...................... .................

ایک تھی مثال ۔۔۔ رخسانہ نگار عدنان

انتساب!
بہت عزیز بہت پیارے بیٹے
محمد حذیفہ عدنان
کے نام!
دیباچہ
میرا آٹھواں ناول ’’ایک تھی مثال‘‘ کتابی شکل میں آپ کے ہاتھ میں ہے ایک ایسی کہانی جو بہت عرصے تک میرے دل میں پلتی رہی جس نے میری سوچوں کے ساتھ بہت سے موسموں کے تغیر دیکھے اور جذبوں کے اتار چڑھاؤ بھی۔ توڑنا، تقسیم کرنا ایک ایسا تکلیف دہ عمل جو جس بھی ذی روح کے ساتھ کیا جائے گا اس کیلئے سوہان روح ہی ہو گا ایک ایسی ہی لڑکی کی کہانی جس کے بچپن کو بہت بے دردی سے تقسیم کر دیا گیا دو حصوں میں اور ایسا کرنے والے کوئی اجنبی نہیں تھےس کے بہت اپن، ے بہت چاہنے والے سب سے بڑھ کر اسے پیدا کرنے والے۔ بروکن فیملی کا المیہ جس کی اذیت کو صرف ایک فرد نے نہیں کہا بلکہ اس کہانی کے ہر کردار نے اندر تک محسوس کیا اور بہت دور تک، یہی تکلیف میں نے بھی سہی جس کا نتیجہ یہ ناول آپ کے ہاتھ میں کتابی شکل میں ہے۔ ایک لمحے کی جذباتی چوٹ غصے اور انا کی ایسی ضدی لہر جس نے سب کچھ اپنی لپیٹ میں لے کر فنا کر دیا صرف ایک لمحے کی بھول … یہی اس کہانی کا پیغام بھی اور اگر کوئی سیکھ سکے تو سبق بھی۔ مثال کی کہانی کچھ رہی سہی کہانی ہے جسے اس نے توڑا اور اس اس ٹوٹی ہوئی لڑکی کو جڑنے میں بہت سارا وقت لگ گیا میں اب آپ کے اور کہانی کے درمیان مزید حائل نہیں ہوں گی آپ پڑھئے اور اپنی رائے سے آگاہ کیجئے کہ میرا یہ تجزیہ کس حد تک درست تھا۔
میری زیادہ تر کتابیں علم و عرفان پبلشرز کے ادارے سے ہی شائع ہوتی ہیں علم اور آگاہی پھیلانے والا ایک ایسا ادارہ جو علم اور قاری کے رشتے کو مضبوط کرتا ہے خدا علم اور کتاب کی ترقی کو اس طرح بڑھائے۔ آمین۔
آپ کی دعاؤں کی طلبگار
رخسانہ نگار عدنان
……………………………………
باب ۱
’’ہیپی برتھ ڈے ٹو یو … ہیپی برتھ ڈے ڈیئر مثال … ہیپی ہیپی برتھ ڈے۔‘‘ تالیوں اور آوازوں کے شور میں سات سالہ گلابی خوب صورت باربی فراک میں ملبوس مثال نے کیک کاٹا۔ بشری اور عدیل نے خوب گلے لگا کر اسے پیار کیا۔ اس نے بھی دونوں کے پیار کا جواب خوب خوش ہو کر دیا۔ ذکیہ بیگم کے صبر کا پیمانہ جیسے لبریز ہو گیا۔
’’ارے کیا اماں باوا ہی سارا پیار لٹا دیں گے بچی پر۔ کچھ نانی، دادی کا بھی حق ہے یا نہیں؟‘‘ ذکیہ نے کھینچ کر مثال کو سینے سے لگایا۔ پھر دادی کی باری آئی۔ پھوپھی اور ماموں کیوں پیچھے رہتے۔
مثال تو دونوں گھروں کا وہ خوب صورت کھلونا تھا، جس سے کوئی بھی سیر نہیں ہوتا تھا۔ دونوں گھروں میں بھلے ہر معاملے میں اختلاف ہوتا، مگر مثال کے نام پر سب ایک ہو جاتے تھے۔ وہ بچی تھی ہی کچھ اتنی پیاری، من موہنی صورت والی کہ جو کوئی دیکھتا، بے اختیار اسے پیار کرنے لگتا۔ پھر اس کی عادت اتنی اچھی تھی۔ ادب اور تمیز سے بات کرنے والی۔ نانی کے گھر جاتی۔ دادی کی برائی کرتی نہ پھوپھی کی۔ ماموں نانو کے پاس ایک رات رہ کر آئی یا پورا ہفتہ، کبھی ان کی باتیں دادی پھوپھی کے پاس گھس گھس کر نہ کہتی۔ اگرچہ نسیم بیگم کئی بار اسے ٹٹولنے کی کوشش کرتیں، مگر مثال پیاری سی شکل بنا کر فوراً ہی کہہ دیتی۔
’’نہیں دادو! نانو نے تو آپ کی اور فوزیہ پھوپھو کی ایسی کوئی بات کی نہیں، بلکہ وہ مجھے کہہ رہی تھیں، پوری دادی پر ہے، خوش اخلاق اور ہنس مکھ۔‘‘
اور دادی چاہتے ہوئے بھی کوئی برا جواب نہ دے پاتیں۔ الٹا بیٹی سے کہتیں۔
’’ذکیہ میں یہ اچھی عادت ہے، دوسرے سے کتنا ہی اختلاف کیوں نہ ہو، اس کی برائی نہ پیٹھ پیچھے کرتی ہے، بلکہ اس کی اچھائیاں ہی بیان کرتی ہے۔‘‘ اور فوزیہ کا موڈ آف ہو جاتا۔
’’خوب سمجھتی ہوں میں مثال کا پکا پن۔ امی! یہ کبھی نانی ماموں کی برائی نہیں کرے گی۔ ماں نے بڑا اچھا ٹرینڈ کر رکھا ہے۔ پورا تھالی کا بینگن ہے۔ جانتی ہوں میں اسے۔‘‘
اور مثال معصوم سی شکل بنائے بڑی بڑی آنکھیں پٹپٹاتی پہلے تو ناسمجھی سے دونوں کو دیکھتی رہتی، پھر پھوپھو کے کندھے سے جھول کر بھولپن سے پوچھتی۔
’’پھپھو! یہ تھالی کا بینگن کیا ہوتا ہے؟‘‘ فوزیہ جل کر کباب ہو جاتی۔
’’بھئی! یہ میری مثال کے لیے سونے کی بالیاں اور پانچ سوٹ ہیں۔ ماموں نے تو بھانجی کے لیے خدا جانے کون کون سی ویڈیو گیمز اور کھلونے اکٹھے کر دیے ہیں۔ ان گفٹ بکس کو خود ہی بشریٰ اور عدیل کے ساتھ کھول کر دیکھ لینا اور یہ بشریٰ اور عدیل کے جوڑے ہیں اور یہ مٹھائی بھی۔‘‘
ذکیہ نے کیک کٹنے کے بعد تحائف کا ڈھیر میز پر رکھنا شروع کر دیا۔
بشریٰ کا چہرہ فخر سے چمکنے لگا۔
عدیل بھی سسرال سے آئے بھاری تحفوں پہ بیٹی کی خوش قسمتی کو دل میں سراہنے لگا۔ جب سے پیدا ہوئی تھی، ننھیال، ددھیال کے ہاتھ کا چھالا بنی ہوئی تھی۔ دونوں طرف سے نہ پیار میں کمی تھی، نہ اس کے لیے چیزوں میں۔
’’اور یہ میری اور فوزیہ کی طرف سے گولڈ کی چین ہے۔ یہ اس کے کپڑے اور کھلونے۔ خاص فرمائش کر کے فوزیہ سے مثال نے یہ ناچنے والی باربی ڈول لی ہے اور ساتھ میں ڈول ہاؤس کا پورا سیٹ بھی۔ مثال پھوپھی سے کوئی فرمائش کرے اور فوزیہ اسے ٹال دے۔ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔‘‘
’’تھینک یو نانو اینڈ ماموں! اور بہت سا تھینک یو دادو اور پھوپھو کے لیے اور مثال کا پیار بھی۔‘‘ مثال باری باری سب کے گلے لگ کر سب کو پیار کرنے لگی۔ اس کی یہ ہی ادائیں تو سب کو بھاتی تھیں۔
’’میرے خیال میں پہلے سب کے لیے کھانا نہ لگا دیا جائے؟ چائے، کولڈ ڈرنکس بعد میں ہو جائیں گی۔‘‘ بشریٰ ساس کے پاس آ کر بولی۔
ساس نے باہر سے آئے مہمانوں اور خاندان کے لوگوں کا حساب نظروں ہی میں لگا لیا۔
’’فی الحال چائے، کولڈ ڈرنک اور مٹھائی رکھو۔ یہ ادھر ادھر کے لوگ جنہوں نے پانچ پانچ سو کے لفافے دیے ہیں۔ ان کو جانے دو۔ کھانا تو خاندان والوں کو ہی پورا پڑے گا بمشکل۔‘‘
’’نہیں امی! آرڈر تو سب کے حساب سے دیا تھا عدیل نے۔ کم تو نہیں پڑے گا۔ یوں بھی برا لگتا ہے کہ محلے والوں کو یوں ہی جانے دیں اور بعد میں آدھے لوگوں کو کھانا کھلائیں۔‘‘ بشریٰ نے ساس سے آہستگی سے کہا۔
’’تو بھابی! پھر امی کی صلاح کیوں لے رہی ہیں؟ اپنی مرضی کریں نا جو آپ نے پہلے سے طے کر رکھا ہے۔‘‘ فوزیہ اپنے مختصر سے جسم کو ذرا سا جھلا کر بولی۔
’’اور میں نے تو بی بی! مشورہ اس لیے دیا تھا کہ کچھ تو بچت ہو سکے۔ عدیل کا کوئی بانڈ تو نہیں کھل گیا جو پوری بارات کو کھانا کھلانے بٹھا دو۔ آگے تمہاری مرضی، ورنہ بعد میں عدیل سے کچھ کا کچھ بول کر ماں کو بے عقل ٹھہراؤ گی … جو تمہارا جی چاہے، وہ کرو۔‘‘ نسیم بیگم نے نروٹھے پن سے کہہ کر گویا بات ہی ختم کر دی۔
بشریٰ متذبذب سی اٹھ کر چلی گئی۔ عدیل سے مشورے کے بعد سب کو کھانا کھلا کر ہی بھیجا گیا۔
اور یہ بات نسیم بیگم اور فوزیہ دونوں ہی کو تپا گئی۔ اول تو انہیں یہ پہلے سے نہیں پتا تھا کہ سالگرہ اتنے بڑے پیمانے پہ منائی جائے گی۔ اگرچہ تیاریاں تو بہت دنوں سے ہو رہی تھیں، مگر ہوٹل سے کھانے کا آرڈر وہ بھی تین تین ڈشز کا … بیٹے کی کمائی یوں بے دریغ لٹنے پر نسیم بیگم کیوں نہ خفا ہوتیں اور فوزیہ جس نے چند دن پہلے عدیل سے دس ہزار مانگے تھے۔ اسے امیٹیشن کا سیٹ پسند آ گیا تھا۔ اس نے اگلے ماہ لینے کا کہہ کر منع کر دیا تھا۔ وہ بھی دل ہی دل میں بھائی سے خفا ہو گئی کہ بیٹی کے فنکشن پر ہزاروں لٹا دیے اور بہن کے لیے صرف دس ہزار نہیں تھے ان کے پاس۔
فنکشن ہنسی خوشی ختم ہوا۔ سب سے آخر میں ذکیہ اور عمران روانہ ہوئے اور جاتے جاتے بشریٰ اور عدیل کو اگلے ویک اینڈ پر اپنے گھر آنے کی دعوت دے گئے۔ دعوت تو خیر انہوں نے نسیم بیگم اور فوزیہ کو بھی دی تھی، جسے نسیم بیگم نے تو اپنی گھٹنوں کی تکلیف اور فوزیہ نے اپنی دوست کی شادی کا بہانہ کر کے رد کر دیا۔ یوں بھی ذکیہ نے کون سا دل سے دعوت دی تھی ان دونوں کو، رسماً یوں کہا کہ کہیں وہ بشریٰ کو باتیں نہ سنائیں یا اسے آنے سے روک نہ دیں۔ ان دونوں کے انکار پر مطمئن ہو کر چلے گئے۔
٭٭٭
عمران گھر جا کر لیپ ٹاپ کھول کر بیٹھ گیا۔
’’امی! ایک کپ چائے ملے گی؟‘‘ کچن کی طرف جاتی ذکیہ کی طرف دیکھ کر اس نے آواز لگائی۔
’’ابھی تو پی کر آ رہے ہو بشریٰ کی طرف سے۔‘‘
’’آپ تو جانتی ہیں، آپ کے ہاتھ کی چائے پیے بغیر مجھ سے کام نہیں ہوتا۔‘‘
ذرا دیر میں وہ دو کپ لیے اس کے پاس ہی آ بیٹھیں۔
’’اب کیا کام کرنا ہے تمہیں، ٹائم تو کافی ہو گیا ہے۔‘‘ ذکیہ نے اسے مصروف دیکھ کر پوچھا۔
’’ہوں! کام تو کافی ہے، مگر ایک آدھ گھنٹہ ہی کروں گا۔ کافی تھکاوٹ ہو رہی ہے۔ دیر تک نہیں بیٹھ سکوں گا اور مجھے منع کر کے آپ خود بھی چائے بنا لائیں اپنے لیے؟‘‘ وہ ماں کو ٹوک کر بولا۔
’’ہاں! بس سر میں درد سا ہو رہا تھا۔ میں نے کہا، کچھ سکون ملے گا اور میں تو حیران ہوں ابھی تک۔ یہ نسیم اور فوزیہ نے اتنا جگرا کہاں سے دکھا دیا۔ مثال کے لیے چین، وہ بھی سونے کی۔ بڑی بات ہے۔‘‘ ذکیہ کہے بغیر نہ رہ سکیں۔
’’ہاں! وہ تو میں بھی حیران تھا، ورنہ ہر سال تو وہ مثال کو ہزار پانچ سو دے دیا کرتی تھیں یا ایک دو فراکوں پر ٹرخا دیا۔ آج تو واقعی کمال ہو گیا‘‘ عمران بھی چائے کی چسکی بھر کر بولا۔
’’ظاہر ہے! بیٹے کی ترقی ہوئی ہے۔ اسے بیٹے کو خوش نہیں کرنا تھا کیا؟ معلوم تو ہے انہیں کہ عدیل کی جان تو مثال میں ہے، اس کی ہنسی اس کی خوشی تو عدیل کے لیے سب سے بڑھ کر ہے۔ یوں بھی فوزیہ کے لیے جہیز اکٹھا کرنے میں لگی ہے دن رات یہ نسیم بیگم تو بیٹے کو مٹھارنے کا اس سے اس سے اچھا موقع اور کون سا ہو گا۔ وہ سمجھتی ہیں لوگ گدھے ہیں، کسی کی کچھ سمجھ میں نہیں آتیں ان کی چالا کیاں، ورنہ میری بشریٰ جیسے ان کے ساتھ رہ رہی ہے۔ ہر لڑکی نہیں رہ سکتی۔ حرفوں کی بنی ہیں دونوں ماں بیٹی۔‘‘ وہ تنفر سے بولیں۔
’’فوزیہ کا رشتہ ہو گیا کہیں؟‘‘ عمران لیپ ٹاپ میں مصروف تھا۔ اس نے شاید ماں کی نسیم بیگم کے خلاف کوئی بات سنی بھی نہیں تھی۔
ابھی کہاں … ہر دوسرے دن کوئی نہ کوئی رشتہ دیکھنے چلا آتا ہے۔ کسی میں ان ماں بیٹی کو کیڑے نظر آتے ہیں اور کسی کو فوزیہ بی بی اچھی نہیں لگتی۔ وہ داور ملز والے بھی آئے تھے ایک رشتے والی کے توسط سے۔
’’اچھا واقعی!‘‘ عمران بے اختیار چونک کر بولا۔
’’ہاں! تو اور نہیں۔ بڑا اونچا ہاتھ مارنے کے چکر میں ہے۔ نسیم بیگم بیٹی کے لیے۔‘‘
’’پھر کچھ بات بنی؟‘‘
’’کہاں … انہوں نے تو صاف منہ پر بول دیا کہ ہمیں تو ذرا کم عمر لڑکی چاہیے۔ فوزیہ کی شکل ہی ایسی پکی ہے۔ پھر عمر بھی دیکھو! کم تو نہیں۔ عدیل سے سال بھر تو چھوٹی ہے۔ عدیل کی شادی کو ماشاء اللہ آٹھواں سال ہونے لگا ہے اور ان بی معصومہ کی کہیں بات ہی نہیں ٹھہر رہی۔ اب دوسرا تو بڑی عمر کا کہہ کر چلا جاتا ہے اور جلن نکالتی ہے بشریٰ پر۔‘‘
’’کیوں، پھر کوئی جھگڑا ہوا؟‘‘ عمران کچھ چونک کر بولا۔
’’یہ کون سے نئی بات ہے۔ کوئی نہ کوئی میں میخ تو ماں بیٹی نکالتی رہتی ہیں۔ میں نے بشریٰ سے کہہ رکھا ہے کہ بیٹا! تحمل سے برداشت کر لیا کرو۔ دو چار مہینوں یا سال بھر میں فوزیہ بی بی کا کانٹا بھی کسی نہ کسی طرح نکل ہی جائے گا۔ ماں اتاؤلی تو خوب ہو رہی ہے۔‘‘ ذکیہ کن اکھیوں سے لیپ ٹاپ کی اسکرین کی سائیڈ پر آئی نیم برہنہ لڑکیوں کے اشتہاروں کی تصویریں دیکھ کر بولیں۔
عمران بالکل بھی متوجہ نہیں تھا۔ وہ کھڑی ہو گئیں۔ پھر کچھ یاد آ گیا۔
’’وہ مجھے یاد آیا۔ بشریٰ کے ہمسائے سے جو رضوی صاحب کی دونوں بیٹیاں آئی ہوئی تھیں، ابھی مثال کے فنکشن میں، جن کی طرف میں نے اشارے بھی کر کے بتایا تھا۔ تمہیں کیسی لگیں وہ دونوں؟‘‘
’’ہوں! کچھ خاص نہیں۔ دونوں نے اتنا میک اپ تھوپ رکھا تھا کہ رنگت کا کچھ ٹھیک سے اندازہ بھی نہیں ہو رہا تھا اور نیلے سوٹ والی تو اچھی خاصی آنٹی لگ رہی تھی۔ ابھی سے ان کا یہ حال ہے تو شادی کے بعد کا سوچیں … اور دوسری بالکل سوکھی سڑی۔ کچھ عجیب سی نہیں لگیں آپ کو؟‘‘ عمران منہ بگاڑ کر بولتا چلا گیا۔ ذکیہ کچھ مایوس سی ہو گئیں۔
’’میری تو کچھ سمجھ میں نہیں آتا، کیسے یہ معاملہ حل ہو گا بھلا۔ تمہارے بینک میں ایسی ایسی فیشن ایبل خوب صورت لڑکیاں کام کرتی ہیں، تم کیوں نہیں دیکھ لیتے کوئی اچھی فیملی کی مناسب لڑکی؟‘‘
’’امی! میں وہاں کام کرنے جاتا ہوں لڑکیاں تاڑنے نہیں۔ یوں بھی یہ بینکوں، دفتروں میں کام کرنے والی لڑکیاں ماں باپ کے ہاتھوں سے نکلی ہوتی ہیں، ان سے گھر نہیں بسا کرتے۔ شتر بے مہار سی ہوتی ہیں۔ سچی بات ہے، مجھے ایسی لڑکیاں پسند بھی نہیں۔‘‘ عمران بغیر لگی لپٹی رکھے بولا تو ذکیہ اسے دیکھ کر رہ گئیں۔
’’یہ تو ہے۔ وہ تو خالہ کلثوم بھی تین چار رشتے ایسے لے کر آئیں کہ لڑکی نوکری کرتی تھی۔ میں نے اسے منع کر دیا کہ بھئی! ان نوکری کرنے والیوں سے گھروں میں بندھ کر نہیں بیٹھا جاتا۔ ہمیں تو ایسی بہو چاہیے جو گھر کو سنبھالے، چلائے۔ اپنی سلیقہ مندی اور سگھڑ پن سے شوہر اور ساس کے دل میں جگہ بنائے، نہ کہ اپنی تنخواہ اور نوکری کا رعب ہم پر جمانے لگے۔ شکر ہے، کلثوم بی بی سمجھ گئیں۔ دوبارہ ایسا رشتہ نہیں لے کر آئیں۔ چلو اللہ کچھ بہتر ہی کرے گا۔ میں پہلے عشاء کی نماز پڑھ لوں۔ آج تو دیر بھی بہت ہو گئی۔ تھکاوٹ سے جی سستی کرنے لگا ہے مگر نماز پڑھے بغیر نیند کہاں آئے گی مجھے۔ سوجانا تم بھی جلدی۔‘‘ وہ کہتے ہوئے چلی گئیں۔
٭٭٭
فوزیہ ڈریسنگ ٹیبل کے آگے بیٹھی اپنا میک اپ اتار رہی تھی۔
نسیم بیگم تسبیح ہاتھ میں لیے منہ میں پڑھتی بستر کی طرف بڑھ گئیں۔
’’اپنی سمدھن صاحبہ کی شو بازی دیکھی تھی آپ نے؟‘‘ فوزیہ شیشے میں ماں کو دیکھ کر جتانے والے انداز میں بولی۔
’’شروع سے عادت ہے اس کی تو، کوئی نئی بات تھوڑی ہے یہ۔ کیسے پانی پڑ گیا اس پہ۔ جب ہم نے بھی ڈنکے کی چوٹ پر تحفے دیے۔ اس کے تو وہم و گماں میں نہیں تھا کہ بازی ہمارے ہاتھ جائے گی۔‘‘ نسیم بیگم اپنے سینے پہ پھونک مارنے کے بعد تسبیح مٹھی میں لپیٹ کر ٹھٹھا مار کر ہنسیں۔
’’دفع کریں باری واری، اچھا خاصا خرچ ہو گیا امی! آپ نے میری چین اٹھا کر دے دی مثال کے لیے۔ میرا تو بہت دل برا ہو رہا ہے۔‘‘
’’پاگل ہے تو تو۔ ایک آدھے تولے کی چین دے کر عدیل سے چار تولے کا سیٹ نہ اس مہینے نکلوایا تو میرا نام بدل دینا۔‘‘
’’اتنے اچھے بھیا جان … بھابھی بیگم اشارہ کریں گی تو ہی جیب کی طرف ہاتھ جاتا ہے ان کا۔‘‘ فوزیہ چڑ کر بولی۔
’’بشریٰ بی بی کو جتنے بھی چلتر آتے ہوں۔ ابھی وہ عدیل کی ماں کے برابر نہیں ہو سکتی، عقل اور ذہانت میں۔‘‘ نسیم بیگم فخر سے بولیں۔
’’اچھا امی … وہ کیسے؟‘‘ فوزیہ مشتاق سی ماں کے پاس آ کر بیٹھ گئی۔
’’تو دیکھتی جا اور مجھے تو صحیح میں آگ لگی ہے فوزیہ! عدیل کی ترقی کیا ہوئی، بشریٰ نے کیسے بیٹی کی سالگرہ کا فنکشن اٹھا لیا۔ وہ بھی اتنے کھلے ہاتھوں سے۔ مجھے تو اندازہ ہی نہیں تھا، ورنہ اس عدیل کو تو میں اچھی طرح سمجھا دیتی۔ بے وقوف کیسے اپنا نقصان کیے جا رہا ہے بیوی کو سیٹ بھی لے کر دیا ہے۔ تجھے معلوم ہے؟‘‘
’’کیا؟ آپ کو کس نے بتایا؟‘‘ فوزیہ کو جیسے کرنٹ لگا۔
’’جانتی تھی میں۔ کل شام میں یوں ہی بشریٰ کو چائے کا کہنے گئی تو عدیل آفس سے آیا ہی تھا اور بشریٰ کو سیٹ کھول کر دکھا رہا تھا۔ دونوں نے مجھے نہیں دیکھا، مگر میں نے سب سن لیا، کیسے وہ بیوی کے گن گاتے ہوئے اسے تحفہ دے رہا تھا، جیسے قلوپطرہ ہو کہیں کی۔‘‘
’’اور آپ نے مجھے بتایا تک نہیں۔‘‘ فوزیہ بے حد رنج سے بولی۔
’’میں خود حق دق رہ گئی تھی۔ تمہیں بتاتی تو تم اور دل برا کرتیں، بلکہ میں نے کچھ دیر بعد خود ہی جا کر دونوں کو مبارک باد دے دی۔‘‘ نسیم گہرا سانس لے کر بولیں۔
’’امی!‘‘ فوزیہ جیسے ابھی رو دینے کو تھی۔
’’پگلی! غم نہ کر … جو گڑ سے مرے، اسے زہر نہیں دیتے۔‘‘
’’کیا مطلب؟‘‘
’’ابھی ہمارا وقت ہے۔ سمجھا کر‘‘ نسیم اس کا ہاتھ دبا کر نرمی سے بولیں۔
’’میں ابھی بھی نہیں سمجھی۔ کیا مطلب ہے آپ کی اس مصلحت پسندی کا، بلکہ بزدلی کہنا چاہیے مجھے تو۔‘‘ فوزیہ تپ کر بولی۔
’’تیرا رشتہ کہیں اچھی جگہ ہو جائے۔ دونوں کو رام رکھیں گے تو تیرے رشتے کے لیے دوڑ دھوپ کرتے رہیں گے۔ آئے دن مہمانوں کی خاطر تواضع کے علاوہ تیرے لیے اتنا اعلیٰ جہیز بنا رہی ہوں تو اسی مصلحت پسندی کی وجہ سے۔ یہ ضروری ہے بیٹا!‘‘
’’اچھا! آپ کے خیال میں اگر آپ اس بشریٰ بی بی کے آگے پیچھے نہیں پھریں گی اس کی اور عدیل کی خوشامد نہیں کریں گی تو کیا وہ یہ سب نہیں کریں گے؟‘‘
’’کریں گے تب بھی، مگر برے دل اور بگڑے منہ کے ساتھ۔ اس سے آنے والوں پر اچھا اثر نہیں پڑے گا۔ اس بشریٰ کو ہی آگے بڑھ کر ملنا ہوتا ہے۔ میں کبھی بیمار کبھی کچھ۔ ایسے میں بشریٰ اور عدیل سے بنا کر رکھنا بہت ضروری ہے فوزیہ!‘‘ نسیم نے سمجھایا۔
’’آپ کریں اس کی خوشامد اور منتیں۔ مجھ سے یہ سب نہیں ہو سکتا۔ کیوں کروں یہ؟ میرا حق ہے یہ وصولنا۔ بشریٰ بی بی کو ابھی جمعہ جمعہ آٹھ دن نہیں ہوئے اس گھر میں آئے اور وہ مالکن بن جائے اور ہم نوکر تو امی! ایسا تو میں ہونے نہیں دوں گی۔‘‘ وہ غصہ میں بولتی بستر پر جا کر لیٹ گئی۔ نسیم بیگم نے کچھ کہنے کے لیے منہ کھولا، مگر پھر فوزیہ کی طرف دیکھ کر خاموش ہو گئیں اور لیٹ کر تسبیح پڑھنے لگیں۔
٭٭٭
چلو مثال! رکھو … باقی کے گفٹس صبح کھول کر دیکھ لینا۔ بہت رات ہو گئی ہے۔ صبح پھر اٹھو گی نہیں تم جلدی۔ بشریٰ مثال کے آگے پڑے گفٹس ہٹاتے ہوئے بولی۔
’’نہیں مما! مجھے ابھی دیکھنا ہے۔ پلیز مجھے دیکھنے دیں نا!‘‘ مثال متجسس نظروں سے پیکٹس کو دیکھتے ہوئے بولی۔
’’جان! بولا ہے نا صبح دیکھ لینا۔ اب بہت ٹائم ہو گیا۔ بابا بھی تھکے ہوئے ہیں۔ ہمیں بھی آرام کرنا ہے۔‘‘ بشریٰ سمجھاتے ہوئے تحفے اٹھا کر الماری میں رکھنے لگی۔
مثال منہ بنا کر بیٹھ گئی۔
’’مجھے ابھی نہیں سونا۔ آپ دونوں سوجائیں۔‘‘
’’بری بات مثال! اب تم مجھ سے ڈانٹ کھاؤ گی۔‘‘ بشریٰ ذرا سختی سے بولی۔
’’کوئی میری گڑیا کو ذرا سا بھی ڈانٹ کر دکھائے۔ پاپا اچھی طرح نپٹ لیں گے اس سے۔ کیوں جان پاپا۔‘‘ عدیل باتھ روم سے نکل کر مثال کو ساتھ لپٹاتے ہوئے پیارسے بولا۔
’’حد ہے عدیل! لاڈ پیار کی بھی۔ اتنا نہ اسے سر چڑھائیں کہ پھر اتارنا مشکل ہو جائے۔‘‘ بشریٰ کچھ چڑ کر بولی۔
’’کیوں اتاریں گے اسے ہم … ہماری آنکھوں کا تارا ہے ہماری بیٹی۔‘‘
’’آئی لو یو پاپا۔‘‘ مثال باپ سے چمٹ کر پیار کرتے ہوئے بولی۔
’’لو یو ٹو جان!‘‘ عدیل نے بھی اسے پیار کرتے ہوئے کہا۔
’’بس بھی کریں اب۔ تھک گئی ہوں میں صبح پانچ بجے کی اٹھی ہوئی ہوں، بارہ بجنے کو ہیں۔‘‘ بشریٰ کو غصہ آ گیا۔
