...................... .................

کشمیر پر بھارتی قبضے کے 72 سال، دنیا بھر میں یوم سیاہ

منصور مہدی …..
پاکستان سمیت دنیا بھر میں موجود پاکستانی و کشمیری شہریوں نے 27 اکتوبر 1947ءکو کشمیر پر بھارتی غاصبانہ قبضے کے خلاف یوم سیاہ منایاگیا۔ملک بھر میں کاروباری مراکز بند رہے، جلسے، جلوس، مظاہرے اور ریلیاں نکالی گئیں۔ سفارت خانوں کو وادی کی تازہ ترین صورتحال پر بریفنگ دی گئی اور دنیا کو پیغام دیا گیا کہ کشمیر پر بھارت کے قبضے کو مسترد کرتے ہیں۔اس سلسلے میں جنوبی افریقہ، تھائی لینڈ اور ہالینڈ میں کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیلئے بڑے مظاہر ے کئے گئے ، برطانیہ اور دیگر ممالک میں بھی یوم سیاہ منایا گیا ،تھائی لینڈ میں تھائی، پاکستان فرینڈ شپ ایسوسی ایشن نے کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیلئے مظاہر ہ کیا جس میں تارکین وطن اور مقامی شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی ، شرکا کو مقبوضہ کشمیر میں بھارتی کرفیو اور دیگر مظالم سے آگاہ کیا گیا ، ادھر عالمی عدالت انصاف کے باہر مظاہرے میں کافی تعداد میں پاکستانی شہریوں، کشمیریوں اور دیگر نے شرکت کی ۔

یوم سیاہ کا پس منظر 1947 میں برصغیر کی تقسیم کے وقت پاکستان اور ہندوستان کے نام سے وجود میں آنے والی دو آزاد ریاستوں کے درمیان کشمیر کاخطہ ایک ایسا تنازعہ بن کر ابھرا جو آج 72 برس کے بعد بھی حل نہیں ہو سکا۔تقسیم کے وقت کشمیر کی 79 فیصد آبادی مسلمانوں پر مشتمل تھی اور اس خطے کو پاکستان میں شامل ہونا تھا۔کشمیر کے مہاراجہ ہری سنگھ نے مسلمانوں کو کچلنے کے لئے 27اکتوبر کو ریاستی عوام کی مرضی کےخلاف بھارت سے الحاق کا معاہدہ کر دیا۔بھارتی فوج 72 سال میں ایک لاکھ سے زائد کشمیریوں کو شہید کر چکی ہے جبکہ کشمیری ریاست کے بھارت سے الحاق کے خلاف آج بھی صدائے احتجاج بلند کئے ہوئے ہیں۔
پیرس میں مظاہرین سردی کے باوجوف گھنٹوں انڈیا، مودی کے خلاف شدید نعرے بازی کرتے رہے، مظاہرین نے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پرکشمیریوں سے مکمل اظہار یکجہتی کے اظہار کے علاوہ بھارتی افواج کے مقبوضہ کشمیر مظالم بربریت کا نشانہ بنے والوں کی تصاویر آویزاں تھیں۔
امریکہ کے سب سے بڑے شہر نیویارک میں پاکستان کے مستقل مشن برائے اقوام متحدہ میں کشمیر کے حوالے سے یوم سیاہ کی تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں مسلم ممالک کے سفیروں اور کشمیریوں رہنماو¿ں نے شرکت کی۔تقریب میں سعودی عرب کے مستقل مندوب، او آئی سی کے سفیر اور او آئی سی کے انسانی حقوق کے اعلی نمائندوں کے علاوہ عراق، ترکی، نائجیریا ، ازبکستان اور چین کے سفارتکاروں نے شرکت کی۔ سعودی مستقل مندوب عبداللہ المعلمی نے کہا سعودی عوام کشمیری بھائیوں کی اصولی حمایت جاری رکھیں گے، تقریب میں اقوام متحدہ میں کشمیر پر اجلاسوں کی تاریخی تصاویر کے ساتھ حالیہ مظالم کی بھی عکاسی کی گئی تھی۔
حریت رہنما علی گیلانی کی قیادت میں کل جماعتی حریت کانفرنس نے لال چوک سرینگر کی طرف مارچ کیا، انہوں نے کہا ہے کہ جدوجہد جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہیں، 27 اکتوبر 1947ءکو بھارتی فوج نے حملہ کرکے وادی پر قبضہ کرلیا تھا، اسی طرح مظفر آباد میں وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر اور دیگرخطاب گیا۔
ہم کشمیریوں کےساتھ کھڑے ہیں :صدر مملکت
