...................... .................

عشق ہے صاحب ۔۔۔ صباحت رفیق چیمہ

باب ۱
نور سے دور ہوں ظلمت میں گرفتار ہوں میں
کیوں سیہ زور، سیہ بخت، سیہ کار ہوں میں
آج جوزفینا رسکارڈو کی اٹھارویں سالگرہ تھی، جوزفینا رسکارڈو بہت خوش تھی ایک تو ٹومس روبرٹو آج سارا دن اُس کے ساتھ تھا۔ اور اب وہ اُس کی رات خوبصورت بنانے کے لیے اُس کی پسندیدہ جگہ منڈالا بیچ کلب لے آیا تھا۔ یہ کلب میکسیکو کے خوبصورت کلبز میں سے ایک تھا۔ دنیا بھر سے لوگ یہاں وزٹ کے لیے آتے تھے، اس نے ٹومس کے ساتھ کچھ دیر سوئمنگ کی اور پھر دونوں سمندر سے نکل آئے اور گیلی ریت پہ چلتے ہوئے بیچ چیئرز کے قریب آئے اور دونوں چیئرز پہ نیم دراز لیٹ گئے۔ منڈالا بیچ کلب رنگ برنگی روشنیوں میں نہایا ہوا تھا۔ اویکنگ یور سینسز میں میوزک آن کر دئیے گئے تھے، کلب میں موجود سارے لوگ اس مد ہوش کر دینے والے ماحول میں مد ہوش ہو رہے تھے ویٹر ٹرے میں رنگ برنگے مشروب کے گلاس لیے اُن کے قریب آیا، کیا آپ وائن لینا پسند کریں گے؟ دونوں نے اپنے اپنے پسندیدہ مشروب کے گلاس اٹھا لیے اور گھونٹ گھونٹ اپنے اندر اُتارنے لگے، کچھ دیر بعد اُس نے ویٹر کو اشارہ کیا جس نے اُن سے خالی گلاس لے لیے۔ ’ٹومس۔۔۔‘ جوزفینا نے خمار آلود لہجے میں اُسے پکارا، ’یس سویٹ ہارٹ؟‘ ٹومس نے اُس کی طرف رُخ کر کے اُس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا تو اُس نے اُس کے نزدیک ہوتے ہوئے اپنا سر اُس کے سینے پہ رکھ دیا اور اپنی آنکھیں بند کر لیں، جب اُسے ٹومس پہ زیادہ پیار آتا تھا۔ وہ ایسے ہی کرتی تھی یہ اس کے اظہار کا ایک طریقہ تھا۔ ٹومس نے مُسکراتے ہوئے اپنے دونوں بازو اُس کے گرد لپیٹ کے اُسے خود میں سمو لیا، اور وہ آہستہ آہستہ ایک دوسرے میں مد ہوش ہونے لگے۔
٭٭
وعدہ کرتا ہوں تجھے رُلاؤں گا نہیں
حالات جو بھی ہوں تجھے بھلاؤں گا نہیں
چھُپا کے اپنی آنکھوں میں رکھوں گا تجھ کو
دُنیا میں کسی اور کو دکھاؤں گا نہیں
وہ بارہ سال کا تھا۔ جب اُس کی خالہ عزابیلا اور خالورسکارڈو اپنی چار سالہ بیٹی کے ہمراہ ڈنمارک سے میکسیکو آئے تھے وہ مزاٹلان کے سمندر کی سیر کرنا چاہتے تھے، جس کے لیے اُنہیں ال ایسپنازوڈیل ڈیابلو پہاڑ جسے شیطان کی ریڑھ کی ہڈی بھی کہا جاتا ہے جو میکسیکو میں ڈورینگو کے پاس ہے وہ کراس کر کے جانا پڑنا تھا۔ یہ ایک پانچ گھنٹے کا کراس ہے جو ڈورینگو اور مزاٹلان کو منسلک کرنے کی سڑک ہے، جب وہ جانے لگے تو اُس کے دل میں نجانے کیا آیا کہ اُس نے اپنی خالہ کا ہاتھ پکڑ لیا اور اُن کی بیٹی کی طرف اشارہ کر کے بولا ’پیاری خالہ آپ اور خالو مزاٹلان سے ہو آئیں لیکن یہ ڈول میرے پاس رہنے دیں میں اس کے ساتھ کھیلوں گا اور اسے رونے بھی نہیں دوں گا‘ تو عزابیلا کو بھی اُس کی بات پسند آئی تھی کہ اس طرح وہ زیادہ بہتر انجوائے کر سکیں گے سو وہ اپنی بیٹی کو اُن کے پاس چھوڑ کے روانہ ہو گئے اور سفر کے دوران اُن کی کار حادثے کا شکار ہو گئی ال ایسپنازوڈ یلڈ یابلو کے پہاڑ نے اُن کو نگل لیا تھا۔ لیکن وہ اپنی کہی بات پوری کر رہا تھا۔ ، اُس کے ماں باپ نے اُسے بھی اُس کے سکول داخل کروا دیا وہ اُس کے ساتھ کھیلتا اور اُس کا ایسے خیال رکھتا جیسے ایک ماں اپنے بچے کا رکھتی ہے وہ اُس کے منہ سے نکلی ہر بات پوری کرتا چاہے وہ غلط ہی کیوں نہ ہواس کی غلط باتیں بھی ماننے پر وہ اپنے ماں باپ سے بہت دفعہ ڈانٹ کھا چکا تھا۔ لیکن وہ بس اتنا کہتا ’سوری مام اینڈ ڈیڈ اس میں میری جان ہے میں اسے کبھی ناراض نہیں کر سکتامیں اس کی ہر خواہش پوری کروں گا چاہے اس کی خواہش کو پورا کرنے کے لیے مجھے اپنی جان ہی کیوں نا دینی پڑے‘۔ ویسے تو اُس کے ماں باپ اور دونوں بہنیں وکٹوریہ اور نٹالیہ بھی اُس سے بہت پیار کرتی تھیں لیکن اُن کا پیارٹومس روبرٹو کے پیار کے آگے کچھ بھی نہیں تھا۔ ، اور جوزفینا رسکارڈو کو اُس کی اتنی عادت ہو گئی تھی کہ وہ اُس کے بغیر ایک دن بھی نہیں رہ سکتی تھی وہ اُس سے دس سال بڑا تھا۔ لیکن وہ اُس کا بہترین دوست تھا۔ جو اس کی ہر بات فوراً مان لیتا تھا۔ جو اُس کو تکلیف میں نہیں دیکھ سکتا تھا۔ جو اُس کی آنکھ میں ایک آنسو تک نہیں آنے دیتا تھا۔ ، سال گزرتے گئے اور اُن کا پیار بھی دن بدن بڑھتا گیا۔ وہ اٹھائیس سال کا ہو گیا تھا۔ اور اُسے اپنی پریکٹیکل لائف شروع کیے چار سال ہو گئے تھے۔
٭٭
بنت حوا نے کھول رکھے ہیں بازار گناہ
ابن آدم ہے خریدار خُدا خیر کرے
دوپہر کے تین بجے کا وقت تھا۔ کہ ایک لڑکی بلیک عبایا پہنے ایک ہاتھ سے سکارف کے پلو کو پکڑ کے چہرے کو ڈھانپے دوسرے ہاتھ میں ہینڈ بیگ تھا۔ مے یونیورسٹی کے گیٹ سے باہر نکلی تو ایک بلیو کلر کی کار اُس کے پاس آ کے رُکی تھی اور وہ فرنٹ ڈور اوپن کر کے بیٹھ گئی تو کار دوبارہ سڑک پہ فراٹے بھرنے لگی اُس نے چہرے سے نقاب ہٹا دیا اُس نے لمحہ بھر کے لیے اُس کی طرف دیکھا تھا۔ اور دوبارہ نظریں سڑک پہ مرکوز کر دیں اور بولا تم واقعی ہی خوبصورت ہو یا میری نظر کا قصور ہے؟۔ جناب آپ کی نظر کا قصور نہیں میں ہوں ہی خوبصورت۔ ایک ادا سے کہا گیا تھا۔ تو وہ مُسکرا کے بولا اچھا جی۔ اور کار کا رُخ دائیں سائیڈ پہ نظر آتی سُنسان گلی کی طرف موڑ دیا اور کچھ آگے جا کے اُس نے بریک لگائی تھی اور کار کا انجن بند کر کے اُس کی طرف متوجہ ہوا، اُس نے اُس کی گود میں رکھے ہاتھوں کو اپنے دونوں ہاتھوں میں تھا۔ م لیا اور اُس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا اب ادھر تو کوئی نہیں دیکھ رہا نا میری جان۔ وہ اُس کی بات کا مطلب سمجھ کے اپنے آپ میں سمٹی تھی۔ احمر مجھے یہ سب ٹھیک نہیں لگ رہا۔ یار اس میں غلط ہی کیا ہے بس ایک کس ہی تو کرنی ہے ویسے تم کہتی ہو کہ تم مجھ سے محبت کرتی ہو اور یہ کیسی محبت ہے کہ تم میری ایک چھوٹی سی خواہش نہیں پوری کر سکتی؟ وہ اُسے لفظوں کے جال میں لپیٹ رہا تھا۔ اور وہ لپٹ رہی تھی میری محبت پہ شک نہ کرو محبت ہے تو تمہاری بات مان کے تمہارے ساتھ آئی ہوں نا۔ اگر آ گئی ہو تو پھر میری بات ماننے میں کیا حرج ہے میری جان؟۔ اُس نے اُس کے دونوں ہاتھوں کو اپنے لبوں سے چھُوا تھا۔ اور دھیرے سے اُسے اپنے قریب کر لیا، وہ شیطان کے بہکاوے میں آ گئے تھے اور شیطان اپنی کامیابی پہ خوشی سے جھوم رہا تھا۔ پا گلوں کی طرح قہقہے لگا رہا تھا۔ ، ہمارے نبیﷺ نے پہلے ہی ہمیں بتا دیا تھا۔ کہ کوئی نامحرم مرد و عورت آپس میں تنہائی نا کریں کیونکہ اُن کے درمیان تیسرا شیطان ہوتا ہے لیکن وہ اپنے نبیﷺ کی بات نہ مان کے اپنے لیے دنیا اور آخرت کی تباہی خرید رہے تھے۔۔
تو تم اس دن کے منتظر رہو
جب آسمان ایک ظاہر دھُواں لائے گا
٭٭