’’تو بھئی، آپ لیٹ جائیں نا بیگم صاحبہ! آپ کو کس نے منع کیا ہے۔ اب ہم اپنی پیاری سی بیٹی سے دو گھڑی بات بھی نہ کریں۔‘‘ عدیل مثال کو اسی طرح ساتھ لگائے بیٹھا تھا۔
بشریٰ بیڈ پر جگہ بنا کر نیم دراز ہو گئی۔
’’پاپا! دادو نے کتنی اچھی چین دی ہے۔‘‘ مثال نے باپ کو چین دکھاتے ہوئے کہا۔
’’اچھا تو کیا نانو کا گفٹ اچھا نہیں تھا؟‘‘ بشریٰ نے فوراً ٹوک کر کہا۔
’’وہ بھی بہت اچھا ہے، ہے نا پاپا!‘‘ مثال جلدی سے بولی۔
’’ویسے عدیل! ہماری بیٹی بڑی ہو کر کہیں پالی ٹیشن (سیاست دان) تو نہیں بنے گی؟‘‘ بشریٰ نے ہنس کر کہا۔
’’جی نہیں! میری گڑیا کا دل بہت بڑا ہے، سب سے پیار کرتی ہے اور بڑی بات یہ ہے کہ اتنی چھوٹی سی عمر میں اسے احساس ہے کہ کسی کو ہرٹ نہیں کرنا، اسی لیے تو مجھے اس پر اتنا پیار آتا ہے۔‘‘ عدیل نے مثال کو پیار کیا۔ مثال وہیں لیٹ گئی۔
’’مثال! جا کر اپنے بیڈ پر لیٹو بیٹا۔ ورنہ یہیں سوجاؤ گی تو تمہیں بیڈ پر کون لٹا کر آئے گا۔‘‘ اسے آنکھیں بند کرتے دیکھ کر بشریٰ نے جلدی سے کہا۔
’’میں لٹا آؤں گا۔ سونے دے اسے۔ اس کا دل چاہ رہا ہے آج پاپا کے پاس سونے کو۔‘‘ عدیل، مثال کے بال سمیٹتے ہوئے بولا۔
’’پتا ہے عدیل! وہ آنٹی شاکرہ آج کیا کہہ رہی تھیں۔‘‘ بشریٰ کو ایک دم یاد آیا۔
’’کیا۔‘‘ عدیل نے بے دھیانی سے کہا۔
’’کہہ رہی تھیں، ان کی نند کی بیٹی نے کسی گائناکالوجسٹ کو دکھایا ہے۔ آٹھ سال ہو گئے تھے پہلے بچے کو۔ اب اس ڈاکٹر کے علاج سے دوبارہ اللہ کی رحمت ہوئی ہے۔ تم بھی اسی ڈاکٹر کو دکھاؤ جا کر۔ میں تمہیں اس کے کلینک کا بتاردوں گی اپنی نند سے پوچھ کر۔ کہہ رہی تھیں، مثال بڑی ہوتی جا رہی ہے، اس کا بھائی تو ہونا چاہیے نا کوئی۔‘‘
’’ہوں!‘‘ عدیل نے جمائی لی۔
’’تمہارا دل نہیں چاہتا، اب ہمارا دوسرا بچہ بھی ہو؟‘‘
’’کیوں نہیں چاہتا یار! اب اللہ کو منظور نہیں فی الحال تو کیا کریں اور ہمیں جو اللہ نے اتنا پیارا تحفہ دے رکھا ہے، اس کی قدر کیوں نہ کریں۔‘‘
’’وہ تو ٹھیک ہے عدیل! مگر اب دوسرا بچہ ہو جانا چاہیے۔ امی بھی آتے جاتے سب کو کہتی ہیں کہ مثال کو پیدا کر کے جیسے بشریٰ نے تو دنیا فتح کر لی۔ دوسرے بچے کا نام نہیں لیتی۔ اب انہیں کیا بتاؤں میں۔ کتنا علاج کروایا ہے میں نے۔‘‘ اس کی آنکھوں میں نمی سی آ گئی۔
’’جان! تم کیوں پریشان ہوتی ہو۔ اللہ جانتا ہے ہمارے بارے میں سب۔ ہم نے کوئی علاج چھوڑا تو نہیں۔ اب اگر اس کے گھر میں دیر ہے تو ہم کیا کر سکتے ہیں۔‘‘ عدیل اس کی آنکھیں صاف کر کے نرمی سے بولا۔
’’ویسے میں نے شاکرہ آنٹی سے ان کی نند کا فون نمبر لے لیا ہے۔ کل کسی وقت فرصت میں فون کر کے ساری تفصیل پوچھوں گی۔ اب ہمیں اور دیر نہیں کرنی چاہیے، ورنہ تو بہت مشکل ہوتا جائے گا اور پتا ہے، یہ مثال جو میری اسکول سے آ کر جان کھاتی ہے کہ اس کی سب فرینڈز کے بہن بھائی ہیں تو میرے کیوں نہیں۔ ہر بار اسے کہتی ہوں کہ آپ بس دعا کریں اللہ تعالیٰ سے تو وہ آپ کو بہن بھائی ضرور دے گا۔ اب تو الجھنے لگی ہے کہ ماما میں اتنے دنوں سے ہر وقت دعا کرتی رہتی ہوں، پھر اللہ تعالیٰ میرا بھائی کیوں نہیں دے رہا۔‘‘ بشریٰ حسرت بھرے لہجے میں بولی۔
’’ہو جائے گا بچہ بھی۔ فکر نہیں کرو تم۔ ایک ڈاکٹر کا مجھے سمیع نے بھی بتایا ہے۔ اس سے … مکمل معلومات لے کر وہاں بھی چلیں گے۔ اب سوجاؤ۔ بہت وقت ہو گیا ہے۔ صبح پھر اٹھا نہیں جائے گا۔‘‘ وہ لیٹتے ہوئے بولا۔ بشریٰ خاموشی سے کچھ سوچ رہی تھی۔
٭٭٭
’’کتنے پیسے چاہئیں آپ کو امی!‘‘ عدیل نے چائے کا کپ رکھتے ہوئے ماں سے پوچھا۔ بشریٰ، نسیم بیگم کے آگے ناشتا رکھ رہی تھی۔
’’کم از کم دس پندرہ ہزار تو ہوں۔ تمہیں تو معلوم ہے۔ آج کل کراکری کتنی مہنگی ہوتی ہے۔ ابھی تو دو سیٹ ہی لوں گی۔ باقی واٹر سیٹ، ٹی سیٹ وغیرہ بعد میں دیکھ لوں گی۔‘‘ نسیم بیگم تفصیل بتانے لگی۔ عدیل بے چارگی سے بشریٰ کی طرف دیکھنے لگا۔
’’اب دیکھو نا! تھوڑا تھوڑا کر کے بنا رہی ہوں فوزیہ کے لیے میں، پھر بھی ابھی کچھ نہیں ہوا۔ تھوڑے سے بستر بنے ہیں اور کچھ برتن۔ سونا ہی اتنا مہنگا ہوا جا رہا ہے۔ میں تو کہتی ہوں تم مجھے تھوڑی تھوڑی رقم دیتے جاؤ تو بس ساتھ ساتھ تھوڑا زیور بھی بناتی جاؤں گی۔ ایک دم کہیں رشتے طے ہو گیا تو فرنیچر اور دوسرے ضروری سامان کے لیے اچھی خاصی رقم چاہیے ہوتی ہے۔ کھانا وغیرہ تو ایک طرف، کیوں بہو؟‘‘ نسیم نے بشریٰ سے تائید چاہی۔
’’جی امی!‘‘ بشریٰ کو سر ہلانا پڑا۔
’’امی! ابھی تو دس ہزار نہیں ہیں میرے پاس۔‘‘ عدیل بہت مشکل سے بولا۔
’’کیوں، میں نے تو پچھلے ہفتہ سے تمہیں کہہ رکھا تھا، سالگرہ سے بھی پہلے کا۔‘‘ نسیم جتاتے ہوئے انداز میں تحمل سے بولیں۔
عدیل سے فوری طور پر کچھ بولا ہی نہیں گیا۔
’’میں تو سمجھی تمہارے نزدیک میری بات کوئی ویلیو رکھتی ہو گی۔ تم سالگرہ کا خرچ نکال کر ماں کی کہی رقم الگ سے نکال رکھو گے، مگر شاید تم بھول گئے تھے نا!‘‘ نسیم پھر سے جتا کر بولیں۔
عدیل نے اثبات میں سرہلایا۔
’’دیکھو عدیل بیٹے! برا نہیں ماننا۔ یہ سالگرہ جیسی مغربی رسمیں ہماری زندگی کا ضروری حصہ نہیں۔ اگر تم ایک سال بیٹی کی سالگرہ دھوم دھام سے نہیں مناؤ گے تو کچھ فرق نہیں پڑے گا، لیکن اگر اکلوتی بہن کو تم خالی ہاتھ بھیجو گے تو دنیا ہمیں لعن طعن کرے گی ہی، میری اس یتیم بیٹی کا جینا حرام کر دے گی۔ آج کو اس کا باپ زندہ ہوتا کیا اس کی شادی کے معمولی خرچوں کے لیے مجھے یوں تمہارے آگے ہاتھ پھیلانے پڑتے۔‘‘ نسیم بیگم کی آواز رندھ گئی۔
’’تم بھی تو باپ ہو بیٹی کے۔ کس چاؤ سے ہر سال اس کی سالگرہ مناتے ہو۔ آدھا شہر تو اس دفعہ بلا لیا۔ اس یتیم بچی کا باپ اگر زندہ ہوتا تو کیا اس کی خوشیاں نہ مناتا۔‘‘ وہ دوپٹا منہ کے آگے رکھ کر رونے لگیں۔ بشریٰ کے چہرے پر غصہ کے ساتھ ساتھ خجالت بھی تھی۔ وہاں سے چلی گئی۔
عدیل نے والٹ نکال کر کچھ نوٹ نکالے۔
’’امی! فی الحال یہ سات ہزار ہیں۔ یہ رکھیں۔ باقی میں شام میں دے دوں گا۔ مجھے دیر ہو رہی ہے آفس سے میں اب چلوں۔‘‘
’’تم ابھی یہ بھی اپنے پاس ہی رکھو، بلکہ یوں کرو اپنی بیوی کو دے جاؤ اور اس سے کہو وہ خود جا کر نند کے لیے تھوڑے بہت برتن لے لے۔ جو اس غریب کے نصیبوں میں ہو گا، اسے مل جائے گا۔ یہ نہ ہو میرا ہاتھ کھل جائے اور میں فضول خرچی کر آؤں تو تمہاری بیوی تمہیں خود سے قیمتیں بتانے لگے چیزوں کی اور تمہارا دل مجھ سے برا ہو جائے۔‘‘ نسیم نے پیسے اس کے آگے رکھ دیے۔
’’امی! کیسی باتیں کر رہی ہیں آپ … میں بشریٰ کی باتوں میں کیوں آنے لگا اور آپ فوزیہ کو ساتھ لے جائیں۔ جو بھی خریدنا ہو، اس کی پسند کا خرید لیں۔ میں کچھ دنوں میں آپ کو اور رقم بھی دوں گا۔ پھر آپ کو جو خریدنا ہو گا، وہ بھی خرید لیجیے گا۔‘‘ عدیل ماں کا کندھا دبا کر رقم ان کی جھولی میں رکھتے ہوئے سعادت مندی سے بولا۔
’’اور وہ جو میں نے تم سے فوزیہ کے لیے سونے کے سیٹ کا کہا تھا؟‘‘ نسیم نے موقع غنیمت جان کر یاد دہانی کروائی۔
عدیل لمحہ بھر کو سوچ میں پڑ گیا۔
’’یہ سالگرہ تو اچھی خاصی مہنگی پڑ گئی۔‘‘ وہ دل میں جھلا کر رہ گیا۔ ’’امی کو بھی سارے بھولے بسرے خرچ یاد آ رہے ہیں۔‘‘
’’وہ بھی ہو جائے گا۔ آپ بس دعا کریں، فوزیہ کا اچھی جگہ رشتہ ہو جائے۔ پھر دیکھیے گا، میں ہر خرچا کیسے ہنسی خوشی پورا کرتا ہوں۔ میری اکلوتی بہن کی خوشی ہے، میں خیال نہیں رکھوں گا تو اور کون رکھے گا … اور پلیز! آپ اس طرح کی باتیں نہیں سوچا کریں۔ مجھے مثال بعد میں ہے، فوزیہ پہلے ہے۔ ابا نہیں رہے تو کیا ہوا، میں جو ہوں یہ سب کچھ کرنے کے لیے۔ آپ کوئی بھی ٹینشن نہ لیں ورنہ پھر آپ کی طبیعت خراب ہو جائے گی۔‘‘ وہ ماں کے پاس بیٹھ کر انہیں تسلی دیتا چلا گیا۔
اور کچن میں کام کرتی بشریٰ جل بھن کر رہ گئی۔
’’ایک نمبر کی ڈرامے باز ہیں دونوں ماں بیٹی۔ مل کر بیٹے کو الو بناتے ہیں اور یہ عدیل ایسے بے وقوف بنتے ہیں، جیسے ان دونوں کی چالاکیوں کو جانتے نہیں۔ دیکھ لوں گی میں بھی، کیسے یہ دونوں ماں بیٹی اپنے منصوبوں میں کامیاب ہوتی ہیں۔‘‘ وہ بڑبڑاتے ہوئے برتن دھونے لگی۔
٭٭٭
’’ٹھیک ہے امی! میں کوشش کروں گی شام میں آنے کی۔ اب عدیل کے آنے پہ ہے۔ اگر وہ جلدی آ جاتے ہیں تو ہی میں آ سکوں گی نا!‘‘ بشریٰ فون پر ذکیہ سے کہہ رہی تھی۔
’’تو بیٹا! یہ تو کوئی مسئلہ نہیں۔ اگر تم کہو تو میں عمران کو بھیج دیتی ہوں۔ وہ آفس سے آتے ہوئے تمہیں اور مثال کو پک کر لے گا۔ رات کا کھانا میری طرف ہی کھانا۔ عدیل بھی بعد میں آ جائے گا۔‘‘ ذکیہ محبت سے بولیں۔
’’نہیں امی! آپ کو پتا ہے ورکنگ ڈیز میں عدیل کو رات دیر تک باہر رہنا بہت ناپسند ہے۔ پھر ان کی اماں جان ہیں، یوں بولائی جائیں گی جیسے عدیل دودھ پیتا بچہ ہو اور اسے صبح اسکول جانے سے دیر ہو جائے گی۔‘‘ بشریٰ چڑے ہوئے لہجے میں بولی۔
’ماں ہے نا۔ یوں محبت نہیں دکھائے گی تو کیا اس عمر میں بیٹے کو ہاتھ سے گنوائے گی۔ ’‘‘ ذکیہ تمسخرانہ لہجے میں بولیں۔
’’ٹھیک کہتی ہیں امی! یقین کریں جنتے پینترے یہ دونوں ماں بیٹی بدلتی ہیں عدیل کو مٹھی میں کرنے کے لیے، میں آؤں گی تو بتاؤں گی۔‘‘ بشریٰ دکھی لہجے میں بولی۔ اسے صبح والا منظر یاد آ گیا تھا۔
’’میری بچی! میں جانتی ہوں، تم کیسے ان دونوں چلتروں کے درمیان گزارہ کر رہی ہو۔ یہ تمہارا صبر ہی تو ہے جو تمہیں شوہر کے دل کی ملکہ بنائے ہوئے ہے۔ ورنہ کوئی اور ہوتی تو دوسرے دن عدیل کو ان ماں بیٹی کا اصل چہرہ دکھا کر کہیں الگ گھر لے چکی ہوتی۔‘‘ ذکیہ بیٹی سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے بولیں۔
’’پھر تم آ رہی ہو نا شام میں؟‘‘ انہیں پھر سے فون کرنے کا مقصد یاد آیا۔
’’دیکھو! بڑی اچھی لڑکی ہے۔ پڑھی لکھی، گرہستن اور سب سے بڑھ کر خوب کھاتے پیتے لوگ ہیں اور خاندان بھی نیک، شریف۔ اب بتاؤ اور کیا چاہیے۔ ایسی لڑکی کو تو ہاتھ سے نہیں نکلنا چاہیے بشریٰ‘‘
’’وہ امی! آپ کی بات ٹھیک ہے مگر مجھے پہلے عدیل کو فون کر لینے دیں۔ پتا نہیں، وہ مانتے بھی ہیں یا نہیں۔‘‘
’’اتنا بھی عدیل کی مرضی پر نہ چلو کہ تمہاری اپنی کوئی خوشی ہی نہ رہے۔ ظاہر ہے، اب بھائی کے لیے تم تھوڑی دوڑ دھوپ نہیں کرو گی تو اور کون کرے گا۔ ابھی تو میری ہڈیاں کچھ کام کر رہی ہیں تو میں ساتھ لگی ہوں۔ کل کو خدا نخواستہ مجھے کچھ ہو گیا تو …‘‘
’’امی! پلیز ایسی باتیں نہیں کریں۔ اللہ آپ کو ہمارے سروں پر سلامت رکھے۔ میں عدیل کو فون کر کے کہتی ہوں کہ میں عمران کے ساتھ جا رہی ہوں امی کی طرف۔ وہ رات میں مجھے آ کر لے جائیں۔ ٹھیک ہے نا۔‘‘ بشریٰ کو شاید ماں کی بات بری لگی کہ عدیل کے آگے اس کی ذرا سی بھی مرضی نہیں چلتی۔
’’بالکل صحیح … اور سنو! اپنا وہ سالگرہ والا سوٹ پہن لینا اور سیٹ بھی وہی جو عدیل نے تمہیں بنوا کر دیا ہے۔ ذرا لڑکی والوں پر اچھا امپریشن پڑے گا۔ ماشاء اللہ سالگرہ میں میری بچی اتنی پیاری لگ رہی تھی اور وہ فوزیہ … جیسے دس سالوں کی بیاہی ہوئی۔ شکل سے ہی پکا پن جھلکنے لگا ہے اب تو۔ کہیں اس کے رشتے کی بات چلی؟‘‘ ذکیہ نے کریدا۔
’’لگی تو ہوئی ہیں دونوں۔ آئے دن رشتہ کرانے والیوں کی جیبیں گرم کرتی رہتی ہیں۔ پھر بھی بات نہیں بن رہی اس کی شادی تک عدیل کو کنگال کر دیں گی دونوں۔‘‘
’’اللہ نہ کرے۔ چلو! تم تیاری کرو۔ میں عمران کو فون کر کے کہہ دیتی ہوں۔‘‘
’’مثال سورہی ہے۔ میں اٹھاتی ہوں ابھی اللہ حافظ۔‘‘ کہہ کر فون بند کر کے وہ سوئی ہوئی مثال کو دیکھنے لگی۔
’’نہیں یار! یہ بہت مشکل کام ہے۔ تمہیں پتا ہے، گھر آنے کے بعد میرا کہیں اور جانا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ تم آنٹی سے کہتیں کہ وہ یہ سلسلہ کسی اور دن کے لیے اٹھا رکھتیں۔‘‘ عدیل آفس میں کام کر رہا تھا، جب بشریٰ کی کال آئی تھی۔
’’عدیل! میں نے پہلے ہی امی سے یہ بات کی تھی کہ آپ کو ورکنگ ڈیز میں اتنی دیر تک گھر سے باہر رہنا پسند نہیں، مگر امی بے چاری بھی مجبور ہیں۔ لڑکی بہت اچھی ہے اور رشتہ کرانے والی آنٹی بتا رہی تھیں کہ اس کے دھڑا دھڑ رشتے آ رہے ہیں۔ یہ نہ ہو کہ ہمیں دیر ہو جائے۔‘‘ بشریٰ نے اسے صورت حال کی سنگینی بتائی۔
’’اب ایسی بھی آگ نہیں لگی کہ دو تین دن میں اس کا رشتہ ہی کہیں ہو جائے۔‘‘ عدیل بے زاری سے بولا۔
’’عدیل! آپ کو میرے ساتھ نہیں چلنا تو صاف انکار کر دیں۔ ظاہر ہے، آپ کو آپ کی امی کچھ کہیں گی تو ان کو تو آپ انکار نہیں کر سکیں گے، لیکن جو میں کہوں گی وہ ایک دم فضول، بیکار، بے معنی ہوتا ہے آپ کے نزدیک۔‘‘ بشریٰ پھٹ پڑی اور آواز بھی رندھ گئی۔
’’بھئی! میرا یہ مطلب تھوڑی تھا … چلو ٹھیک ہے! تم عمران سے کہو، وہ آ کر تمہیں لے جائے۔ ورنہ مجھے آفس میں اگر دیر ہو گئی تو۔‘‘
’’آپ ٹینشن نہیں لیں۔ وہ غریب ہی مجھے واپس ڈراپ بھی کر جائے گا۔ ظاہر ہے، اس کا کام ہے تو سزا بھی وہ ہی بھگتے گا آنے جانے کی۔ آپ اپنا کام کریں۔ میں چلی جاؤں گی، اللہ حافظ۔‘‘ اس نے ناراضی سے کہہ کر فون بند کر دیا۔
’’میری تو کوئی وقعت ہی نہیں ہے۔ ان عدیل صاحب کی نظر میں۔‘‘ بڑبڑاتے ہوئے باہر نکل گئی۔
٭٭٭
بشریٰ نے تیار ہو کر آئینے پر نظر ڈالی اور مطمئن ہو کر مسکرائی۔ تب ہی مثال خوب صورت فراک پہنے اپنی گڑیا ہاتھ میں پکڑے چلی آئی۔
’’مما! میں اسکول بیگ بھی لے لوں۔ اگر ہمیں نانوں کی طرف رات رہنا ہو تو؟‘‘ وہ بھی ماں کو ستائشی نظروں سے دیکھ رہی تھی۔
’’ارے نہیں دادی اماں! ہم رات رہنے نہیں جا رہے۔ رات میں ماموں ہمیں واپس چھوڑ جائیں گے۔‘‘ بشریٰ جلدی سے اپنا ہینڈ بیگ چیک کرنے لگی۔
’’مما! یو لک سو پریٹی۔‘‘ وہ بے اختیار ماں سے لپٹ کر بولی۔
’’میری جان! تھینکس … یو ٹو ویری پریٹی مائی لو۔‘‘ بشریٰ بھی بیٹی کو پیار کرنے لگی۔
’’مما! پاپا نہیں آئیں گے نانو کی طرف؟‘‘ اسے ماں کی بات یاد آئی تو پوچھنے لگی۔
’’بیٹا! آپ کے بابا کا موڈ ہوا تو آ جائیں گے۔ ورنہ ہمیں ماموں ڈراپ کر جائیں گے۔ تم نے ہوم ورک مکمل کر لیا تھا نا مثال؟‘‘
’’یس مام! بس ٹیسٹ واپس آ کر ایک باہر دہرا کر لوں گی۔ میتھس کا ٹیسٹ ہے کل۔‘‘ مثال سر ہلا کر بولی۔
’’چلو! پھر تو ٹھیک ہے۔‘‘ فون بجنے پر اس نے فون اٹھاتے ہوئے کہا۔ ذکیہ کا فون تھا۔
’’عمران ابھی آ رہا ہے تمہیں لینے کے لیے۔ اس کا فون آیا تھا کہ امی میں نکلنے لگا ہوں تو آپ بشریٰ آپی کو فون کر کے بتا دیں۔ تم تیار ہو گئی ہو نا بشریٰ!‘‘
’’جی امی! میں بالکل تیار ہوں اور مثال بھی۔ مثال چلے گی نا لڑکی والوں کی طرف ہمارے ساتھ؟‘‘ اسے جیسے یاد آیا۔
’’ہاں! چلی چلے گی یا دل کرے گا تو ماموں کے پاس ہی رک جائے گی۔‘‘ ذکیہ بولیں۔
’’چلیں! پھر میں آتی ہوں تو بات کرتے ہیں اللہ حافظ۔‘‘ بشریٰ نے فون بند کر کے آخری بار اپنا جائزہ لیتے ہوئے دوپٹا اٹھایا۔
’’ہمیں کہاں جانا ہے نانو کی طرف جا کر؟‘‘ مثال ماں کی تیاری کو ٹکٹکی باندھ کر دیکھے جا رہی تھی۔
’’عمران ماموں کی دلہن دیکھنے۔ چلو گی ہمارے ساتھ؟‘‘ بشریٰ اس کے گال پر ہلکی سی چٹکی کاٹ کر بولی۔
’’میں تو ضرور جاؤں گی۔‘‘ وہ فوراً تیار ہو گئی۔
’’اور ماموں کے پاس گھر میں نہیں رکو گی؟‘‘ بشریٰ نے کہا۔
’’جی نہیں! میں دلہن دیکھنے جاؤں گی۔ اب چلیں نا مما!‘‘ وہ بے چین ہو کر بولی۔
’’ہاں! چلو ماموں آتے ہی ہوں گے۔‘‘ وہ مثال کو ساتھ لے کر باہر نکلی۔
’’ٹھیک ہے! فکر کی کوئی بات نہیں۔ دو گھنٹے تو ابھی ہیں نا۔ تم انہیں کہلوا دو۔ میں سب انتظام کر لیتی ہوں۔‘‘ نسیم کسی سے فون پر بڑے انہماک سے بات کر رہی تھیں۔
’’اچھا … یہ تو اچھی بات ہے۔ تم لے آؤ انہیں۔ ہم انتظار کر رہے ہیں۔‘‘ وہ پر جوش لہجے میں بولیں۔
’’ہاں ہاں! فکر ہی نہ کرو۔ اس بار جو کچھ تم بتا رہی ہو۔ تمہارے منہ میں گھی شکر۔ کمی نہیں ہو گی دیکھنا! میری طرف سے کچھ بھی۔ بس تم پہنچنے کی کرو، اللہ حافظ۔‘‘ نسیم نے پر جوش انداز میں فون بند کر دیا۔
اور کچھ بولتے ہوئے بشریٰ کے تیار حلیے کو دیکھ کر لمحہ بھر کو جیسے گنگ سی ہو گئیں۔
’’دادو! ہم ماموں کی دلہن دیکھنے جا رہے ہیں۔ میں بھی جاؤں گی مما اور نانو کے ساتھ … میں اچھی لگ رہی ہوں نا اس فراک میں دادو!‘‘ مثال فوراً دادی کی گود میں بیٹھ کر لاڈ سے بولی۔
’’دادو کی جان پری لگ رہی ہے کہیں نظر نہ لگ جائے۔‘‘ دادی فوراً پوتی کا منہ چوم کر بولیں۔
’’وہ امی! میں ذرا امی کی طرف جا رہی تھی۔ عمران مجھے لینے آ رہا ہے۔ عمران کے لیے کوئی لڑکی دیکھنے جا رہے ہیں ہم۔‘‘ بشریٰ نے سنبھلے ہوئے لہجے میں رک رک کر کہا، کیونکہ نسیم کی کچھ دیر پہلے ہونے والی فون پر بات چیت اسے کچھ کھٹک سی گئی تھی۔
’’کسی سے پوچھنے، بتانے یا اجازت لینے کی ضرورت بھی نہیں سمجھی تم نے؟‘‘ نسیم کٹیلے لہجے میں اس پر سخت نظریں گاڑ کر بولیں۔
’’وہ امی! میں نے عدیل کو بتا دیا تھا۔‘‘
’’تمہارے خیال میں اس گھر میں صرف عدیل رہتا ہے؟‘‘ وہ کڑے لہجے میں بولیں۔
بشریٰ کچھ لاجواب سی ہو کر رہ گئی مثال کبھی ماں کو دیکھتی، کبھی دادی کو۔
’’دادو آپ …‘‘ اس نے دادی کا غصہ ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی۔
’’جاؤ! تم اندر جا کر کمرے میں کھیلو۔‘‘ دادی نے اسے جھڑک دیا۔
مثال کے چہرے کا رنگ اڑ گیا۔ وہ کچھ شرمندہ سے ہو گئی۔
’’مثال! آپ روم میں چلو۔‘‘ بشریٰ اسے اشارہ کر کے بولی۔ وہ سست قدموں سے اندر چلی گئی اور دروازے کے پاس رک کر دیکھنے لگی۔
’’امی! میں رات کو جلدی آ جاؤں گی۔ عمران ہی مجھے ڈراپ کر جائے گا۔‘‘ وہ لہجے کو نرم کر کے بولی۔
’’اب تم سے واپسی کی کون بات کر رہا ہے؟ میں تو ابھی یہ تمہارے جانے کی بات کر رہی ہوں۔ تم مجھے بتائے بغیر جا رہی تھیں۔ یہ حیثیت ہے تمہاری نظر میں میری؟‘‘ نسیم کڑک کر بولیں۔
’’نہیں امی! یہ بات نہیں۔ میں نے عدیل …‘‘
’’ایک عدیل ہی تمہیں ملا؟ معصوم کاٹھ کا الو، موم کی ناک جدھر چاہتی ہو، گھما لیتی ہو۔ ہم تو بھیا نہ تین میں نہ تیرہ میں۔ تم ہمیں کیوں نہ جوتے کی نوک پر رکھو گی۔ خصم کے سر چڑھو، ساس نند جائے جہنم میں۔‘‘ نسیم تو بھڑک ہی اٹھیں۔
بشریٰ گھبرا گئی۔ اسے ساس کے اتنے سخت رد عمل کی توقع نہیں تھی، بلکہ اسے یقین تھا کہ عدیل پہلے سے فون کر کے ماں کو اس کے جانے کا بتا چکا ہو گا۔
’’امی! یقین کریں، میں نے عدیل سے پوچھا اور یہ بھی کہا کہ آپ سے اجازت لے لیتی ہوں تو وہ کہنے لگے کہ امی سے میں خود بات کر لیتا ہوں۔ تم چلی جاؤ۔‘‘ اس نے اپنے دفاع کے لیے فراٹے سے جھوٹ گھڑا۔
