...................... .................

ناگا لینڈ کے بعد منی پور کا بھی بھارت سے علیحدگی کا اعلان

ناگا لینڈ کے بعد ایک اور ریاست منی پور نے بھارت سے علیحدہ ہونے کا اعلان کردیا۔
کے مطابق بھارتی ریاست منی پور کے مہاراجہ لیشمبا سانا جاﺅبا کے نمائندوں نے لندن میں منی پور ریاست کونسل کے قیام کا اعلان کردیا، رہنماﺅں کا کہنا ہے کہ وہ ملکہ برطانیہ کو قرارداد پیش کریں گے۔
مہاراجہ آف منی پور کے جلا وطن نمائندوں نے لندن میں منی پور کی بھارت سے علیحدگی کا اعلان کیا۔ اس سلسلے میں بلائی گئی پریس کانفرنس میں منی پورریاست کونسل کے قیام کا اعلان کیا گیا اور یامبین بائرن کو کونسل کا وزیر اعلیٰ منتخب کیا گیا۔
منی پور ریاست کونسل کے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ مودی کے بھارت میں ہمارے لیے کوئی جگہ نہیں ہے، ہماری علیحدہ ریاست کو تسلیم کیا جائے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ مہاراجہ کا محل ان کا ہیڈ آفس ہوگا۔
منی پور ریاست کونسل کے نمائندوں نے اعلان کیا کہ وہ بہت جلد اپنی علیحدہ ریاست کے حوالے سے ملکہ برطانیہ کو قرار داد پیش کریں گے۔ پریس کانفرنس کے دوران منی پور کونسل کے وزرا کے ڈیکلریشن آف انڈیپنڈنس کا باقاعدہ اعلان بھی کیا گیا۔
پریس کانفرنس میں بتایا گیا کہ مہاراجہ نے 1946 میں بھارت سے علیحدگی کا اعلان کیا تھا لیکن 1949 میں بھارت نے ریاست کی خود مختاری کو کچلتے ہوئے اسے اپنے ساتھ شامل کیا تھا۔
یاد رہے کہ 2 ماہ قبل بھارت کی عیسائی اکثرت آبادی والی ریاست ناگا لینڈ نے بھارت سے علیحدگی کا اعلان کرتے ہوئے نہ صرف اپنا الگ وفاقی دارالحکومت بنالیا تھا بلکہ قومی ترانہ بھی جاری کردیا تھا۔
دوسری جانب مقبوضہ کشمیر کی جدوجہد آزادی اپنے عروج پر ہے اور وہ دن دور نہیں جب کشمیر جنت نظیر بھارت سے آزادی حاصل کر لے گا۔
اسی طرح سکھ برادری کی ریپبلک آف خالصتان کی زور پکڑتی تحریک کی یوں تو ہندو سخت مخالفت کر رہے ہیں تاہم بھارت کی روز بروز بڑھتی ہوئی ناانصافیوں سے سکھ طبقے کے دلوں میں ہندوؤں کے خلاف نفرت کسی لاوے کی طرح ابل رہی ہے جو کسی بھی وقت دھماکے کے ساتھ باہر آکر ہندوستان کو ٹکڑوں میں تقسیم کر سکتی ہے۔

جواب لکھیں