...................... .................

ابھرتا ہوا نیا سیاسی منظر نامہ …… عباس مہکری

عباس مہکری …..
مولانا فضل الرحمٰن کے لانگ مارچ اور دھرنے کا نتیجہ کچھ بھی نکلے لیکن اس سے پاکستان میں ایک نیا سیاسی منظر نامہ ابھرتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔
پاکستان کے سیاسی منظر نامے پر کافی عرصے سے حاوی رہنے والی دو بڑی سیاسی جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) سے نجات حاصل کرنے کی ایک سوچ پائی جاتی تھی جس کے مطابق پاکستان تحریک انصاف ایک مقبول سیاسی جماعت کے طور پر ان دونوں سیاسی جماعتوں کا سیاسی خلا پر کر سکتی تھی اور ملک کی ترقی میں حائل رکاوٹیں ختم کر سکتی تھی۔ جو اس سوچ کے مطابق دو بڑی روایتی سیاسی جماعتوں نے پیدا کی تھیں۔
اس سوچ نے لوگوں کے ذہنوں میں جو سیاسی اسکیم ڈالی تھی ، اس کے مطابق تحریک انصاف کی قیادت میں پاکستان سیاسی استحکام کے ساتھ طویل عرصے تک ترقی کی منازل طے کرتا رہے گا لیکن بد قسمتی سے ایسا نہیں ہو سکا۔
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کے سیاسی اور مذہبی نظریات کچھ بھی ہوں، تحریک انصاف کی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف ان کا احتجاج وسیع تر عوامی حلقوں کی امنگوں سے ہم آہنگ ہے ۔ تحریک انصاف کی قیادت کی مقبولیت کی بنیاد پر جو سیاسی عمل ہم آگے بڑھتا ہوا دیکھ رہے تھے ، اس کے لیے پہلے والے حالات شاید نہیں رہیں گے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن کے لانگ مارچ کی اس طرح سیاسی مخالفت نہیں کی جا رہی ہے، جس طرح 2014 اور 2016 ء کے لانگ مارچ اور دھرنوں کی گئی تھی۔
مولانا کے لانگ مارچ کو پاکستان کی قابل ذکر تمام سیاسی قوتوں کی حمایت حاصل ہے ، چاہے وہ اس لانگ مارچ میں شریک ہوں یا نہ ہوں۔
جولائی 2018ء کے عام انتخابات کے صرف ایک سال بعد ایسی صورت حال پیدا ہونا غیر متوقع ہے۔ اب یہ بیانیہ زیادہ موثر نہیں ہوگا کہ تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف احتجاج کرنے والے سب کرپٹ لوگ ہیں۔
سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف بھی جیل میں ہیں اور ان کی طبعیت بہت خراب ہے ۔ سابق صدر آصف علی زرداری بھی جیل میں ہیں اور ان کی طبعیت بھی ٹھیک نہیں ہے ۔ اگر ان میں سے کسی کو کچھ ہو گیا تو سیاسی حالات مزید بگڑ سکتے ہیں۔
تحریک انصاف کی حکومت کی معاشی پالیسیوں سے عوام کو کب ریلیف ملے گا ؟ اس کے بارے میں تحریک انصاف والے بھی کچھ یقین سے نہیں کہہ سکتے۔
اس وقت زمینی حقیقت یہ ہے کہ ان معاشی پالیسیوں سے آبادی کے تمام گروہ اور طبقات یکساں پریشان ہیں اور وہ اپنے اپنے انداز میں تحفظات اور احتجاج کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ ’’ کون جیتا ہے تری زلف کے سر ہونے تک ، خاک ہو جائیں گے ہم تم کو خبر ہونے تک ‘‘ کے مصداق لوگ پہلے کی طرح مستقبل سے توقعات وابستہ نہیں کرنا چاہتے۔ یہ ایک سیاسی بحران ہے ، جو کوئی نہ کوئی رخ اختیار کرے گا۔
لانگ مارچ اور دھرنے کے نتائج کا انحصار اس بات پر ہے کہ لانگ مارچ اور دھرنا کتنا طویل ہو سکتا ہے۔ اس میں لوگوں کی شرکت کتنی ہو گی اور اس دوران کیا واقعات رونما ہو سکتے ہیں۔ پھر حکومت اس احتجاج کو روکنے کی کیا حکمت عملی اختیار کر سکتی ہے۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اگرچہ تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف بہت سخت موقف رکھتے ہیں لیکن وہ محتاط رہنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔
ان کا کہنا یہ ہے کہ احتجاج اس حد تک ہو کہ کسی تیسری قوت کو مداخلت کا جواز نہ مل سکے۔ حالانکہ 18 ویں آئینی ترمیم کے بعد کسی غیر آئینی اقدام کی گنجائش ختم ہو گئی ہے، اس کے باوجود بلاول بھٹو زرداری کا خدشہ بلا جواز نہیں ہے۔ ایک سال کے اندر غیر متوقع صورت حال کے پیدا ہونے سے کچھ غیر معمولی ہونے کے امکانات بھی پیدا ہو گئے ہیں کیونکہ حالات کو جولائی 2018 پر واپس نہیں لایا جا سکتا۔
مہنگائی ، بیروزگاری ، معیشت کی سست روی نے پاکستان کی سیاسی کیمسٹری تبدیل کر دی ہے ۔ کشمیر کی صورت حال ، بھارتی مقبوضہ کشمیر کے بارے میں نریندر مودی کے اقدام ، سرحدوں پر کشیدگی ، عالمی مالیاتی بینک ( آئی ایم ایف ) کی ڈکٹیشن اور ایف اے ٹی ایف کی لٹکتی تلوار نے اس کیمیائی تبدیلی میں عمل انگیز ( Catalyst ) کا کردار ادا کیا ہے۔
چین اور امریکا کے بلاکس میں سے کسی ایک کا انتخاب بھی پاکستان کے لیے ایک چیلنج بن چکا ہے کیونکہ اس وجہ سے بھی پاکستان پر بہت زیادہ بیرونی دباؤ ہے۔ پاکستان میں اس وقت جو سیاسی حالات بن رہے ہیں ، کئی داخلی اور خارجی تضادات کا منطقی نتیجہ ہیں۔ کچھ سیاسی جماعتوں کا موقف یہ ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن اس بات کی ضمانت دیں کہ وہ تحریک انصاف کی حکومت کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔
ایسی ضمانت مانگنے والی سیاسی جماعتیں اگر سیاسی عمل سے باہر رہیں تو نتائج ان کی مرضی کے نہیں آسکتے ۔ لانگ مارچ کا کچھ بھی نتیجہ نکلے، حالات جولائی 2018 ء سے بالکل مختلف ہیں اور مزید ان میں تبدیلی آئے گی۔ نئے سیاسی منظرنامے میں نئی سیاسی قوتوں کا کردار بن رہا ہے۔
پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے لیے بھی گنجائش بن رہی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ نئی صورت حال میں کس کو آگے آنے دیا جاتا ہے اور کس کو روکا جاتا ہے۔

جواب لکھیں