’’امی مٹی کی مادھو، اللہ میاں کی گائے، جس کو نہ بیٹا کسی شمار میں سمجھے، نہ بہو کسی گنتی میں رکھے۔ اٹھے چھیل چھبیلے تیار ہوئے … کپڑے، جھمکے، چوڑیاں چڑھائیں۔ میک اپ تھوپا۔ اور منہ اٹھا کر چل پڑے۔ گھر نہ ہو گیا سرائے ہو گیا۔ جس کا نہ کوئی طور طریقہ نہ قانون۔‘‘ نسیم نے جیسے آج ہی سارے بدلے لینے کی ٹھان لی تھی۔ بشریٰ کو صاف نظر آ گیا، اس کا گھر سے جانا مشکل ہی نہیں، نا ممکن بھی ہے۔
’’امی! میں جاؤں پھر پارلر؟ میں نے شفق کو فون کر کے بلوا لیا ہے۔ وہ آ رہی ہے میرے ساتھ جانے کے لیے۔ اسے بھی کچھ کام کروانا ہے اپنی سکن کا۔‘‘ فوزیہ تیار حلیے میں عجلت بھرے انداز میں ماں کے پاس آ کر بیگ کندھوں پر ڈالتے ہوئے بولی۔
’’دو گھنٹے میں آ رہے ہیں وہ لوگ۔ تمہیں اس سے پہلے گھر پہنچنا ہو گا۔‘‘ نسیم لہجہ بدل کر بیٹی سے متفکر لہجے میں بولیں۔
’’امی! فکر نہ کریں، ’’مائی لک‘‘ والی شفق کی دوست ہے۔ وہ پہلے میرا ہی فیشل کرے گی۔ شفق نے اس سے بات کر لی ہے۔‘‘ فوزیہ ماں کو تسلی دیتے ہوئے بولی۔
’’اور یہ جھاڑ جھنکار سے بال بھی سیٹ کروا لینا، مگر ٹائم کا خیال رکھنا۔ ثریا انہیں دو گھنٹے میں لے کر پہنچ جائے گی۔ تم یوں کرو نا، اپنے کپڑے بھی ساتھ لے جاؤ۔ وہیں سے تیار ہو کر آ جانا۔‘‘ نسیم کو خیال آیا۔
’’ہاں! کپڑے تو میں نے رکھ لیے ہیں۔ وہیں سے تیار ہو آؤں گی۔ آپ مجھے پیسے تو دے دیں جلدی سے۔‘‘ وہ کچھ کوفت سے بولی۔ اس دوران میں اس نے بشریٰ کی طرف ایک بار بھی نظر اٹھا کر دیکھنے کی زحمت کی نہ اسے درخور اعتنا ہی سمجھا۔
بشریٰ کسی مجرم کی طرح سزا کی منتظر دونوں کی گفتگو ختم ہونے کے انتظار میں کھڑی تھی۔
نسیم نے صبح والے عدیل کے دیے نوٹوں میں سے چار ہزار نکال کر فوزیہ کو دیے۔
’’کافی ہیں نا یہ؟‘‘ نسیم بیٹی کے چہرے کی طرف دیکھ رہی تھیں۔
’’امی! احتیاطاً پانچ ہی دے دیں۔ آج کل روز تو ہر چیز کا ریٹ بڑھا ہوتا ہے۔‘‘
ماں نے سر ہلا کر ہزار روپیہ اور تھما دیا۔ تب ہی باہر ہارن بجا۔
’’عدیل اس وقت گھر آ گیا کیا؟‘‘ نسیم کچھ تشویش سے بولیں۔
’’وہ امی! عمران ہے۔ مجھے اور مثال کو لینے آیا ہے۔‘‘
’’تو جاؤ! کھڑی منہ کیا دیکھ رہی ہو میرا۔‘‘ وہ کرختگی سے بولیں۔
’’وہ امی … آپ کی اجازت ہے نا؟‘‘
’’جوتی اٹھا کر میرے سر پر مارو۔ میری کیا مجال تمہیں روک سکوں۔‘‘ نسیم زور سے بولیں۔ ’’میں بیوہ، میری بچی یتیم۔ تم میاں بیوی کے ٹکڑوں پر پڑے ہیں۔ اللہ نے خوشی کا موقع دکھایا۔ میری بچی کا رشتہ ہونے جا رہا ہے اور بھاوج صاحبہ بن ٹھن کر بھیا کے لیے لڑکی پسند کرنے جا رہی ہیں۔ انہیں اس یتیم نند کے رشتے کی کیا پروا۔ دو گھنٹے بعد مہمان آنے والے ہیں۔ میں بڑھیا خود ہی اٹھوں گی اور چائے چڑھا لوں گی۔ وہ ہی خالی رکھ دوں گی ان کے آگے۔ اس کے بعد میری بچی کے نصیب۔ رشتہ ہوتا ہے یا نہیں۔ تم جاؤ بی بی! تمہارے ہاتھ سے بھیا کا رشتہ نہ نکل جائے۔‘‘ نسیم دوپٹے کے پلو سے آنکھیں مسلنے لگیں۔
٭٭٭
’’کتنی باتیں سنائی ہیں مجھے عمران نے گھر آ کر۔ غریب دفتر سے جلدی اٹھے کر تمہیں لینے گیا۔ رستے میں زمانے بھر کی ٹریفک دھول مٹی کھاتا گیا اور تم نے دروازے ہی سے اسے موڑ دیا۔ شاباش بھئی! اچھا کیا بہت۔‘‘ ذکیہ فون پر غصے میں بشریٰ کو سنا رہی تھیں۔
’’آپ بھی مجھے ہی سنائیے نسیم آنٹی نے جو کسر چھوڑ دی، وہ آپ پوری کر دیں۔ آج انہوں نے جو سلوک میرے ساتھ کیا ہے۔ اگر میں آ جاتی آپ کی طرف تو امی! وہ مجھے ہمیشہ کے لیے آپ کے گھر بٹھا دیتیں۔ اتنے غصے اور طیش میں میں نے انہیں کبھی نہیں دیکھا۔‘‘ بشریٰ روہانسی ہو کر بولی۔
’’بس یوں ہی چوہیا بن کر سسرال والوں کی جوتیاں سیدھی کرتی رہنا۔ مجھے کس شرمندگی سے لڑکی والوں کو منع کروانا پڑا۔ عمران کی باتیں سنیں۔ ماں کی عزت کی کوئی پروا نہیں تمہیں۔‘‘
’’امی! بس کریں، میں پاگل ہو جاؤں گی۔ پہلے ساس صاحبہ نے بھگو بھگو کر جوتیاں ماریں مجھے اور اب آپ شروع ہو گئی ہیں۔ ابھی وہ عدیل صاحب آئیں گے تو امی ان کے کان بھریں گی اور وہ آ کر مجھ پر چلانا شروع کر دیں گے۔ میں تو جیسے انسان ہی نہیں ہوں۔ نہ میری کوئی عزت، نہ عزت نفس جس کا جو جی چاہتا ہے، سنا ڈالتا ہے۔ آپ کو جلدی ہے تو عمران کو لے جائیں ساتھ اور اسی کو لڑکی پسند کروا لیں۔ شادی بھی تو اسی کی ہونی ہے۔ اسے ہی لڑکی پسند کروائیں۔ خدا حافظ۔‘‘ اس نے روتے ہوئے فون بند کر دیا۔
’’مما! دادو کہہ رہی ہیں، کچن کون دیکھے گا آ کر۔ مہمان آنے والے ہیں۔‘‘ مثال اندر آ کر ماں سے بولی۔
وہ دونوں ہاتھوں میں منہ چھپائے روتی رہی۔
’’مما! آپ رو روہی ہیں؟‘‘ مثال سہمے ہوئے لہجے میں بولی۔
’’نہیں! قہقہے لگا رہی ہوں۔ اندھی ہو، نظر نہیں آتا تمہیں؟‘‘ وہ الٹا اسے جھڑک کر بولی۔ مثال اور بھی سہم گئی۔
’’مما … آپ مجھ سے غصہ ہیں؟‘‘ وہ بڑی بڑی سنہری آنکھوں میں آنسو بھر کر بولی۔
’’مما کی جان! میں … آپ سے غصے نہیں ہوں۔ اپنے نصیبوں کو رو رہی ہون۔ اپنی جان سے میں کیوں غصہ ہوں گی۔ مت روئیں پ۔‘‘ وہ فوراً تڑپ کر مثال کو اپنے ساتھ لگا کر بولی۔
’’آپ بھی تو رو رہی ہیں۔ دادو نے آپ کو ڈانٹا ہے نا اس لیے۔‘‘ مثال چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے ماں کے آنسو صاف کرتے ہوئے بولی۔
’’میں پاپا کو بتاؤں گی کہ دادو نے آپ کو نانو کی طرف نہیں جانے دیا۔‘‘
’’تمہارے پتھر دل باپ پر کیا اثر ہونا ہے۔ وہ پہلے کون سا راضی تھے کہ میں ادھر جاؤں۔ انہیں تو خوش ہی ہونا ہے کہ نہیں گئی۔ اس گھر کے لیے میں اپنی جان بھی دے دوں تو بھی انہیں احساس نہیں ہو گا۔ یہ ہی کہیں گے میری نیت میں کھوٹ ہے۔‘‘
’’کیا ہوا بھئی؟ یہ کیا ہو رہا ہے؟ بن بادل ساون کیوں برس رہا ہے؟‘‘ عدیل خوشگوار موڈ میں کمرے میں داخل ہوا۔ بشریٰ کو روتے دیکھ کر ہنس کر بولا۔
’’ارے! تم تو واقعی رو روہی ہو۔ کیا ہوا بشریٰ؟‘‘ وہ پاس آ کر اس کا ہاتھ تھام کر تشویش سے بولا۔
بشریٰ نے اس کا ہاتھ جھٹکا اور باہر نکل گئی۔
’’مثال جانو! ماما کو کیا ہوا؟‘‘ عدیل پریشان ہو کر بولا۔
’’دادو نے ڈانٹا ہے۔‘‘ مثال کچھ ڈر کر بولی۔
’’وہ کیوں؟ لڑائی ہوئی ہے؟‘‘ عدیل چونکا۔
’’نہیں! مما نے تو لڑائی نہیں کی۔ ہم تو تیار ہو کر نانو کی طرف جا رہے تھے، ماموں کی دلہن دیکھنے۔ ماموں ہمیں لینے بھی آ گئے تھے۔‘‘
’’پھر گئے نہیں تم لوگ؟‘‘
’’دادو نے مما کو زور زور سے ڈانٹا اور کہا کہ بے شک چلی جاؤ۔ واپس بھی اپنی مرضی سے آنا اور پتا نہیں کیا کہا۔‘‘ وہ رک رک کر بولی۔
عدیل گم صم سا ہو گیا۔
’’پاپا! اب ہم نانو کی طرف نہیں جائیں گے کیا؟‘‘ وہ باپ کا کندھا ہلا کر بولی۔
’’نانوں کا فون آیا تھا؟‘‘
’’ہاں! مما فون پر بات کرتے ہوئے رونے لگیں کہ سب ان ہی کو ڈانٹ رہے ہیں۔ نانو بھی اور دادو بھی … سب مما کو کیوں ڈانٹ رہے ہیں پاپا؟‘‘ وہ باپ کی پریشان شکل دیکھ کر پوچھنے لگی۔
’’نہیں بیٹا! کوئی نہیں ڈانٹ رہا انہیں۔‘‘
’’پاپا! آپ پریشان ہیں؟‘‘
’’نہیں میری جان! میں کیوں پریشان ہوں گا۔ پھوپھو کہاں ہے تمہاری؟‘‘ وہ یوں ہی مسکرا کر بولا۔
’’پتا نہیں! شاید اپنی کسی دوست کے ساتھ گئی ہیں۔ تیار ہونے کا کہہ رہی تھیں۔‘‘
عدیل گم صم سے انداز میں جھک کر جوتے اتارنے لگا۔
٭٭٭
اس بار آنے والے مہمان واقعی مبارک ثابت ہوئے تھے۔
انہوں نے فوزیہ کو پسند کر لیا۔
کمال شاید فوزیہ کے خوب اچھے سے تیار ہونے کا تھا یا واقعی وہ انہیں اچھی لگی تھی۔ فوزیہ کی ہونے والی ساس اور بیاہی نند محبت پاش نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے مسکرا رہی تھیں۔
’’یہ شگن کے پیسے ہیں بہن جی! انکار نہیں کیجیے گا۔‘‘ انہوں نے دو ہزار روپیہ فوزیہ کے ہاتھ پر بخوشی رکھ دیا۔ نسیم اور عدیل پر تو جیسے شادیِ مرگ طاری ہو گیا۔
کہاں پانچ، چھ سالوں سے فوزیہ کا رشتہ ہی نہیں ہو رہا تھا اور کہاں ایک دم سے … نسیم کی سمجھ میں نہ آیا کہ فوراً کیا بولیں۔
’’نہیں بہن جی! یہ ابھی رہنے دیں۔ ہم آئیں گے نا تو …‘‘ وہ بدقت کانپتی آواز میں بولیں۔
’’آپ آئیں گی تو تب اپنی خوشی پوری کیجیے گا، لیکن ہمیں نہیں روکیں، ہمیں تو آپ کی بیٹی پیاری ہی اتنی لگی ہے کہ جی چاہتا ہے ابھی اسے اپنے گھر لے جائیں ہمیشہ کے لیے۔‘‘ فوزیہ کی ہونے والی ساس اسے ساتھ لپٹا کر بولیں۔ فوزیہ اور نسیم کا چہرہ خوشی سے دمکنے لگا۔
’’پھر آپ کب آ رہی ہیں ہماری طرف؟‘‘ انہوں نے نسیم سے پوچھا۔
’’جب آپ کہیں۔ اس ویک اینڈ پر ٹھیک رہے گا عدیل … بشریٰ؟‘‘
ایک دم نسیم کو خیال آیا کہ بہو بیٹے کی شمولیت تو اس معاملے میں سب سے زیادہ ضروری ہے۔ جس کا نروٹھا چہرہ آج سب کو بہت کچھ کہہ رہا تھا۔ مگر بھلا ہو فوزیہ کی ساس کی کمزور نظر کا یا اسے فوزیہ کے آگے اور کچھ نظر ہی نہیں آیا کہ اس نے بشریٰ کے خفا چہرے کو کوئی اہمیت ہی نہیں دی۔
’’ٹھیک ہے امی! جیسے آپ کہیں۔‘‘ عدیل فوراً بولا۔
’’ماشاء اللہ بہن جی! بہت سعادت مند بیٹا اور بہو ہے میری۔ میری تو دعا ہے اللہ سے سب کو ایسی سعادت مند اولاد دے۔ ایسی نیک طبیعت میری فوزیہ کی بھی ہے۔ سارا وقت یا تو گھرداری کرتی رہے یا پھر نماز، قرآن تیسرا تو کوئی شغل ہے ہی نہیں اس کا۔ نہ ٹی وی کے بے ہودہ ڈرامے۔ نہ کوئی فیشن کی بیماری۔ میرا تو سمجھو! سارا گھر اس بچی نے سنبھال رکھا ہے۔ بھاوج اور اس میں ایسا دوستانہ ہے بہن! کوئی غیر آئے تو وہ دیکھ کر مانے ہی نا کہ یہ نند بھاوج ہیں، جیسے دو سہیلیاں ہوں یا دو بہنیں۔ ایسی بھلی مانس طبیعت ہے میری بہو اور بیٹی کی۔‘‘ نسیم نے ایک تیر سے دو شکار کیے بلکہ تین شکار۔
بشریٰ کا دل جیتنے کی ناکام کوشش کہ ابھی تو وہ فوری طور پر ساس کے اس دو رخے رویے سے سخت بد دل تھی مگر، شوہر کی وجہ سے بہت سنبھلی ہوئی بیٹھی تھی اور فوزیہ اس کی دوست، سہیلی، بہن۔
اس کا جی چاہا، زور زور سے ہنسنے لگے۔ اس کی ساس سمجھتی ہے کہ ساری دنیا کی آنکھیں خراب ہیں یا ان میں موتیا اترا ہوا ہے، جو انہیں اس نند بھاوج کے رشتے میں ایسا پیار دکھے۔
’’ہونہہ! دوغلی عورت کے۔‘‘ بشریٰ کے دل میں کھولن بڑھتی جا رہی تھی۔ دوسری طرف فوزیہ کی ہونے والی ساس تو جیسے فوزیہ پر اور بھی والہ و شیدا ہونے لگیں۔ لپٹ لپٹ کر اسے خوب پیار کرنے لگیں۔
’’منافق عورتیں۔‘‘ وہ کڑھتی ہوئی اٹھ کر چائے کے برتن سمیٹنے لگی۔
نسیم اور فوزیہ کی ساس کے درمیان اگلی تفصیلات طے ہونے لگیں۔
رشتہ کرانے والی کے چہرے پر بھی خوشی کے مارے جیسے ہزار واٹ کا بلب جگمگا اٹھا تھا۔ اس کی سات سالوں کی محنت بر آنے لگی تھی۔ دونوں طرف سے خوب ملنے کی آس جو بند ھ گئی تھی۔
’’اور میرے بھائی کی خوشیاں کیسے اس عورت نے خاک میں ملا دیں۔ ہم لڑکی کو دیکھنے بھی نہ جا سکے۔ مطلبی، خود غرض بے حس لوگ۔‘‘ وہ کچن میں برتن پٹخ پٹخ کر رکھنے لگی۔ مثال ذرا ذرا دیر بعد کبھی آ کر ماں کو دیکھ جاتی اور کبھی ڈرائنگ روم میں باپ کے پاس جا کر گود میں چڑھ جاتی۔
’’دادی اور پھوپھی کا موڈ خوشگوار ہوتے ہی پاپا بھی کیسے چہکنے لگتے ہیں۔‘‘ وہ باپ کی خوشی میں کھنکتی آواز پر شوق انداز میں سننے لگی اور کبھی ٹکٹکی جما کر باپ کا چہرہ دیکھنے لگی۔ اسے اپنے باپ کو دیکھنا بہت اچھا لگ رہا تھا۔
’’پاپا ایسے بات کرتے کتنے اچھے لگتے ہیں۔ ہنس بھی نہیں رہے اور لگ رہا ہے، جیسے ابھی ہنس پڑیں گے۔ اتنے خوش تو وہ صرف مما کے ساتھ ہوتے ہیں۔ جب دونوں رات کو ویک اینڈ پر فارغ ہو کر خوش گوار موڈ میں باتیں کرتے ہیں، مگر آج تو لگتا ہے دونوں میں خوب لڑائی ہو گی۔ مما کا موڈ سخت آف ہے۔ وہ آسانی سے تو پاپا سے بات نہیں کریں گی، لیکن پاپا کو بھی انہیں منانا آتا ہے۔ میں پاپا کا ساتھ دوں گی۔ ہم دونوں جلدی سے مما کو راضی کر لیں گے۔‘‘ وہ باپ کے چہرے کو دیکھ کر سوچتی چلی گئی۔
’’اب غصہ جانے دو بشریٰ یقین کرو۔ میں ان کو فون کر کے بتانے ہی والا تھا تمہارے جانے کے بارے میں کہ باس نے اچانک اپنے کمرے میں بلا لیا۔ وہیں گھنٹے بھر کی میٹنگ ہو گئی اور باہر نکلا ہوں تو آف ہونے ہی والا تھا۔ یقین کرو! میں تو تمہیں لینے کے لیے آنے والا تھا۔‘‘ عدیل مسلسل اس کی منتیں کیے جا رہا تھا۔
’’مجھے نیند آ رہی ہے۔ پلیز! مجھے تنگ نہیں کریں۔ سونا ہے مجھے۔‘‘
’’اچھا! سوجانا، مگر پہلے مجھ سے بات تو کرو۔‘‘ عدیل اس کے اوپر سے چادر کھینچ کر بولا۔
’’بات تو کر رہی ہوں اور کیسے بات کروں۔‘‘ وہ پھر سے چادر کھینچ کر غصے میں بولی۔
’’اس طرح بات کرتے ہیں کیا؟‘‘
’’اور کس طرح بات کرتے ہیں؟ اب آپ بات کرنا سکھائیں گے مجھے؟ آپ کی والدہ صاحبہ نے جی بھر کر میری کلاس لی۔ اب آپ مجھے پڑھائیں … چھوڑیں مجھے۔‘‘ وہ پھر سے چادر کھینچنے لگی۔
’’اچھا! اگر کل میں آفس سے آف کر لوں اور تمہیں صبح ہی آنٹی کی طرف لے چلوں، پھر تو راضی ہو جاؤ گی نا؟‘‘ عدیل نے آخری حربہ آزمایا۔
’’مجھے اب کہیں نہیں جانا۔ امی کی طرف تو اب کبھی نہیں۔ آپ کو چھٹی کرنی ہے تو سوبار کریں، مگر میری خاطر نہیں۔ میں کہیں نہیں جانے والی اور پلیز! اب مجھے سونے دیں۔ سارا دن نوکروں کی طرح کام کیا ہے میں نے۔ آپ کی بڑی مہربانی ہو گی، اگر مجھے اب تھوڑا آرام کر لینے دیں گے تو۔‘‘ بشریٰ کے موڈ سے صاف لگ رہا تھا کہ وہ آج کسی صورت راضی نہیں ہو گی۔
’’مما! پلیز مان جائیں نا۔ دیکھیں تو بابا کتنے پریشان ہیں۔‘‘ مثال ماں سے بولی۔
’’تم سوئیں نہیں ابھی تک؟ معلوم ہے نا! صبح اسکول جانا ہے۔‘‘ بشریٰ اسے جھڑک کر بولی۔
’’جب تک آپ نہیں مانیں گی، نہ میں سوؤں گی، نہ پاپا اور صبح نہ میں اسکول جاؤں گی، نہ پاپا آفس جائیں گے … کیوں پاپا؟‘‘ مثال باپ کی شہہ پا کر چہکتے ہوئے لہجے میں بولی۔
’’آف کورس میری جان!‘‘ عدیل اسے ساتھ لپٹا کر بولا۔
’’تو پھر بہتر ہے میں اٹھ کر کہیں اور چلی جاتی ہوں۔ یہاں مجھے کوئی سونے نہیں دے گا۔‘‘ وہ تکیہ اٹھا کر جانے لگی۔
’’تم جہاں جاؤ گی ہم وہیں تمہارے پیچھے آ جائیں گے۔ کیوں مشی جان؟‘‘ عدیل اسے روک کر بولا۔
’’عدیل! چھوڑیں نا مجھے۔‘‘ وہ زچ آ کر بولی۔
’’اتنی آسانی سے تو چھوڑ نہیں سکتا آپ کو ڈارلنگ!‘‘ وہ چھیڑ کر بولا۔
’’مثال ہے، کچھ تو خیال کریں۔‘‘ وہ کچھ جھینپ کر شوہر کر گھور کر بولی۔
’’مما! میں نے آئیز کلوز کر لی تھیں۔ پلیز! اب آپ ہنس دیں۔‘‘ مثال معصومیت سے دونوں آنکھوں پر ہاتھ رکھ کر بے ساختہ بولی تو عدیل اور بشریٰ اپنی ہنسی روک نہیں سکے۔
’’بھئی! جو کام ہم نہیں کر سکے، ہماری مثال نے کر دکھایا … مثال ڈیئر! تھینکس۔‘‘ عدیل اسے پیار کر کے بولا۔
’’پاپا! خالی تھینکس نہیں چلے گا۔‘‘ وہ دونوں کے درمیان بیٹھ کر اٹھلا کر بولی۔
’’تو پھر کیا چلے گا جانو!‘‘
’’کل کی چھٹی اور مزے۔ مما کو ڈھیر ساری شاپنگ … مما اور کیا کنڈیشن لگاؤں، جلدی سے بتا دیں۔ اس وقت پاپا سب کچھ مان لیں گے۔‘‘ وہ ماں سے راز داری سے بولی تو دونوں ہنسنے لگے۔
’’آپ زیادہ بی جمالو نہیں بنیں۔ ہمیں اپنی ٹرمز اور کنڈیشنز طے کرنی آتی ہیں۔‘‘ عدیل اس کے ریشمی بال بکھرا کر بولا۔
’’آپ خوش نہیں ہوں مما! ابھی مانیں نہیں … ہے نا مما؟‘‘ وہ جلدی سے بولی تو بشریٰ نے اثبات میں سرہلا دیا۔
’’تو پھر کیسے مانیں گی آپ کی مما؟‘‘ عدیل بشریٰ کو شریر نظروں سے دیکھ کر بولا۔
’’ہم تو جانتے ہیں، یہ کیسے مانیں گی۔‘‘
بشریٰ نے عدیل کو زور سے چٹکی کاٹی۔ اور مثال کو کھینچتے ہوئے لے جانے لگی۔
’’کچھ پتا نہیں کہ صبح اسکول بھی جانا ہے۔ دیر سے سوؤ گی تو اٹھو گی کیسے صبح؟‘‘
٭٭٭
’’آپ سچ کہہ رہی ہیں امی۔‘‘ عدیل ابھی آفس سے آیا تھا۔ بیگ رکھا ہی تھا کہ ماں کی بات سن کر بے یقینی سے دیکھنے لگا۔
’’لو تو اتنی بڑی بات میں کیا جھوٹ بولوں گی۔ بشری بیٹی! آ کر ذرا بتاؤ تو عدیل کو کہ آیا تھا نا۔ ابھی فوزیہ کی ساس کا فون؟‘‘
بشریٰ مسکراتے ہوئے کچن سے نکل کر آ گئی۔
’’جی! امی ٹھیک کہہ رہی ہیں عدیل۔ آنٹی تو اتنی بے قرار ہیں۔ ان کا بس نہیں چل رہا تھا کہ آج ہی بارات لے کر آ جائیں۔ امی نے جب انہیں فون کر کے بتایا کہ ہمیں آپ کا بیٹا بہت اچھا لگا ہے اور واقعی ظہیر میں ایسی کوئی بات ہے بھی نہیں کہ بندہ انکار کر سکتا۔ فیملی بھی اچھی ہے، جاب بھی ٹھیک ہے اس کی، پھر اپنی فوزیہ کا رشتہ اتنی چاہ سے مانگ رہے ہیں تو اور کیا چاہیے۔‘‘ آپ بتائیں کیا کہتے ہیں؟ بشریٰ ساس کے پاس جا کر بشاش لہجے میں بتانے لگی۔
عدیل کچھ متذبذب سا ہوا۔
’’کیوں عدیل! چپ کیوں ہو گئے؟‘‘ نسیم بیٹے کو دیکھ کر کچھ پریشان ہو کر بولی۔
’’نہیں امی! ایسی بات نہیں … اگر آپ کو یہ رشتہ پسند ہے …‘‘
’’تجھے پسند نہیں کیا؟ لڑکے کے بارے میں ساری معلومات بھی تو تو نے ہی کرائی ہیں۔‘‘ نسیم پریشان سی ہو گئیں۔
’’نہیں امی! وہ سب ٹھیک ہے، لیکن خالی نکاح کرنا … میرا مطلب تھا، ہماری تیاری ہے تو سہی … تو کیوں نہ انہیں کہیں کہ مہینے دو مہینے میں شادی رکھ لیتے ہیں۔‘‘ عدیل بیوی کی طرف دیکھ کر بولا۔ بشریٰ کی منشا بھی یہ ہی تھی کہ رخصتی بھی ہو جائے۔
’’میں نے بھی یہ ہی بات کی تھی تو نسرین بہن کہنے لگیں کہ انہیں گھر میں کنسٹرکشن کا کچھ کام کروانا ہے۔ اس میں کافی ٹائم لگے گا اور انہوں نے پہلے بھی بتایا تھا کہ ان کی نند اپنی بیٹی دینا چاہ رہی ہے اپنے بیٹے کو تو اس چخ چخ سے بچنے کے لیے وہ نکاح کرنا چاہ رہی ہیں۔‘‘ نسیم نے تفصیل سے بتایا۔
’’تو بس ٹھیک ہے، پھر آپ انہیں کہہ دیں اور بیٹھ کر نکاح کی کوئی تاریخ طے کر لیتے ہیں۔‘‘ عدیل سرہلا کر بولا۔
’’لا بشریٰ فون دے۔ میں انہیں بتا دوں۔ بے صبری سے انتظار کر رہی ہوں گی۔‘‘ نسیم فوراً ہی بولیں۔ بشریٰ نے اٹھ کر ساس کو فون دیا۔ وہ نمبر ملا کر بات کرنے لگیں۔ بشریٰ اور عدیل بھی وہیں بیٹھے رہے۔
٭٭٭
فوزیہ دلہن بنی بہت خوب صورت لگ رہی تھی۔ اگرچہ اس کے نقوش بہت عام سے تھے، مگر دلہناپے کا روپ تو عام سے چہرے کو بھی خاص بنا دیتا ہے نکاح ہوتے ہی سب ایک دوسرے کو مبارکباد دینے لگے۔ یوں بھی زیادہ لوگ نہیں تھے۔ صرف سترہ لوگ لڑکے والوں کی طرف سے اور ان کے بھی قریبی عزیز ہی مدعو تھے۔
ظہیر کو فوزیہ کے ساتھ لا کر بٹھا دیا گیا۔ سب دونوں کو دیکھنے لگے۔ بشریٰ ظہیر کو دیکھتے ہوئے کچھ ٹھٹک سی گئی۔
٭٭٭
اسے لگا اسے نے ظہیر کو پہلے بھی کہیں دیکھا ہے۔ کہیں بہت قریب سے … کہاں اسے بہت سوچنے پر بھی یاد نہیں آ رہا تھا۔
نکاح ہو چکا تھا۔ اب اسٹیج پر قریبی عزیزوں کے ساتھ تصویریں بنوائی جا رہی تھیں۔ بشریٰ کی طبیعت بوجھل سی تھی، شاید تھکاوٹ کی وجہ سے یا کچھ اور …
وہ سب سے ہٹ کر ایک طرف آ کر بیٹھ گئی۔
مثال سب کے درمیان خوش خوش پھر ہی تھی۔
بشریٰ اسے دیکھتے ہوئے خود بخود مسکرانے لگی۔ اس کی ساری تھکن جیسے اترنے لگی۔ اسی وقت عدیل نے بھی اسے دیکھا۔ وہ بشریٰ کو یوں بیٹھے دیکھ کر کچھ متفکر سا ہوا۔ بشریٰ ابھی تو فوزیہ کے ساتھ بیٹھی تصویر بنوا رہی تھی اور اب یوں سب سے الگ تھلگ!