جوزفینا رسکارڈو اپنی دوست میریم کے ساتھ کو کو بونگو شاپنگ کے لیے آئی تھی، شاپنگ کرنے کے بعد وہ میکسیکو کے سُہانے موسم کو انجوائے کرنے کے لیے پیدل مارچ کرنے لگیں کہ اُس کی نظریں سامنے سپائیڈر مین کے مجسمے کے پاس کھڑے تین مشرقی لڑکوں پہ پڑی تو اُس کے اُٹھتے قدم اُدھر ہی رُک گئے وہ بس درمیان والے کو دیکھتی ہی گئی اور ایک عجیب سے احساس نے اُسے گھیرنا شروع کر دیا اُسے سمجھ نہیں آ رہا تھا۔ کہ اُس کے ساتھ ایسا کیوں ہو رہا ہے وہ اُن دونوں لڑکوں سے منفرد تھا۔ بلکہ اس وقت کو کو بونگو میں موجود سب لوگوں سے۔ وہ بلیک شلوار قمیض میں ملبوس دائیں کندھے پہ کالی چادر ڈالے ہوئے تھا۔ اور کالی مونچھوں کے نیچے مُسکراتے لب بلا شبہ وہ دوسروں کو ہیپنوٹائز کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا تھا۔ وہ سب لوگوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا تھا۔ لیکن اُسے ہیپنوٹائز نہ تو اُس کی خوبصورتی کر رہی تھی نہ ہی خالص مشرقی سٹائل۔ یہ کچھ اور تھا۔ ایسے جیسے وہ اُس کے جسم کا حصہ ہو اور وہ ایک جادوئی کشش کی طرح اُسے اپنے پاس کھینچ رہا ہو جیسے ایک مقناطیس دوسرے مقناطیس کو کھینچتا ہے اُس کے قدم اُس کی طرف اُٹھنے لگے اُسے نہ تو میریم کی آوازیں سُنائی دے رہی تھیں اور نہ ہی اُس کے علاوہ کوئی دکھائی دے رہا تھا۔ جب وہ اُس کے بالکل سامنے جا کھڑی ہوئی تب اُس نے اُس کی طرف دیکھا تھا۔ ڈارک براؤن آنکھوں کا وہ اُس کی طرف دیکھنا اُس کے دل و دماغ میں ہلچل مچا گیا تھا۔ اور اُس کے دماغ میں ایک جھماکا ہوا تھا۔ اُسے یاد آ گیا تھا۔ آپ وہ ہی ہو نا؟۔ اُس نے گم صم انداز میں کنفرم کرنے کے لیے پوچھا تھا۔ اپنے سوال کے جواب میں اُسے اُس کے ساتھ کھڑے دونوں لڑکوں کا قہقہہ سُنائی دیا تھا۔ جبکہ اُس لڑکے نے اپنے قہقہے کو کنٹرول کر لیا تھا۔ لیکن وہ اپنی مُسکراہٹ کنٹرول نہیں کر سکا تھا۔ وہ کون میڈم؟۔ اُس نے مُسکراتے ہوئے پوچھا تھا۔ وہ ہی جو پچھلے ہفتے مجھ سے ملا تھا۔ کدھر میڈم؟۔ اُس نے حیرانی سے پوچھا۔ ۔ خواب میں۔ اُس کے جواب نے اُسے بھی قہقہے لگا نے پہ مجبور کر دیا تھا۔ ایسے جیسے اُس نے بے تحاشہ مزاحیہ لطیفہ سُنایا ہو۔ جوزفینا۔۔ ۔ تم پاگل ہو گئی ہو، کیا بیوقوفوں والی حرکتیں کر رہی ہو؟‘ میریم نے اُسے بازو سے پکڑ کے اپنی طرف گھماتے ہوئے کہا تو اُس نے بازو چھڑواتے ہوئے کہا میریم میں مذاق نہیں کر رہی۔ اور وہ دوبارہ اُن کی طرف گھومی تھی۔ بائے گاڈ میں مذاق نہیں کر رہی میں سچ بول رہی ہوں میں نے خواب میں دیکھا تھا۔ میں راستہ بھول جاتی ہوں تب میں گلیوں میں بھٹک رہی ہوتی ہوں میں پُکارتی ہوں کوئی ہے کوئی ہے تب مجھے اپنے پیچھے سے آواز سُنائی دیتی ہے میں ہوں۔ میں دیکھتی ہوں تو آپ کھڑے ہوتے ہو آپ کہتے ہو۔ اس سے پہلے آسمان سے دُخان آئے اور تمہیں تباہ و برباد کر دے تم سیدھے راستے کو ڈھونڈ لو۔ میں آپ سے پوچھنا چاہتی ہوں کہ یہ دُخان کیا ہے؟ اور مجھے کیوں تباہ و برباد کرے گا اور سیدھا راستہ کون سا ہے لیکن آپ اُدھر سے چلے جاتے ہو میں آوازیں بھی دیتی ہوں میں آپ کے پیچھے بھی جاتی ہوں لیکن آپ میری آواز ہی نہیں سُنتے اور نہ ہی رُکتے ہو اور میں بھاگ بھاگ کے تھک کے گر جاتی ہوں۔ اس سے پہلے کہ وہ اُسے پاگل سمجھ کے اُدھر سے چلا جاتا اُس نے جلدی سے اُسے بتایا تھا۔ اور اُن تینوں کے قہقہے بیک وقت تھمے تھے اور وہ ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔
٭٭
میرا بھیا میری جان ہے
میری بہنا میرا مان ہے
امی ریاح سے میرا بیگ تیار کروا دیجیے گا میں کل پندرہ دنوں کے لیے دوستوں کے ساتھ سیر کے لیے میکسیکو جا رہا ہوں بابا جان سے میں نے اجازت لے لی ہے۔ اُس نے صحن میں صوفہ پہ بیٹھی عائشہ کے پاس بیٹھتے ہوئے کہا جو عصر کی نماز کے بعد تسبیح پڑھنے میں مصروف تھیں۔ اچھا نماز پڑھ کے آتی ہے تو کہتی ہوں، تم مجھے یہ بتاؤ میکسیکو کدھر ہے؟۔ امی یہ شمال امریکہ کا ایک شہر ہے۔ اُس نے عائشہ کے گلے میں بازو ڈالتے ہوئے کہا۔ ۔ تو بیٹا پھر دفع کرو بے حیاؤں میں جا کر کیا کرنا ہے۔ امی جان اب بے حیاؤں کے لیے ہم قدرت کے نظارے دیکھنا چھوڑ دیں؟ یقین مانیں کیا شہر ہے میں انٹرنیٹ سے تصویریں دیکھی تھیں چاروں طرف سے پہاڑوں میں گھرا ہوا ہے اور لوگ تو خاص طور پہ سمندر دیکھنے جاتے ہیں۔ کدھر جانے کی بات ہو رہی ہے ویر جی؟۔ ریاح نے اُس کے ساتھ بیٹھتے ہوئے کہا پہلے تم غائب ہوتی ہو پھر اچانک چڑیلوں کی طرح حاضر ہو جاتی ہو۔ اُس نے اُس کے بنا آواز پیدا کیے آنے پہ کہا
امی دیکھ لیں آپ کے بیٹے نے مجھے چڑیل کہا ہے۔ صرف میرا بیٹا ہی نہیں تمہارا بھائی بھی ہے تم خود ہی نمٹو، پھر بھائی کا بیگ تیار کر دینا اُس نے صبح دوستوں ساتھ میکسیکو جانا ہے میں کچن کا باقی کام خود دیکھ لیتی ہوں۔ عائشہ نے اُٹھتے ہوئے کہا۔ ۔ جائیں میں نہیں بولنا آپ سے۔ ریاح نے اُس کے جانے کا سُن کے منہ پھلا کے کہا۔ ’کیوں نہیں بولنا میرے سوہنے نے‘ اُس نے اُسے بازو کے گھیرے میں لیتے ہوئے لاڈ سے کہا ’آپ ہر جگہ خود ہی چلے جاتے ہیں کبھی یہ نہیں کہا کہ بہن کو بھی ساتھ لے جائیں اور اوپر سے چڑیل کہتے ہیں۔ ’لو میں تو مذاق کر رہا تھا۔ میری بہن تو ملکہ ہے‘ ’سچ؟‘اُس نے خوش ہوتے ہوئے کہا ’ہاں۔۔ ۔ چڑیلوں کی‘ ریاح نے دونوں ہاتھوں سے اُس کے بال پکڑ لیے اور اُس سے اپنی ہنسی کنٹرول کرنا مشکل ہو گیا کچن کی کھڑکی سے عائشہ بھی دونوں بہن بھائی کو دیکھتے مُسکرا دیں دونوں کی چہکار سے ہی تو یہ حویلی آباد لگتی تھی ’بھیو آپ سچ میں بہت بُرے ہیں میں نہیں اب آپ سے بولنا‘ ’ٹھیک ہے نا بولنا بال تو چھوڑ دو میرے‘ تو اُس نے غصے سے زور سے کھینچ کے اُس کے بال چھوڑ دیے ’جب تمہاری بھابھی آئے گی نا تو پھر سب چلیں گے پھر تم اپنی بھابھی ساتھ خوب انجوائے کرنا‘ اُس نے اُس کی ناک دباتے ہوئے کہا ’مطلب آپ شادی کے لیے مان گئے؟‘وہ سب بھول بھال کے خوشی سے چیخی تھی ’ہاں نا اسی لیے تو بابا جان نے اجازت دی ہے جانے کی‘ وہ اُس کے ساتھ لپٹ گئی ’بھیا آپ بہت اچھے ہو‘ ابھی وہ بُرا کہہ رہی تھی اور اب اچھا، بہنیں بھی نا کتنی معصوم ہوتی ہیں بات بات پہ ناراض ہونا اور پھر فوراً مان بھی جانا وہ مُسکرا دیا اور اُس کا سر چوم کے کہا ’جاؤ میری جان میرا بیگ تیار کر دو میں بابا جان کو ڈیرے سے لے آؤں‘ تو ریاح نے اُس سے الگ ہوتے ہوئے کہا ’ویر جی سچ میں آج آپ نے دل خوش کر دیا ہے آج بیگ کیا آپ کی ہر بات مان لوں گی وہ بھی بنا رشوت کے‘ اُس نے اُٹھتے ہوئے شرارتی مُسکراہٹ کے ساتھ کہا اور اُس کے کمرے کی طرف بڑھ گئی وہ بھی مُسکراتے ہوئے باہر کی طرف چل دیا۔
٭٭٭
باب ۲
تقدیر نے ہمیں آپ سے ملوایا
خوش نصیب تھے ہم؟
یا وہ پل تھا۔ حسین؟
