...................... .................

خدشہ ہے نواز شریف ہم میں نہ رہیں: ڈاکٹر عدنان

ڈاکٹر عدنان کا اسلام آباد ہائی کورٹ کے روبرو کہنا ہے کہ سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کی جان کو اسپتال میں ہونے کے باوجود خطرہ ہے، مجھے خدشہ ہے کہ نواز شریف کو کہیں کھو نہ دیں۔
اسلام آباد ہائی کورٹ میں نواز شریف کی طبی بنیادوں پر ضمانت کی درخواست پر سماعت جاری ہے۔
نواز شریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان نے عدالت کو بتایا کہ نواز شریف کی حالت انتہائی تشویشناک ہے، میڈیکل بورڈ نے کل نواز شریف کی مکمل باڈی کو اسکین کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ نواز شریف کو جان بچانے کی ادویات دی گئیں، 8 دن میں ان کا 7کلو وزن کم ہو گیا،میں نے آج تک کبھی نواز شریف کی اتنی تشویش ناک حالت نہیں دیکھی۔
ڈاکٹر عدنان نے بتایا کہ نواز شریف کی عمر 70 سال ہے اور ان کو عارضۂ قلب بھی لاحق ہے، نوازشریف کی جان کو اسپتال میں ہونے کے باوجود خطرہ ہے، مجھے خدشہ ہے کہ نواز شریف کو کہیں ہم کھو نہ دیں۔
سروسز اسپتال لاہورکے ایم ایس ڈاکٹر سلیم چیمہ نے عدالت کو بتایا کہ ایک بیماری کا علاج کرتے ہیں تو دوسری بیماری کھڑی ہوجاتی ہے، نواز شریف کی حالت اس وقت بھی خطرے میں ہے۔
انہوں نے بتایا کہ نواز شریف کے پلیٹ لیٹس بڑھانے کے لیے 5 دن کا کورس مکمل ہو گیا، اب نواز شریف کو قوتِ مدافعت بڑھانے اور ہڈیوں اور جوڑوں کے درد کے لیے انجکشن کا کورس شروع کرا دیا گیا ہے، نیفرولوجی کے ڈاکٹر نے بھی نواز شریف کا معائنہ کیا ہے۔
ڈاکٹر سلیم چیمہ نے بتایا کہ سابق وزیرِ اعظم کے گردوں کا یوریا کرٹینین کا ٹیسٹ کیا گیا، جس کے بعد نواز شریف کو یوریا کرٹینین کے لیے ادویات بھی دی گئیں۔
ان کا مزید کہنا ہے کہ نواز شریف کو گردے کی شکایت پہلے سے ہے، 5 دن تک اسٹیرائیڈز اور شوگر کی ادویات کے استعمال کے بعد گردوں کا معائنہ ضروری ہو گیا تھا۔
ڈاکٹر سلیم چیمہ نے یہ بھی بتایا کہ میاں نواز شریف کا بیک وقت دل، گردوں، شوگر اور آئی ٹی پی کا علاج کیا جا رہا ہے، گزشتہ روز ان کے پلیٹ لیٹس کی تعداد 28 ہزار تک پہنچ گئی تھی۔
نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث نے عدالت عالیہ کے روبرو میڈیکل بورڈ کی رپورٹ سے حوالہ جات پیش کیے۔
خواجہ حارث نے عدالت کو بتایا کہ فالج سے بچاؤ کے لیے پلیٹ لیٹس بڑھانا ضروری ہے، پلیٹ لیٹس فوری بڑھائیں تو ہارٹ اٹیک کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، قدرتی طور پر نواز شریف کے پلیٹ لیٹس نہیں بڑھ رہے۔
انہوں نے کہا کہ نواز شریف کے انجائنا کی وجہ سے تمام بیماریوں کا علاج بیک وقت ممکن نہیں، 26 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق نواز شریف کا دل مکمل طور پر خون پمپ نہیں کر رہا۔
خواجہ حارث نے کہا کہ نواز شریف کو ایک چھت کے نیچے تمام میڈیکل سہولتیں ملنا ضروری ہیں، ہمیں ڈاکٹرز کی نیت وقابلیت پر شبہ نہیں مگر نتائج سے بورڈ خود مطمئن نہیں۔
انہوں نے کہا کہ سزا پر عملدرآمد کرانا ہے تو اس کے لیے نواز شریف کا صحت مند ہونا ضروری ہے، سابق وزیرِ اعظم کو ان کی مرضی کے ڈاکٹرز سے علاج کرانے کی اجازت ملنی چاہیے۔
نواز شریف کے وکیل نے مزید کہا کہ ان کی حالت بہتر ہوگئی تو وہ دوبارہ قید کی سزا کاٹ سکتے ہیں، نواز شریف کا علاج ہو ضرور رہا ہے، ڈاکٹرز کی بہت اچھی ٹیم علاج کر رہی ہے۔
خواجہ حارث نے یہ بھی کہا کہ ڈاکٹرز کی استدعا پر کیس پیر کے بجائے آج منگل کے لیے رکھا گیا تھا، ابھی تک بیماری کی وجوہات ہی معلوم نہیں ہو رہیں، ہم چاہتے ہیں کہ ایک ہی چھت کے نیچے علاج کی بہتر سہولتیں میسر آئیں۔
سماعت کےموقع پر وزیرِ اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار بھی عدالت میں پیش ہوئے،انہوں نے کہا کہ نوازشریف کا پنجاب حکومت پراعتماد ہے،ان کا بھرپور خیال رکھیں گے۔
خواجہ حارث کے دلائل ختم ہونے کے بعد ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل نیب جہانزیب بھروانہ روسٹرم پر آ گئے ، انہوں نےکہا کہ سپریم کورٹ نے علاج کے لیے 6 ہفتوں کے لیے سزا معطل کی تھی، عدالتِ عظمیٰ نے سزا معطلی کے وقت کچھ پیرامیٹرز طے کیے تھے۔
جہانزیب بھروانہ نے مزید کہا کہ عدالت نے واضح کیا تھا کہ نواز شریف ان 6 ہفتوں میں ملک سے باہر نہیں جا سکتے، ان سے 6 ہفتوں میں پاکستان میں اپنی مرضی کا علاج کرانے کا کہا گیا تھا۔

جواب لکھیں