وہ دوسرے ہی لمحے اس کے پاس آ کر فکر مند لہجے میں اس سے پوچھنے لگا۔
’تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے نا بشریٰ؟‘‘
’’ہاں ٹھیک ہوں۔ آپ کیوں آ گئے وہاں سے۔ امی خفا ہوں گی۔ سب کے درمیان جا کر بیٹھیں۔ اچھا نہیں لگتا، ہم دونوں ہی اس طرح الگ تھلگ ہو کر بیٹھ جائیں۔‘‘ بشریٰ کو فوراً نسیم بیگم کی متلاشی نظریں پریشان کرنے لگیں۔ وہ یقیناً بشریٰ اور عدیل کو تلاش کر رہی تھیں۔
’’فکر نہیں کرو میں ابھی وہیں سے تو آ رہا ہوں … تم مجھے کچھ ٹھیک نہیں لگ رہیں۔‘‘
’’ہاں! بس ایسے ہی طبیعت بوجھل سی ہو رہی تھی، شاید تھکاوٹ کی وجہ سے، وہ سر دبا کر تھکے تھکے لہجے میں بولی۔‘‘
’’تو تم جا کر آرام کرو۔ فنکشن تو تقریباً ختم ہی ہو گیا ہے۔‘‘ عدیل تشویش سے بولا۔ اسے بھی بشریٰ کا رنگ کچھ زرد سا لگ رہا تھا۔
’’کیسی باتیں کر رہے ہیں عدیل!‘‘ امی کا پتا ہے نا آپ کو۔ ابھی ہم دونوں کو غائب دیکھیں گی تو مہمانوں کا لحاظ کیے بغیر مجھے بولنا شروع ہو جائیں گی۔ پلیز جائیں آپ وہاں بیٹھیں سب کے درمیان بشریٰ کچھ گھبراہٹ سے بولی۔ نسیم اب واقعی متلاشی نظروں سے دونوں کو ادھر ادھر دیکھ رہی تھیں۔
عدیل نے بھی ماں کی طرف دیکھا تو گہرا سانس لے کر کھڑا ہو گیا۔
’’میں تو یہی کہہ رہا تھا امی سے کہ اچھا بھلا خرچ ہو گیا۔ اس سے تو اچھا تھا ساتھ ہی رخصتی کر دیتے۔ کیا فائدہ اتنا پیسہ لگا کر بھی شادی کی ساری رسومات اسی طرح سر پر کھڑی ہیں۔‘‘ عدیل کو واقعی کوفت ہو رہی تھی۔ نسیم بیگم نے دل کھول کر اس موقع پر خرچ کا تھا۔ کچھ یہی حال فوزیہ کا تھا۔
بشریٰ نے عدیل کے کہنے پر اپنے لیے نئے کپڑے نہیں بنوائے تھے۔ اس بار خرچ کو کنٹرول کرنا اس کے لیے بہت مشکل ہو رہا تھا۔
’’مثال سے بھی کہیں۔ اب کچھ دیر کو آرام سے بیٹھ جائے۔ مسلسل پھرے جا رہی ہے، تھک کر خدا نخواستہ کہیں بیمار نہ پڑ جائے۔‘‘ عدیل کو جاتے دیکھ کر بشریٰ پیچھے سے بولی۔
عدیل کچھ جواب دیے بغیر چلا گیا۔
بشریٰ ہولے ہولے اپنی کنپٹی دبانے لگی پھر سے اس کی نظریں ظہیر کے چہرے پر رک گئیں اور دوسرے لمحے وہ چونک کر رہ گئی۔
اسے یاد آ گیا تھا کہ اس نے ظہیر کو کہاں دیکھا تھا۔
نہ صرف دیکھا تھا اس کے ساتھ بشریٰ کا مختصر سہی تعلق بھی رہ چکا تھا۔
وہ ایک دم سے ٹھٹک کر رہ گئی تھی مگر اب اس کو یہ سب یاد آنا بے محل تھا اور بے فائدہ تھا۔ کاش اسے ذرا پہلے یاد آ جاتا۔
وہ یک ٹک ظہیر کو دیکھے جا رہی تھی۔
٭٭٭
عاصمہ تینوں بچوں کو ہوم ورک کرا رہی تھی۔ چھوٹی وردہ پاس ہی پرام میں بیٹھی غوں غاں کر رہی تھی جب فاروقی صاحب عفان کے ساتھ گلے میں پھولوں کے ہار ڈالے تمتماتے چہرے کے ساتھ کچھ تحائف لیے اندر داخل ہوئے۔
عفان نے ہاتھ میں پکڑی مٹھائی اور دوسرے تحفے ایک طرف میز پہ رکھے۔
’’آ گئے ابا جی!‘‘ عاصمہ مسکرا کر کھڑی ہو گئی۔
’’آ گئے … ایک لمبے سفر سے واپس۔‘‘ بظاہر مسکراتے ہوئے مگر مغموم سے لہجے میں فاروق صاحب نے کہا۔ چہرے پر مسکراہٹ کے باوجود ہلکی ہلکی اداسی آنکھوں میں ہلکورے لے رہی تھی۔
عفان بھی باپ کا ساتھ دینے کو ذرا سا مسکرایا۔
’’تو اچھا ہے نا اباجی! آزاد ہو گئے خواہ مخواہ کے آزار سے۔ اب اپنی مرضی سے اٹھیں گے۔ جی چاہا تو سوتے رہیں گے رات دیر تک اپنی پسند کے ٹاک شوز دیکھیں گے آزادی تو پھر آزادی ہوتی ہے۔‘‘ عاصمہ نے ان کو بہلانے کی کوشش کی۔
’’ہاں! یہ تو ہے۔‘‘
’’مما! دادا ابو کیا حج کر کے آئے ہیں؟‘‘ منجھلی اریشہ نے دادا کے گلے میں پڑے پھولوں کے ہاتھ دیکھ کر اشتیاق سے پوچھا۔
’’ان شاء اللہ میری جان! وہ بھی کرنے جائیں گے۔ ابھی تو سمجھو دنیا کے حج سے فارغ ہوئے ہیں۔‘‘ فاروق صاحب اریشہ کو پیار کر کے بولے۔
’’سب لوگ ابا جی کی تعریفیں کر رہے تھے۔ ابا جی کی ایمان داری اصول پسندی اور سب سے بڑھ کر وقت کی پابندی۔ ابا جی! آپ کو تو خوش ہونا چاہیے۔ آپ کی شاندار سروز کا سب نہ صرف اعتراف کر رہے تھے بلکہ یہ دیکھیں جو سب نے تحائف دیے ہیں اور تعریفی اسناد بھی۔‘‘ عفان نے باپ کو فخریہ نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا۔
’’دادا ابا! ان گفٹ پیکس میں کیا ہے؟‘‘ گیارہ سالہ واثق نے آگے بڑھ کر میز پر پڑے تحفوں کو دیکھتے ہوئے پوچھا۔
’’یہ دفتر کے کچھ دوستوں نے اپنے طور پر دیے ہیں اور کچھ سب نے مل کر۔‘‘ فاروق صاحب کا لہجہ اب تھکا تھکا سا تھا۔
’’عاصمہ! جلدی سے چائے لے آؤ بھئی۔ ابا جی تھک گئے ہیں۔ چائے پی کر کچھ دیر آرام کر لیں گے۔‘‘
’’نہیں بیٹی! چائے رہنے دو۔ ابھی کافی کچھ کھا کر آ رہے ہیں۔ میں کچھ دیر آرام کروں گا۔‘‘ فاروق صاحب اٹھ کر جانے لگے۔
’’دادا ابو! آپ کا سردبادوں؟‘‘ اریبہ دادا کا ہاتھ پکڑ کر معصومیت سے بولی۔
’’دادا کی جان! آپ پڑھو اگر ہمارے سر میں درد ہوا تو ہم اپنی گڑیا کو خود سے آواز دے لیں گے۔‘‘ وہ اسے جھک کر پیار کرنے لگے۔
اریبہ مسکرا کر پھر سے بیٹھ کر اپنا ہوم ورک کرنے لگی۔
’’ابا جی! کھانے میں کیا لیں گے؟ آج رات کو … کیا بنا لوں؟‘‘ عاصمہ پیچھے سے بولی۔
’’عفان سے پوچھ لو۔ مجھے تو شاید ہی بھوک لگے۔‘‘ فاروق صاحب کہہ کر باہر نکل گئے۔ دونوں کچھ دیر خاموش رہ گئے۔
’’یہ ابا جی کچھ زیادہ ہی اداس نہیں ہو رہے آج؟‘‘ عاصمہ آہستگی سے بولی۔
’’ظاہر ہے، اتنے سالوں کی روٹین ایک دم سے ختم ہو گئی۔ اداس تو ہوں گے ہی، خیر ہو جائیں گے آہستہ آہستہ عادی۔ تم مجھے تو ایک کپ چائے کا بنا دو۔‘‘ عفان واثق کی کاپیاں چیک کرنے لگا۔
’’عفان! ابا جی کو پنشن کتنی ملا کرے گی؟‘‘ عاصمہ جاتے ہوئے رک کر پوچھنے لگی۔
عفان فوری طور پر کچھ نہیں بول سکا۔
’’وہ ان کی تنخواہ سے اچھا خاصا گھر کا خرچ نکلتا تھا۔ تینوں بچوں کو اتنے اچھے سکولوں میں داخل کرا رکھا ہے ہم نے ورنہ اکیلے آپ کی تنخواہ میں کہاں گزارہ ہو گا۔‘‘ وہ اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بولی۔
’’پتا نہیں مجھے ٹھیک سے اندازہ نہیں ہے۔‘‘ عفان بتانا نہیں چاہ رہا تھا عاصمہ کو کچھ ایسا ہی لگا۔
’’پھر بھی کچھ تو اندازہ ہو گا۔‘‘ وہ اصرار سے بولی۔
’’یار! جاؤ تم چائے لے کر آؤ میرے لیے۔ سر میں درد ہے اب تم تحقیق شروع کر دو۔‘‘ عفان کچھ اکتا کر بولا تو عاصمہ مزید اصرار نہیں کر سکی۔
’’ہاں بھئی! کیسی جا رہی ہے اسٹڈیز آپ لوگوں کی۔‘‘ عفان تینوں کی کاپیاں چیک کرنے لگا۔
’’کہہ تو عاصمہ ٹھیک رہی ہے، ابا جی کی نوکری ختم ہونے سے فرق تو بہت پڑے گا۔‘‘
کاپیاں چیک کرتے ہوئے عفان رک کر سوچنے لگا۔
٭٭٭
بشریٰ کمرے میں آ کر بیٹھی ہی تھی کہ ذکیہ بھی آ گئیں۔ ابھی ابھی لڑکے والے رخصت ہو کر گئے تھے۔ فوزیہ اپنے کمرے میں کپڑے تبدیل کر رہی تھی مثال اس کے ساتھ تھی۔ بشریٰ تھوڑی کمر ٹکانے کے خیال سے کمرے میں آ گئی۔
’’لو دیکھو، یوں تو بڑی سیانی بنتی ہیں یہ نسیم بیگم اور رشتہ کہاں جوڑا بیٹی کا۔‘‘ ذکیہ بیڈ کے اوپر پیر رکھ کر ہولے ہولے اپنے پاؤں اپنے ہاتھوں سے دباتے ہوئے نخوت سے بولیں۔
بشریٰ نے چونک کر ماں کی طرف دیکھا۔
’’تو امی کو بھی یاد آ گیا۔‘‘ اس نے دل میں سوچا۔
’’تمہیں کچھ یاد نہیں آیا بشریٰ‘‘ وہ بشری کو خاموش بیٹھے دیکھ کر بولیں۔
’’کیا امی؟‘‘ وہ انجان بنتے ہوئے سرسری لہجے میں بولی۔
ذکیہ لمحہ بھر کو خاموش ہو گئیں جیسے بولنے کے لیے الفاظ کا انتخاب کر رہی ہوں۔
’’امی! ایک بات کہوں۔‘‘ بشریٰ نے ان کی خاموشی کو غنیمت جانتے ہوئے آہستہ آواز میں کہا۔
’’کون سی بات؟‘‘ ذکیہ کچھ چونکیں۔
’’اب تو نکاح ہو گیا ہے نا۔‘‘ بشریٰ ہولے سے بولی۔ ’’اچھا نہیں لگے گا اگر یہ سب۔ میرا مطلب ہے عدیل کی امی یا فوزیہ کو پتہ چلے گا، یوں بھی وہ تو ایک سرسری معاملہ تھا، کون سا کوئی ایسا رشتہ جڑا تھا ہمارا … پھر شاید عدیل کو بھی یہ بات اچھی نہ لگے۔‘‘ بشریٰ رک رک کر یوں بولی جیسے خود کو بھی سمجھا رہی ہو۔
’’اتنے سال گزر گئے۔ میں تو یہ حیران ہوں ظہیر۔ اس وقت بھی اس کی عمر کوئی ایسی کم تو نہ تھی۔ کون سا بیس بائیس کا تھا اس وقت بھی تیس پینتیس کا تو ہو گا اب تو۔‘‘ سوچتے ہوئے ذکیہ اپنی انگلیوں پر گننے لگیں۔
بشریٰ نے بے چینی سے پہلو بدلا۔ جانتی تھی۔ ماں کو اب روکنا یا خاموش کرانا آسان نہیں ہو گا۔
’’لو آٹھ سالوں میں تیس کا بھی رہا ہو کم سے کم تو اب اڑتیس، انتالیس کا سمجھو۔ یوں تو یہ فوزیہ بی بی بھی کم سن نہیں۔ کب سے نسیم بیگم اس کا رشتہ تلاش رہی تھیں اور دیکھو جوڑ کا ملا بھی تو کون؟‘‘ وہ ٹھٹھا سا لگا کر ہنسیں۔
بشریٰ نے ناگواری سے ماں کو دیکھا مگر ذکیہ کا دھیان تو اس کی طرف تھا ہی نہیں۔
’’جب تمہارے لیے یہ ظہیر کی ماں ہماری دہلیز اپنی جوتیوں سے گھس رہی تھی، اس وقت بھی مجھے یہ لوگ کچھ اتنا بھائے نہیں تھے پھر بھی اچھا گھر بار اور خاندان دیکھ کر میں نے ہامی بھر لی تھی مگر چند ہی دنوں میں جو انہوں نے پر پرزے نکالے، یاد ہے تمہیں وہ سب بشریٰ‘‘
ذکیہ جیسے صورت حال کا پورا تجزیہ کرنے پر تلی ہوئی تھیں مزا سا لے کر بولیں۔
’’امی! خدا کے لیے چپ ہو جائیں۔ گھر میں اس وقت مہمان اکٹھے ہیں جو کسی نے کچھ سن لیا تھا۔‘‘ بشریٰ دہل کر بولی۔
’’تو سن لے ایسا کون سا میں کوئی من گھڑت افسانہ سنا رہی ہوں۔‘‘ ذکیہ نڈر ہو کر بولیں۔
بشریٰ تلملا کر رہ گئی۔
’’آج امی کوئی نہ کوئی تماشا کروا کے جائیں گے۔‘‘ وہ بول بھی نہ سکی۔
’’آئے دن ان کا فرمائشی پروگرام چلنے لگا تھا اور دیکھو مزے کی بات ظہیر کی ماں یوں تو خاصی بھولی بھالی خود کو ظاہر کر رہی تھی نسیم بہن کے سامنے مگر مجھے دیکھتے ہی جیسے اس پر پانی سا پڑ گیا۔ دائیں بائیں دیکھنے لگی جیسے بھاگنے کو راستہ ڈھونڈ رہی ہو۔‘‘ خود ہی ہنسنے لگیں۔
’’اور بشریٰ! میں جو نسیم سے کچھ بول دیتی۔‘‘
’’امی! بس کر دیں خدا کے لیے۔ یوں بھی یہاں صرف رشتہ جڑنے والا سرسری معاملہ نہیں۔ باقاعدہ نکاح ہوا ہے اب اگر اس بات کی بھنک امی کو یا عدیل کو ہو گئی یا فوزیہ کو پتہ چل گیا۔ ظہیر، اس کی فیملی کو تو کیا کسی نے برا سمجھنا۔ الٹا میری شامت آ جائے گی کہ میری پہلے بھی کہیں منگنی ہوئی تھی اور ہم نے چھپایا۔‘‘ بشریٰ نے ماں کو سنگین حالات کا احساس دلانا چاہا۔
’’اے لو! منگنی کہاں تھی وہ۔ خالی منہ زبانی کی بات تھی اور بس۔ میں پہلے ہی ان کی بدنیتی کو جان گئی تھی تو …‘‘
’’امی! چائے پئیں گی آپ؟‘‘ بشریٰ کنپٹی دباتی کھڑی ہو گئی یوں تو ذکیہ بیگم کو چپ کرانا مشکل تھا۔ بشریٰ نے اٹھ کر چلے جانے میں ہی عافیت سمجھی۔
’’تم لیٹی رہو، تمہاری طبیعت کون سی اچھی ہے بلکہ میں تو کہتی ہوں عدیل کے ساتھ جا کر ڈاکٹر کو دکھا آؤ یا میں چلتی ہوں تمہارے ساتھ۔‘‘
’’نہیں! ٹھیک ہوں میں یوں بھی ابھی گھر میں مہمان ہیں۔ امی بولیں گی کہ کیسے کمرے میں گھس کر بیٹھ گئی، میں دیکھو ذرا باہر جا کر۔‘‘
’’بشریٰ دیکھنے بھالنے کا … نوکرانی تو نہیں ہو تم ان کی۔‘‘ ذکیہ پھر اپنی ناگواری چھپا نہ سکیں تو بولنے لگیں
’’امی! اپنے گھر میں کام کرنے سے کوئی نوکر نہیں بن جاتا۔‘‘ بشریٰ کو ماں کی بات اچھی نہیں لگی تو فوراً بول اٹھی۔
’’پھر عدیل میرے ساتھ اتنے اچھے ہیں۔ میرا اتنا خیال رکھتے ہیں، کبھی انہوں نے میری کسی خواہش کو رد نہیں کیا تو اگر میں ان کی ماں بہن کا خیال رکھتی ہوں یا گھر کے کام کر لیتی ہوں تو کیا فرق پڑتا ہے امی!‘‘ بشریٰ تحمل سے ماں کو سمجھانے والے انداز میں بولی اگرچہ جانتی تھی ذکیہ سے اس موضوع پر بات کرنا فضول ہے۔
’’تمہاری الٹی منطق۔ وہ ماں بیٹی تمہیں جوتی پر رکھیں اور تم ان کی دلداری کرتی رہو۔‘‘ وہ اسے اور اشتعال دلاتے بولیں۔
بشریٰ تاسف سے ماں کو دیکھتی باہر جانے لگی۔
’’ہاں امی! وہ جو لڑکی آپ کو پسند آئی تھی۔ شام میں مجھے دکھا رہی تھیں عمران کے لیے۔ کچھ اتا پتا لیا آپ نے اس کا۔‘‘ بشریٰ کو جاتے جاتے یاد آیا تو رک کر پوچھنے لگی۔
’’اونہوں دفع کرو اسی بہروپیے ظہیر کی خالہ زاد ہے بھئی۔ میں نے تو اس دو نمبر خاندان میں کوئی رشتہ نہیں جوڑنا۔ لڑکی تو خاصی تیز طرار تھی میرے اتا پتا پوچھنے پر ہی جھٹ سے سمجھ گئی۔ شرما شرما کر ادائیں دکھانے لگی۔ میں تو اٹھ کر آ گئی۔‘‘ ذکیہ نے تفصیلاً جواب دیا تو بشریٰ گہری سانس لے کر رہ گئی۔
’’اس طرح تو امی! عمران کا رشتہ ڈھونڈنا اور بھی مشکل ہوتا جائے گا۔ آخر کوئی نہ کوئی تو پسند کرنا ہو گی نا!‘‘
’’کوئی نہ کوئی کا یہ مطلب تھوڑی ہے کہ کسی کو بھی بہو بنا کر لے آؤں، جو دل کو، آنکھوں کو بھائے گی، اس کے بارے میں سوچیں گے تم ذرا فارغ ہولو تو میرے ساتھ چلنا۔ اس بار بوا نے جس لڑکی کا بتایا ہے وہ اچھے لوگ لگ رہے ہیں لڑکی بھی بہت خوب صورت ہے۔‘‘
’’آپ نے دیکھ لی لڑکی؟‘‘ بشریٰ نے کچھ اچنبھے سے پوچھا۔
’’نہیں! تمہارے بغیر تو نہیں دیکھ سکتی تھی نا۔ تصویر دکھائی تھی بوا نے۔ اچھی خاصی خوش شکل لڑکی ہے اور تو اور عمران کا بھی دل ٹک سا گیا تصویر دیکھ کر۔‘‘ وہ خوش ہو کر بولیں۔
’’چلیں یہ تو اچھا ہو گیا، میں فارغ ہوتی ہوں تو پھر چکر لگا آئیں گے اور ان لوگوں سے کہیے گا کہ زیادہ اہتمام نہ کریں۔ اچھا نہیں لگتا کہ صرف جا کر دیکھنا ہوتا ہے لڑکی کو اور اتنی مدارت کرائیں۔‘‘
’’لو یہ تو دنیا کا دستور ہے وہ الگ کرتے ہیں یاد نہیں تمہاری بار مجھے بھی ہر بار یونہی میز بھر کر سجانا پڑتی تھی۔ میں نے تو کبھی ناک منہ نہ چڑھایا اور نہ کسی لڑکے والے نے منع کیا تو پھر ہم کیوں کریں ایسا۔‘‘
بشریٰ تاسف بھری نظروں سے ماں کو دیکھ کر خاموشی سے باہر نکل گئی۔
٭٭٭
فاروق صاحب ٹیرس پر بیٹھے کوئی کتاب پڑھ رہے تھے۔ ان کے کمرے میں کتاب کی بڑی بڑی دو الماریاں تھیں۔ گورنمنٹ سروس میں رہنے کے باوجود انہیں کتاب بینی کا خصوصی شوق تھا۔
’’اباجی! کھانا تو کھالیں آ کر۔ کافی ٹائم ہو گیا ہے اب تو۔‘‘ عاصمہ نے آ کر نرمی سے کہا۔
انہوں نے مسکرا کر کتاب بند کرتے ہوئے عینک اتاری۔
’’آج تو جیسے ہر ذمہ داری سے آزاد ہو کر ہلکا پھلکا ہو گیا ہوں میں اور دل چاہ رہا ہے کسی بھی روٹین کی پابندی نہ کی جائے‘‘ وہ خوشی بھرے لہجے میں بولے۔
’’اباجی! کھانا تو آپ کو کھانا ہی پڑے گا کیونکہ عفان کو آپ جانتے ہیں، وہ آپ کے بغیر ایک لقمہ بھی نہیں لیں گے اور بچے بھی انتظار میں بیٹھے ہیں اب آپ آ ہی جائیں۔‘‘ عاصمہ ان کے ہاتھ سے کتاب لے کر الماری میں رکھتے ہوئے بولی۔
’’عاصمہ بیٹی! اسے الماری میں نہیں رکھو۔ میرے بیڈ کے سرہانے رکھو بہت دلچسپ کتاب ہے، رات میں یہی پڑھوں گا۔‘‘ وہ اسے ٹوک کر بولے۔
’’میں سوچ رہا تھا۔ گاؤں کا ایک چکر لگا‘‘
’’وہ کس لیے۔ ابھی تو موسم خاصا سرد ہے۔‘‘ عاصمہ بولی۔
وہ جیسے وجہ بتانے کے لیے کچھ سوچنے لگے۔
’’مجھے اسلم بھائی کا فون آیا تھا۔ ہماری زرعی زمین پچھلے دو سالوں سے سیم و تھور کا شکار ہو کر رہ گئی ہے بلکہ بے کار ہی سمجھو۔ وہ چاہ رہا تھا میں ایک چکر لگا لوں گاؤں کا، سڑک کے نزدیک ہونے کی وجہ سے اس زمین کے اچھے دام مل سکتے ہیں۔‘‘ وہ سوچ سوچ کر بولے۔
’’تو آپ زمین بیچ دیں گے؟‘‘ عاصمہ کچھ حیرانی سے بولی۔ فاروق صاحب کو اپنی اس آبائی زمین سے بہت پیار تھا۔
’’بیٹا! گورنمنٹ سروس میں رہتے ہوئے کوشش کے باوجود میں تم لوگوں کے لیے اپنا گھر نہیں بنا سکا۔ اب عفان کی جاب بھی کچھ اتنی شان دار نہیں کہ وہ یہ کام کر لے پھر ماشاء اللہ سے بچوں کے اخراجات ہیں اور مہنگائی دن بدن کم ہونے کے بجائے بڑھتی جا رہی ہے۔ ایسے میں گھر کہاں چلے گا اور یہ کرائے کا گھر جیسے یکم تاریخ بھاگی چلی آتی ہے۔‘‘
وہ رک رک کر گہری آواز میں بول رہے تھے۔
عاصمہ کو شک ہوا جیسے انہوں نے عاصمہ اور عفان کی پینشن والی بات سن لی ہو۔
’’یوں بھی وہ بنجر زمین تین چار سالوں سے ہمیں کچھ نہیں دے رہی بلکہ مجھے اسلم بھائی کہہ رہے تھے کہ کوئی خانہ بدوش کنبہ اس پر خیمے گاڑے پچھلے دو ماہ سے بیٹھا ہے، یہ نہ ہو کہ قبضہ ہی ہو جائے۔‘‘ وہ اٹھتے ہوئے بولے۔
اپنے گھر کی حسرت تو کوئی عاصمہ کے دل سے پوچھتا۔
عفان تو اتنے سالوں سے اسے سوائے اگلے سال، اگلے سال کے دلاسے کے اور کچھ نہیں دے سکا تھا مگر ابا جی جتنے مزاج اور طبیعت کے اچھے تھے۔ دل کے بھی اتنے ہی اچھے تھے بلکہ عاصمہ کے مزاج اور خواہش کو جتنا وہ سمجھتے تھے، اتنا تو عفان بھی نہ سمجھ سکا تھا۔
’’پھر تو ابا جی! آپ کو وہ زمین نکال ہی دینی چاہیے، یہ نہ ہو کوئی قبضہ گروپ قابض ہو کر بیٹھ جائے تو پھر مسئلہ ہو جائے۔‘‘ وہ خوش ہو کر بولی۔
’’میں بھی یہی سوچ رہا ہوں۔‘‘ وہ سر ہلا کر بولے۔
’’اور ادھر بھی کسی ڈیلر سے کہہ چھوڑیں۔ کوئی اچھا سا گھر مناسب دام میں نظر رکھے۔‘‘ عاصمہ زیادہ دیر اپنے دل کی بے چینی کو چھپا نہیں سکی تھی، بول پڑی۔
’’جانتا ہوں۔ میری بیٹی کو اپنے گھر کی کتنی خواہش ہے بلکہ مجھے تو دکھ ہوتا ہے کہ ہم تمہیں اپنی چھت بھی نہ دے سکے۔ ہر لڑکی کے دل کی خوشی ہوتی ہے اور تم اتنے سالوں میں بھی اس سے محروم رہی ہو۔‘‘
’’اونہوں ابا جی! میں خوش ہوں بہت۔ آپ بہت اچھے ہیں، عفان اتنا خیال رکھتے ہیں۔ اللہ نے اتنے پیارے پیارے بچے دیے ہیں اور ایک آدھ کمی تو ہر ایک کی زندگی میں ہوتی ہی ہے نا۔ ان شاء اللہ وہ بھی دور ہو جائے گی آپ پریشان نہیں ہوں۔‘‘ وہ باپ جیسی شفقت رکھنے والے فاروق صاحب کو دیکھتے ہوئے نرمی سے بولی۔
