...................... .................

پی ٹی آئی کی آزمائش کا رواں ہفتہ …. خلیل احمد نینی تال والا

خلیل احمد نینی تال والا ……
پی ٹی آئی حکومت کی لغزشوں اور غلطیوں کی آزمائش کا اہم ہفتہ شروع ہوچکا ہے ہر طرف گزشتہ ایک سال سے محاذوں پر محاذ کھلتے گئے جس میں کرپشن کے خلاف یک طرفہ کارروائیا ں مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے سرکردہ افراد کے صرف جیل جانے کو ہی کامیابی گردانتے ہوئے عمران خان بار بار گنوا کر سر خرو ہونا چاہتے ہیں۔
مگر ان کی حکومت میں حصہ دار مسلم لیگ (ق)،ایم کیو ایم اور خودان کی اپنی جماعت میں شامل کرپٹ افراد کی معافی اب عوام کو ہضم نہیں ہورہی ہے۔
اس کا نتیجہ آخر آزادی مارچ کی شکل میں سامنے آرہا ہے اور اسے صرف ایک پوائنٹ ایجنڈا سے کیسے ٹالا جائے اس سے نمٹنا پی ٹی آئی حکومت کیلئے ممکن نہیں ہے، اب کھل کر عمران خان بحیثیت وزیر اعظم فوج کی غیرمشروط حمایت کا اعتراف کر چکے ہیں۔
آئی ایم ایف سے قسط وار قرضے لے کر وہ معیشت کو مزید کمزور کر چکے ہیں۔اسٹاک ایکسچینج میں 800 سے لے کر 950 پوائنٹس گرنا اب روز کا معمول بن چکا ہے۔
دوسری طرف نیب کی مزید کارروائیاں کرپٹ بیوروکریٹس کو بھی کھل رہی ہیں۔ اسی ہفتہ میں تاجر اور صنعت کار جو ایف بی آر کی ہٹ دھرمی سے بیزار ہوچکے ہیں، اپنا لائحہ عمل ترتیب دینے میں لگے ہوئے ہیں۔
ڈاکٹروں کی ہڑتالیں، وکلا کی بے چینی اب آخری حدوں کو چھورہی ہے۔ بے روزگاری، مہنگائی اوپر سے لاقانونیت بھی اپنا رنگ دکھا رہی ہے۔ پھر مرکز اور صوبوں میں تنائو سب کھل کر سامنے آچکا ہے۔ عدلیہ بار بار اس کی نشاندہی کرکے بیزار ہوتی جارہی ہے۔ مگر حکمران سب ٹھیک ہے ٹھیک ہوجائے گا ،گھبرائیں نہیں کی رٹ لگائے ہوئے ہیں۔
بعض اینکرز صاحبان جو مسلم لیگ (ن)اور پی پی پی کی کرپٹ حکومتوں سے بیزار ہوکر کپتان کے دھرنوں میں بہہ گئے تھے۔ آج وہ واشگاف الفاظ میں عمران خان کے دعدوں کی مذمت کرتے نظر آرہے ہیں۔
الغرض مایوسی کا دور دورہ ہے ایسے میں تبدیلی نے کر کٹ کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ جس سے قوم اور کر کٹ فین دم بخود ہوگئے، ہر غلطی کپتان کے کھاتے میں ڈال دی گئی۔
ماضی کے کپتان اور موجودہ نوواردچیف سلیکٹر مصباح الحق نے صرف ایک T-20کی شکست جو حال ہی میں سری لنکا کی ٹیم کے خلاف ہوئی سرفراز کے کھاتے میں ڈال دی، جس کے تین کھلاڑی احمد شہزاد، عمر اکمل اور وہاب ریاض کو T-20 کے تینوں میچوں میں سے باہر لا کر خود سیلیکٹر صاحب نے شامل کروایا جو عرصے سے باہر اس لئے تھے کہ وہ آؤٹ اُف فارم تھے، پہلے تو سرفراز سے T-20 کی کپتانی سے رضا کارانہ طور پر استعفیٰ مانگا جب ان کو پی سی بی کے چیئر مین احسان مانی کا وعدہ یاد دلایا کہ ورلڈ کپ تک سرفراز ہی کپتان برقرار رہیں گے اور سرفرا زنے استعفیٰ دینے سے انکار کیا تو پہلے T-20 کی کپتانی سے ہٹایا پھر ون ڈے کی کپتانی بابر اعظم کے حوالے کرکے اس کو امتحان میں ڈالا جو ابھی ناتجربہ کار تھا۔
