...................... .................

’را‘ کی جانب سے مولانا فضل الرحمٰن کی زندگی کو خطرہ

جمعیت علمائے اسلام ف کےسربراہ مولانا فضل الرحمٰن کی جان کے خطرے کے حوالے سے تھریٹ الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔
تھریٹ الرٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ اور افغان خفیہ ایجنسی ’این ڈی ایس‘ مولانا فضل الرحمٰن پر جان لیوا حملہ کر سکتی ہیں۔
اس تھریٹ الرٹ سے پراونشل انٹیلی جنس سینٹر ہوم ڈیپارٹمنٹ (محکمۂ داخلہ) نے پنجاب حکومت کو آگاہ کیا ہے۔
تھریٹ الرٹ میں کہا گیا ہے کہ ’را‘ اور ’این ڈی ایس‘ نے مولانا فضل الرحمٰن پر حملے کے لیے ٹارگٹ کلرز سے رابطہ کر لیا ہے، اس مقصد کے لیے کثیر رقم بھی مختص کر دی گئی ہے۔
مولانا فضل الرحمٰن کو بھی تھریٹ الرٹ سے آگاہ کر دیا گیا ہے، جبکہ سیکیورٹی کے حوالے سےاقدامات بھی تجویز کر دیئے گئے ہیں۔
دوسری جانب سندھ اور بلوچستان سے چلنے والا جمعیت علمائے اسلام ف کا آزادی مارچ ملتان پہنچ گیا، قافلے کا اگلا پڑاؤ لاہور ہو گا۔
قافلے کے شرکاء نے ناشتے کے بعد تیاریاں مکمل کرلی ہیں، آج دوپہر قافلہ لاہور روانہ ہوجائے گا۔
مولانا فضل الرحمٰن کی قیادت میں اتوار کو کراچی سے آزادی مارچ شروع ہوا تھا، جس کے شرکاء نے رات سکھر میں گزاری تھی۔
پیر کی صبح آزادی مارچ کا قافلہ، پنو عاقل اور گھوٹکی سے ہوتا ہوا رحیم یار خان کے راستے پنجاب میں داخل ہوا، قافلہ بہاول پور اور لودھراں سے ہوتا ہوا رات گئے ملتان پہنچ گیا۔
بلوچستان سے آنے والا قافلہ پہلے ہی ڈیرہ غازی خان کے راستے ملتان پہنچ چکا ہے اور مولانا کی زیر قیادت مارچ میں شامل ہو گیا ہے۔
قافلے کے شرکاء نے رات فاطمہ جناح کالونی میں قیام کیا، صبح کے وقت کارکن ناشتے کی تیاری میں مصروف دکھائی دیئے۔
مولانا فضل الرحمٰن نے رات اپنے بیٹے مولانا اسد الرحمٰن کے گھر گزاری، قافلےکے شرکاء نے صبح صبح ناشتے کے لیے سبزی بنائی اور سڑک کنارے ہی چولہے بنا کر پراٹھے تیار کیے۔
قافلے کے قریب ہی عارضی دکانیں بھی سج گئی ہیں جہاں نان چنے اور دیگر کھانے پینے کے لوازمات موجود ہیں، شرکاء نے ان عارضی دکانوں سے بھی ناشتے کا سامان خریدا۔
ناشتے کے بعد شرکاء نے سامان سمیٹنا شروع کر دیا، قافلے سے سربراہ جے یو آئی ف مولانا فضل الرحمٰن خطاب کریں گے جس کے بعد قافلہ لاہور کے لیے روانہ ہو جائے گا۔
مولانا فضل الرحمٰن کہتے ہیں کہ عوام کے قافلے میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے، مارچ دیکھ کر حکومت پریشان نہیں حواس باختہ ہے۔
انہوں نے دوبارہ انتخابات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد پہنچ کر تمام سیاسی جماعتوں کی مشاورت سے اگلی حکمتِ عملی طے کریں گے، طبلِ جنگ بج چکا، اب پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

جواب لکھیں