صدر مملکت عارف علوی نے یوم سیاہ کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ کشمیریوں کا مقدمہ پاکستان کا مقدمہ ہے، ہر عالمی فورم پر کشمیریوں کا مقدمہ اٹھاتے رہیں گے اور ہم کشمیریوں کےساتھ کھڑے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان پوری دنیا میں کشمیریوں کے حقوق کی بات کرتا ہے مقبوضہ کشمیر میں جونہی کرفیو اٹھےگا تو کشمیری پھر سے اپنے جذبات کی عکاسی کریں گے۔ 72سال قبل ہندوستانی سکیورٹی فورسز نے بین الاقوامی قوانین اور اخلاقیات کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے نہتے اور بے گناہ کشمیریوں کی امنگوں کے بر عکس جبر،ظلم و تشدد اور دہشت گردی کے ذریعے سری نگر پر قبضہ جما لیا ،انہوں نے کہاکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اپنی متعدد قراردادوں میں ایک منصفانہ اور غیرجانبدارانہ رائے شماری کے ذریعے کشمیری عوام کے حق خود ارادیت کو برقرار رکھا ،عالمی برادری ان قراردادوں اور وعدوں پر عملدرآمد کرائے ، پاکستان نے مقبوضہ کشمیر کے عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل اخلاقی سیاسی و سفارتی حمایت کا پختہ عزم کر رکھا ہے کہ وہ کشمیریوں کے حق خودارادیت کے حصول تک اپنی حمایت جاری رکھے گا ۔
پاکستان کشمیریوں کی حمایت جاری رکھے گا۔ وزیراعظم عمران خان
دوسری جانب وزیراعظم عمران خان نے کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے پیغام دیا کہ 27اکتوبر1947کو بھارت نے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کشمیرپرقبضہ کیا۔ 5 اگست 2019 سے بھارتی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں کئی گ±نا اضافہ ہوا۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ کرفیو کے باعث مقبوضہ کشمیر کرہ ارض کی سب سے بڑی جیل میں تبدیل ہوگیا ہے، وہاں ادویات اور اشیائے خورد نوش کی شدیدقلت ہے، ہزاروں افراد جابرانہ حراست میں لیے گئے، ہزاروں نوجوانوں کو اغواکر کے نامعلوم مقام پر قیدکیا گیا جب کہ قید اور اغوا کیے گئے افراد کے ساتھ غیر انسانی اور تضحیک آمیز سلوک کیاجارہاہے۔بھارتی جارحیت کو واضح کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ بھارتی ریاستی دہشتگردی آج پہلے سے کہیں زیادہ سفاکانہ رخ اختیار کرگئی ہے جس سے نام نہاد” بڑی جمیوریت” ہونے کے دعویدار بھارت کا اصل چہرہ بے نقاب ہوچکا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان مقبوضہ کشمیر میں کرفیو اور بھارتی غیر قانونی ، یکطرفہ اقدامات کی منسوخی کا مطالبہ کرتاہے لہذا عالمی برادری مظلوم کشمیریوں کے بنیادی انسانی حقوق کےاحترام اور آزادی کو یقینی بنائے۔
کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے وزیراعظم نے مزید کہا کہ ہم مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام سے غیر متزلزل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں کشمیری بھائیوں، بہنوں کو یقین دلاتے ہیں کہ پاکستان ہمیشہ ان کے شانہ بشانہ کھڑا رہے گا اور حق خودارادیت کے حصول تک کشمیریوں کی اخلاقی، سیاسی ، سفارتی حمایت جاری رکھیں گے۔
آج کشمیر بنے گا پاکستان کے اعلان کا دن ہے۔شہباز شریف
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہبازشریف نے یوم سیاہ پر کشمیریوں اور پاکستانیوں کے نام پیغام دیتے ہوئے کہا آج کشمیر بنے گا پاکستان کے اعلان کا دن ہے، تقسیم برصغیر کا ادھورا ایجنڈا کشمیرکی آزادی سے ہی مکمل ہوگا، تکمیل پاکستان کے لیے کشمیر کی آزادی لازمی تقاضا ہے۔انہوں نے کہاکہ شہداکے قبرستان گواہ ہیں کشمیری آزاد تھے، ہیں اور رہیں گے، غاصب اور قاتل بھارت کشمیریوں کی جان لے سکتا ہے، خواب نہیں چھین سکتا، دنیا دہشت گردی کے خاتمے میں سنجیدہ ہے تو مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ریاستی دہشت گردی ختم کرائے۔
کشمیریوں کی حمایت کرتے رہیں گے۔بلاول بھٹو
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا مسئلہ کشمیر پر پاکستان میں کوئی دو رائے نہیں، مسئلہ کشمیر کا حل مقامی آبادی کی امنگوں کے مطابق ہونا چاہیے، کشمیریوں کو حق خودارادیت ملنے تک ہر سطح پر اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت کرتے رہیں گے۔
وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پورا عالمی میڈیامقبوضہ جموں وکشمیر میں درپیش صورتحال سامنے لاکر بھارت کا اصل چہرہ بے نقاب کررہا ہے کہ اس کی جمہوریت جعلی جبکہ تمام دعوے سراسر جھوٹ ہیں ، 27 اکتوبر کو یوم سیاہ کے موقع پر اپنے ایک پیغام میں وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ 72 سال قبل آج کے دن عالمی قانون اور اقدار کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے بھارتی افواج سری نگر پرقبضے اور جموں وکشمیر کے معصوم وبے گناہ عوام پر جبر واستبداد کی سیاہ رات مسلط کرنے کے لئے اتری تھیں، وزیر خارجہ نے بھارت کو یاد دہانی کراتے ہوئے کہا ہے کہ وہ دہشت گردی کے اپنے ہمیشہ دہرائے جانے والے گھسے پٹے الزامات سے دنیا کومزیدگمراہ نہیں سکتا.
سپیکر اسد قیصر نے کہا کہ کشمیر پر بھارت کا غاصبانہ قبضہ تاریخ کا سیا ہ باب ہے ، مسئلہ کشمیر نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے امن کے لئے خطرہ ہے ، عالمی برادری کو فوری اپنا کلیدی کردار ادا کرنا چاہئے ، یوم سیاہ کے موقع پر اپنے پیغام میں میں سپیکر نے کہا کہ 27اکتوبر کو بھارتی افواج کے کشمیر پر غاصبانہ قبضے کے خلاف ہرسال دنیا بھر میں یوم احتجاج منایا جاتا ہے ، کشمیری بھائیوں سے ہمارا خونی رشتہ ہے ،پاکستان اقوام متحدہ کی قر ار دادوں کے مطابق مسئلہ کشمیرکے پر امن حل کے لئے پر عزم ہے ،کشمیری عوام کی تمام فورمز پر حمایت جاری رکھیں گے.
ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری نے اپنے پیغام میں کہا کہ مقبوضہ وادی میں انسانی حقو ق کی پامالی کی لمبی تاریخ ہے ، انہوں نے انسانی حقوق کی تنظیموں اور اقوام متحدہ سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند کرانے کا مطالبہ کیا۔
آزاد کشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر تحریک آزادی کا بیس کیمپ ہے اور مقبوضہ کشمیر کی آزادی تک اپنا کردار بھرپور طریقے سے ادا کرتا رہے گا۔
وزیراعظم فاروق حیدر خان نے کہا ہے کہ بھارت نے کشمیر میں داخل ہو کر اخلاقی اور بین الاقوامی اصولوں کو پاﺅں تلے روندا۔
یوم سیاہ پر جلسے، جلوس اور مظاہرے
مقبوضہ کشمیر پر بھارت کے غاصبانہ قبضے اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کےخلاف پاکستان سمیت بیشتر ملکوں میں کشمیریوں سے اظہارِ یک جہتی اور بھارت کے غیر قانونی اقدامات کےخلاف مظاہرے کیے گئے۔ یاد رہے کہ 1989 سے اب تک وادی میں ایک لاکھ شہادتیں ہو چکی ہیں، 11 ہزار خواتین کی عصمت دری کی گئی، 22 ہزار خواتین بیوہ ہوئیں، بھارتی ریاستی دہشت گردی سے لاکھوں بچے یتیم ہو چکے ہیں۔مظفر آباد آزاد کشمیر میں سرکاری طور پر یومِ سیاہ کی سب سے بڑی تقریب اپر اڈا شہید چوک پر منعقد کی گئی۔
کراچی سے خیبر تک عوام کشمیر پر بھارتی قبضے اور مظالم کیخلاف سراپا احتجاج رہے، مظاہرین کا کہنا تھا کہ کشمیریوں کی حمایت جاری رکھیں گے، مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جائے۔ پاکستان کے عوام مظلوم کشمیریوں کی آواز بن گئے، شہر،شہر کشمیر پر بھارت کے قبضے کیخلاف احتجاج کیلئے سڑکوں پر نکل آئے، ریلیوں میں کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیا گیا۔میرپور آزاد کشمیر میں ضلع کچہری سے چوک شہیداں تک احتجاجی ریلی نکالی گئی جس میں مختلف مکاتب فکر کے افراد نے بڑی تعداد نے شرکت کی۔ فضا کشمیر کی آزادی کے حق میں نعروں سے گونج اٹھی۔
ٹوبہ ٹیک سنگھ، پنڈی بھٹیاں، ظفروال، راجن پور اور دیگرکئی شہروں میں بھی عوام کشمیریوں کے حمایت کیلئے سڑکوں پر نکل آئے۔ڈیرہ بگٹی اور چاغی میں بھی کشمیریوں سے یکجہتی کا اظہار کیا گیا، ڈیرہ بگٹی میں نکالی گئی ریلی میں سابق صوبائی وزیر داخلہ بلوچستان سرفراز بگٹی اورقبائلی عمائدین بھی شریک ہوئے۔ شرکا کشمیر بنے گا پاکستان کے نعرے لگاتے رہے۔ کرک اور بنوں میں بھی شہریوں نے ریلیاں نکالیں۔حیدر آباد میں ضلعی انتظامیہ کی جانب سے کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لئے ریلی کا انعقاد کیا گیا جس میں شہریوں کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کےلیے فرانس کے درالحکومت پیرس کے اہم مقام ایفل ٹاور کے سامنے بھرپور احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔
آزاد جموں کشمیر فورم کے صدر مرزا آصف جرال، چیئرمین نعیم چوہدری کی قیادت میں کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کےلئے کیے گئے مظاہرے میں بچوں نے خصوصی شرکت کی۔
ملک کے دیگر اضلاع کی طرح تورغر میں بھی کشمیر پر بھارت کے غاصبانہ قبضے کے خلاف یومِ سیاہ منایا گیا، تورغر کے صدر مقام جدباءمیں یومِ سیاہ کے حوالے سے ڈپٹی کمشنر آفس سے مرکزی بازار تک احتجاجی ریلی نکالی گئی، ریلی کی قیادت ڈپٹی کمشنر جاوید اورکزئی نے کی۔ریلی میں سرکاری آفیسر و اہلکار، اسکولوں کے طلباء اور علاقے کے عوام نے کثیر تعداد میں شرکت کی، ریلی کے شرکاء بھارت کے خلاف نعرہ بازی کرتے رہے۔ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر جاوید اورکزئی اور دیگر مقررین نے مطالبہ کیا کہ مقبوضہ کشمیر کے نہتے عوام پر مظالم کا سلسلہ فوراً ختم کیا جائے۔
اسلام آباد میں تمام غیر ملکی سفارخانوں کو بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر کی تازہ ترین صورتحال پر بریفنگ دی گئی جبکہ بیرون ملک پاکستانی سفارتی مشن پاکستانی اور کشمیری عوام کیلئے استقبالیہ کا اہتمام کیا گیا۔ مقبوضہ وادی کی صورتحال سے متعلق تصاویری نمائش کا بھی اہتمام کیا گیا، جس میں بھارتی انسانی سوز مظالم کی عکاسی کی گئی۔ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر یوم سیاہ کے حوالے سے خصوصی مضامین شائع اور پروگرامز نشر کیے گئے۔ ایوان عدل لاہورمیں وکلا نے کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لئے مظاہرہ کیاگیا۔وکلاءنے بھارتی قبضے کے خلاف اور کشمیر کی آزادی کیلئے پر جوش نعرے لگائے،جس کااہتمام کشمیر لبریشن کمیٹی نے کیا۔ مظاہرے میں لاہور ہائی کورٹ بار کی صدارت کے امیدوار چودھری ولائت علی ایڈووکیٹ سپریم کورٹ، پنجاب بار کونسل کے سابق کوارڈینیٹر مدثر چودھری ایڈووکیٹ ہائی کورٹ، انسانی فرائض کمشن کی چیئرپرسن کنول شہزادی ایڈووکیٹ ہائی کورٹ، ندیم بٹ ایڈووکیٹ، مشفق احمد خان ایڈووکیٹ، راو طاہر شکیل،میاں اشرف عاصمی،نسرین خٹک،خواجہ سعید ناگرہ و دیگر نے خطاب کیا۔چودھری ولایت نے کہا کہ بھارت 72سال سے کشمیر پر ناجائزطور پر قابض ہے اور ساری دنیا اس عرصے سے اس کا ظلم و ستم دیکھ کر خاموش ہے۔کشمیری بدترین ریاستی جبر کا سامنا کررہے ہیں لیکن وہ بھارت کی غلامی برداشت کرنے کو تیار نہیں۔عالمی ادارے اور طاقتیں اس ظلم کو ختم کرانے کے لئے آگے بڑھیں۔کنول شہزادی چیئرپرسن انسانی فرائض کمشن پاکستان نے کہا کہ حکومت پاکستان اور فوج کشمیر کی آزادی کے لئے راست اقدام کرے اور کشمیریوں کی مدد کے لئے عملی جہاد کا اعلان کیا جائے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے سیکرٹری جنرل سید نیر حسین بخاری نے کہا ہے کہ چیئرمین بلاول بھٹو کی قیادت میں تحریک جدوجہد آزادی میں کشمیریوں کی پشت پر ہیں80لاکھ کشمیری کرفیو کے باعث انسانی حقوق سے محروم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر دنیا کی بڑی جیل بن چکا ہے۔ پاکستان علماءکونسل اور ملک بھر کی دینی و سیاسی جماعتیں آج جموں و کشمیر پر بھارتی قبضہ وجارحیت کے خلاف یوم سیاہ منائیں گی۔ ان خیالات کا اظہار چیئرمین پاکستان علماءکونسل و صدر وفاق المساجد و المدارس پاکستان حافظ طاہر محمود اشرفی نے ملکی و غیر ملکی میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی جارحیت اور انتہا پسندی پوری دنیا کے سامنے بے نقاب ہو چکی ہے۔
کشمیر کمیٹی کی سرگرمیوں کیلئے بنائی گئی ویب سائٹ اور کشمیریوں کے حق میں پٹیشن پر مبنی دس لاکھ ڈیجیٹل دستخطوں پر مبنی مہم کا افتتاح وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدارکیا۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کے ذریعے ہر ضلع میں بسوں پر یکساں ڈیزائن کی آگاہی پیغامات پر مبنی بینروں او پوسٹروں سے مزین بسیں چلائی گئیں۔ راجہ بشارت کی سربراہی میں قائم کمیٹی نے لاہور میں کشمیر کانفرنس کے انعقاد کیلئے ہدایت کی کہ اس میں مسئلہ کشمیر کے ماہرین، دانشور اور انسانی حقوق کے علمبردار بلائے جائیں۔ کمیٹی نے لاہور میں کشمیر سے منسوب یادگار کی تعمیر کے علاوہ پنجاب کے ہر ڈویژن میں کشمیر پارک بنانے اور کشمیر سے سڑکیں منسوب کرنے کی تجویز سے اتفاق کیا۔
مقبوضہ کشمیر میں مظاہرے
یوم سیاہ کے موقع پر مظاہروں سے نمٹنے کیلئے فوج نے وادی بھر میں کرفیو کی پابندیاں مزید سخت کرتے ہوئے اضافی فوجی دستے تعینات کردیئے۔ہفتے کی سہ پہر سرینگر کے علاقے کرن نگر میں چیک پوسٹ پر موجود فوجیوں پر نامعلوم افراد نے گرنیڈ سے حملہ کیا،اس موقع پر فائرنگ بھی ہوئی ،جس سے 6فوجی زخمی ہوگئے۔فوج نے علاقے میں سخت چیکنگ شرو ع کردی۔ایک اہلکار کی حالات نازک ہے۔ادھربھارتی مظالم اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو بے نقاب کرنے کی پاداش میں بھارتی جیل میں مقبوضہ کشمیر کے زیر حراست صحافی آصف سلطان کیلئے عالمی ایوارڈ کا اعلان کر دیا گیا۔آصف سلطان کیلئے عالمی ایوارڈ کا اعلان امریکہ میں انٹرنیشنل پریس کلب نے کیا ہے۔کانگریس نے کہاہے کہ مقبوضہ کشمیر میں اس کے رہنماﺅں سے انتظامیہ نے یا تو سکیورٹی واپس لے لی ہے یا اس کو کم کردیا ہے ،پارٹی بیان میں اس اقدام پر تشویش کا اظہار کیاگیا۔

جواب لکھیں