پھر اظہر علی کو بھی ٹیسٹ کپتان بناکر تاویلیں صفائیاں دے کر میڈیا کی خفگی کو کم کرتے رہے۔ پھر اس کامیاب ترین کپتان جس نے لاتعداد بارٹیم کو فتح سے ہم کنار کیا تھا ٹیم سے ہی باہر کرکے خود سرفراز کو ہی نہیں قوم کو مایوس کر دیا۔
اسی پربس نہیں کیا آسٹریلیا کے ٹور کے لئے 5ایسے نئے کھلاڑیوں کو شامل کیا جن کو قومی ٹیم میں اور بین الاقوامی طور پر مضبوط ترین ٹیم سے کھیلنے کا کوئی تجربہ بھی نہیں تھا۔
جب کہ تینوں فارمیٹس میں سرفراز کی کپتانی میں پوری ٹیم نہ صرف سیٹ تھی، پہلی مرتبہ ڈسپلن میں رہ کر فتوحات حاصل کر رہی تھی ،سندھ سے تعلق رکھنے والے اس کپتان کے حق میں پورے پاکستان کے عوام نے احتجاج کیا۔
سندھ اسمبلی میں پہلی مرتبہ کھل کر اس فیصلے کے خلاف مشترکہ قرارداد بھی منظور کی گئی اور چیف سلیکٹر سے سرفراز کی کپتانی بحال کرنے اور پی سی بی کے چیئر مین احسان مانی سے مداخلت کر کے مصباح الحق کیخلاف انکوائری بھی کرانے کا مطالبہ کیا گیا۔
ایسے مواقع پر جب ٹیم ورلڈ کپ کھیلنے کی پوری اہلیت رکھتی ہو پوری ٹیم کو انتشار کا شکار کرنا کہاں کی عقلمندی ہے ۔اسی کپتان کی سربراہی میں ٹیم نے T-20 ورلڈ کپ جیتا، انڈیا جیسی مضبوط ٹیم کو چیمپئنز ٹرافی میں شکست دی۔
2015 سے 2017 کے درمیان 35 ون ڈے میں سے 21 میچ جیتے اور T-20میں 37 میں سے 29 میچ جیتے اور ٹیسٹ میچ سیریز بھی جیتی پی سی ایل میں ایک مرتبہ کوئٹہ گلیڈئیٹر کو فائنل جتوایا اور 2 مرتبہ کوئٹہ گلیڈئیٹر کو فائنل تک پہنچایا۔ جبکہ مصباح الحق اپنی ٹیم کو پی سی ایل میں1 کامیابی دلاسکے۔
کہیں وہ اپنی پے در پے شکست کا بدلہ لے کر پوری ٹیم اور سرفراز کوسبق تو نہیں سکھا رہے۔ قبل اس کے وہ اس میں کامیاب ہوں ان کو فوراََ سبکدوش کر کے پرانی ٹیم اور کپتان سرفراز کو ورلڈ کپ تک کے لئے واپس لایا جائے، ورنہ قوم پھر کرکٹ کے میدان میں فتح ڈھونڈتی رہ جائے گی اور ورلڈ کپ جیتنے کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکے گا اور یہ تبدیلی بھی عمران خان کے کھاتے میں ایک اور ناکام باب کا اضا فہ کرے گی۔
دوسری طرف حکومت کے خلاف دھرنوں اور مارچ کا ماحول پیدا ہوچکا ہے اس قسم کی صورتحال سے کاروبارکی سرگرمیاں مزید سست ہونے کے خطرات سر پر منڈلا رہے ہیں۔ ملک میں تاجر بھی احتجاج کررہے ہیں حکومت کو اس معاملے کو خوش اسلوبی سے طے کر نا ہو گا۔
وطن عزیز میں نہ تو مارچ پہلی بار کیا جا رہا ہے نہ دھرنا پہلی باردیا جارہا ہے۔ تحریک انصاف اور مولانا طاہر القادری نے خود دھرنے کی روایت ڈالی، اس میں پیش رفت اب مولانا فضل الرحمٰن کے مارچ کے اعلانات کی صورت میں سامنے آئی ہے اس سے قبل تحریک لبیک بھی اسلام آباد میں دھرنا دے چکی ہے۔
حکومت نے حکومتی کمیٹی بنا دی ہے اور اطلاعات کے مطابق اپوزیشن رہنماؤں نے مولانا کو تجویز دی ہے کہ اے پی سی یا اپوزیشن کا مشترکہ اجلاس بلایا جا ئے تاکہ حکومت سے مذاکرات کرنے یہ نہ کرنے اور آئندہ کی حکمت عملی کا اعلان کیا جائے۔
دیکھتے ہیں آگے کیا ہوتا ہے۔

جواب لکھیں