وہ تینوں دوست ہوسٹل کانکون نیوٹرا میں ٹھہرے تھے جو کوکو بونگو سے تین سو میٹر کے فاصلے پہ تھا۔ وہ رات کے دس بجے پہنچے تھے سو وہ اگلا دن سوتے رہے اور پھر چار بجے وہ فریش ہونے اور کھانا کھانے کے بعد ہوسٹل سے نکلے تھے اور ٹیکسی لے کے کوکو بونگو پہنچے اُنہوں نے منڈالا بیچ کلب کی رات کی ٹکٹس بُک کروائی تھیں جس کی ٹائمنگ شام چھ بجے سے شُروع ہو کے صبح چھ بجے تک تھی ابھی ایک گھنٹہ رہتا تھا۔ چھ ہونے میں تو وہ سڑکوں پہ چکر لگانے لگے، ابھی دس منٹ ہی گُزرے تھے کہ عمیر بولا ’یار اب بس رُک جاؤ ایک جگہ مجھ سے نہیں چلا جا رہا‘ اُن دونوں نے قہقہہ لگایا اور علی بولا ’بس یہ ہی تو موٹے لوگوں کا مسئلہ ہوتا اس لیے تو کہتا ہوں کم کھایا کرو‘ ’ہاں تمہیں بس موقع چاہیے ہوتا میری سمارٹنیس پہ چوٹ کرنے کا دیکھو لڑکیاں کیسے مجھے دیکھ رہی ہیں‘ ’وہ بس تمہیں ہی نہیں ہم تینوں کو دیکھ رہی ہیں واقع سچ ہی سُنا تھا۔ مشرقی لڑکوں پہ یہ لڑکیاں مرتی ہیں لیکن ہم نے ان غیر مسلموں کا اچار ڈالنا ہے کیا؟ کیوں چوہدری صاحب؟‘ ’ہاں بالکل ٹھیک کہا‘ وہ اثبات میں گردن ہلا کے بولا ’وہ دیکھو لگتا چوہدری صاحب کی پرسنلٹی نے اُس لڑکی کو ہیپنوٹائز کر دیا ہے دیکھو کیسے دیکھتی جا رہی ہے‘ عمیر نے کہا تو علی بھی اُس کی نظروں کی سمت دیکھ کے بولا ’ہاں یار‘ ’تو دیکھنے دو مجھے کیا‘ اُس نے کہا لیکن جب وہ اُن کی جانب آنے لگی تو علی بولا ’یار وہ ایسے تمہیں دیکھ کے تمہاری طرف آ رہی ہے جیسے پچھلے جنم میں تم اُس سے مل چُکے ہو،‘ وہ تینوں ہنسنے لگے اور جب اُس نے پاس آ کے بولا کہ آپ وہ ہی ہو نا؟ تو علی اور عمیر نے بے ساختہ قہقہہ لگایا تھا۔ علی اُس کے کان میں بولا دیکھ لو میں ٹھیک کہا تھا۔ تم کہیں سچ میں تو نہیں مل چکے؟ وہ اُسے ان سُنا کر کے اُس لڑکی سے بولا وہ کون میڈم؟ اور اُس کے جواب سُن کے اُسے لگا کہ وہ پاگل ہے اس لیے وہ اپنے قہقہے نہ روک سکا لیکن اُس کا خواب سُن کے اُسے لگا کہ وہ سچ کہہ رہی ہے کیونکہ اُس کا اپنا نام دُخان تھا۔ اس لیے اُس نے پوچھا کہ پھر کیا ہوا اور اُس کی بات سُن کے باری باری دونوں کی طرف دیکھا اور پھر اُس کی طرف دیکھ کے بولا ’میڈم کل میں ادھر ہی چار بجے آپ کا انتظار کروں گا اور پھر مطلب بتا دوں گا ابھی میں کلب جا رہا ہوں۔ ‘ ’میں کیسے مان لوں کہ تم آؤ گے؟‘ ’میڈم یہ کارڈ رکھ لیجیئے اگر میں نہ آؤں تو آپ اس ایڈریس پہ آ جائیے گا‘ اُس نے والٹ سے ایک کارڈ نکال کے اُسے دیا اور آگے کی طرف قدم بڑھا دئیے علی اور عمیر بھی اُس کے پیچھے چل دیے اور جوزفینا رسکارڈو تب تک اُسے مڑ کے دیکھتی رہی جب تک وہ منڈالا بیچ کلب میں داخل نہیں ہو گئے۔
٭٭
دونوں پاگل، دونوں وحشی، دونوں کو اک جیسا روگ
اک دوجے کو کیا سمجھائیں گے اک دوجے کو کیا منائیں گے
ٹومس روبرٹو آفس کے کام کے سلسلے میں ایک ہفتے کے لیے دوسرے شہر گیا ہوا تھا۔ جب واپس آیا تو سٹروگری کو پریشان پایا، کیا ہوا ہے مام آپ پریشان کیوں ہیں؟۔ اس نے ڈائیننگ ٹیبل پہ سٹروگری کے سامنے والی کُرسی پہ بیٹھتے ہوئے کہا۔ آج کل جوزفینا بہت عجیب برتاؤ کر رہی ہے۔ اُس نے منہ تک لے جاتا جوس کا گلاس اُدھر ہی ٹیبل پہ رکھا تھا۔ ’کیا مطلب مام وہ ٹھیک تو ہے؟‘اُس نے پریشانی سے پوچھا تھا۔ ’تمہارے جانے کے اگلے دن رات کو میں نے اُس کے کمرے سے چیخ کی آواز سُنی تھی تو میں اور روبرٹو اُس کے کمرے کی طرف بھاگے تھے جب اُسے دیکھا تو وہ پسینے سے شرابور تھی اور کانپ رہی تھی اور یہی بولتی جا رہی تھی مجھے بتاؤ دُخان کیا ہے؟ یہ مجھے کیوں تباہ و برباد کرے گا؟ ہم سے تو سنبھا لی ہی نہیں جا رہی تھی پھر میں اُسے نیند کی گولی دے کے سُلا دیا، اور پھر اگلے دن بھی اُس نے اُٹھتے ہی پوچھا تھا۔ کہ کوئی اُس سے ملنے تو نہیں آیا تھا۔ میں نے پوچھا کس نے آنا تھا۔ تو کہتی وہ ہی جو رات کو آیا تھا۔ میں نے اُسے سمجھایا بھی کہ وہ خواب تھا۔ لیکن وہ ماننے کو تیار ہی نہیں اُٹھتے ہی اُس کا پوچھتی ہے، اب تم آ گئے ہو تو تم اُسے سنبھال لو گے، ناشتہ کر لو اور آج جوزفینا کے ساتھ وقت گُزارو میں آفس کے لیے نکلتی ہوں‘ سٹروگری نے اُٹھتے ہوئے کہا۔ ’ٹھیک ہے آپ جائیں میں دیکھتا ہوں اُس کو‘ اُس نے بھی اُٹھتے ہوئے کہا اور اُس کے کمرے کی جانب بڑھ گیا۔ اُس نے اُس کے کمرے کا دروازہ کھٹکھٹایا تو ایک منٹ کے وقفے کے بعد دروازہ کھُل گیا تھا۔ اور اُس نے آنکھیں ملتے ہوئے جب سامنے دیکھا تو خوشی سے اُس سے لپٹ گئی ’کیسی ہے میری باربی ڈول؟‘ اُس نے اُس کا ماتھا۔ چومتے ہوئے کہا اور اُسے لیے کمرے میں آ گیا۔ ’میں ٹھیک ہوں، ٹومس میں تمہیں بہت زیادہ مس کیا‘ ’میں نے بھی بہت مس کیا اپنی جان کو‘اُس نے اُس کے ساتھ بیڈ پہ بیٹھتے ہوئے کہا ’اس لیے میں سوچا ہے کہ آج کا دن ہم دونوں بار میں گُزاریں گے اپنے دوستوں کے ساتھ ڈانس پارٹی انجوائے کریں گے‘ ’نہیں آج نہیں‘اُس نے اُس سے الگ ہوتے ہوئے کہا۔ ’کیوں آج کہیں جانا ہے تم نے؟‘ اُس نے حیرانی سے پوچھا تھا۔ کیونکہ ایسا پہلی بار ہوا تھا۔ کہ اُس نے اُس کی بات کے جواب میں نہیں کہا تھا۔ ’ہاں آج میں اُس سے ملنے جانا ہے‘ ’کس سے؟‘ اُس نے حیرانی سے پوچھا، ’جو اُس دن مجھے خواب میں ملا تھا۔ ‘ ’کیا نام ہے اُس کا؟ اور کون ہے وہ؟‘ ’نام نہیں پتہ، پاکستانی ہے وہ‘ ’تم اُس سے نہیں ملو گی‘ ’لیکن کیوں ٹومس؟‘ ’کیوں کہ وہ پاکستانی ہے تو ظاہری سی بات ہے مسلمان ہے اور میں نہیں چاہتا کہ تم مسلمان لوگوں سے ملو، وہ جادوگر ہیں دوسروں پہ جادو کر کے اپنے مذہب میں داخل کر لیتے ہیں اور تمہیں نقصان پہنچے یہ میں برداشت نہیں کر سکتا‘ ’لیکن ٹومس میں صرف اُس سے پوچھنا ہے کہ اُس نے ایسا کیوں کہا تھا۔ ‘ اُس نے اُس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ ’میں کہہ دیا نا کہ تم اُس سے ملنے نہیں جاؤ گی اگر تم گئی تو مجھ سے بُرا کوئی نہیں ہو گا تم نے ابھی تک میرا پیار دیکھا غصہ نہیں اور وہ خواب تھا۔ خواب کو حقیقت کا رنگ نہ دو‘ اُس نے سخت لہجے میں کہا اور اُٹھ کھڑا ہوا۔ اور وہ بے یقینی سے اُس کی طرف دیکھتی گئی اور اُس کی آنکھوں سے برسات شروع ہو گئی یہ پہلی دفعہ ہوا تھا۔ کہ ٹومس نے جوزفینا کی بات نہ مانی ہو اور تو اور پہلی دفعہ اُسے ڈانٹا تھا۔ ابھی اُس نے باہر جانے کے لیے قدم اُٹھایا ہی تھا۔ کہ جوزفینا نے اُس کا ہاتھ پکڑ لیا اور اُٹھ کے اُس کے سامنے آ کھڑی ہوئی ’پلیز ٹومس مجھے نہ روکو مجھے جانے دو میں مان لیتی ہوں کہ وہ خواب تھا۔ لیکن اُس خواب نے مجھے اپنے سحر میں لے رکھا ہے میں رات کو سو نہیں پاتی مجھے یقین تھا۔ کہ وہ ضرور آئے گا اور کل میں نے اُس کو دیکھا تھا۔ اور مجھے ایسا لگا میں اُس کے وجود کا ایک حصہ ہوں میں ایک انجانی کشش کے باعث اُس کی جانب کھینچتی چلی گئی پاس جا کے مجھے یاد آیا کہ یہ تو وہ ہی ہے تو میں اُسے بتایا تھا۔ تو اُس نے کہا تھا۔ وہ آج مجھ سے ملنے آئے گا اور بتائے گا کہ میری بات کا کیا مطلب ہے، تم نے آج تک میری ہر چھوٹی سے چھوٹی بات مانی ہے ٹومس، تو پھر آج جب میری زندگی اور موت کا سوال بن گیا ہے تو آج کیوں آنکھیں پھیر رہے ہو ٹومس؟‘ اُس نے دونوں ہاتھوں سے ٹومس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لے کے کہا تھا۔ اُس کی آنکھوں میں آنسو اُسے تکلیف دے رہے تھے وہ نرم ہو رہا تھا۔ ’مجھے ایسا کیوں لگ رہا ہے کہ اگر میں آج تمہیں جانے دیا تو تمہیں کھو دوں گا چودہ سال سے اپنی سانسوں کی طرح تمہیں جی رہا ہوں میں، بتاؤ تمہیں کھونے کا حوصلہ کہاں سے لاؤں؟‘ بے بسی کی آخری حد پہ پہنچتے ہوئے وہ بولا تھا۔ ’اگر تم مجھے نہ جانے دو گے تو مجھے ہمیشہ کے لیے کھو دو گے میں مر جاؤں گی ٹومس میں مر جاؤں گی‘ اُس نے سسکتے ہوئے ہچکیوں کے درمیان کہا تھا۔ اور اُسے لگا کسی نے اُس کا دل مٹھی میں لے لیا ہواُس نے اُسے اپنے بازوؤں میں بھینچ لیا تھا۔ ’جاؤ تم چلی جاؤ میں تمہیں نہیں روکوں گا تمہاری زندگی سے زیادہ مجھے کچھ عزیز نہیں‘اُس نے بے چارگی سے کہا تھا۔ اور دو آنسو اُس کی آنکھوں سے لڑھک کے جوزفینا کے سُنہری بالوں میں جذب ہو گئے تھے۔