’’اللہ تمہیں خوش رکھے میری بچی! میں دو تین دن میں گاؤں جا رہا ہوں وہاں جو بھی صورت حال ہو گی، دیکھ کر عفان کو بلا لوں گا اگر زمین کے اچھے دام مل رہے ہوئے تو پھر ہم دیر نہیں کریں گے اور واپس آتے ہی ان شاء اللہ گھر لے لیں گے۔ صبح ہی الیاس ایجنٹ سے گھر کے لیے بھی بولتا ہوں۔‘‘ وہ جلدی جلدی سے بولے جیسے انہیں یہ سب کہنے کے لیے اپنی ریٹائرمنٹ کے دن کا ہی انتظار تھا۔ عاصمہ کا دل لمحہ بھر کو خوف زدہ سا ہوا۔
’’ابا جی یہ سب کچھ اتنی جلدی جلدی کرنا چاہ رہے ہیں۔ کہیں خدا نخواستہ وہ ہم سے بچھڑنے والے تو نہیں … اللہ نہ کرے۔‘‘ وہ خود ہی دہلتی باہر نکل گئی۔
٭٭٭
’’امی! مجھے تو حنا بہت پسند آئی ہے۔ اور عمران کے ساتھ جچے گی بھی خوب۔‘‘ بشریٰ عمران کو دیکھتے ہوئے مسکرا کر بولی۔
ذکیہ تیز نظروں سے بشریٰ کو دیکھنے لگیں۔
’’کیا ہوا امی ایسے کیوں دیکھ رہی ہیں؟‘‘ بشریٰ کچھ ڈر کر بولی۔
’’عمران تم سے کتنی محبت کرتا ہے۔ جانتی ہو نا بشریٰ‘‘
’’امی!‘‘ بشریٰ پریشان ہو گئی۔
’’قد دیکھا تھا تم نے اس حنا بیگم کا۔‘‘
’’امی! اتنا بھی چھوٹا نہیں تھا۔‘‘ بشریٰ دبے لہجے میں بولی جبکہ عمران کا یہ سنتے ہی موڈ آف سا ہو گیا تھا۔ اس نے ناگواری سے منہ ٹی وی کی طرف پھیر لیا تھا۔
’’دیکھو بشریٰ اب تم ڈنڈی مار رہی ہو۔ وہ ناٹی سی، چھوٹی سی لڑکی بھلا کیا جچے گی اپنے عمران کے ساتھ۔ کہاں میرا گبرو عمران اور کہاں وہ۔ بس رہنے دو۔ یوں تعریفیں کر کے میرا جی نہیں جلاؤ۔‘‘
ذکیہ بیگم نے گویا بات ہی ختم کر دی۔
بشریٰ کو ایک دم سے ڈھیر سارا غصہ آ گیا۔
’’اب ایسی بھی کیا خود غرضی اگر ان کی اپنی بیٹی کا اللہ نے اچھی جگہ رشتہ کر دیا ہے تو وہ کسی اور کی بیٹی کا ہونے ہی نہیں دیں گی۔‘‘
’’امی! اگر آپ اس طرح لڑکیاں ری جیکٹ کرتی رہیں تو پھر خدا نخواستہ عمران کی شادی کیسے ہو گی۔ میرا مطلب ہے۔‘‘
’’تمہارے کہنے کا مطلب ہے کہ میں اپنے بچے کا گھر نہیں بسانا چاہتی۔‘‘ وہ فوراً بولیں۔
’’خدا کے لیے امی! اب میری بات کا الٹا سیدھا مطلب مت نکالیے گا دو تین سال سے ہم لڑکیاں دیکھ رہے ہیں اور سچی بات ہے مجھے تو اب آئے روز گھر گھر جا کر یوں لڑکیاں دیکھنا بہت برا لگ رہا ہے۔‘‘
’’تو ٹھیک ہے تم اگلی بار مت جانا۔ یہ بڑھیا جو ہے خوار ہونے کے لیے۔ گھٹنے گھسانے کے لیے۔‘‘ ذکیہ برا مان کر بولیں۔
بشریٰ بے بسی سے عمران کو دیکھ کر رہ گئی۔
’’عمران! میں تمہارے لیے چائے لاؤں۔‘‘ وہ اٹھ کر جانے لگی تو اسے بے اختیار چکر سا آ گیا۔ اس نے سنبھلنے کے لیے دیوار کا سہارا لیا۔
’’کیا بات ہے بشریٰ تم ٹھیک تو ہو نا؟‘‘ ذکیہ دیکھ رہی تھیں۔ فوراً سے بولیں۔
’’ٹھیک ہو امی! ویسے ہی چکر سا آ گیا تھا آپ پئیں گی چائے؟‘‘
’’تم رہنے دو، میں آواز دیتی ہوں پروین کو، وہ بنا دے گی۔‘‘ ذکیہ نے اسے بیٹھنے کو کہا۔
’’اور تم گئیں نہیں ڈاکٹر کو دکھانے۔ میں نے تمہیں اس روز بھی کہا تھا۔‘‘
’’امی! میں ٹھیک ہوں۔ یونہی ویک نیس ہے اور یہ مثال کہاں ہے عمران؟‘‘
’’کمرے میں گیم کھیل رہی تھی کمپیوٹر میں۔‘‘
’’میں پروین کو چائے کا کہہ آتی ہوں۔ خود سے تو اس پروین کو ہوش نہیں کہ آ کر چائے پانی کا پوچھ لے کسی سے۔‘‘ ذکیہ بولتی ہوئی باہر نکل گئیں۔
بشریٰ عمران کو دیکھنے لگی۔
’’عمران! تم امی کو سمجھاؤنا۔‘‘ عمران کے متوجہ نہ ہونے پر اسے کہنا پڑا۔
’’کیا … کیا سمجھاؤں؟‘‘ عمران چونک کر بولا۔
’’اچھی بھلی تھی لڑکی جو ہم ابھی دیکھ کر آئے ہیں۔ پتا نہیں امی کسی ایک ذرا سی بات پر بھی کمپرومائز نہیں کر رہیں، ایسے تو نہیں ہوتا نا کہ آدمی کو سب کچھ ہی مکمل اور بے عیب ملے۔‘‘ بشری سمجھانے والے انداز میں بولی۔
’’مگر آپی! اب امی بھی تو غلط نہیں ہیں نا!‘‘ عمران کچھ ناگواری سے بولا۔
’’کیا مطلب؟‘‘
’’آپ ساتھ گئی تھیں۔ معلوم تو ہے آپ کو کہ لڑکی کا قد چھوٹا ہے تو پھر بھی۔‘‘ وہ جتا کر بولا تو بشریٰ کو بہت برا لگا اور وہ فوراً کہہ بھی نہ سکی کہ اگر یہ سب میں میخ تمہاری بہن میں نکالی جاتی تو۔
’’ایسا چھوٹا قد نہیں تھا حنا کا۔‘‘ وہ ذرا دیر بعد پھر سے ہمت نہ ہارتے ہوئے بولی۔
’’آپی! میں سب کچھ برداشت کر سکتا ہوں، مگر مجھ سے ٹھگنی لڑکیاں برداشت نہیں ہوتیں۔ رئیلی یوں جیسے زمین پر کچھ تلاش کر رہی ہوں ابھی جھک کر ڈھونڈنے لگیں اور پھر میرے ساتھ۔ آپ نے میری ہائیٹ کو دیکھا ہے نا … سوری امی کا اوبجیکشن صحیح سا ہے۔‘‘
عمران نے صفحہ ہی لپیٹ دیا۔ بشریٰ اپنے غصے کو دبا کر بیٹھ گئی۔
’’مثال کو بلاؤ اور مجھے گھر چھوڑ آؤ۔‘‘ وہ کچھ دیر بعد بیزاری سے بولی۔
’’رات کو چلی جائیے گا کھانا کھا کر۔‘‘ وہ بے نیازی سے بولا۔
’’نہیں! میں گھر میں کہہ کر آئی ہوں۔ شام میں آ جاؤں گی۔ خواہ مخواہ امی ناراض ہوں گی۔ میں دیکھتی ہوں مثال کو۔‘‘ وہ اٹھ کر چلی گئی۔
٭٭٭
’’عفان! مجھے یقین نہیں آ رہا قسم سے۔‘‘ عاصمہ خوشی سے بے قابو ہوتے لہجے میں بولی۔
’’بھئی ابھی تم اتنی خوش نہیں ہو، ابھی تو مجھے گاؤں جانے دو پھر وہاں جا کر پتا چلے گا کہ کتنے میں بھاؤ طے ہوا ہے زمین کا۔ کہیں ابا جی یوں ہی کوڑیوں کے مول تو نہیں پھینک رہے سب کچھ، جبکہ وہ زمین سڑک کے کنارے ہے اب تو۔‘‘ عفان اپنا ضروری سامان سوٹ کیس میں رکھتے ہوئے بولا۔
’’نہیں! ابا جی ایسے نا تجربہ کار تو نہیں اور پھر زمین داری کا جتنا تجربہ انہیں ہے اتنا تو آ پکو بھی نہیں۔‘‘ عاصمہ وثوق سے بولی۔
’’چلو دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔‘‘ عفان موضوع سمیٹتے ہوئے بولا۔
’’ویسے بائی دا وے ہماری بیگم صاحبہ اتنی خوش کیوں ہیں اس زمین کے بکنے پر۔ پوچھ سکتا ہوں۔‘‘ عفان اسے شوخ نظروں سے دیکھ کر بولا۔
’’خیر یہ تو آپ جانتے ہیں۔ انجان بن رہے ہیں تو الگ بات ہے۔‘‘ وہ بھی کچھ شوخی سے بولی۔
’’عاصمہ! میں بہت شرمندہ ہوں تم سے۔‘‘ عفان ایک دم سنجیدہ ہو کر بولا۔ عاصمہ کچھ پریشان سی ہو گئی۔
’’کیا ہو گیا ہے عفان! سفر پر جاتے ہوئے ایسی باتیں کیوں کر رہے ہیں اور خدا نخواستہ آپ مجھ سے کیوں شرمندہ ہونے لگے‘‘ وہ عفان کا ہاتھ تھام کر فکر مندی سے بولی۔ دونوں میں شادی کے اتنے سالوں بعد پیار و محبت کوئی جتانے والی چیز نہیں رہ گئی تھی مگر پھر بھی دونوں کے دل ایک ہی انداز میں سوچتے، ایک ہی انداز میں دھڑکتے تھے اور دونوں کو اس کی خبر بھی تھی۔
’’تمہیں شادی کے بارہ سالوں میں بھی اپنی چھت نہیں لے کر دے سکا۔‘‘ عفان گہری آواز میں بولا۔
’’عفان پلیز۔ ایسی باتیں نہیں کریں۔ گھر تو وہ ہوتا ہے جس میں لوگ محبت پیار سے رہیں خواہ وہ اپنا ہو یا کرائے کا۔ اتنے سالوں میں آپ نے، ابا جی نے مجھے جتنی محبت، پیار، توجہ دی یقین جانیں اس دوران تین بار گھر بدلے مجھے کبھی اس محرومی کا احساس نہیں ہوا۔ ہم سب اکٹھے ہیں ایک دوسرے کے ساتھ ہیں۔ ایک دوسرے کے احساسات کو سمجھتے ہیں۔ اس سے بڑھ کر گھر کو جوڑنے والے اور کیا جذبات ہوتے ہیں۔‘‘ وہ جذباتی لہجے میں بولی۔ عفان اسے تشکر بھری نظروں سے دیکھ کر رہ گیا۔
’’آپ نے ڈیلر سے گھر دیکھ دیکھنے کے لیے کہہ دیا ہے نا؟‘‘ اسے پھر سے یاد آیا تو مشتاق لہجے میں پوچھنے لگی۔
’’پگلی! پہلے کچھ رقم ہاتھ میں تو آ جائے پھر گھر بھی دیکھ لیں گے۔ پیسے جیب میں ہوں گے تو گھر تو ہم مہینہ بھر میں خرید لیں گے ان شاء اللہ‘‘ عفان اسے پیار بھری نظروں سے دیکھ کر بولا۔
’’پتا ہے عفان مجھے پرانے گھر، پرانی کوٹھیاں جن کے برآمدوں کے باہر بیلیں ہوں یا اونچے اونچے درخت بہت اچھتے لگتے ہیں۔‘‘ وہ کھوئے ہوئے لہجے میں بولی۔
’’پرانے گھر … ہم کیا پرانا گھر خریدیں گے … اور بھئی عورتوں کو تو چمکتی ٹائلوں اور پھسلتے پتھروں والے نئے گھر اچھے لگتے ہیں تمہاری الٹی منطق ہے۔‘‘ وہ ہنس کر بولا۔
’’پتا ہے عفان! پرانے گھر دیکھ کر پتا چلتا ہے، اس گھر کے مکین اس سے کتنی محبت کرتے ہیں کہ وہ اسے بیچنے کا ارادہ نہیں رکھتے اور ان کے گھر کے پتے بھی بار بار نہیں بدلتے۔‘‘ وہ آنکھوں میں آتی نمی کو صاف چھپا کر بولی۔
عفان اسے دیکھ کر رہ گیا۔
’’اور ابھی تم کہہ رہی تھیں کہ کرائے کے گھر بدلنے سے تمہیں کچھ فرق نہیں پڑتا‘‘ وہ اس کے کندھوں پر ہاتھ جما کر بولا۔
’’آپ کو دیر نہیں ہو رہی، ابا جی انتظار کر رہے ہوں گے۔‘‘ وہ کچھ جھینپ کر بولی۔ وہ اسے محبت بھری نظر سے دیکھتا رہا۔
’’بچوں کا بہت خیال رکھنا عاصمہ!‘‘ وہ اسے دیکھتے ہوئے بولا۔
’’آپ صرف تین دن کے لیے جا رہے ہیں خدا نخواستہ سال بھر کے لیے تو نہیں۔‘‘ وہ جتا کر بولی۔
’’کیوں، تمہیں اچھا نہیں لگ رہا کہ ہم اتنے عرصے کے بعد یوں فرصت سے ایک دوسرے کے اتنے قریب کھڑے ہیں۔‘‘ وہ اسی طرح بہت مشتاق نظروں سے اسے دیکھے جا رہا تھا۔
’’ماشاء اللہ کیا فرصت ہے، جناب کو سفر پر روانہ ہونا ہے۔ بھول رہے ہیں۔‘‘ عاصمہ چھیڑ کر بولی۔
’’ہاں یار! نکلتا ہوں اب ورنہ راستے میں رات ہو جائے گی۔ ابا جی نے تاکید سے کہا تھا کہ دن کی روشنی میں گاؤں آ جاؤں تو اچھا ہے۔‘‘ عفان کو بھی دیر ہو جانے کا احساس ہوا تو گہرا سانس لے کر سوٹ کیس اٹھا کر باہر کی طرف چل پڑا۔
عاصمہ بھی اس کے ساتھ باہر کی طرف بڑھ گئی۔ دونوں باتیں کرتے ہوئے جا رہے تھے۔ عاصمہ دروازے سے باہر دور تک انہیں جاتا دیکھتی رہی۔
٭٭٭
’’فوزیہ! ایسے کیوں پڑی ہو اور یہ تصویریں یوں کیوں پھینک رکھی ہیں سنبھال کر انہیں البم میں لگا دینا تھا نا‘‘ نسیم کمرے میں آئیں تو فوزیہ کو بیڈ پر آڑے ترچھے لیٹے دیکھ کر کچھ خفگی سے بولیں۔
نکاح کی تصویریں ادھر ادھر بکھری ہوئی تھیں۔ وہ ایک ایک کر کے تصویریں اکٹھا کرنے لگیں۔
فوزیہ اسی طرح بے حس پڑی رہی۔
’’کیا ہوا ایسے کیوں لیٹی ہو؟‘‘ نسیم کچھ تشویش سے بولیں۔
’’یونہی!‘‘ فوزیہ بے دلی سے بولی۔
نسیم کچھ جانچتی نظروں سے بیٹی کو دیکھنے لگیں اور پھر تصویریں ایک ایک کر کے دیکھنے لگیں۔
’’میری بیٹی حور لگ رہی ہے۔‘‘ وہ پیار سے تصویریں دیکھ کر بولیں۔
’’حور کی بغل میں لنگور‘‘ فوزیہ اونچی آواز میں بڑبڑائی۔
نسیم بیگم بری طرح سے چونک کر اسے دیکھنے لگیں۔
’’کیا ہو گیا ہے تمہیں۔ ایسے کیوں بول رہی ہو۔‘‘ وہ کچھ ناراضی سے بولیں ’’اچھی بھلی تو ہیں۔ ماشاء اللہ ظہیر اچھا تو لگ رہا ہے اتنا۔‘‘
’’انکل ظہیر بولیں تو زیادہ صحیح رہے گا۔‘‘ فوزیہ بھرائے ہوئے لہجے میں جیسے پھٹ کر بولی۔
نسیم بیگم جیسے بری طرح سے چونکیں۔
’’کیا بک رہی ہو۔‘‘ غصے میں یہی نکل سکا منہ سے۔
’’میں نہیں۔ وہ ارم کہہ کر گئی ہے۔ خوب میرا ریکارڈ لگا رہی تھی اور مذاق بھی۔‘‘
’’دماغ خراب ہو گیا ہے اس ارم کی بچی کا۔ خود کا تین جگہ رشتہ ٹوٹ چکا ہے ہو ہو کر … ایسی حور تھی تو اس کے نصیب میں تو یہ ماڈل بھی نہ ہوا … اے فوزیہ تو ایسے کچے کانوں کی کب سے ہونے لگی، جو جس نے کہا مان کر دل برا کر کے بیٹھ گئی۔ پاگل ہوئی ہے کیا۔ میری طرف دیکھ ذرا‘‘ نسیم اس کی دلجوئی کرنے کو آخر میں ذرا نرم لہجے میں بولیں۔
’’امی! اس وقت مجھے کوئی بات نہیں کرنی۔ بس آپ جائیں۔‘‘ فوزیہ ماں کا ہاتھ جھٹک کر بولی۔
نسیم کا جی تو چاہا کھینچ کر اسے ایک تھپڑ لگائیں۔ خدا خدا کر کے بیٹی کو رخصت کرنے کی کوئی صورت بنی تھی اور یہ ناشکری؟
’’پاگل ہو گئی ہے کیا اور تو اتنا بھی نہیں سمجھتی کمبخت وہ جلتی ہے تجھ سے، اور وہ رشتے والی نسرین بتا رہی تھی مجھے کہ اس نے تو ارم کی ماں کو صاف جواب دے دیا ہے کہ اب وہ ارم کے لیے کوئی رشتہ نہیں لائے گی۔ سارے میں تو مشہور ہو گئی ہے۔ اس کی تین بار منگنی ٹوٹ چکی ہے اب وہ دل کے پھپھولے یہ تصویریں دیکھ کر نہیں پھوڑے گی تو اور کیا کرے گی اور تو اس کی باتوں میں آ گئی ہے۔‘‘ نسیم بولتے ہی بیٹی کو بہلانے لگیں فوزیہ اس بار کچھ نہ بولی۔ یوں جیسے ماں کی بات اس کے دل کو لگی ہو۔
اس نے سیدھے ہو کر ماں کو دیکھا۔
تصویریں اس کے آگے کرتے پھر سے دکھاتے ہوئے نسیم کی آنکھوں میں فخر سا تھا۔
’’دیکھ تو کیسے چاند سورج کی جوڑی ہے جو دیکھے گا کمبخت حسد، حرص سے جل مرے گا بڑی ہی ناشکری ہے فوزیہ تو …‘‘ نسیم بیٹی کو سمجھاتے ہوئے اس کے جذباتی پن کو نشانہ بنا رہی تھیں۔
کن اکھیوں سے تصویروں کو دیکھتی فوزیہ کو بھی ظہیر اتنی عمر کا تو نہیں لگا جتنا کمبخت یہ ارم بول رہی تھی۔
’’انہیں ترتیب سے البم میں رکھ اور اب کوئی ضرورت نہیں ان حسد کی ماری سہیلیوں کو دکھانے کی۔ ایسا مہنگا جوڑا۔ اتنا اچھا سونے کا بھاری سیٹ نکاح میں اتنا کچھ لے کر آئے سسرال والے تو کیا شادی میں کم کریں گے اب نہ کوئی الٹی سیدھی بات سوچنا۔ میں دیکھو جا کر کچن میں بشریٰ نے کھانا بنا لیا یا نواب زادی پلنگ توڑ رہی ہے۔‘‘ وہ کہتے ہوئے باہر نکل گئیں فوزیہ بڑے پیار سے تصویریں البم میں لگانے لگی اور رک رک کر بار بار ظہیر کی تصویروں کی طرف بھی دیکھتی جاتی تھی، خود بخود اس کے دل میں انوکھے جذبے بیدار ہونے لگے تھے۔
٭٭٭
’’ارے صحیح کہہ رہے ہیں آپ!‘‘ بشریٰ بے یقینی سے عدیل کی طرف دیکھنے لگی۔
’’لو اب اس میں جھوٹ کیا ہو گا بھلا۔‘‘ وہ دل نشیں مسکراہٹ سے بولا۔
’’کتنے دنوں کے لیے جائیں گے؟‘‘ بشریٰ خوش ہو کر بولی۔
’’ایک ہفتے کے لیے‘‘ عدیل مسکرا کر بولا۔
’’رئیلی! مجھے ابھی بھی یقین نہیں آ رہا عدیل!‘‘ وہ بے تحاشا خوش تھی۔
’’یار! لگی بندھی روٹین سے دل بیزار ہو گیا تھا۔ بس کافی دنوں سے دل چاہ رہا تھا کہ کہیں آؤٹنگ پر چلا جائے۔ مثال کے ایگزام بھی ہو گئے ہیں فوزیہ کا مسئلہ بھی حل سمجھو، دو تین ماہ میں اس کی شادی ہو جائے گی، تو پھر ہمارا نکلنا بہت مشکل ہو جائے گا گھر سے۔‘‘
’’آپ کتنے اچھے ہیں عدیل!‘‘ وہ بہت خوش تھی۔ اتنے عرصے کے بعد وہ دونوں اکٹھے کہیں آؤٹ اسٹیشن جا رہے تھے۔
’’امی مان جائیں گی؟‘‘ اسے وسوسہ ستایا۔
’’میں نے ان سے بات کر لی ہے۔‘‘
’’کیا … واقعی؟‘‘ عدیل تو اسے آج حیران ہی کیے جا رہا تھا۔
’’ہاں یار! میں نے یہی سوچا تھا کہ میں تمہیں سرپرائز بعد میں دوں گا اور اس سرپرائز کا مزہ بھی تب ہی آتا جب امی سے میں اجازت لے چکا ہوتا ورنہ ان کے انکار پر تو کوئی فائدہ نہیں تھا تمہیں بتانے کا۔ خواہ مخواہ ہم دونوں میں جھگڑا ہو جاتا۔‘‘ عدیل اسے تفصیل بتانے لگا۔
’’ارے واہ! آپ تو بہت عقل مند ہو گئے ہیں۔‘‘ وہ خوش ہو کر بولی۔
’’دیکھ لو، پھر بھی تم کہتی ہو کہ مجھے تمہارا خیال نہیں۔‘‘
’’عدیل! کبھی کبھی مجھے ڈر لگتا ہے۔‘‘ وہ رک کر بولی۔
’’اب کس بات سے ڈر لگتا ہے میں تو سمجھ رہا تھا، آج کل تم سے زیادہ خوش اور کوئی ہو ہی نہیں سکتا۔‘‘
’’کیا مطلب … وہ کس لیے؟‘‘ بشریٰ ناسمجھی سے بولی۔
’’بھئی فوزیہ کا رشتہ ہو جانے سے تم جتنی خوش ہو، اتنی تو شاید فوزیہ بھی نہیں ہو گی۔‘‘ وہ اسے چھیڑ کر بولا۔
’’آپ جو مرضی آج بول لیں، میرا لڑنے کا کوئی موڈ نہیں ہے۔‘‘ عدیل اس کی بات پر ہنس پڑا۔
بشریٰ محبت پاش نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔ اتنے دنوں بعد دونوں اتنے خوشگوار موڈ میں یوں بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔
درمیان میں سوئی مثال نے باپ کے قہقہے کی آواز پر ذرا سی آنکھیں کھول کر دونوں کو دیکھا۔ انہیں خوش دیکھ کر پھر سے آنکھیں موندتے ہوئے عدیل کی کمر کے گرد اپنے بازو لپیٹ دیے۔
وہ بھی اسے جھک کر پیار کرنے لگا۔
’’اور مثال کتنا خوش ہو گی جب صبح صبح اسے پتا چلے گا کہ ہم اسلام آباد اور مری جا رہے ہیں۔‘‘ بشریٰ بیٹی کو دیکھ کر بولی۔
’’اور تم مجھ سے شرط لگالو، یہ دادی اماں ابھی بھی جاگ رہی ہے۔‘‘
’’جی نہیں مثال سورہی ہے‘‘ بشریٰ اسے سوتے دیکھ کر بولی۔
’’مثال جاگ رہی ہے جانو! آپ جاگ رہی ہو نا!‘‘
’’نہیں بابا … میں سورہی ہوں‘‘ وہ اسی طرح آنکھیں بند کیے بولی تو دونوں ہنس پڑے۔
’’اور پلیز، تم کل تک ساری پیکنگ کر لینا۔ پرسوں ارلی مارننگ ہمیں نکلنا ہے، مطلب رات کو جلدی سونا ہے۔‘‘ عدیل اسے تاکید کرتے بولا۔
’’عدیل! مجھے اپنی اور مثال کی تھوڑی بہت شاپنگ تو کرنا ہو گی۔ ادھر تو آج کل سنو فال ہو رہی ہے نا۔‘‘
’’میں شام میں آؤں گا آفس سے تو لے چلوں گا شاپنگ کے لیے۔ تم باقی کی پیکنگ کر لینا۔‘‘
’’ہاں! وہ میں کر لوں گی اس کی آپ فکر نہ کریں۔‘‘
’’بشریٰ وہ عمران کے رشتے کا کیا بنا بھئی۔ تم تو لڑکی کو پسند کر آئی تھیں نا۔‘‘
’’ہوں کچھ بھی نہیں امی اور عمران کو لڑکی کا قد چھوٹا لگا۔‘‘ بشریٰ کچھ افسردگی سے بولی۔
’’اور مجھے بالکل اچھا نہیں لگا۔ پتا نہیں کیوں پہلے لوگ مجھے ریجیکٹ کرتے تھے تو امی بہت دکھی ہوتی تھیں مگر اب بیٹے کے لیے وہ دوہرا معیار اپنائے ہوئے ہیں۔ بہت دل برا ہوا میرا اس بار، شاید اسلیے کہ میں خود ایک بیٹی کی ماں ہوں۔‘‘ وہ مثال کو پیار کرتے ہوئے افسردگی سے بولی۔
’’ہماری مثال کی قسمت تو ان شاء اللہ اتنی خوب صورت ہو گی کہ لوگ مثال دیں گے کہ ان کی بیٹیوں کی قسمت بھی مثال جیسی ہو۔‘‘ عدیل فخر سے بولا تو بشریٰ نے آہستگی سے آمین کہتے ہوئے ایک بار پھر گہری نیند سوتی مثال کو پیار کیا۔
دونوں اس کی نیند خراب نہ ہونے کے خیال سے آہستہ آواز میں باتیں کرنے لگیں۔
٭٭٭
’’مبارک ہو عاصمہ! زمین کا سودا ہو گیا ہے اور ہمیں کل پیمنٹ ہو جائے گی۔‘‘ عفان نے فون پر عاصمہ کو خوش خبری سنائی تو اسے جیسے کانوں پر یقین ہی نہیں آیا۔
’’آپ سچ کہہ رہے ہیں عفان؟‘‘
’’لو ابا جی سے خود بات کر لو۔ تمہیں یقین آ جائے گا پھر تو‘‘
عفان نے فون ابا جی کو تھما دیا۔
اور عاصمہ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ مارے خوشی کے اس سے کچھ بولا ہی نہ گیا۔
ابا جی نے خود ہی اسے سب کچھ بتا کر فون بند کر دیا۔
اور وہ کتنی دیر تک اپنے جذبات پر قابو پانے کی کوشش کرتی رہی۔
’’اب ہمارا اپنا ایک ذاتی گھر ہو گا۔ میرا اپنا گھر۔ میرے بچوں کا گھر … گھر کے باہر میں خوب صورت سی نیم پلیٹ لگواؤں گی جس پر ابا جی کا اور عفان کا نام لکھا ہو گا اور نیچے چھوٹا سا واثق بھی لکھا ہو گا۔‘‘
سوچتے سوچتے اس کی آنکھوں میں آنسوآتے چلے جا رہے تھے۔ وہ بار بار آنکھیں صاف کر رہی تھی۔
’’مما! کیوں رو رہی ہیں آپ؟‘‘ واثق ابھی کرکٹ کھیل کر آیا تھا، ماں کو روتے دیکھ کر پریشان سا ہو گیا۔
’’میری جان! یہ تو خوشی کے آنسو ہیں؟‘‘ وہ بے اختیار واثق کو ساتھ لپٹا کر بولی۔
’’کیا مطلب؟‘‘ وہ کچھ بھی نہ سمجھ سکا۔
’’تمہارا دادا کی زمین تھی نا۔ اس کا سودا ہو گیا ہے۔‘‘ وہ خوشی سے کانپتی آواز میں بولی۔
’’تو پھر … کیا ملا؟‘‘ وہ ابھی بھی کچھ نہیں سمجھ سکا تھا۔
’’میری جان! اب ہم اپنا گھر لیں گے۔ اپنا خوب صورت سا گھر جس میں تم لوگوں کا الگ سے کمرہ ہو گا اور کھیلنے کے لیے کھلا صحن اور … اور بہت سے پھول پودے اور درخت ہم مل کر لگائیں گے۔‘‘ وہ پھر سے رونے لگی تھی۔
’’تو مما! آپ رو کیوں رہی ہیں؟‘‘ واثق ابھی بھی پریشان تھا۔
’’بالکل بھی نہیں۔ میں تو ہنس رہی ہوں‘‘ وہ روتے ہوئے ہنسنے لگی۔
٭٭٭
’’امی میں عدیل کے ساتھ ذرا شاپنگ کے لیے جا رہی ہوں۔‘‘ بشریٰ تیار حلیے میں بولتی ہوئی لاؤنج میں داخل ہوئی اور بے اختیار ٹھٹک کر رک گئی۔
سامنے فوزیہ کی ساس زاہدہ بہت بے تکلف انداز میں صوفے پر آلتی پالتی مارے بیٹھی تھیں اور نسیم بیگم سے خوش گوار موڈ میں باتیں کر رہی تھیں۔
بشریٰ کو اس لمحے شاپنگ پر جانے کا معاملہ کھٹائی میں پڑتا نظر آنے لگا۔ اس نے سست لہجے میں سلام کیا اور صوفے کے کنارے ٹک کر بیٹھ گئی۔ زاہدہ اس کا خوب تنقیدی نظروں سے جائزہ لے رہی تھیں جن میں طنز اور تضحیک کا عنصر زیادہ نمایاں تھا۔ بشریٰ کو خواہ مخواہ اپنی ہتک کا احساس ہونے لگا۔
’’کچھ چائے وغیرہ لے آؤ پہلے زاہدہ بہن کے لیے پھر چلی جانا۔‘‘ نسیم بیگم نے حتی الامکان لہجے کو میٹھا بنانے کی کوشش میں کامیاب رہیں۔
’’کسی خاص شاپنگ کے لیے جا رہی ہے بہن! آپ کی بہو؟‘‘ زاہدہ نے بطور خاص بہن پر زور دے کر پوچھا۔
’’ہاں وہ صبح عدیل اور بشریٰ اسلام آباد اور مری جا رہے ہیں نا عدیل کو اسلام آباد میں آفس کا کوئی کام تھا تو سوچا بیوی بچوں کو ساتھ لے جائے۔‘‘
نسیم نے وضاحت سے جواب دیا اگرچہ بشریٰ کو یہ اچھا نہیں لگا کہ اتنی تفصیل سے محترمہ کو آگاہ کیا جائے۔
’’بچوں کو … کتنے بچے ہیں خیر سے عدیل میاں کے؟‘‘ زاہدہ ہونٹوں کو گول کر کے بولیں۔
’’کتنی فسادی عورت ہے؟‘‘ بشریٰ دل میں تلملائی۔
’’کہاں بہن! ایک بچی ہے۔ آٹھ سالوں میں بہو بیگم نے ایک پوتی دے کر ہری جھنڈی دکھا دی ہے۔‘‘ نسیم بیگم کی دکھتی رگ پر اس عورت نے کس ہوشیاری سے ہاتھ رکھا تھا۔
’’کیوں خدا نخواستہ کوئی مسئلہ ہے؟‘‘ وہ بھولپن سے پوچھنے لگیں۔
’’اللہ جانے۔ علاج تو بہت کرائے مگر ڈاکٹرز کہتے ہیں دونوں ٹھیک ہیں۔ بس اللہ کی طرف سے دیر ہے۔‘‘ نسیم بیگم نے سرد آہ بھر کر نظریں بشریٰ پر جمائیں۔
’’چچ چچ … پھر تو صاف جادو ٹونے کا معاملہ لگتا ہے۔‘‘ زاہدہ لہجے میں مقدور بھر ہمدردی سمو کر بولیں۔ ’’اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ ہم تو سمجھیں نا امید ہو چلے اب تو‘‘ نسیم بیگم کچھ بے زاری سے بولی تھیں۔ بشریٰ کو بہت برا لگا۔
’’میں جاؤں پھر امی؟‘‘ وہ اور نہیں بیٹھ سکی۔
’’کہا نا کچھ کھانے پینے کو تو لے آؤ پھر چلی جانا۔ واپسی تو تم لوگوں کی یوں بھی رات سے پہلے کہاں ہو گی؟‘‘ نسیم اب کے لحاظ مروت ہٹا کر بولیں۔
’’جی میں لاتی ہوں۔‘‘ وہ مرے ہوئے لہجے میں کہہ کر جانے لگی۔
’’بیٹی! برا نہیں ماننا۔ ساس بھی ماں کے برابر ہوتی ہے۔ اس کا کہا تو یوں بھی حق جانو کہ وہ تمہارے شوہر کی ماں ہوتی ہے۔ شوہر جسے خدا نے بھی مجازی خدا کہا ہے۔ خدا کے بعد اگر جسے سجدے کا حکم دیا جا سکتا تھا۔ اس عورت کی اطاعت اور فرماں برداری میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھنی چاہیے۔‘‘
’’بہن! میں ذرا پرانے خیالات کی ہوں۔ جی توڑ کر میں نے اپنی ساس کی خدمت کی تھی۔ بستر پر لٹا کر اسے چھ سال سمجھو، ہاتھوں پر اٹھائے رکھا تھا۔ میں نے تو خواہ مخواہ آج کل کی لڑکیوں کو ساس سے ایسے اکھڑے لہجے میں بات کرتے دیکھتی ہوں تو بہت دل دکھ سا جاتا ہے۔‘‘ وہ بولے بغیر نہیں رہ سکی تھیں۔
بشریٰ کا جی چاہا اس فراڈ عورت کو یہیں کھڑے کھڑے چھ آٹھ اچھی اچھی سنائے جو کس صفائی سے دوسروں کو بے وقوف بنا رہی تھی۔
’’نہیں بہن! آپ کچھ غلط نہیں۔ اصل میں تو آج کل ماؤں کی تربیت ہی کچھ ایسی ہے۔ بیٹیوں کو اگلے گھروں کے بارے میں تو کچھ بتاتی نہیں، صرف ادب تمیز اپنے ماں باپ کے لیے ہوتی ہے ان لڑکیوں کی نظر میں۔ خیر ہمیں تو عادت ہو گئی ہے اب سب کچھ برداشت کرنی کی۔‘‘
نسیم بیگم یوں ٹھنڈی سانس بھر کر بولیں جیسے پتا نہیں بہو کے ہاتھوں کتنے جبر سہہ چکی ہیں۔
’’میری فوزیہ کی گھٹی میں اللہ کے فضل سے ایسا ادب تمیز لحاظ بھرا ہے۔ میں تو میں محلے کی کوئی خالہ جان بھی آ جائے تو اس کے آگے بھی ایسے بچھی جاتی ہے۔ بہت ہی عاجزی ہے میری فوزیہ کی طبیعت میں۔‘‘
اب بشریٰ سے مزید رکنا محال ہو گیا۔ وہ کچھ بھی کہے بغیر خاموشی سے باہر نکل آئی۔
’’ویسے بہن! برا نہیں ماننا۔ شادی کے آٹھ سال بعد بھلا کیا تک بنتی ہے ہنی مون پر جانے کی۔‘‘ بشریٰ کے قدم اس عورت کی بات پر وہیں رک گئے۔
’’ہنی مون؟‘‘ بے چاری نسیم بشریٰ کی نظر میں کتنی بھی تیز طرار تھیں مگر زاہدہ کے آگے اس وقت وہ بھی پانی بھرتی نظر آئیں۔
’’اور نہیں تو کیا؟‘‘
’’میں سمجھی نہیں … وہ تو عدیل کو دفتر کا کام تھا تو …‘‘ نسیم بیگم نے پھر سے وہ سبق دہرانا چاہا۔
’’اے بہن! بہت ہی سادہ ہیں آپ تو، سچ جھوٹ کو نہیں پرکھ سکیں۔‘‘
نسیم بیگم کچھ بول ہی نہ سکیں۔
’’سب ڈراما ہے دفتر کے کام کا، مجھ سے لکھو الو۔ دونوں نے مل کر گھومنے پھرنے کا پروگرام پہلے سے بنا رکھا تھا دفتری کام کا بہانہ بنا کر تمہیں بس بے وقوف بنا رہے ہیں اور کچھ بھی نہیں۔‘‘
’’ابھی جمعہ جمعہ آٹھ دن نہیں ہوئے اس رشتے داری کو قائم ہوئے اور … فسادی عورت … فوزیہ بی بی! تم اپنی خیر مناؤ۔‘‘ بشریٰ مڑ کر جانے لگی۔
’’اور دیکھو بہن! کل کو تم نے بیٹی بیاہنی ہے پھر اس کے لیے کتنے اخراجات ہوتے ہیں، بہو، بیٹا یوں سیر سپاٹوں پر رقمیں اڑاتے رہے تو آخر میں تمہیں ہی پریشان ہونا پڑے گا۔‘‘ وہ تو جیسے آج بشریٰ اور عدیل کا سیر سپاٹا منسوخ کرا کے ہی جانے والی تھیں۔
’’اور صاف کہوں بہن! تم نے اپنی بہو اور بیٹے کو بہت چھوٹ دے رکھی ہے۔ تمہارا عدیل تو اس بشریٰ کی مٹھی میں ہے۔ کل کو فوزیہ بیٹی اپنے گھر چلی جائے گی تو سوچو، یہ بشریٰ کیا تمہیں عزت دے گی اس گھر میں؟‘‘
’’ہاں! یہ تو میں بھی جب سوچتی ہوں تو کلیجہ منہ کو آنے لگتا ہے۔ کیا کروں آخر میں تو اپنا راج پاٹ گھر بار سب کچھ ان غیر لڑکیوں کو سونپنا ہی پڑتا ہے۔‘‘ نسیم بیگم گلو گیر آواز میں بولیں۔
’’طریقے اور ہوشیاری سے چلو تو بہت کچھ اپنے پاس رکھ کر انہیں قابو میں رکھا جا سکتا ہے۔‘‘
’’کیسے زاہدہ بہن!‘‘ نسیم بیگم ہوشیار ہو کر بولیں۔
’’بہت سادہ ہیں نسیم بہن آپ … سنیے۔‘‘ وہ آہستہ آواز میں نسیم بیگم سے کچھ کہنے لگیں تو بشریٰ غصے میں پیر پٹختی وہاں سے چلی گئی۔
فوزیہ کو اپنی ساس کو چائے دینے کا کہہ کر وہ عدیل کے ساتھ خود ہی گھر سے نکل آئی۔
٭٭٭
’’بھاڑ میں جائے منحوس عورت۔ میں کیوں اس کی خاطر مدارت کروں۔ ایسی مکار عورتیں کسی عزت کے لائق نہیں ہوتیں۔‘‘ وہ گاڑی میں بیٹھ کر بھی کڑھتی رہی۔
’’مما! آپ کو غصہ آ رہا ہے۔‘‘ مثال پیچھے سے اس پر جھک کر بولی۔ بشریٰ نے چونک کر اس کی طرف دیکھا۔
’’بھئی سوری! میں تو ٹائم پر نکل آیا تھا آفس سے مگر رستے میں اتنا رش تھا اور تمہارے سامنے میں تو اندر ہی نہیں آیا کہ مزید لیٹ نہ ہو جائیں، پھر بھی تمہارا موڈ آف ہے۔‘‘ وہ صفائی دیتے ہوئے بولا۔
’’نہیں! موڈ کب آف ہے۔ وہ فوزیہ کی ساس آ گئی تھیں۔‘‘ اسے بتانا ہی پڑا۔
’’کیا … اور تم نے مجھے بتایا بھی نہیں۔‘‘ عدیل ایک دم پریشان ہو گیا۔
’’امی ناراض ہوں گی کہ میں ان سے ملے بغیر باہر ہی سے تمہیں لے کر چلا آیا۔‘‘
’’نہیں ہوں گی۔ امی کو بتا آئی تھی۔‘‘ بشریٰ جلدی سے بولی کہ کہیں عدیل واپسی کے لیے گاری نہ موڑ لے۔
’’اوریوں بھی وہ تھوڑی دیر کے لیے آئی تھیں۔ زیادہ بیٹھیں گی نہیں۔‘‘ بشریٰ عدیل کے سنجیدہ چہرے کو دیکھ کر پھر سے بولی۔
’’یار! تمہیں مجھے اندر تو آنے دینا تھا۔ کوئی مسئلہ نہ ہو جائے۔‘‘ عدیل کو نئی فکر ستانے لگی۔
’’کچھ نہیں ہوتا نا، میں مل تو آئی تھی ان سے اور انہیں بتا بھی آئی تھی کہ ہم جا رہے ہیں اور ہمیں دیر بھی ہو چکی ہے۔‘‘ بشریٰ دل میں پچھتا رہی تھی کہ عدیل کو کیوں بتایا۔
’’عدیل! صبح ہم کتنے بجے نکلیں، جانے کے لیے‘‘ اس نے عدیل کا دھیان ہٹانا چاہا۔ وہ کچھ دیر بول ہی نہیں سکا۔
’’یوں کریں لعنت بھیجیں شاپنگ پر، گھر واپس چلتے ہیں۔ پہلے آپ اچھی طرح ان خاتون سے مل لیں۔ کورنش بجا لائیں۔ پھر اگر ٹائم بچا تو شاپنگ کے لیے نکل چلیں گے۔ یوں بھی شاپنگ کچھ اتنی ضروری نہیں ہے۔ چلیں واپس۔‘‘ بشریٰ کو بھی ایک دم سے غصہ آیا۔
’’ہم واپس جا رہے ہیں گھر ماما؟‘‘ مثال فوراً بے چین ہو کر بولی۔
’’تم چپ کر کے بیٹھو۔‘‘ بشریٰ نے اسے بھی جھڑک دیا۔
وہ سہم کر آرام سے بیٹھ گئی۔
’’اس کو خواہ مخواہ کیوں جھڑک رہی ہو؟‘‘ عدیل خفگی سے بولا۔
’’آپ واپس چلیں بس۔‘‘ وہ ہٹیلے پن سے بولی۔ پہلے اس عورت نے بکواس کر کے موڈ خراب کیا اور اب یہ عدیل۔ اسے جیسے رونا ہی آنے لگا تھا۔
’’اچھا خوامخواہ موڈ خراب کرنے کی ضرورت نہیں۔ کوئی واپس نہیں جا رہا۔ میں گھر جا کر امی سے بات کر لوں گا۔ یوں بھی ہم نے کون سی لمبی چوڑی شاپنگ کرنی ہے۔ وقت پر گھر پہنچ جائیں گے۔ موڈ ٹھیک کرو اپنا پلیز۔‘‘ عدیل اس کے پھولے ہوئے چہرے کو دیکھ کر قدرے نرمی سے بولا۔
’’ٹھیک ہے میرا موڈ مگر عدیل! بہتر ہے ہم گھر واپس چلیں۔‘‘
وہ پھر بولی۔ عدیل نے کوئی جواب نہیں دیا۔ خاموشی سے ڈرائیو کرتا رہا۔
٭٭٭
’’امی! یوں سمجھیں ہماری کوئی نیکی کام آ گئی، جو اللہ نے ہمیں ظہیر اور اس کی ماں سے بچا لیا۔‘‘
واپسی پر عدیل کے نہ ماننے کے باوجود بشریٰ اصرار کر کے ذکیہ سے ملنے کے لیے آ گئی تھی۔
’’عدیل سفر پر جانے سے پہلے میں کم از کم امی سے کھڑے کھڑے تو مل لوں۔ یقین کریں زیادہ ٹائم نہیں لگاؤں گی۔‘‘ اس نے بدقت عدیل کو منا ہی لیا تھا اور یہ عدیل کی خوبی تھی۔ بشریٰ کی کوئی بات ٹالتا نہیں تھا۔
’’ہاں اور نہیں تو کیا۔ میں نے تو جب ادھر ادھر سے کچھ ایسی ویسی باتیں ان ماں بیٹے کے بارے میں سنیں، تب ہی میں کھٹک گئی تھی۔ اگرچہ تین مہینے کچا پکا ہی سہی رشتہ قائم رہا تھا تمہارا اور ظہیر کا۔‘‘ ذکیہ سر ہلا کر بولیں۔
’’اور کمال دیکھیں۔ میں ظہیر کو اور اس کی ماں کو فوزیہ کے رشتے کے دوران پہچان ہی نہیں سکی۔‘‘
’’اور امی! یہ زاہدہ آنٹی بہت تیز ہیں۔ انہیں سب یاد آ چکا ہے۔‘‘ صاف لگ رہا ہے اس وقت رشتہ نہ ہو سکنے کا بدلہ لے رہی ہیں امی کے کان بھر بھر کر۔
’’بھر لے جتنے مرضی، آخر کو کیا ہاتھ آئے گا۔ وہ اگر سیر ہیں محترمہ تو ان کی ہونے والی بہو سواسیر ہے۔ دیکھنا کہ کیا کیا تماشے نہیں ہوں گے۔ ذرا فوزیہ کو اس کے گھر پہنچ تو لینے دو۔‘‘ ذکیہ ٹھٹھا لگا کر بولیں۔
’’ہاں امی! یہ منظر تو واقعی دیکھنے والا ہو گا، اور وہ جو شام کو امی کے کان بھر رہی تھیں کہ تمہارا بیٹا تو اس چلتر بشریٰ کی مٹھی میں ہے۔ دیکھوں گی شادی کے بعد اپنے بیٹے کو کیسے قابو میں رکھیں گی خاتون۔‘‘ بشریٰ بھی مزا لے کر بولی۔ اسی وقت عدیل دیر ہو جانے کے خیال سے اسے بلانے کے لیے چلا آیا۔
’’عدیل کو تو پتا نہیں چلا کہ تمہارا اور ظہیر کا پہلے رشتہ طے ہو گیا تھا؟‘‘ ذکیہ بیگم کو کچھ یاد آیا تو پوچھنے لگیں۔
’’توبہ کریں امی! میں نے اپنی شامت لانی ہے۔ لاکھ عدیل مجھ پر جان چھڑکتے ہوں مگر اس طرح کی بات اگر انہیں پتا چل جائے … یہ مرد بہت شکی مزاج ہوتے ہیں باقی کی خالی تصویر کے خاکے میں خود سے رنگ بھر لیتے ہیں میں تو …‘‘ وہ بولتے ہوئے مڑی اور پھر ٹھٹک کر رہ گئی۔ اس کے سامنے عدیل کھڑا اسے عجیب سی نظروں سے دیکھ رہا تھا۔
بشریٰ عجلت میں ماں کو خدا حافظ کیے بغیر ہی گھر سے نکل گئی۔
٭٭٭
’’لیکن عفان! آپ تو کہہ رہے تھے کل آ جائیں گے۔ آج کا بھی سارا دن گزر گیا۔ آپ کا انتظار کرتے۔ اب تو رات ہو گئی ہے۔‘‘ عاصمہ متفکر سی فون پر بات کر رہی تھی۔
’’ہاں کہا تو تھا مگر دیکھو! ان کاموں میں دیر سویر تو ہو ہی جاتی ہے۔ ابھی تو شاید کل کا دن بھی لگ جائے۔‘‘ عفان نے جواب دیا۔
’’یہ نہیں کہیں خدا کے لیے! میں اکیلی تھک گئی ہوں۔ گھر بچوں کو سنبھالتے سنبھالتے۔‘‘ عاصمہ بے حد تھکے ہوئے لہجے میں بولی۔
’’مگر یہ بھی تو دیکھو نا زندگی بھر کا آرام بھی تو تمہیں ہی ملنے والا ہے۔ دو تین ملازم بھی رکھ لینا۔ شان دار سا گھر، گاڑی۔‘‘ عفان اسے لالچ دینے کو بولا۔
’’خیر اب ایسا بھی نہیں، زندگی بھر خود ہی کام کیا ہے اپنے گھر اور بچوں کا۔ کام کرنا تو مجھے کبھی بھی نہیں دکھا مگر عفان! یوں اکیلا رہنا بہت تکلیف دہ ہے۔ آپ اور ابا جی کے بغیر رہنا‘‘ عاصمہ افسردگی سے بولی۔
’’یوں لگتا ہے جیسے سارا گھر خالی ہو۔ بچے بھی اتنے چپ ہیں نہ شرارتیں نہ ضدیں۔ وہ اپ دونوں کے سامنے ہی تنگ کرتے تھے مجھے۔‘‘
’’پھر تو اچھی بات ہے۔ تم مزے میں ہو۔ نہ ہماری ٹینشن نہ بچوں کی پریشانی یار! مزے کرو۔‘‘ وہ اسے چھیڑ کر بولا۔
’’خدا کے لیے عفان! میں اب رو پڑوں گی۔‘‘ وہ روہانسی ہو کر بولی۔
’’اچھا بابا! کل آ جائیں گے ہم۔ شام سے پہلے گھر ہوں گے۔ تم پریشان نہیں ہو اور سنو! رات میں گھر کے لاک، دروازے اچھی طرح بند کر کے سویا کرو۔‘‘ عفان نے تاکیداً کہا۔
’’کرتی ہوں۔ ہر بار یہ ہی نصیحت کرتے ہیں۔ آپ سے زیادہ مجھے اس بات کا خیال رہتا ہے پھر بچے بھی تو ہیں مما! وہ دروازہ بند کریں۔ مما چھت کا دروازہ لاک کیا۔ باہر کی کھڑکیاں بند کریں۔ تینوں کی طبیعت آپ پہ گئی ہے۔‘‘ احتیاط ہی احتیاط۔ وہ چڑ کر بولی۔
’’تو یار! اچھی بات ہے نا احتیاط تو۔‘‘
’’عفان! وہ ایجنٹ ہے نا جسے آپ گھر دیکھ رکھنے کا کہہ گئے تھے وہ آج آیا تھا۔ کہہ رہا تھا اس نے بہت زبردست تین گھر دیکھے ہیں ہمارے لیے۔‘‘ وہ ذرا پر جوش ہو کر بتانے لگی۔
’’یار! یہ تو بہت اچھی بات ہے۔ بس ہم آتے ہیں تو ان شاء اللہ پہلا کام یہ ہی کریں گے۔ تم بھی بس تیاری رکھو۔ موٹی موٹی پیکنگ شروع کر دو ہم نے تو بنا بنایا گھر لینا ہے۔ ٹرک کروا کے، سامان لدوایا اور بس شفٹ ہو گئے۔‘‘
’’ان شاء اللہ میں جتنی بے چینی سے اس گھڑی کا انتظار کر رہی ہوں، کوئی میرے دل سے پوچھے بچے بھی بار بار پوچھتے ہیں۔ مما! نئے گھر میں کب جائیں گے۔‘‘ وہ اشتیاق سے بتانے لگی۔
’’ان شاء اللہ بہت جلد۔ اب تم آرام کرو کل ہم نکلنے سے پہلے تمہیں فون کر دیں گے۔‘‘ عفان نے فون بند کرنا چاہا۔
’’عفان! ابا جی سے تو آپ نے بات کرائی نہیں میری۔‘‘
’’وہ سوگئے ہیں۔ تھک جاتے ہیں۔ دن بھر نہ جانے کہاں کہاں سے بچپن کے یار دوست ان سے ملنے آتے ہیں تو انہیں آرام کرنے کا موقع ہی نہیں ملتا۔‘‘
’’وہ اپنی میڈیسن تو لے رہے ہیں نا باقاعدگی سے۔‘‘ وہ فکر مندی سے پوچھنے لگی۔ ’’ابا جی دوا لینے کے معاملے میں بہت لاپروا ہیں آپ تو خیال کرتے ہیں نا!‘‘
’’ڈاکٹر صاحب! بالکل خیال کرتا ہوں اور پابندی سے انہیں ٹائم پر دے رہا ہوں۔ تم فکر نہیں کرو۔‘‘ عفان نے اسے تسلی دی۔
’’اب تم سوجاؤ۔ صبح بچوں کو اسکول بھجوانا ہو گا تم نے۔‘‘ عفان نے اسے یاد دلایا۔ ’’میں بھی کافی تھک گیا ہوں۔ آرام کروں گا۔ یہاں تو یوں بھی صبح منہ اندھیرے ہی ہو جاتی ہے سب اٹھ جاتے ہیں۔‘‘
’’چلیں پھر آپ اپنا خیال رکھیے گا اور پلیز کل ضرور آ جائیں۔ بہت اداس ہو گئی ہوں میں آپ کے بغیر کبھی اتنے دن اکیلے رہی بھی نہیں۔‘‘ عاصمہ پھر بے قراری سے بولی۔
’’میں کب رہا ہوں تمہارے بغیر۔ بہت عجیب سا لگ رہا ہے جیسے خالی خالی سا ہو گیا ہوں۔‘‘ عفان نے آہستگی سے کہا تو عاصمہ کو بہت خوشی سی محسوس ہوئی جدائی کا دکھ ان کا دل بھی تو سہہ رہا ہے۔ اس کڑی دھوپ میں صرف میں تو نہیں جل رہی۔ اس کی ساری اداسی ساری تھکن جیسے غائب ہو گئی اس نے مسکراتے ہوئے فون بند کرتے ہی وردہ کو گود میں اٹھا لیا اور عفان کو سوچ کر مسکرانے لگی۔
٭٭٭
’’ظہیر کے ساتھ … تمہارا کیا تعلق تھا؟‘‘
بشریٰ کو قطعاً توقع نہیں تھی کہ عدیل کے خراب موڈ کا نتیجہ گھر جاتے ہی یہ جملہ نکلے گا۔
فوری طور پر تو وہ کچھ سمجھ ہی نہ سکی، بس یوں ہی خالی خالی نظروں سے اسے دیکھے گئی۔ اس نے تو گھر آ کر نسیم بیگم کے طعنوں تشنوں کی بھی پروا نہیں کی تھی، جو ان کے گھر آتے ہی بولنا شروع ہو گئی تھیں۔
اور یہ پہلی بار تھا کہ عدیل ماں سے کوئی بھی بات کیے بغیر، فوزیہ کے خراب موڈ کا سبب جانے بغیر خاموشی سے اپنے بیڈ روم میں چلا آیا تھا۔
’’بیوی نے اپنا دم چلا بنا لیا ہے امی! جتنا مرضی آپ چیختی چلاتی رہیں، وہ حضرت کب سن رہے ہیں۔ ان کے کانوں میں آپ کی کوئی آواز نہیں پڑ رہی۔‘‘
فوزیہ نے دونوں کو آگے پیچھے کمرے میں جاتے دیکھ کر جلتی پر تیل کا کام کیا تھا۔ نسیم بیگم کے بولنے میں اور بھی تیزی آ گئی۔ مگر اب وہاں سننے کے لیے کوئی نہ تھا۔ بشریٰ نے فق چہرے کے ساتھ کچھ بولنے کی کوشش کی۔
’’خبردار! ایک لفظ جھوٹ تمہارے منہ سے نہیں نکلنا چاہیے بشریٰ ورنہ میں بھول جاؤں گا کہ تم میری کون ہو اور میں … تمہارا کون؟‘‘
اتنا سخت رویہ … ایسے ظالم رد عمل کی توقع کم از کم بشریٰ، کو عدیل سے نہیں تھی۔ اس کا حلق جیسے کانٹوں سے بھر گیا۔ وہ کوشش کے باوجود کچھ بول نہیں پائی۔ آنکھوں میں ایک دم ہی ڈھیر سارا پانی اکٹھا ہو گیا۔
’’میرے سامنے کوئی ڈراما کرنے کی ضرورت نہیں۔ تمہارے یہ آنسو اس وقت … اس وقت مجھ پر کچھ اثر نہیں کریں گے انڈر اسٹینڈ!‘‘ وہ پھر سے گرج کر بولا تو بشریٰ نے تیزی سے آنسو صاف کر کے خود کو سنبھالنے کی کوشش کی مگر زبان تو اس کی جیسے جکڑی گئی تھی۔
’’کیا تعلق تھا تمہارا اور ظہیر کا؟‘‘ اس نے اپنا سوال دہرایا۔
’’کوئی تعلق … کوئی تعلق نہیں تھا … ہمارا اور خدا نخواستہ کیوں ہونے لگا۔‘‘ اس نے گلے میں پھنسی ہوئی آواز نکالی مگر پھر بھی جسم ہلکا ہلکا کانپ رہا تھا اور آواز کی کپکپاہٹ تو اور بھی نمایاں تھی۔
’’کیوں اتنا برا شخص ہے وہ کہ تمہیں اس سے تعلق رکھنے پر بھی شرم آنے لگی؟‘‘ عدیل طنز سے بولا اور ان آٹھ سالوں میں وہ پہلی بار نسیم بیگم کا بیٹا لگا تھا۔ وہ اس سے ڈری بھی پہلی بار ہی تھی اس طرح۔
’’عدیل! جس طرح آپ کا پروپوزل آیا تھا میرے لیے، اسی طرح آپ سے پہلے ظہیر کا بھی آیا تھا اور کچھ دین بات کچی پکی چلتی رہی تھی۔‘‘ اسے احساس ہوا کہ اب اگر اس نے سنبھل کر ٹھیک ٹھیک جواب نہ دیے تو پھر عمر بھر خود کو کوستی رہے گی، اس لیے اب کے قدرے مضبوط لہجے میں بولی۔
’’کچی پکی … یا پکی‘‘ وہ جتا کر بولا۔
’’ایسا کچھ ہوتا تو ہم کیوں آپ سے کچھ چھپاتے۔‘‘ وہ بھی ڈٹ کر بولی۔
’’ہم …‘‘ وہ زور دے کر بولا۔
’’تم جب یہ سب جانتی تھیں تو جب فوزیہ کے لیے ظہیر کا رشتہ آیا، اس وقت تم نے یہ بات کیوں نہیں کی۔‘‘
’’عدیل!‘‘ وہ تڑپ کر رہ گئی۔
’’تمہارے دل میں چور تھا نا۔‘‘
’’عدیل!‘‘ اسے خود بھی پتا نہیں چلا کہ اس کی آواز باہر تک گئی۔
’’سچی بات پر اتنا واویلا؟‘‘ وہ بھی مزے سے بولا۔
وہ جیسے ایک دم نڈھال سی ہو گئی۔
’’ذرا سی معمولی بات کو آپ نے کیا رنگ دے ڈالا ہے۔‘‘ وہ ٹوٹے ہوئے لہجے میں بولی۔
’’مجھ پر تو شاید آپ کو یقین نہیں۔ مگر اللہ کی قسم پہ تو آپ کو یقین آئے گا نا۔ میں کبھی قسم نہیں کھاتی … مگر آج اللہ کی قسم کھا کر کہہ رہی ہوں اور عدیل! آپ کو یقین کرنا پڑے گا۔ مجھے بالکل بھی ظہیر یاد نہیں تھا۔ اس کا چہرہ نہ پروپوزل والی بات عین نکاح والے دن مجھے احساس ہوا کہ میں ظہیر سے پہلے بھی مل چکی ہوں۔ مطلب دیکھ چکی ہوں۔‘‘ وہ جلدی سے بولی۔
’’تم لوگوں نے یہ رشتہ کیوں چھوڑا تھا۔‘‘ بہت دیر کی خاموشی کے بعد وہ اس پر نظر جما کر بولا۔ بشریٰ فوری طور پر کوئی جواب نہ دے سکی۔
’’تم لوگوں نے رشتہ چھوڑا تھا یا انہوں نے جواب دیا تھا؟‘‘ وہ پھر سے بولا۔
’’ہم … ہم نے جواب دیا تھا۔‘‘ وہ آہستگی سے بولی۔
’’کیوں؟‘‘ وہ پھر سے دہرا کر بولا۔
’’ہمیں پتا چلا تھا کہ وہ … یہ اچھے لوگ نہیں ہیں۔‘‘ وہ سرجھکا کر اعتراف کر کے بولی۔ عدیل اسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھتا رہا۔
’’میری بہن نے کبھی تمہارے ساتھ اتنا برا تو نہیں کیا کہ تم اس طرح بدلہ لیتیں۔‘‘ وہ سخت آواز میں بولا۔
’’نہیں … خدا کے لیے میں بتا چکی ہوں۔ مجھے یاد نہیں تھا۔‘‘
’’تو اپنی اماں جان سے پوچھ لیتیں۔ انہیں تو اس صدی کے شروع میں ہونے والے چھوٹے بڑے سب واقعے یاد ہوتے ہیں۔‘‘ وہ طنز سے بولا۔ وہ اسے دیکھ کر رہ گئی۔
وہ جیسے نڈھال ہو کر سر تھام کر بیٹھ گیا۔ وہ بھی اس کے پاس بیٹھ گئی اور آہستگی سے اس کے کندھے پر ہاتھ کر کر کچھ بولنے لگی تھی کہ اس نے زور سے اس کا ہاتھ جھٹک دیا۔
’’عدیل پلیز … یہ تو قسمت کے کھیل ہوتے ہیں۔ اس وقت یہ رشتہ میرے نصیب میں نہیں تھا۔ خدا گواہ ہے۔ اگر مجھے یاد آ جاتا تو میں ضرور آپ کو بتاتی اور فوزیہ سے مجھے خدا نخواستہ کوئی دشمنی کیوں ہونے لگے گی۔ میری کوئی بہن نہیں میں نے ہمیشہ اپنی بہن …‘‘
’’بس کرو یہ جھوٹ سچ ملانا۔ سوجاؤ۔ میرے سر میں پہلے ہی بہت درد ہو رہا ہے۔‘‘ وہ اس کا ہاتھ جھٹک کر تکیہ سیدھا کر کے لیٹ گیا۔ بشریٰ بے بس نظروں سے اسے دیکھتی رہ گئی۔
وہ کچھ دیر یوں ہی بیٹھی رہی۔
ان کی شاپنگ بھی یوں ہی پڑی تھی کچھ مثال کے کپڑے بھی رکھنے والے تھے۔ اب پتا نہیں صبح انہوں نے جانا تھا یا نہیں … وہ بیٹھی لب چباتی رہی۔ اتنی ہمت نہیں ہو سکی کہ وہ جو آنکھوں پر بازو رکھے یوں اجنبی بنا لیٹا ہے اس سے پوچھ ہی لے۔
’’سوجاؤ یوں میرے سر پر سوار ہو کر کیا بیٹھ گئی ہو۔ نہیں نیند آ رہی تو باہر چلی جاؤ اور لائٹ آف کر دو۔‘‘ وہ کروٹ لیتے ہوئے کرختگی سے بولا تو وہ آہستگی سے اٹھی اور لائٹ آف کر کے اس کے برابر آ کر لیٹ گئی۔
کتنی دیر تک اسے نیند نہیں آئی کہ اس جرم کی سزا جو نہ اس سے سرزد ہوا نہ جس کے وقوع ہونے میں ہی اس کا کوئی ہاتھ تھا۔ اس کے سر پر لگا دیا تھا۔
وہ آنکھوں میں آئی نمی کو مسل کرسونے کی کوشش کرنے لگی۔
٭٭٭
’’ارے مگر آپ نے بتایا ہی نہیں کہ آپ اتنی جلدی آ جائیں گے۔ ابا جی کہاں ہیں۔ اکیلے آئے ہیں کیا؟‘‘ عاصمہ دروازہ کھول کر کچھ پریشان سی عفان کے ساتھ آتے ہوئے بولی۔
’’بہت ایمرجنسی میں آیا ہوں۔ سب کچھ ریڈی تھا صرف ابا جی کے اور دوسری پارٹی کے سائن تھے۔ وکیل پٹواری گواہ سب موجود اور ابا جی کے اوریجنل ڈاکومنٹس ندارد‘‘ عفان جھلائے ہوئے انداز میں کہتا سیدھا ابا جی کے کمرے میں بنی الماری کی طرف بڑھا۔
’’افوہ! سانس تو لے لیں۔ میں پانی لے کر آتی ہوں آپ کے لیے۔ سفر سے آئے ہیں بیٹھ تو جائیں۔‘‘ عاصمہ جلدی سے پانی لاتے ہوئے بولی۔
’’ایمان سے ایک ہفتہ غارت ہو گیا۔ اب تمہیں پتا ہے مزید چھٹی بھی نہیں مل سکتی اور کل میری آخری چھٹی ہے۔ ابا جی بھی حد کرتے ہیں سب سے ضروری کاغذ لے جانا بھول گئے۔ اب گاؤں کوئی ساتھ کی گلی میں تو ہے نہیں۔‘‘ عفان پانی کا پورا گلاس چڑھا کر جھلائے ہوئے انداز میں بولا۔
’’اچھا چلیں ہو جاتا ہے ایسا۔ اب ان کی عمر ایسی ہے کہاں سب کچھ یاد رہتا ہے۔ آپ تسلی سے کاغذ نکالیں۔ میں کھانا بنا رہی ہوں کھا کر جائیں گے اب آپ۔‘‘ وہ کچن کی طرف جاتے ہوئے بولی۔
’’نہیں یار! بہت دیر ہو جائے گی۔‘‘ عفان الماری سے مختلف فائلیں نکالتے ہوئے بولا۔
’’کوئی دیر نہیں ہوتی ذرا دیر میں بچے بھی آنے والے ہیں۔ اتنے اداس ہو رہے ہیں آپ کے بغیر مل کر جائیں گا۔‘‘
’’لو مل گئے۔ یہ پیپرز تھے ذرا سے کام کے لیے اتنی دور آنا پڑا۔‘‘ وہ فائل میں سے پیپرز نکالتے ہوئے باقی کی چیزیں احتیاط سے الماری میں رکھنے لگا۔
’’کیا پکا رہی ہو آج عاصمہ؟‘‘ وہ فارغ ہو کر کچن میں ہی آ گیا۔
’’گوبھی گوشت ہے آپ کی پسند کا۔ میں نے سوچا آج تو آپ نے آ ہی جانا ہے تو‘‘ عاصمہ پھیکی سی مسکراہٹ سے بولی۔
’’ہاں دیکھو ابھی نکلوں گا تو واپسی ظاہر ہے … ادھر بھی ساری قانونی کار روائی میں وقت تو لگے گا۔ مجھے تو لگتا ہے آج بھی واپسی مشکل ہے۔‘‘ وہ وہیں کرسی پر بیٹھ گیا۔ عاصمہ جلدی جلدی سالن بھوننے لگی۔ فریج سے آٹا نکال کر رکھا اور دوسری طرف توا چولہے پر رکھا۔
’’آپ کوشش تو کیجیے گا واپسی کی۔‘‘
’’یار! میں تو خود تنگ آ گیا ہوں۔ ابا جی بھی بے زار ہوئے ہیں۔ اب ایک اور دن کی مشکل تو ہے۔‘‘ عفان سلاد کاٹنے لگا۔
’’عفان! کتنے میں سودا ہوا ہے۔ یہ تو آپ نے بتایا ہی نہیں۔‘‘ بہت دنوں سے دل میں مچلتا سوال آخر اس کے لبوں پر آ ہی گیا۔
’’اچھا میں نے تمہیں نہیں بتایا۔‘‘ وہ کچھ حیران سا ہوا۔
’’کب؟ میں تو منتظر ہوں کہ آپ بتائیں گے۔‘‘ وہ جتا کر بولی۔
’’تمہارے خواب میں سمجھو سارے رنگ بھرنے والے ہیں۔‘‘ وہ مسکرا کر بولا۔
’’اب بتا بھی دیں مجھ سے اور صبر نہیں ہوتا۔‘‘ وہ بے صبری سے بولی۔
’’اچھا تو گیس کرو! کتنے میں زمین نکلی ہو گی۔‘‘
’’عفان … میں نے کبھی کسی چیز کا سودا نہیں کیا۔ یقین کریں مجھے بالکل آئیڈیا نہیں … اب خود سے بتا دیں نا!‘‘ وہ بہت منت سے بولی۔
’’بہت بھولی ہیں بھئی ہماری بیگم۔‘‘ وہ مسکرا کر بولا۔ ’’ڈیڑھ کروڑ میں ڈن ہوا ہے اور پتا ہے، اچھی کہہ لو یا بری بات یہ ہے کہ وہ لوگ پیمنٹ کیش کی شکل میں کر رہے ہیں۔ حالانکہ میں اس چیز کے حق میں نہیں تھا۔ وہ چیک بنا دیتے یا ڈرافٹ مگر ابا جی نہیں مانے کہ اس میں فراڈ کا چانس ہو سکتا ہے مگر اس میں رسک بھی بہت ہے اور فائدہ بھی کہ آتے ہی گھر کا سودا کر لیں گے۔‘‘
’’یہ تو اچھی بات ہے۔ آپ کے پاس اگر ٹائم ہوتا تو آپ ظفر بھائی کے ساتھ جا کر ایک دو گھر ہی دیکھ آتے۔‘‘ اس نے پھرتی سے روٹی توے سے اتار کر عفان کے آگے کھانا لگا دیا۔
’’نہیں یار … بالکل بھی ٹائم نہیں۔ اب جو بھی ہو گا واپسی پر انشاء اللہ۔‘‘ وہ جلدی جلدی کھانا کھانے لگا۔
عاصمہ روٹیاں پکا کر اس کے پاس ہی بیٹھ گئی اور اس سے باتیں کرنے لگی۔
٭٭٭
’’اب کیا باقی کا راستہ اسی طرح کٹے گا؟‘‘ عدیل کو سنجیدگی سے گاڑی چلاتے دیکھ کر بشریٰ بول ہی پڑی مثال دونوں کو وقتاً فوقتاً دیکھ رہی تھی۔
مما پاپا کی لڑائی ہوئی ہے۔ وہ قیاس تو کر چکی تھی مگر دونوں کے خراب موڈ کو دیکھ کر پوچھنے کا حوصلہ نہیں ہوا تھا۔
’’کیوں کیا ہوا ہے؟‘‘ عدیل اسی سنجیدگی سے بولا۔
بشریٰ شکر کر رہی تھی کہ صبح اٹھ کر عدیل نے پروگرام ملتوی نہیں کیا۔ صرف اتنا ہوا کہ وہ لوگ پروگرام سے ایک گھنٹہ لیٹ گھر سے نکلے۔ نسیم بیگم اور فوزیہ کے موڈ اسی طرح برہم تھے۔
عدیل کچھ دیر کے لیے ماں کے کمرے میں گیا تھا۔ انہیں دفتر کے کام کی مجبوری کا کہہ کر شاید ان کا موڈ کچھ نارمل کر آیا تھا کیونکہ بشریٰ جب مثال کو لے کر ملنے گئی تو نسیم بیگم نے کچھ خاص سخت رویہ اختیار نہیں کیا۔ اگرچہ فوزیہ نے اس کے سلام کا جواب دیا نہ مثال کے گلے لگنے پر اسے پیار کیا۔
وہ مثال کو لے کر خاموشی سے نکل آئی۔
’’آپ کوئی بات نہیں کریں گے؟‘‘ وہ پھر سے بولی۔
’’تم کرو، میں سن رہا ہوں۔‘‘ وہ پھر سے اسی لہجے میں بولی۔
’’عدیل! اس سارے قصے میں میرا کیا قصور ہے؟ میری تو سمجھ نہیں آ رہا۔‘‘
’’بشری! وہ چیپٹر میں نے کلوز کر دیا ہے۔ اب اس پر کوئی بات نہیں ہو گی اور ہاں!‘‘ وہ رک کر مثال کو دیکھنے لگا جو اپنی گڑیاں سے باتیں کر رہی تھی۔ تم امی یا فوزیہ سے بھی کوئی ذکر نہیں کرو گی کہ پہلے تمہارا …
’’میں جانتی ہوں عدیل! لیکن وہ زاہدہ آنٹی۔ اگر انہوں نے خود سے کچھ بتا دیا۔ کل بھی وہ امی سے ایسی باتیں کر رہی تھیں جس سے امی کا دل میری طرف سے کھٹا کر سکیں بہت غلط غلط باتیں کیں انہوں نے لیکن میں خاموش رہی۔‘‘
’’تمہیں آئندہ بھی خاموش رہنا ہو گا تمہارا تو کچا پکا معاملہ تھا۔ ٹوٹا اور بات آئی گئی ہو گئی۔‘‘ وہ جتا کر بولا۔
’’لیکن میری بہن کا نکاح ہوا ہے۔ تم سمجھ رہی ہو نا اس بات کو‘‘
’’میں جانتی ہوں عدیل! اور خدا نہ کر کے کہ اب کچھ ایسا ہو جو اس رشتہ کو خراب کرے۔ آپ فکر نہیں کریں۔ میں پوری کوشش کروں گی کہ کم از کم میری طرف سے کچھ نہ ہو۔ آپ ٹینشن نہ لیں۔ مجھے یقین ہے زاہدہ آنٹی بھی اس معاملے کو بگاڑنا نہیں چاہیں گی۔‘‘ وہ اسے تسلی دیتے ہوئے بولی۔
’’ہوں! ایسا ہی ہو، اللہ کرے۔‘‘ وہ گہرا سانس لے کر بولا۔
’’مما! اگر آپ دونوں کی صلح ہو گئی تو پلیز کوئی اور اچھی بات کر لیں۔‘‘ مثال آگے جھک کر بولی تو دونوں ہنس پڑے۔
٭٭٭
انہیں اسلام آباد میں بہت اچھا ہوٹل ملا تھا۔ انہیں تین دن یہاں ٹھہرنا تھا اور تین دن مری میں۔ پہلا دن تو یوں ہی گھومتے ہوئے گزر گیا۔ بشریٰ کی خوشی کا کوئی ٹھکانا نہیں تھا۔ اتنے سالوں بعد دونوں کو یوں اکٹھے ساتھ رہنے اور گھومنے کا موقع ملا تھا۔
عدیل کا موڈ بھی بہت خوش گوار تھا۔ وہ اس رات والی تلخی کو قطعاً بھلا چکا تھا اور بشریٰ کا بھی اسے یاد کرانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔
’’عدیل! آج تھوڑی شاپنگ کر لیں امی اور فوزیہ کے لیے۔ میں چاہ رہی ہوں کہ ہم فوزیہ کے جہیز کے لیے کچھ زبردست سے آئٹم خرید لیں۔ جو اس کو بہت پسند آئیں۔‘‘ وہ شوہر کی دل جوئی کو بولی اور سچ بھی تھا کہ اسے بہرحال فوزیہ کی شادی کی خوشی تھی۔
دونوں کے تعلقات شادی کے بعد سے اب تک کچھ اتنے خوش گوار بھی نہیں رہے تھے۔ فوزیہ، بشریٰ کو کچھ خاص پسند نہیں کرتی تھی۔ وہی نند، بھاوج والی چپقلش پہلے دن سے جاری تھی۔ جس میں کبھی کمی آ جاتی اور کبھی شدت۔ فوزیہ اگر اچھی نند نہیں تھی تو بشریٰ بھی ذرا الگ تھلگ سی رہتی تھی۔ پھر بھی دونوں میں روبرو لڑائی والی بات کبھی نہیں ہوئی تھی۔
بشریٰ دل میں خوش تھی کہ کم از کم فوزیہ کی رخصتی کا امکان پیدا ہی ہو چکا تھا تو وہ خوش خوش اپنے گھر جائے۔
’’یہ تو اچھی بات ہے۔ امی نے بھی مجھ سے کہا تھا۔ لیکن میں نے کہا تھا کہ ہم اتنی زیادہ شاپنگ نہیں کر سکتے۔‘‘
’’ظاہر ہے گاڑی میں سب کچھ کہاں آ سکتا ہے۔‘‘ عدیل بولا۔
’’رکھ لیں گے پیچھے، ڈگی بھی تو ہے۔‘‘ بشریٰ مصر رہی۔
اور اس نے واقعی فوزیہ کے جہیز کے لیے بہت زبردست کراکری اور کچھ قیمتی کپڑے بھی خرید لیے۔ مثال کی پسند کے کھلونے اور کچھ دوسری چیزیں خریدیں، کل ان کا مری جانے کا ارادہ تھا۔
جیسے ہی وہ ہوٹل کے کمرے میں داخل ہوئے۔ بشریٰ سنبھلتے سنبھلتے بھی بری طرح سے چکرا کر بیڈ پر گی۔ عدیل اور مثال اسے پکارتے رہ گئے۔ وہ بے ہوش ہو چکی تھی۔
٭٭٭
’’مما! پاپا اور دادو کل آ جائیں گے نا؟‘‘ اریبہ اور واثق اس کے ساتھ مل کر دھلے ہوئے کپڑے رسی سے اتار کر اندر لائے تھے۔ وہ انہیں بیٹھ کر تہہ کرنے لگی۔
’’ان شاء اللہ بیٹا! ابھی پاپا کا فون آیا تھا۔ سب کام ہو گئے۔ امید ہے وہ کل صبح ہی نکل پڑیں گے۔ تم بس دعا کرنا وہ ساتھ خیریت کے گھر آ جائیں۔‘‘
عاصمہ بہت خوش تھی ابھی کچھ دیر پہلے تو عفان کا فون آیا تھا کہ ساری ڈیل بخیریت ہو گئی ہے۔ رقم انہیں مل گئی ہے۔
ابا جی نے بھی عاصمہ سے بات کرتے ہوئے اسے دل سے مبارک باد دی تھی۔ ان کی آواز سے کچھ کمزوری لگی تھی مگر خوش وہ بہت تھے۔
عاصمہ ان سے زیادہ خدش تھی کہ انہوں نے جاتے ہوئے اس سے جو وعدہ کیا تھا وہ پورا کیا تھا۔
وہ اسے اس کی چھت دلانے جا رہے تھے۔
اس نے جب رندھی آواز میں ابا جی کا شکریہ ادا کیا تو وہ برا مان گئے۔
’’نہیں شکریہ تو ہمیں تمہارا ادا کرنا چاہیے۔ اتنے سال تم نے زبان پر کوئی گلہ شکوہ لائے بغیر گزار دیا۔ اب ہماری باری ہے تمہارا اور بچوں کا حق ادا کرنے کی۔‘‘
وہ کچھ بول ہی نہ سکی۔
’’مما! میری فرینڈ ہے رملہ! اس نے اپنا گھر لیا ہے۔ اتنا شان دار ہے، اس کے گھر میں لان بھی ہے اور سوئمنگ پول بھی۔‘‘ اریبہ اسے بتانے لگی۔
’’اب ہم اتنا ہی بڑا گھر نہیں لیں گے۔ سارے پیسے گھر لینے میں تو نہیں لگا دینے نا۔ ہے نا مما!‘‘ واثق عقل مندی سے بولا۔
’’جی مما کی جان! اب دیکھو یہ فیصلہ تو تمہارے پاپا اور دادا ہی کریں گے کہ ہمیں کتنے میں گھر لینا ہے اور باقی کا کیا کرنا ہے۔‘‘ یہ بات تو اس نے سوچی بھی نہیں تھی۔ نہ عفان سے پوچھی تھی۔
اسے بے اختیار اپنے کم سن بیٹے پر پیار آیا۔ دور کی کوڑی لایا تھا۔
’’اچھا مگر گھر میں لان تو ہونا چاہیے نا اور درخت بھی جس پر جھولا لگائیں گے۔‘‘ اریبہ ٹھٹک کر بولی۔
’’ان شاء اللہ ضرور چھوٹے موٹے لان والا ہی گھر لیں گے۔‘‘ عاصمہ اسے پیار کر کے بولی۔
٭٭٭
’’مبارک ہو عدیل صاحب! آپ کی مسز ایکس پیکٹڈ ہیں۔‘‘ ڈاکٹر بشریٰ کو چیک کرنے کے بعد یقینی لہجے میں مسکراتے ہوئے بولی تو دونوں بے یقینی سے اسے دیکھنے لگے۔
’’ایسے کیا دیکھ رہے ہیں آپ … کیا آپ کو یقین نہیں آ رہا؟‘‘ ڈاکٹر بھی دونوں کے تاثرات دیکھ کر مسکرائی۔
’’ڈاکٹر صاحبہ … ہم تو … بالکل نا امید ہو چکے تھے۔‘‘ عدیل کپکپاتی ہوئی آواز میں بولا۔
’’اونہوں … نا امیدی تو کفر ہے عدیل صاحب اور آپ کی تو ماشاء اللہ سے ایک بیٹی بھی ہے پہلے سے۔ اکثر کیسز میں دیر ہو جاتی ہے۔ باقی تو اللہ کے کام ہیں۔ بہرحال آپ کو مبارک ہو۔ ابھی انہیں کسی میڈیسن کی ضرورت نہیں، انہیں کمزوری ہے۔ پھل، دودھ اور جوس دیں۔ پندرہ دن بعد دوبارہ چیک کرائیں تو انہیں کچھ میڈیسن اسٹارٹ کرائی جائیں گی۔‘‘ وہ انہیں دیکھ کر بولی۔
’’مگر ڈاکٹر صاحبہ کل تو ہم مری جا رہے تھے۔‘‘ بشریٰ کو یاد آیا۔
’’اب آپ کو گھر جا کر کچھ دن صرف ریسٹ کرنا ہے کیونکہ آپ کافی عرصہ بعد دوبارہ پریگننٹ ہوئی ہیں۔ اس لیے احتیاط ضروری ہے۔‘‘ ڈاکٹر نے فوراً کہا تو دونوں ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگی۔
’’لیکن ہمیں گھر جانے کے لیے بھی تو سفر کرنا پڑے گا ڈاکٹر صاحبہ!‘‘ عدیل نے توقف سے کہا۔
’’وہ آپ کریں مگر احتیاط سے جو باتیں میں نے کہی ہیں ان پر عمل کریں۔ انہیں ہر قسم کی ٹینشن سے دور رکھیں۔ خوش رہیں اور اچھی صحت مند خوراک دیں اور کچھ دن بیڈ ریسٹ، اوکے!‘‘
’’جی ڈاکٹر صاحبہ! بہت شکریہ۔‘‘ دونوں خوش خوش باہر آ گئے۔
’’مجھے یقین نہیں آ رہا عدیل!‘‘ بشریٰ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔
’’تو مجھے کون سا یقین آ رہا ہے۔ بشری! اتنے سالوں بعد … اتنے علاج کروائے ہم نے اور اب دیکھو بغیر کسی گمان خیال کے …‘‘
’’اللہ بہت مہربان ہے۔‘‘ بشریٰ رندھے گلے سے بولی۔
’’بہت مہربان۔ بہت زیادہ۔ ہم ہی اسے بھول جاتے ہیں۔ مثال کو بتا دیں ہوٹل جا کر؟‘‘ وہ شرارت سے بولا۔
’’اونہوں … بالکل نہیں، ابھی اسے ان باتوں کی کیا سمجھ۔‘‘ اس نے گھورا۔
’’اچھا بھئی۔ امی کو تو جلدی سے فون کر کے یہ خوش خبری سناؤں۔‘‘ وہ موبائل پر نمبر ملانے لگا۔
بشریٰ مسرور سی اسے دیکھنے لگی۔ اسے فوزیہ کی ساس کے طعنے یاد آنے لگے تو اس نے سر جھٹک دیا۔
٭٭٭
رات بہت اندھیری تھی۔ ایک تو بار بار لائٹ جا رہی تھی۔ دوسرے سردی بھی بہت تھی۔ آدھی رات کے بعد جو لائٹ گئی تو پھر آنا ہی بھول گئی۔
عاصمہ کو نیند نہیں آ رہی تھی۔ اس نے اٹھ کر بچوں کے کمرے میں ایمرجنسی لائٹ جلائی اور پھر صحن کی طرف آ گئی۔
آسمان کا رنگ عجیب مٹیالا سا ہو رہا تھا۔ جیسے کوئی آندھی رکی ہوئی ہو۔
’’بھلا ہو اس موسم میں کب آندھیاں آتی ہیں۔‘‘
وہ خود ہی دل میں ہنسی، مگر اس ہنسی میں عجیب سی بے چینی تھی۔
’’شاید میں کبھی اتنے دن اکیلی جو نہیں رہی، اس لیے دل گھبرا رہا ہے۔‘‘ وہ خود ہی تاویل گھڑنے لگی۔
زور، زور سے شائیں شائیں ہوا چلنے لگی۔ ہمسائے کے گھر میں لگے اونچے درخت کے پتے زور زور سے شور مچانے لگے۔
سردی بہت بڑھ گئی تھی۔ اس نے شال اپنے کندھوں کے گرد لپیٹی۔
’’پتا نہیں گاؤں میں موسم کیسا ہو گا۔ عفان تو کہہ رہے تھے۔ وہ صبح نماز پڑھنے کے بعد نکل آئیں گے۔ اگر بارش ہو گئی تو کہیں انہیں دیر سے نکلنا نہ پڑے۔ یا اللہ! موسم بالکل ٹھیک رہے۔ کچھ بھی نہ ہو اب تو۔ وہ دونوں صبح جلدی آ جائیں تو میرا جی ٹھہرے۔ کیسی فضا میں اداسی سی ہے۔ بچوں نے کھانا ٹھیک سے کھایا نہ میں نے، دل ہی نہیں کر رہا تھا۔‘‘
وہ انگلیوں پر ان کے جانے کے دن گننے لگی۔
’’کل جب آئیں گے تو بس شام میں ہی گھر دیکھنے چلیں گے۔ یہ کرائے کا ٹوٹا پھوٹا گھر، جس پر مالک مکان ایک روپیہ مرمت کے نام پر لگانے کو تیار نہیں۔ اب یہاں اور رہنے کو جی نہیں کرتا۔ اللہ کرے ہمارا بھی نیا لش پش کرتی ٹائلوں والا گھر ہو، جسے میں سجاؤں، سنواروں اور خوب صاف ستھرا رکھوں۔‘‘
وہ دل میں بہت سارے منصوبے بنانے لگی۔
’’اور وہ جو میں نے چھوٹی کمیٹی ڈال رکھی ہے اس سے اپنے بیڈ روم کا نیا فرنیچر لاؤں گی اور ساتھ میں میچنگ پردے بھی اور …‘‘
یہاں تک ہی سوچ پائی تھی کہ پھر گھبرا کر بے کل سی اٹھ کھڑی ہوئی اور اندر بچوں کے پاس آ کر بیٹھ گئی۔ ذرا دیر میں بارش ہونے لگی۔
عاصمہ کو جانے کب آڑے ترچھے ہو کر بیٹھے بیٹھے نیند سی آ گئی۔ وہ گہری نیند سوگئی۔ صبح آنکھ بھی دیر سے کھلی۔ ستم پیشتر بچوں کو تیار کر کے اسکول بھیجنا تھا۔ پھر موبائل پر فون کیا مگر فون بند تھا۔
’’سرپرائز دینا چاہتے ہوں گے۔‘‘ وہ مسکرا کر جلدی جلدی صفائی میں جُت گئی۔ کچھ دیر میں فون کی گھنٹی بجی۔ اس نے تیزی سے کال ریسیو کی اور کال ریسیو کرنے کے بعد اسے لگا گردش وقت اور دنیا سب کچھ تھم کر رہ گیا۔ کاش اس نے یہ کال کبھی ریسیو نہ کی ہوتی۔
وہ کسی پتھر کے بت کی طرح ساکت تھی۔ سیل فون اس کے ہاتھ سے پھسل کر کب زمین پر گرا۔ سیل کی بیٹری، سم سب نکل کر فرش پر بکھر گئے۔ مگر وہ تو جیسے ہوش و خرد سے بے گانہ ہو چکی تھی۔
٭٭٭
’’یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں زاہدہ بہن!‘‘ نسیم بیگم کے تو جیسے ہاتھوں کے طوطے ہی اڑے گئے۔
کتنی دیر تو وہ کچھ بول ہی نہیں سکی تھیں حواس جیسے گم سے ہو کر رہ گئے تھے۔
یہ جملہ توبہ وقت ان کے منہ سے اس وقت نکلا جب زبیدہ نے پھر سے اپنی بات دہرائی تھی۔
نسیم بیگم کو خود بھی اپنی آواز کی کپکپاہٹ واضح طور پرمحسوس ہوئی تھی۔
دوسری طرف سجے سنورے حلیے میں ہلکا سا میک اپ کیے موو کلر کا سوٹ پہنے فوزیہ چائے کے ساتھ ڈھیروں لوازمات کی ٹرالی لیے چلی آ رہی تھی۔ ماں کی کانپتی آواز سن کر جیسے وہیں گر سی گئی۔
’’نسیم بہن! اتنی پریشان کیوں ہو رہی ہیں آپ۔ خدا نخواستہ میں نے کچھ ایسی غلط بات تو نہیں بول دی۔‘‘ زبیدہ نے نسیم کی اڑی رنگت دیکھی تو گویا انہیں دلاسا دینے کو کہا۔
ان کا کہنے کا انداز ایسا تھا جیسے وہ اس طرح کی معمولی اور عام باتیں عموماً کرتی ہی رہتی ہیں۔
’’میں اصل میں … میں سمجھ نہیں سکی کہ آپ کس لیے مطلب … کیوں یہ بات کر رہی ہیں۔‘‘ نسیم بیگم پسینے میں بھیگتی ہتھیلیاں آپس میں جکڑ کر بے ربطگی سے بولیں۔ ایسا جملہ جس کا کوئی بھی مطلب نہیں تھا۔
’’کیوں … بھئی ظاہر ہے، اب ہم رشتہ دار ہیں۔ دکھ کی سکھ کی ہر بات تو ہم ایک دوسرے سے ہی کریں گے نا! اب خدا نخواستہ یہ بات میں جا کر اپنے محلے داروں سے یا تمہارے رشتہ داروں سے تو نہیں کر سکتی۔‘‘ زاہدہ بیگم نے اپنائیت کا فلسفہ پیش کر دیا۔
اور نسیم بیگم نے کچھ ایسی بے چارگی سے انہیں دیکھا جیسے کٹنے کو تیار بکری قصائی کی چھری کے نیچے پڑی ہو اور وہ قصائی اس سے پیار جتانے والی اپنائیت کی کوئی بات کرے۔
’’مجھ سے تو ظہیر نے کہا تھا۔ امی جا کر کرنے والی تو بات ہی نہیں۔ آپ خالہ جان کو بس فون کر دیں۔ عدیل بھائی کے ہاتھوں خود ہی رقم بھجوا دیں گی۔‘‘ زاہدہ نے گویا ایک پھلجڑی چھوڑی۔
اب کے نسیم بیگم کو بے چارگی اور بے بسی کے بجائے شدید غصہ کسی ابال کی طرح اپنی شریانوں میں دوڑتا ہوا محسوس ہوا۔
’’، فون کی بھی کیا ضرورت تھی بہن؟ کسی راہ چلتے ہرکارے سے کہلوا بھیجتیں۔ ہم تو گویا رقم ہتھیلی پر لیے دروازے میں کھڑے تھے، اسی کے ہاتھ روانہ کر دیتے۔، وہ زیادہ دیر تک خوف، مروت اور لحاظ کا بوجھ اٹھا نہیں سکیں۔ تڑک کر بول ہی اٹھیں۔
زاہدہ نے نسیم کے بدلے انداز پر ذرا سا ٹھٹک کر انہیں دیکھا۔
’’ہاں تو اپنے ہی اپنوں کے کام آتے ہیں۔ ایسا تو ہوتا ہی ہے۔‘‘ وہ پھر بھی ڈھٹائی سے بولیں۔
اور نسیم بیگم کا جی چاہا، اس عورت کو کرسی سمیت اٹھا کر گلی کیا بلکہ میں روڈ پر ڈال آئیں۔ زمانے بھر کی ٹریفک اس عورت کا قیمہ بنا جاتی تو بھی انہیں ٹھنڈ نہ پڑتی۔
’’ایسا نہیں ہوتا بہن، معاف کرنا۔‘‘ اب کے انہوں نے لحاظ، مروت، خوش اخلاقی سب کو اٹھا کر طاق پر رکھا اور بے لحاظ لہجے میں بولیں۔ زاہدہ تو لمحہ بھر کو کچھ بول نہ سکیں بس نسیم کے چہرے کی طرف دیکھ کر رہ گئیں۔
’’میں سمجھی نہیں آپ کیا کہنا چاہتی ہو نسیم بہن؟‘‘ اب کے لہجے میں زمانے بھر کی معصومیت اور شرافت سموکر نرمی سے بولیں مگر نسیم بیگم دو ٹوک بات کرنے کا فیصلہ کر چکی تھیں۔
’’ایسی کوئی مشکل بات نہیں بولی میں نے آپ کی طرح۔‘‘ وہی کٹھور لہجہ اور بدلی ہوئی نظریں۔
’’یعنی میں کیا سمجھوں … اس بات کا مطلب؟‘‘ زاہدہ کے لہجے میں اب کے کچھ دھمکی سی تھی۔
نسیم بیگم کی نظریں ایک دم سامنے دروازے کے باہر تیار حلیے میں کھڑی فوزیہ پر پڑیں جو ٹرالی کے ساتھ یوں بے بسی کی تصویر بن کھڑی تھی کہ نسیم بیگم اگلا جملہ ہی بولنا بھول گئیں۔
ان کی نظروں کے سامنے وہ منظر آ گیا جب فوزیہ، ظہیر کی دلہن بنی نکاح نامے پر دستخط کر رہی تھی۔
بے اختیار ان کا جی چاہا، دھاڑیں مار مار کر رونے لگیں یا کہیں سے گزرے وقت کی لگامیں ان کے ہاتھ آ جائیں تو وہ اس ظالم وقت کو واپس لے آئیں … مگر اب جیسے ان کے ہاتھوں میں کچھ تھا ہی نہیں۔ گزرتے وقت کی لگامیں نہ آنے والے وقت کی شقاوت۔
انہیں بہت بڑا اور صاف صاف نظر آنے لگا تھا۔
’’اتنی بڑی رقم … بیس لاکھ کم تو نہیں ہوتے بہن اور ہم تو سفید پوش لوگ ہیں، جن کا اللہ نے بھرم رکھا ہوا ہے۔ میں بیوہ عورت جو کچھ بھی ہے میرا بیٹا … اللہ اس کی لمبی عمر کرے، بال بچے دار ہے۔ ہم ماں بیٹی کا بوجھ بھی اسی نے اٹھا رکھا ہے تو ایسے میں یہ رقم۔ ہم … میں تو بالکل بھی انتظام نہیں کر سکتی۔‘‘
نسیم بیگم کو پتا بھی نہیں چلا۔ کب ان کی آواز آنسوؤں میں بھیگتی چلی گئی۔ لاکھ ضبط کرنے کی کوشش کی کہ خود کو کمزور ظاہر نہیں کرنا مگر بے بسی، بے کسی کی انتہا تھی۔ آنسو بہنے لگے۔
زاہدہ بیگم نے ایک ملامتی نظر اس آنسو بہاتی ماں پر ڈالی۔
’’سنا ہے بہن! بلکہ بیتی ہے یہ جگ بیتی نہیں آپ بیتی ہے کہ ہمارے معاشرے میں بیٹیوں کی مائیں ان کے پیدا ہوتے ہی جوڑ توڑ شروع کر دیتی ہیں۔ جوڑا، کپڑا، بستر، برتن، روپیہ پیسہ، سونا چاندی جو جڑسکے۔ خود میں نے تین بیٹیاں ایسے ہی بیاہی ہیں۔‘‘ زاہدہ تو جیسے بجلی کے ریڈیو کی طرح چل پڑیں۔
’’وہ بات ٹھیک ہے مگر اتنی رقم …‘‘ نسیم بیگم نے جب اپنے آنسو بے اثر دیکھے تو زور سے آنکھیں رگڑ کر دلیل سے بات کرنے کی کوشش کی۔
’’خود میں نے … تیسری والی بیٹی بیاہی … بیاہی کیا، بات ہی طے کی تھی کہ داماد بے روزگار بیٹھ گیا گھر میں … اپنا زیور بیچ کر پہلے اسے کاروبار کرایا جب اس کا کاروبار جم گیا تو پھر بیٹی کو اس کے گھر رخصت کیا اور یہ نہیں کہ نوید کو گھر والوں سے توڑ لیا۔ خیر سے ابھی تک میری تینوں بیٹیاں اپنی ساس نندوں کے ساتھ رہ رہی ہیں۔ بہن! میری تربیت ایسی نہیں کہ بچیاں جاتے ہی اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد الگ سے بنا کر بیٹھنے لگیں۔‘‘ وہ تو جیسے جلال میں آ گئیں فوزیہ وہ تو جیسے کھڑے کھڑے تھک گئی۔
اندر آ کر آہستگی سے سلام کر کے چائے کی ٹرالی ان کے آگے کھسکا کر ماں کی طرف دیکھنے لگی۔ ماں نے بھی آنکھوں سے فی الحال ٹلنے کا اشارہ دیا۔
’’چولہے پر دودھ رکھا ہے، ابلنے کو، دیکھ کر آتی ہوں۔‘‘ کہہ کر وہ تیزی سے باہر نکل گئی۔ اگرچہ زاہدہ کو یہ بات بھی بری لگی تھی مگر فی الحال وہ اس سے بڑی اور اہم بات سے دو دو ہاتھ کر رہی تھی سوجانے دیا۔
’’آپ کی سب باتیں ٹھیک سولہ آنے بہن … مگر میں۔ ہم۔ اتنی بڑی رقم یہ تو ہمارے لیے نا ممکن ہے۔‘‘
رک رک کر نسیم بیگم نے دو ٹوک انداز میں نہ سہی، معذرت خواہانہ انداز میں کہہ ہی ڈالا کیونکہ وہ جانتی تھیں عدیل تو یہ سن کر ہی بھڑک اٹھے گا۔
زاہدہ کو جیسے کسی نے کھینچ کر پتھر مار دیا ہو۔
تڑپ کر نسیم کی طرف دیکھا۔
’’آپ جانتی ہو نسیم بہن! جو کہہ رہی ہو آپ؟‘‘ وہ صاف دھمکانے والے انداز میں بولیں۔
’’میں نے سوچ سمجھ کر ہی آپ سے یہ بات کی ہے بہن!‘‘ نسیم نرمی سے بولیں۔
’’اور میں نے تو جیسے یوں ہی بول دیا سب۔‘‘ وہ تپ کر بولیں۔
’’میں نے یہ نہیں کہا۔‘‘ نسیم جلدی سے بولیں۔
’’بہرحال میں نے جو بات کرنی تھی کر ڈالی۔ ظہیر کو بیس لاکھ روپوں کی ضرورت ہے بطور قرض۔ یہاں اسے بزنس کا چانس بھی مل رہا ہے اور کینیڈا جا کر سیٹل ہونے کا بھی … رقم کا بندوبست ہو جائے تو پھر آپ لوگوں کی صلاح سے دونوں میں سے ایک کام کر لے گا۔‘‘ وہ یوں بات کرنے لگیں جیسے نسیم بیگم نے رقم کے بندوبست کی ہامی بھر لی ہو اور وہ اب آگے کا پلان سنا رہی ہوں۔
’’اور یوں بھی بہن! ظہیر بیٹے کا بزنس جمتا ہے یا اچھی نوکری، اچھے ملک میں جا کر سیٹ ہوتا ہے۔ اس کا فائدہ صریحاً فوزیہ بیٹی کو ہو گا۔ ہم دونوں میاں بیوی ہوں گے نا بعد میں تو اللہ رکھے میرے شوہر کو، اس کی پنشن ہی بہت ہے ہم دونوں کو، چھوٹا بیٹا اللہ رکھے ابھی سے اپنے پیڑوں پہ کھڑا ہے، اسے تیرے میرے سہارے کی ضرورت بھی نہیں۔ اچھی نوکری پر لگا ہے۔ یہ ظہیر ہی ہے جسے خوب آگے بڑھنے کی لگن ہے۔‘‘ وہ عجیب انداز میں اپنا پلو صاف بچا رہی تھیں جیسے یہ سب کچھ فوزیہ نے ظہیر سے ڈیمانڈ کی ہو۔
’’نوکری تو اچھی بھلی لگی تھی ظہیر کی۔‘‘ نسیم بیگم مردہ آواز میں بولیں۔ یہ بلا یوں گلے سے اترتی نظر نہیں آ رہی تھی۔
’’خاک نوکری تھی۔ تیس ہزار میں بتاؤ۔ بھلا شادی کے بعد کیا گزارہ ہو گا۔ اس نے تو فوزیہ کے لیے بڑے اعلیٰ خواب دیکھ رکھے ہیں کہ اسے عالی شان گھر لے کر دینا ہے۔ بڑی سی گاڑی، نوکر یہ سب کچھ یونہی تو نہیں ہو جاتا۔ اچھا بزنس ہو گا تو …‘‘
’’بہن! آپ ظہیر بیٹے سے بات کیجیے … میں نے اپنی بیٹی کی ایسی تربیت نہیں کی کہ وہ ان خواہشات کے لیے خدا نخواستہ بعد میں ظہیر بیٹے کو تنگ کرے گی۔ بڑی صابر اور سلیقہ مند ہے میری بیٹی۔ ظہیر کی تھوڑی تنخواہ میں بھی سلیقے سے گزارہ کر لے گی۔‘‘ نسیم رک رک کر بولیں۔
زاہدہ ان سنی کرتے ہوئے ٹرالی سے گلاب جامن اٹھا کر کھانے لگیں۔
’’آئے نہیں تمہاری بہو اور بیٹا ہنی مون سے؟‘‘ وہ یوں بات کر رہی تھیں جیسے ان کے درمیان بڑے دوستانہ ماحول میں باتیں چل رہی ہوں۔
’’آج آ جائیں گے۔‘‘ نسیم پست لہجے میں بولیں۔
’’تو ٹھیک ہے نا، تم عدیل بیٹے سے بات کر لینا۔ وہ بچہ بڑا سمجھ دار ہے۔ موقع کی، رشتہ کی، نزاکت کو سمجھتا ہے یقیناً وہ سمجھ لے گا کہ اس سب میں ہماری کوئی لالچ یا غرض نہیں۔ یہ تو سراسر فوزیہ بیٹی کے شان دار مستقبل کی گارنٹی ہے۔ تم لوگ رقم سیدھا اپنے داماد کے ہاتھ میں دینا اور وہ کہہ رہا تھا۔ میں تو تین چار سالوں میں جیسے ہی سیٹ ہوں گا۔ خود اپنے ہاتھوں سے واپس کر دوں گا۔ خدا نخواستہ کھا جانے کا ارادہ اس کا بھی نہیں۔‘‘ وہ اب بڑی دل جمعی سے ٹرالی پر ہاتھ صاف کر رہی تھیں۔
نسیم بیگم سے تو کچھ بولا ہی نہیں گیا۔ ان کا تو دل جیسے نیچے ہی نیچے بیٹھا جا رہا تھا۔ دونوں ہاتھوں سے اپنے جلتے گالوں کو تھپتھپا رہی تھیں، ان کا بی پی اوپر ہی اوپر جا رہا تھا۔
’’جلدی نہیں ہے، دو تین ماہ کا ٹائم لے لیں۔ آپ لوگ۔ اتنے میں تو رقم کا بندوبست ہو ہی جائے گا۔ اتنے میں ظہیر بھی اپنی تیاری کر لے گا۔ عدیل بیٹے کی جتنی تنخواہ ہے۔ اس نے بہت کچھ بچا رکھا ہو گا اور بہن! یہ رقم کوئی بہت بڑی نہیں ہو گی عدیل بیٹے کے لیے۔ تم خواہ مخواہ پریشان ہو رہی ہو۔ دیکھ لینا تم عدیل سے بات کرو گی تو وہ ایک منٹ نہیں لگائے گا سوچنے کے لیے۔ یہ چائے ٹھنڈی نہیں ہو گئی … فوزیہ بیٹی گرم چائے تو لے آؤ۔ اس کو گرم کرو گی تو ذائقہ ہی بدل جائے گا۔ میرے لیے ایک کپ الگ سے بنا لانا۔ اللہ تمہیں خوش رکھے۔ سدا سہاگن رہو۔‘‘ وہ مکارانہ انداز میں دعائیں دیتے ہوئے اب پلیٹ میں دہی بڑے ڈالے بہت مزے سے کھا رہی تھیں۔
اور نسیم بیگم کو ان کی سدا سہاگن، والی دعا ایک خوفناک دھمکی لگ رہی تھی مگر وہ کچھ بول نہیں پا رہی تھیں، جیسے ان کی زبان پتھر کی ہو گئی ہو۔
٭٭٭
’’کیا بات ہے عدیل! آگے کس بات کا رش ہے، سڑک بلاک ہے کیا؟‘‘ بشریٰ نے آ کر ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھتے عدیل سے بے چینی اور تھکن بھرے لہجے میں پوچھا۔ وہ لوگ میں روڈ پر تھے اور آگے لوگوں کا ہجوم ہی ہجوم تھا۔ گاڑی آگے نہیں جا سکتی تھی۔
عدیل نے کچھ دیر انتظار کیا پھر آگے جا کر پتا کر کے آیا تھا۔
’’بہت ظلم ہو رہا ہے اس دنیا میں۔ بہت ظلم۔‘‘ عدیل کے چہرے پر خوف، دکھ اور وحشت سی تھی۔
’’کیا ہوا … خیریت تو ہے نا!‘‘ بشریٰ گھبرا کر بولی۔
’’راستہ فی الحال بلاک ہے۔ یہ دائیں طرف سے ایک چھوٹی ذیلی سڑک جاتی ہے۔ ہمیں وہاں سے جانا پڑے گا آگے۔‘‘ عدیل کے چہرے پر بہت سنجیدگی تھی جیسے وہ مزید بات نہیں کرنا چاہتا۔
’’عدیل پلیز۔ بتائیے نا۔ میرا دل گھبرا رہا ہے۔‘‘ وہ اس کی مسلسل چپ پر بولی۔ اسے واقعی گھبراہٹ سی ہونے لگی تھی۔ عدیل ایسے کبھی چپ نہیں ہوا تھا دونوں جب ساتھ ہوتے تھے تو ان سے خاموش رہا ہی نہیں جاتا تھا۔
’’قتل … دو قتل ہوئے ہیں۔‘‘ وہ بہت مشکل سے بولا تھا۔
’’کیا؟‘‘ بشریٰ کا دل جیسے بند ہونے لگا، وہ مڑ کر خوف زدہ نظروں سے دیکھنے لگی۔
’’اسی لیے میں تمہیں نہیں بتا رہا تھا۔ تم پلیز پریشان نہیں ہو۔‘‘ عدیل اس کی اڑی رنگت دیکھ کر بولا۔
’’کک … کیسے ہوئے قتل؟‘‘ اس کی رنگت زرد ہوتی جا رہی تھی۔
’’ڈکیتی کا معاملہ ہے۔ دونوں شاید باپ بیٹے تھے۔ رقم تھی کافی بڑی ان کے پاس، اس کے لیے۔ رقم بھی لے گئے اور دونوں کو۔‘‘
وہ بولتے ہوئے چپ ہو گیا۔ مزید اس سے بولا ہی نہیں جا رہا تھا۔
’’ابھی تو پولیس آئی ہے، پوسٹ مارٹم ہو گا۔ پتا نہیں ان کے گھر والوں کو کسی نے اطلاع دی یا نہیں۔ کیا بیتے گی ان پر جب اچانک خبر … کتنے ظالم ہوتے ہیں۔ یہ لوگ۔‘‘ عدیل کی آواز بھرا گئی اور بشریٰ تو جیسے ساکت سی ہو گئی تھی۔
٭٭٭

جواب لکھیں

%d bloggers like this: