبل روٹی اور پچاس فلس کی چائے میں نے پہلے ہی پوچھ لیا تھا میں بنگلہ دیشی ہوں۔
بوفیہ کے مالک نے کہا چائے کے ۷۵ فلس۔
وہ بولا نہیں میرا تعلق بنگلہ دیش سے ہے مجھے ۵۰ فلس بتلائے گئے تھے میں آپ کے یہاں کھانے کے لئے آنا چاہتا ہوں کیا یہاں کھانے کا بھی انتظام ہے۔
دوکان کے مالک نے بغیر کوئی جواب دیئے بے رخی کے ساتھ ایک درہم گلے ّ میں ڈالا اور دوسرے گاہکوں کی جانب متوجہ ہو گیا۔
اس نے پھر پوچھا کیا یہاں کھانے کا انتظام ہے؟ میں بنگلہ دیشی ہوں۔
ہوٹل کے مالک نے اس کی بات ان سنی کر دی اسے تعجب ہو رہا تھا ایسا کیوں ہے؟ ایک بنگلہ دیشی آدمی اس کی جانب بے توجہی کیوں برت رہا ہے؟ جب کہ وہ اس کا گاہک بھی ہے وہ اس کے یہاں کھانا بھی کھانا چاہتا ہے۔ لیکن وہ نہیں جانتا تھا کہ یہ درہم و دینار کی دنیا ہے یہاں کوئی کسی کا نہیں ہے ہر کوئی دولت کا بندہ ہے جس کے پاس درہم ہے ہر کوئی اس کا ہے جس کے پاس نہیں ہے اس کا کوئی نہیں۔ اس مایا نگری میں ملک، زبان، دین دھرم سب ثانوی اقدار ہیں اصل قدر و قیمت بس مال و دولت کی ہے۔
وہ باہر آیا تو غضنفر نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر پوچھا کیا نام ہے؟ اور کب آئے ہو؟
م۰۰ م۰۰ میرا نام رضوان ہے رضوان الحق میں بنگلہ دیش سے آیا ہوں کل آیا ہوں، میں کل ہی۔ رضوان الحق غور سے غضنفر کو دیکھ رہا تھا اسے بتلایا گیا تھا ابو ظبی میں پاکستانیوں کا بہت بڑا مافیہ ہے۔ اس سے بچ کر رہنا اور پٹھان بڑی ہی اُجڈ اور مغرور قوم ہے لڑائی جھگڑے کے علاوہ یہ لوگ کچھ جانتے ہی نہیں۔ ان سے تو بس دور ہی سے سلام کلام رکھنا پردیس میں ویسے ہی انسان کو سنبھل کر رہنا چاہئے صرف اپنے لوگوں میں رہے اسی میں عافیت ہے۔ لیکن یہ کیا اس کا اپنا ہم وطن تو اسے جواب تک نہیں دے رہا تھا اور یہ پٹھان اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اس کی خیریت پوچھ رہا تھا۔
غضنفر نے کہا کیا کام جانتے ہو۔
میں کوک ہوں۔
کوک؟ یہ کوک کیا ہوتا ہے۔
ارے وہی کھانا بنانے والا کوک تم کوک نہیں جانتے؟
ہاں ہاں تو باورچی بولو نا ہم تو صرف ریل گاڑی کی کوک جانتا ہے۔
رضوان کو ہنسی آ گئی وہ بولا اچھا تو تم کوئل کی کوک بھی نہیں جانتے۔
غضنفر جھینپ گیا وہ بولا ہاں دوست کوئل کی بھی کوک ہوتی ہے لیکن اس صحرا میں کوئل تو کیا کوا بھی دکھائی نہیں دیتا۔ یہاں کوئی پرندہ نہیں پایا جاتا بس مشینی پرندہ ہوتا ہے جسے ہوائی جہاز کہتے ہیں اس کے روح نہیں ہوتی صرف پیٹ ہوتا ہے یہ اپنے پیٹ میں ہم جیسے بھوکے لوگوں کو بھر کر یہاں لے آتا ہے۔ ان بھوکوں کی مدد سے ہوائی جہاز والے اپنا پیٹ بھرتے ہیں سب پیٹ پانی کاچکر ہے۔ پاپی پیٹ کا سوال؟
رضوان بولا تمہارا کیا نام ہے بندھو تم باتیں بہت اچھی کرتے ہو؟
میرا نام غضنفر ہے۔ غضنفر کا مطلب جانتے ہو شیر۔ تم نئے نئے آئے ہو۔ میرا نمبر اپنے پاس رکھ لو اگر کوئی ضرورت ہو تو مجھے فون کرنا میری گاڑی میں بیٹھو میں تمہیں اپنے کام کی جگہ چھوڑ دیتا ہوں۔ غضنفر نے سامنے کھڑی شاندار بی ایم ڈبلو کی جانب اشارہ کیا۔
رضوان ٹھٹک گیا یہ تمہاری گاڑی ہے۔
ہاں میری ہی سمجھو۔ میں ہی اسے چلاتا ہوں۔ نہلاتا ہوں دھلاتا ہوں۔ بہلاتا ہوں پھسلاتا ہوں۔
او ہو میں سمجھ گیا۔ رضوان بولا تم اس کے ڈرائیور ہو؟ میں تو سمجھا تھا کہ۔۔ ۔۔
غضنفر نے جملہ پورا کیا، مالک؟ لیکن دوست مالک تو وہ بھی نہیں ہے جو اپنے آپ کو اس کا مالک سمجھتا ہے اور جسے لوگ اس کا مالک سمجھتے ہیں۔
رضوان نے تائید میں سر ہلایا۔ اور کہا ہاں دوست تم صحیح کہتے ہو۔ دنیا کی اس بساط کا ہر مہرہ اپنے بارے میں بہت ساری غلط فہمیوں کا شکار ہے کوئی اپنے آپ کو پیادہ سمجھتا ہے تو وزیر اور کوئی بادشاہ حالانکہ بادشاہ تو وہ ہے جس کا یہ کھیل ہے یہ دنیا کھیل تماشہ ہے گھڑی میں تولہ گھڑی میں ماشہ۔ کبھی شئے کبھی مات کبھی جیت کبھی ہار۔ کبھی پیار کبھی وار۔
غضنفر بولا یار تم تو شاعر لگتے ہو۔ جانا کہاں ہے۔
جانا تو مجھے یہیں اس بلڈنگ کے عقب میں ہے۔ لیکن میں تمہیں فون کروں گا۔ اگر کام نہ بھی ہو تب بھی فون کروں گا۔ تم اچھے آدمی ہو اچھے دوست۔
اچھا دوست غضنفر نے ہاتھ ملایا اور گاڑی میں بیٹھ گیا۔
٭٭
گردشِ زمانہ
گاڑی کے پہیوں کی طرح وقت کی چکری چلتی رہی۔ ایک روز غضنفر نے پیچھے سے آواز سنی صاحب گاڑی دھوئے گا۔ اسے لگا کوئی اس سے گاڑی دھلوانا چاہتا ہے۔ غصے سے اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو رضوان کھڑا تھا۔ غضنفر نے ہاتھ بڑھایا او ہو رضوان یہ تم کیا کر رہا ہے؟
رضوان الحق نے اپنی بالٹی نیچے رکھی اپنے کپڑوں سے ہاتھ پونچھا ہاتھ ملایا اور خاموش کھڑا رہا۔ پہلی مرتبہ اسے احساس ہوا تھا کہ وہ کیا کر رہا ہے؟ نہ جانے کب سے وہ جس کام کو صبح سے شام تک کرتا تھا اس کے بارے میں یہ آسان سوال اس کے لئے کس قدر اجنبی تھا۔ کسی نے اس سے یہ سوال پوچھنے کی زحمت نہیں کی تھی بلکہ اس نے اپنے آپ سے بھی کبھی نہیں پوچھا تھا کہ وہ کیا کر رہا ہے؟ اور کیوں کر رہا ہے؟
غضنفر بولا آؤ چلو چائے پیتے ہیں دونوں چائے کی دوکان پر آئے اور باہر لگی کرسیوں پر بیٹھ گئے۔
رضوان نے پوچھا آپ کیسا ہے؟
غضنفر بولا اللہ کا شکر ہے۔ آپ کیسا ہے؟
اللہ کا بہت بہت احسان ہے بڑی مہربانی ہے میں اچھا ہوں۔
غضنفر سوچنے لگا یہ اچھا ہے۔ بالٹی لے کر کسی پھیری والے کی طرح آواز لگاتا ہے۔ سڑک کے کنارے اپنی خدمت بیچتا ہے اور شاید نہیں جانتا کہ ایسا کرنا اس ملک میں غیر قانونی ہے۔ اس جرمِ عظیم کیلئے اس کا کسی بھی وقت دیس نکالا ہو سکتا ہے اس کے باوجود کہتا ہے، اچھا ہے؟ ویٹر چائے لے آیا۔
رضوان تم تو بولا تھا کہ تم کوک ہے باورچی۔ تو کیا تم اپنا کام بدلی کر دیا؟
رضوان نے کہا ہم نے نہیں بدلا وقت بدل گیا۔
او ہو یار تم اپنے بیچ میں وقت کو کیوں لاتا ہے؟ بولو نا اس میں پیسہ زیادہ ہے اس لئے تم اپنا کام دھندہ بدلی کر دیا۔
غضنفر آپ کا آدھا بات سچ ہے۔ اس میں پیسہ زیادہ ہے۔ لیکن ہم نے اس کے لئے اپنا کام بدلی نہیں کیا۔ اس لئے کہ ہم کو تو اس کے بارے میں کچھ معلوم نہیں تھا یہ لمبی داستان ہے۔ بس یہ سمجھ لو کہ جس طرح کی مجبوری ہم کو بنگلہ دیش سے یہاں پردیس میں لایا ہے اسی طرح کا مجبوری نے ہم کو کوک سے کار واشر بنا دیا۔
یہ کار واشر کیا ہوتا ہے؟
وہی گاڑی کا دھوبی اور کیا؟
لیکن ایک بات ماننا پڑے گا کہ تمہارا دونوں مجبوریوں نے پیسہ بڑھایا ہے؟ غضنفر نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔
آپ کا بات ساچ ہے۔ انسان کا ماجبوری بھی کبھی کبھی اس کے لئے خوش حالی بڑھاتا ہے۔ اب وہ بنگلہ لہجے میں اپنے دل کی بات کہہ رہا تھا وہ بھول گیا تھا اس کا مخاطب ایک پٹھان ہے۔
تب تو مجبوری اچھا ہے؟
اچھا نہیں ہے دوست ماجبوری تو ماجبوری ہے۔
کیوں پیسہ اچھا نہیں ہے؟
پیسہ تو اچّا ہے۔ لیکن ماجبوری اچّا نہیں ہے۔
اب غضنفر بھی اپنے پٹھانی لب و لہجے میں آ گیا دونوں اپنے اپنے انداز میں اردو بول رہے تھے لیکن یہ اچائی اور خرابی سات سات آتا ہے۔
رضوان نے تائید کی اور بولاجیسا رات اچا ّنہیں ہے لیکن دن کے سات ہے۔ نہ رات کے بغیر دن ہے اور نہ دن کے بغیر رات ہے۔
رات اچھا نہیں ہے؟ رات کیوں اچھا نہیں ہے؟
رات کو کوئی گاڑی دھلانے والا نہیں ملتا ہے دھندہ بند ہو جاتا ہے اس لئے اچھا نہیں ہے؟
او ہو ایسا بات ہے۔ اگر رات کو بھی گاڑی دھلانے والا ملے گا تو تم رات کو بھی گاڑی دھوئے گا؟
کیوں نہیں دھوئے گا ضرور دھوئے گا۔
آرام نہیں کرے گا؟
نہیں کورے گا پیسہ کمائے گا۔
اچھا پیسہ کما کر کیا کرے گا؟
بنگلہ دیش جائے گا۔
بنگلہ دیش جا کر کیا کرے گا؟ پھر دن رات کام کرے گا؟
کام نہیں آرام کرے گا صرف آرام کرے گا؟
تو یہیں آرام کر لو۔ آرام تو آرام ہے یہاں کرو یا وہاں کرو کیا فرق ہے؟
بہت بڑا فرق ہے یہاں ماجبوری کا ساتھ ہے وہاں ماجبوری کا بغیر ہے۔
غضنفر بولا تم صحیح بولتا ہے یہاں کام کرنا مجبوری ہے وہاں آرام کرنا مجبوری ہے۔ بولو صحیح بات ہے کہ نہیں؟
رضوان سوچ میں پڑ گیا بات تو صحیح ہے یہ مجبوری کم بخت کہیں بھی پیچھا نہیں چھوڑتی۔ چائے ختم ہو چکی تھی غضنفر نے رضوان سے پوچھا یہ بتاؤ تم کو یہاں کتنا دن ہو گیا؟
دن کہاں؟ ہم کو یہاں آٹھ مہینہ ہو گیا۔
آٹھ مہینہ! توہم لوگ آٹھ مہینہ پہلے ملا تھا۔
ہاں غضنفر ہم لوگ آٹھ مہینہ پہلے ملا تھا۔
یار سمجھ میں نہیں آتا کہ ٹائم اتنا جلدی کدھر جاتا ہے ہم گاڑی تیز چلاتا ہے تو صاحب بولتا ہے دھیرے چلاؤ جلدی نہیں ہے لیکن ٹائم کو کوئی دھیما نہیں کر سکتا ہے وہ تو بس بھاگا ہی چلا جا تا ہے۔
نہیں غضنفر میرے لئے تو وقت ٹھہر اہوا ہے۔ جب سے میں یہاں آیا ہوں گھڑی کا کانٹا گھومتا ہی نہیں ہے۔
تو زور لگا کے گھماؤ اس کو۔
بندھو ہم کوڈر لگتا ہے زور لگائے گا تو یہ کانٹا ٹوٹ جائے گا۔ نہیں نہیں ہم کو لگتا ہے اب یہ کبھی بھی گھومنے والا نہیں ہے۔ رضوان حسرت و یاس کے گہرے سمندر میں ڈوب گیا۔
دیکھو رضوان ہم پٹھان ہے ہماری سمجھ میں تمہارا مشکل بات نہیں آتا ہے۔ یہ بتاؤ یہ آٹھ مہینہ میں تم نے کیا کیا دیکھا؟
ہم کیا دیکھا؟ کچھ نہیں؟ کچھ نہیں دیکھا۔ یہاں ہے ہی کیا دیکھنے کے لئے نہ دریا ہے نہ کھیت ہے نہ جنگل ہے نہ پہاڑ ہے نہ چرند نہ پرند کچھ بھی تو نہیں کہ جس کو دیکھا جائے؟
رضوان پھر تم ایسی بات بولتا ہے جو ہمارا عقل میں نہیں جاتا ہے خیر چلو آج ہمارے پاس ٹائم ہے ہم تم کو کارنش کی سیر کراتا ہے۔
کارنش۔ یہ کارنش کیا ہوتا ہے؟ رضوان نے حیرت سے پوچھا
اب غضنفر کیلئے بڑی الجھن کھڑی ہو گئی تھی کہ اس احمق کو کارنش کیسے سمجھائے وہ بولا کارنش! نہیں جانتے؟ کارنش۔۔ ۔۔ کارنش ہوتا ہے۔
یار تم نے کتنا مرتبہ کارنش کارنش دوہرا دیا پر یہ نہیں بتلایا کہ آخر وہ ہوتا کیا ہے؟
ابھی تم کو کیسے بتائے گا؟ چلو ہمارے ساتھ خود ہی دیکھ لینا کارنش کیا ہوتا ہے۔
لیکن یہ بالٹی اور یہ برش، یہ کپڑا؟
اس کو میری گاڑی میں رکھ دو ٹھیک ہے۔
لیکن ہم واپس کیسا آئے گا ہم کو تو آنے کے لئے راستہ بھی معلوم نہیں ہے۔
ارے بھائی ہم لے کر جائے گا تو لا کر بھی چھوڑے گا اتنا کیوں ڈرتا ہے چلو گاڑی میں بیٹھو۔
(گاڑی میں ) یار تم نے یہ نہیں بتایا کہ اپنا کوک کا پیشہ کیوں بدل دیا؟
یار بات یہ ہے کہ میں ایک بڑی سی ہوٹل میں کام کرنے کے لئے آیا تھا اس ہوٹل میں زیبائش و آرائش کا بڑا اہتمام تھا۔ نہایت خوبصورت میز کرسیاں جھومر روشنی گلاس رکابیاں ہر چیز اعلیٰ معیار کی تھیں۔ کام کرنے والے لوگوں کو لباس بھی بہترین فراہم کئے گئے تھے، لیکن اس وردی کے اندر وہی کم تعلیم یافتہ نا تجربہ کار لوگوں کو سجادیا گیا تھا۔ ان غیر تربیت یافتہ لوگوں کے لانے مقصد یہ تھا کہ کم تنخواہ کے ذریعہ زیادہ منافع کمایا جا سکے لیکن دوست ہوٹل میں پہلی مرتبہ تو لوگ آرائش و زیبائش دیکھ کر آ جاتے ہیں اور اگر ان کی خدمت ٹھیک سے نہ کی جائے۔ صفائی ستھرائی کا اچھا انتظام نہ ہو۔ تہذیب سے پیش نہ آیا جائے تو دوسری مرتبہ نہیں آتے نیز دوسرے آنے والوں کو بھی منع کر دیتے ہیں۔ رضوان نے بہترین اردو میں بولا۔
اچھا تو میں سمجھ گیا۔ تم جیسے لوگوں کو اس نے باورچی رکھ لیا تھا تو کھانا ٹھیک سے نہیں بنا ہو گا اب اگر کھانا اچھا نہ ہو گا تو گاہک دوبارہ کیسے آئے گا؟ غضنفر نے مذاق میں کہا
رضوان بولا نہیں دوست معاملہ صرف کھانے کا نہیں ہے آپ کتنا بھی اچھا کھانا بنائیں اگر اسے سلیقے سے نہ پروسیں، صاف ستھرے برتن نہ ہوں، خوشگوار ماحول نہ ہو تو کھانے کا اثر زائل ہو جاتا ہے۔ اس لئے دعوت کے ساتھ حکمت و موعظت بھی ضروری ہے۔ حکمت کے بغیر دعوت بدمزہ اور موعظت کے بغیر بے اثر ہو جاتی ہے۔ کیا سمجھے؟
چھوڑو تمہارا بات ہماری سمجھ میں نہیں آئے گا۔ یہ دیکھو سامنے کارنش ہے اس کو کارنش بولتا ہے۔
ارے یہ تو سمندر کا ساحل ہے۔ اس کو ساحل بولتا ہے رضوان نے کہا۔
ہاں ہاں یہ ساحل واحل تمہارا ہمارا ملک میں بولتا ہے یہاں پر اس کو کارنش بولتا ہے جیسا کہ باورچی کو کوک بولتا ہے۔
رضوان نے کہا ہاں خان تم صحیح بولتا ہے۔ ایک ہی چیز کو لوگ الگ الگ نام سے بلاتے ہیں اور سمجھنے لگتے ہیں کہ وہ الگ الگ چیزیں ہیں۔
غضنفر رضوان کے اس جملے پر غور کر رہا تھا کہ سامنے سے اسے رضوان کوٹ پتلون میں آتا ہوا دکھائی دیا۔ ارے یہ رضوان ہے وہی رضوان جسے وہ دو ماہ قبل یہاں ائیر پورٹ پر چھوڑ کر گیا تھا؟ نہیں یہ تو رضوان الحق ہے۔ فائی اسٹار کوک رضوان الحق جو چمیلی بیگم کے آگے آگے چلا آ رہا تھا۔
ایک ہی چیز کے الگ الگ نام،
الگ حلیہ، الگ لباس۔
سب کچھ بدل گیا تھا۔
غضنفر کے اندر سے آواز آئی بظاہر تو بہت کچھ بدل گیا لیکن اندر سے کچھ نہیں بدلا۔ اس لیے کہ رضوان وقت کے ساتھ بدلنے والوں میں سے نہیں تھا۔
٭٭٭
رضوان اور رضیہ
رضوان کی بابت غضنفر کا قیاس غلط تھا۔ رضوان خود اپنی زندگی میں آنے والی غیر معمولی تبدیلیوں پر حیرت زدہ تھا۔ وہ راستے بھر انہیں خیالات میں گم تھا۔ بنگلہ دیش بمان کا جہاز جس تیزی کے ساتھ ڈھاکہ کی جانب رواں دواں تھا اس سے بھی زیادہ سرعت کے ساتھ رضوان ماضی کے خلاؤں کی سیر کر رہا تھا وہ بذاتِ خود اپنے گذرے ہوئے حالات کو تصورِ خیال میں حیرت سے دیکھ رہا تھا اور سوچ رہا تھا یہ سب کیا ہو گیا؟ کیوں کرہو گیا؟ خود اس کے ساتھ جو کچھ رونما ہوا تھا وہ اس کے اپنے لئے ناقابل یقین تھا۔ اپنے خواب و خیال میں جن واقعات و حادثات کا گمان نہیں کر سکتا تھا وہ اس کے سامنے اس کا اپنا ماضی بن کر نمودار ہو رہے تھے ماضی کے اس انوکھے سفر میں اس کے ساتھ چمیلی نہیں بلکہ رضیہ تھی رضیہ سلطانہ۔
رضیہ سلطانہ جس نے برسوں تک اس کے دل کی دنیا پر حکمرانی کی تھی اور سلطانی بھی ایسی کے لوگ اسے رضیہ رضوانہ کہہ کر پکارنے لگے تھے۔ رضیہ اور رضوان کی ہم آہنگی اپنی مثال آپ تھی ان دونوں کی ازدواجی زندگی پر سارا محلہ رشک کرتا تھا۔ رضوان کی شفقت اور رضیہ کی محبت اسر شتے کی مستحکم بنیادیں تھیں۔
رضوان چاٹگانگ کے ایک بڑے ہوٹل میں ملازمت کرتا تھا اور رضیہ وہاں سے سو کلومیٹر کے فاصلے پر لال ماٹی نام کے قصبہ میں رہتی تھی۔ رضوان کی ہفتہ واری چھٹی بدھ کے دن ہوتی۔ وہ منگل کی شام میں جلد نکلتا اور رات ہوتے ہوتے گھر پہونچ جاتا۔ جمعرات کو علیٰ الصبح گھر سے نکلتا اور دس بجے تک ڈیوٹی پر حاضر ہو جاتا۔ اس کے ساتھی رضوان کا ہفتہ میں ایک دن جلد جانا اور تاخیر سے آنا برداشت کر لیتے تھے اس لئے کہ انہیں رضوان کی مجبوریوں کا احساس تھا۔
رضوان نے رضیہ کو شہر منتقل کرنے کی بہت کوشش کی لیکن ناکام رہا اس لئے کہ شہر کی جھگی جھونپڑی میں رہنا رضیہ کے بس کی بات نہیں تھی۔ رضوان کی قلیل تنخواہ اس کو اچھا مکان خریدنے کی اجازت نہیں دیتی تھی۔ اس لئے مجبوراً پانچ فراق اور دو وصال کے فارمولے پر مصالحت ہو گئی تھی۔ یہ سلسلہ چلتا رہا۔ دن سالوں میں بدلتے رہے بچے اسکول جانے لگے۔ گھر کی دیگر ذمہ داریوں میں اضافہ ہونے لگا۔ روز افزوں مہنگائی کے چلتے تنخواہ بڑھنے کے باوجود دن بدن کم محسوس ہونے لگی اور رضوان نے بادلِ ناخواستہ خلیج جانے کا من بنا لیا۔ خلیج کی زندگی نے وصال و فراق کی مساوات کو بدل کر رکھ دیا تھا اب وہ ۳۳۵ کے مقابلے ۳۰ دن ہو گیا تھا گو کہ فی صد میں قدرے کمی واقع ہو گئی تھی لیکن وصال کے لمحات یکمشت حاصل ہوتے تھے اور پھر طویل فراق سے سابقہ پیش آتا تھا۔
رضیہ اس نئے انتظام پر بھی راضی ہو گئی تھی اس لئے کہ اس سے گھر میں خوشحالی کا وہ ننھا سا چراغ روشن ہو گیا تھاجس میں بچوں کا مستقبل تابناک نظر آتا تھا۔ رضیہ کی توجہات ہمیشہ ہی اپنے بچوں کی جانب مرکوز رہی تھیں اس کا گھر اور اس کے بچے اس کی کل کائنات تھے۔ وہ اپنے بچوں سے بے انتہا محبت کرتی تھی اور ان کی خوشی اور آرام کیلئے بڑی سے بڑی قربانی پیش کرنے میں دریغ نہ کرتی۔ رضیہ کی اس غیر معمولی محنت اور توجہ نے اس کے بچوں کو اسکول کے ہونہار ترین طلبا میں شامل کر دیا تھا۔ اسے اپنے بچوں پر فخر تھا وہ ان کی کامیابی کو اپنی کامیابی سمجھ کر اس پر ناز کرتی تھی۔
رضوان الحق کیلئے ابو ظبی میں اس قدر طویل عرصہ تک رضیہ سلطانہ سے دور رہنا بہت ناگوار تھا۔ پہلا سال تو اس نے قرض کی ادائیگی کی خاطر کسی طرح گزار دیا لیکن دوسرے سال بیلجیم کے سفارتخانے کی کم تنخواہ والی ملازمت محض اس وجہ سے گوارہ کر لی تاکہ رہائش اور ویزہ کا بندوبست ہو جائے اور وہ رضیہ کو اپنے پاس بلوا سکے۔ اسے یقین تھا رضیہ اس خبر کو سن کر باغ باغ ہو جائے گی اور فوراً ابو ظبی کوچ کرنے کی تیاریوں میں جٹ جائے گی لیکن رضوان کو حیرت ہوئی جب رضیہ بچوں کو ساتھ لے کر چلنے پر اصرار کرنے لگی۔
رضوان کیلئے بچوں کو یہاں لانا اور تعلیم دلوانا نا ممکن تھا اس نے رضیہ کو سمجھایا کہ بچے ننہال یا ددیہال میں رہ لیں گے ان کے ماموں اور چاچا وغیرہ ان کا خیال رکھیں گے لیکن رضیہ کیلئے یہ تجویز قابل قبول نہیں تھی۔ اپنے بچوں کو غیروں کے رحم و کرم پر چھوڑنا اسے گوارہ نہ تھا۔ اس کے خیال میں نوخیز کلیوں کو ماں اور باپ دونوں کی نگرانی مطلوب تھی اگرچہ معاشی مجبوریاں والد کو دور لے جائیں تو ماں کسی حد تک اس کمی کو پورا کر سکتی تھی۔ اس ذمہ داری کو بوڑھے ماں باپ یا ساس سسر کے کندھوں پر ڈال کر راہ فرار اختیار کرنا بچوں کی حق تلفی تھی۔ بزرگ اپنی تمام تر کوشش اور خواہش کے باوجود بچوں کے حقوق کما حقہ ادا کرنے سے قاصر تھے۔ اپنی ذاتی خوشی اور سہولت کی خاطر بچوں کو محروم کرنا رضیہ کے نزدیک جرم عظیم تھا۔
رضیہ نے رضوان کو اپنا موقف سمجھانے کی بہتیری کوشش کی اور اس کی خاموشی کو تائید سمجھ بیٹھی جو ایک فاش غلطی تھی۔ رضوان واپس ابو ظبی آ گیا اور اسے احساس ہو گیا کہ رضیہ یہاں آنے کے لیے ہرگز تیار نہیں ہے پھر بھی اس کو راضی کرنے کی سعی کرتا رہا مگر کامیابی نہیں ملی کیونکہ رضوان جب بھی اس مسئلے پر رضیہ سے بات کرتا وہ فوراً جذباتی ہو جاتی اور مجبوراً اسے خاموش ہو جانا پڑتا۔
رضوان ایک عجیب و غریب مخمصہ میں گرفتار ہو چکا تھا جس سے نجات کی کوئی صورت دکھائی نہ دیتی تھی۔ اس نے جب اپنے قریبی دوستوں سے مشورہ کیا تو کچھ لوگوں نے نکاح ثانی کی صلاح دی۔ ابتدا میں یہ تجویز رضوان کیلئے قابل قبول نہیں تھی اس لئے کہ رضیہ کی ناراضگی کا اندیشہ تھا۔ وہ اپنی بیوی بچوں سے بے انتہا محبت کرتا تھا اور ان کی دلآزاری اسے کسی صورت گوارہ نہیں تھی لیکن اس کی اپنی ازدواجی ضرورت تھی جس کے بغیر اس کا گذارا نہیں تھا وقت کے ساتھ اس نے اپنے آپ کو ایک سخت فیصلے پر راضی کر لیا۔
رضوان اگلی مرتبہ اس ارادے کے ساتھ بنگلہ دیش روانہ ہوا کہ رضیہ کو منانے کی ایک آخری کوشش کرے گا اور اگر وہ پھر بھی تیار نہ ہوئی تو دوسرا نکاح کر کے اپنے نئی بیوی کو ابو ظبی بلا لے گا۔ رضیہ اس بار بھی ٹس سے مس نہ ہوئی۔ اس نے اپنے دوستوں کی مدد سے نکاح ثانی کی جانب پیش قدمی کی۔ جو رشتے آئے ان میں بہارلاسلام کی بیٹی چمیلی کی بھی تجویز تھی۔ رضوان نے خاموشی کے ساتھ چمیلی سے نکاح کیا اور یہ وعدہ کر کے لوٹ آیا کہ آئند و جب چھٹی پر آئے گا تو چمیلی کا ویزا ساتھ لائے گا تاکہ اسے اپنے ساتھ ابو ظبی لے کر جا سکے۔
رضوان کا نکاح ثانی صیغۂ راز میں تھا۔ چند افراد کے علاوہ کسی کو اس کی خبر نہ تھی۔ رضیہ سلطانہ بھی اس سے یکسر بے خبر تھی لیکن یہ راز آخر فاش ہو گیا۔ رضوان کے ابو ظبی لوٹنے کے چند روز بعد رضیہ کو سب کچھ پتہ چل گیا۔ اس کیلئے یہ زلزلے کا زبردست جھٹکا تھا اس نے محسوس کیا گویا اس کا تخت طاؤس اچانک ہچکولے کھانے لگا ہے۔
رضیہ سلطانہ نے اپنی سلطانی کو قائم رکھنے کیلئے نہ جانے کتنوں کو ناراض کیا اور پھر راضی بھی کر لیا۔ نہ جانے خود کتنی بار ناراض ہوئی اور پھر راضی بھی ہو گئی لیکن بہر صورت اپنے اقتدار پر آنچ نہ آنے دی۔ ننھی سی اس سلطنت کی سرحدیں گھر کی دہلیز تک سمٹی ہوئی تھیں وہ اس مملکت کی لاشریک ملکہ تھی اس کے اندر پائی جانے والی ہر شئے بشمول رضوان کے صرف اور صرف اس کی اپنی رعایا اور ملکیت تھیں۔ اس مختصر سی کائنات پر اس کی مکمل حکمرانی تھی۔ رضوان کے نکاح ثانی کی اطلاع سے قبل وہ اپنے آپ سے نہایت مطمئن اور خوش تھی لیکن پھر اچانک اس کا آشیانہ شعلوں کی نذر ہو گیا تھا۔
رضیہ سلطانہ کا سراپہ وجود بارود کے ڈھیر میں تبدیل ہو چکا تھا۔ ایسا لگتا تھا کسی بھی لمحہ وہ ایک خود کش دھماکے سے پارہ پارہ ہو کر بکھر جائے گی۔ وہ اپنے ساتھ اپنے جہان کو بھسم کر دینا چاہتی تھی لیکن معصوم بچوں کا خیال اس کے پیروں کی زنجیر بن گیا۔ ان خود ساختہ بیڑیوں کو وہ کبھی اپنے پاؤں کی پائل سمجھتی تھی۔ اس پائل کی جھنک جو اس کے کانوں میں رس گھولتی تھی اب صور اسرافیل بن گئی تھی۔ ویسے تو وہ اپنے بچوں کی خاطر بکھرنا نہیں بلکہ سنبھلنا چاہتی تھی لیکن اپنے آپ پر قابو رکھنا اس کے لئے مشکل ہو رہا تھا۔
رضیہ کے پاس بیٹھی اس کی خاص سہیلی پروین شاکر اسے سمجھانے کی کئی ناکام کوششیں کر چکی تھی لیکن رضیہ کا حال یہ تھا کہ وہ ہر بات پر بپھر جاتی تھی کبھی کبھی تو ایسا معلوم ہوتا کہ یہ پروین شاکر نہیں بلکہ رضیہ کا نامراد شوہر ہے جو اسے سمجھانے منانے میں مصروف ہے جو بار بار اپنے گناہ کبیرہ یعنی نکاح ثانی کا اعتراف کر کے گڑ گ ڑا رہا ہے۔
رضیہ کے غیر عقلی رویہ کے باوجود پروین اس کا غم بانٹنے کی اپنی سعی میں لگی ہوئی تھی۔ اسے احساس تھا اگر یہی معاملہ خود اس کے ساتھ بھی رونما ہو گیا ہوتا تو کیفیت مختلف نہ ہوتی۔ ویسے تو عورت ذات کو اللہ رب العزت نے ایک ایسا درد مند دل عنایت فرمایا ہے کہ وہ اپنے دوست تو کجا دشمن کا در دبھی محسوس کر لیتا ہے۔ رضیہ کی بابت پروین شاکر اس حقیقت کی معترف تھی مگر انا اس کے سامنے پہاڑ بن کر کھڑی ہو گئی تھی۔ کاش کہ وہ رضوان سے اس قدر محبت نہ کرتی۔ کاش کے اسے رضوان اور چمیلی کی مجبوریوں کا خیال ہوتا لیکن اس صورتحال میں ایسی توقع محال تھی۔
اپنی سہیلی سے ایک ہی گھسی پٹی کہانی کئی بار سننے کے بعد پروین اٹھی اور باورچی خانے کی جانب چائے بنانے کی خاطر چل پڑی درمیان میں اسے خیال آیا کہ بچوں کے اسکول سے آنے کا وقت ہو رہا ہے اس نے فریج سے گوشت نکال کر دھویا اور اسے ابلنے کیلئے دوسرے چولہے پر چڑھا دیا۔ تیسرے پر چاول رکھ دیا لیکن چوتھا اب بھی خالی تھا وہ سوچنے لگی وقت وقت کی بات ہے کسی زمانے میں اس باورچی خانے کے اندر ایک چولہا تھا اور اس پر کھانا باری باری بنتا تھا اب تین چولہے ایک ساتھ کام کر رہے ہیں اور پھر بھی چوتھا خالی ہے زمانہ بدل گیا ہے۔ آخر یہ آسان سی بات رضیہ کی سمجھ میں کیوں نہیں آتی؟
چائے کی دو پیالیاں کشتی میں رکھ کر پروین لوٹ آئی۔ رضیہ نے اسے دیکھا تو آنکھوں کے گنگ و جمن پھر بہنے لگے۔ اس نے نئے سرے سے حکایات کا دفتر کھول دیا اس درد بھری داستان میں شکایت کے علاوہ رکھا ہی کیا تھا؟
آخر کیا غلطی ہے میری؟
اس نے مجھے یہ سزا کیوں دی؟
اس بے وفا نے مجھ پر یہ ظلم کیوں کیا؟
میں نے اس کیلئے کیا نہیں کیا؟
اس چڑیل میں آخر کیا نظر آ گیا جو اس نے مجھ سے آنکھیں پھیر لیں؟
کون سا جادو کر دیا اس کلموہی نے اس پر؟
کس قدر جھوٹا ہے یہ شخص؟
آخر وہ اتنا جھوٹ کیوں بولتا ہے؟
اس نے مجھ سے یہ سب کیوں چھپایا؟
کیوں مجھ کو اندھیرے میں رکھا؟
کیوں اس نے مجھے بے یارو مددگار چھوڑ دیا آخر کیوں؟
ان سوالات کے جوابات پروین کئی بار دے چکی تھی۔ اور اکثر و بیشتر جوابات میں اس نے جانتے بوجھتے حقیقت بیانی سے گریز کیا تھا۔ وہ اپنی سہیلی کی دل آزاری نہیں کرنا چاہتی تھی اس لئے اس کے بیجا الزامات کی تائید کئے چلی جاتی تھی۔ وہ جانتی تھی کہ رضیہ کی ذہنی حالت غیر معتدل ہے یہ ایک عارضی مرحلہ جو جلد ہی گذر جائے گا اور پھر سب کچھ پہلے کی طرح معمول پر آ جائے گا۔ پروین کے خیال میں نہ تو رضوان نے رضیہ کو چھوڑا تھا اور نہ ہی اس سے کوئی جھوٹ بولا تھا۔ اس کے برعکس رضیہ کئی باراسے چھوڑنے کی دھمکی دے چکی تھی۔ رضوان نے دھمکیوں کے جواب میں کمال صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا تھا۔
وہ جسے چڑیل کہہ رہی تھی اس سے واقف تک نہ تھی رضوان نے کوئی دھوکہ دہی نہیں کی تھی اس نے باقاعدہ نکاح کیا تھا اور شادی اگر جرم تھا تو وہ پہلی بار نہیں ہوئی تھی۔ نکاح نہ تو جرم ہے اور نہ جادو۔ رضوان تو ویسے ہی برسوں رضیہ کے سحر میں گرفتار رہا تھا۔ پروین جانتی تھی کہ رضیہ کی غلطی نہیں تھی لیکن اسے کوئی سزا بھی نہیں ملی تھی۔ رضیہ نے یقیناً اپنے شوہر رضوان سے بہترین حسن سلوک کیا تھا لیکن جواب میں رضوان نے بھی کوئی کسرنہ اٹھا رکھی تھی۔ اس نے کبھی بھی رضیہ کو شکایت کا موقع نہیں دیا تھا۔ وہ ایک دوجے کے ساتھ احسان کا بدلہ بہترین احسان کے سنہری اصول پر کاربند رہے تھے۔
رضوان نہایت نرم گفتار، وفا شعار اور اطاعت گزار شوہر تھا۔ اسی سبب سے رضیہ کی سہیلیاں اس پر رشک کرتی تھیں۔ یہ سب جانتے ہوئے بھی ابھی تک رضوان کی حمایت میں ایک حرف اپنی زبان پر لانے کی جرأت پروین نہیں کر سکی تھی۔ وہ رضیہ کا غم غلط کرنے کے لیے بحث و اختلاف سے گریز کرتے ہوئے رضیہ کے خود ساختہ زخموں پر مرہم رکھ دیتی تھی۔
پروین نے بات بدلنے کیلئے کہا رضیہ ایک بات بتاؤ یہ رضوان کیسا نام ہے؟ ہمارے یہاں تو اس قسم کے نام نہیں پائے جاتے؟
رضیہ بولی جی ہاں تم صحیح کہتی ہو مجھے بھی یہ نام ابتداء میں کچھ عجیب سا لگا تھا لیکن میں نے سوچا ہمارے یہاں نام کچھ زیادہ غور و خوض کے بعد تو رکھے نہیں جاتے اس لئے نظر انداز کر دیا۔
اچھا تو تم نے کبھی وجہ تسمیہ دریافت کرنے کی زحمت نہیں کی؟
ویسے ایک مرتبہ میں نے پوچھ لیا تھا کہ آپ کا نام رضوان کیوں ہے؟ یہ کچھ مختلف سا معلوم ہوتا ہے؟
اچھا بہت خوب تو انہوں نے کیا جواب دیا؟
وہ بولے میرے والد صاحب کو شاعری کا شوق تھا اس لئے وہ اپنے بچوں کے نام ردیف قافیہ کے لحاظ سے رکھتے تھے۔ سب سے بڑے کا نام ریحان رکھا، پھر عفان اور تیسرا میں تھا اس لئے رضوان رکھ دیا۔
اچھا یہ تو دلچسپ بات ہے کیا ان سے چھوٹے بھائی بھی ہیں؟
جی ہاں ان سے چھوٹے کا نام فیضان ہے اور پھر سلطان۔
پروین خوش ہو رہی تھی کہ موضوع بدل گیا تھا وہ بولی خیر یہ تو اچھا ہوا کہ سلسلہ بند ہو گیا ورنہ حیوان اور شیطان کی نوبت آ جاتی تو مسئلہ کھڑا ہو جاتا؟
دیکھو پروین اگر حیوان حیوانی کرے یا شیطان شیطانی کرے تو اس میں کوئی حیرت کی بات نہیں ہے لیکن اگر انسان شیطان یا حیوان بن جائے تو بات بگڑ جاتی ہے جیسا کہ رضوان فی الحال نہ صرف حیوان بلکہ شیطان بن چکا تھا۔
پروین نے اپنا سرپیٹ لیا اس لئے کہ بات گھوم پھر کر وہیں پہونچ گئی جہاں سے وہ اسے دور لے جانا چاہتی تھی۔ یہ ایک بڑی مشکل تھی کہ بات جہاں سے شروع ہوتی تھی تان بالآخر وہیں جا کر ٹوٹتی تھی۔ پروین نے پھر نئے سرے سے اپنی کوشش کا آغاز کیا اور بولی میں نے تو یہاں تک سن رکھا ہے کہ رضوان جنت کے دربان کا بھی نام ہے؟
جنت کا دربان رضوان؟
جی ہاں میں نے ایسا ہی سنا ہے کہ رضوان وہ دربان ہے کہ جس کو پسند کرے اس کیلئے جنت کا دروازہ کھول دے اور جس کسی سے ناراض ہو جائے اسے دروازے سے باہر کر دے؟
وہ تو کسی فرشتے کا کام ہے لیکن ایک یہ ہیں رضوان! ان کے کرتوت دیکھ کر تو ابلیس بھی شرما جائے، پہلے تو مجھے حور بنا کر اپنی جنت میں داخل کر لیا اور پھر کسی چڑیل کی خاطر مجھے جہنم میں جھونک دیا۔
او ہو تو معلوم ہوا کہ آپ حور بھی ہیں اور جنت میں بھی رہتی تھیں؟
رضیہ کے ہونٹوں پر آخر ہنسی آ ہی گئی پروین بھی مسکرائی۔
رضیہ نے کہا تم بڑی عجیب عورت ہو روتے کو ہنسا دیتی ہو اور ہنستے کو رلا دیتی ہو اسی لئے تو میں نے تمہیں اپنی سہیلی بنا رکھا ہے۔
اچھا ورنہ؟
ورنہ بھی میں تجھے اپنی سہیلی بنائے رکھتی، لیکن دیکھ تو اب ایک کام کرجس طرح مجھے ہنسایا ہے اسی طرح انہیں رلا کر دکھا تب جا کر میں اپنا استاد مانوں گی۔
پروین بولی تیرے وہ تو پہلے ہی سے رورہے ہیں اب روتے ہوئے کو کیا رلانا؟ اور اگر مزید رلانا بھی ہے تواس خدمت کیلئے تو کافی ہے اس معاملے میں مجھے زحمت اٹھانے کی چنداں ضرورت نہیں۔
دونوں سہیلیاں پھر سے ہنس پڑیں رضیہ بولی میں جانتی تھی تم یہی جواب دو گی تم سب ان کے ساتھ ہو۔ سارا جہان ان کا ہمنوا ہے میں دنیا میں اکیلی ہوں۔ تنہا بالکل تنہا اور پھر منہ بسور کر بیٹھ گئی۔
پروین نے جواب دیا دیکھو میں جاتے جاتے تمہارے پاس صابر ظفر کا ایک شعر چھوڑ جاتی ہوں شاید کے یہ تمہارے غم کا مداوا بن جائے۔
بکھرتا پھول جیسے شاخ پر اچھا نہیں لگتا
محبت میں کو ئی بھی عمر بھر اچھا نہیں لگتا
٭٭٭
قاسم سمرو
پروین شاکر مسکراہٹوں کی چند کلیاں کھلا کر واپس جا چکی تھی لیکن اس سے پہلے کہ وہ کلیاں پھول بن کر مہکیں ساری پنکھڑیاں زرد ہو کر بکھر گئیں۔ اب ان میں نہ رنگ تھا اور نہ خوشبو۔ وہ سب رضیہ کی بے مصرف زندگی کی طرح تھیں۔ رضیہ نے بچوں کو پروین کا تیار کردہ کھانا کھلا کر سلا دیا اور خود غم و اندوہ کے اتھاہ سمندر میں غوطہ زن ہو گئی۔ اسے جلد ہی احساس ہو گیا کہ پانی دھیرے دھیرے سر سے اونچا ہوتا جا رہا ہے۔ اسے ان موجوں سے لڑ کر ساحل تک پہونچنے کی سعی کرنی چاہئے ورنہ ننھے معصوم بچوں کی خوشیاں بھی طوفان کی نذر ہو جائیں گی۔
رضیہ کو اپنے ہنستے کھیلتے گھر سنسار کو غرقاب ہونے سے بچانے کی کوئی صورت نظر نہ آتی تھی بس اتنا سمجھ میں آتا تھا کہ اس ساری مصیبت کی جڑ رضوان ہے اس لئے اگر رضوان سے پیچھا چھوٹ جائے تو کشتی کنارے لگ جائے گی۔ لیکن اس معاملے میں کون اس کی مدد کر سکتا ہے؟ یہ سوال بار بار اس کو ستا رہا تھا کہ اچانک ایک نام ذہن میں کوندا قاسم! سمرو!! قاسم سمرو!!! قاسم سمرو اس لال ماٹی نامی قصبہ کے سب سے مشہور و معروف وکیل کا نام تھا جنھیں عائلی معاملات کا ماہر سمجھا جاتا تھا۔ انتقام کے شعلے آسمان کو چھو رہے تھے رضیہ چاہتی تھی کہ رضوان الحق کو اس کے کئے کی سخت سے سخت سزا دلوائی جائے۔ اس کام کے لیے قاسم سمرو سے بہتر کوئی ہتھیار نہیں ہو سکتا تھا۔
رضیہ نے ٹیلی فون ایکسچینج سے قاسم سمرو کا نمبر حاصل کیا اور فون ملا دیا سامنے سے ہیلو کی آواز آئی۔ یہ قاسم کانجی سکریٹری تھا۔
رضیہ بولی کیا آپ جناب قاسم سمرو بول رہے ہیں؟
جی نہیں۔
کیا یہ قاسم سمروکے دفتر کا نمبر نہیں ہے۔
جی ہاں بالکل ہے؟
یہ کیا مذاق ہے؟ مجھے قاسم صاحب سے فوراً بات کرنی ہے۔
یہ ممکن نہیں ہے۔
کیوں ممکن نہیں ہے؟
اس لئے کہ وہ ابھی عدالت میں کسی مقدمہ کی پیروی کر رہے ہیں۔
وہ کب فارغ ہوں گے؟
شام میں۔
تو کیا شام میں بات ممکن ہے؟
جی نہیں اس لئے کہ آج شام وہ کل کے مقدمہ کی تیاری کریں گے۔
اچھا تو کل شا م؟
وہ بھی ممکن نہیں ہے اس لئے کہ وہ ہفتہ کے آخر میں چھٹی منانے کیلئے کسی نامعلوم مقام پر چلے جاتے ہیں؟
یہ کیا مذاق ہے؟ آخر کب ہو سکتی ہے ان سے ملاقات؟
پیر کی شام سے پہلے نہیں ہو۔ میں اس تاخیر کے لئے آپ سے معذرت چاہتا ہوں فون بند ہو گیا۔
رضوان کی طرح رضیہ کو قاسم پر بھی غصہ آ گیا۔ قاسم سمرو نہایت مصروف وکیل تھے دن بھر عدالت میں ہوتے شام مؤکل کے ساتھ گفت و شنید میں گذرتی۔ پتہ ہی نہ چلتا ہفتہ کہاں چلا گیا؟ ان کو اپنی ذات کیلئے اس دوران کو ئی وقت ہی نہیں ملتا تھا اس لئے انہوں نے آخرِ ہفتہ کو بڑی پابندی کے ساتھ خفیہ انداز میں گذارنا شروع کر دیا تھا۔ اس دوران ان کی ساری توجہات کا مرکز خود اپنی ذات اور اہل خانہ ہوتے تھے۔
رضیہ کیلئے صبر کرنا مشکل تھا اس لئے اس نے پروین شاکر کے ذریعہ قاسم کا موبائل نمبر حاصل کر لیا اور ان سے درخواست کی کہ وہ کسی طرح شام میں اس کیلئے وقت نکالیں۔ اصرار کرنے پر قاسم سمرو نے اس شرط پر وقت دے دیا کہ وہ درمیان میں دوسرے مقدمہ کی تیاری کیلئے وقفہ لیں گے۔ اس لیے درمیان میں گفتگو کا سلسلہ منقطع ہو جایا کرے گا اگر اس خلل پر اعتراض نہ ہو تو شام ۷ بجے ان کے گھر سے متصل دفتر میں آ جائے ورنہ آئندہ ہفتہ تک انتظار کرے۔
رضیہ کیلئے انتظار سوہانِ جان تھا اس لئے اس نے خلل سے مصالحت کر لی۔ رضیہ نے سوچا یہ زندگی بھی تو مصلحت اور مصالحت کے درمیان بندھی رسی ہے جس پر بڑے احتیاط سے توازن قائم رکھ کر چلنا پڑتا۔ رضیہ کیلئے یہ نئی مشق تھی اس لئے کہ اس سے پہلے وہ رضوان کے سہارے بلا خوف و خطر اس رسی پر دوڑتی پھرتی تھی۔ رضوان چونکہ اسے نازک آبگینے کی طرح اپنی آغوش میں سنبھالے رکھتا اس لئے رسی کے اوپر سے گر جانے کا مطلق ڈر نہ ہوتا تھا لیکن اب وہ سہارہ ٹوٹ چکا تھا۔ بغیر کسی بیساکھی کے زندگی کا پہلا قدم رکھنے سے وہ گھبرا رہی تھی۔ مختلف خدشات نے اسے اپنے پنجوں میں جکڑ لیا تھا اسے بار بار رسی کے ٹوٹنے کا خوف ستاتا اور توازن کے بگڑنے کے خیال سے وہ چونک پڑتی تھی۔ مصلحت کا تقاضہ رسی کو ٹوٹنے سے بچانا چاہتا تھا اور مصالحت توازن کو برقرار رکھنے کیلئے ضروری تھی۔ اس معمولی سی رسی میں ایک خاندان بندھا ہوا تھا۔ اسے یقین تھا کہ اس کے ٹوٹتے ہی سب کچھ بکھر جائے گا۔
قاسم سمرو کی کامیابی کا راز اس کی ذہانت و ذکاوت کے ساتھ ساتھ اس کی منفرد حکمتِ عملی تھی۔ وہ نہ تو مقدمہ لینے میں جلد بازی دکھلاتے اور نہ روا روی میں لڑتے تھے۔ ٹھوک بجا کر مقدمہ لینا اور خوب تیاری کے بعد اسے لڑنا ان کی عادتِ ثانیہ تھی۔ وہ تیاری کے دوران اچھا خاصہ وقت اپنے مؤکل کے ساتھ گذارتے اور اس سے ایسے تمام سوالات از خود پوچھ لیتے کہ جن کی وکیلِ مخالف سے توقع ہوتی تھی۔ ان کو قبل از وقت پتہ ہوتا کہ سرکاری وکیل یا جج کس وقت کون سا سوال کر سکتا ہے۔ اس لئے قاسم سمرو کو کسی نے عدالت میں حیرت زدہ ہوتے نہیں دیکھا تھا۔ وہ اپنے مقدمہ سے متعلق سابقہ فیصلوں اور بحثوں کا گہر مطالعہ کرنے کے بعد ہی میدان میں اترتے اور یہی محنت و مشقت ان کے کامیابی کی شاہِ کلید تھی۔
قاسم سمرو سے ملاقات کیلئے رضیہ نے اپنی سہیلی پروین شاکر کوساتھ لے لیا تھا اس لئے کہ وہ دونوں نہ صرف نہایت بے تکلف بلکہ ایک جان دو قالب تھیں۔ ان کے درمیان راز کا پردہ نہیں تھا۔ ان دونوں کے سامنے ایک دوسرے کی زندگی ایک کھلی کتاب کی مانند تھی۔ قاسم سمرو نے انہیں ملاقات کے کمرے میں بٹھانے کے بعد چائے منگوائی تاکہ گفتگو کیلئے سازگار ماحول تیار کیا جا سکے۔
چائے کے دوران قاسم نے پوچھا آپ لوگوں کی شادی کو کتنا عرصہ ہوا؟
رضیہ حساب لگانے لگی۔ سچ تو یہ ہے کہ شادی کے بعد کا وقفہ اس تیزی سے گذرا تھا کہ کچھ پتہ ہی نہ چل سکا۔ اس بیچ قاسم نے دوسرا سوال کر دیا۔ کیا آپ لوگوں کے درمیان کو ئی رشتہ داری تھی؟
جواب نفی میں ملا تو قاسم نے مزید کرید کی اور پوچھا اگر آپ کو اعتراض نہ ہو تو کیا آپ یہ بتانے کی زحمت کریں گی کہ یہ رشتہ کیسے طے ہوا؟ کس نے طے کیا وغیرہ وغیرہ؟
رضیہ کے لئے ان سوالات نے بڑا مسئلہ پیدا کر دیا۔ اس کی ماضی کے سارے زخم ہرے ہو گئے۔ پروین کیلئے بھی یہ سوال نئے تھے۔ رضیہ اور رضوان سے اس کی ملاقات لال مائی میں آمد کے بعد ہوئی تھی۔ اس سے پہلے کیا کچھ ہوا یہ سب جاننے کی ضرورت اس نے محسوس ہی نہیں کی تھی۔
رضیہ اپنے پیر کے انگوٹھے سے قالین کو کریدتے ہوئے بولی وکیل صاحب نکاح کا فیصلہ خود ہم لوگوں نے کیا تھا۔
کیا مطلب آپ کے ماں باپ۔۔ ۔۔
رضیہ نے بات کاٹ دی اور بولی جی ہاں وکیل صاحب میرے والدین کبھی بھی اس بات پر راضی نہ ہو سکتے تھے کہ میرا بیاہ ان کے ساتھ ہو جائے۔
اچھا؟ کیا میں اس کی وجہ جان سکتا ہوں؟
کیوں نہیں۔ در اصل میں ایک جاگیردار خاندان کی لڑکی تھی اور رضوان ہماری حویلی میں خانساماں تھا۔ میرا مطلب ہے باورچی۔
باورچی؟ ؟
جی ہاں وکیل صاحب یہی سچ ہے۔ لیکن اس کے ہاتھ میں جادو تھا۔ وہ جو کچھ بھی بناتا بہت خوب بن جاتا تھا۔ سارے گھر والے کھانے کے ذائقہ سے پتہ لگا لیتے کہ کون سا پکوان رضوان کے ہاتھ سے بنا ہے اور کس کو دوسروں نے تیار کیا ہے۔ اس کا تناسب، اس کی سجاوٹ اور اس کا انداز بلکہ اس کی ہر شئے منفرد و ممتاز تھی۔ ہمارے گھر کی دیگر لڑکیاں کھانا پکانے کو حقیر مشغلہ سمجھتی تھیں لیکن مجھے اس کا شوق تھا۔ میری دیگر بہنیں جو کبھی باورچی خانے کی جانب نہیں پھٹکتی تھیں مجھ سے الجھ جاتیں اور مجھے بھی باز رکھنے کی کوشش کرتیں لیکن میری دلیل یہ تھی کہ اگر کھانا کھانے میں کوئی خرابی نہیں تو بنانے میں کیوں ہے؟ اور اگر یہ معیوب فعل ہے تو ہم دوسروں کو اس کام پر مجبور کیوں کرتے ہیں؟
باورچی خانے کے فن میں مہارت حاصل کرنے کی غرض سے میں نے نہ صرف کئی کتابیں بلکہ مختلف انواع اقسام کے اوزار خرید رکھے تھے۔ میں خوب پڑھ سمجھ کر حساب کتاب کے مطابق پکوان بناتی لیکن اس میں وہ ذائقہ نہیں ہوتا جو رضوان کے بغیر پڑھے لکھے اور روایتی برتنوں کے کھانے میں ہوتا تھا۔ میں جب بھی اپنی مہارت کا موازنہ رضوان سے کرتی تو پسپا ہو جاتی۔ یہ مسابقت کا عمل آگے جا کر حسد میں بدل گیا اور نہ جانے کب رشک۔ میں تبدیل ہو گیا۔ یہ اپنے آپ ہو گیا میری مرضی کا اس میں کوئی عمل دخل نہیں تھا۔
اس دوران ہم لوگ ایک دوسرے سے کافی قریب آ گئے تھے۔ ہمارے گھر کی دیگر خواتین اپنا بہت سارا وقت ٹیلی ویژن دیکھنے میں سرف کرتی تھیں جبکہ میں طرح طرح کے پکوان بنانے میں لگی رہتی۔ رضوان کے اور میرے درمیان اب مسابقت کی جگہ موافقت نے لے لی تھی۔ میں اس کی مدد سے بہترین خانساماں بن گئی تھی۔ اس بیچ ایک دن اچانک رضوان کو اپنے گاؤں بندربن جانا پڑا اور اپنی زندگی میں پہلی بار میں نے تنہائی کا کرب محسوس کیا۔
باورچی خانے میں رضوان کے علاوہ سب کچھ موجود تھا اس کے باوجود وہ خالی خالی سا لگتا تھا۔ مجھے وہاں جانے میں الجھن ہونے لگی۔ میں بھی گھبرا کر ٹیلی ویژن کے سامنے بیٹھنے لگی لیکن وہاں بھی میرا دل نہ لگتا تھا۔ مجھے مختلف ڈراموں میں رضوان نظر آنے لگا تھا۔ مختلف کردار اس سے مشابہ دکھائی دینے لگے تھے۔ لوگ مجھ سے پوچھتے رضیہ یہ تمہیں کیا ہو گیا ہے تم بیٹھے بیٹھے کہاں کھو جاتی ہو؟
ان سوالات کا میرے پاس کوئی جواب نہیں تھا بس ایک خوف تھا کہ کہیں استفسار کرنے والوں کو پتہ نہ چل جائے کہ میں کسے دیکھ رہی ہوں؟ کس کی آواز میرے کانوں میں گونج رہی ہے؟ اور میں کیا سوچ رہی ہوں؟ کبھی کبھی میں اپنے آپ سے پوچھتی کہ آخر اس بے وقوف کو تین ہفتوں کی طویل چھٹی لینے کی کیا ضرورت تھی؟ اگر کوئی مجبوری تھی تو جاتا لیکن ایک آدھ ہفتے بعد لوٹ آتا؟ تین ہفتہ کا وقفہ پہاڑ بن گیا تھا۔
ایک ہفتہ بعد میں یونہی بالکنی میں بیٹھی تھی تو کیا دیکھتی ہوں کہ رضوان سامان سے لدا پھندا چلا آ رہا ہے۔ پہلے تو مجھے خیال ہوا کہ یہ میرا گمان ہے۔ لیکن یہ حقیقت تھی۔ رضوان واپس آ چکا تھا۔ رضوان کے آتے ہی سب کچھ بدل گیا۔ فراق کا طویل سفرتمام ہو گیا۔ میں اس قدر خوش ہوئی کہ میں نے رضوان سے یہ بھی نہیں پوچھا کہ وہ جلد کیوں کر آ گیا؟ مجھے اس سوال میں کوئی دلچسپی نہیں تھی بلکہ اگر میرے لئے ممکن ہوتا تو میں پوچھتی کہ وہ آخر گیا ہی کیوں تھا؟ لیکن مجھے یہ سوال کرنے کا کوئی حق نہیں تھا۔ میں خوش تھی بلکہ سارا گھر بے حد خوش تھا اس لئے کہ میری بڑی بہن فوزیہ کی شادی قریب آ لگی تھی۔
مہمانوں کی گہما گہمی شروع ہو گئی۔ ایسے میں رضوان کی مصروفیت و اہمیت کافی بڑھ گئی تھی۔ اس کے باوجود رضوان اداس تھا۔ وہ چپ چاپ اپنے کام میں لگا رہتا۔ رضوان چھٹی سے واپس آنے کے بعد یکسر بدل گیا تھا۔ ایک دن موقع نکال کر میں نے پوچھا رضوان تمہارے گھر پر سب خیریت تو ہے؟ تعطیلات سے لوٹنے کے بعد کسی نے تمہیں ہنستے مسکراتے نہیں دیکھا۔ تم کیوں کھوئے کھوئے رہتے ہو؟ میرا جی چاہا کہ میں بولوں جیسی کہ میں تمہاری غیر موجودگی میں رہتی تھی لیکن یہ مناسب نہیں تھا۔
رضوان بولا سب کچھ ٹھیک ٹھاک ہے اسی لئے میں تین کے بجائے ایک ہفتہ میں لوٹ آیا۔ لیکن۔۔ ۔
لیکن کیا؟ میں نے پوچھا تمہیں واپس آنے کا دکھ ہے؟
نہیں، لیکن۔۔ ۔۔ ۔۔ نہیں کچھ نہیں، کچھ بھی نہیں!
یہ سچ نہیں ہے رضوان۔ بات کچھ اور ہے جو تم مجھ سے چھپا رہے ہو۔ تم مجھے اپنا دوست نہیں سمجھتے تو میں اپنی سہیلیوں کے پاس جا رہی ہوں۔ میں نے بناوٹی ناراضگی جتاتے ہوئے کہا تو وہ بولا کاش کہ میں تمہیں اپنا دوست نہیں سمجھتا تب تو کوئی مسئلہ ہی نہ تھا لیکن افسوس!!
افسوس! کیسا افسوس؟ ؟
کچھ نہیں۔۔ ۔ کچھ بھی نہیں۔
رضوان میرا جواب ٹال رہا تھا۔ میں نے کہا رضوان بولو اصل بات کیا ہے؟ اگر تم مجھے اپنا دوست سمجھتے ہو تو اپنے دل کی بات مجھے بتاؤ۔
دل کی بات؟ میں ایک باورچی ہوں رضیہ ایک معمولی باورچی۔ میرا کام تو صرف مویشیوں کے اعضا کو پکوان بنا کرسجا دینا ہے تاکہ لوگ انہیں مزہ لے کر کھا سکیں۔ میرا کام نہ غمِ دل ہے اور نہ دردِ جگر کی جانب توجہ دینا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ میرے دل کو نہ کچھ محسوس کرنا چاہئے اور زبان کو نہ ہی کچھ بولنا چاہئے۔ لیکن میں وہی سب کر رہا ہوں جو مجھے نہیں کرنا چاہیے۔
میں رضوان کے ان بے ربط جملوں کا مفہوم سمجھ گئی اور بولی رضوان بہت سارے ایسے کام بھی انسان سے سرزد ہو جاتے ہیں جن پر اس کا اختیار نہیں ہوتا۔
جی ہاں رضیہ تمہاری بات صد فی صد درست ہے لیکن یہ بے اختیاری میرے لئے مہلک ثابت ہو گی۔ میں تو ایک ہفتہ بھی تم سے دور نہ رہ سکا اور اب فوزیہ کے بعد تم بھی بیاہ کر کے چلی جاؤ گی دور کہیں دور دیس نکل جاؤ گی۔ اس وقت میں کیا کروں گا؟ میں تو مر جاؤں گا رضیہ! میں مر جاؤں گا۔
رضوان کا جواب سن کر میں خاموش ہو گئی۔ دیر تک خاموشی کے گھٹا ٹوپ بادل چھائے رہے۔ پھر میں بولی کیا یہ نہیں ہو سکتا کہ ہم ساتھ چلے جائیں؟
کیا۰۰۰۰۰؟ تم نہیں جانتیں کہ تم کیا کہہ رہی ہو رضیہ؟ تمہارے گھر والے ہمارا سر قلم کر کے گاؤں کے چورا ہے پر موجود پیڑ سے لٹکا دیں گے تاکہ آنے والی نسلیں عبرت پکڑیں۔
موت تو موت ہے رضوان میں بولی انسان گھٹ گھٹ کر مرے یا یکلخت سولی چڑھا دیا جائے۔ کیا فرق پڑتا ہے؟ میں ابھی تک نہیں جان پائی کی یہ جملہ میں نے کیسے ادا کر دیا تھا۔ چولہے پر چڑھی ہوئی ہانڈی سے جلنے کی بو آ رہی تھی، رضوان نے اس پر پانی سے بھرا گلاس انڈیل دیا۔ ایک چھناکے دار آواز کے ساتھ آنچ سرد ہو گئی۔
فوزیہ کی ڈولی اٹھی اور رضیہ، رضوان کے ساتھ بھاگ کر چٹاگانگ آ گئی۔ شہر پہنچ کرسب سے پہلے ہم نے نکاح کیا اور پھر جھگی جھونپڑی کی بستی میں اپنا ایک ننھا سا گھر بسا لیا۔ چند ماہ کی دوڑ دھوپ کے بعد رضوان کو شہر کے ایک ہوٹل میں باورچی کی نوکری مل گئی۔ رضوان کے رزق میں برکت ہونے لگی وہ چھوٹے ہوٹل سے بڑے ہوٹل میں ملازم ہو گیا۔ بچوں کی آمد نے گھر کی تنگی کا احساس دلایا ہم لوگوں نے شہر کے دور قصبہ لال ماٹی میں ایک کشادہ سا مکان بنا لیا۔ بچے تعلیم حاصل کرنے لگے اور میری تمام توجہ کا مرکز بن گئے
قاسم سمرو اور پروین شاکر رضوان اور رضیہ کی داستانِ محبت میں کھو چکے تھے۔ رضیہ رکی تو پروین بولی میں تو سمجھتی تھی یہ سب پردۂ سیمیں پر ہی ہوتا ہے لیکن آج مجھے پتہ چلا۔۔ ۔۔
قاسم سمرو نے بات کاٹ دی اور بولے پروین صاحبہ سچ تو یہ ہے کہ جہاں فسانے کی انتہا ہوتی وہیں سے حقیقت کی ابتدا ہوتی ہے۔
٭٭٭
ہوشمندی
قاسم سمرو جب دوبارہ مقدمہ سے متعلق سوالات کی جانب آئے تو پھر وہی پرانا مسئلہ لوٹ آیا کہ ہر سوال کے جواب میں رضیہ جذباتی ہو جاتی اور شکایات و الزامات کا ایسا دفتر کھول دیتی کہ اس میں جواب کے ساتھ سوال بھی غائب ہو جاتا۔ اس کے باوجود قاسم سمرو بڑے صبر و سکون کے ساتھ رضیہ کو اپنی بات پورا کرنے کا موقع دیتے اور بنیادی سوال کی جانب لوٹ آتے وہ در اصل رضیہ کا ذہن پڑھنے کی کوشش کر رہے تھے اور ان بے سر و پا باتوں سے انہیں اس میں مدد مل رہی تھی۔
پروین کو اس بات کا خوف ستا رہا تھا کہ کہیں قاسم سمرو کے تحمل کا بند ٹوٹ تو جائے وہ رضیہ کو ڈانٹ نہ دیں۔ وہ اپنی سہیلی کے غم و اندوہ میں اضافہ سے خوفزدہ تھی لیکن رضیہ کو ٹوکنا اس کے بس کی بات نہیں تھی۔ قاسم سمرو نے رضیہ کو رضوان کے خلاف اپنے دل کی بڑھاس نکالنے کا پورا موقع دیا۔ وہ جانتے تھے کہ جب تک یہ غبار نہیں نکل جاتا اس وقت تک عقل ٹھکانے نہیں آئے گی۔ دماغ پر پڑی زنجیروں کا قفل دل ہے جب تک وہ نہیں کھلتا اس وقت تک عقل مقید رہتی ہے۔
قاسم سمرو نے جب محسوس کیا کہ رضیہ قدرے معمول پر آ گئی ہے تو پوچھا۔ بہت خوب محترمہ رضیہ اب آپ ٹھنڈے دل کے ساتھ یہ بتلائیں کہ مشکل کیا ہے؟
پروین جانتی تھی کہ قاسم کو اس حقیقت کا علم ہے اس کے باوجود انہوں نے رضیہ کی اس تک رسائی کی خاطر یہ سوال کیا ہے۔
رضیہ بولی۔ وکیل صاحب میں آپ کو بتلا چکی ہوں اور پھر بتلاتی ہوں کہ پہلی غلطی تو یہ ہے کہ انہوں نے دوسرا نکاح کیا۔ اور دوسرا قصور اسے مجھ سے پوشیدہ رکھنے کا ہے۔ ان کا تیسرا جرم یہ ہے کہ مجھے دھوکہ دیا۔ فریب کیا میرے ساتھ!
تو گو یا نکاحِ ثانی کی خبر کو صیغۂ راز میں رکھنا جرم ہے؟ لیکن اگر وہ اسے نہیں چھپاتا تو کیا آپ اسے برضا و رغبت اجازت دے دیتیں؟
جی نہیں تب بھی میں کسی صورت اس کی اجازت نہیں دیتی۔
تو گویا یہ کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے اگر یہ بات چھپائی نہ جاتی تو جو کچھ ابھی ہو رہا ہے وہ پہلے ہو چکا ہوتا؟ یہ قاسم سمرو کا اگلا سوال تھا۔
رضیہ نے تائید میں سر کو جنبش دی۔
اور اگر آپ کو اب بھی پتہ نہ چلتا تو اس وقت بھی یہ ہنگامہ برپا نہ ہوتا؟
رضیہ کا جی چاہا کہ ہنگامہ لفظ کے استعمال پر اعتراض کرے لیکن وہ با دلِ ناخواستہ خاموش رہی
قاسم سمرو نے اس کی خاموشی کو تائید کے خانے میں ڈال دیا اور بولے کیا اس عرصے میں رضوان کے رویہ کے اندر کو ئی تبدیلی واقع ہوئی؟ کیا اس نے تمہیں ابو ظبی سے خط لکھنا بند کر دیا یا فون کرنا چھوڑ دیا؟ کیا اس کے ذریعہ روانہ کی جانے والی رقم میں کوئی کمی بیشی ہوئی؟
رضیہ خاموش بت بنی بیٹھی رہی پروین بولی جی نہیں وکیل صاحب میرے خیال میں ایسا کچھ بھی نہیں ہوا بلکہ آج کل تو فون کچھ زیادہ ہی آ رہے ہیں اس لئے کہ اکثر یہ رضوان کا فون درمیان ہی میں کاٹ دیتی ہے اور اس بیچارے کو دوبارہ فون ملانا پڑتا ہے اور تو اور میں اس کے بنک اکاؤنٹ سے بھی واقف ہوں جس میں اضافہ جوں کا توں ہے۔
رضیہ کو رضوان کیلئے بیچارہ لفظ کا استعمال ناگوار گذرا اور وہ بپھر کر بولی پروین تم سرکاری وکیل کی مانند مفت میں رضوان کی وکالت کیوں کر رہی ہو؟ میرا خیال ہے کہ میں نے تمہیں اپنے ساتھ یہاں لا کر غلطی کی ہے۔
قاسم سمرو نے مداخلت کرتے ہوئے کہا جی نہیں بہن جب تک مقدمہ سے متعلق سارے حقائق سامنے نہیں آ جاتے اس وقت تک مقدمہ لڑنا آسان نہیں ہوتا۔ خیر اس ساری گفتگو سے میں اس نتیجہ پر پہونچا ہوں کہ سارے فساد کی جڑ آپ کو نکاحِ ثانی کی اطلاع کا ملنا ہے۔
رضیہ کا پیمانۂ صبر لبریز ہو گیا وہ بگڑ کر بولی کیسی بچوں جیسی باتیں کرتے ہیں وکیل صاحب۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ انہوں نے نکاحِ ثانی کیا نہ کہ مجھے پتہ چلا۔ نہ وہ اس طرح کی حماقت کرتے اور نہ مجھ کو اطلاع ہوتی۔ نہ آگ ہوتی اور نہ دھواں اٹھتا۔
قاسم سمرو نے تعریفی نگاہوں سے رضیہ کی جانب دیکھا اور بولے آپ خود اپنے مقدمہ کی پیروی مجھ سے بہتر انداز میں کر سکتی ہیں۔ رضیہ جھینپ گئی اور پروین مسکرا دی۔ قاسم نے اپنی بات آگے بڑھائی۔ آپ کا ایک اور الزام یہ ہے کہ رضوان نے آپ کے ساتھ جھوٹ بولا۔ تو کیا کبھی آپ نے اس بارے میں اس سے استفسار کیا تھا اور اس نے انکار کر دیا تھا؟
جی نہیں میں مکمل تاریکی میں تھی اس لئے میں نے اس بارے میں کچھ بھی نہیں پوچھا۔ لیکن مجھے یقین ہے کہ اگر میں پوچھتی بھی تو وہ کبھی سچ نہ بولتے۔ وہ ہمیشہ سے جھوٹے انسان ہیں۔
اچھا آپ کی شادی کو کتنا عرصہ گذر چکا ہے؟
پندرہ سال۔
اس دوران کتنی مرتبہ رضوان نے آپ کے ساتھ کذب بیانی کی ہے؟
رضیہ اس سوال کا جواب فوراً نہ دے سکی وہ سوچ میں پڑ گئی۔ قاسم بولے یاد نہیں آ رہا؟ بہت خوب شاید اس نے کوئی ایسا قابلِ ذکر جھوٹ بولا ہی نہ ہو جو فوراً یاد آ جائے۔
رضیہ بولی جی ہاں لیکن اس وقت کی بات اور تھی لیکن اب وہ ضرور جھوٹ بولیں گے اور وہ سب کریں گے جو پہلے نہیں کرتے تھے اس لئے کہ دوسری شادی جو کر لی ہے؟
اچھا تو کیا نکاحِ ثانی کے بعد کا کوئی جھوٹ یا کوئی ایسی حرکت جو پہلے سے مختلف ہو تمہیں یاد پڑتی ہے؟
جی نہیں لیکن مجھے یقین ہے کہ آئندہ۔۔ ۔
قاسم نے جملہ کاٹ دیا اور کہا یقین نہیں بی بی یہ ایک اندیشہ ہے فقط اندیشۂ لولاک۔ رضوان اگر کاذب ہوتا تو نکاحِ ثانی کا اعتراف کرنے کے بجائے انکار بھی کر سکتا تھا۔
انکار؟ آپ کیسی بات کرتے ہیں وکیل صاحب۔ کیا حقائق سے فرار ممکن ہے۔ انسان آخر کب تک دوسروں کو دھوکہ میں رکھ سکتا ہے اور فریب دے سکتا ہے؟
اچھا تو عقدِ ثانی کو آپ دھوکہ یا فریب سمجھتی ہیں؟
جی نہیں لیکن اپنی پہلی بیوی کو اندھیرے میں رکھ کر اس سے چھپا کر دوسرا بیاہ رچا لینا کیا دھوکہ نہیں ہے؟
گویا آپ یہ کہہ رہی ہیں کہ رضوان کو چاہئے تھا کہ وہ دوسرا نکاح کرنے سے قبل آپ کو اطلاع دیتا اور آپ سے توثیق لینے کے بعد ہی اس کی جرأت کرتا۔ لیکن اگر وہ ایسا کرتا لیکن آپ تو ابھی کہہ چکی ہیں کسی صورت اس کی اجازت نہیں دیتیں؟
قاسم سمرو چہرے کے تاثرات سے تاڑ گئے کہ رضیہ کی خاموشی تائید میں نہیں بلکہ انکار میں ہے۔ وہ بولے جس طرح آپ کو یقین ہے کہ آپ اجازت نہیں دیتیں اسی طرح کا گمان اس نے کیا۔ اور ممکن ہے اسی خوف نے اسے اپنی حرکت کو صیغۂ راز میں رکھنے پر مجبور کیا ہو؟
رضیہ زچ ہو کر بولی میری سمجھ میں نہیں آتا کہ ہر کوئی رضوان کی وکالت کیوں کرنے لگتا ہے؟ پہلے پروین اور اب آپ۔ آخر کوئی میرے دکھ درد اور تکلیف کو سمجھنے کی زحمت کیوں نہیں کرتا؟ رضیہ کا جارحانہ لہجہ التجا میں بدل چکا تھا۔
پروین شرمندہ ہو گئی۔ قاسم نے کہا بہن وکالت تو عدالت میں ہوتی ہے فی الحال آپ اپنے بھائی کے گھر میں ہیں جو آپ کے درد کا مداوا کرنا چاہتا ہے۔ قاسم کے اپنائیت بھرے لہجے نے رضیہ کے زخموں پر مرہم کا کام کیا۔
قاسم نے بات کو آگے بڑھاتے ہوئے پوچھا بہن کیا کبھی آپ نے اس سوال پر غور کیا ہے انسان کسی بات کو کیوں چھپاتا ہے؟
انسان جب کوئی غلطی کرتا ہے یا کوئی معیوب حرکت اس سے سرزد ہوتی ہے تو وہ شرمندہ ہو جا تا ہے۔ ہر انسان کریہہ گناہ کا ارتکاب کرنے کے بعد اس کو چھپاتا ہے۔ رضیہ اپنے جملے کے ایک ایک لفظ پر زور دے رہی تھی۔
قاسم نے کہا آپ نے بجا فرمایا۔ یہ مختلف وجوہات ہیں لیکن ان سب کے ساتھ ایک مشترک شئے منسلک ہو تی ہے جس کا آپ نے ذکر نہیں کیا؟
وہ! وہ کیا دونوں ایک ساتھ بولیں؟
خوف! خوف کے باعث وہ اپنی حرکات کی پردہ پوشی کرتا ہے اور جب انسان بے خوف ہو جاتا ہے تو پھر اسے اپنی کسی بات کو صیغۂ راز میں رکھنے کی ضرورت نہیں محسوس ہوتی قاسم نے قانون کے حصار سے نکل کر علم نفسیات کی دہلیز پر قدم رکھ دیا تھا۔
رضیہ بولی لیکن رضوان کو خو ف! انہیں کس سے خوف ہو سکتا ہے بھلا؟
آپ سے رضیہ۔۔ ۔۔ اپنی شریک حیات سے!
مجھ سے؟ میں چار ہزار کلو میٹر دورسے ان کا کیا بگاڑ سکتی ہوں؟
تم اس چار ہزار کلو میٹر کے فاصلے کو ایک لامتناہی دوری میں تبدیل کر سکتی ہو۔ ایک ایسی کھائی میں جسے وہ کبھی بھی عبور نہ کر سکے۔
آپ کیسی بات کرتے ہیں۔ رضوان نے خود مجھے غم و اندوہ کے اتھاہ گہرائیوں میں ڈھکیل دیا ہے جہاں مجھے اپنے آس پاس سوائے تاریکی کے کچھ اور نظر نہیں آتا اور اندھیرا ایسا کہ ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہیں دیتا۔
قاسم نے کہا بی بی اندھیرا نہ خود نظر آتا ہے اور اس کے ہوتے نہ کچھ اور نظر آتا ہے۔ ہماری ساری گفتگو در اصل اسی ظلمت کے خاتمہ کی جد و جہد ہے۔ جب یہ تاریکی دور ہو جائے گی آسمان صاف ہو جائے گا نہ صرف زمین بلکہ لاکھوں میل دوری پر چمکنے والے ستارے بھی نظر آنے لگیں گے قاسم اب فلسفہ کی منازل طے کر رہا تھا۔
آپ نے ٹھیک کہا وکیل صاحب اس اندھیرے سفر سے مجھے چند دنوں کے اندر تھکا دیا ہے میں ہر لمحہ ٹوٹ ٹوٹ کر بکھر رہی ہوں مجھے یقین ہے کہ میں بہت جلد اس ظلمت کا حصہ بن جاؤں گی میں اس سے نکلنا چاہتی ہوں آپ میری مدد کریں اس جنجال سے آزاد ہونے میں میرا تعاون فرمائیں۔ میں اس بندش سے خود کو آزاد کرنا چاہتی ہوں۔
قاسم نے پوچھا بی بی مسئلہ بندش ہے یا ظلمت؟ آپ کیا چاہتی ہیں؟ بندش ختم ہو اور ظلمت باقی رہے یا ظلمت ختم ہو اور بندش باقی رہے؟
میں دونوں باتیں چاہتی ہو نہ ظلمت نہ بندش۔ میں آزادی بھی چاہتی ہوں اور روشنی کی بھی طلبگار ہوں۔
پہلے مرحلہ میں کیا چاہتی ہیں روشنی یا آزادی؟
روشنی! اندھیرے میں آزادی لے کر میں دربدر کی ٹھوکر کھانا نہیں چاہتی۔
قاسم نے کہا آپ ایک نہایت ذہین خاتون ہیں میں آپ کی ترجیحات کا احترام کرتا ہوں۔ لیکن مجھے آپ کی صورتحال سے ہمدردی ہے۔ آپ کے ایک زخم کا تریاق دوسرے پر نمک کا کام کرے گا۔ ظلمت کا خاتمہ محبت ہو گا لیکن یہ محبت آپ کی بندشوں کو مضبوط سے مضبوط تر کر دے گی۔
محبت؟ کیسی محبت؟ میں ایک ایسے شخص سے محبت کیسے کر سکتی ہوں جو مجھ سے محبت نہیں کرتا۔ محبت کے درس کی حاجت تو ان کو ہے مگر آپ مجھے دے رہے ہیں۔ میں تو روزِ ازل سے ان کے ساتھ محبت کرتی رہی ہوں میں نے ان کیلئے کیا نہیں کیا؟ میں نے اپنا گھر بار۔ عیش و آرام۔ شان و شوکت بلکہ والدین و خاندان سب کچھ قربان کر دیا۔ لیکن رضوان احسان فراموش نکلا۔ اس نے میرے تمام احسانات کی ناقدری کی۔ احسان فراموش ہے وہ شخص۔ میں اس سے کیسے محبت کر سکتی ہوں؟
بی بی وہ تمام چیزیں جو تم نے رضوان پر قربان کیں وہ تمہیں کس نے دی تھیں؟ جس پروردگار نے تمہیں ان چیزوں سے نوازہ تھا کیا تم نے کبھی اس کے بے شمار احسانات کی قدر دانی کی؟
رضیہ سلطانہ کو اس سوال نے جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ وہ ایک لمحہ کے لیے رضوان کو بھول گئی۔ اس نے اپنے آپ سے سوال کیا اور اس سے پہلے کہ جواب موصول ہوتا قاسم سمرو نے ایک اور سوال کر دیا۔
کیا تم نے کبھی اپنے پاک پروردگار کا شکر ادا کیا جس نے تمہیں ان بیش بہا نعمتوں سے نہال کر رکھا ہے؟
رضیہ کی توجہ پہلی مرتبہ رضوان کے بجائے خود اپنی ذات کی جانب مبذول ہوئی تھی۔ وہ ان چیزوں کا حساب تو رکھ سکتی تھی جو اس نے رضوان پر نچھاور کی تھیں لیکن وہ نعمتیں جو خود اسے حاصل ہوئی تھیں ان بے شمار عنایتوں کا حساب کتاب اس کے لئے نا ممکن تھا اس کے رب نے اسے ہر اس چیز سے نوازہ تھا جس کی اس نے خواہش کی تھی اور جن چیزوں کی قربانی کی بات وہ کر رہی تھی وہ سب ان سے کمتر تھیں جنہیں حاصل کرنے کیلئے اس نے انہیں گنوایا تھا۔ وہ کمتر کے عوض بہتر اشیاء سے بہرہ ور ہوئی تھی۔
اس سے قبل رضیہ سلطانہ کو کمتر ین اشیاء کے گنوانے کا افسوس تودور احساس تک نہ ہوا تھا؟ لیکن آج! آج ایسا کیوں ہو رہا تھا؟ یہ سوال رضیہ خود اپنے آپ سے کر رہی تھی۔ شاید اس لئے کہ آج اس نے بہترین شئے کو گنوا دیا تھا۔ اور بہترین کی غیر موجودگی نے کمترین کو اہم بنا دیا تھا۔ لیکن آمد و خرچ کے اس بہی کھاتے کے آخر میں یہی لکھا تھا کہ اس نے ساری عمر نہ کم تر کی قدردانی کی اور نہ بہتر کا شکر ادا کیا۔ وہ رضوان سے تو احسانمندی کی توقع کر رہی تھی لیکن خود اپنے پروردگار کے تئیں احسان فراموشی کی روش اختیار کیے ہوئے تھی۔ شکر و احسان کے جذبات اس کے دل میں امڈے ہی نہیں تھے۔
٭٭٭

جواب لکھیں