٭٭
ہے قول خدا، قول محمد، فرمان نہ بدلا جائے گا
بدلے گا زمانہ لاکھ مگر، قرآن نہ بدلا جائے گا
وہ سپائیڈر مین کے سٹیچو کے پاس کھڑا اُس کا انتظار کر رہا تھا۔ کہ بلیک کار اُس کے پاس آ کے رُکی تھی اور اُس نے اُسے ہیلو بولا اور اُس کیلیے دوسری طرف کا دروازہ کھولا تھا۔ وہ بھی ہیلو کہتے بیٹھ گیا تو وہ کار اُسی سڑک پہ آگے لے گئی دس منٹ بعد اُس نے سائیڈ پہ کار روکی اور باہر نکل آئی وہ بھی اُس کے پیچھے باہر آیا تو سامنے ساحل سمندر تھا۔ جس کے ساتھ ریسٹورنٹ بنا ہوا تھا۔ وہ دونوں بھی ریسٹورنٹ میں ایک ٹیبل کے گرد آمنے سامنے بیٹھ گئے۔ ’جوس یا کافی؟‘ جوزفینا نے پوچھا تھا۔ ’نتھنگ‘اُس نے انکار کر دیا۔ ’پلیز‘اُس نے اصرار کیا تھا۔ ’کافی‘ ’تھینکس‘ اُس نے مُسکراتے ہوئے کہا تھا۔ اور ویٹر کو ایک کافی اور ایک پائن ایپل جوس کا گلاس لانے کے لیے کہا ’میڈم آپ کا مذہب کیا ہے؟‘ اُس نے بات کا آغاز کیا تھا۔ ’عیسائیت‘ اُس نے جواب دیا ’تو آپ اُس خواب کو اتنا خود پہ سوار کیوں کر رہی ہیں؟ آخر آپ کیوں مطلب جاننا چاہتی ہیں؟‘ ’مجھے نہیں پتہ کیوں اُس خواب نے مجھے اپنے سحر میں لے رکھا ہے اور مجھے یقین تھا۔ کہ آپ آؤ گے اور آپ مجھے بتاؤ گے کہ آخر دُخان کیا ہے؟ اور یہ کیوں مجھے تباہ و برباد کرے گا؟ اور کون سا سیدھا راستہ ہے جس کو ڈھونڈنے کے لیے آپ نے مجھے کہا تھا۔ ‘ اُسنے تفصیلاً پوچھا تھا۔ ویٹر جوس اور کافی لے آیا تھا۔ اُس نے کافی کا مگ تھام لیا تھا۔ اور وہ جوس میں پائپ ہلاتے سوالیہ نظروں سے اُسے دیکھنے لگی اُس نے کافی کا سپ لیا اور اُس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا ’دُخان کا مطلب ہے دھواں (سموک) یہ ہماری مقدس کتاب قرآن پاک کی ایک سورۃ کا نام ہے الدُخان اور یہ لفظ اُس کی دسویں آیت میں آیا ہے جس کا ترجمہ ہے تو تم اُس دن کے منتظر رہو جب آسمان ایک واضح دھواں لائے گا، یہ قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے اور یہ دھُواں مومن کے لیے صرف ایک طرح کا زُکام پیدا کر دے گا اور کافر کے تمام بدن میں بھر جائے گا یہاں تک کے اُس کے ہر مسام سے نکلنے لگے گا، اور آپ کو اس لیے تباہ برباد کرے گا کیوں کہ آپ یہ غلط راستے پہ چل رہی ہو سیدھا راستہ اسلام ہے‘۔ وہ رُکا اور کافی پینے لگا، وہ جو تب سے اُس کا ایک ایک لفظ بہت دھیان سے سُن رہی تھی اور اُس کا ایک ایک لفظ اُس کے اندر سکون پیدا کر رہا تھا۔ وہ اُس کے لفظوں میں کھو رہی تھی اُس کے چُپ ہو جانے سے ایک دم چونکی تھی اُس کے چونکنے پہ اُس نے اُس کی طرف دیکھا تھا۔ اور دوبارہ گو یا ہوا، ’یہ آپ کے خواب کا مطلب تھا۔ جو میں نے بتا دیا ہے فار مور انفارمیشن آپ قرآن پاک کا ترجمہ پڑھ سکتی ہیں خاص طور پہ اس سورۃ کا‘ ’آپ کے خیال میں مجھے یہ خواب کیوں آیا؟‘ ’میرے خیال میں اس لیے کیونکہ اللہ تعالیٰ آپ کو ایک موقع دے رہے ہیں کہ آپ صحیح راستے کو تلاش کر لو اس سے پہلے کہ قیامت آئے اور کافر لوگ پچھتائیں۔‘ ’آپ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ اسلام سیدھا راستہ ہے؟ ہر انسان اپنے مذہب کو ہی سچا بولے گا‘ ’میڈم میں آپ سے بحث نہیں کرنا چاہتا اور رہی بات اسلام کی تو صرف اسلام ہی سچا مذہب ہے آپ جدھر سے بھی قرآن پاک لو گی انٹرنیٹ سے پڑھو گی یا دنیا کے کسی بھی کونے سے جا کے کسی بھی مسلمان کا قرآن پاک پڑھو گی تو اُسے لفظ بہ لفظ ملتا پاؤ گی اس کے علاوہ تورات، زبور، یا انجیل کسی بھی کتاب کو لے لو یہ ہر انسان کے پاس مختلف ہو گی، آپ خود اب سرچ کرو جو ٹھیک لگے اُس راستہ کو اپنا لینا، اب مجھے اجازت دیجئیے میڈم‘ وہ اُٹھتے ہوئے بولا تھا۔ ’شکریہ آپ میرے لیے آئے‘ اُس نے بھی اُٹھتے ہوئے کہا تھا۔ اور اُس کے ساتھ چلنے لگی وہ بس مُسکرا دیا تھا۔ ’آپ وزٹ کے لیے آئے ہیں؟‘ اُس نے پوچھا تھا۔ ’جی ہاں! میں پہاڑوں اور سمندروں کا دیوانہ ہوں‘ ’کب تک ہیں ادھر؟‘ ’دس دن تک‘ تو اُس نے کار کے پاس پہنچ کے کہا ’آئیے میں آپ کو چھوڑ دوں‘ ’نہیں میڈم میں چلا جاؤں گا‘ اُس نے انکار کرتے ہوئے ایک ٹیکسی کو روکا تھا۔ اور اُسے بائے بول کے بیٹھ گیا تو اُس نے بھی گھر کی راہ لی۔
٭٭
مکمل دو ہی دانوں پر یہ تسبیح محبت ہے
جو آئے تیسرا دانہ یہ ڈوری ٹوٹ جاتی ہے
وہ گھر آتے ہی ٹومس کے کمرے میں گئی تھی وہ آنکھوں پہ بازو رکھے لیٹا ہوا تھا۔ وہ خاموشی سے واپس جانے لگی ’آ جاؤ جوزفینا کیا تم اُس سے مل آئی ہو؟‘ اُس کی آواز سُن کے وہ آگے بڑھ آئی اور اُس کے پاس بیٹھ گئی وہ بھی اُٹھ بیٹھا تھا۔ ’تھینک یو ٹومس تم بہت اچھے ہو، اگر میں گھر میں کسی اور سے کہتی تو وہ مجھے کمرے میں ہی بند کر دیتے کبھی جانے نہ دیتے، اُس کے لفظوں میں ایک سحر تھا۔ جب تک وہ بولتا رہا میں اُس کے سحر میں ہی کھوئی رہی تھی مجھے یہ بھی بھول گیا کہ وہ کسی اور مذہب کو ماننے والا ہے بس مجھے ایسا لگا کہ وہ میرا خیر خواہ ہے اُسے گاڈ نے میرے لیے ادھر بھیجا ہے‘ وہ ابھی بھی اُس کے سحر سے نہیں نکل پائی تھی ٹومس نے بغور اُسے دیکھا تھا۔ اُس کے اندیشے صحیح ثابت ہوئے تھے اُن دونوں کے درمیان ایک تیسرا انسان آ گیا تھا۔ ، جس محبت کی ڈوری میں وہ چودہ سالوں سے بندھے ہوئے تھے آج وہ ڈوری ٹوٹ گئی تھی ’اب تو میری گڑیا خوش ہے نا؟‘اُس نے اپنی تکلیف چھُپاتے ہوئے مُسکرا کے پوچھا تھا۔ ’بہت زیادہ، ٹومس میں قرآن کو پڑھنا چاہتی ہوں‘ ’اب یہ کیا ڈرامہ ہے؟‘ ’پلیز ٹومس میں اٹھارہ سال کی ہو چُکی ہوں میں اپنی چوائس سے کوئی بھی مذہب چوز کر سکتی ہوں، میں کسی کے دباؤ میں آ کے نہیں کچھ کر رہی نا ہی ایسا ہے کہ مجھے اُس شخص سے محبت ہو گئی ہے یہ کچھ اور ہے جو مجھے اپنے سحر میں جکڑ رہا ہے اس لیے میں تفصیل سے جاننا چاہتی ہوں کہ آخر یہ کیا ہے جو مجھے سکون نہیں لینے دے رہا، دُخان کیا ہے یہ تو پتہ چل گیا ہے اب اس نام کا ٹاپک میں پورا پڑھنا چاہتی ہوں، ٹومس اگر کسی نے مجھ پہ سختی کی تو میں خود کو نقصان پہنچا لوں گی اس لیے بہتر ہے کہ میں جو کرنا چاہتی ہوں مجھے کرنے دیا جائے اور مجھے پتہ ہے تم گھر والوں کو سنبھال لو گے‘اُس نے آنکھوں میں یقین لیے اُسے کہا تھا۔ ’تو ٹومس کا سر خود بہ خود اثبات میں ہل گیا تھا۔ ’اوکے تم آرام کرو میں چلتی ہوں‘ اُس نے کہا اور اُٹھ کھڑی ہوئی وہ چاہنے کے باوجود بھی اُسے کچھ دیر اپنے پاس رُکنے کا نہ کہہ سکا اور اُسے جاتے ہوئے دیکھتا رہا۔
٭٭
کس کی ہیبت سے صنم سہمے ہوئے رہتے تھے؟
منہ کے بل گر کر ہو اللہ ہو احد کہتے تھے
اُس نے پاپ کارن کا باؤل اور مشروب کا گلاس بیڈ کے سائیڈ ٹیبل پہ رکھا اور لیپ ٹاپ اپنے سامنے بیڈ پہ رکھ کے بیٹھ گئی اُس نے لیپ ٹاپ آن کر کے سورۃ دُخان ان انگلش ٹرانسلیشن سرچ کیا اور ساتھ مشروب کو گھونٹ گھونٹ اپنے اندر اُتارنے لگی اُس نے ایک لنک اوپن کی اور پڑھنے لگی ’اللہ کے نام سے شروع جو بہت مہربان رحم والا، حٰم، قسم اس روشن کتاب کی‘ اس کا مشروب کو منہ تک لے جاتا ہاتھ اُدھر ہی رُک گیا تھا۔ اُس نے واپس ٹیبل پہ رکھ دیا ’بیشک ہم نے اسے برکت والی رات میں اُتارا، بیشک ہم ڈر سُنانے والے ہیں، اس میں بانٹ دیا جاتا ہے ہر حکمت والا کام، ہمارے پاس کے حکم سے بیشک ہم بھیجنے والے ہیں، تمہارے رب کی طرف سے رحمت بیشک وہی سُنتا جانتا ہے، وہ جو رب ہے آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اگر تمہیں یقین ہو، اس کے سوا کسی کی بندگی نہیں وہ جلائے اور مارے تمہارا رب اور تمہارے اگلے باپ دادا کا رب‘ ایک خوف اور کپکپی اُس پہ طاری ہو چُکی تھی اس کے باوجود ایک سحر نے اُسے لپیٹ میں لے لیا تھا۔ اُس نے پڑھنا جاری رکھا ’بلکہ وہ شک میں پڑے کھیل رہے ہیں تو تم اس دن کے منتظر رہو جب آسمان ایک ظاہر دھُواں لائے گا اور لوگوں کو ڈھانپ لے گا یہ ہے درد ناک عذاب‘ اُس پہ وحشت سی طاری ہونے لگی ایسے جیسے ابھی آسمان سے دھُواں آئے گا اور اُسے بھسم کر دے گا اُس نے جلدی سے اُٹھ کے اپنے کمرے کی کھڑکیاں بند کی تھیں اور بیڈ پہ بیٹھ کے لمبے لمبے سانس لینے لگی اور مشروب کے گلاس کی طرف ہاتھ بڑھایا ہی تھا۔ اور ایسے پیچھے کھینچا جیسے گلاس میں مشروب کی جگہ کوئی زہریلی چیز ہو وہ اُٹھی اور روم فریج سے پانی کی بوتل نکالی اور منہ سے لگا لی اُس نے خود کو ریلیکس کیا اور پھر پڑھنے لگی ’اس دن کہیں گے اے ہمارے رب ہم پر سے عذاب کھول دے ہم ایمان لاتے ہیں‘ وہ پڑھتی گئی اور اُس کی آنکھوں سے آنسو بہتے گئے ’تو تم انتظار کرو وہ بھی کسی انتظار میں ہیں‘ آخری لائن پڑھ کے اُس نے اپنے آنسو صاف کیے تھے اُسے سیدھا راستہ مل گیا تھا۔ اُس نے بے خودی کے عالم میں اللہ کو پُکارا تھا۔ ایک عجیب سا سکون اُسے ملا تھا۔ ’اے اللہ مجھے سمجھ آ گئی ہے مجھے خواب میں اُس لڑکے کو دکھانا اور پھر اُس کا مجھے یہ الفاظ کہنا اور پھر اُس کا پاکستان سے میکسیکو آنا اور مجھ سے ملنا، آپ نے مجھے چُن لیا ہے ہدایت کے لیے آپ نے مجھے اُن لوگوں سے نکال لیا ہے جن پہ تیرا عذاب نازل ہو گا اے میرے اللہ میں تجھ پہ ایمان لاتی ہوں میں تیری اس کتاب پہ ایمان لاتی ہوں، تو اکیلا ہے تیرا کوئی شریک نہیں، بے شک میں گُمراہی کے راستے پہ چل رہی تھی میں گُناہوں میں لتھڑی ہوئی ہوں میرے سارے گُناہ معاف کر دے‘ وہ سسکتے ہوئے اللہ کو پُکار رہی تھی اُس نے اُٹھ کے کھڑکیاں کھول دیں اب اُسے کوئی خوف محسوس نہیں ہو رہا تھا۔ وہ مُسکراتے ہوئے ایسے اندھیرے میں ڈوبے آسمان کو دیکھنے لگی جیسے اُسے یقین ہو کہ اللہ اُسے دیکھ رہا ہے۔
٭٭٭
باب ۳
یہ نرم لہجے میں تم سے کوئی
باتوں باتوں میں کھیل جاتا ہے
تم سمجھتی ہو پیار کرتے ہیں
حقیقت میں وہ وار کرتے ہیں
یہ میٹھے بول بولنے والے اکثر
دلوں میں مرض رکھتے ہیں
سُنو باتوں میں نہ آنا
نہ لہجہ اپنا شیریں کرنا
رویہ سب سے تم اپنا
بالکل ایک سا رکھنا
یہاں نرمی ذرا سی دکھلائی
وہاں دل میں خیال آیا
یہ تو پگھل گئی جلدی
یعنی پہلا زوال آیا
محرم کے سوا
کوئی اپنا نہیں تمہارا
ادائیں دکھاؤ گی
پیار چھلکاؤ گی
ہر ہر بات کہہ جاؤ گی
موقع خود ہی دے جاؤ گی
مکھیوں کی طرح جھپٹیں گے
الفاظ کی صورت لپٹیں گے
ہنسی مذاق سے گرد سمٹیں گے
بچ نہ پاؤ گی
گھل مل جاؤ گی
مقام اپنا گنواؤ گی
بُرائی تک نہ سمجھو گی
کہ یہ تو میرے اپنے ہیں
کتنے سچے مخلص ہیں
دھوکہ میں آ جاؤ گی
مقصد اپنا بھُلاؤ گی
گھیرے میں نہ آنا
خُدا کو یاد تم کرنا
قرآن کو ذرا پڑھنا
رب کہتا کیا ہے غور سے تم سُننا
سورۃ الاحزاب میں فرمایا
لہجہ نرم نہ تم اپنا کرنا
بات مختصر با مقصد ضروری کرنا
ورنہ مرد کا مرض ہے بڑھنا
یہ منہ بولے رشتے کوئی حقیقت نہیں
اصل میں تو یہ اک حجاب ہونا چاہئیے تھا۔
مگر اس میں تو کوئی حجاب باقی نہیں رہتا
خطاء ہے فطرت انسانی
توبہ ہے شیوۂ مُسلمانی
جو جب پلٹے رب ڈھانپ لے اس کو
اے کاش کوئی جلد بھانپ لے اس کو
وہ یونیورسٹی کے لیے نکلنے لگی کے آئینے کے سامنے آ کھڑی ہوئی اور بغور اپنے نظر آتے عکس کو دیکھنے لگی وائٹ سگریٹ پینٹ پہ فُل فیٹنگ کے ساتھ ڈارک بلیو لانگ شرٹ پہنے سفید جالی دار ڈوپٹہ گلے میں ڈالے سٹیپ کٹے بال کھُلے چھوڑے ہوئے تھے کانوں میں بلیو کلر کے ٹاپس اور ایک ہاتھ میں وائٹ کلر کی واچ اور دوسرے ہاتھ پہ بلیو ہی بریسلٹ (جو احمر نے اُس دن کار میں اُسے گفٹ کیا تھا۔) آنکھوں میں کاجل کی لکیر اور پلکوں پہ مسکارا اور ہونٹوں پہ گُلابی لپ اسٹک لگائے بلا شُبہ وہ بہت حسین لگ رہی تھی اس کے ذہن میں لاشعوری طور پہ اپنی چار سال پہلے کی لُک آئی تھی بڑی سی چادر میں لپٹی سادہ سی ایک لڑکی کی، اُس نے نفرت سے سر جھٹکا بھلا وہ بھی کوئی زندگی تھی اُسے اپنی اُس زندگی سے یہ والی زندگی پسند تھی جو وہ اپنوں کی آنکھوں میں دھول جھونک کے گزار رہی تھی آج اُس کا یونیورسٹی میں آخری دن تھا۔ کاش یہ لمحے ادھر ہی تھم جائیں، اس نے دل سے دُعا کی تھی۔ بہت خوبصورت لگ رہی ہو ہمیشہ کی طرح اس لیے اب آ جاؤ احمر انتظار کر رہا ہو گا تمہارا۔ زینب نے اُسے آئینے کے سامنے کھڑا ہوا دیکھ کے کہا، تو وہ مُسکراتے ہوئے اُس کے ساتھ چل دی۔ وہ یونیورسٹی میں ابھی فرنٹ لان کے آگے سے گُزر رہی تھی کہ اُس کی کلاس فیلو زوبیہ نے اُسے پُکارا تھا۔ وہ اپنی فرینڈز سے بولی ’آپ لوگ جاؤ میں زوبیہ کی بات سُن کے کیفے میں آ جاؤں گی‘ وہ لان میں رکھے بینچ پہ زوبیہ کے ساتھ بیٹھتے ہوئے بولی ’ہیلو کیسی ہو؟‘
’الحمدُ للہ میں ٹھیک، آج ہمارا لاسٹ ڈے ہے تو میں سوچا تم سے بات ہی کر لی جائے‘ زوبیہ نے مُسکراتے ہوئے کہا۔ ’ہاں یار پتہ ہی نہیں چلا کیسے چار سال گُزر بھی گئے ہیں‘ اُس نے افسردہ ہوتے ہوئے کہا۔ ’یاد ہے جب اورینٹیشن پہ تم میرے ساتھ ہال میں بیٹھی تھی تم نے بلیک ڈریس پہ بلیک بڑی سی چادر لی ہوئی تھی تب تمہارے چہرے پہ نمازوں کا نور تھا۔ ایک کشش تھی تب تم زیادہ حسین تھی لیکن جب کلاسز کے لیے تم فرسٹ ڈے آئی تھی تو میں یقین ہی نہ کر پائی کے یہ تم ہو تم نے غلط لڑکیوں کی روش اختیار کر لی تھی اور آج تک تم اُسی روش پہ چل رہی ہو، تم اپنے آپ کو دھوکہ دے رہی ہو اپنے والدین کو دھوکہ دے رہی ہو اور تم سراب کے پیچھے بھاگ رہی ہو احمر ایک کرپٹ انسان ہے وہ اور بھی بہت سی لڑکیوں کو دھوکہ دے چکا ہے وہ تم سے جھوٹے شادی کے وعدے کر رہا ہے وہ کبھی بھی اپنے ماں باپ کو تمہارے گھر رشتہ لینے نہیں بھیجے گا وہ شادی اپنے ماں باپ کی پسند سے ہی کرے گا، یہ لڑکے ایسے ہی کرتے ہیں انہوں نے چار سال یونیورسٹی میں گزارنے ہوتے ہیں اس لیے یہ ٹائم گزارنے کے لیے معصوم لڑکیوں کو تفریح کا سامان بنا لیتے ہیں۔ ابھی بھی وقت نہیں گزرا تم اللہ سے توبہ کر لو اور تم بھی اپنے والدین کی پسند پہ سر جھُکا دینا احمر کا انتظار نہ کرنا ایسا کر کے تم اپنی زندگی کی سب سے بڑی غلطی کرو گی، بکواس بند کرو اپنی میں تم سے کوئی مشورہ نہیں مانگا اور احمر ایسا نہیں ہے وہ مجھ سے محبت کرتا ویسے ہی تم سے ہمارا پیار برداشت نہیں ہوا اس لیے مجھے احمر کے خلاف کرنے کی ناکام سی کوشش کر رہی تھی پر افسوس تمہاری کوشش نا کام گئی، وہ غصے سے کہتی اُدھر سے چلی گئی اور زوبیہ بس افسوس سے سر ہلا کے رہ گئی۔
٭٭
نیلی نیلی آنکھوں والے ساحل پر جب آتے ہوں گے
چیخ کے لہریں کہتی ہوں گی لو آج سمندر ڈوبے گا
آدھی رات تک وہ میکسیکو کی سڑکوں پہ آوارہ گردی کرتے رہے تھے اور اب بے ہوش پڑے سو رہے تھے مسلسل ہوتی دستک سے آخر علی نے اُٹھ کے دروازہ کھولا تو سامنے کھڑے وجود کو دیکھ کے وہ حیران ہوا تھا۔ ’کیا میں آپ کے دوست سے مل سکتی ہوں؟‘ وہ ابھی سو رہا ہے میں اُٹھاتا ہوں اُس کو ’اوکے میں ہوسٹل کے باہر گاڑی میں اُن کا انتظار کر رہی ہوں‘ وہ کہہ کے چلی گئی تو علی نے دُخان کو ہلایا تھا۔ ’کیا تکلیف ہے تمہیں؟ سونے دو مجھے‘ اُس نے علی کا بازو جھٹک کے کہا تھا۔ ’یار وہ تم سے ملنے آئی ہے باہر گاڑی میں تمہارا انتظار کر رہی ہے‘ ’کون؟‘ ’وہ ہی جس سے تم خواب میں ملے تھے‘ علی نے مُسکراتے ہوئے کہا تو وہ اُٹھ بیٹھا اور بیگ سے اپنا سوٹ نکال کے واش روم چلا گیا تو علی نے عمیر کو بھی اُٹھا دیا اور جب وہ شاور لے کے باہر نکلا تو وہ دونوں سر جوڑے نجانے کون سے راز و نیاز کر رہے تھے کہ اُسے دیکھ کے چُپ ہو گئے، ’خیریت ہی ہے نا جناب؟‘ عمیر بولا تو اُس نے تولیے سے بال رگڑتے ہوئے اُسے دیکھا ’کیا مطلب ہے تمہارا؟‘ ’اتنا تیار شیار ہو کے جا رہے ہو اس لیے پوچھا ہے‘ ’تو تمہارا کیا خیال تھا۔ اسی طرح بنیان پہن کے ہی چلا جاتا؟‘ ’ہائے ان مشرقی اداؤں پہ میں مر نہ جاؤں‘ علی نے بھی لقمہ دیا تو وہ مُسکراتے ہوئے باہر چلا آیا ہوسٹل کے سامنے ایک لڑکی گھٹنوں تک آتی وائٹ شرٹ ساتھ بلیو فُل ٹراؤزر پہنے اور گلے میں بلیو مفلر لپیٹے کار کے ساتھ ٹیک لگائے کھڑی نجانے کن خیالوں میں کھوئی تھی وہ اُسے اس طرح فُل ڈریس میں دیکھ کے حیران ہوا تھا۔ اُس نے اُسے متوجہ کرنے کے لیے ہیلو میڈم کہا تو وہ ایسے جیسے اچانک کسی خواب سے جاگی تھی ’امم مم سوری میں دیکھا نہیں تھا۔‘ اُس نے کہا اور اُس کے لیے فرنٹ ڈور اوپن کیا اور خود ڈرائیونگ سیٹ پہ جا بیٹھی اور کار سٹارٹ کی کچھ دیر بعد وہ بولی تھی ’میں اسلام قبول کرنا چاہتی ہوں‘ اُس نے چونک کے اُس کی طرف دیکھا۔ تو وہ اُس کے اس طرح دیکھنے پہ بولی ’ہاں میں اللہ پہ ایمان لاتی ہوں اس سے پہلے کے آسمان سے دُخان آئے اور مجھے بھی اپنی لپیٹ میں لے لے‘ ’تم بہت خوش قسمت ہو‘ وہ دھیرے سے بولا تو اُس نے سڑک کے ایک طرف گاڑی روک دی اور اُس کی طرف دیکھ کے بولی ’ہاں میں خوش قسمت ہی تو ہوں کہ اللہ نے اتنے سارے لوگوں میں سے مجھے ہدایت کے لیے چُنا ہے جب وہ مجھے اپنی طرف بُلا رہا ہے تو میں کیوں نہ اُس کی طرف اپنے قدم بڑھاؤں؟ آپ کا خواب میں مجھے نظر آنا اور پھر آپ کا میکسیکو آنا اور مجھ سے ملنا اور مجھے میرے خواب کا مطلب بتانا، یہ سب ایک معجزہ ہی تو ہے‘ پھر اُس نے آنکھوں میں آنسو لیے دُخان کے ساتھ ساتھ کلمہ کے الفاظ دہرائے تھے اور ایک گھنٹہ دُخان کے ساتھ باتیں کی تھیں جس سے وہ اسلام کی بہت سی باتیں جان گئی تھی اور اُس نے کچھ اسلامک ویب سائیٹ بھی بتائیں تھیں اُس نے ہوسٹل کے گیٹ کے آگے کار روکی تو اُس کی طرف دیکھ کے بولی ’سوری سر میں آپ کا نام ہی نہیں پوچھا ابھی تک‘اُس نے مُسکراتے ہوئے کہا ’میرا نام آپ جانتی ہیں میڈم اس لیے میں آپ کو نہیں بتایا تھا۔ ‘ اُس کو سوالیہ انداز میں اپنی طرف دیکھتے پا کے بولا ’دُخان‘۔ ’دُخان‘ یہ لفظ مجھے کبھی نہیں بھولے گا‘ اور میرا اسلامی نام؟ آپ مجھے بتاؤ اللہ کی کتاب میں سے کوئی‘اُس نے کچھ پا لینے کی سرشاری سے کہا تھا۔ مائدہ۔ اُس نے اپنا پسندیدہ نام بتایا ’یہ قرآن پاک کے پانچویں سپارے کی سورۃ کا نام ہے اس کا مطلب ہے دی ٹیبل سپریڈ‘ ’بہت اچھا نام ہے‘ اُس نے اُسے کہا اور وہ اُس کی طرف دیکھ کے بولا ’اوکے مائدہ میڈم اب مجھے اجازت دیجیئے‘ تو اُس نے الوداعی مُسکراہٹ اُس کی طرف اُچھالی اور اُسے جاتے ہوئے دیکھنے لگی اور پھر روزانہ وہ دو گھنٹے ساتھ گُزارنے لگے وہ اپنا اسلام کے بارے میں نالج اُس سے شیئر کرتا اور وہ نیٹ سے سرچ کیا گیا ڈیٹا اُس سے شیئر کرتی۔ ٹومس کے علاوہ ابھی گھر میں کسی کو اُس کے اسلام قبول کرنے کا نہیں پتہ تھا۔ البتہ وہ حیران ضرور ہوئے تھے اُسے فُل ڈریسسز پہنتے دیکھ کے لیکن ٹومس نے یہ کہہ کے اُنہیں چُپ کروا دیا اُس کا دل کر رہا ہے تو پہننے دیں نا۔ اور پھر اُس کے جانے کا دن بھی آ پہنچا۔ وہ ساحل سمندر پہ آیا تھا۔ اُسے ملنے، وہ جنگلے پہ ہاتھ رکھے پانی کی لہروں کو ہوا کے ساتھ مستیاں کرتے ہوئے دیکھ رہی تھی وہ بھی اُس کے ساتھ کھڑا ہو گیا اور اُس نے بھی اپنے ہاتھ جنگلے پہ ٹکا دئیے ’تم جا رہے ہو؟‘ ’ہاں‘ اس کا ہاں سُن کے نجانے کیوں آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے ’نہ جاؤ نا‘ مائدہ نے کہا تو اُس نے اُس کی طرف دیکھا اور دیکھتا ہی رہ گیا جھیل سی نیلی آنکھوں سے برسات ہو رہی تھی اور ایسا لگ رہا تھا۔ جیسے نیلے آسمان سے پانی برس رہا ہو، آپ روتے ہوئے اتنی حسین لگتی ہو مجھے اندازہ نہیں تھا۔ ، اُس نے آنکھوں میں شرارت لیے اُسے کہا تو وہ مُسکرا دی اُسے لگا جیسے بارش میں پھول کھلے ہوں وہ ان نیلی آنکھوں میں ڈوب رہا تھا۔ وہ بس اس لیے اُس سے ملتا رہا تھا۔ کیوں کہ اُسے اُس کا خواب سُن کے لگا تھا۔ کہ اللہ اُسے ہدایت دینا چاہتا ہے اور اس کے لیے اُسے منتخب کیا ہے اس لیے اُس نے اُسے اسلام کے بارے میں جتنا ہو سکا گائیڈ کیا تھا۔ اور اب اُسے اللہ حافظ بولنے آیا تھا۔ لیکن وہ نہیں جانتا تھا۔ کہ آخری لمحے میں وہ اُس کی جھیل سی نیلی آنکھوں میں ڈوب جائے گا، اس نے اپنے آپ کو سنبھالا اور بولا ’مجھے یہ بھی اندازہ نہیں تھا۔ کہ تم ہنستے ہوئے قیامت لگتی ہو‘ وہ ایک لمحے میں آپ سے تم پہ آیا تھا۔ وہ اور کھل کے ہنسی تھی۔ ’ایک مہینے تک شادی ہے میری آؤ گی میری شادی پہ؟‘ نجانے کیوں اُس
نے پوچھا تھا۔ تو اُس نے بے یقینی سے اُسے دیکھا جیسے کہہ رہی ہو ایسے کیسے ہو سکتا ہے ’پچپن سے میری کزن کے ساتھ میری بات طے ہے ابھی وہ بھی پڑھائی میں مصروف تھی اور میں بھی کچھ مصروف تھا۔ خود کو سٹیبلش کرنے میں اس لیے انکار کرتا رہا تھا۔ لیکن اب بابا جان نے اس شرط پہ میکسیکو آنے کی اجازت دی تھی کہ میں شادی کے لیے مان جاؤں‘ اُس نے وضاحت کی تو اُس کی آنکھوں سے دوبارہ برسات شروع ہو گئی ’ایسا کیسے ہو سکتا اللہ تعالیٰ میرے ساتھ ایسا نہیں کر سکتے اللہ نے آپ کو صرف میرے لیے بنایا ہے پھر اللہ کیسے آپ کو کسی اور کو سونپ سکتے ہیں بتائیں کیسے؟‘وہ دونوں ہاتھوں سے اُس کے گریبان کو پکڑ کے اُس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے پوچھ رہی تھی اُس نے اپنی نظریں چُرائی تھیں کہیں وہ اُس کی آنکھوں سے اُس کے دل کا حال نہ جان لے ’چُپ کیوں ہیں آپ بتائیں مجھے آپ کسی اور کے کیسے ہو سکتے ہیں‘ اُس نے اُس کے سینے پہ پاگلوں کی طرح مارتے ہوئے پوچھا اُس نے کوئی مزاحمت نہ کی بس خاموشی سے اُسے دیکھتا رہا میرے بس میں ہوتا تو میں ابھی تمہیں اپنا بنا لیتا لیکن میں وعدہ خلافی کرنے والوں میں سے نہیں ہوں میں اپنے بابا جان سے کیا وعدہ نہیں توڑ سکتا اُس نے سوچا تھا۔ مائدہ نے خود ہی تھک کے اپنا چہرہ اُس کے سینے میں چھُپا لیا اور دُخان نے اپنا چہرہ آسمان کی طرف اُٹھا کے دُعا کی تھی ’اے اللہ اگر یہ تیرا امتحان ہے تو مجھے اس میں سرخُرو کرنا۔‘
٭٭٭
باب ۴
میرے خالق میں تیرے کُن کی طلب میں زندہ
ہر گھڑی ایک قیامت سے گُزر جاتی ہوں
ٹومس روبرٹو کو جب پتہ چلا کہ جوزفینا رسکارڈو نے اسلام قبول کر لیا ہے تو وہ دو دن کمرہ بند کیے پڑا رہا اور تیسرے دن اُس نے بھی قرآن کا ترجمہ پڑھنے کے لیے لیپ ٹاپ آن کیا تھا۔ وہ جاننا چاہتا تھا۔ کہ آخر اس کتاب میں ہے کیا؟ جو جوزفینا اس کتاب کے ایک لفظ کے پیچھے پاگل ہو کے اُس انسان کو بھول بیٹھی تھی جس نے چودہ سال اپنی سانسوں کی طرح اُسے جیا تھا۔ اُس نے چھ دن لگا کے قرآن کا ترجمہ پڑھا تھا۔ اور ساتوے دن وہ اس کتاب پہ ایمان لے آیا تھا۔ بھلا ایسا ہو سکتا کہ کوئی قرآن پڑھے اور اُس کی سچائی سے انکار کر سکے غیر مسلم لوگ ایسے ہی تو نہیں اپنے بچوں کو اس کتاب کے پاس بھی نہیں جانے دیتے اُنہیں حق کے غالب آ جانے کا ڈر ہوتا ہے۔ وہ بہت دنوں بعد جوزفینا کے کمرے میں آیا تھا۔ اُس نے اُس کا کمرے کا دروازہ ناک کیا اور انتظار کیا لیکن جب دروازہ نہ کھُلا تو اُس نے پھر ناک کیا تو دو منٹ بعد دروازہ کھُل گیا تو اُس نے جب نظر اُٹھا کے دیکھا تو اُس کی جان نکلی تھی اُس کی آنکھیں سوجھی ہوئی تھیں اور ابھی بھی آنکھوں میں آنسو تھے وہ دوبارہ بیڈ پہ جا کے بیٹھ گئی تو ٹومس نے اندر آتے ہوئے بے چینی سے اُسے پُکارا ’جوزفینا‘ ’میں جوزفینا نہیں ہوں میرا نام مائدہ ہے‘ ’سوری مجھے بھول گیا تھا۔ لیکن تمہیں کیا ہوا ساری رات تم روتی رہی ہو‘ وہ اُس کی رگ رگ سے واقف تھا۔ ’وہ پاکستان چلا گیا ہے‘اُس نے چہرہ اُٹھا کے اُس کی طرف دیکھ کے سسکتے ہوئے کہا۔ تو وہ چاہنے کہ باوجود اُسے پہلے کی طرح اپنے ساتھ نا لگا سکا اب وہ مسلمان تھی اب وہ مائدہ تھی اُس کی جوزفینا نہیں تھی ’کیا تم پاکستان جانا چاہتی ہو؟‘ ٹومس نے کہا تو وہ بولی ’اُس کی ایک مہینے تک شادی ہے۔‘ ’ایک مہینے تک ہے نا؟ ابھی ہوئی تو نہیں نا؟ تو پھر تم اللہ کی رحمت سے کیوں مایوس ہو رہی ہو؟ اللہ کے لیے کچھ بھی نا ممکن نہیں ہے بس کُن کہنے کی دیر ہے تو فیکون ہو جاتا ہے‘ اُسے منہ کھولے اپنی طرف دیکھتا پا کے اُس نے کہا ’ایسے نا دیکھو میں اللہ پہ اور اُس کی کتاب قرآن پاک پہ ایمان لے آیا ہوں اور اس بات پر بھی کہ حضرت عیسیٰ کو قتل نہیں کیا گیا تھا۔ اللہ نے اُن کی جگہ کسی اور کی شکل اُن جیسی بنا دی تھی اور اُنہیں اسی طرح آسمان پہ اُ ٹھا لیا گیا تھا۔ اور اب وہ قیامت کے قریب دُنیا میں دوبارہ تشریف لائیں گے، میں اس لیے ہی تمہارے پاس آیا تھا۔ میں پراپر اسلام قبول کرنا چاہتا ہوں اور پھر ہم دونوں پاکستان شفٹ ہو جائیں گے اس کے لیے بس مجھے پندرہ دن دو ادھر سے بزنس وائنڈ اپ کرنے لیے اور باقی ضروری کام کے لیے اور پلیز رونا بند کر دو۔ ہم پندرہ دن بعد پاکستان میں ہوں گے تمہارے پاس اُس کا ایڈریس تو ہے نا؟‘ ’ہاں۔۔ ۔! لیکن خالو اور خالہ۔۔ ۔۔ ۔‘ وہ اُس کی بات کاٹ کے بولا ’اُن کی فکر نہ کرو میں اُن کو سنبھال لوں گا زیادہ سے زیادہ بریک اپ ہی کریں گے نا؟‘ تو اُس نے مُسکراتے ہوئے اثبات میں سر ہلا دیا اور مائدہ نے کلمہ کے الفاظ دہرائے اور اُس کے پیچھے ٹومس نے بھی کلمہ کے الفاظ ادا کیے اور ایک سچے دین کو پا لینے کی خوشی میں دونوں نے مُسکرا کے ایک دوسرے کو دیکھا۔
٭٭
اُن جھیل سی نیلی آنکھوں میں
اک شام کہیں آباد ہوئی تھی
اُس سمندرکنارے پل دو پل
اک خواب کا نیلا پھول کھلا تھا۔
ریاح، عائشہ اور حامد کے ساتھ شادی کی تاریخ لینے جانے لگی تو دُخان کو کہا ’بھیا جی۔۔ بھابھی کے لیے کوئی پیغام ہے تو بتا دیں پھر نہ کہیے گا میں آپ سے پوچھا نہیں‘ ’نہیں جی مجھے کوئی پیغام نہیں پہچانا‘ ’لے آپ کو کیا ہوا آپ کو تو خوش ہونا چاہئے‘ ’تو خوش ہی ہوں اب کیا ڈانس کروں؟‘ اُس نے چڑ کے کہا تو وہ کھی کھی کرنے لگی ’بھائی آپ ڈانس کرتے کیسے لگیں گے؟‘وہ خود بھی مُسکرا دیا اور باہر سے آتی آوازیں سُن کے بولا ’جاؤ بھی بابا جان بُلا رہے ہیں‘ ’ہاں ہاں جا رہی ہوں پتہ ہے دل میں لڈو پھوٹ رہے ہوں گے‘ وہ جاتے جاتے بولی تھی اور وہ اُداسی سے مُسکرا دیا اور اُسے وہ جھیل سی نیلی آنکھیں یاد آئی تھیں، ’اے اللہ تو جانتا ہے موت اور محبت پہ تیرے سوا کسی کا اختیار نہیں ہے تُو ہی دلوں میں محبتوں کا بیج بوتا ہے تو اے میرے پیارے اللہ کوئی معجزہ کر دے اُسے مجھے دے دے‘اُس نے سچے دل سے اللہ کو پُکارا تھا۔
٭٭
وہ اللہ سب کی سُنتا ہے
اُس نے پاکستان جانے کا سارا انتظام کر لیا تھا۔ اُس کی توقع کے مطابق اُس کے ماں باپ اور دونوں بہنوں نے بریک اپ کر دیا تھا۔ آج میکسیکو میں اُن کی آخری رات تھی وہ ساری رات اللہ کے آگے روتا رہا ’اے میرے اللہ تُو نے اُسے میرے لیے نہیں بنایا اس لیے اُس کی محبت بھی میرے دل سے نکال دے جو تیری چاہت ہے اُسے میری چاہت بنا دے مجھے در در بھٹکنے سے بچا لے مجھے ہدایت دے اے میرے اللہ جو میرے لیے نہیں ہے اُس کی خواہش بھی میرے دل سے نکال دے، میرے مالک مجھے مانگنا نہیں آتا بن مانگے عطاء فرما مجھے یقین ہے تُو میری دعا ضرور قبول فرمائے گا‘ وہ سسک رہا تھا۔ اللہ سے مانگ رہا تھا۔ اور اللہ نے اُس کی سُن لی تھی کبھی ایسا بھی ہوا ہے کہ جب اللہ سے اس یقین کے ساتھ مانگا جائے کہ وہ ہماری دُعا ضرور پوری کرے گا اور اللہ دُعا قبول نہ کرے؟
٭٭
یوں اچانک میں نے تجھے پایا
جیسے تاثیر دُعا میں آئے
آج اُس کی مہندی تھی سب گاؤں والے حویلی میں اکٹھے تھے آدھے خاندان کے لوگ اس طرف تھے اور آدھے ساتھ والے گاؤں میں لڑکی والوں کی طرف، آسمان پہ اندھیرا چھانے لگا تو لڑکیاں ڈھولک لے کے بیٹھ اور ابھی کچھ دیر ہی گزری تھی کہ فون کی گھنٹی بجھی تو حامد صاحب نے فون اُٹھایا ’اسلامُ علیکم‘ دوسری جانب سے نجانے کیا کہا گیا تھا۔ کہ رسیور اُن کے ہاتھ سے چھوٹ کے نیچے جا گرا، دُخان جو کسی کام سے اندر آیا تھا۔ اُس نے آگے بڑھ کے اُن کو تھاما اور صوفے پہ بٹھایا ’بابا جان آپ ٹھیک تو ہیں؟‘ اُس نے پریشانی سے پوچھا۔ ’افشاں اپنے کلاس فیلو احمر کے ساتھ بھاگ گئی ہے‘ اُس نے غصے سے اپنی مٹھیاں بھینچی تھیں اُس نے اس خاندان کی عزت مٹی میں ملا دی تھی اور اُس نے دُعا کی تھی کہ اب وہ کبھی اُس کے سامنے نہ آئے ورنہ وہ کچھ کر بیٹھے گا، حویلی میں یہ بات پھیل گئی تھی اور سب ہی افسردہ سے بیٹھے تھے جدھر کچھ دیر پہلے قہقہے گونج رہے تھے اُدھر اب اتنی خاموشی تھی کہ سوئی گرنے کی آواز بھی سُنی جا سکتی تھی۔ ’دُخان میکسیکو سے تمہارے مہمان آئے ہیں‘اُس کے پھُوپھی زاد سیف نے برآمدے میں داخل ہو کے کہا تو سب نے ہی نظریں اُٹھا کے اُس کے پیچھے آتے لڑکے اور لڑکی کو دیکھا اور دُخان بے یقینی کے عالم میں اپنی جگہ سے اُٹھا تھا۔ اور اُن کی طرف بڑھا اور گرمجوشی سے لڑکے کو گلے لگایا تو مائدہ اُس کے کان میں بولی ’یہ میرا کزن اور بہترین دوست مھد ہے‘ تو وہ دونوں مُسکرا دیے اور دُخان نے اُن کا سب سے تعارف کروایا ’یہ میرا دوست ہے مھد اور یہ اس کی کزن ہیں‘ عائشہ اور حامد نے دونوں کو پیار دیا اور وہ بھی اُدھر ہی بیٹھ گئے سب اشتیاق سے نیلی آنکھوں والی لڑکی کو دیکھ رہے تھے جس نے کالا سٹولر لپیٹ رکھا تھا۔ اور معصوم سی نیلی آنکھوں والی باربی ڈول لگ رہی تھی۔ ریاح نے اُسے اپنے ساتھ بٹھایا تھا۔ ’کسی کا برتھ ڈے ہے آج؟‘ اُس نے سجھے ہوئے گھر اور اتنے لوگوں کی موجودگی کو دیکھ کے اندازہ لگایا تھا۔ اور ریاح سے پوچھا تو دُخان نے اُس کے اُردو بولنے پہ حیران ہوتے ہوئے دیکھا تھا۔ تو مھد نے اُس کے کان میں سرگوشی کی ’تمہارے لیے یہ اُردو کیا کسی بھی پہاڑ کو سر کر سکتی ہے‘ ریاح کی بجائے عائشہ نے اُسے مختصر سا بس یہ بتا دیا کہ لڑکی نے شادی سے انکار کر دیا ہے اس لیے اب دُخان کی شادی نہیں ہو رہی تو مائدہ کے چہرے پہ دھنک سے رنگ کھلے تھے ’کیا آپ دُخان کی شادی میری کزن مائدہ سے کریں گے؟‘ مھد نے عائشہ اور حامد کی طرف دیکھ کے پوچھا تھا۔ اور پھر ساری بات اسلام قبول کرنے سے پاکستان شفٹ ہونے تک بتا دی تو سب نے اُنہیں اسلام قبول کرنے کی مُبارک دی تھی اور پھر حامد نے دُخان سے پوچھا تھا۔ اور اُس نے فرمانبردار بیٹوں کی طرح کہا ’بابا جان جیسے آپ سب کی مرضی‘ اور پھر سب کی رضا مندی سے پرپوزل قبول کر لیا گیا تھا۔ اور حویلی میں دوبارہ ڈھولک بجنے لگی تھی مہندی کا فنکشن کل پہ شفٹ ہو گیا تھا۔ آج ہلدی کی رسم رکھ دی گئی تھی علی اور عمیر جو کچھ سامان لینے بازار گئے ہوئے تھے آئے تو دیکھا ساری بازی ہی پلٹی ہوئی تھی اُنہوں نے دُخان کو گلے لگا کے مبارکباد دی۔
٭٭٭
باب ۵
تم میرا عشق ہو میری جان ہو
تم اللہ کی طرف سے میرا انعام ہو
وہ صبح سے مائدہ سے بات کرنے کا بہانہ ڈھونڈ رہا تھا۔ لیکن موقع ہی نہیں مل رہا تھا۔ اور وہ بات کرنے کے لیے بے چین ہو رہا تھا۔ وہ اُس کی ہونے والی دُلہن تھی اُس سے نکاح تک پردہ کروا دیا گیا تھا۔ دوپہر کا وقت تھا۔ سب کمروں میں آرام کر رہے تھے اور عائشہ کچھ خواتین کے ساتھ بازار گئی تھیں مائدہ کے شادی کے کپڑے اور زیور خریدنے کے لیے۔ اُس کی نظر دیوڑھی کی طرف جاتی ریاح پہ پڑی تو اُس نے اُسے جا لیا ’میری بلی میرا ایک کام کرو گی؟‘ ’نہیں ابھی میں بہت مصروف ہوں‘ وہ جانے لگی تو اُس نے اُس کا بازو پکڑ لیا ’میرا چندا میرا سوہنا میری جان بھائی کی بات نہیں مانو گی؟‘ ’اوئے ہوئے خیر نہیں لگ رہی اچھا بتائیں کام‘ ’اپنی بھابھی سے ملوا دو در اصل میں ایک دفعہ اُسے دیکھنا چاہتا ہوں یہ نا ہو شادی کے بعد پچھتانا پڑے‘ اُس نے چہرے پہ معصومیت طاری کرتے ہوئے کہا ’اچھا تو یہ بات ہے جتنے شریف بن رہے ہیں نہ اتنے شریف آپ ہیں نہیں‘ اُس نے آنکھیں گھُماتے ہوئے کہا۔ ’بھائی کو ایسا کہتے شرم نہیں آتی تمہیں‘اُس نے مصنوعی غصے سے کہا ’چلو جاؤ اور اُسے کچن کے دروازے سے حویلی کی پچھلی طرف چھوڑ جاؤ، جاؤ شاباش بعد میں فرمائشیں کر لینا‘ اُس نے اُسے منہ کھولتے دیکھ کے کہا تو وہ منہ چڑاتی مُسکراتی ہوئی کمرے کی طرف بڑھ گئی اور وہ حویلی کے پچھلی طرف جا کے جامن کے درخت سے ٹیک لگا کے اُس کا انتظار کرنے لگا۔ ’دُخان‘ اپنا نام پُکارے جانے پہ اُس نے مُسکراتے ہوئے اُس کی طرف دیکھا تھا۔ ’جی جان دُخان‘ اُس نے آنکھوں میں بے شُمار محبت لیے کہا تو وہ بلش ہوئی تھی تو وہ اُس کے چہرے پہ بکھرے دھنک رنگ دیکھنے لگا اور مائدہ کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ کنفیوز کیوں ہو رہی ہے اور وہ اُسے کنفیوز ہوتے دیکھ کے ہنسنے لگا اور اُس کی پیلی اور سبز چوڑیوں سے سجی کلائی تھام کے بولا ’سب کچھ تو لے لیا تم نے اب ان قاتل اداؤں سے جان لو گی کیا؟‘ اُس نے نفی میں گردن ہلائی تھی اور کھنکتے لہجے میں بولی ’میں نے کہا تھا۔ نا اللہ نے آپ کو صرف میرے لیے بنایا ہے تو اللہ آپ کو کسی اور کو کیسے سونپ سکتے تھے؟ اللہ نے اپنی طرف لوٹنے پر مجھے آپ کی صورت میں انعام سے نوازا ہے آپ اللہ کی طرف سے میرا انعام ہیں‘ وہ محبت سے اُسے دیکھنے لگا بے شک اللہ نے اُسے ایک پاکیزہ عورت سے نوازا تھا۔ اُسے اُس کے کل سے کوئی سروکار نہیں تھا۔ اُس نے اُس کے ساتھ اپنا آج گُزارنا تھا۔ اور آنے والا کل۔ ’آپ نے مجھے یاد کیا تھا۔ ؟‘ ’یاد؟ تمہاری ان نیلی آنکھوں نے مجھے راتوں کو سونے نہیں دیا اور تم یاد کی بات کر رہی ہو؟‘ اُس کی آنکھوں میں نظر آتی سچائی کو دیکھتے ہوئے اُس نے اللہ کا شُکر ادا کیا تھا۔ یہ احساس ہی بہت فرحت بخش ہوتا ہے جس سے ہم محبت کرتے ہوں وہ بھی ہم سے اُس سے زیادہ محبت کرتا ہے۔ اُس کو یوں اپنی طرف دیکھتا پا کے دُخان نے شرارت سے پوچھا تھا۔ ’کیا ہے؟‘ ’عشق ہے صاحب‘ وہ بھی کھلکھلاتی ہنسی ہنستے ہوئے بولی تھی اور اس سے پہلے کہ وہ کوئی گُستاخی کرتا اپنا بازو چھڑوا کے بھاگی تھی ’بھاگ لو بھاگ لو گن گن کے بدلے لوں گا‘ دُخان نے اُسے بھاگتے دیکھ کے کہا اور دلآویزی سے مُسکرا دیا اور آسمان کی طرف منہ کرے بولا ’پیارے اللہ جی تھینک یو فار ایوری تھنگ‘۔
٭٭
کسی کا دیکھ کے دھیمے سے مُسکرا دینا
کسی کے واسطے کُل کائنات ہوتی ہے
ریاح، مائدہ کو کچن کے دروازے سے حویلی کی پچھلی طرف چھوڑ کے اپنے دھیان میں مگن چہرے پہ ہلکی سی مُسکان سجھائے برآمدے سے گزرنے لگی کے اُس کا سر کسی دیوار سے ٹکرایا تھا۔ اور پھر اُس کی دھڑکنیں بے ترتیب ہوئی تھیں تو اُس نے آہ کی آواز کے ساتھ اوپر دیکھا تو ہیزل گرین آنکھوں کو اپنی طرف دیکھتے پا کے وہ تیزی سے پیچھے ہٹی اور گڑبڑاتے ہوئے بولی ’سوری میں سمجھی کہ کوئی دیوار ہے‘ اُس کی بات پہ پہلے تو وہ حیران ہوا اور پھر مطلب سمجھ کے ہنس دیا اور اُسے ہنستے دیکھ کے اُسے احساس ہوا کے اُس نے کیا بولا ہے تو منہ پہ ہاتھ رکھے اُلٹے پاؤں پیچھے کی طرف چلنے لگی تو وہ بولا ’دھیان سے اب کہیں سچ میں نہ دیوار سے ٹکرا جانا‘ اُس نے شرارت سے کہا تو وہ اُس کے اس طرح دیکھنے پہ شرما کے رُخ پھیر کے بھاگ گئی، مھد کو پتہ چل گیا تھا۔ کہ اللہ کیا چاہتا ہے اور اُس نے اللہ کا فیصلہ دل و جان سے قبول کر لیا تھا۔
٭٭
اے بنت حوا یہ ابن آدم
ہوس کو چاہت کا نام دے کے
پیاس اپنی بُجھا رہا ہے
تیرا دامن جلا رہا ہے
مگر تو پیکر وفا بنی ہے
وفا ہی تیری خطاء بنی ہے
تو کتنی سادہ تو کتنی پاگل
تو کس کی باتوں میں آ رہی ہے
مقام اپنا گنوا رہی ہے
یہ چاہتوں کا فریب دے کے
تمہارے جذبوں سے کھیلتے ہیں
اپنی خواہش مٹانے تک یہ
تمہاری چاہت کو جھیلتے ہیں
مگر یہ اپنی ہوس مٹا کر
تمہیں بھُلا کر
شکار اگلا تلاشتے ہیں
اے بنت حوا
سنبھال خود کو
احمر شادی کا جھانسا دے کے افشاں کو گھر سے بھگا کے لے گیا تھا۔ اور افشاں کو تھا۔ کے اُس کے گھر والے نہیں مانیں گے اس لیے اُس نے احمر کی بات مان لی۔ لیکن احمر اُسے اپنے دوست کے فلیٹ پہ لے گیا۔
اور اُسے کہا کے وہ صبح کورٹ میں جا کے میرج کر لیں گے لیکن آدھی رات کو اُس نے اُسے لوٹ لیا تھا۔ اور اُدھر سے بھاگ گیا تب اُسے احساس ہوا کے وہ کیا کر بیٹھی ہے لیکن اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چُگ گئیں کھیت۔ اب وہ اس حالت میں نہ تو گھر جا سکتی تھی کیونکہ وہ جانتی تھی کہ اُس کے گھر والے اُسے قتل کر دیں گے اس لیے اُس نے کچن میں جا کے چاقو پکڑا اور اپنی نبض کاٹ لی وہ صبح تک تڑپتے ہوئے مر گئی تھی، ایسی لڑکیوں کا یہ ہی حال ہوتا جو اللہ کو بھول جاتی ہیں اور اپنے ماں باپ کی عزتوں کو روند ڈالتی ہیں۔ اگر ہمارے ماں باپ ہم پہ اعتبار کر کے ہمیں یونیورسٹیوں میں بھیجتے ہیں تو ہمیں بھی چاہئیے کہ ہم اُن کا اعتبار قائم رکھیں، اُن کا فخر بنیں تا کہ وہ سر اُٹھا کے چل سکیں نہ کے اُن کے سر جھُکانے کی وجہ۔
٭٭٭

جواب لکھیں

%d bloggers like this: