...................... .................

امریکا کا شامی تیل کے تحفظ کا منصوبہ بین الاقوامی ڈکیتی ہے

امریکا شامی تیل کے تحفظ کے لیے نیا منصوبہ تیار کررہا ہے جبکہ روس نے امریکا پر شام میں تیل کے تحفظ کے نام پر ڈکیتی کا الزام عائد کردیا۔
تفصیلات کے مطابق ماسکو حکام نے امریکا پر شام میں تیل کی تنصیبات کے تحفظ کے نام پربین الاقوامی ڈکیتی کا الزام عائد کیا ہے، جس کا مقصد تیل پر قبصہ کرنا ہے۔
غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق روس کی وزارتِ دفاع نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا اس وقت جو کچھ کررہا ہے، وہ مشرقی شام میں آئیل فیلڈز پر قبضہ اور انہیں اپنے کنٹرول میں لانا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ سادہ لفظوں میں بین الاقوامی ڈکیتی ہے، شام میں ہائیڈرو کاربن کے تمام ذخائر داعش کے دہشت گردوں کی ملکیت نہیں ہیں اور یہ تمام داعش کے دہشت گردوں کے مدافعین کے بھی نہیں بلکہ صرف اور صرف شامی عرب جمہوریہ کے ملکیتی ہیں۔
امریکا میں ری پبلیکن پارٹی کے رکن کانگرس لینڈسے گراہم کا گذشتہ روز کہنا تھا کہ امریکا شام کے تیل کے تحفظ کے لیے نیا منصوبہ تیار کررہا ہے۔
شامی تیل کا تحفظ، امریکا کا نیا منصوبہ
امریکا میں ری پبلیکن پارٹی کے رکن کانگرس لینڈسے گراہم نے کہا ہے کہ امریکا شام کے تیل کے تحفظ کے لیے نیا منصوبہ تیار کررہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق اپنے ایک بیان میں لینڈسے گراہم کا کہنا تھا کہ امریکا ایک ایسا منصوبہ بنا رہا ہے جس کا مقصد شامی تیل کو ایران اور داعش کے ہاتھ لگنے سے روکنا ہے۔
غیر ملکی خبررساں کے مطابق انہوں نے کہا کہ امریکی فوجی کمانڈرایک ایسا منصوبہ مرتب کررہے ہیں جس کے تحت شام میں داعش کو دوبارہ ابھرنے سے روکنا اور شام کے تیل کو ایران یا عسکریت پسند گروپ کے ہاتھوں میں آنے سے روکنا ہے۔
گراہم نے وائٹ ہاﺅس میں جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین کی طرف سے بریفنگ لینے کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ جوائنٹ چیفس آف اسٹاف ایک ایسے منصوبے کی تیاری پر کام کررہے ہیں جو میرے خیال میں کامیاب ہوسکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ میں کسی حد تک محسوس کرتا ہوں کہ ایک منصوبہ تیار کیا جارہا ہے جو شام میں ہمارے بنیادی مقاصد کو پورا کرے گا۔
غیر ملکی میڈیا کا کہنا ہے کہ امریکا کے اس منصوبے میں شام میں ترک فوجی آپریشن رکاوٹ بنے گا، جس پر امریکی حکام غور کررہے ہیں۔
خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترکی کے خلاف پابندیوں کا حکم نامہ جاری کیا تھا جس کے تحت امریکا نے ترک وزیردفاع، وزیرداخلہ اور وزیرتوانائی پر پابندی عائد کی گئی تھی، بعد ازاں جنگ بندی معاہدے پر مکمل عمل درآمد کرنے پر ترکی سے پابندیاں اٹھالی گئیں۔

جواب لکھیں