...................... .................

گرداب، حصہ دوئم ۔۔۔ شموئل احمد

منصوبہ مجھ سے پڑھنے کے لیے آنے لگی۔ ساجی کی لڑکیوں میں وہ سب سے ذہین تھی۔
اس دوران میں نے محسوس کیا کہ ساجی کسی الجھن میں گرفتار ہے۔ درجات بھی فکر مند نظر آتا تھا۔ وہ ان دنوں گھر میں ہی رہ رہا تھا۔ ساجی سے اکیلے میں بات کرنے کا موقع مجھے نہیں مل رہا تھا۔ میں نے منصوبہ سے جاننا چاہا لیکن وہ صرف پڑھائی سے مطلب رکھتی تھی اور ادھر ادھر کی کوئی بات نہیں کرتی تھی۔ مجھے کوفت ہوئی کہ درجات گھر سے باہر کیوں نہیں جاتا؟ میرے دفتر جانے تک وہ گھر پر رہتا تھا اور جب میں دفتر سے گھر آتا تو وہ اپنے کمرے میں موجود ہوتا۔
ایک دن میں نے ساجی کی آنکھوں میں آنسو دیکھے۔ درجات کے چہرے پر بھی الجھن تھی لیکن میں کچھ پوچھ نہیں سکا۔ دونوں کہیں باہر جا رہے تھے۔ میں بھول جاتا ہوں کہ معاشرے میں کچھ لوگ ریڈیو ہوتے ہیں۔۔۔۔؟
کمبخت جھا ایک ضروری بدعت ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ساجی پٹنہ شفٹ کرنا چاہتی ہے اور درجات راضی نہیں ہے۔ اس بات کو لے کر دونوں میں تکرار ہے۔ درجات کی اتنی اوقات نہیں کہ وہاں کے اخراجات پورا کر سکے۔ پوچھنے پر کہ پٹنہ میں کیوں رہنا چاہتی ہے، اس نے طنز کیا کہ منصوبہ کو پڑھائے گی اور آئی اے ایس بنائے گی۔
شام میں نے منصوبہ کا ذکر نکالا کہ ذہین ہے۔ اگر بہتر ماحول ملے تو اچھا رزلٹ کرے گی۔
’’منصوبہ کو پٹنہ میں پڑھانے کا ارادہ ہے۔‘‘ساجی بولی۔
’’یہاں کون سا برا اسکول ہے کہ پٹنہ پٹنہ کرتی رہتی ہو۔‘‘ درجات کا لہجہ سخت تھا۔ ساجی چپ ہو گئی۔ میں نے حیرت سے اس کو دیکھا۔ ساجی سے اس لہجے میں بات کرتے ہوئے میں نے پہلے کبھی دیکھا نہیں تھا۔ اس کے چہرے پر شرمندگی تھی۔ اس نے یہ امید نہیں کی ہو گی کہ درجات میرے سامنے اس سے اس طرح پیش آئے گا۔ میرا وہاں سے چلا جانا مناسب تھا۔ میں اٹھنے لگا تو ساجی نے التجا بھری نظروں سے میری طرف دیکھا اور مجھے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ اس کے چہرے پر دکھ اور بے بسی تھی۔ میں نے محسوس کیا کہ اس کو اس وقت میرے سپورٹ کی ضرورت ہے۔
’’پٹنہ میں پڑھائی کا ماحول بہتر ہے اور میٹرک میں ہی بنیاد بنتی ہے۔‘‘ میں نے ساجی کی تائید کی۔
’’ابھی پٹنہ جا کر کیا ہو گا۔ ابھی تو منصوبہ میٹرک میں بھی نہیں پہنچی ہے۔‘‘ درجات کے لہجے میں جھلّاہٹ برقرار تھی۔
’’میں جاہل ہوں۔ میری بیٹی بھی جاہل رہے گی۔‘‘ ساجی کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔
’’لال گنج میں جو پڑھتا ہے وہ جاہل رہتا ہے۔۔۔۔۔؟ اس طرح کیوں بولتی ہو۔
’’آج سے میں کچھ نہیں کہوں گی۔‘‘ ساجی بہت طیش میں بولی۔
’’ٹھیک ہے۔ پڑھا لو پٹنہ میں۔‘‘
’’میری کون سی بات پوری ہوئی ہے جو آج پوری ہو گی۔ شادی کر کے آئی تو کہا گیا کہ میرے پاس کتابوں سے بھری الماری ہے۔ کیا ضرورت تھی جھوٹ بولنے کی؟ میرا دل تو کچوٹتا ہے کہ جاہل رہ گئی۔ اب بیٹی کا وقت آیا ہے تو کچھ مت بولو۔‘‘ساجی نے درجات کی کمزور نبض پکڑ لی تھی۔ وہ یقیناً تلملا گیا تھا۔ اس کے چہرے پر کرب کے گہرے آثار اُبھر آئے تھے۔ ساجی سسک سسک کر رونے لگی تو درجات نے ہتھیار ڈال دیے۔
’’اچھی بات ہے۔ سب کوئی پٹنہ میں رہیں گے۔‘‘ درجات کے لہجے میں شکن تھی۔
’’ایسی بات ہے تو میں آپ لوگوں کے لیے مکان ڈھونڈ دوں گا۔ اب رونا دھونا بند کیجیے پلیز۔‘‘
ساجی نے آنسو پونچھے لیکن خاموش رہی۔
’’میں بھی پٹنہ کالج میں پڑھتا تھا۔ میں نے وہیں سے بی اے کیا ہے۔‘‘ درجات نے ماحول کو خوشگوار بنانے کے لیے بات کا رخ موڑا۔
’’کس سال آپ نے بی اے کیا تھا؟‘‘
’’یہ پٹنہ کالج میں بہت پہلے پڑھتے تھے۔‘‘ ساجی بول اٹھی۔
میں مسکرایا۔ ابھی یہ عورت لڑ رہی تھی اور اب سپورٹ کر رہی ہے۔ جی میں آیا کھری کھری سنا دوں کہ حضرت مڈل فیل ہیں تو پٹنہ کالج کیسے پہنچ گئے؟ لیکن میں نے طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔
’’میرا تو پٹنہ کالج میں داخلہ نہیں ہو سکا تھا۔ بہت نمبر چاہیے۔‘‘
’’منصوبہ کا اڈمیشن تو وومینس کالج میں آرام سے ہو جائے گا۔ یونی ورسٹی میں میرے بہت لوگ ہیں۔‘‘
’’آپ مشہور آدمی ہیں درجات صاحب۔ آپ کی کیا بات ہے؟‘‘ میرے طنز کو ساجی نے محسوس کیا۔ اس کے چہرے پر تناؤ کا رنگ صاف نمایاں تھا لیکن درجات خوش ہو گیا۔ گاؤدی نے مجھ سے پوچھا۔
‘‘آپ کے لیے سگریٹ لا دوں؟‘‘
’’دو پیکٹ!‘‘ میں نے چڑ کر کہا۔
درجات کے جانے کے بعد ساجی شکایتی لہجے میں مخاطب ہوئی۔
’’بہت طنز کرتے ہو تم۔‘‘
’’یہ درجات۔۔۔۔؟ احمق دی گریٹ۔۔۔۔؟ یہ بی اے میں کب پڑھنے لگے۔۔۔۔۔؟‘‘
’’احمق کیوں کہو گے؟‘‘
’’کیوں نہیں کہوں گا؟ ہے مڈل فیل اور کہتا ہے پٹنہ کالج سے بی اے کیا ہے اور تم ہاں میں ہاں ملاتی ہو۔‘‘
’’ساجی رو پڑی اور وہی بات دہرائی۔ ’’جو بھی ہیں جیسے بھی ہیں میرے پتی ہیں۔‘‘
اور مجھے غصّہ آ گیا۔ ’’پتی۔۔۔ پتی۔۔۔ پتی۔۔۔۔ ہر بات میں پتی۔‘‘
’’ہاں۔۔۔۔ میرے پتی ہیں۔۔۔۔۔‘‘ساجی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ میں خاموش رہا۔
پھر سسکیوں کے درمیان بولی۔ ’’وہ تیس سال سے یہی کہہ رہے ہیں اور میں تیس سال سے سن رہی ہوں اور تم ایک دن بھی نہیں سن سکتے۔‘‘
’’تم سن سکتی ہو۔ وہ تمہارے پتی ہیں میرے نہیں۔ میں کیوں اس جھوٹ کو برداشت کروں۔‘‘
’’تم یہ نہیں دیکھتے، وہ تمہاری کتنی قدر کرتے ہیں، تم سے کتنی محبت کرتے ہیں، تمہیں محبت سے کھانا کھلاتے ہیں، تمہارے لیے سگریٹ لاتے ہیں اور تم ان کے خلوص کا یہ صلہ دیتے ہو۔‘‘
میں خاموش رہا۔ مجھے درجات سے نفرت محسوس ہو رہی تھی۔ اس شخص کا سینہ ناکام آرزوؤں کا مسکن ہے۔ ایک ناکام آدمی، کہیں سے ساجی مل گئی۔ جو اس کے جھوٹ کو جی رہی ہے اور خود بھی جھوٹ ہو گئی۔۔۔۔ ایک نمبر کی ہائپو کریٹ۔۔۔۔۔ پتی۔۔۔ پتی۔۔۔ پتی۔۔۔۔ اور خود پرائے مرد سے ہم بستر ہوتی ہے۔
سیڑھیوں پر درجات کے قدموں کی چاپ سنائی دی تو ساجی اٹھ کر باتھ روم میں چلی گئی۔ درجات دو پیکٹ سگریٹ لے کر آیا۔ میں پیسے دینے لگا تو اس نے انکار کیا لیکن زبردستی اس کی جیب میں پیسے رکھ دیے اور باہر نکل گیا۔
اپنے کمرے میں آ کر میں نے روشنی گل کی اور بالکونی میں بیٹھ کر سگریٹ کے کش لگانے لگا۔
تیس سال سے وہ یہ راگ الاپ رہا ہے اور ساجی خاموشی سے سن رہی ہے۔۔۔۔۔۔ میں نے دونوں سے عجیب سی ہمدردی محسوس کی۔
اسی وقت نصیب کا فون آیا کہ’’ فروزی نے شادی کر لی۔‘‘
میں چونک گیا۔ ’’شادی کر لی یا شادی ہو گئی؟‘‘
’’شادی کر لی۔۔۔۔۔!‘‘ نصیب نے ایک ایک لفظ پر زور دے کر کہا۔
’’اچھا۔۔۔۔۔ یہ حادثہ کب ہوا؟‘‘
’’ایک دن کوئی لڑکا حسنو کی دکان پر مل گیا۔ بولا شادی کرو گی؟ یہ راضی ہو گئی۔ دونوں نے مسجد میں نکاح کر لیا۔‘‘
’’اور تم کو خبر نہیں ہوئی؟‘‘
’’نہیں! جس دن ملے اسی دن نکاح کر لیا۔‘‘
’’واہ۔۔۔۔ بالکل فلمی انداز۔۔۔۔۔ ضرور پہلے سے چکّر چل رہا ہو گا۔‘‘
کوئی چکّر نہیں تھا جیسا کہ نصیب نے بتایا۔ دونوں ایک دوسرے سے انجان تھے، نصیب کو یقین تھا کہ لڑکا اچھا ہے۔ نکاح کے بعد دونوں ملنے آئے تھے۔
نصیب نے لڑکے کو سلامی بھی دی تھی۔ وہ کسی میڈم رضوی کے اسکول میں دربانی کرتا تھا۔ نصیب اس شادی سے خوش تھی۔ پوچھنے پر کہ اب یہاں کام کون کرے گا، نصیب کا جواب تھا کہ فروزی آن جان کرتی رہے گی، صرف رات میں نہیں رہے گی۔ پھر بھی جھاڑو برتن کے لیے اس نے مینی بوا سے کہا تھا وہ کسی خادمہ کا انتظام کرے گی لیکن میں نے تشویش ظاہر کی کہ کوئی اٹھائی گیرہ ہو گا۔ کہیں فروزی کو بیچ نہ دے۔
بلّی کی نظر چھیکے پر رہتی ہے۔ میری نظر درجات پر تھی کہ کب۔۔۔۔۔۔
اور چھیکا ٹوٹا۔۔۔۔۔ وہ جلد ہی جھن جھن والا کے ساتھ دلّی کے لیے روانہ ہوا اور ساجی کی زلفیں میرے شانوں پر پریشاں ہوئیں۔
لیکن پٹنہ کو لے کر کچھ پریشان سی نظر آ رہی تھی۔ میری سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ اچانک اس پر پٹنہ میں رہنے کا خبط کیوں سوار ہو گیا ہے۔ میں نے پوچھا۔
’’تم پٹنہ کیوں شفٹ کرنا چاہ رہی ہو؟‘‘
’’تمہاری خاطر۔‘‘
’’میری خاطر کیوں؟‘‘
’’تمہارا ٹرانسفر کبھی بھی یہاں سے ہو سکتا ہے۔ پھر تم یہاں تو آؤ گے نہیں لیکن تم کہیں بھی رہو پٹنہ تو آتے رہو گے۔ وہاں رہوں گی تو تمہارا دیدار تو کر سکوں گی۔‘‘
’’کیا دیوانگی ہے۔‘‘ میں ہنسنے لگا۔
’’دیوانی تو ہوں۔‘‘ وہ بڑی ادا سے مسکرائی۔
’’منصوبہ کے لیے بھی اچھا رہے گا۔ اس کی پڑھائی راستے پر آ جائے گی۔‘‘
’’منصوبہ کی پڑھائی تو ایک بہانا ہے۔ وہ یہاں بھی پڑھ سکتی ہے لیکن تم تو یہاں رہو گے نہیں۔‘‘
’’پھر بھی میں کہیں بھاگا تو نہیں جا رہا ہوں اور منصوبہ کے پاس کرنے میں ابھی وقت ہے۔ ابھی سے اتنی جلدی کیوں؟‘‘
’’وقت تو دیکھتے دیکھتے گذر جائے گا لیکن زمین تو ابھی سے تیار کرنی ہو گی۔ میں سب کے ذہن میں یہ بات بٹھا رہی ہوں کہ پٹنہ میں رہنا ہے۔‘‘
’’اور درجات۔۔۔؟‘‘
’’وہ ابھی راضی نہیں ہیں لیکن ہو جائیں گے۔‘‘
’’مجھے نہیں لگتا درجات کبھی راضی ہو گا۔‘‘
’’ایک بات بتاؤں؟‘‘
’’کیا۔۔۔؟‘‘
’’ایک مرد کسی عورت کی محبت میں گرفتار ہوتا ہے تو اس کی تمام چیزوں سے پیار کرتا ہے۔ اس کی برائیاں بھی عزیز ہوتی ہیں۔ اس کی تمام بدعنوانیاں برداشت کرتا ہے اور یہ شخص مجھے دیوانہ وار چاہتا ہے۔ میرے لیے اسے سب کچھ گوارہ ہے۔
’’تمہاری خاطر اسے میں بھی گوارہ ہوں؟‘‘
’’بالکل۔۔۔۔۔ تم انہیں اس لیے عزیز ہو کہ تم مجھے عزیز ہو۔‘‘
’’مجھے خود حیرت ہے کہ درجات مجھ سے الرجی کیوں نہیں محسوس کرتا۔ اس کو مجھ سے جلن ہونی چاہیے۔‘‘
’’جلن نہیں ہو سکتی۔ جہاں محبت ہے وہاں صرف محبت ہوتی ہے۔ وہاں حسد کی گنجائش نہیں ہوتی۔‘‘
’’میری بیوی کی طرف کوئی دیکھے تو اس کی آنکھیں نہ نکال لوں۔۔۔۔۔؟‘‘
وہ ہنسی۔ ’’تم ایسا کر سکتے ہو۔ تم بیوی پر قابض ہو اور محبت قبضہ نہیں کرتی۔ محبت آزادی دیتی ہے۔ کرشن رادھا سے لاکھ بے اعتنائی کریں رادھا کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ وہ کرشن کی محبت میں ہمیشہ سرشار رہے گی۔ رکمنی ہرن پر رادھا کبھی چیں بہ جبیں نہیں ہو گی۔ وہ تو خوش ہو گی کہ میرے محبوب کی کوئی منظور نظر ہے۔ وہ تو رکمنی سے بھی پیار کرے گی۔‘‘
’’میں کسی کو لے آؤں تو تمہارا کیا حال ہو گا؟‘‘
’’میں اس کا سولہ سنگار کروں گی۔ میں اس سے جلوں گی نہیں۔ وہ تمہاری چیز ہے۔ وہ مجھے عزیز ہو گی میں نے نصیب سے کوئی جلن نہیں محسوس کی۔ وہ آئی تو میں خوش ہوئی۔ اس کی خاطر داری میں میں نے کوئی کمی نہیں کی۔‘‘
’’میں نہیں مانتا۔ وہ آئی تھی تو تمہارا چہرہ اتر گیا تھا۔‘‘
’’عورت کو اس بات کا غم نہیں ہوتا کہ وہ دوسرے کو چاہنے لگا ہے۔ اسے اس بات کی فکر ہوتی ہے کہ وہ اسے اب کم چاہتا ہے۔ تمہیں یاد ہے کہ جب میں اداس تھی تو تم مجھے نیچے لے گئے تھے اور اپنے سینے سے لگایا تھا۔۔۔۔۔۔ میں بتا نہیں سکتی مجھے کتنا سکون ملا تھا۔۔۔۔۔ اس لمس کی لذّت میں بھول نہیں سکتی۔۔۔۔ مجھے احساس ہوا تھا کہ تم مجھ سے محبت کرتے ہو۔‘‘
میں مسکرایا لیکن خاموش رہا۔ مجھے یاد ہے میں نے ایسا کیا تھا لیکن یہ میری محبت نہیں تھی۔ یہ میری ادا کاری تھی۔ میرے دل نے نہیں کہا تھا کہ اسے سینے سے لگا لو۔۔۔ میرے دماغ نے کہا تھا کہ ایسا کرو تاکہ وہ سمجھے کہ میں اس کی دسترس سے باہر نہیں ہوں اور یہی ہوا تھا۔
’’دکان کا کیا ہو گا؟‘‘ میں نے پو چھا۔
’’یہ تو یہیں رہیں گے۔ آنا جانا کرتے رہیں گے۔‘‘
’’خرچ تو بہت آئے گا۔‘‘
’’میں یہ کیوں سوچوں کہ خرچ کہاں سے آئے گا۔ مجھے تمہاری قربت میں جینا ہے۔۔۔۔ تمہاری قربت مجھے جہاں ملے۔۔۔ مجھے جس حال میں رکھے۔۔۔۔۔۔‘‘
’’تم نے درجات کو الجھن میں ڈال دیا ہے۔‘‘
’’کوئی الجھن نہیں۔۔۔۔ وہ مجھ سے محبت کرتے ہیں۔ وہ ساری الجھن سلجھا لیں گے۔‘‘
اور اس نے میرے سینے میں منھ چھپا لیا۔
’’میں نہیں رہ سکتی تمہارے بغیر۔۔۔۔۔‘‘
وہ سسکیاں لینے لگی اور میرے نتھنوں میں وہی پراسرار بو سرایت کرنے لگی۔۔۔۔ مجھے کیوں یہ مہک مشتعل کرتی ہے۔ میں اسے ضرور پٹنہ میں رکھوں گا۔۔۔۔۔
’’اچانک مت چلے جایا کرو۔ میں بیمار ہو جاتی ہوں۔‘‘
’’نہیں جاؤں گا۔۔۔۔ میری جان۔۔۔ میری بلبل۔۔۔!‘‘
درجات دلّی سے جلد ہی لوٹ گیا۔ اس بار جانی واکر کی بوتل لایا تھا۔ بوتل آدھی خالی تھی۔ وہ یہ سوچ کر خوش تھا کہ مہنگی شراب سے میری ضیافت کرے گا۔ اس نے بیگ سے اسنیکس کے پیکٹ بھی نکالے جو آدھے سے زیادہ خالی تھے۔ گویا بچی ہوئی شراب کے ساتھ بچے ہوئے اسنیکس بھی سمیٹ کر لے آیا تھا۔ پھر بھی اس وقت میں اس سے کوئی پرخاش محسوس نہیں کر رہا تھا۔ ایک پیگ کے بعد وہ اپنی اوقات پر چلا آیا۔
’’یہ چیز یہاں ملتی نہیں ہے ورنہ میں روز ہی آپ کو جانی واکر پلاتا۔‘‘
’’اچھا۔۔۔۔!‘‘ میں مسکرایا۔ میں نے سوچا کہ یہ دوسرا پیگ لے لے تو پٹنہ کی بات نکالوں گا لیکن پہلے ساجی بول پڑی۔
’’اس بار پٹنہ میں چھٹھ کروں گی۔‘‘
’’ایسا کیوں؟‘‘ میں نے پوچھا۔
’’یہ بیمار پڑے تھے تو منوتی مانی تھی کہ اچھے ہو جائیں گے تو پیتل کی سوپ سے اردھ دوں گی۔‘‘
’’تو دے دیتیں۔ یہاں بھی چھٹھ مناتے ہیں۔‘‘
’’یہاں گنگا نہیں ہے نا۔۔۔۔۔۔ منوتی گنگا میں اردھ دینے کی ہے۔ اب پٹنہ میں رہوں گی تو وہیں چھٹھ مناؤں گی۔‘‘
میری نظریں درجات کے چہرے پر تھیں۔ مجھے محسوس ہو رہا تھا کہ وہ پٹنہ کی گفتگو سے دامن بچانا چاہتا ہے۔
’’اچانک پٹنہ میں رہنے کا خیال کہاں سے آ گیا؟‘‘
’’میں تو پڑھ نہیں سکی۔ کم سے کم میری بیٹی تو پڑھ لے۔‘‘
’’پٹنہ میں پڑھنے کا ماحول ملے گا۔‘‘
’’ہم اسی مہینے پٹنہ شفٹ کریں گے۔‘‘درجات پوری طرح نشے میں تھا۔ میں مسکرایا۔ میں نے بات آگے بڑھائی۔
’’میرے ایک دوست کا فلیٹ خالی ہے۔ اگر آپ رہنا چاہتے ہیں تو میں اس سے بات کروں گا۔‘‘
’’بات کیجیے نا پلیز۔۔۔۔۔ میں منصوبہ کو وہاں پڑھانا چاہتی ہوں۔‘‘ ساجی نے بے اختیار میرا ہاتھ پکڑتے ہوئے بہت لجاجت سے کہا۔
’’سمجھ لیجیے مکان مل گیا۔‘‘ میں مسکرایا۔
’’تب تو چھٹھ بھی وہاں منا لوں گی۔۔۔۔ اب دن ہی کتنے رہ گئے۔۔۔۔۔؟ اگلے ماہ دسہرہ ہے پھر دیوالی پھر چھٹھ۔۔۔۔!‘‘ ساجی چہکتی ہوئی بولی۔
درجات نے اپنے لیے دوسرا پیگ بنایا۔ وہ تناؤ میں تھا۔ پٹنہ کے اخراجات کہاں سے پورے کرے گا۔ یہاں تو دوا کی چھوٹی سی دکان تھی۔ کچھ ڈاکٹروں کی دلّالی میں بھی کما لیتا تھا لیکن پٹنہ میں کیا کرے گا؟
’’محبت سارے الجھن سلجھا لے گی۔۔۔۔۔۔‘‘ میرے ذہن میں ساجی کا جملہ گونجنے لگا اور میں سوچے بغیر نہیں رہا کہ کیا میں اس عورت کی محبت میں گرفتار ہوں۔۔۔۔؟ میں کیوں اسے پٹنہ لے جانے پر کمر بستہ ہوں۔۔۔۔۔؟ بوجھ تو مجھ پر ہی پڑے گا۔۔۔۔۔ درجات کی کیا حیثیت رہ جائے گی۔۔۔۔؟ صفر۔۔۔؟ ساجی اتنا بھی نہیں سوچتی کہ یہ شخص لال گنج میں تنہا کس طرح زندگی گذارے گا۔۔۔۔؟ خود تو میری بانہوں میں عیش کرے گی۔۔۔۔۔ ساجی کی حیثیت ایک داشتہ سے زیادہ کیا ہو گی۔۔۔؟ ایک بیوی کسی کی داشتہ ہو گئی۔۔۔ عورت کی تنزلی کی انتہا ہے۔۔۔ کیا محبت عورت کو ڈی گریڈ کرتی ہے۔۔۔۔؟
میں کیا کروں۔۔۔۔؟ اس عورت کا جسم ایک گرداب ہے جس میں میں اتر چکا ہوں۔۔۔۔۔!
اور درجات۔۔۔۔؟ درجات ساجی سے محبت کرتا ہے۔ اس کی مجبوری ہے کہ ساجی کا ہر فیصلہ قبول کرے۔ وہ اپنی اوقات سمجھتا ہے۔ وہ پٹنہ میں مکان کا مسئلہ حل نہیں کر سکتا۔ وہ جانتا ہے کہ اس کا حل میرے پاس ہے۔ وہ سمجھتا ہے میں ساجی کے قریب آ چکا ہوں اور وہ دور ہوتا جا رہا ہے۔۔۔۔۔ اب وہ میرے ذریعہ ہی ساجی کو پا سکتا ہے۔
اس نے خوشامد بھرے لہجے میں کہا۔
’’آپ اپنے دوست سے بات کیجیے۔ وہ اگر راضی ہیں تو ہم لوگ اگلے ماہ شفٹ کر جائیں گے۔‘‘
میرا دوست کناڈا میں رہتا تھا۔ کنکڑ باغ میں اس کا ایک تھری بی ایچ کے فلیٹ تھا جس کا میں کیئر ٹیکر تھا۔ میں نے اسکائپ پر بات کی۔ وہ اس بات پر راضی ہوا کہ فلیٹ کا کرایہ ہر ماہ اس کے اکاؤنٹ میں پابندی سے جمع ہو گا لیکن ساجی اس بیچ اپنے گاؤں جانا چاہتی تھی۔ معلوم ہوا کہ اس کے بھائی نے کچھ کھیت بیچے تھے جس میں اس کا بھی حصّہ تھا۔ مجھے سنک سوار ہوئی کہ میں بھی اس کا گاؤں دیکھوں۔ اس بات پر ساجی اچھل پڑی اور گاؤں کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملانے لگی۔
’’بہت خوب صورت گاؤں ہے۔۔۔۔۔ پہاڑیوں سے گھرا ہوا۔۔۔ ندی ہے، تالاب ہے۔۔۔۔۔ ہرے بھرے کھیت۔۔۔۔۔ جنگل۔۔۔! آپ رہیں گے تو مزہ آئے گا۔‘‘
’’آپ روز مچھلی کھائیں گے۔ ان لوگوں کا اپنا تالاب ہے۔ آپ کے لیے مچھلی مار کر لائیں گے۔‘‘ درجات کسی بچّے کی طرح خوش نظر آ رہا تھا اور مجھے حیرت تھی کہ میرے جانے کی درجات کو کیوں خوشی تھی؟ ساجی کی خوشی تو سمجھ میں آتی تھی لیکن اس گاؤدی کی نفسیات کو سمجھنا میرے لیے مشکل تھا۔
’’آپ کو وہ ندی دکھاؤں گی جہاں میں تیرا کرتی تھی۔‘‘
’’اچھا؟ آپ تیرنا بھی جانتی ہیں؟‘‘ میں نے مصنوعی حیرت سے پو چھا۔
’’میں چت بھی تیر سکتی ہوں۔‘‘
’’بڑے بڑے تیراک کنارے پر ڈوبتے ہیں۔‘‘ میں مسکرایا۔
’’ڈوبنے کا خوف کس کو ہے؟‘‘ وہ بھی مسکرائی۔
معلوم ہوا کہ چھوٹی لائن والی ٹرین سے آدا پور جانا ہے۔ یعنی اسٹیم انجن والی چھک چھک ٹرین۔ ساجی نے بتایا کہ گاؤں آدا پور سے چار کیلو میٹر جنوب میں ہے۔ بھیّا اسٹیشن گاڑی بھیج دیں گے۔۔۔۔ یعنی بیل گاڑی۔۔۔۔ وہاں ٹیکسی نہیں چلتی تھی۔
ہم صبح دس بجے کی ٹرین سے آدا پور کے لیے روانہ ہوئے۔ ٹرین میں سلیپر کلاس نہیں تھا۔ سبھی جنرل ڈبّے تھے۔ ایسی گاڑیوں میں عموماً رش ہوتا ہے۔ دوڑ کر گھس جاؤ تو سیٹ مل جاتی ہے۔ یا کھڑکی کے رستے اندر رو مال پھینک دیا لیکن اس دن ایسی بھیڑ نہیں تھی۔ جگہ آسانی سے مل گئی۔ ساجی کھڑکی کے قریب بیٹھی۔ میں اس کے بغل میں اور میرے بغل میں درجات۔ سامنے کی برتھ پر ایک نوجوان جوڑا اٹھکھیلیاں کر رہا تھا۔ لڑکی بات بات پر ہنس رہی تھی۔ لڑکا رہ رہ کر اس پر لد جاتا۔ ایسا لگتا تھا، اس کی گود میں سر رکھ دے گا۔ لڑکی کے ہاتھ ابھی بھی مہندی سے سرخ تھے۔ شاند اُن کی نئی نئی شادی ہوئی تھی۔
گاڑی نے لمبی سی سیٹی دی، بہت سا دھواں اُگلا اور چل پڑی۔ درجات کھڑکی بند کرنے لگا۔ ساجی چلّائی۔
’’کھڑ کی کیوں بند کرتے ہیں؟ پھر کیا مزہ آئے گا۔‘‘
’’دھواں اندر آتا ہے۔ آنکھ میں کوئلہ پڑے گا۔‘‘ درجات نے کھڑ کی کا پٹ گرا دیا۔
ساجی مچلی۔ ’’اٹھائیے پلیز۔۔۔۔!‘‘
’’ہوا بھی آتی ہے۔‘‘ میں مسکرایا۔
’’کھڑکی کا یہی تو لطف ہے۔ باہر کا نظارہ اور ہوا۔‘‘
درجات نے پٹ اوپر کھینچ دیا۔
’’مجھے تو مزہ آ رہا ہے۔ چھک چھک کرتی ٹرین سیٹی بجاتی۔۔۔ کو۔۔۔ کو۔۔۔ کو۔۔۔۔۔‘‘ میں نے سیٹی کی نقل کی۔ ساجی ہنسنے لگی۔ درجات بھی مسکرایا۔
’’گاڑی کی یہ سیٹی میں نے بچپن میں سنی تھی۔ چھٹّیوں میں نانی کے یہاں جاتے تھے تو بی این ڈبلو سے جاتے تھے۔ اس میں اسٹیم انجن لگتی تھی۔‘‘ میں نے چہکتے ہوئے کہا اور مجھے حیرت ہوئی۔۔۔۔ میں واقعی خوش تھا۔
اگلے اسٹیشن پر ایک مونگ پھلی بیچنے والا چڑھا۔ لڑکے نے پچاس گرام مونگ پھلی خریدی۔ درجات نے خریدی سو گرام۔ میں نے نمک کی ایک اور پڑیا مانگی اور ہری مرچ بھی۔ درجات نے مونگ پھلی چھیل کر کچھ دانے میری ہتھیلی پر رکھے۔
’’آپ کھایئے۔‘‘
’’لیجیے نہ۔۔۔۔۔۔‘‘ درجات اصر ار کرنے لگا۔
’’مونگ پھلی کا لطف خود سے ہی توڑ کر کھانے میں ہے۔ انگلیوں میں دبانے سے جب چٹ کی آواز کے ساتھ خول ٹوٹتا ہے اور دانے ہتھیلی پر گرتے ہیں تو فتح کا احساس ہوتا ہے۔‘‘ میں نے مسکراتے ہوئے کہا۔
واہ۔۔۔۔۔ واہ۔۔۔۔۔ خوب۔ آپ کو ہر جگہ جیت کا احساس چاہیے۔‘‘ ساجی زور سے ہنس پڑی۔
ہر جگہ نہیں۔۔۔۔۔ آپ سے تو میں ہار گیا۔‘‘
’’مجھ سے کیا ہا رے بھئی؟‘‘ ساجی مصنوعی حیرت سے بولی۔
’’اپنا دل ہارا اور آپ سے بھی۔۔۔۔۔‘‘ میں نے درجات کی طرف اشارہ کیا۔ درجات مسکرا کر رہ گیا۔ اس نے مونگ پھلی کے کچھ اور دانے میری ہتھیلی پر رکھے۔
لڑکے کی آنکھ میں کوئلہ پڑ گیا۔ اس نے ایک دو بار آنکھیں میچیں پھر ہتھیلی سے آنکھ ملنے لگا۔
’’نکلا۔۔۔۔۔؟‘‘ لڑکی نے اس کی آنکھوں میں جھانکنے کی کوشش کی۔ لڑکے نے ایک دو بار پلکیں جھپکائیں اور نفی میں سر ہلایا۔ لڑکی نے آنچل کو مروڑ کر پلندہ سا بنایا اور منھ میں رکھ کر پھونک ماری اور لڑکے کی آنکھیں سینکنے لگی۔ ایسا اس نے دو تین بار کیا۔
’’اب ٹھیک ہے۔‘‘لڑکے نے مسکراتے ہوئے کہا۔ شاید اُس کی آنکھوں سے جلن غائب ہو گئی تھی۔ میں نے مسکرا کر ساجی کی طرف دیکھا۔
’’بہت پیار ہے دونوں میں۔‘‘
’’ہونا ہی چاہیے۔‘‘
’’لیکن وقت کی دھول میں بہت کچھ دھندلا جاتا ہے۔‘‘
ساجی خاموش رہی۔ اس کے چہرے پر اُداسی کا ہلکا سا رنگ چھا گیا۔ بہت ممکن ہے میرے اس جملے کو اس نے خود سے جوڑا ہو۔
کچھ دیر بعد لڑکا اونگھنے لگا۔ پھر اوپر کی برتھ پر سونے چلا گیا۔ لڑکی بھی نیچے کی سیٹ پر لمبی ہو گئی۔
’’آپ سونا چاہتے ہیں؟‘‘ درجات نے مجھ سے پوچھا۔
’’نہیں۔‘‘
’’سونا چاہتے ہیں تو اوپر کی برتھ خالی ہے۔ چادر بچھا دیتے ہیں۔‘‘
’’بالکل نہیں۔ میں سفر کا لطف لے رہا ہوں۔ ابھی مونگ پھلی کھائی۔ کوئی اور چیز آئے گی تو وہ بھی کھاؤں گا۔ مزہ آ رہا ہے۔ سفر کٹ رہا ہے۔‘‘
اگلے اسٹیشن پر کچھ دبنگ قسم کے لوگ ڈبّے میں گھس آئے اور سامنے والی برتھ پر بیٹھ گئے۔ لڑ کی اٹھ کر بیٹھ گئی اور لڑ کے کی طرف بے بسی سے دیکھنے لگی۔ لڑکے نے اعتراض کیا۔
’’یہاں نہیں۔۔۔۔۔ یہاں نہیں۔۔۔۔۔۔ آگے جایئے۔ آگے بہت جگہ خالی ہے۔‘‘
دبنگ لال پیلا ہو گیا۔ ’’کیا کہا؟ آگے جایئے۔۔۔؟ آپ لیٹ کر جایئے اور ہم بیٹھ کر بھی نہیں جائیں؟‘‘
دبنگ کا ساتھی لڑکے کے چہرے کے آگے انگلی نچاتے ہوئے دھمکی بھرے لہجے میں بولا۔
’’اب ایک لفظ بھی منھ سے نکالا تو باہر پھینک دوں گا۔‘‘
دبنگ لڑکی سے اور سٹ کر بیٹھ گیا۔ اس کے ساتھی بھی بغل میں بیٹھ گئے۔ لڑکی کھڑکی سے ایک دم سٹ گئی۔ اس کی آنکھوں میں عدم تحفّظ کا احساس صاف جھلک رہا تھا۔ لڑکا اپنی جگہ جیسے پتھر ہو گیا۔۔۔۔۔ وہ بس ایک ٹک بیوی کی طرف دیکھ رہا تھا اور وہ آنکھوں میں بے بسی لیے اس کو تک رہی تھی۔
مجھے غصّہ آ رہا تھا۔ لڑکا کم سے کم نیچے اتر کر لڑکی کے بغل میں بیٹھ سکتا تھا۔ وہ خود کو کچھ محفوظ تو سمجھتی لیکن اس کو سانپ سونگھ گیا تھا۔ وہ ایک دم چپ تھا۔ نیچے بھی نہیں اترا۔ دبنگ نے زیادہ بد تمیزی نہیں کی۔ اگلے اسٹیشن پر ساتھیوں کے ساتھ اتر گیا۔ اس کے اترتے ہی لڑکا نیچے آیا۔ وہ بیوی کے بغل میں بیٹھنا چاہ رہا تھا لیکن بیوی نے غصّے سے اس کی طرف دیکھا اور اس کو نفرت سے پرے کرتی ہوئی تیکھے لہجے میں بولی۔
’’جایئے۔۔۔۔۔ اوپر بیٹھیے۔‘‘
لڑکی گھٹنے میں سر دے کر بیٹھ گئی۔ لڑکے نے سر جھکا لیا۔
میں نے درجات کی طرف دیکھا پھر ساجی کی طرف۔۔۔۔۔
چھک چھک گاڑی شام سے اک ذرا پہلے آدا پور پہنچی۔ چھوٹا سا اسٹیشن تھا۔ مغربی کناروں پر پہاڑیوں کا سلسلہ تھا۔ ادھر سے آنے والی ہواؤں میں خنکی سی تھی۔ ساجی کے بھائی اسٹیشن آئے تھے۔ وہ دھوتی اور کرتے میں تھے۔ شانے پر لال رنگ کا گمچھا تھا۔ اس کی شکل ساجی سے کہیں نہیں ملتی تھی۔ آ دمی ہنس مکھ تھا۔ ہاتھ جوڑ کر پر نام کیا اور بولا:
’’سر۔۔۔۔۔ گاڑی لے کر آیا ہوں۔‘‘
’’بیل گاڑی۔۔۔۔؟‘‘ میں مسکرایا۔
’’جی سر۔۔۔۔۔ کوئی دقّت نہیں۔۔۔۔۔ آ نند آئے گا۔‘‘
’’چلیے!‘‘ میں نے خوش دلی سے کہا اور اپنا سامان اٹھانے لگا لیکن اس نے اس کا موقع نہیں دیا۔ خود بڑھ کر میرا سوٹ کیس ہاتھ میں لے لیا۔
گاڑی سجی ہوئی تھی۔ چچری کی چھت تھی اور ساٹن کا پردہ لگا ہوا تھا۔ بیل کی جوڑی بہت خوب صورت تھی۔۔۔۔۔ تنو مند اور سفید۔۔۔۔۔۔ گلے میں گھنگھروؤں کی لال پیلی مالا۔۔۔۔۔ بیل نے ہمیں دیکھ کر گردن ہلائی۔۔۔۔۔ ٹن ٹن کی آواز فضا میں گونجی۔ میں نے مسکرا کر ساجی کی طرف دیکھا۔
’’راستے بھر موسیقی سنتے چلیں گے۔‘‘
گاڑی بان نے لالٹین جلا کر گاڑی کے نیچے لٹکا دی۔ دھول بھرے کچّے راستے پر بیل گاڑی کا سفر شروع ہوا۔ راستے میں کئی گاڑیاں ملیں۔ سب میں لالٹین لٹکی ہوئی تھی۔ بیل اپنی دھن میں ٹن ٹن کرتے چلے جا رہے تھے۔ گاؤں کا راستا اُن کا جانا پہچانا تھا۔ پاس سے کوئی موٹر گذرتی تو یہ راستے سے ہٹتے نہیں تھے۔ موٹر حاشیے پر اتر کر آگے بڑھ جاتی اور گرد کا غبار سا اٹھتا۔
پہاڑی پر شام کا ستارہ جھلملانے لگا تھا لیکن آ گے بڑھنے پر نگاہوں سے اوجھل ہو گیا۔ ڈوبتے سورج کے پس منظر میں پہاڑیاں صاف اور دلکش نظر آ رہی تھیں۔ بہت دور تک جانے والے اس راستے کے جنوب میں پہاڑیاں جیسے اجڑی ہوئی تھیں۔ وہاں ایک دو سوکھے سے درخت خاموش کھڑے تھے لیکن مشرق کی طرف پہاڑی کا حصّہ ہری بھری جھاڑیوں سے بھرا تھا۔ دور تک پھیلی ہوئی پر فریب وادی پہاڑیوں کے بیچ میں سے جانے والے راستے سے بٹ سی گئی تھی۔ شام کے بڑھتے ہوئے دھندلکے میں پہاڑیاں کبھی نزدیک معلوم ہوتیں کبھی خواب جیسی نظر آتیں۔ ملگجے آسمان میں پرندوں کا آخری غول آشیانے کی طرف لوٹ رہا تھا۔
گاؤں واقعی خوب صورت تھا۔
ایک گھنٹے میں گھر پہنچ گئے۔ اندھیرا گہرا گیا تھا۔ ہر طرف خامشی تھی۔ کہیں کوئی چہل پہل نظر نہیں آ رہی تھی۔
مجھے باہر کا کمرہ ملا۔ یہاں شیشم کی چوڑی سی پلنگ تھی جس پر ناریل کا دبیز سا گدّا بچھا ہوا تھا۔
گھر میں سبھی سادہ لوح معلوم ہوئے۔ ساجی کی بھابی لمبا سا گھونگھٹ کاڑھے رہتی تھی اور میرے سامنے آنے سے کتراتی تھی۔ ساجی کی ماں بھی سامنے نہیں آئی۔
شام کے کھانے میں مچھلی کے ساتھ مہوے کی شراب بھی تھی اور اس کا کریڈٹ درجات نے لیا۔
’’میں نے کہلوایا تھا کہ مچھلی کے ساتھ مہوے کا بھی انتظام کرنا۔‘‘
میں مسکرایا۔ کیا چیز ہے درجات؟ جو ہے نہیں وہ نظر آتا ہے۔
شراب تیز تھی۔ ایک جانی پہچانی سی بو میرے ارد گرد پھیل گئی۔ میں نے ذہن پر زور دیا کہ یہ مہک کیسی تھی لیکن کچھ سمجھ نہیں سکا۔ دوسرے پیگ میں نشہ بڑھ گیا۔ مہک تیز ہو گئی۔۔۔۔ مہک جانی پہچانی تھی۔ نگاہوں کے سامنے ساجی جیسے تیز تیز سانسیں لے رہی تھی۔۔۔۔۔
صبح جلد ہی آنکھ کھل گئی۔ ایگ گائے کہیں رمبھا رہی تھی۔
میں سمجھ رہا تھا کہ سب سے پہلے میری نیند کھلی ہے لیکن گھر میں سبھی اٹھ گئے تھے۔ چائے تیار تھی۔ ساجی نے مجھے مکان دکھایا۔ مکان بڑا تھا۔ کئی کمرے تھے اور ایک لمبا سا آنگن جس کا فرش مٹّی کا تھا۔ ایک حصّے میں گوبر سے لیپ لگائی ہوئی تھی۔ ایک ٹوٹی ہوئی پلنگ کونے میں پڑی ہوئی تھی۔
چائے پی کر درجات کے ساتھ باہر نکلا۔ کچھ گائیں میدان میں چر رہی تھیں۔ مرد کھیتوں کی طرف گامزن تھے۔ پیڑ کی شاخوں پر چھوٹی چھوٹی چڑیائیں پھدک رہی تھیں۔ پرندے کھیتوں پر منڈرا رہے تھے۔ سرخ چونچ والے طوطے کی قطار اوپر سے گذر گئی۔
کچھ دور پر ایک فارم تھا جو ندی کے سوکھے پاٹ تک پھیلا ہوا تھا۔ فارم کے احاطہ سے بہت باہر پھوس کی ایک جھوپڑی کھڑی تھی۔ درجات نے بتایا کسی دھنّا رام ساہوکار کا فارم ہے۔ درجات کو اس کے دادا تک کی ہسٹری معلوم تھی۔ دادا کو کالے پانی کی سزا ہوئی تھی۔ کئی جگہ سے راستا ندی کے سوکھے پاٹ سے ہو کر جاتا تھا۔ راستے پر بیل گاڑی اور موٹر کے پہیّے کے نشانات تھے۔ فارم سے سٹ کر ایک پگڈنڈی سامنے پہاڑی تک چلی گئی تھی۔ ہم نے پگڈنڈی پکڑی اور پہاڑی کے دامن میں پہنچ گئے۔ پہاڑی اونچی اور ایک دم سیدھی کھڑی تھی۔ شکھر پر سنگ مر مر کا چوبی فرش نظر آ رہا تھا۔ ایسا لگتا تھا چٹّانوں کو کاٹ کر سنگ مر مر کی سلیب نصب کی گئی ہے۔
چٹّان تک پہنچنے کے لیے پتھر کی سیڑھی بنی ہوئی تھی۔ درجات نے بتایا کہ اسے دھنّا رام کے دادا نے بنوایا تھا۔ وہ اس چٹّان پر بیٹھ کر جوگ سادھنا کرتا تھا۔ ایک بار کوئی عورت اس کی سادھنا میں مخل ہوئی تھی تو اس نے غصّے میں آ کر اس عورت کو اُٹھا کر کھائی میں پھینک دیا تھا جس سے اس کو کالے پانی کی سزا ہوئی تھی۔ میں سیڑھیاں چڑھتا ہوا سنگ مر مر کے چبوترے تک پہنچا۔ چبوترے کے پیچھے چٹان کا کونا نکلا ہوا تھا اور پیچھے گہری کھائی تھی جس میں مدھم شور کے ساتھ پر نالہ بہہ رہا تھا۔ جگہ بے حد پراسرار تھی۔ فرش پر بیٹھتے ہوئے مجھے خوف سا محسوس ہو۔ اک ذرا غفلت ہو تو آدمی نیچے کھائی میں گر سکتا تھا۔
پہاڑی کے اک ذرا اوپر سورج اٹھ آیا تھا اور پہاڑیاں نارنجی رنگ میں شرا بور ہونے لگی تھیں۔ یہاں سے وہ پگڈنڈی دلفریب معلوم ہو رہی تھی جو جھاڑیوں کے بیچ بل کھاتی ہوئی یہاں تک پہنچی تھی۔ فارم کے آس پاس مکان اور مویشی نظر آ رہے تھے۔ اچانک عمارت کا دروازہ کھلا اور ایک عورت تپاک سے باہر نکلی اور گوہال کی طرف چلی گئی۔
میں چبوترے پر کچھ دیر بیٹھا۔ ایک دو سگریٹ پھونکی۔
درجات مجھے دوسرے راستے سے گھر لایا۔ اس نے وہ تالاب دکھایا جو ان لوگوں کا نجی تالاب تھا۔
دو پہر کے کھانے کے بعد وہ ساجی کے بھائی کے ساتھ مچھلی مارنے چلا گیا۔ شام تک نہیں آیا تو میں ساجی کے ساتھ چہل قدمی کے لیے ندی کی طرف نکل گیا۔
ندی دور تک پھیلی ہوئی تھی۔ ندی کے اوپری حصّے سے ایک ناؤ بہتی آ رہی تھی۔ اس میں لوگ کھچا کھچ بھرے تھے اور ہتھیلیوں سے تال دیتے ہوئے گیت گا رہے تھے۔ گیت کے بول صاف سنائی نہیں دے رہے تھے۔ میں اتنا ہی سمجھ سکا۔ ’’بابا بھولا رے۔۔۔۔۔۔۔‘‘ میں نے آسمان کی طرف دیکھا۔ آسمان پر بادل کا ایک ٹکڑا بھی نہیں تھا۔ صاف شفاف آسمان جیسے کسی گہرے راز سے بھرا تھا۔ مچھوارے جال سمیٹ رہے تھے۔ ندی کے اس پار کوئی گا رہا تھا اور سامنے کی پہاڑی سے دو عورتیں لکڑیوں کا گٹھر سر پر لادے نیچے اتر رہی تھیں۔ ان میں سے ایک ضعیف تھی دوسری جوان۔ دونوں نے ہری لتاؤں سے گٹھر باندھ رکھا تھا اور ایک ہاتھ سے انہیں سنبھالتی نیچے اتر رہی تھیں۔ پہاڑی پر کچھ ہی درخت بچے ہوئے تھے۔ ایسا لگتا تھا کہ جلاون کے لیے زیادہ تر درخت کاٹ لیے گئے تھے۔ درختوں کی گھنی چھاؤں پہاڑی کے ایک دم اوپر ہی میسّر تھی۔ پہاڑی کے اونچے درختوں کو انسانی ہاتھ چھو نہیں سکے تھے۔ یہ اپنے مکمل قد تک اُگے ہوئے تھے۔ ان کی شاخیں موٹی اور پتّوں سے ڈھکی تھیں۔
ندی کنارے کی چڑھائی چڑھتے ہوئے گیہوں کے ہرے بھرے کھیتوں سے لگی ہوئی پگڈنڈی پکڑی۔ ہم جس راستے سے اوپر چڑھ رہے تھے اسی راستے سے ایک گائے نیچے اتر رہی تھی۔ پہاڑی پر پہنچ کر میں نے مڑ کر دیکھا۔ پگڈنڈی کھیتوں اور املی کے پیڑوں سے ہوتی ہوئی ایک پرانے شکستہ مندر کو چھوتی گذر گئی تھی۔ یہ ایک زمانے سے چلی آ رہی تھی۔ ہزاروں لاکھوں لوگ اس پر سے گذرے ہوں گے۔ پگڈنڈی گاؤں کی روایت کی امین تھی۔ شام کے گہرے سکوت کا لمس اس میں جذب تھا۔ شمال کی طرف شیو کے ایک پرانے مندر میں کوئی پجاری آ رتی کر رہا تھا۔ کچھ مقامی لوگ سائکل چلاتے ہوئے مندر کے پاس سے گذر گئے۔ ہم ایک پتھر پر بیٹھ گئے۔ ساجی نے گھٹنے پر رخسار ٹکا دیے اور اور سامنے افق کی طرف دیکھنے لگی۔ ساجی کی آنکھوں میں افق پر اُگے پہلے ستارے کی جھلملاہٹ تھی۔ اس میں اداسی کا رنگ نہیں تھا۔ اس میں آرتی کی الوہی چمک تھی۔
سورج آہستہ آہستہ مغربی کناروں کی طرف کھسک رہا تھا۔ شفق کی لالی ندی کے پانیوں میں گھلنے لگی تھی اور پرندے بھی اپنے آشیانے کی طرف لوٹ رہے تھے۔ ندی اب شانت تھی۔ دن بھر کی روانی کے بعد جیسے چپ سی ہو گئی تھی۔ شام کے سائے ندی کی سطح پر منڈرا رہے تھے۔
ایک اور تارا روشن ہوا۔۔۔۔۔ اندھیرا کچھ اور سرمئی ہو گیا۔ پرندے پیڑوں پر اترنے لگے۔ سر مئی آسمان کے پس منظر میں درختوں کے کالے سائے سہانے لگ رہے تھے۔ چاند بھی جیسے اگا چاہتا تھا۔
چاند طلوع ہوا۔۔۔۔۔ اونچے درختوں کے درمیان چاند کا عکس آہستہ آہستہ ابھر نے لگا۔ سکوت گہرا گیا۔ میں پتھر پر لیٹ گیا۔ ساجی بھی پہلو میں دراز ہو گئی۔ ہم آسمان کو نہار رہے تھے۔ تارے ایک ایک کر کے روشن ہو رہے تھے۔ ہر طرف مکمل سکوت تھا اور ہمارا ہاتھ ایک دوسرے کے ہاتھ میں تھا۔ یہ لمس کوئی ہیجان پیدا نہیں کر رہا تھا۔ یہ لمس بھی گہرے سکوت کا حصّہ تھا۔ اس میں حدّت نہیں تھی۔ ایک سرشاری تھی۔ آسمان جیسے اپنے راز منکشف کر رہا تھا اور ہم اس موسیقی کو سن رہے تھے جو خامشی کی موسیقی تھی اور آہستہ آہستہ ہماری روح میں اتر رہی تھی۔۔۔۔ ساجی نے میری طرف کروٹ بدلی۔ میں نے اپنے بالوں میں اس کے ہاتھوں کا لمس محسوس کیا۔ میں نے اس کی آنکھوں میں جھانکا اور اس کی پلکوں پر آہستہ سے اپنے ہونٹ ثبت کر دیے۔ سکوت گہرا ہو گیا۔ ستاروں میں روشنی بڑھ گئی۔ جب دنیا بنی ہو گی تو ایسا سکوت چھایا ہو گا۔۔۔۔۔ اور ہم ایک ساتھ ایک دوسرے کے پہلو بہ پہلو گہرے سکوت کو اپنی روح میں اتار رہے تھے۔ کچھ بھی بات نہیں کرتے ہوئے۔۔۔۔۔ چپ۔۔۔۔۔۔ خاموش۔ ایک الوہی سکوت کا حصّہ بنے ہوئے تھے اور سب کچھ کتنا پر اسرار تھا۔ فطرت کی غیر مرئی بانہوں میں ہم ضم تھے۔ جبلّت بھی گم تھی۔۔۔۔۔ کہیں کوئی اشارہ نہیں تھا۔
کسی کتّے کے بھونکنے کی آواز آئی۔ ساجی اٹھ کر بیٹھ گئی۔ ہم نے ایک دوسرے کی طرف چونک کر دیکھا۔۔۔۔۔ ہماری آنکھوں میں حیرت تھی جیسے ہم ایک دوسرے کو پہلی بار دیکھ رہے تھے۔۔۔۔ جیسے ہمیں حیرت تھی کہ ہم یہاں تک پہنچے کیسے؟
مجھے احساس ہوا کہ اب چلنا چاہیے۔ اس بات کی فکر بھی ہوئی کہ کوئی ہم پر شک نہ کرے لیکن ساجی کا بھائی بھی اسی وقت لوٹا۔ وہ بہت خوش تھا۔ مچھلی ہاتھ لگی تھی۔ درجات بار بار مجھ سے کہہ رہا تھا کہ یہ بچوا مچھلی ہے۔ اس میں ایک ہی کانٹا ہوتا ہے۔ وہ خوش تھا کہ مجھے کانٹا نکالنے میں کوئی پریشانی نہیں ہو گی۔ ساجی کے بھائی نے خود مچھلی تلی اور وہی مہوے کی شراب۔۔۔۔۔۔۔
میں اسی سرشاری میں تھا۔۔۔۔ حیرت تھی کہ کہیں کوئی مہک نہیں تھی۔ ساجی تیز تیز سی سانسیں نہیں لے رہی تھی۔
دوسرے دن صبح سویرے ہم نے لال گنج کی چھک چھک گاڑی پکڑی۔
٭٭٭
2
ساجی پٹنہ شفٹ ہوئی تو نو راترا شروع ہو چکی تھی۔
کیا مجھے نصیب کو بتا دینا چاہیے تھا کہ ساجی پٹنہ میں رہ رہی ہے۔۔۔۔؟ ہر گز نہیں۔۔۔! وہ بات کی تہہ تک پہنچ سکتی تھی لیکن میں کیوں آگ سے کھیل رہا ہوں۔۔۔۔؟ کیا اس کی بھی جبلّت ہوتی ہے کہ خطرے سے کھیلو اور گھر پھونک دو۔۔۔۔؟
ساجی خوش تھی۔ لال گنج سے کچھ بھی ڈھو کر لانا اس نے مناسب نہیں سمجھا۔ وہ اپنے ’’نئے گھر‘‘ میں سب کچھ نیا دیکھنا چاہتی تھی لیکن میں نے محسوس کیا وہ لال گنج کی تمام یادیں ہمیشہ کے لیے مٹا دینا چاہتی ہے۔ وہ پرانے گھر کی ایک نشانی بھی اپنے پاس رکھنا نہیں چاہتی تھی۔ وہ اس بات پر خوش تھی کہ میرے کندھوں پر اس کا بوجھ ہے۔
ہم بازار کے لیے نکلتے تو درجات ساتھ ہوتا۔ وہ خاموش رہتا۔ کبھی کبھی چیزوں کو الٹ پلٹ کر دیکھتا اور مناسب قیمت طے کرنے کی کوشش کرتا۔ ساجی جس چیز پر انگلی رکھ دیتی میں خرید لیتا۔ وہ شاید یہ نہیں سوچتی تھی کہ مجھ سے بے جا خرچ کرا رہی ہے۔ مجھے بھی احساس نہیں تھا کہ پیسے لٹا رہا ہوں۔ میں خود کو بہت خاص آدمی محسوس کر رہا تھا۔ سب سے الگ۔۔۔۔ سب سے طاقت ور۔۔۔۔ بیوی تھوپی ہوئی عورت ہوتی ہے۔ ساجی مجھ پر تھوپی ہوئی نہیں تھی۔۔۔۔ وہ میری داشتہ تھی۔۔۔۔۔ میری کرشمہ ساز شخصیت اُسے کھینچ کر میرے قدموں میں لے آئی تھی۔ میں اس کا سو فی صد مالک تھا۔ اس کی تمام خوشیوں کا مرکز۔۔۔۔ میں چاہتا تو اسے ایک پل میں خاک میں ملا سکتا تھا۔ وہ جو بھی تھی میرے ہی بل بوتے پر تھی اور شاید ساجی بھی کچھ ایسا ہی محسوس کر رہی تھی کہ ایک محبوب رکھتی ہے۔۔۔۔۔ ایک عاشق، جو اس پر دل و جاں لٹاتا ہے۔ وہ بازار میں اترا کر چلتی اور درجات نوکر کی طرح سامان اٹھائے پیچھے پیچھے چلتا۔
وہ چوڑیاں بھی خریدنا چاہ رہی تھی۔ میں نے کہا درجات کی پسند کی چوڑیاں خریدو اور اس نے خریدیں۔ درجات خوش ہو گیا۔ اس نے پو چھا لپ اسٹک بھی لو گی۔۔۔۔؟ مجھے ہنسی آ گئی۔ وہ اس طرح پوچھ رہا تھا جیسے پیسے خود ادا کرتا۔ ساجی نے لپ اسٹک اور پاوڈر بھی لیے۔ ناخن پالش بھی لینا چاہ رہی تھی۔ پالش کا رنگ پرکھنے کے ارادے سے اُس نے شیشی سے سلائی باہر نکالی لیکن اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ رنگ کس پر آزمائے۔ میں نے جھٹ سے اپنا ہاتھ بڑھا دیا۔
’’میرے ناخن۔۔۔۔۔۔‘‘
وہ کھل کھلا کر ہنس پڑی۔ میری طرف تحسین آمیز نظروں سے دیکھا۔
’’تم چٹکیوں میں مسئلہ حل کرتے ہو۔ یہی فرق ہے تم میں اور اُن میں۔۔۔۔۔‘‘ وہ جیسے خوشی میں جھومتی ہوئی بولی۔ میں مسکرا کر رہ گیا۔
چار دنوں میں ضرورت کی سبھی چیزیں خرید لی گئی۔ گھر سج گیا۔ فلیٹ میں دو دروازے تھے۔ ایک دروازہ باہر کے کمرے میں کھلتا تھا اور دوسرا اندر ڈرائنگ روم میں۔ باہر کا کمرہ ڈرائنگ روم سے ملحق تھا۔ باقی دو کمرے اندر تھے اور بیچ میں ڈائنگ اسپیس تھا۔ بالکنی اندر کے کمرے سے لگی تھی جسے ساجی نے اپنا بیڈ روم بنایا۔ دوسرے کمرے میں لڑکیاں تھیں۔ باہر کا کمرہ میرے لیے مخصوص تھا۔ اس کمرے میں ایک بڑا سا وارڈ روب تھا لیکن ساجی نے کتابوں کی ایک الماری بھی خریدی۔ اس کا اصرار تھا کہ لال گنج کی ساری کتابیں یہاں لا کر سجا دوں۔
میں اس دوران ساجی کے ساتھ رہا۔ میں درجات کے جانے کا انتظار کر رہا تھا۔ وہ یہ کہہ کر شام کی گاڑی سے چلا گیا کہ نومی کے دن آئے گا۔ آخر اس کو اپنی دکان بھی دیکھنی تھی۔
اور میں نے آزادی سی محسوس کی۔ ساجی بھی جیسے اس کے جانے کا انتظار کر رہی تھی۔ درجات کے جاتے ہی اس نے مجھ سے پو چھا۔
’’وہسکی پیو گے۔۔۔۔۔؟‘‘
’’میرے پاس نہیں ہے۔‘‘
’’ہے نا میرے پاس۔‘‘
’’انڈے ابال دوں۔۔۔۔۔؟‘‘
’’نہیں۔۔۔۔۔ صرف وہسکی۔۔۔۔۔۔‘‘
میں اٹھ کر بیٹھ گیا۔ کمرے میں روشنی کی اور سارے کپڑے اتار دیے۔ سگریٹ سلگائی اور لمبے لمبے کش لینے لگا۔ ساجی وہسکی لے کر آئی تو مجھے اس حال میں دیکھ کر ہنسنے لگی۔
’’یہ کیا۔۔۔۔؟‘‘
’’آزادی کا احساس۔۔۔۔!‘‘
’’روشنی تو گل کرو!‘‘ اس نے سوئچ آف کر دی۔
’ ’اندھیرے میں گناہ کا احساس بڑھ جاتا ہے۔
’’کینڈل جلا لو۔‘‘
’’اب موم بتّی کہاں سے آئے گی؟‘‘
’’لاتی ہوں!‘‘
وہ پھر اندر گئی اور موم بتّی لے کر آئی۔ موم بتّی کی مدھم روشنی میں کمرے کی فضا پر اسرار ہو گئی۔ اس نے میرے لیے پیگ بنایا۔ میری طرف گلاس بڑھاتے ہوئے بہت ادا سے مسکراتی ہوئی بولی۔
’’دیکھنا چاہتے ہو۔۔۔۔؟‘‘
’’کیا۔۔۔۔؟‘‘ میں نے ایک گھونٹ بھرتے ہوئے پو چھا۔
اس نے بلوز اُتارا۔ برا ڈھیلی کی اور رخسار کو ہتھیلی پر ٹکا کر کہنی کے بل لیٹ گئی اور میری طرف مسحور کن نگاہوں سے دیکھتی ہوئی بولی۔
’’دیکھو!‘‘
موم بتّی کی مدھم روشنی میں اس کا ڈھلتا ہوا جسم پر اسرار لگ رہا تھا۔ چھاتیاں پر کشش نظر آ رہی تھیں۔ پیٹ کے ابھار اور کولہے کے کٹاؤ میں دلکشی تھی۔ میں سوچ رہا تھا کہ اُس نے دعوت نظارہ کیوں دیا۔۔۔۔؟ یہ اس کی نرگسیت تھی اور اس کو اس بات کا یقیناً احساس تھا کہ اس کا ڈھلتا ہوا جسم ابھی بھی کشش رکھتا ہے۔ وہ ایسی دلفریب اداؤں سے مجھ میں اپنی کشش بنائے رکھنا چاہتی تھی۔ میں نے آہستہ سے اس کے پیٹ پر ہاتھ پھیرا۔ اس نے آنکھیں بند کر لیں۔۔۔۔۔
شراب کی کچھ بوندیں اس کے جسم پر ٹپکائیں۔۔۔۔ پھر جھکا۔۔۔۔۔ اس کا ہاتھ میرے سر پر چلا گیا۔ میں نے اس کا ہاتھ جھٹک دیا۔
’’مجھے اس بات سے نفرت ہے۔‘‘
’’کس بات سے؟‘‘وہ چونک پڑی۔
’’جب عورت کا ہاتھ مرد کے سر پر چلا جائے۔۔۔۔۔۔‘‘
’’اس میں نفرت کی کیا بات ہے؟‘‘
’’جبلّت کا یہ روحانی پہلو مجھے پسند نہیں ہے۔‘‘
’’نہیں سمجھی۔۔۔۔؟‘‘
’’تم نہیں سمجھو گی۔۔۔۔ بس میرے سر پر ہاتھ نہ رکھا کرو۔‘‘
’’ایک بات بتاؤں؟‘‘
’’کیا؟‘‘
’’مجھے تمہارا جسم نہیں چاہیے۔۔۔۔۔ مجھے صرف تم سے محبت ہے۔۔۔۔۔ تم جو ہو۔۔۔۔۔۔۔‘‘
’’میں جو ہوں۔۔۔۔؟ کیا ہوں میں۔۔۔۔؟‘‘
’’جو بھی ہو۔۔۔۔ مجھے تم سے محبت ہے۔‘‘
’’یہ محبت نہیں ہے۔۔۔۔ یہ قبضہ ہے۔۔۔۔۔ تم مجھ پر اپنی حکومت قائم رکھنا چاہتی ہو۔‘‘
’’محبت قبضہ نہیں کرتی کمار۔۔۔ محبت آ زادی دیتی ہے۔‘‘
’’لیکن تم مجھے آزاد نہیں دیکھ سکتی اسی لیے تم نے مجھے سیندور لگانے پر زور دیا۔۔۔۔۔ سیندور پہلا قفل ہے جو تم نے میرے وجود پر لگایا ہے۔‘‘
’’نہیں کمار۔۔۔ مجھے سمجھنے کی کوشش کرو۔۔۔۔ میں تم سے روحانی محبت کرتی ہوں۔‘‘
’’محبت ہمیشہ روحانی ہوتی ہے۔ جسم وسیلہ ہوتا ہے۔ جسم سے گذرے بغیر کوئی روح تک نہیں پہنچ سکتا۔‘‘
میں نے کچھ اور بوندیں ٹپکائیں۔۔۔۔۔۔
اس پر جھکا۔۔۔۔۔۔
اس کا ہاتھ پھر میرے سر پر چلا گیا۔
’’نہیں۔۔۔!‘‘ میں نے اس کا ہاتھ پھر جھٹک دیا۔
’’مجھے اذیت مت پہنچاؤ ساجی۔ مجھے یہ رویّہ پسند نہیں ہے کہ عورت مرد کے سر پر ہاتھ رکھے اور مرد عورت کی پیشانی پر بوسہ ثبت کرے شاید مجھے تمہارا ہاتھ باندھنا پڑے گا۔‘‘
’’جو جی میں آئے کرو۔ میں کچھ نہیں کہوں گی۔‘‘
میں نے اس کے دونوں ہاتھ پلنگ کی پٹّی سے باندھ دیے۔۔۔۔۔ برا کھول دی ایک نظر اُس کی طرف دیکھا۔ اس کی آنکھیں بند تھیں۔ چہرے پر مزاحمت کے آثار نہیں تھے اور مجھے ایک طرح کی آزادی کا احساس ہو رہا تھا۔۔۔۔۔۔ شاید میں ساجی کے ساتھ اپنے کسی بھی عمل میں آزاد ہوں لیکن کیا وہ بھی اپنے رویّے میں آ زاد تھی۔۔۔۔؟
میں اس کی کمر سے لگ کر اکڑوں بیٹھ گیا۔ دوسری سگریٹ سلگائی اور لمبے لمبے کش لینے لگا لیکن اس طرح برہنہ ہو کر اُکڑوں بیٹھے سگریٹ کے کش لگانا مجھے عجیب لگا۔ موم بتّی کی تھرتھراتی لو میں میرا سایہ دیوار پر منعکس تھا۔ دفعتاً مجھے محسوس ہوا کہ میں کوئی بد روح ہوں جس نے ساجی کے جسم میں اپنا ڈیرہ جمایا ہے۔ اس کی آنکھیں اسی طرح بند تھیں اور کمرے میں گہری خاموشی تھی۔ اس کے لب سلے ہوئے تھے اور میری نظر ہونٹوں کے خم پر تھی۔ اگر اسے سگریٹ سے ٹارچر کروں تو اذیت کا سارا احساس ہونٹوں کے خم میں سمٹ آئے گا اور تب میں۔۔۔۔۔۔۔‘‘
میں نے سگریٹ کی لو اُس کے دائیں گال سے سٹا دی۔۔۔۔
’’اف۔۔۔۔۔!‘‘ وہ تڑپ اٹھی۔ درد سے اس کے ہونٹ سکڑ گئے۔۔۔۔۔ ٹھیک اسی انداز میں جس طرح میں نے تصّور کیا تھا۔ ساری اذیت ہونٹوں کے خم میں سمٹ آئی تھی اور آنکھوں میں آنسو چھلک آئے تھے۔ پھر بھی وہ خاموش تھی اور رخسار پر آنسو ڈھلک رہے تھے اور مجھ میں شہوت جگا رہے تھے۔ میں نے سگریٹ بجھا دی لیکن ہاتھ نہیں کھولے۔ اسی حال میں اُسے بازوؤں میں دبوچا۔۔۔۔۔۔ اس نے اپنا بدن ڈھیلا چھوڑ دیا۔ میری جارحیت نے اسے متحرک کیا تھا۔ اسے سگریٹ سے جلنے کا دکھ نہیں تھا۔ دکھ ہو گا جب میں اُسے اگنور کروں گا۔ گلا بھی دبا دوں تو اُف نہیں کرے گی لیکن چھوڑ کر چلا جاؤں تو بیمار پڑ جائے گی۔
درجات یہاں نہیں تھا۔ لڑکیاں گہری نیند میں تھیں۔ وہ تھی۔۔۔۔۔ شراب تھی۔۔۔۔ رات تھی۔۔۔۔ اور گناہ کا حوصلہ تھا۔۔۔۔۔۔
شراب کے کچھ اور قطرے۔۔۔۔۔۔۔
میں نے موم بتّی گل کر دی۔۔۔۔۔۔۔
رات گناہوں کو چھپا لیتی ہے۔
گھر آیا تو نصیب راہ دیکھ رہی تھی۔ نصیب کا سامنا ہوتا ہے تو میں کیوں خود کو مجرم سمجھنے لگتا ہوں۔۔۔۔؟
نصیب کو فروزی کی فکر تھی۔ اس کا دولہا شرابی نکلا۔
’’میں کہتا تھا نہ کہ شرابی کبابی ہو گا۔ ورنہ کوئی اس طرح شادی کرتا ہے۔‘‘
’’اب کیا بتاؤں جی۔۔۔۔ ایک سوتن بھی ہے۔‘‘
’’یک نہ شد۔۔۔۔۔ دو شد۔۔۔!‘‘ میں ہنسنے لگا۔
معلوم ہوا سوتن نیم پاگل ہے۔ اس پر مرگی کے دورے پڑتے ہیں۔ وہ اُسے طلاق دینا چاہتا ہے لیکن نہیں دے سکتا۔ مہر پچیس ہزار ہے۔ کہاں سے دے گا۔۔۔۔؟ اور باتیں بھی معلوم ہوئیں۔ مثلاً سوتن نانی کی رشتہ دار ہے۔
کبھی نصیب کو بھی معلوم ہو گا کہ ایک سوتن وہ بھی رکھتی ہے۔
بچّے میلہ گھومنا چاہتے تھے۔ نصیب کو گربہ دیکھنے کا شوق تھا۔ سپتمی کے روز مندر کے پٹ کھلتے تھے۔ میں نے اس دن اپنا موبائل آف کر دیا۔ ساجی مجھے ضرور ڈھونڈتی۔ درجات یہاں تھا نہیں۔ اسے میلہ دکھانے کون لے جاتا؟ میں ساجی کے پاس سے ہو کر آیا تھا۔ مجھے اب وقت نصیب کو دینا تھا۔
دسہرے کے موقع پر پٹنہ خوب سجتا ہے۔ میں سر شام سب کو کار میں لے کر باہر نکلا۔ مندر کے پٹ کھل چکے تھے۔ سڑکوں پر بھکتوں کا سیلاب امنڈ پڑا تھا۔ سارا شہر روشنی سے جگمگا رہا تھا۔ ماں بھگوتی کے گیت فضا میں گونج رہے تھے۔ سیفی مینا کشی مندر دیکھنا چاہتا تھا جس کا ماڈل ڈاک بنگلہ چوک کے پنڈال میں بنا تھا اور کیفی کی دلچسپی بھی چائنیز ٹیمپل میں تھی جو گردنی باغ کے پنڈال کی رونق بڑھا رہا تھا۔ شہر میں ٹریفک کا نظام بدل گیا تھا جس کا اعلان اخباروں میں شائع ہوا تھا۔ کچھ سڑکوں پر گاڑیوں پر پابندی لگا دی گئی تھی۔ کچھ ایک جگہ ون وے ٹریفک کا نظام تھا۔ پولیس کا حفاظتی انتظام بھی پختہ تھا۔ پنڈالوں کے آس پاس کڑی چو کسی برتی جا رہی تھی۔ مجسٹریٹ اور دوسرے افسر تعینات تھے۔ سادہ لباس میں بھی پولس گھوم رہی تھی جس میں مہیلا پولیس کرمی بھی شامل تھی۔ میں نے پہلے راجہ بازار کا رخ کیا۔ یہاں پنڈال کے قریب چھوٹے چھوٹے بازار لگے تھے۔ طرح طرح کی دکانیں سجی تھیں۔ ایک دکان مٹّی کے کھلونوں کی بھی تھی جس میں بھیڑ نہیں تھی۔ کھلونا بیچنے والی بڑھیا نے بتایا کہ اب لوگ مٹّی کے سامان نہیں خریدتے۔ کوئی مورتیوں کو بھی ہاتھ نہیں لگاتا۔ سیفی اور کیفی نے مٹّی کے بینک خریدے۔ نصیب ایک آئینے کی دکان میں گھس گئی۔ یہاں طرح طرح کے آئینے تھے۔ قدّ آدم سے لے کر دستی آئینے تک۔ نصیب کو ایک بیضوی آئینہ بھا گیا جس کا فریم بہت خوب صورت تھا۔ حاشیے پر گل داودی کی نقّاشی تھی۔ قیمت پانچ ہزار تھی لیکن نصیب مول تول کا فن جانتی ہے۔ اس نے آئینہ چار ہزار میں خریدا۔ وہاں سے نکل کر سنگار کی دکان میں گئی۔ وہاں سے بالوں میں لگانے کے دو تین طرح کے رِبن، بندی، چوڑی اور سیندور کی ڈبیہ خریدی۔ میں نے پوچھا یہ سب کس لیے تو ہنس کر بولی مایا کے لیے۔ اسے چھٹھ میں گفٹ کروں گی۔ مایا ہمارے یہاں پوچھا لگانے کا کام کرتی ہے۔
راجہ بازار کا پنڈال کافی بڑا تھا۔ کالی اور درگا ماں کے ساتھ بھارت ماتا کی پرتیما بھی تھی۔ بیس فٹ اونچی بھگوان شیو کی جٹا سے نکلتی گنگا میّا کے ساتھ بھارت ماتا کی مورتی سب کی توجہ کا مرکز تھی۔ کیفی اور سیفی بہت غور سے مورتیوں کو دیکھ رہے تھے۔ میں نے بتایا کہ مہا کالی مہا لکشمی اور مہا سرسوتی کے سما گم سے پاروتی یعنی بھگوتی شکتی درگا کے روپ میں ظاہر ہوتی ہے۔ اسر راج کے خاتمہ کے بعد دیوتاؤں نے بھگوتی سے پوچھا تھا آپ ہمیں کہاں ملیں گی تو دیوی کا جواب تھا۔
’’مجھے قدرت میں دیکھو اور فطرت میں محسوس کرو۔‘‘
ماں درگا اپنے سپتم روپ میں کال راتری کے نام سے جانی جاتی ہے۔ اس کے جسم کا رنگ گھنے اندھیرے کی طرح ایک دم سیاہ ہے۔ سر کے بال بکھرے ہوئے ہیں۔ گلے میں بجلی کی طرح چمکنے والی مالا ہے۔ ماں کے تین نیتر ہیں جو برہمانڈ کی طرح گول ہیں۔ ان سے برقی لہریں سی نکلتی رہتی ہیں اورسانس کے ہر زیر و بم میں اگنی کی خوف ناک لپٹیں۔۔۔۔۔۔ ان کی سواری گدھا ہے۔ اوپر اٹھے ہوئے دائیں ہاتھ کی ور مدرا سے سب کو ور دیتی ہیں۔ دائیں طرف کو نیچے والا ہاتھ ابھئے مدرا میں ہوتا ہے۔ بائیں طرف کے اوپر والے ہاتھ میں کانٹا اور نیچے والے ہاتھ میں کٹار ہے۔ کال راتری دیکھنے میں خوف ناک ہے لیکن ہمیشہ شبھ پھل دیتی ہے۔ اس لیے اس کا دوسرا نام شبھنکاری بھی ہے۔
جے ڈی وومینس کالج سے لے کر جگ دیو پتھ تک روشنی بکھری ہوئی تھی۔ بیلی روڈ پر کھج پورہ میں وکٹوریہ مموریل کا منظر بھی خوب تھا جسے دیکھ کر سوچے بغیر نہیں رہا کہ غلامی کے اثرات ابھی بھی لا شعور میں پنہاں ہیں۔ آشیانہ موڑ اور بیلی روڈ پر پنائی چک جانے والی سڑک کی سجاوٹ کا اپنا الگ ہی رنگ تھا۔ راجہ بازار سے چت کوہرہ پل ہوتے ہوئے گردنی باغ کا نظارہ دیکھا۔ روڈ نمبر دس میں ایودھیا کے شری رام مندر کی چھٹا آنکھوں کو خیرہ کرتی تھی۔ مندر کی پوری عمارت قمقمے کی روشنی میں ڈوبی ہوئی تھی۔ اس مندر کو فیض آ باد کے ایک مسلم کاریگر نے بنایا تھا۔ نصیب نے یہاں آلو چاٹ کا لطف لیا۔ سیفی اور کیفی نے آئس کریم کھائی۔ میں نے دو چار سگریٹ پھو نکے۔ گردنی باغ سے ہارڈنگ روڈ ہوتے ہوئے اسٹیشن گولمبر پہنچے۔ گاڑی آگے جا نہیں سکتی تھی۔ اسٹیشن کی پارکنگ میں کار لگائی اور پیدل ہی ڈاک بنگلہ چوک کی طرف چل پڑے۔ رش بڑھ گیا تھا۔ پیدل چلنا بھی مشکل تھا۔ شانے سے شانہ چھل رہا تھا۔ پورا شہر روشنی میں نہا رہا تھا۔ ڈھول اور نگاڑے کی بھی آواز گونج رہی تھی۔ بھگتی کے کیسٹ بج رہے تھے۔۔۔۔۔ او ماں شیروں والی۔۔۔۔۔ پوجا پنڈالوں سے نکلنے والی شنکھ کی آواز، گھنٹہ بجنے کا شور اور ہوم وغیرہ کی دھونی کی خوشبو سے فضا معطّر تھی۔ شہر لاوڈ اسپیکر کے شور میں ڈوبا ہوا تھا۔
اسٹیشن کے قریب روشنی کے ذریعہ دھارمک منظر پر مبنی جھانکیاں دکھانے کی تیاری تھی۔ خوفناک راکشسوں کی مورتیاں بنائی گئی تھیں۔۔۔۔ مہشاسور کے پیٹ سے نکلتا ہوا راکشس۔۔۔۔۔ ڈاک بنگلہ چوک پر ڈائنا سور کا نظارہ دیکھنے کو ملا۔ سیفی نے ڈائناسور کو لے کر کئی سوال پوچھے جن کا جواب میں نہیں دے سکا۔ چوک کو دلہن کی طرح سجایا گیا تھا۔ چھو ٹے چھوٹے بجلی کے قمقموں کے ساتھ ٹیوب لا ئٹس را لیکس، ٹیوب لائٹس بریکٹ سیریز، سبز بلب اور ڈگرے سے پوری سڑک سجی ہوئی تھی۔ ہیرا پیلس کے پاس پنڈال کو مینا کشی مندر کی شکل دی گئی تھی۔
اچانک روشنی گل ہو گئی۔۔۔۔۔ ڈاک بنگلہ چوک کے ساتھ شہر کا نصف حصّہ اندھیرے میں ڈوب گیا۔ شاید جکّن پورہ کے فیڈر میں خرابی آ گئی تھی۔ ڈاک بنگلہ چوک، جمال روڈ، کدم کنواں، نالا روڈ اور فریزر روڈ کے علاوہ کئی علاقے اندھیرے میں ڈوبے رہے۔ جنریٹر کا شور بلند ہوا۔ میں نے گھر لوٹنا مناسب سمجھا۔ لوٹتے ہوئے بورنگ روڈ کے روٹی ریستوراں میں کھانا کھایا۔ بورنگ روڈ چوراہے پر اُجین کا مہا کالیشور مندر کا نظارہ دیدنی تھا۔ گھر آ کر سبھی بستر پر ڈھیر۔۔۔۔ میں تھک گیا تھا۔ نصیب کو اپنی بانہوں میں لینے کا جی نہیں کر رہا تھا۔ بستر پر آتے ہی نیند کی آغوش میں تھا۔ نصیب میرے سینے میں سمٹ کر سو گئی۔
اشٹمی کی شام ڈانڈیہ رقص کا اہتمام کرشن ممو ریل ہال میں تھا۔ نصیب کو گربہ دیکھنے کا شوق تھا۔ میں ٹال نہیں سکتا تھا۔ سوچا ساجی کو آج دن میں ہی گھما دوں۔
وہاں بارہ بجے پہنچا۔ ساجی آنکھوں میں آنسو لیے بیٹھی تھی۔۔۔۔۔ میں جانتا تھا شکایت کا دفتر کھلے گا۔۔۔۔ اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتی میں نے بہانہ بنایا کہ نصیب اچانک بیمار پڑ گئی۔ اسے ڈاکٹر کے پاس لے کر جانا پڑا۔ ڈاکٹر نے شام کو پھر بلایا ہے لیکن جواب میں وہ بس خاموش رہی۔ ایک لفظ بھی کچھ نہیں کہا۔ لڑکیاں دوسرے کمرے میں دبکی ہوئی تھیں۔ گھر میں موت کا سا سناٹا تھا اور اس کی آنکھوں سے آ نسو بہہ رہے تھے اور مجھے عجیب سی کوفت کا احساس ہوا۔ مجھے لگا میرے گرد ایک زنجیر سی ہے۔ میں نے چڑ کر کہا۔
’’میں اپنی بیوی کو بیمار چھوڑ کر تو نہیں آ سکتا تھا۔ شام پھر ڈاکٹر کے پاس جانا ہے۔‘‘
وہ پھر بھی چپ رہی تو میں جھنجھلا گیا۔ ’’اب نہیں بات کرنی ہے تو جاتا ہوں۔ میری قسمت ہی خراب ہے۔ کوئی میری مجبوری نہیں سمجھتا ہے۔‘‘
وہ رو پڑی۔ ’’کم سے کم فون تو کر دیتے۔‘‘
میں نے اسی طرح جھنجھلاتے ہوئے کہا۔ ’’پریشان تھا۔۔۔۔۔ پریشان۔۔۔۔!‘‘
وہ چپ رہی۔
خیر چھوڑو شکوے شکایت۔۔۔۔ چلو باہر نکلتے ہیں۔‘‘
وہ تیار ہونے کے لیے اپنے کمرے میں گئی۔ میں سگریٹ پھونکنے لگا۔
میں سب کو لے کر پٹن دیوی مندر کے لیے پٹنہ سٹی کی طرف نکلا۔
صبح سے ہی شردھالووں کی بھیڑ جٹنے لگی تھی۔ شکتی کی دیوی اشٹم روپ میں مہا گوری ہے۔ پٹنہ سٹی کا کالی مندر شکتی پوجا اور تانترک سادھنا کا پرانا مرکز ہے۔ یہ مندر کبھی سادھنا کا کیندر تھا۔ سنگ مرمر پر بنی ماں کالی کی مورتی بہت جاذب نظر تھی اور مورتیوں کی طرح ماں کی جیبھ باہر نکلی ہوئی نہیں تھی بلکہ اظہار تاسّف میں ہونٹ دائرہ نما ہو رہے تھے۔ وہاں کے پجاری نے بتایا کہ قریب دو ہزار سال پہلے بابا مست رام نام کے تانترک نے مندر کی تعمیر کی تھی۔ اس مندر کے پاس سے ہی صدیوں پہلے گنگا بہا کرتی تھی۔ یہ مندر گنگا اور سون ندی کے سنگم پر بنا تھا۔ آبادی نہیں ہونے کی وجہ سے یہاں تانترکوں کا جمگھٹ لگا رہتا تھا۔ بعد میں یہ شمشان گھاٹ بھی بنا۔ مغل بادشاہ شاہ عالم نے ماتا کے سنگھار کے لیے ہیرے جواہرات موتی جڑے کنگن مکٹ تلوار اور گھنٹہ تحفے میں دیئے تھے۔ نیپال نریش رن بہادر شاہ نے اشٹ دھاتو سے بنا وشال گھنٹہ بھی چرنوں میں بھینٹ کیا تھا جو آج بھی مندر کے احاطے میں ٹنگا تھا۔
سدھ شکتی پیٹھوں میں بڑی پٹن دیوی اور چھوٹی پٹن دیویوں کا خاص مقام ہے۔ پٹنہ سٹی کے گلزار باغ کے قریب بڑی پٹن دیوی کا مندر ہے۔ پٹن دیوی کی سبھی مورتیاں کالے پتھر کی بنی ہوئی تھیں۔ اشوک کال میں یہاں ماتا کا چھوٹا مندر تھا جس کی بعد میں توسیع ہوئی۔ مندر کے احاطے میں ہی یونی کنڈ ہے یہاں ہون کنڈ کے بھسم پاتال میں چلے جاتے ہیں۔ یہ نگر محافظ کے روپ میں جانی جاتی ہیں۔ حاجی گنج کے قریب چھوٹی پٹن دیوی کا مندر ہے۔ کہتے ہیں بڑی پٹن دیوی میں ستی کی دائیں جانگھ اور چھوٹی پٹن دیوی میں ستی کا پٹ گرا تھا۔ دیوی ستی راجہ دکش کی بیٹی تھیں۔ ایک بار راجہ دکش یگیہ کر رہے تھے جس میں شیو مدعو نہیں تھے۔ دیوی ستی شیو کے منع کرنے پر بھی یگیہ میں بن بلائے چلی گئی تھیں۔ وہاں اُن کی کوئی خاطر داری نہیں ہوئی تو ستی کو بے عزّتی کا احساس ہوا تو ہون کنڈ میں کود کر جان دے دی۔ شیو کو معلوم ہوا تو آپے سے باہر ہو گئے۔ ستی کی لاش کو کندھے پر رکھ کر تانڈو شروع کیا تو چاروں طرف دہشت پھیل گئی۔ وشنو نے شیو کا غصّہ ٹھنڈا کرنے کے لیے ستی کی لاش کو چکر سے کا ٹنا شروع کیا۔ جسم کے اعضا اور لباس جہاں جہاں گرے وہ شکتی استھل بن گئے۔ دیوی پران میں اکیاون شکتی پیٹھ کا ذکر ہے۔ مندر میں براجمان مورتیاں ستیہ جگ کی بتائی جاتی ہیں۔ ہم جب بڑی پٹن دیوی کے مندر پہنچے تو پشپانجلی اور دردر نارائن پرشاد کارج کرم چل رہا تھا جس کی رسم اجرا ہیلتھ منسٹر کے ہاتھوں انجام پائی تھی۔ شردھالووں کی خدمت کے لیے پٹن دیوی کے قریب سنسکرتی جاگرتی منچ والوں نے اپنا خیمہ لگایا تھا۔
ڈھول اور نگاڑوں کے بیچ ماں کی آرادھنا شروع ہوئی۔ پورا شہر بھکتی مئے ہو گیا تھا۔ بھیڑ امنڈ پڑی تھی۔ کئی جگہ کماری پوجن بھی ہوا۔ شری بڑی دیوی معروف گنج نند گولہ کھج کلاں گر ہٹّہ چلتی پھرتی دیوی جی، نور الدّین گنج کملا دیوی کچوڑی گلی چیلی ٹال، کتھک تل، کھجور بنّہ، پیتا مبر مندر شیتلا ماتا مندر کالی مندر سمیت سبھی پوجا پنڈا لوں پر شردھالووں کی بھیڑ اُمنڈ پڑی۔
مہا اشٹمی کے موقع پر ہزاروں عورتوں نے ماتا کی گود بھری۔ شنکھ ناد اور کرتل دھونی کے بیچ ماں پٹنیشوری کی منگل آرتی ہوئی۔ مہا اشٹمی میں ماں پٹنیشوری کے درشن کا خاص فیض ہے۔ مراد پوری ہونے کے لیے شردھالو ناریل پھوڑ کر ماتا کو چنری پہناتے ہیں۔ پٹنیشوری کے روپ میں یہاں سونے سے لدی مہا کالی مہا لکشمی اور مہا سرسوتی چاندی کے تخت پر چھتر کے ساتھ براجمان ہیں۔ مہا اشٹمی کو ناریل اور پنچ میوا ماتا کو بھوگ لگائے جاتے ہیں۔ یہاں کاشی پنچانگ کے مطابق پوجا کا طریق کار اپنایا جاتا ہے۔ کولک منتر کی سدھی کے لیے یہ جگہ مشہور ہے۔
لڑکیوں کو بھوک لگ گئی تھی۔ مندر سے بائیں طرف کچھ دور پر ایک ہوٹل تھا۔ وہاں گئے۔ لڑکیاں چو منگ کھانا چاہتی تھیں۔ میں نے چومنگ کا آرڈر دیا۔ ساجی نے پاؤ بھاجی منگائی۔ میں اور ساجی ایک ہی پلیٹ میں کھا رہے تھے۔ منصوبہ نے مجھے کنکھیوں سے دیکھا۔
ایک ہی پلیٹ میں کھاتے ہوئے ساجی کا چہرہ خوشی سے دمک رہا تھا لیکن مجھے یہ سب بہت سہانہ نہیں لگ رہا تھا۔ مجھے نصیب یاد آ رہی تھی اور بات عجیب تھی کہ اب ساجی پوری طرح میری دسترس میں تھی تو میں اُس کی قربت میں ایک طرح کی الجھن محسوس کر رہا تھا۔ ساجی نے ایک لڑکے کی طرف اشارہ کیا۔
’’دیکھو کس طرح گھور گھور کر دیکھ رہا ہے۔‘‘
’’دیکھنے دو۔ میلے میں لوگ دیکھنے کے لیے ہی آتے ہیں۔‘‘
’’اس کو سبق سکھانا چاہیے۔‘‘
میں نے کوئی توجہ نہیں دی۔
ہم واپس لوٹے تو شام ہو چلی تھی۔ ساجی بہت لجاجت سے بو لی کہ میں کچھ دیر رکوں اور چائے پی کر جاؤں لیکن میں نے اتنی ہی رکھائی سے کہا کہ ڈاکٹر کے ساتھ وقت طے ہے۔
’’چائے پینے میں کتنا وقت لگے گا۔ ابھی بنا دیتی ہوں۔‘‘
میں رک گیا۔ اس نے منصوبہ کو چائے بنانے کے لیے کہا تو میں مسکرایا۔
’’ابھی تم نے کہا چائے بناتی ہوں لیکن منصوبہ کو بھیج دیا۔‘‘
’’تم نہیں سمجھو گے۔‘‘
’’اس میں سمجھنے کی کیا بات ہے۔‘‘
’’عورت کے دل کی تھاہ تک مردوں کی رسائی نہیں ہو سکتی۔‘‘
’’کیوں نہ سمجھوں تم کام چور ہو۔‘‘
اس نے تڑپ کر میری طرف دیکھا اور پھر روہانسے لہجے میں بولی۔
’’تم پانچ منٹ کے لیے میرے پاس ہو پھر چلے جاؤ گے۔ میرے مقدّر میں تنہائی ہو گی۔ میں یہ لمحہ کچن میں کیوں گنواؤں؟ پانچ منٹ ہی سہی تمہیں نہار تو سکتی ہوں۔‘‘
’’اتنی محبت زہر گھولتی ہے۔‘‘
’’زہر کا پیالہ تو ہونٹوں سے لگا ہی لیا ہے۔‘‘
منصوبہ چائے لے کر آئی۔ میں سوچ رہا تھا۔ ساجی کا طویل بوسہ لوں۔۔۔۔ خوش ہو جائے گی اور سمجھے گی میں بہت مجبوری میں جا رہا ہوں۔ ساجی مجھے دل سے چاہتی ہے لیکن میں اسے دماغ سے چاہتا ہوں۔ میرے دل نے نہیں کہا کہ بوسہ لو۔۔۔۔۔ میرے دماغ نے کہا کہ ایسا کرو تو خوش ہو گی۔۔۔۔۔ یہ محبت ہے یا ذہنی عیّاشی۔۔۔۔؟
چائے پینے کے بعد میں نے اس کا طویل بوسہ لیا اور گھر چلا آیا۔
نصیب باہر نکلنے کے موڈ میں نہیں تھی۔ میں بھی ٹی وی کھول کر بیٹھ گیا۔
میں نومی کے روز یہ سوچ کر گھر پر ہی رہا کہ درجات آ گیا ہو گا۔ ساجی اکیلی نہیں ہو گی۔ دسویں کو گاندھی میدان میں راون کو جلانے کی تقریب ہوتی تھی۔ اس دن بہت بھیڑ اِکٹھی ہوتی تھی۔ میں اس روز بھی گھر پر ہی رہا۔ کوئی چار دنوں بعد میں ساجی سے ملنے پہنچا۔
ساجی کچھ الجھن میں نظر آئی۔ درجات موجود تھا۔ وہ خندہ پیشانی سے ملا لیکن کہیں جانے کے لیے جیسے تیار بیٹھا تھا۔ میں نے کچھ رسمی باتیں پوچھیں۔۔۔۔۔ مثلاً کب آئے اور ابھی جانے کی اتنی جلدی کیا ہے؟
’’دکان کئی دنوں سے بند ہے۔ ان کو بزنس بھی دیکھنا ہے۔‘‘ جواب ساجی نے دیا۔ میں نے محسوس کیا کہ وہ چاہتی ہے درجات جلدی سے دفع ہو۔ میں بھی یہی چاہتا تھا۔
’’جانا ہی ہے تو کھانا کھا کر جائیے۔‘‘
’’دو بجے کی بس سے جائیں گے ساتھ۔ منصوبہ اور شبنم بھی۔۔۔۔۔‘‘
بٹوارہ ہو گیا۔۔۔۔۔ دو پاپا کے ساتھ دو ممی کے ساتھ۔‘‘ میں مسکرایا۔
’’مینو اور رینو کا یہاں اڈمیشن ہو جائے گا۔ منصوبہ اور شبنم میٹرک کے بعد یہاں آ جائیں گی۔‘‘ درجات پھیکی سی مسکراہٹ کے ساتھ بولا۔
’’پھر تو آپ بھی یہاں آ جائیں گے۔‘‘ میں مسکرایا۔
’’میرا کیا ہے؟ آتے جاتے رہیں گے۔‘‘
درجات دو بجے کی بس سے دونوں لڑکیوں کے ساتھ لال گنج چلا گیا۔
ساجی کچھ اداس سی نظر آ رہی تھی۔ اس سے پہلے کہ میں کچھ پوچھتا، خود اس نے اپنی الجھن کا اظہار کیا۔
’’مینو اور رینو کا نام کس سکول میں لکھاؤ گے۔۔۔؟‘‘
میں نے ایک لمحہ لفظ ’’لکھاؤ گے‘‘ کی معنویت پر غور کیا۔۔۔۔ گو یا یہ ذمّہ داری میری تھی۔
’’ڈی اے وی اسکول میں داخلہ ہو جائے گا۔ اس کے پرنسپل سے میری جان پہچان ہے۔‘‘
’’پھر جلدی کرو۔ ان کی پڑھائی راستے پر آ جائے گی۔‘‘
’’ابھی چلوں؟‘‘
’’چلو!‘‘ساجی خوش ہو گئی۔ اس نے رینو اور مینو کو تیّار ہونے کے لیے کہا۔ مجھے خود پر غصّہ آ گیا۔ چلنے کی بات کیوں کی؟ جب کہ میرا ارادہ کہیں جانے کا قطعی نہیں تھا لیکن تیر کمان سے نکل چکا تھا۔ دونوں تیار ہو کر سامنے کھڑی تھیں۔ آ خر انہیں لے کر اسکول پہنچا۔ پرنسپل خندہ پیشانی سے ملا۔ اڈمیشن فارم مہیا کرایا اور پوچھا کہ وہاں کے اسکول کی ٹی سی ہے یا نہیں۔ ساجی ٹی سی لے کر آئی تھی پھر بھی ایک اڑچن تھی فوٹو کی ضرورت تھی۔ فوٹو کسی کا نہیں تھا۔ ہم وہاں سے اسٹوڈیو آئے۔ مینو اور رینو نے پاسپورٹ سائز تصویر کھنچوائی۔ گھر آنے لگے تو ساجی نے بتایا کہ راشن ختم ہو گیا ہے۔ دس دنوں کا راشن خریدا۔ اپنے لیے وہسکی بھی لی۔ گھر آیا تو ایک نا معلوم سا غصّہ میرے اندر دھوئیں کی طرح پھیل رہا تھا گویا سارے کنبہ کا بوجھ۔۔۔۔؟ مجھے زنجیر صاف نظر آ رہی تھی جس کا سرا ساجی کے ہاتھوں میں تھا۔
مجھے وہسکی کی طلب ہوئی۔ ساجی نے روکا۔ ’’شام کو پینا۔۔۔۔۔ ابھی چائے پی لو۔‘‘
ساجی چائے بنا کر لائی۔ ٹی وی آن کیا، بغل میں بیٹھ گئی اور پیار بھری نظروں سے میری طرف دیکھا۔
’’مجھے بہت اچھا لگتا ہے۔‘‘
نہیں پوچھا۔ ’’کیا‘‘؟
’’پوچھو گے نہیں کیا اچھا لگتا ہے؟‘‘
میں نے سوالیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھا۔
’’جب تم ساتھ ہوتے ہو۔۔۔۔۔‘‘
میں خاموش رہا۔
’’کیا بات ہے؟ تم خوش نہیں ہو؟‘‘
’’سوچتا ہوں درجات کا وہاں دل کیسے لگے گا؟‘‘
’’وہ کام میں مصروف رہیں گے اور پھر دونوں لڑکیاں ان کے ساتھ ہیں۔‘‘
’’تمہاری کمی تو محسوس ہو گی۔‘‘
’’میں تو تمہارے لیے آ گئی۔ اب تم خوش نہیں ہو تو میں کہاں جاؤں؟‘‘
کیا ساجی میرے لیے آئی تھی یا اپنی زندگی جینے کے لیے جو درجات کے ساتھ نہیں جی سکتی تھی۔
اس کے چہرے پر اداسی کا رنگ نمایاں ہو گیا۔ مجھے لگا وہ احساس جرم سے گذر رہی ہے کہ درجات اس کی وجہ سے نا مکمل سی زندگی جینے پر مجبور ہو گیا ہے۔ وہ یقیناً درجات کے بارے میں سوچ رہی تھی۔ کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد اچانک بول اٹھی۔
’’یہ کچھ دن آن جان کریں گے پھر ان کا آنا کم ہو جائے گا۔‘‘
گویا سارا منظر اُس کی نگاہوں میں تھا کہ کس طرح درجات آہستہ آہستہ اس سے بالکل الگ ہو جائے گا۔ مجھے درجات سے ایک طرح کی ہم دردی سی محسوس ہوئی۔
’’پھر سوچنے لگے؟‘‘
’’میں خوش ہوں۔‘‘ میں مسکرایا اور اپنی ایک ٹانگ اس کی جانگھ پر رکھ دی۔ وہ پاؤں دبانے لگی۔ پھر اُس نے جھک کر انگوٹھے کو دیکھا اور بولی۔ ’’پاؤں کے ناخن بہت بڑھ گئے ہیں۔‘‘
اس نے مینو کو آواز دی۔ ’’مینو۔۔۔ بیٹا میرا نیل کٹر لانا۔ انکل کے ناخن کاٹنے ہیں۔‘‘
رینو نیل کٹر لے کر آئی۔
’’پاؤں کے جب بھی ناخن کاٹے جاتے ہیں۔ میں دور دراز کا سفر کرتا ہوں۔‘‘
’’تب تو نہیں کاٹوں گی۔‘‘ وہ رک گئی۔
میں ہنسنے لگا۔ ’’ابھی سفر کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ زیادہ سے زیادہ لال گنج جاؤں گا۔‘‘
’’تم سے ایک درخواست ہے۔‘‘
’’کیا؟‘‘
’’جب لال گنج جاؤ تو یہاں سے ہوتے ہوئے جاؤ اور جب لوٹو تو یہاں سے ہو کر نصیب کے پاس جاؤ۔‘‘
’’اسے تمہارا فرمان سمجھوں؟‘‘
’’فرمان نہیں یہ میرا حق ہے۔ ایک بات اور۔۔۔۔!‘‘
’’وہ کیا؟‘‘
’’میرے تہوار میں تم میرے پاس رہو گے۔ نصیب کے تہوار میں تم نصیب کے پاس رہو گے۔‘‘
ساجی میری دسترس میں تھی یا میں اس کے قبضے میں تھا؟
میں لال گنج پہنچا تو وہاں ہو کا عالم تھا۔ در و دیوار سے ویرانی سی ٹپک رہی تھی۔ درجات سے ملاقات ہوئی۔ اس کا چہرہ اترا ہوا تھا۔ مجھے دیکھ کر مسکرانے کی کوشش کی
’’کیسے ہیں سب لوگ؟‘‘
’’آپ کو یاد کرتے ہیں۔‘‘
’’آپ کھانا یہاں کھایئے گا۔‘‘
’’میری فکر نہیں کیجیے۔ میں باہر کھا لوں گا۔‘‘
’’نہیں نہیں باہر کیوں کھایئے گا۔ منصوبہ ہے نہ۔ کھانا بنا لیتی ہے۔‘‘
’’آپ پٹنہ کب جائیں گے؟‘‘
منصوبہ کا امتحان ختم ہو گا تو سب لوگ وہیں رہیں گے۔‘‘
سب لوگ۔۔۔۔؟ سب لوگ میں تم نہیں آتے ہو درجات۔۔۔۔۔!
’’آپ جب تک یہاں ہیں منصوبہ کو پڑھا دیجیے۔‘‘ درجات کے لہجے میں خلوص تھا لیکن آنکھوں میں بے اطمینانی سی تھی۔ وہ چاہتا تھا منصوبہ اچھا رزلٹ کرے۔ ساجی نے بھی منصوبہ کو پڑھانے کے لیے کہا تھا لیکن اس میں ساجی کی اپنی غرض چھپی تھی کہ میرا رشتہ گھر سے مضبوط ہو۔ منصوبہ کی پڑھائی سے اُس کی دلچسپی نہیں تھی۔ ساجی اپنے مقصد کے لیے منصوبہ کا استعمال کر رہی تھی۔ پڑھائی کے بہانے گھر چھوڑ کر پٹنہ چلی گئی اور مقصد پورا ہو گیا تو منصوبہ کو واپس بھیج دیا۔
اور لڑکیاں۔۔۔۔۔؟ کیا میں ان کا باپ بن کر رہوں گا۔۔۔۔۔؟ مجھے کوفت سی ہوئی۔ کیا اب یہ میری ذمّہ داری ہے؟ یہ بات میں نے پہلے کیوں نہیں سوچی۔۔۔۔؟ میں لڑکیوں کی ذمّہ داری کیوں لوں؟ لیکن مجھے نہیں بھولنا چاہیئے کہ ساجی نے میری محبت کے لیے سب کچھ کیا۔۔۔۔؟ مجھے پانے کے لیے۔۔۔۔ اور میں۔۔۔۔؟
اب میرا معمول تھا کہ شام کو دفتر سے گھر آتا تو منصوبہ کو لے کر بیٹھتا لیکن پڑھاتے وقت کیفی اور سیفی کا چہرہ نگاہوں میں گھوم جاتا۔ سیفی میتھ میں کمزور ہے۔
ساجی کا فون روز ہی آتا تھا۔ میں کہاں ہوں؟ کیا کر رہا ہوں؟ پٹنہ کب آؤں گا۔۔۔۔۔؟ ساجی نے مجھ سے کبھی پوچھا نہیں کہ درجات کیسے ہیں۔ ہو سکتا ہے منصوبہ سے پوچھتی رہتی ہو۔ پٹنہ لوٹتے ہوئے فرمان یاد آیا۔۔۔ پہلے میرے پاس۔۔۔۔۔۔ میں نے فرمان کی نفی کی پہلے گھر آیا۔
نصیب فروزی کو لے کر دل گرفتہ تھی۔ فروزی کے میاں نے شراب کے نشے میں اس کی پٹائی کی تھی۔ چوٹ کے نشان چہرے پر موجود تھے۔ آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے پڑ گئے تھے۔ گالوں میں بھی سوجن تھی۔
’’یہ سب کیا ہے فروزی۔۔۔؟ کیسے ہوا۔۔۔۔؟‘‘
’’ہمیشہ مارتا ہے جی۔‘‘ نصیب دکھ بھرے لہجے میں بولی۔
’’اور نانی الگ تنگ کرتی ہے۔‘‘
’’وہ کیا کرتی ہے؟‘‘ میں جھنجھلا گیا۔
’’کہتی ہے جب دوسری شادی کی ہے تو میری پوتی کو طلاق دو۔‘‘
’’دے دے طلاق۔‘‘
’’کہاں سے دے گا پچیس ہزار؟‘‘
’’ایک اور شادی کر لے۔ اس سے پچیس ہزار لے کر اس کلموہی کو دے دے۔‘‘ نصیب بھڑک گئی۔ ’’شروع ہو گئے آپ۔۔۔۔۔۔ ہر وقت اوٹکّر لیس۔۔۔۔۔۔‘‘
میں ہنسنے لگا۔ نصیب سیریس تھی۔
’’ہنس رہے ہیں۔ ایک ابلا کا مذاق اڑا رہے ہیں۔‘‘
’’تم بتاؤ کیا راستہ ہے؟‘‘ میں بھی سنجیدہ ہو گیا۔
’’اس کے شوہر کو بلا کر ڈانٹ ڈپٹ کیجیے۔ سمجھایئے کہ مار پیٹ نہیں کرے۔‘‘
’’جب پیتا ہے تو نہیں سدھرے گا۔ سب سے اچھا ہے تھانے میں رپٹ لکھا دے کہ جہیز کے لیے مار پیٹ کرتا ہے۔ پولیس اس کو درست کر دے گی۔‘‘
’’نہیں۔۔۔۔۔ تھانہ پولیس کاہے کرتے ہیں؟‘‘ فروزی روہانسی ہو گئی۔
’’ہائے ری محبت۔۔۔۔۔ کھاتی رہو مار۔۔۔۔۔‘‘ میں چڑ گیا۔
’’اب نہیں مارے گا۔ معافی مانگ رہا ہے۔‘‘
’’معافی نہیں مانگ رہا ہے۔ مارنے کا لائسنس مانگ رہا ہے۔۔۔۔۔‘‘
’’سمجھے گی خود۔۔۔۔ بیوقوف!‘‘ نصیب بھی چڑ گئی۔
میں سیفی اور کیفی کو پڑھانے بیٹھ گیا۔ ساجی کے مس کال آتے رہے۔ میں نے جواب نہیں دیا۔ نہیں چاہتا تھا اس کو معلوم ہو کہ میں نصیب کے پاس ہوں۔ فون بند بھی نہیں کر سکتا تھا۔ ہیڈکوارٹر سے کبھی بھی کوئی ہدایت جاری ہو سکتی تھی۔
دو تین دنوں بعد لال گنج کے لیے گھر سے نکلا تو ساجی کے فلیٹ کا رخ کیا۔
اور میں ریگ زار میں سانسیں لے رہا تھا۔ فلیٹ میں عجیب سا سنّاٹا تھا۔ دونوں لڑکیاں اسکول جا چکی تھیں۔ ساجی کسی آسیب کی طرح کرسی پر بیٹھی ہوئی تھی۔ چہرہ سیاہ ہو رہا تھا۔ بال بکھرے ہوئے تھے۔ ہونٹ خشک۔۔۔۔۔۔ آنکھیں ویران۔۔۔۔ میں نے اسے اس عالم میں پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔
’’کیا بات ہے؟ جوگن بنی ہوئی ہو۔‘‘
ساجی چپ رہی۔
’’ناراض ہو؟‘‘
پھر بھی چپ۔۔۔۔۔
’’کچھ بولو گی؟‘‘ میں جھنجھلا گیا۔
ساجی نے میری طرف بے جان نگاہوں سے دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں کسی زخمی پرندے کا کرب تھا۔ پلکوں پر آنسوؤں کا ننھا سا۔۔۔۔۔۔
’’بس۔۔۔ رونا شروع۔۔۔۔۔۔ یہ نہیں پوچھو گی کہاں تھا کس حال میں تھا۔‘‘
’’مجھے کیا معلوم؟ نہ فون اٹھاتے ہو نہ فون کرتے ہو تو مجھے کیا معلوم؟‘‘
’’آفس کے کام سے باہر جانا پڑا۔ وہاں نٹ ورک پرابلم تھا۔ کسی سے بات نہیں ہو سکی۔‘‘
’’کسی طرح میسج تو کر دیتے۔ میں یہاں بھوت کی طرح اکیلی کس طرح دن گذارتی رہی تمہیں کیا پتا؟
’’درجات کو بلا لیتیں۔۔۔۔۔‘‘
’’طنز کرتے ہو۔‘‘ ساجی کے لہجے میں تڑپ تھی۔
’’طنز کی کیا بات ہے۔ وہ آخر پتی ہیں تمہارے۔‘‘
’’میں یہاں کسی کے بھروسے نہیں رہ رہی ہوں۔ یہ گھر تم نے لیا ہے۔ تمہارے لیے رہ رہی ہوں۔‘‘
’’او کے۔۔۔۔۔ میں ہی قصور وار ہوں لیکن ابھی تو بھوک لگی ہے۔ کچھ کھانے کو دو گی یا ہوٹل جاؤں؟‘‘
’’یہ ہوٹل ہی تو ہے۔‘‘
’’یہ ہوٹل ہے؟‘‘
’’اور نہیں تو کیا ہے۔ ایک دن کے لیے آتے ہو۔ پیسے دے کر چلے جاتے ہو۔‘‘
میں مسکرایا۔ ’’نصیب بھی اسی طرح غصّہ کرتی ہے۔‘‘
’’نصیب کے ایسا نصیب کہاں سے لاؤں گی۔ وہ بیوی ہے۔ میں داشتہ ہوں۔‘‘
’’کیا بکواس ہے؟‘‘
’’مرد عورت کو گھر دیتا ہے اور اپنا نام نہیں دیتا تو داشتہ ہوتی ہے۔‘‘
’’میں نے تمہیں سیندور لگایا اور تم خود کو داشتہ کہتی ہو۔‘‘
تم نے یہاں نیم پلیٹ تو نہیں لگایا اپنا۔۔۔۔۔؟ اپنا نام تو نہیں دیا۔۔۔۔؟‘‘
’’اور تم کیا سماج سے کہہ سکتی ہو کہ تم دروپدی ہو۔۔۔۔۔ تمہارا ایک پتی اور ہے؟‘‘
ساجی چپ ہو گئی۔ اس کی آنکھوں سے آنسو چھلک پڑے۔ سسکیاں لیتی ہوئی بولی۔
’’تم ایک فون بھی نہیں کر سکتے۔ دوسروں سے تمہاری خیریت معلوم ہوتی ہے۔‘‘
مجھے احساس جرم ہوا۔ کم سے کم میسیج تو بھیجنا چاہیے تھا۔
میں نے اسے لپٹا لیا۔ ’’اچھا۔۔۔ اچھا۔۔۔۔ اب روز فون کروں گا۔‘‘
’’مس کال کرتے کرتے تھک جاتی ہوں۔ تم جواب بھی نہیں دیتے۔ میسیج بھی نہیں کرتے۔‘‘
’’میری جان۔۔۔۔ میری بلبل۔۔۔۔۔ میری پیاری۔۔۔۔۔۔‘‘میں نے ساجی کے گالوں پر بوسے ثبت کیے۔ وہ میرے سینے لگ کر سسکیاں لینے لگی۔
میں نے اس کے آنسو پونچھے۔ ’’اب رونا دھونا بند کرو۔‘‘
’’تم نہیں جانتے تمہارے بغیر میری کیا حالت ہوتی ہے؟‘‘
’’اب تو آ گیا۔ کچھ کھانے کا انتظام کرو۔‘‘
ساجی کچن میں چلی گئی۔ میں ڈرائنگ روم میں ایک کتاب لے کر بیٹھ گیا لیکن دل نہیں لگا۔ کتاب الٹ پلٹ کر چھوڑ دی۔ ڈرائنگ روم سے اٹھ کر کمرے میں آیا۔ ایک نظر در و دیوار پر ڈالی۔۔۔۔ شاید میں نے اپنے لیے قید خانہ چن لیا ہے!
ساجی ناشتہ لے کر کمرے میں آئی۔
’’تم ساری کتابیں یہاں لا کر رکھتے تو میں بھی پڑھتی۔‘‘
’’یہ پڑھو۔۔۔۔۔ گیتا کی تشریح ہے۔‘‘
’’یہ تو انگریزی ہے۔‘‘
’’سیکھ لو۔‘‘
’’کہاں سے سیکھوں۔ تم پڑھاتے ہو نہیں۔‘‘
’’پڑھا دوں گا۔‘‘ میں مسکرایا۔
میں موڈ خراب کرنا نہیں چاہتا تھا۔ گھر سے سوچ کر چلا تھا کہ ساجی کے ساتھ خوشگوار لمحے گذاروں گا۔ بستر پر لیٹ کر پھر کتاب ہاتھ میں لے لی۔ ساجی میرے پہلو میں نیم دراز ہو گئی اور میرے بالوں میں انگلیاں پھیرنے لگی۔ میں نے الجھن سی محسوس کی۔ میں اس وقت پڑھنے کے موڈ میں تھا۔ مجھے یہ سوچ کر کوفت ہو رہی تھی کہ وہ مجھے کبھی تنہا نہیں چھوڑتی ہے۔ جب پڑھنے بیٹھتا ہوں تو باتوں میں لگا لیتی ہے۔
’’مجھے بھی سناؤ کیا پڑھ رہے ہو؟‘‘
’’گیتا کا سانکھ فلسفہ۔‘‘
’’وہ کیا ہے؟‘‘ اس نے میرے سینے پر سر رکھ دیا۔
’’اب اس طرح پڑھائی ہو گی؟‘‘ میں مسکرایا۔
’’پھر کس طرح ہو گی؟‘‘ وہ بھی مسکرائی۔
’’شرارت کرتی ہو۔‘‘ میں نے اسے بازوؤں میں بھینچا۔
’’ہو گئی پڑھائی۔‘‘ وہ ہنسنے لگی۔
’’تم یہی چاہتی ہو۔‘‘
’’بات کرو نہ۔۔۔۔۔۔‘‘
’’نہیں!‘‘
’’کیوں؟‘‘
’’اب اصلی بات ہو گی۔‘‘ میں نے اسے لپٹا لیا۔
’’ابھی نہیں۔‘‘
’’نہیں ابھی۔۔۔۔!‘‘
’’ابھی مینو اسکول سے آئے گی۔‘‘
’’تم پڑھنے نہیں دیتی ہو تو کیا کروں؟‘‘
’’باتیں کرو۔‘‘
’’کوئی کام کرو تو کچھ نہیں کروں گا۔‘‘
’’ٹھیک ہے میں کپڑے دھو لیتی ہوں۔‘‘
ساجی باتھ روم کی طرف گئی۔ میں نے راحت کی سانس لی۔ میں واقعی پڑھنے کے موڈ میں تھا لیکن پھر آ گئی۔ بستر کے قریب کرسی کھینچ کر بیٹھ گئی۔ میں نے ادھر توجہ نہیں دی۔ خاموشی سے پڑھتا رہا مجھے لگا وہ ادھر ہی تک رہی ہے۔ میں نے کنکھیوں سے دیکھا۔ اس نے کہنی کو کرسی کے ہتّھے پر ٹکا لیا تھا اور چہرہ ہتھیلی پر جمائے مجھے مسلسل نہار رہی تھی۔ مجھے الجھن سی محسوس ہوئی۔۔۔۔۔ اس طرح کیا دیکھ رہی ہے۔۔۔۔؟
اب پڑھنا مشکل تھا۔ میں سہج محسوس نہیں کر رہا تھا۔ ساجی کی نظریں مجھ میں کچھ ڈھونڈ رہی تھیں۔۔۔۔۔ آخر کیا ہے مجھ میں جو اس طرح نہارتی رہتی ہے؟ وہ مجھ کو مجھ سے ہی چرا رہی ہے۔ کچھ تو ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں لیکن وہ واقف ہے۔ وہ میرے وجود کے اس جوہر سے آشنا ہے جس تک میری رسائی نہیں ہے۔ میرے وجود سے لہریں اٹھ رہی ہیں اور اس کے دل کے نہاں خانوں کو منّور کر رہی ہیں۔ ایک مترنّم فضا سے وہ دو چار ہے۔ ایک موسیقی مجھ سے اس تک پہنچ رہی ہے جسے میں سن نہیں سکتا۔۔۔۔۔۔ میرا وجود ایک شے ہے جس سے وہ سرور کسب کرتی ہے۔۔۔۔ میں ایک شئے ہوں۔۔۔۔ استعمال ہونے کی ایک چیز۔۔۔۔ ایک آبجیکٹ۔ ہزاروں میں ایک میرا انتخاب ہوا ہے۔ میرا انتخاب محض اتفاق ہے۔ یہ عشق نہیں ہے۔ اگر میں مکان تلاش کرتا ہوا اس کے گھر نہیں گیا ہوتا، اس سے نہیں ملا ہوتا تو ایک شئے میں تبدیل نہیں ہوتا۔ وہ مجھے جو بھی سمجھتی ہو اس سے ہٹ کر بھی میں کچھ ہوں اور مجھے خود نہیں معلوم کہ کیا ہوں۔۔۔۔ میرا نہیں جاننا ایک سچ ہے۔۔۔۔ اس کا جاننا ایک جھوٹ ہے۔۔۔۔!
نہیں پوچھا اس طرح کیا دیکھ رہی ہو۔۔۔۔؟ کتاب بند کر دی۔ اٹھ کر بیٹھ گیا۔ ایک نظر اس کی طرف دیکھا۔ اس کا چہرہ پر سکون تھا۔ ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ تھی۔ آنکھوں میں ہلکے گلابی ڈورے سے تھے۔۔۔؟ میں اٹھ کر بالکنی میں آیا۔ ایک سگریٹ سلگائی اور لمبے لمبے کش لینے لگا۔ ساجی اٹھ کر کچن میں چلی گئی۔ مینو کے اسکول سے آنے کا وقت ہو گیا تھا۔
اسکول سے آتے ہی مینو نے یونیفارم کی فرمائش کی۔ یونیفارم پہلے نہیں آیا تھا۔۔۔۔۔ مجھے کوفت ہوئی۔۔۔۔۔ میں ایک باپ ہوں! مجھے بازار جانا پڑے گا لیکن یہ جان کر راحت ہوئی کہ یونیفارم اسکول سے ہی ملے گا۔۔۔۔۔ اچھا ہی تھا ورنہ بازار میں نصیب مل سکتی تھی اور قیامت گذر سکتی تھی۔
ساجی کھانا بنانے میں لگ گئی۔ میں پھر کتاب لے کر بیٹھ گیا لیکن دل نہیں لگا تو ٹی وی آن کیا۔ جلد ہی اکتاہٹ محسوس ہونے لگی۔ کچھ دیر یوں ہی ہاتھ میں ریموٹ لیے صوفے پر بیٹھا رہا۔ دفعتاً پھیکے پن کے گہرے احساس سے بھر اُٹھا۔۔۔۔۔۔۔
عجیب بات ہے۔۔۔۔! میں خوش کیوں نہیں ہوں۔۔۔۔۔؟؟؟ کیا یہ گھر میرا نہیں ہے؟ میری داشتہ کا گھر ہے۔۔۔۔؟ ساجی میری داشتہ ہے یا میں ساجی کا غلام ہوں۔ مجھے پہلے یہاں حاضری دینی ہے۔ شاید میں ہمیشہ کے لیے ایک بندھن میں جکڑا جا چکا ہوں۔ میں نصیب کو اِگنور کر رہا ہوں۔۔۔۔ لیکن کب تک۔۔۔؟
دن بھر میں اسی کیفیت میں مبتلا رہا۔ کھانے کے دوران بھی میں خاموش تھا۔ ساجی بھی خاموش رہی لیکن مجھے حیرت بھی ہو رہی تھی کہ حسب معمول اس نے پوچھا نہیں کہ اداس کیوں ہوں؟ رات میں بھی میرے رویّے میں تبدیلی نہیں ہوئی اور ساجی بھی میرے پہلو میں خاموش پڑی رہی۔
مجھے اس کی خاموشی اچھی لگی۔ گاؤں کی وہ رات یاد آ گئی جب ہم پہاڑی کے چٹّان پر ایک دوسرے کے پہلو میں ضم ایک الوہی سکوت کا حصّہ تھے۔ رات تھی۔۔۔۔۔ خامشی تھی۔۔۔۔۔ اور بے پایاں مسرّت کی بارش تھی۔۔۔۔۔ وہ الوہی مسرّت کیا دو بارہ حاصل نہیں ہو سکتی؟ میں نے محسوس کیا اس عالم سے گذرنے کی شدید خواہش میرے دل میں اس دن سے جاگزیں ہے۔ میں نے آہستہ سے اس کی پلکیں چومیں۔ اس نے اپنا سر میرے سینے پر رکھ دیا۔۔۔۔ میں دیر تک اس کو اپنی بانہوں میں لیے پڑا رہا لیکن وہ کیفیت پیدا نہیں ہو رہی تھی۔ یہاں میں ایک شعوری کوشش میں مبتلا تھا اور وہاں یہ کیفیت خودساختہ تھی۔ ساجی نے سر اٹھا کر میری آنکھوں میں ایک پل کے لیے جھانکا۔۔۔۔ اس کی آنکھوں میں شہوت اپنے رنگ گھول رہی تھی۔ چھاتیوں کو میرے سینے پر دبایا اور ہونٹ میرے ہونٹوں پر ثبت کر دیے۔۔۔۔۔ مجھے کوفت کا احساس ہوا۔۔۔۔۔ میں نہیں چاہتا تھا ہر وقت ایک بد روح کی طرح ساجی کے جسم میں سما جاؤں۔ میں آتشیں لمحوں کے ہر دام سے بچنا چاہ رہا تھا۔ میری سانسیں میرے قابو میں تھیں لیکن اس کی سانسوں کی مہک مجھے جنگلوں کی طرف بلا رہی تھی۔ اس کی چھاتیوں کا لمس آہستہ آہستہ نشہ آور ہو رہا تھا اور میں اس الوہی مسرّت کے لیے ترس رہا تھا لیکن۔ کمرے میں گاؤں کی پہاڑی والی فضا نہیں تھی۔۔۔۔۔ چاندنی نہیں تھی۔۔۔۔۔ ٹھنڈی ہواؤں کے جھونکے نہیں تھے۔ رازوں سے بھرا آسمان نہیں تھا۔۔۔۔ لیکن اس پر آتشیں لمحوں کا غلبہ تھا۔ وہ مجھے کاسنی رنگ سے بھر دینا چاہتی تھی۔ اس نے اپنے جسم سے مجھے پوری طرح ڈھک لیا۔۔۔ وہ اب میرے اوپر تھی۔۔۔۔۔ اب میرا استعمال ہو گا۔۔۔۔ وہ مجھ سے بوند بوند لذّت کشید کرتی ہے۔۔۔۔ وہ مجھ پر لٹاتی نہیں ہے۔۔۔۔ وہ مجھ سے حاصل کرتی ہے۔۔۔۔ اپنا جام بھرتی ہے۔۔۔۔ میں اس کے خالی پن کو بھرتا ہوں۔۔۔۔ میری صراحی خالی ہو سکتی ہے۔۔۔۔ اس کا جام کبھی بھر نہیں سکتا۔
کیا میں دلدل میں اتر رہا ہوں۔۔۔۔۔؟
میں نے ساجی کو خود سے الگ کیا اور اٹھ کر بیٹھ گیا۔ اس نے میری طرف ادھ کھلی آنکھوں سے دیکھا۔
’’کیا بات ہے؟‘‘
’’کچھ نہیں!‘‘
ایک سگریٹ سلگائی۔
’’اس وقت سگریٹ۔۔۔۔؟‘‘
’’دل چاہا۔۔۔۔۔‘‘
’’وہسکی پیو گے؟‘‘
’’نہیں۔‘‘
’’تمہیں کوئی پریشانی ہے؟‘‘
’’نہیں۔‘‘
’’ایک بات کہوں۔‘‘
’’کہو۔‘‘
’’میرے پاس آؤ تو اپنا دکھ درد سب بھول جاؤ۔‘‘
میں چپ رہا۔
’’میں ہوں تمہارے لیے۔۔۔۔ مجھ سے شئر کرو۔‘‘
’’ایسا کچھ نہیں ہے۔۔۔۔ میں ٹھیک ہوں۔‘‘
ساجی چپ ہو گئی۔ میں بھی خاموش سگریٹ کے کش لگاتا رہا۔ میں نے محسوس کیا کہ وہ کڑھ رہی ہے۔
’’ایک بات کہوں ساجی؟‘‘
’’کیا‘‘؟
’’تم میرا اتنا کیئر مت کرو۔ مجھے اکتاہٹ ہوتی ہے۔‘‘
’’عجیب بات ہے۔ تمہیں پیار سے اکتاہٹ ہوتی ہے۔‘‘
’’یہ پیار نہیں ہے۔‘‘
’’پھر کیا ہے؟‘‘
یہ قابض رہنے کا جذبہ ہے۔‘‘
’’تم بدل گئے ہو۔‘‘
’’تم ہر وقت چپکی رہتی ہو۔۔۔۔ میری آزادی ختم ہو جاتی ہے۔‘‘
’’تمہارے لیے سب کچھ چھوڑا اور تم مجھ سے اکتا گئے۔‘‘ساجی کا لہجہ روہانسی ہو گیا۔
’’اب رو کیوں رہی ہو؟‘‘ مجھے غصّہ آ گیا۔
’’تم مجھے رونے کی بھی آزادی نہیں دیتے۔‘‘
وہ اٹھ کر چلی گئی۔ میں نے دوسری سگریٹ سلگائی۔ سگریٹ ختم ہونے تک ساجی کمرے میں لوٹ کر نہیں آئی تو مجھ میں غصّے کی لہر سی اٹھنے لگی۔ اس کے کمرے میں گیا۔ وہ تکیے میں منھ چھپائے سسکیاں بھر رہی تھی۔
’’اب یہاں کیا کر رہی ہو؟‘‘ میرا لہجہ تلخ تھا۔
اس نے کوئی جواب نہیں دیا تو میں نے ہاتھ پکڑ کر کھینچا۔
’’وہسکی لے کر آؤ۔‘‘
وہ اٹھ کر بیٹھ گئی۔ پلّو سے آنسو پونچھے میں اپنے کمرے میں آ گیا۔ کچھ دیر بعد وہسکی کی بوتل اور کٹورے میں اُبالے ہوئے انڈے لے کر آئی۔
’’پلیٹ میں لے کر نہیں آ سکتی تھی۔‘‘
’’نہیں۔‘‘
’’کٹوری میں ابالے ہوئے انڈے مجھے پستان کی طرح لگتے ہیں۔‘‘
’’نہیں لاؤں گی پلیٹ میں۔‘‘
’’کیوں؟‘‘
’’کٹوری میں ہی لاؤں گی۔‘‘
میں مسکرایا۔
وہ گلاس میں وہسکی انڈیلنے لگی۔
’’اپنے لیے بھی بناؤ۔‘‘
’’نہیں بناؤں گی۔‘‘
’’کیوں نہیں بناؤ گی؟‘‘
’’مجھے ابکائی آتی ہے۔‘‘
’’پینا پڑے گا آج۔‘‘
’’کیوں؟ مجھے اتنی بھی آزادی نہیں کہ میں اس چیز سے پرہیز کروں جو مجھے نقصان پہنچاتی ہے؟‘‘
میں ہنسنے لگا۔ اس نے ناگوار نظروں سے مجھے دیکھا۔
’’مجھے الزام دیتے ہو کہ آزادی چھین لی۔‘‘
’’بالکل!‘‘
’’آزادی تو تم نے میری چھین لی۔‘‘
میں نے وہسکی کا ایک لمبا گھونٹ بھرا اور اسے بانہوں میں کھینچ لیا۔
’’آزادی چاہتی ہو؟‘‘ میں اسے بازوؤں میں زور سے بھینچتے ہوئے بولا۔
’’دبا دو گلا۔۔۔۔ ہمیشہ کے لیے آزاد ہو جاؤں گی۔‘‘
میں اسے بے لباس کرنے لگا۔
’’روشنی تو گل کر دو۔‘‘
نہیں۔۔۔۔ سب کچھ روشنی میں۔‘‘
’’کمار۔۔۔ پلیز۔۔۔۔۔۔‘‘ اس کی آواز مخملی ہو گئی۔ آنکھوں میں کاسنی رنگ لہرانے لگا۔
’’تم گل کرو۔‘‘
وہ اٹھی۔ اس کی نظر انڈے کی کٹوری پر پڑی۔
’’یہ کون کھائے گا؟‘‘
’’تم۔۔۔!‘‘
’’چلو۔۔۔ کھاؤ۔۔۔۔۔۔‘‘ وہ اپنے ہاتھ سے کھلانے لگی۔
’’تم بھی کھاؤ۔‘‘ میں نے انڈے کا نصف حصّہ اس کے منھ میں ڈال دیا اور گلاس میں بچی ہوئی شراب ایک ہی سانس میں پی گیا۔
اس نے روشنی گل کی۔۔۔۔۔
’’بہت پیار کرتے ہو۔‘‘ اور اس نے اپنے ہونٹ میری گردن پر ثبت کر دیے۔ میرا نشہ بڑھ گیا۔۔۔۔۔۔
دوسرے دن لال گنج کے لیے روانہ ہو رہا تھا تو نصیب کا فون آیا۔‘‘
’’یاد ہے کچھ۔۔۔۔۔؟‘‘
’’کیا۔۔۔؟‘‘
’’آج کا دن۔۔۔۔؟‘‘
’’کیا ہوا تھا آج کے دن؟‘‘
’’آپ تو بے مروّت ہیں۔‘‘
’’کچھ بتاؤ نا؟‘‘
’’اندرا گاندھی مری تھی۔‘‘ نصیب نے فون بند کر دیا۔ اس کی آواز غصّے سے بھری تھی۔ مجھے یاد آ گیا آج شادی کی سالگرہ تھی۔۔۔۔۔ اکتیس اکتوبر۔۔۔۔ نصیب کے لیے یہ دن بہت خاص ہوتا تھا۔۔۔۔۔ صبح صبح شکرانے کی نماز پڑھتی۔ میری پسند کی ڈش بناتی۔ ہم آوٹنگ کے لیے نکلتے اور رات کا کھانا ریستوراں میں کھاتے۔ اس دن گھر بھر کے لیے نئے کپڑے آتے تھے۔ فروزی کو بھی نئے کپڑے ملتے۔ نصیب کو اس بات کا افسوس تھا کہ اس کی شادی کا دن اندرا گاندھی کا مرن دن ہو گیا۔
میں نے لال گنج جانے کا ارادہ ملتوی کیا۔ میں اب گھر جانا چاہتا تھا۔ ساجی نے سنا تو بہ ظاہر خوش ہوئی۔
’’گفٹ لے کر جاؤ۔‘‘
’’ساتھ ہی شاپنگ کریں گے۔‘‘
’’کیا لو گے؟‘‘
’’کچھ ملبوسات۔۔۔۔ کچھ عطریات۔۔۔!‘‘
’’وہ تو خود ایک خوشبو ہے۔‘‘ ساجی بہت ادا سے مسکرائی۔ پھر اچانک میری گود میں بیٹھ گئی۔ بازو گردن میں حمائل کر دیے۔ لب و رخسار پر بوسے ثبت کرنے لگی۔۔۔۔۔۔ گردن کے کنارے کنارے ہونٹوں سے برش کیا، کان کی لوؤں کو ہونٹوں میں دبایا اور میری عجیب کیفیت ہو گئی۔ میں نے اس کو خود سے الگ کرنا چاہا کہ اس وقت میرا نصیب کے پاس ہونا ضروری تھا لیکن وہ مجھ پر حاوی تھی۔۔۔۔۔ شرٹ کے اندر ہاتھ لے جا کر میری چھاتیاں سہلانے لگی۔ مجھ پر سرور سا چھانے لگا۔
’’کمار۔۔۔۔!‘‘ اس نے اپنے ادھ کھلے ہونٹ میری چھاتیوں پر رکھ دیے۔۔۔۔ مجھے سہرن سی ہوئی۔ میرا ہاتھ بے اختیار اس کی پشت پر چلا گیا۔
اور پھر سرگوشیوں میں بولی۔ ’’میری جانب سے بھی اس کو پیار کر لینا۔‘‘
جاؤ۔۔۔۔۔ تمہیں نہیں روکتی۔۔۔۔۔ جاؤ۔۔۔۔۔۔‘‘
سرگوشیوں نے مجھے نشے میں لا دیا۔ ایک پل کے لیے اس کی آنکھوں میں جھانکا۔ ان میں گلابی ڈورے نہیں تھے۔ وہ جذباتی نہیں ہو رہی تھی۔ مجھے لگا اس کی یہ حرکت دانستہ ہے۔
اسے زور سے اپنے بازوؤں میں دبایا۔ وہ کسمسائی۔
’’نہیں کمار جاؤ۔۔۔۔۔ وہ تمہاری راہ دیکھ رہی ہے۔‘‘وہ مجھے چھوڑ کر اٹھ گئی۔
’’ادھر سنو۔۔۔۔۔‘‘ میں نے اس کا ہاتھ پکڑ کر کھینچنا چاہا۔
’’تم جاؤ۔۔۔۔ تمہارا جانا ضروری ہے۔‘‘
’’آؤ نا۔۔۔۔۔۔‘‘ میں بہ ضد تھا لیکن وہ دور کھڑی رہی۔
موبائل بج اٹھا۔ نصیب تھی۔ میں نے فوراً کہا۔
’’سب یاد ہے۔ راستے میں ہوں۔ آدھ گھنٹے میں پہنچ جاؤں گا۔‘‘
میں نے بیگ اٹھایا۔ ساجی دروازے تک چھوڑنے آئی۔ دروازے کے قریب اس نے ایک بار پھر میری گردن میں اپنی بانہیں حمائل کیں، میرا بوسہ لیا اور خمار آلود لہجے میں بولی۔
’’جلدی آنا کمار۔ تمہارے بغیر رات کٹتی نہیں ہے۔‘‘
گھر پہنچا تو نصیب خوش ہو گئی۔
لیکن میں چیڑھ کے درختوں کے درمیان سانسیں لے رہا تھا۔۔۔۔۔ قمیص کے اندر رینگتے ہوئے ساجی کے ہاتھ۔۔۔۔۔
نصیب نے شکایت کی کہ میں شادی کی تاریخ بھول جاتا ہوں۔ میں خاموش رہا۔ حسب معمول ہم بازار گئے۔ ایک دوسرے کی پسند کے کپڑے خریدے۔ دن کا کھانا گھر میں کھایا۔ شام کو نئے کپڑے میں گھومنے نکلے۔ مہاراجہ ریستوراں میں ڈنر لیا اور دھند میرے اندر پھیلتی رہی۔ نصیب چہک رہی تھی اور ساجی کی سرگوشیاں مجھے پکار رہی تھیں۔۔۔۔۔۔
آخر اس نے مجھے ٹوک دیا۔ ’’کیا بات ہے؟ کچھ پریشان نظر آ رہے ہیں؟‘‘
’’نہیں۔۔۔۔ کچھ نہیں۔‘‘ میں نے پھیکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا اور خوش نظر آنے کی کوشش کی۔
اعتراف کروں گا کہ میرا دماغ تعطّل کا شکار تھا۔ میں کسی چیز میں دلچسپی نہیں لے رہا تھا۔ نصیب کی باتوں کا ہوں ہاں میں جواب دیتا۔
اور رات آئی تو زرد پتّوں کی آہٹ لیے آئی۔۔۔۔۔ نصیب پر شوق تھی اور میں دھند گزیدہ۔۔۔۔ ساجی میرے جسم میں چھپ کر چلی آئی تھی۔۔۔۔۔۔ پرواز کی کوئی چاہ نہیں۔۔۔۔ مہندی کی مہک بے اثر۔۔۔۔ آج شادی کی سالگرہ تھی۔ آج کا دن اس کی زندگی کا سب سے اہم دن تھا۔ آج کے روز وہ مجھ سے ہمیشہ کے لیے بندھی تھی۔۔۔۔۔ اور میرے جذبات سرد ہو رہے تھے۔ گر چہ اس کو بازوؤں میں لیا بھی لیکن بے سود۔۔۔۔ کہیں پتّوں میں ہلکی سی سرسراہٹ بھی نہیں تھی۔۔۔۔ کہیں کوئی چنگاری نہیں۔۔۔۔۔۔ کوئی پر کٹا پرندہ جیسے نچلی شاخ پر ساکت تھا۔۔۔ مجھے لگا ساجی دور کھڑی ہنس رہی ہے۔۔۔۔ یہ ذلّت کی انتہا تھی۔۔۔۔۔
میری کوئی شعوری کوشش کام نہیں آئی۔۔۔۔ جبلّت شعور میں نہیں بستی۔۔۔ جبلت خود کار ہوتی ہے۔ نصیب کی سانسیں اب میری سانسوں کو نہیں مہکا پا رہی تھیں۔۔۔۔ مجھے جنگلی گھاس کی مہک چاہیے۔۔۔۔ اگر نصیب بھی اسی انداز میں پہل کرے۔۔۔۔ میرے کان کی لوؤں کو اپنے ہونٹوں میں۔۔۔۔۔ لیکن وہ ایسا نہیں کر سکتی۔ یہ اس کا مزاج نہیں ہے۔ اس نے کبھی پہل نہیں کی ہے لیکن ساجی نے بھی کبھی پہل نہیں کی ہے۔۔۔۔۔ پھر اس دن کیوں۔۔۔۔؟ شاید اُس نے ایسا دانستہ کیا تھا کہ میں الجھ جاؤں۔۔۔۔۔ پانی میں بہت گہرا اُتر جاؤں کہ نصیب تک پہنچ نہ سکوں۔ مجھے یاد آئیں گے یہ لمحات۔۔۔۔ یہ لمس۔۔۔۔ لذّت کی یہ گراں باری۔۔۔۔۔ کس شدت سے اس نے میرے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ ثبت کیے تھے۔۔۔۔۔۔ میری چھاتیوں کو مسلسل سہلاتے ہوئے اس کے ہاتھ۔۔۔۔ ساجی نے ایسا پہلے نہیں کیا۔۔۔۔ اس نے دماغ سے کام لیا جس طرح میں لیتا ہوں۔ یہ اس کی شعوری کوشش تھی۔ اس نے میرے پر نوچ لیے اور نصیب کے آنگن میں پھینک دیا۔۔۔۔۔۔۔
میں اٹھ کر بیٹھ گیا۔
نصیب بھی اٹھ کر بیٹھ گئی۔
’’کیا بات ہے؟ آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے۔‘‘
’’میں ٹھیک ہوں۔‘‘ میرا لہجہ مرا مرا سا تھا۔
نصیب نے روشنی کی۔ ’’آپ مجھے بیمار لگ رہے ہیں۔ بتایئے کیا بات ہے؟‘‘
’’پیاس لگی ہے۔ پانی پلاؤ۔‘‘
نصیب پانی لے کر آئی۔ مجھے غور سے دیکھا۔
’’آپ کا چہرہ پیلا پڑ گیا ہے۔‘‘
میں نے گلاس ایک ہی سانس میں خالی کر دیا۔
’’ڈاکٹر کو دکھائیے۔ آپ کا چک اَپ ضروری ہے۔‘‘
’’مجھے کچھ نہیں ہوا ہے۔‘‘
’’آئینے میں اپنی صورت دیکھیے۔۔۔۔ یہ آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے۔۔۔۔ پیشانی پر سیاہ دھبّے۔۔۔۔ یہ سب کیا ہے۔۔۔۔؟‘‘
’’روشنی بجھاؤ۔‘‘ میں بستر پر دراز ہو گیا۔ نصیب نے روشنی گل کی۔
’’مجھے کمزوری لگ رہی ہے نصیب۔۔۔۔۔ میں سونا چاہتا ہوں۔‘‘
’’کل آپ کو ڈاکٹر کے پاس لے چلوں گی۔‘‘ نصیب نے میرا سر اَپنے سینے پر کھینچ لیا اور میرے بال سہلانے لگی۔ میں نے راحت کی سانس لی۔ نصیب کے پیار بھرے لمس کی۔ مجھے ضرورت تھی۔
مجھے کب نیند آ گئی یاد نہیں ہے لیکن نصیب شاید دیر تک جاگ رہی تھی۔
صبح باتھ روم میں نظر آئینے پر پڑی۔
میری شکل سؤر کی۔۔۔۔۔۔
نصیب ڈاکٹر کے یہاں چلنے پر مصر تھی۔ سؤر نے یقین دلایا کہ کچھ نہیں ہوا، صرف آفس کا ٹینشن ہے جس سے طبیعت کسی طرف مائل نہیں ہوتی۔
دوسرے دن بھی میری طبیعت مضمحل رہی۔ رات کا کھانا کھا کر لال گنج کے لیے روانہ ہوا اور راستے میں ساجی کے فلیٹ میں اتر گیا۔
وہ اسی حال میں ملی جیسی پچھلی بار تھی۔۔۔۔۔ لباس بے ترتیب۔۔۔ بال کھلے ہوئے۔۔۔۔ بلوز کا اوپری بٹن۔۔۔۔۔۔۔
میں نے نہیں پوچھا جوگن کیوں بنی ہوئی ہو۔۔۔۔؟ دروازہ بند کیا۔ ساجی کو گود میں اٹھا کر بستر پر لایا۔ وہ مجھ سے چپک گئی۔
’’جلمی کمار۔۔۔؟‘‘ اس کی جان لیوا سرگوشیاں۔۔۔۔۔
’’جلمی تو تم ہو۔ چین سے جینے نہیں دیتی ہو۔‘‘
’’واہ جی واہ۔‘‘
’’وہسکی ہے۔۔۔۔؟‘‘
’’نہیں ہے۔‘‘
’’پھر کیا ہے؟‘‘
’’لے کر کیوں نہیں آئے؟‘‘
’’تم کیوں نہیں لا کر رکھتی ہو؟‘‘
’’واہ جی واہ۔ اب یہ کام بھی کروں۔‘‘
’’کیوں نہیں کر سکتی ہو۔‘‘
’’ٹھیک ہے۔ یہ کام بھی کروں گی۔‘‘
’’ابھی کہاں سے آئے گی؟‘‘
’’اسٹیشن کے پاس دکان کھلی ہو گی۔‘‘
’’چلو لانے!‘‘
’’چلو۔۔۔۔!‘‘
ساجی چلنے کے لیے تیار ہو گئی۔ اس نے کپڑے تبدیل کیے۔ ہلکا سا مک اَپ بھی کیا۔ لپ اسٹک کے ساتھ ماتھے پر بندی بھی سجائی۔
’’اس وقت میک اپ کی کیا ضرورت تھی؟‘‘
وہ مسکرائی۔ ’’اپنے کمار کے ساتھ نکل رہی ہوں تو بن ٹھن کر نکلوں گی۔‘‘
اسٹیشن کے لیے رکشا پکڑا۔ شالی گرام اسٹور کھلا ہوا تھا۔ ساجی بیٹھی رہی۔ میں نے اتر کر وہسکی خریدی۔ رکشے پر بیٹھنے لگا تو اس نے ایک آدمی کی طرف اشارہ کیا۔
’’اس آدمی کو دیکھ رہے ہو؟‘‘
’’کیا ہوا؟‘‘
’’مجھے گھور گھور کر دیکھ رہا ہے۔‘‘
’’کون۔۔۔۔؟‘‘
’’دیکھو ابھی دیکھ رہا ہے۔ تمہارا بھی ڈر نہیں ہے اس کو۔‘‘
میں مسکرایا۔ ’’اب رات میں لپ اسٹک لگا کر نکلو گی تو لوگ دیکھیں گے ہی۔‘‘
’’کیسے ندیدے کی طرح دیکھ رہا ہے۔ دو چار گھونسے میں تو اس کی طبیعت ہری ہو جائے گی۔‘‘
اسٹیشن پر جھگڑنا ٹھیک نہیں ہے۔‘‘ میں نے رکشے والے کو واپس چلنے کے لیے کہا۔
مجھے یاد آیا میلے میں بھی اس نے ایک لڑکے کو دکھا کر یہی بات کہی تھی بلکہ اس سے لڑنے کے لیے اُکسایا بھی تھا اور آج بھی اکسا رہی تھی۔ شاید وہ چاہتی ہے کہ اس کے لیے بیچ بازار میں لوگوں سے جھگڑا مول لوں۔
گھر آتے آتے بارہ بج گئے۔
لیکن وہ لمحہ نکل چکا تھا۔ اب وہ بات محسوس نہیں ہو رہی تھی۔ مجھے لگا شاید ایک دو پیگ پینے کے بعد وہ کیفیت طاری ہو۔
میں نے چار پیگ لیے۔۔۔۔ کچھ بوندیں اس کے جسم پر بھی ٹپکائیں۔۔۔۔۔ مجھ پر غنودگی طاری ہونے لگی۔
یاد نہیں ہے۔۔۔۔ کب نیند کی آغوش میں چلا گیا۔۔۔۔۔۔
وہ بیاباں تھا جس سے ہو کر گذر رہا تھا۔ بہت تپش تھی۔ سورج سوا نیزے پر تھا۔ تپتی زمین پر چلتے ہوئے پاؤں میں چھالے پڑ رہے تھے۔
’’پانی۔۔۔۔‘‘ کہیں سے آواز آئی۔ مہدی کی ایک باڑھ کے پیچھے ایک عورت دلہن کے لباس میں نیم دراز تھی۔ بال چہرے پر بکھرے ہوئے تھے۔ وہ بار بار اپنے خشک ہونٹوں پر زبان پھیر رہی تھی۔ مجھے لگا میں اُسے پہچانتا ہوں۔۔۔۔۔ مجھے دیکھ کر پانی کی فریاد کی۔ کندھے سے جھولتا مشکیزہ اس کی طرف بڑھایا۔
اس نے مشکیزہ ہونٹوں سے لگایا لیکن یہ خالی تھا۔۔۔۔۔ جھلّا کر مشکیزہ میرے منھ پر دے مارا۔۔۔۔۔۔
’’تمہارا مشکیزہ خالی ہے۔ دھکّار ہے تم پر۔‘‘ وہ زور سے چلّائی۔ میری نیند ٹوٹ گئی۔
میں اٹھ کر بیٹھ گیا۔ رات کا پچھلا پہر تھا ساجی بے خبر سوئی تھی۔ ادھ کھلی چھاتیوں سے بریسیر لپٹا ہوا تھا۔ بریسیر سے کبھی مکمّل بے نیاز نہیں ہوتی۔ یہ بھی اس کا کامپلکس ہے۔ بچّیاں اگر اٹھ جائیں تو فوراً کپڑے درست کرنے میں دشواری ہوتی ہے۔ میں نے کمرے میں روشنی کی۔ کرسی پر اس کی ساری اور بلوز ایک ڈھیر کی صورت پڑے ہوئے تھے۔ ساری کا حصّہ کرسی کے بازو پر جھول رہا تھا۔ کھونٹی پر میری پینٹ ٹنگی ہوئی تھی۔۔۔۔ کھونٹی پر ٹنگ جانا جیسے میرا مقدّر ہے۔۔۔۔ اس کے جسم سے ٹنگا ہوا میں۔۔۔۔۔ کیا نصیب مجھے اس کھونٹی سے کبھی اتار سکے گی۔۔۔۔؟ میں یہاں زندگی بھر جھولتا رہوں گا اور نصیب زندگی بھر تشنہ لب رہے گی۔
ساجی روشنی گل کرنے پر ہمیشہ اصرار کرتی ہے مگر بے سود۔۔۔ کھڑکی سے چھن کر آنے والی روشنی میں اس کے خط و خال نمایاں ہو جاتے ہیں۔ ڈھلتی ہوئی چھاتیاں اور ان کا ملگجا رنگ۔۔۔۔ میں پیٹی کوٹ اتار پھینکنے پر زور دیتا ہوں۔ اس کی نہیں نہیں کی تکرار۔۔۔۔ یہ روز کا معمول ہے۔
میں اسے غور سے دیکھ رہا تھا۔ کیسی لگتی ہے سوئی ہوئی عورت۔۔۔۔؟ پیٹ کھلا ہوا۔۔۔۔۔ ناف کے حلقے میں لکیریں سی۔۔۔۔ زچگی کے نشان۔۔۔ پانچ بچّے جنے۔۔۔۔ پھر بھی کمر کے گرد گوشت کی تہہ مجھ میں ہیجان پیدا کرتی ہے۔
کیا میں اس عورت سے محبت کرتا ہوں۔۔۔۔۔؟ یا ہمارے درمیان محض سیکس ہے۔۔۔۔؟ سیکس نے مرد کو بھی ادھورا رکھا ہے اور عورت کو بھی۔۔۔۔ ہم دونوں ادھورے ہیں اور ہمیں ملانے والی کڑی ہے سیکس۔۔۔ شاید ہم کسی اور طرح ایک نہیں ہو سکتے۔۔۔۔۔؟ ہماری روح میں سنّاٹا ہے۔۔۔۔۔ ہم اسے پر کرتے ہیں گال سے گال سٹا کر۔۔۔۔۔ جسم سے جسم رگڑ کر۔۔۔ اس احساس کے بعد میری شکل کیوں سؤر کی طرح ہو جاتی ہے۔۔۔؟
میں نے تکیے کو اپنی طرف کھینچا۔۔۔۔ تکیے کے ساتھ اس کا سر بھی کھچ آیا لیکن نیند نہیں ٹوٹی۔ وہ اسی طرح گہری گہری سانسیں لے رہی تھی۔ وہ نیند میں ہوتی ہے تو میں راحت محسوس کرتا ہوں تب وہ آبجیکٹ ہوتی ہے۔ میں اپنے طور پر اس کا استعمال کر سکتا ہوں۔ میں چاہوں تو اُسے صرف نہار سکتا ہوں۔۔۔۔ لیکن میں اس کے ساتھ جزوی طور پر آزاد ہوں۔۔۔۔۔ میں اسے بے لباس نہیں کر سکتا۔۔۔۔ چیخے گی۔۔۔۔ یہ کامپلکس اسے درجات نے دیا ہے۔ درجات اس کے دل میں جگہ نہیں بنا سکا لیکن میں نے بنا لیا ہے پھر بھی مجھے اپنے کا مپلکس کے اندر گھسنے نہیں دے گی۔ یہ اس کی ذات کا خول ہے۔
کھڑکی کے شگاف سے سرد ہوا اندر آ رہی تھی جس میں بارش کی مہک گھلی ہوئی تھی۔ شاید رات بارش ہوئی ہو۔۔۔۔۔ میں نے کھڑکی کھولی۔ تیز ہوا کا جھونکا آیا۔
کھڑکی پر رکھا ہوا گلاس گر کر ٹوٹ گیا۔ اس کی نیند نہیں ٹوٹی لیکن اس نے سہرن سی محسوس کی اور پاؤں سکوڑ لیے۔۔۔۔۔۔ اس کے پیٹ پر ہاتھ پھیرا۔۔۔۔ پیٹی کوٹ کا ناڑہ۔۔۔۔ اس نے اچانک آنکھیں کھولیں اور میرے ہاتھ پکڑ لیے۔۔۔۔۔۔
’’کیا کرتے ہو؟‘‘
’’کچھ نہیں۔‘‘
’’تم سوئے نہیں۔۔۔۔؟‘‘
’’گلاس ٹوٹ گیا ہے۔‘‘
وہ اٹھ کر بیٹھ گئی۔
’’کیسے ٹوٹا؟‘‘
’’جیسے دل ٹوٹتا ہے۔‘‘
وہ خاموش رہی۔
’’کرچیاں چن لو۔‘‘
وہ جھاڑو لے کر آئی۔ کرچیاں سمیٹ کر کوڑے دان میں ڈالا۔ فرش پر گرے ہوئے پانی کو صاف کیا اور میرے پہلو سے لگ گئی۔ میں خاموش تھا۔ وہ بھی چپ تھی میں کسی قسم کے تناؤ میں نہیں تھا۔ میں بس خاموش رہنا چاہتا تھا۔ میں سوچ رہا تھا کہ کچھ پوچھے گی تو اٹکّر لیس جواب دوں گا مجھے اپنے اس رویّے پر حیرت بھی نہیں تھی لیکن اس نے کچھ پوچھا نہیں۔۔۔۔ شاید میرا موڈ بھانپ چکی تھی۔ میں نے سگریٹ سلگائی اور دھویں کے مرغولے بنانے لگا۔ اٹھ کر بالکنی میں آ گیا۔ سگریٹ کا آخری کش لیا اور کرسی کھینچ کر ریلنگ کے قریب بیٹھ گیا۔ ہوا میں خنکی تھی۔ ہر طرف مکانوں کی روشنی گل تھی۔ دور سڑک پر کبھی کبھی کسی گاڑی کی ہیڈ لائٹ نظر آ جاتی۔ مجھے نصیب کی یاد آ گئی۔۔۔۔ مجھے اس وقت گھر میں ہونا چاہیے۔ سیفی کے امتحانات اب شروع ہوں گے۔ میں نے ایک ماہ سے ان کی پڑھائی نہیں دیکھی ہے۔ اس بار لوٹ کر سیدھا گھر جاؤں گا۔۔۔۔۔ نصیب تشنہ لب ہے اور میرا مشکیزہ خالی ہے۔
’’پانی پیو گے؟‘‘۔ وہ پانی کا گلاس لے کر کھڑی تھی۔
’’خون پیوں گا۔‘‘ مجھے غصّہ آ گیا۔
اس کو بھی غصّہ آ گیا۔ اس نے گلاس رکھ دیا۔ گردن اٹھائی اور ایک ہاتھ سے اپنا گلا پکڑ کر بولی۔
’’لو پیو۔۔۔۔!‘‘
وہ اسی طرح کھڑی رہی۔
’’ناٹک بند کرو۔‘‘
’’لے لو میری جان میں کیا کروں گی جی کر۔‘‘
’’خاموش!‘‘ میرا غصّہ بڑھ گیا۔
’’تم خوش نہیں ہو تو۔۔۔۔۔‘‘
میں نے اُسے بازوؤں میں جکڑ لیا۔
’’ایک دم خاموش۔۔۔۔ کچھ نہیں بولو گی۔‘‘
’’اوہ۔۔۔۔ ظالم۔۔۔۔ بے درد۔۔۔۔!‘‘ اس کے لہجے میں مکمل سپردگی تھی۔
اس کی آواز بہت دھیمی تھی اور مجھے لگا آتشیں لمحوں کو مہمیز کرنے کے لیے اُس نے یہ لہجہ اختیار کیا تھا۔ وہ جانتی ہے کہ مدھم سرگوشیاں مجھے برہم کرتی ہیں اور اس دن بھی اس کا عمل دانستہ تھا۔ مجھے لبھا کر چھوڑ دیا تھا۔ میرے پر نوچ لیے تھے کہ جاؤ نصیب کے پاس۔۔۔۔ وہاں قوت پرواز نہیں ہو گی میں ہی یاد آؤں گی۔۔۔۔۔۔۔
اور میں نے ذلّت اٹھائی۔۔۔۔۔
تم بھی ذلّت اٹھاؤ۔۔۔۔۔؟
میں نے اسے فرش پر لٹا دیا اور برہنہ کرنے کی کوشش کی۔ اس نے میرا ہاتھ پکڑ لیا۔
’’کیا کرتے ہو۔۔۔۔۔‘‘
’’اتارو کپڑے۔‘‘
’’نہیں۔۔۔۔ پلیز نہیں۔۔۔۔۔‘‘
’’اتارو۔۔۔۔۔‘‘ میں نے ایک جھٹکے کے ساتھ اُ سے سایہ سے بے نیاز کر دیا۔
وہ مکمل برہنہ فرش پر پڑی تھی۔۔۔۔۔۔
اس کی آنکھیں بند تھیں۔۔۔۔۔ وہ آہستہ آہستہ کانپ رہی تھی۔ جسم پسینے سے بھیگ رہا تھا۔
اس کے لب ہلے۔ ’’کمار۔۔۔ کمار۔۔۔۔‘‘
میں گھر سے باہر نکل گیا۔
لال گنج پہنچا۔
درجات کے مکان میں عزّت کے ساتھ رہ رہا ہوں۔ لڑکیاں مجھ سے گھلی ملی ہیں۔ گھر بھر میری آسائش کا خیال رکھتا ہے لیکن درجات اداس ہے۔ وہ اب ہنستا نہیں ہے۔ کبھی کبھی ایک پھیکی سی مسکراہٹ ہونٹوں پر نمودار ہو جاتی ہے۔ باتیں اس طرح کرتا ہے جیسے خوش ہے۔۔۔۔۔۔
تم چھوڑے ہوئے مرد ہو درجات۔ تمہیں احساس ہونا چاہیے کہ میں ساجی کی زلفوں سے کھیلتا ہوں اور تمہیں دودھ میں گری ہوئی مکھی کی طرح نکال پھینکا ہے۔۔۔۔۔۔؟ تم نے جھانسہ دیا کہ تمہارا خاندان پڑھا لکھا خاندان ہے اور تم لوگ کتا بوں سے بھری الماری رکھتے ہو۔ تم نے ساجی کو شب عروسی میں عریاں کیا اور تمہاری نگاہوں کے سامنے ساجی کا کانپتا ہوا برہنہ جسم تھا، پسینے سے شرابور۔ یہ منظر تمہارے دل پر نقش ہو گیا۔ تمہاری زندگی میں یہ لمحہ ارتکاز جرم بھی ہے اور آغاز محبت بھی۔ تم نادم ہوئے اور محبت میں گرفتار بھی۔ ساجی ذلیل ہوئی اور ٹھنڈے بستر میں بدل گئی۔ وہ اسی طرح اپنا احتجاج درج کر سکتی تھی۔ اس نے محسوس کیا کہ وہ ننگی کر دینے کی چیز ہے۔۔۔۔!!!
اور میں۔۔۔۔۔؟
میں کمار ہوں۔۔۔۔۔۔ ساجی کے جینے کے لیے ایک ضروری بھرم۔۔۔۔۔
وہ اس ہوا کو اپنے پھیپھڑے میں محسوس کرنا چاہتی ہے جس میں میں سانس لیتا ہوں۔ میرا حکم بجا لانے میں مسرّت محسوس کرتی ہے، میرے کپڑے دھونا، بستر لگانا، ریزر صاف کرنا، میرے ناخن کترنا۔ وہ چاہتی ہے میں اس پر بوجھ لادوں۔۔۔۔۔ اور وہ خوشی خوشی سارا کام کرے اور جب میری طرف سے کوئی مطالبہ نہیں ہوتا۔ میں اس پر کوئی بوجھ نہیں ڈالتا تو اداس ہو جاتی ہے۔ وہ آہستہ آہستہ خود کو مجھ میں ضم کر رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔ بلکہ ہم دونوں ہی ایک دوسرے میں ضم ہو رہے ہیں اور یہی بات مجھے غلام ہونے کا احساس دلاتی ہے۔ ہم دونوں ہی ایک دوسرے کے غلام ہیں۔ اس کا مطالبہ پورا کرنا میرا فرض ہے۔ میرا فرض ہے کہ اُسے کپڑے دھونے کے لیے کہوں۔۔۔۔ یہ اس کا حکم ہے جو مجھے بجا لانا ہے اور یہی وہ بندھن ہے جس سے میں آزاد ہونا چاہتا ہوں۔ جب کہتا ہوں۔ ’’میری بلبل۔۔۔ میری ککو۔۔۔۔ میری مینا۔۔۔۔۔‘‘ تو خوش ہو جاتی ہے۔ اچھلتی ہے، بھاگتی ہے، بچّوں کی طرح قلقاریاں بھرتی ہے۔۔۔۔۔۔ لیکن میری سوچ اتنی منفی کیوں ہے؟ میں اس طرح کیوں نہیں سوچتا کہ درجات نے ساجی کو اپنی زندگی جینے کی آزادی دی ہے اور اس کو خوش دیکھ کر خوش ہے۔ وہ مجھے اس لیے پیار کرتا ہے کہ ساجی مجھے پیار کرتی ہے۔ اس کو وہ ہر چیز عزیز ہے جو ساجی کو عزیز ہے۔ وہ لڑکیوں کے بہتر مستقبل کے لیے پٹنہ میں رہ رہی ہے اور میں ایک دوست کی طرح تعاون کر رہا ہوں۔ وہ دروپدی کی طرح ہے جس کے دو مرد ہیں۔ اگر دو مرد کے درمیان کوئی چیز مشترک ہے اور وہ دوست کی طرح رہ سکتے ہیں تو معاشرے کو کیا اعتراض ہے؟ لیکن میں اس طرح بھی کیوں سوچوں۔۔۔۔؟ کیا میں اس عورت کے عشق میں گرفتار ہوں؟ یہ محبت ہے یا شہوت پرستی؟ میں اس کو ٹارچر کرتا ہوں پھر اس کے ساتھ صحبت کرتا ہوں؟ میری سادیت اُس کے لیئے محرّک ہے اور اس کی مسوچیت مجھے مزید اذیت کے لیے اُکساتی ہے۔ یہ محبت سے زیادہ نفرت کا رشتہ ہے۔ شاید محبت کی طرح نفرت بھی انسان کو باندھتی ہے۔ وہ اب محبوبہ نہیں رہی۔۔۔۔۔ وہ اب اِستعمال ہونے کی چیز ہے۔۔۔۔ میں نے اسے رکھا ہے اپنے استعمال کے لیے۔ کس طرح خوشامد کرتی ہے۔۔۔۔ ابھی مت جاؤ۔۔۔۔۔ کچھ دیر رکو۔۔۔۔۔ کچھ دیر۔۔۔۔۔۔ بس دس منٹ! اس ذرا سے وقفے میں وہ عمر بھر کی خوشیاں سمیٹ لینا چاہتی ہے اور میں کیسا ہوں کہ اس کی مکمل سپردگی سے الجھن محسوس کرتا ہوں۔ میں اتنا سکڑا ہوا کیوں ہوں۔۔۔۔؟ مجھے کیوں لگتا ہے کہ اس نے مجھے قید کیا ہے۔ میرا المیہ یہ ہے کہ میں اس عورت کی قربت میں بھی آزاد نہیں ہوں اور اس سے دور رہ کر بھی آزاد نہیں ہوں۔ ہم دونوں ہی گرداب میں ہیں۔ وہ اس میں جینا چاہتی ہے۔ میں اس سے ابھرنا چاہتا ہوں۔ حال دل کوئی چھپا نہیں سکتا۔۔۔۔۔ آنکھیں آئینہ ہوتی ہیں۔ درجات کی آنکھوں میں پہلے ایک مکروہ قسم کی آسودگی ہوا کرتی تھی۔ اب آئینے کی سطح پر دھند کی ہلکی سی پرت جمی ہوئی ہے۔ شاید درد کی پرتیں ایسی ہی ہوتی ہیں اور مجھے اب اس سے الرجی نہیں محسوس ہوتی ہے گرچہ اسی طرح بڑی بڑی باتیں کرتا ہے۔ وہ اب بھی خود کو پٹنہ کالج کا طالب علم بتاتا ہے اور جب کبھی جھن جھن والا کی بچی ہوئی شراب ہاتھ لگتی تو کہتا ہے۔ ’’آپ کے لیے ہی خریدی ہے۔‘‘
درجات میرے ذریعہ ساجی تک پہنچتا ہے۔۔۔۔۔ خود ساجی کے لیے وہ ایک جڑ ہے جو موجود نہیں ہو تو ساجی کو کیا فرق پڑے گا لیکن میں موجود نہیں رہوں تو ساجی کو فرق پڑتا ہے۔ مجھے ساجی میں اپنی قدریں بکھرتی ہوئی معلوم ہوتی ہیں اور ساجی کو اپنی قدریں مجھ میں سنورتی ہوئی معلوم ہوتی ہیں۔ محبوب کو جکڑ لیا جائے تو چاہت ختم ہو جاتی ہے۔
دونوں لڑکیاں بھی چپ چپ رہتی ہیں۔ منصوبہ خود کو پڑھائی میں غرق رکھتی ہے اور شبنم کچن میں زیادہ وقت دیتی ہے۔ گھر بے رونق لگتا ہے۔ دن تو آ فس میں کٹ جاتا ہے، شام منصوبہ کو پڑھانے بیٹھتا ہوں لیکن رات بھاری پڑتی ہے، کچھ پڑھنے میں بھی دل نہیں لگتا۔
اس کا فون آیا کہ کچھ کتابیں لیتا آؤں۔ میں نے کوئی توجہ نہیں دی۔ پٹنہ آیا تو پہلے گھر کا رخ کیا لیکن ہڑتالی چوک پر پہنچ کر بورنگ روڈ کی طرف مڑ گیا اور کچھ دیر میں ساجی کے فلیٹ میں موجود تھا اور مجھے حیرت تھی۔ میں اس طرف آنا نہیں چاہتا تھا۔ میرے قدم خود بہ خود ادھر مڑ گئے تھے۔ شاید میں نصیب کا سامنا نہیں کرنا چاہتا تھا۔ وہ ڈاکٹر کے یہاں چلنے پر اصرار کر سکتی تھی۔
اس بار ساجی پژمردہ سی نہیں لگی۔ اس کے بال کھلے ہوئے تھے۔ وہ گلابی رنگ کی ریشمی ساری میں تھی جو میں نے اُسے پوجا کے موقع پر گفٹ کیا تھا۔ مجھے دیکھتے ہی مسکرائی۔ میں صوفے پر بیٹھ کر جوتے کے تسمے کھولنے لگا۔
ساجی کا جسم قوسین سا بناتا ہوا مجھ پر جھک آیا۔ اس نے دونوں ہاتھوں سے میرے چہرے کا کٹورہ سا بنایا اور لب چوم لیے۔
’’چائے پیو گے؟‘‘
میں نے اثبات میں سر ہلایا۔
’’ابھی لائی۔‘‘
ایک بار پھر چوما اور چوکڑی بھرتی ہوئی کچن کی طرف چلی گئی۔
رینو سے معلوم ہوا کہ ’’ممی کا آج ورت ہے۔‘‘
ساجی چائے لے کر آئی تو میں نے پوچھا۔
’’کس بات کا ورت؟‘‘
’’میں سمباری کرتی ہوں۔‘‘
’’سمباری تو شیو کے لیے کرتے ہیں کہ اچھا پتی ملے۔‘‘
’’میں شیو کی ارادھنا بچپن سے کرتی آئی ہوں۔‘‘
جی میں آیا کہہ دوں۔ ’’اسی لیے پتی کو چھوڑ کر یہاں بیٹھی ہو۔۔۔۔۔‘‘ لیکن اتنا خر دماغ بھی نہیں ہوں۔ پھر بھی میں نے طنز کیا۔
’’شیو نے خوش ہو کر تمہیں دو دو پتی دیے۔‘‘
وہ خاموش رہی۔
’’ورت کس وقت ٹوٹے گا؟‘‘
’’شام کو سورج ڈھلتے ہی۔‘‘
گھڑی دیکھی۔ پانچ بجے تھے۔
’’تم نے کچھ غور نہیں کیا۔۔۔۔؟ کوئی تبدیلی۔۔۔۔؟‘‘
’’کیا۔۔۔۔۔؟‘‘
’’صوفے کی ترتیب کیسی لگی؟‘‘
میں نے دیکھا صوفہ اتر دکھن بچھا ہوا تھا۔ پہلے ترتیب پورب پچھم تھی۔ ٹی وی بھی اتری کنارے پر رکھی ہوئی تھی۔
’’تمہیں پسند نہیں ہے تو بدل دوں۔‘‘
’’پسند ہے؟‘‘
یہ کرسی یہاں پر رکھی ہے۔ یہاں سے بیٹھ کر تمہیں دیکھوں گی۔‘‘
’’کیا دیکھو گی؟‘‘
’’بس تمہیں دیکھوں گی۔ تمہیں دیکھنا اچھا لگتا ہے۔‘‘
’’مجھے کسی کا اس طرح گھورنا اچھا نہیں لگتا۔‘‘
’’مجھے اچھا لگتا ہے۔ تم گھر میں چلتے پھرتے ہو تو اچھا لگتا ہے۔ تمہارا داڑھی بنانا اچھا لگتا ہے۔۔۔۔۔‘‘
مجھے اکتاہٹ ہونے لگی۔
’’تمہارے ساتھ صوفے پر بیٹھ کر چائے پینا اور ٹی وی دیکھنا اچھا لگتا ہے۔‘‘
جی میں آیا پوچھوں۔ ’’ بلوز کے بٹن کھولنا اچھا لگتا ہے۔۔۔۔۔۔۔؟‘‘
’’کہیں گھومنے چلو نا۔۔۔۔؟‘‘
’’کہاں جاؤ گی؟‘‘
’’کہیں بھی۔۔۔۔۔۔‘‘
’’پھر کبھی۔‘‘
’’نہیں ابھی چلو۔ بہت دنوں سے بند بند ہوں۔۔۔۔ کہیں دور چلتے ہیں۔ کہیں بیٹھیں گے۔۔۔۔ باتیں کریں گے۔ کسی ریستوراں میں کافی پئیں گے۔‘‘
’’آج تمہارا ورت ہے۔ پہلے ورت کرو گی یا سیر کرنے جاؤ گی؟‘‘
وہ چپ ہو گئی۔
’’تم لڑکیوں کے ساتھ باہر گھوم لیا کرو یا درجات آئیں تو اُن کے ساتھ جاؤ۔‘‘
’’میں صرف تمہارے ساتھ جاؤں گی۔‘‘
مجھے الجھن ہوئی۔۔۔۔ اور خود پر حیرت بھی۔ یہ عورت میری عبادت کرتی ہے اور میں الجھن محسوس کرتا ہوں۔
وہ مجھے پھر نہار رہی تھی۔۔۔۔۔ اور وہی انداز۔۔۔ رخسار پر ہتھیلی کو ٹکا لیا اور نظریں مرکوز۔۔۔۔۔۔
میں ساجی کی آنکھیں اپنی پشت پر محسوس کر رہا ہوں۔ میں جانتا ہوں اُس کی نظریں میرے لیے محبت سے لبریز ہوتی ہیں۔ وہ مشکل سے ہی مجھ پر کوئی اور نظر ڈال سکتی ہے لیکن میں مڑ کر اس کی طرف نہیں دیکھتا۔ میں سامنے دیوار پر آویزاں اس فریم کی طرف دیکھتا ہوں جس میں پرم ہنس رام کرشن کی تصویر ہے۔ ساجی یہ تصویر گاؤں سے لے کر آئی ہے۔ تصویر میں پرم ہنس کے ہاتھ آشیرواد کی مدرا میں اٹھے ہوئے ہیں۔۔۔۔۔ ساجی مسلسل گھور رہی ہے۔ پھر قریب آتی ہے۔۔۔۔۔ میرے بال سہلاتی ہے۔۔۔۔۔ آہستہ سے مجھے چومتی ہے۔۔۔۔۔ لمس میں حدّت نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔ مجھے کوفت کا احساس ہوتا ہے۔
اس نے پیشانی چومی تو غصّہ آ گیا۔ میں جیسے معصوم بچّہ ہوں۔ اس کی گود میں پڑا ہوا۔۔۔۔۔ اس نے سر سہلایا۔۔۔۔ پھر ناخن دیکھے۔۔۔۔۔ ناخن بڑھ گئے ہیں۔۔۔۔ لاؤ کاٹ دوں۔۔۔۔۔! ابھی پوچھے گی۔ ’’کیا سوچ رہے ہو؟‘‘ وہ مجھے میری سوچ میں بھی تنہا چھوڑنا نہیں چاہتی۔
اور اس نے پوچھا۔
’’کیا سوچ رہے ہو؟‘‘
’’سوچتا ہوں تمہاری ایک ٹانگ اوپر اٹھا دوں۔‘‘
’’اب کچھ نہیں بولوں گی۔‘‘
’’ہاں۔۔۔ ہاں۔۔۔۔ مت بولو۔۔۔۔ تم مجھے کچھ سوچنے بھی نہیں دیتی ہو؟ کیا سوچ رہے ہو۔۔۔۔؟ کیا سوچ رہے ہو۔۔۔؟ تمہیں کیا مطلب کیا سوچ رہا ہوں۔۔۔؟ میں نے چیخ کر کہا۔ وہ سہم گئی۔ مینو اور رینو نے کمرے سے جھانک کر دیکھا۔ ساجی سسکیاں بھرتی ہوئی کمرے میں چلی گئی۔
میں نے سگریٹ سلگائی اور کمرے میں ٹہلنے لگا۔۔۔۔ میں یہاں کیوں چلا آیا۔۔۔۔؟ میرا گھر کہرے میں ڈوب رہا ہے۔۔۔۔!
’’ممی کچھ کھا لیجیے۔۔۔۔!‘‘ رینو کی آواز آئی۔
مجھے ندامت محسوس ہوئی۔۔۔۔ کیوں ڈانٹ دیا۔۔۔ وہ اُپواس میں ہے اور میرے لیے ہی ہے۔ میں نے رینو کو پکارا۔ وہ سہمی سہمی سی سامنے کھڑی ہو گئی۔ وہ اس بلّی کے ننھے سے بچّے کی طرح لگ رہی تھی جس کا سامنا کتّے سے ہو گیا ہو۔
’’ممی کے کھانے کے لیے کچھ ہے؟‘‘ میں نے پوچھا۔
’’دن کا چاول ہے اور سبزی۔‘‘
’’چلو کچھ لے آتے ہیں۔‘‘
رینو کو لے کر بازار گیا۔ مٹھائیاں اور پھل خریدے۔ سموسے بھی پیک کروائے۔ چار عدد ڈاب بھی لیا۔ گھر آیا تو ساجی کے آنسو خشک ہو گئے تھے لیکن اپنے کمرے میں بت بنی پلنگ پر بیٹھی ہوئی تھی۔
’’چلو۔۔۔۔ روزہ کھولو۔ وقت ہو گیا ہے۔‘‘
وہ اسی طرح خاموش بیٹھی رہی۔ مجھے کوفت محسوس ہونے لگی، جی میں آیا گھر چلا جاؤں۔ رینو کو پکارا۔
’’رینو بیٹے۔۔۔۔۔۔ ایک ایک ڈاب تم لوگ بھی لے لو اور ممی کے لیے پھل اور سموسے لے آؤ۔‘‘
رینو ناشتے کی پلیٹ رکھ کر چلی گئی۔
’’لو۔۔۔۔۔!‘‘ میں نے ڈاب اس کے ہاتھوں میں دینے کی کوشش کی۔
وہ چپ رہی۔
’’پلیز۔۔۔۔۔ ساجی۔۔۔۔۔۔‘‘
پھر بھی چپ۔۔۔۔۔
میں غصّے میں اٹھا اور باہر نکل گیا۔۔۔۔۔ اتنی خوشامد۔۔۔۔؟ اب دس دن بعد آؤں گا۔ مجھے اپنا گھر بھی دیکھنا چاہیے۔ میں تیز تیز قدموں سے آؤٹوا سٹینڈ کی طرف بڑھنے لگا۔ اچانک مینو دوڑتی ہوئی آئی۔
’’انکل۔۔۔۔ ممی بے ہوش ہو گئی ہیں۔‘‘
’’کیسے بے ہوش ہو گئیں؟‘‘
’’آپ جب باہر نکلے تو ممی بھی گر کر بے ہوش ہو گئیں۔‘‘
’’چلیے نا انکل۔۔۔۔۔!‘‘ مینو میرا ہاتھ پکڑ کر رونے لگی۔ راہ گیر رک کر دیکھنے لگے۔
مینو کے ساتھ واپس ہوا۔ وہ چاروں خانے چت بستر پر پڑی تھی۔ رینو سرہانے بیٹھی سر سہلا رہی تھی۔ یہ سب نخرہ ہے۔ مجھے روکنے کے بہانے۔۔۔۔ میں نے نفرت سے سوچا۔
’’کیا ہوا ممی کو؟‘‘ میں نے رینو سے پوچھا۔
’’کیا پتا انکل؟ آپ گئے اور ممی بے ہوش ہو گئیں۔
پاپا کو فون کر دو۔ میں انہیں لے کر ہسپتال جاتا ہوں۔‘‘
میں ایمبولنس کا نمبر ملانے لگا تو ساجی کے جسم میں جنبش ہوئی۔ اس کے کراہنے کی آواز کمرے میں گونجی تو رینو چلّائی۔
’’انکل۔۔۔۔ ممی ہوش میں آ رہی ہیں۔‘‘
میں نے ساجی کی پیشانی پر ہاتھ رکھا۔ اس کی پلکوں میں جنبش ہوئی۔ اس نے آنکھیں کھولیں۔
’’روزہ کھولو۔‘‘ اسے سہارا دے کر بٹھایا۔
رینو نے ڈاب اور ناشتے کی پلیٹ آگے بڑھائی۔ ساجی نے میری طرف دیکھا۔
’’پیو۔۔۔۔۔‘‘ میں نے مسکراتے ہوئے کہا۔
اس نے ڈاب اپنے ہاتھوں میں لے لیا۔ پھر ایک سپ لی اور مجھ سے اشارے میں پینے کے لیے کہا۔
ہم ایک ہی ڈاب سے پینے لگے۔
مینو ایک بار کمرے میں آئی اور چلی گئی۔
’’کھانا کیا کھاؤ گے؟‘‘
’’کھانا تم کھا لینا۔ میرا ابھی جانا ضروری ہے۔‘‘
’’رات کو مت جاؤ پلیز۔۔۔۔۔‘‘
میں چپ رہا۔
’’رات کو اکیلے ڈر لگتا ہے کمار۔۔۔۔۔ پلیز!مت جاؤ۔‘‘
’’میں لال گنج میں رہتا ہوں تو تم کیسے رہتی ہو؟‘‘
’’صبر رہتا ہے کہ تم یہاں نہیں ہو لیکن اس شہر میں رہتے ہو تو رات کاٹے نہیں کٹتی ہے۔‘‘
’’آج کاٹ لو۔۔۔۔۔‘‘ میں مسکرایا۔
’’نہیں کمار۔۔۔۔ پلیز۔۔۔۔ پلیز۔۔۔ رک جاؤ۔‘‘ اس کی آنکھوں سے آنسو رواں ہو گئے۔
’’نہیں جاؤں گا لیکن رونا دھونا بند کرو۔‘‘ میرے لہجے میں بیزاری تھی۔ رات آئی اور وحشت کے دروازے کھلتے گئے۔۔۔۔۔ شہوت کی وہی گراں باری۔ دنیائے ما فیہا سے بے خبر۔۔۔۔۔
کیا ہے ساجی میں جو میری یہ حالت ہو جاتی ہے۔۔۔۔۔۔۔؟ کیا نجات کی کوئی راہ نہیں ہے؟
کیا ساجی درجات کے پاس واپس نہیں جا سکتی۔۔۔۔؟ یہ نا ممکن ہے۔ ساجی اپنی کشتی جلا چکی ہے۔۔۔۔۔ وہ آزاد نہیں ہے۔ وہ میری قید میں ہے۔ درجات نے مجھے موقع فراہم کیا۔۔۔۔۔ وہ ایسا کر سکتا تھا۔۔۔۔۔ وہ اس کا مالک تھا لیکن اب میں مالک ہوں۔ وہ مجھے اس لیے نہیں چھوڑ سکتی کہ آسودہ ہے بلکہ اس لیے کہ محفوظ نہیں ہے۔ عدم تحفظ کا احساس ناسودگی کے احساس پر حاوی رہتا ہے۔ محبت کی چاہت غلامی کی چاہت نہیں ہے۔ محبت تو آزاد کرتی ہے۔ شہوت غلام بناتی ہے۔ اس غلامی سے نجات کی صورت کیا ہے۔۔۔۔۔؟ کوئی صورت نہیں ہے۔ مجھے نصیب کے پاس ہونا چاہیے۔
صبح سویرے نصیب کے آنگن میں پر کٹے پرندے کی طرح گرتا ہوں۔ نصیب خوش ہوتی ہے کہ سرتاج گھر آ گئے اور فکر مند ہوتی ہے کہ چہرہ کہرے میں ڈوبا ہوا ہے۔۔۔۔؟
میں نصیب کو سمجھاتا ہوں کہ یہ وقتی ہے لیکن رات آتی ہے تو نصیب کی ہمزاد سرگوشیاں کرتی ہے۔۔۔۔۔۔ ’’کچھ تو ہے کہ یہ شخص تمہاری طرف رجوع نہیں ہوتا۔۔۔۔؟ اس کی بانہیں ڈھیلی ہیں۔۔۔۔ سانسیں سرد ہیں۔۔۔۔۔۔ آنکھیں تمہیں دیکھ کر نہیں مسکراتیں۔۔۔۔ ہونٹ نہیں تھرتھراتے۔۔۔۔۔ شب وصل کی زلفیں اس سے نہیں سنورتیں۔۔۔۔۔؟
اور نصیب مجھ سے کہتی ہے۔
’’کسی حکیم کو دکھا لیجیے۔‘‘
میں زور سے چیختا ہوں۔
’’تجھے ہر وقت شوہر میں ایک مرد چاہیے۔۔۔۔۔؟ کیا نا مرد سمجھتی ہے مجھے؟ کیا حکیم میری نا مردانگی کا علاج کرے گا؟‘‘
نصیب سہم گئی۔ تکیے میں منھ چھپا کر سسکیاں بھرنے لگی۔
عورت ہمیشہ آنسوؤں میں کیوں اسکیپ کرتی ہے؟ نصیب کو چاہیے تھا کہ اسی شدّت سے مجھ پر جھپٹتی۔
’’وہ کون چڑیل ہے جو تیرا خون چوس رہی ہے؟ ابھی لال گنج جاؤں گی اور اس حرّافہ کی بوٹی بوٹی الگ کر دوں گی۔‘‘
لیکن نصیب آنسو بہاتی رہی اور خدا کے آگے گڑگڑاتی رہی۔
’’یا خدا۔۔۔۔۔ رحم کر۔۔۔۔۔ انہیں کیا ہو گیا ہے میرے معبود۔۔۔۔۔؟‘‘
معبود نے رسّی ڈھیل کر دی ہے نصیب۔۔۔۔۔۔ مہدی کی جگہ محبوب کی گلیوں میں جنگلی گھانس اگ آئی ہے۔ محبوب کا مشکیزہ خالی ہے اور چیڑ کے لمبے درختوں کا سایہ ہے۔
میں نصیب کو منانے کی کوشش کرتا ہوں۔ وہ مان جاتی ہے، اس کے پاس چارہ بھی کیا ہے۔ اس کو احساس ہے کہ مجھے کھو رہی ہے۔ امید کی موہوم سی کرن بھی تھام لے گی کہ شاید نحوست کے بادل چھٹ جائیں۔
میں نصیب کے آ نسو پونچھتا ہوں۔ اسے لپٹائے ہوئے بستر تک لاتا ہوں لیکن ایسے کلمات نہیں کہتا۔۔۔۔۔ میری جان۔۔۔۔ میری بلبل۔۔۔۔ میری ککو۔۔۔۔۔ میں یہ بات دہراتا ہوں کہ مجھے ذہنی تناؤ ہے لیکن نصیب کچھ کہتی نہیں ہے۔ وہ میرے سینے سے لگ کر سونے کی کوشش کرتی ہے۔ میں دل ہی دل میں عہد کرتا ہوں کہ ساجی سے کچھ دنوں کے وقفے پر ملوں گا۔۔۔۔۔ دس دن پر۔۔۔۔ پہلے نصیب کے پاس آؤں گا تب ساجی سے ملوں گا۔ اس طرح میں ساجی کے اثر کو زائل کر سکتا ہوں۔۔۔۔۔
اور میں سوچنے پر مجبور ہوں۔۔۔۔ عورت خود اپنے لیے دوزخ تیار کرتی ہے۔ مرد اُس کا حصّہ ہونا نہیں چاہتا۔ عو رت مرد کی پسلی میں ضم ہو کر اپنی تکمیل کا احساس چاہتی ہے لیکن مرد اس نکالے ہوئے حصّے کو قبول کرنے میں ہمیشہ ہچکچاتا ہے۔ ساجی اپنی کشتی جلا چکی ہے اور مجھے بندھن قبول نہیں ہے۔ میری آزادی سلب ہوتی جا رہی ہے۔ میں دو ٹکڑوں میں بٹ رہا ہوں لیکن پہلے کیوں نہیں سوچا تھا۔۔۔۔۔؟ اس وقت مجھے کیا ہو گیا تھا۔۔۔۔۔ تب جبلّت عقل پر حاوی تھی اور اب عقل جبلّت پر حاوی ہے۔ میرے ساتھ اب شعور ہے۔ میں دماغ سے کام لے رہا ہوں۔ دماغ کہہ رہا ہے چھوڑو۔۔۔۔ نکلو گرداب سے۔۔۔۔۔ اس وقت میری خوشی مستقبل میں تھی کہ ساجی کے ساتھ شہر محبت بساؤں گا لیکن شہر محبت میں دھواں آ کر ٹھہر گیا۔ میرا انتخاب قید خانے کا انتخاب تھا۔ آج میں نصیب کے ساتھ پھر سے آزادی اور سکون کے وہ دنڈ ھونڈ رہا ہوں اور ساجی کمار کی دنیا میں جینا چاہتی ہے جس کا وجود نہیں ہے۔۔۔۔ وہ چمکارے گی۔۔۔۔ پیار کرے گی۔۔۔۔۔ خوشامدیں کرے گی۔۔۔۔ ابھی مت جاؤ۔۔۔۔ کچھ دیر رکو۔۔۔۔ کچھ دیر۔۔۔۔ کہیں گھومنے چلتے ہیں۔۔۔۔ کچھ باتیں کریں گے۔۔۔۔۔ کہیں بیٹھیں گے۔۔۔۔۔ اپنے آپ میں کس قدر خالی۔۔۔۔ کس قدر ویران۔۔۔۔ کس قدر غیر محفوظ۔۔۔۔ اور جب یہ خالی پن بھرے گا۔۔۔۔۔؟ کیا میں اس کے خالی پن کو بھر رہا ہوں۔۔۔۔؟ میں خود خالی ہوں۔۔۔۔ ایک خالی پیالہ دوسرے خالی پیالے پر اوندھا رکھا ہوا۔۔۔۔! ہم دونوں ہی ایک دوسرے کے اکیلے پن کو ڈھکنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اکیلے پن سے ہمارا رشتہ خوف کا رشتہ ہے۔ ہم جسم سے کھیلتے ہیں اور اسے ختم کرنا چاہتے ہیں لیکن اکیلا پن داخلیت میں اگتا ہے۔
پیالے کی شکل میں اس کی گول پیالہ ناف۔۔۔۔۔؟؟
اور پیالے کی شکل میں ہوس سے تھرتھراتے میرے ہونٹ۔۔۔!
دوسرے دن لال گنج کے لیے روانہ ہونے لگا تو نصیب نے میرے بازو پر امام ضامن باندھا۔
’’وہاں پہنچ کر خیرات کر دیجیے گا۔‘‘
میں نے نصیب کی آنکھوں میں جھانکا۔۔۔۔۔ مجازی خدا کی خیر و عافیت کی دعا مانگتی ہوئی آنکھوں کی پر مقدّس چلمن۔۔۔۔۔ میں پلکوں پر ستارے ثبت کرتا ہوں۔
کیا میں جہاز کا پنچھی ہوں کہ لوٹ کر جہاز پر آتا ہوں۔۔۔۔؟
راستے میں امام ضامن کھول کر جیب میں رکھ لیا اور لال گنج کی بس پکڑنے کی بجائے ساجی کے فلیٹ پہنچ گیا۔
ساجی صرف ایک ساری میں تھی۔ میں ساجی کو گھور رہا تھا۔
’’نہانے جا رہی تھی کہ تم آ گئے۔‘‘
اس نے سایہ بھی نہیں پہنا تھا اور بلوز بھی نہیں۔ اس کے بال کھلے تھے۔ ساری کی باریک تہوں سے اس کا جسم جھانک رہا تھا۔
’’یہ کون سا اسٹائل ہے؟‘‘
’’تمہاری داسی ہوں۔۔۔۔ داسی کے اسٹائل میں ہوں۔‘‘
تو آؤ اپنے سوامی کی ٹانگوں کے بیچ۔۔۔۔۔
میں نے اسے بانہوں میں کھینچ لیا۔ مجھ پر نفرت کا غلبہ تھا۔ گرداب میں پھنسے رہنے کا احساس اپنے تئیں نفرت جگا رہا تھا اور اس کے تئیں بھی۔۔۔۔۔ کیسی عورت ہے یہ ہمیشہ سپردگی کے عالم میں ہوتی ہے۔۔۔۔۔ اور میں۔۔۔۔؟ میں بھی ایک سؤر ہوں۔۔۔۔۔ اپنے آپ سے عہد کیا تھا کہ لمبے وقفے پر آؤں گا۔۔۔۔ لیکن میں آ گیا۔۔۔۔ میں اسی کام کے لیے آتا ہوں۔۔۔۔۔ ابھی یہ عورت ٹانگیں پسار دے گی اور میں کھونٹی پر ٹنگ جاؤں گا۔۔۔۔؟ میں زندگی بھر گرداب سے باہر نہیں آ سکتا۔۔۔۔۔!
دفعتاً مجھے محسوس ہوا کہ ایک ریپسٹ کی طرح میں نے ساجی کو دبوچ رکھا ہے۔ اس کے ہونٹ وا تھے اور آنکھیں ادھ کھلی۔۔۔۔۔ مجھے جسم چاہیے۔۔۔۔ اسے بھی جسم چاہیئے۔۔۔۔ بچھ جاؤ ٹانگوں کے بیچ۔۔۔۔۔
جنگلی گھاس کی مہک تیز ہونے لگی۔۔۔۔۔۔۔ ہم دونوں ہی جڑ ہو گئے۔۔۔۔۔ وہاں سے ہل نہیں سکے۔۔۔۔۔ وہ زمین پر لیٹ جانا چاہتی تھی۔ اس کے لمبے بال فرش کو چھو رہے تھے۔ میں گھٹنوں کے بل جھکا۔۔۔۔۔ وہ فرش پر لیٹ گئی۔۔۔۔۔۔ میں آزاد ہوں۔۔۔۔۔ میں جس طرح چاہوں اس کے جسم سے کھیل سکتا ہوں۔۔۔۔۔ اور میری آزادی نے مجھے گرداب میں ڈبو رکھا ہے۔ گرداب سے باہر میں کچھ بھی نہیں ہوں۔۔۔۔۔ میرا وجود صفر ہو جاتا ہے۔۔۔۔ میری طاقت ختم ہو جاتی ہے۔۔۔۔ ایک پر کٹا ہوا پرندہ۔۔۔۔۔۔۔ میں ساجی کو ایک مخصوص حالت میں ہی دبوچے رہنا چاہتا ہوں۔ اس کے وجود سے شہوت کی دھار پھوٹتی ہے۔ شہوت کا ایک بہاؤ ہے۔۔۔۔۔ اس سے میری طرف اور مجھ سے اس کی طرف۔۔۔۔۔ میں کنڈیشنڈ ہو گیا ہوں۔ میری عمر گھٹ رہی ہے۔ یہ عورت مجھے مار دے گی۔
میں نے نفرت سے اس کی طرف دیکھا اور اس کے پہلو سے اٹھ گیا۔ ساجی بھی اٹھ گئی۔ اس نے غسل خانے کا رخ کیا اور میں گھر سے باہر نکل گیا۔۔۔۔ میں ساجی سے دور چلا جانا چاہتا تھا۔
میں لال گنج پہنچا۔
درجات مجھے بیمار نظر آتا ہے۔
درجات کے چہرے کو غور سے دیکھتا ہوں۔ اندر کی طرف مڑے ہوئے کان۔ ایسے کان غلاموں کے ہوتے ہیں۔ درجات نے آزادی کی ضرورت کبھی محسوس نہیں کی ہو گی لیکن ساجی کو آزادی دی ہے۔۔۔۔۔ میں درجات کو سلام کرتا ہوں کہ اس نے ایک عورت سے محبت کی اور اس کو اس کی زندگی جینے کا حق دیا۔ درجات نے مثال پیش کی ہے کہ محبت قبضہ نہیں ہے۔ محبت آزادی دیتی ہے۔ محبت سر پر تاج رکھتی ہے اور محبت مصلوب کرتی ہے، شہوت غلامی دیتی ہے۔ شہوت کا رشتہ غلامی کا رشتہ ہے۔۔۔۔۔ میری شہوت پرستی کا انجام کیا ہے؟ زندگی بھر اس عورت کی غلامی۔۔۔۔؟
کیا کہتے ہیں ٹیرو کے پتّے۔۔۔۔؟
میں نے غسل کیا۔ خوشبو لگائی۔ ٹیرو کارڈ پر بھی خوشبو کا چھڑکاؤ کیا اور مصلّے پر بیٹھ گیا۔ ٹیرو کی گدّی ہاتھ میں لی۔ آنکھیں بند کیں، حواس خمسہ کو اندرون میں مرتکز کیا اور بہ آواز بلند پوچھا۔
’’علم و آگہی کی الوہی طاقت۔۔۔۔۔ بتا گرداب سے نجات کا راستہ کیا ہے۔۔۔۔؟‘‘
آنکھ بند کر کے ایک کارڈ کھینچا۔
آرکین۔۔۔۔ ڈیتھ۔
ساجی کی موت۔۔۔۔۔؟
میں جیسے سکتے میں تھا۔۔۔۔۔ موت آخر کس طرح۔۔۔۔؟
دوسرا کارڈ غرقاب کا اشاریہ تھا۔
میں نے ایک اور کارڈ کھینچا۔ آرکین دی ڈیول۔
بکواس۔۔۔۔ ایسا کچھ نہیں ہو گا۔
اسی دن خبر ملی کہ میرا تبادلہ پٹنہ ہو گیا ہے۔ میں خوش ہوا۔ اب گھر پر وقت دے سکتا ہوں۔۔۔۔۔ نصیب کی شکایت دور ہو گی۔۔۔۔۔ اور ساجی۔۔۔۔؟ ٹیرو کا ڈیول مسکراتا ہے۔
میں پٹنہ پہنچا تو نصیب گھر پر نہیں تھی لیکن فروزی موجود تھی۔ معلوم ہوا چوری کے الزام میں پولیس اس کے میاں کو پکڑ کر لے گئی۔ فروزی حاملہ بھی معلوم ہو رہی تھی۔ نصیب کے بارے میں بتایا کہ ہائی کورٹ والے مولانا سے ملنے مزار پر گئی ہے۔ مولانا نے بتایا ہے کہ مجھ پر جن ہے۔۔۔۔۔ مینی بوا مولانا کو لے کر گھر پر آئی تھیں۔ مولانا نے میرا کرتا ناپا اور۔۔۔۔۔۔۔
میں ہنسنے لگا۔ مجھے اس طرح ہنستے ہوئے دیکھ کر فروزی ڈر گئی۔ اس نے سمجھا جن ہنس رہا ہے۔ تب میں نے زور کا قہقہہ لگایا۔ فروزی ’’اللہ جی‘‘ کہتی ہوئی گھر سے باہر بھاگی۔
میں نصیب کا بے چینی سے انتظار کر رہا تھا۔ سیفی اور کیفی بھی اسکول سے لوٹے نہیں تھے۔
نصیب فکر مند ہو گی۔ اسے یقین ہے مجھے کوئی آسیب لگ گیا ہے۔ وہ مزار مزار دوڑ رہی ہے لیکن میں حیرت انگیز طور پر پر سکون تھا۔ شاید پٹنہ تبادلے کا اثر ہے یا ٹیرو کے ڈیتھ کارڈ کا بھی نفسیاتی اثر ہو سکتا ہے۔ میں ایسا محسوس کر رہا تھا کہ گرداب سے باہر نکل رہا ہوں۔ مجھے ساجی سے بھی ملنے کی کوئی بے چینی نہیں تھی۔ نصیب کو میں پٹنہ آنے کی خوش خبری سنانا چاہتا تھا اور سکون سے گھر میں رہنا چاہتا تھا۔
نصیب آئی تو مجھے دیکھ کر چونک اٹھی۔ اس کے ساتھ سیفی اور کیفی بھی آئے اور پیچھے پیچھے فروزی بھی۔
’’ایک خوش خبری ہے۔‘‘ میں نے نصیب کے گالوں میں چٹکی لی۔
’’کیسی خوش خبری؟‘‘ اس کا چہرہ کھل اٹھا۔ میرا یہ رویّہ اس کے لیے غیر متوقع تھا۔
’’پہلے ایک بوسہ۔۔۔ پھر خوش خبری۔‘‘ میں نے نصیب کو اپنی بانہوں میں بھر لیا اور پلکوں پر ہونٹ ثبت کر دیے۔
’’اب بتایئے؟‘‘ نصیب ہنستی ہوئی بولی۔
’’میرا تبادلہ پٹنہ ہو گیا ہے۔‘‘
’’ارے واہ۔۔۔۔۔!‘‘ نصیب اچھل پڑی۔ سیفی اور کیفی بھی خوشی سے تالیاں بجانے لگے۔
’’یہ سب تعویذ کا اثر ہے۔‘‘ نصیب نے پرس سے تعویذ نکالا۔
’’کیسا تعویذ؟‘‘
’’کل مولانا صاحب کے پاس گئی تھی۔ انہوں نے ناد علی کا نقش دیا۔ کہنے لگے۔ سب مشکل آسان ہو گی۔ دیکھیے۔ آپ کا ٹرانسفر بھی ہو گیا اور ماشاء اللہ آپ کا چہرہ بھی کھلا ہوا لگ رہا ہے۔‘‘
’’تعویذ سے کچھ نہیں ہوتا۔ اس چکّر میں مت پڑو۔ بس دفتری الجھن تھی۔ الجھن ختم ہوئی تو سب نارمل ہو گیا۔۔۔۔۔‘‘
’’خدا کا شکر ہے۔‘‘
نصیب نے شکرانے کی نماز ادا کی۔
میں حیران تھا۔ کیا واقعی راوی چین لکھتا ہے؟ زیادہ حیرت اس بات پر تھی کہ ساجی کی یاد بالکل نہیں آ رہی تھی۔ ایسا لگتا تھا اس کا میری زندگی میں کوئی وجود نہیں ہے۔ اس دوران اس کو فون بھی نہیں کیا تھا اور اس کی بھی کوئی مس کال موصول نہیں ہوئی۔ مجھے اس بات کی کسک ضرور تھی کہ اس نے مس کال کیوں نہیں دی۔۔۔۔۔۔؟
دو دن بعد میں ساجی سے ملنے گیا۔ درجات دونوں لڑکیوں کو لے کر آیا ہوا تھا۔ ساجی کا بھائی بھی وہاں موجود تھا۔ میں نے خوشی کا اظہار کیا۔
’’واہ۔۔۔۔۔ گھر بھر موجود ہے۔‘‘
’’آپ کی کمی تھی۔‘‘ درجات مسکرایا۔
’’آپ کدھر آئے؟‘‘ میں نے ساجی کے بھائی سے پوچھا۔
’’آپ کو بلانے آیا ہوں۔‘‘
’’کس لیے بھئی؟‘‘ میں مسکرایا۔
’’بٹیا کی شادی ہے۔ آپ کا آشیرواد ضروری ہے۔‘‘
’’کون سی بٹیا؟ ان کی والی؟‘‘ میں نے درجات کی طرف اشارہ کیا۔
’’جی۔۔۔۔۔‘‘ ساجی کا بھائی مسکرایا۔
’’واہ۔۔۔۔۔ اتنی بڑی ہو گئی؟‘‘
’’گاؤں میں تو شادی کم عمر میں ہو جاتی ہے۔‘‘ساجی بولی۔
’’جیسے آپ کی ہو گئی تھی۔‘‘ ساجی جھینپ گئی۔۔۔۔۔۔
’’آپ تھے کہاں اور فون بھی نہیں کیا؟‘‘ ساجی نے شکایت کی۔
’’آپ کہاں تھیں آپ نے بھی فون نہیں کیا؟‘‘
’’ممی فون کہاں سے کرتیں؟ فون ہی گم ہو گیا تھا۔‘‘ رینو نے بتایا۔
معلوم ہوا کہ ساجی کرانے کی دکان پر فون بھول کر آ گئی تھی۔ آج سودا لانے گئی تو دکان دار نے واپس کیا۔ میرے تبادلے کی سب کو خوشی ہوئی۔ ساجی نے وعدہ لیا کہ میں شام اس کے ساتھ گذاروں گا اور دن میں لنچ بھی ساتھ کروں گا۔
میں سوچ رہا تھا۔ ساجی کس طرح مرے گی۔۔۔۔۔؟ پانی میں ڈوب کر۔۔۔؟
مجھے حیرت ہوئی کہ ٹیرو کارڈ کی پیش گوئی پر اتنا یقین کیوں ہے؟ یہ ساجی کے لیے میرا ڈیتھ وش ہے۔۔۔۔ میں آزادی کا خواہش مند ہوں یا اس کی موت کا۔۔۔۔۔؟ میرے لا شعور نے ڈیتھ کارڈ پر انگلی رکھوائی ہے۔
ساجی کے بھائی نے مجھے شادی کا دعوت نامہ دیا۔
’’آپ ضرور آئیں گے۔ یہ لوگ تو میرے ساتھ جائیں گی۔ آپ درجات جی کے ساتھ آ جائیے گا۔‘‘
میں دعوت نامہ پڑھنے لگا۔
’’چھٹھ نزدیک ہے۔ آپ چھٹھ کے بعد شادی کرتے۔‘‘
’’مہورت نکل آیا تو سوچا ہاتھ پیلے کر دوں۔ چھٹھ میں گونا کر دوں گا۔‘‘
’’درجات کب جا رہے ہیں؟‘‘ میں نے پوچھا۔
’’یہ کچھ دن پہلے آئیں گے۔‘‘
ارے۔۔۔۔ تو میں اتنا قبل آ کر کیا کروں گا؟‘‘
’’نہیں۔۔۔۔ آپ کو ہمارے ساتھ چلنا ہے۔‘‘ ساجی مچل کر بولی۔
’’اچھا لگے گا آپ پہلے سے رہیں گے تو۔‘‘
’’میں دو دن قبل آؤں گا اور مٹکور کی رسم میں شریک رہوں گا۔‘‘ میں نے وعدہ کر لیا۔
گھر آ کر نصیب کو بتایا کہ درجات کی بڑی لڑکی کی شادی ہے جس کو اُس کے سالے نے گود لی تھی۔ نصیب دعوت نامہ پڑھ کر خوش ہوئی اور شرکت کا ارادہ ظاہر کیا۔ گاؤں کی شادی دیکھنے کا اسے شوق تھا۔ سیفی اور کیفی اس بات پر خوش ہوئے کہ چھک چھک گاڑی کا مزہ لیں گے۔
نصیب نے لڑکی کے لیے سلک کی ساری اور ایک لاکٹ خریدا۔ ساجی اور درجات کے لیے بھی کپڑے خریدے۔
میں نے ٹوکا۔ ’’اتنا کرنے کی کیا ضرورت ہے۔‘‘
’’کیسی بات کرتے ہیں آپ؟ وہ بھی تو کچھ کرے گی۔ ہمیں یونہی واپس نہیں بھیج دے گی۔‘‘
’’لا کٹ کیوں؟‘‘
’’آپ کی اٹکّر لیس بولی۔۔۔؟ وہ مجھے لاکٹ پہنائے گی اور میں بے شرم کی طرح پہن لوں اور بدلے میں اسے کچھ نہ دوں۔‘‘
’’لین دین کا معاملہ ہے۔‘‘ میں مسکرایا۔ مجھے خوشی تھی کہ وہ پہلے کی طرح فارم میں آ گئی تھی۔ میں بھی خود کو نارمل محسوس کر رہا تھا۔
فروزی کو نصیب نے اس کی خالہ کے یہاں بھیج دیا۔
ہم دو دن قبل گاؤں پہنچے۔ درجات اسٹیشن پر بیل گاڑی کے ساتھ موجود تھا۔ بیل گاڑی کے سفر میں سیفی اور کیفی نے خوب مزے کیے۔ گاڑی ہچکولے کھاتی تو دونوں ہنستے۔
ہمارا خاطر خواہ استقبال ہوا۔ ساجی نے نصیب کی آرتی اتاری اور ٹیکہ لگایا۔ درجات نے سب کی تصویریں موبائل میں قید کیں۔ گھر مہمانوں سے بھرا پڑا تھا۔ اس بار ہمیں رہنے کے لیے اندر ایک بڑا سا کمرہ دیا گیا۔ گاؤں کی عورتیں ہمیں تجسس سے دیکھ رہی تھیں۔۔۔۔ پٹنہ سے آئے ہیں۔ ساجی بہت خوش نظر آ رہی تھی۔ میں نے پہلے اسے اتنا خوش نہیں دیکھا تھا۔ ہو سکتا ہے نصیب کی آمد سے اس کی خوشی دوبالا ہو گئی ہو۔
دوسرے دن مٹکور کی رسم تھی۔ کدال کو تیل اور سیندور سے ٹیکا کیا گیا۔ ایک عورت کی پیٹھ پر پانچ بار سیندور لگایا گیا۔ نصیب بہت دلچسپی سے ساری رسم دیکھ رہی تھی۔ گھر کی عورتیں مٹّی کوڑنے اور پانی بھرنے کے لیے باہر نکلیں۔ نصیب بھی ساتھ ہو گئی۔ میں بھی سیفی اور کیفی کو لے کر باہر نکلا۔ درجات اور ساجی کا بھائی بھی ساتھ تھا۔ ساجی کے بھائی نے آم کی ایک شاخ توڑی اور سب مہوے کے پیڑ کے پاس جمع ہوئے۔ پانچ بار کدال سے مٹی کوڑی گئی اور الگ الگ ٹوکری میں جمع کی گئی۔ مہوے کی شادی آم کے پیڑ سے کرائی گئی۔ ایک عورت نے سب کے آنچل میں ایک مٹھی چنا باندھا۔ نصیب کے آنچل میں بھی چنا باندھا گیا۔ عورتوں کے دو گروپ ہو گئے اور گیت گا گا کر سب ایک دوسرے پر گالیوں کی بوچھار کرنے لگیں۔ نصیب کو پٹنیہ والی بھوجی سے خطاب کیا گیا۔ رسم کی ادائگی کے بعد عورتیں گیت گاتی ہوئی گھر کی طرف بڑھ گئیں۔ میں نصیب اور سیفی کیفی کو لے کر پہاڑی کی طرف بڑھ گیا۔ ساجی، درجات اور ساجی کے بھائی بھی ساتھ ہو لیے۔
پہاڑی میرے لیے کشش رکھتی تھی۔ یہاں کی فضا میں ایک اسرار چھپا تھا۔ خاص کر وہ سنگ مر مر کا چبوترہ جو سب سے اونچے مقام پر نصب تھا۔ نصیب وہاں بیٹھ کر ہواؤں کا لطف لینا چاہتی تھی۔ میں نے بتایا کہ پہاڑی کے پیچھے کھائیوں کا سلسلہ شروع ہوتا ہے۔ چبوترے پر بہت احتیاط سے بیٹھنا ہو گا ورنہ آدمی کھائی میں الٹ سکتا ہے۔ نصیب کو کھائی دیکھنے کا تجسّس ہوا۔ سیفی اور کیفی چبوترے پر بیٹھنے کے لیے مچلنے لگے۔
’’ادھر خطرہ ہے نصیب۔ تمہیں ادھر جانے نہیں دوں گا۔‘‘
اس کیمرے سے کچھ تصویر لیتے ہیں۔ کیمرہ بھیّا نے میرے لیئے بیر گنج سے منگوایا ہے‘‘ ساجی بول پڑی۔ اس کے ہاتھ میں کینن کا وہی ماڈل تھا جو میں نے کبھی نصیب کے لیئے خریدا تھا۔ نصیب نے اس بات کو نوٹس کیا
’’دیکھیئے۔۔۔۔ کیمرہ بھی ایسا ہی استعمال کر رہی ہے جیسا میرا ہے۔‘‘ نصیب مجھ سے مخاطب ہوئی۔
’’ہیرے کی لونگ کہاں سے لائے گی؟‘‘ میں نے مسکرا کر جواب دیا۔
’’آپ اس کیمرے کی میکنزم سمجھ لیں۔‘‘ میں نے ساجی کو قریب بلایا
ساجی مسکراتی ہوئی میرے پاس آئی۔
تصویر لیتی ہوئی اگر ساجی کھائی میں گر پڑے۔۔۔۔۔؟‘‘ اچانک یہ خیال میرے ذہن میں بجلی کی طرح کوندا۔۔۔۔۔۔
میں نے مسمرزم کا عمل شروع کیا۔۔۔۔ ساجی کی آنکھوں میں جھانکا اور دل ہی دل میں چند جملوں کا ورد کیا تاکہ اس کے لا شعور میں یہ خیال پیوست ہو جائے۔ اور اسی پل فضا ساکت ہو گئی۔ ہوا تھم گئی۔ پرندے خاموش ہو گئے۔ ماحول کسی گہرے راز سے بھر گیا۔
’’تم چبوترے سے تصویر لو گی ساجی۔۔۔۔ چبوترے سے تصویر لو گی۔۔۔۔ چبوترے سے تصویر لو گی۔۔۔۔۔‘‘
’’تم تصویر لیتی ہوئی پیچھے ہٹو گی۔۔۔۔ پیچھے ہٹو گی۔۔۔۔ پیچھے ہٹو گی۔۔۔۔‘‘
ساجی نے بھی میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال دیں۔۔۔ وہ ٹرانس میں آ گئی تھی۔۔۔۔۔۔۔ میرا ورد جاری تھا۔۔۔۔ لیکن مجھے لگا وہ ٹرانس سے باہر ہے اور کچھ ترسیل کرنا چاہ رہی ہے۔۔۔
’’تم چاہتے ہو مر جاؤں تو مر جاؤں گی۔‘‘
اچانک وہ آہستہ سے مسکرائی اور چبوترے کی طرف بڑھتی ہوئی بولی۔
’’آپ لوگ بیٹھ جائیں۔۔۔۔ میں ایک گروپ فوٹو لیتی ہوں۔‘‘
ہم سیڑھیوں پر بیٹھ گئے۔ ساجی کا بھائی اور درجات ایک چٹّان سے لگ کر کھڑے ہو گئے
ساجی نے کیمرہ فوکس کیا۔ پھر ہٹا لیا۔ ہمیں سٹ کر بیٹھنے کا اشارہ کیا اور چبوترے پر چڑھ گئی۔
’’وہاں سے نہیں۔۔۔۔۔ نیچے آؤ۔۔۔۔۔ نیچے۔۔۔۔۔۔‘‘ درجات زور سے چلّایا۔
ساجی چبوترے پر کھڑی رہی۔ ایک بار میری طرف دیکھا۔
’’ساجی۔۔۔۔ پیچھے ہٹو۔۔۔۔ مکمّل تصویر لو۔۔۔۔ پیچھے ہٹو۔۔۔۔ پیچھے۔۔۔ پیچھے۔۔۔۔۔۔‘‘ میں خاموش بت بنا دل ہی دل میں اسے امپریشن بھیج رہا تھا۔ میری نظر اس پر گڑی ہوئی تھی اور فضا میں گہری خامشی تھی۔ ساجی نے کیمرہ آنکھ سے لگایا۔۔۔۔ ہاتھ سے ہلکا سا اشارہ کیا اور ایک قدم پیچھے ہٹی۔
’’نہیں۔۔۔۔ پیچھے نہیں ہٹنا۔۔۔۔۔‘‘ درجات اسے پکڑنے کے لیے چبوترے کی طرف دوڑا لیکن وہ ایک قدم اور پیچھے ہٹی۔۔۔۔۔ اور کہرام مچ گیا۔۔۔۔۔۔ پرندے شور مچاتے ہوئے اڑے۔ ساجی کا بھائی چبوترے کی طرف دوڑا۔۔۔۔ گر گئی۔۔۔ گر گئی۔۔۔۔۔۔
نصیب چلّائی ’’ہائے اللہ غضب۔۔۔۔۔۔‘‘
سیفی اور کیفی سہم گئے۔۔۔۔۔ درجات نے چبوترے کے کنارے سے کھائی کی طرف جھانکا اور ہذیانی انداز میں چیخنے لگا۔۔۔۔۔۔ ’’ساجی پر نالے میں بہہ گئی۔۔۔۔۔۔‘‘ دونوں پہاڑی سے اتر کر ندی کی طرف بھاگے۔۔۔۔۔ میں ایک دم خاموش کھڑا تھا۔۔۔۔ بالکل بت۔۔۔ نصیب مجھے اس حال میں دیکھ کر ڈر گئی۔
’’یا اللہ۔۔۔۔۔ آپ کا چہرہ کیسا ہو گیا ہے۔‘‘
نصیب نے میرے چہرے پر خباثت دیکھی ہو گی۔۔۔۔۔۔ سامنے کے دو دانت نوکیلے ہو کر باہر کی طرف نکلے ہوئے۔۔۔۔۔ وہ خوف سے کانپ رہی تھی۔ سیفی اور کیفی اس سے لپٹ کر کھڑے تھے۔
پہاڑی کے دامن میں شور تھا۔ خبر آگ کی طرح پھیل گئی۔ لوگ ندی کی طرف دوڑ رہے تھے۔ ساجی کے گھر سے بھی سب باہر نکل پڑے۔ میں بھی نصیب اور سیفی کیفی کو لیے ندی کنارے پہنچ گیا۔ جس کنارے پر سب کھڑے تھے وہاں سے کافی دور پرنالے کا پانی چٹّان سے گذرتا ہوا ندی میں گرتا تھا۔ سب کی نظر اسی طرف تھی لیکن کچھ نظر نہیں آ رہا تھا۔ ایک مچھوارہ ناؤ لے کر ندی میں اتر گیا۔
اچانک پرنالے کی طرف ایک لاش سی بہتی نظر آئی۔
’’ادھر ہے ادھر۔‘‘ درجات چلّایا۔
مچھوارے ناؤ لے کر ادھر بڑھے۔ لاش کو کنارے لگایا۔ ساجی کا پیٹ پھول گیا تھا۔ ناک سے خون بہتا ہوا رخسار پر ٹھہر گیا تھا۔ پیشانی بھی زخمی نظر آ رہی تھی۔
درجات پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا۔
نصیب پر حادثے کا گہرا اثر پڑا تھا۔ وہ خود کو مجرم سمجھ رہی تھی کہ اس گھر کے لیے اس کے قدم منحوس ثابت ہوئے۔ اس کے آتے ہی یہ حادثہ ہوا۔۔۔۔۔ سیفی اور کیفی بھی بت بن گئے تھے۔ میں نے محسوس کیا کہ گھر کے لوگ ہمیں اب پسندیدہ نگاہوں سے نہیں دیکھ رہے ہیں۔ سب ایک ہی بات کہہ رہے تھے۔ ’’فوٹو کھینچنے میں گری۔‘‘
’’یہ جو پٹنہ سے آئے ہیں۔۔۔۔۔ انہیں کے کارن۔۔۔۔۔۔‘‘
درجات ایک ہی بات دہراتا تھا۔ ’’وہ چبوترے پر کیوں چڑھی؟ وہ جانتی تھی ادھر کھائی ہے۔‘‘
نصیب کے لیے یہ بات بہت شرم کی تھی کہ وہ نحوست لے کر آئی۔ وہ مسلسل روتی تھی اور میں خاموش تھا۔ میں کیا کہتا؟ میرے پاس الفاظ نہیں تھے۔ میرا ذہن تعطّل کا شکار تھا۔ نصیب کو سمجھا بھی نہیں سکتا تھا اور انتم سنسکار سے پہلے وہاں سے نکل بھی نہیں سکتا تھا۔ نصیب جو تحفے لے کر آئی تھی وہ سوٹ کیس میں ہی پڑے رہ گئے
ہم پٹنہ لوٹے تو درجات اسٹیشن الوداع کہنے آیا۔ نصیب نے اسے دلاسہ دیا۔
’’خدا آپ کو صبر جمیل عطا کرے۔ ہونی کو کون ٹال سکتا ہے؟‘‘
پٹنہ پہنچ کر نصیب کے اوسان بحال ہوئے اور میرے اوسان خطا ہوئے۔ مجھے ایک گہرے خلا کا احساس ہو رہا تھا۔ میں نے وہ چیز کھو دی جو حاصل نہیں کی تھی۔ نصیب اسے حادثہ ماننے کے لیے تیار نہیں تھی۔ اس کی نظر میں یہ خود کشی تھی۔ اس نے ساجی کو ہاتھ کے اشارے سے خدا حافظ کہتے دیکھا تھا پھر وہ پیچھے کی طرف ہٹتی چلی گئی تھی۔۔۔۔۔
آخر ایک دن اس نے مجھ سے جواب طلب کیا
’’ساجی نے خود کشی کیوں کی؟‘‘
’’کیسے سمجھتی ہو یہ خود کشی تھی؟‘‘
’’اس نے خدا حافظ کے انداز میں ہاتھ ہلایا اور نیچے الٹ گئی۔‘‘
’’میں نہیں مانتا۔‘‘
’’ایک بات کہوں؟‘‘
’’کہو۔‘‘
’’وہ آپ سے محبت کرتی تھی۔‘‘
’’کیا بکواس ہے؟‘‘ میں زور سے چیخا۔
لیکن نصیب پر سکون تھی۔ سکون بھرے لہجے میں بولی
’’مجھ سے شیئر کیجیے۔۔۔ میں آپ سے محبّت کرتی ہوں۔ آپ میرے محبوب ہیں‘‘
’’کیا محبت خود کشی کے لیے مجبور کرتی ہے؟‘‘
’’وہ جانتی تھی آپ کی نہیں ہو سکتی۔‘‘
’’یہ تو محبت نہیں ہوئی۔ یہ تو قبضہ ہوا۔ قبضہ نہیں کر سکی تو ناکامی میں جان دے دی۔‘‘
’’سچ سچ بتایئے۔‘‘
’’کیا؟‘‘
’’آپ کے دل میں اس کے لیے کوئی ہمدردی؟‘‘
’’ہمدردی تو تمہارے دل میں بھی ہے۔ سب کے دل میں ہے۔‘‘
’’مجھے اگر پتا ہوتا کہ وہ آپ پر جان چھڑکتی ہے تو اسے اس طرح مرنے نہیں دیتی۔
’’پھر کیا کرتی؟‘‘
’’اس کو اپنے ساتھ رکھتی۔‘‘
’’بکواس ہے نصیب۔۔۔۔ بکواس۔‘‘ میں زور سے چلّایا۔ نصیب نے چونک کر مجھے دیکھا۔
’’اس نے لونگ کی پکھراج پہنی تو تم سے برداشت نہیں ہوا۔ لاکٹ گفٹ کرنا چاہ رہی تھی تو تمہارا پارہ آسمان پر چڑھ گیا۔ تم اس کو ساتھ کیسے رکھ سکتی تھیں؟‘‘
’’اس وقت میں کیا جانتی تھی وہ آپ سے محبت کرتی ہے۔ اس وقت تو میں نے یہی سمجھا کہ مجھے نیچا دکھانے کے لیے مجھ سے مقابلہ کر رہی ہے۔‘‘
میں خاموش رہا۔ نصیب مجھے کچھ دیر خاموشی سے دیکھتی رہی پھر اچانک اٹھی اور میرا سر اپنے سینے سے لگا لیا۔
’’خدا آپ کو سکون دے۔‘‘
مجھے اپنی آنکھیں آبدیدہ محسوس ہوئیں۔۔۔۔۔۔
میرے لیئے یہ بات زیادہ تکلیف دہ ہے کہ ساجی نے خود کشی کی۔ اس نے ہمیشہ کے لیئے میرے منھ پر تھوک دیا۔۔۔ ’’تم چاہتے ہو مر جاؤں تو مر جاؤں گی۔‘‘
اس نے ضرب کاری لگائی۔۔۔۔ یہ بات مجھے ہمیشہ کچوٹتی رہے گی کہ اس نے میری اطاعت میں خود کشی کی۔۔۔ میں نے اگر سیدھا قتل کیا ہوتا تو مجھے پچھتاوا ہوتا جو وقت کے ساتھ دھندھلا سکتا تھا لیکن اس کی اطاعت نے مجھے جیتے جی قتل کر دیا۔۔۔۔ ایسا زخم دیا جو میری روح میں رستا رہے گا۔۔۔۔ پچھتاوا وقت کے ساتھ ختم ہو جاتا ہے۔ روح کے زخم وقت کے ساتھ ہرے ہوتے ہیں۔
میں نے ایسا کیوں چاہا۔۔۔۔۔؟ میں کسی سے کچھ شئیر بھی نہیں کر سکتا۔۔۔۔
میں نے اس کی محبت کو کبھی بے لوث نہیں جانا۔۔۔۔ اس کے دل کے نہاں خانے میں بہت سے نا آسودہ گوشے تھے۔۔۔۔۔ وہ میرے وجود سے انہیں بھرتی تھی۔۔۔ ان کمیوں کی وجہ سے وہ مجھ سے وابستہ ہوئی۔۔۔۔ مجھ میں ضم ہو کر ہی وہ اپنی تکمیل کو پہنچ سکتی تھی لیکن میں نے لا شعوری سطح پر اس سے قربت محسوس نہیں کی۔ ہم بستری کے لمحوں میں اس کے چہرے کے نقوش پڑھتا رہا اور میری آنکھوں پر تعصّب کا پردہ پڑا رہا۔ ساجی نے مجھ میں صرف حسن دیکھا۔ میں نے اس میں صرف عیب دیکھا۔ وہ عشق کرتی رہی میں شک کرتا رہا۔ اس کی نگاہوں میں حسن تھا میری نگاہوں میں تعصّب تھا۔
بہت با شعور ہو جانا اپنی داخلیت میں مرنا ہے۔ میں با شعور رہا اس لیے ساجی کی محبت کو محسوس نہیں کر سکا۔۔۔۔ میں سوچتا رہا کہ پھنسا ہوا ہوں۔۔۔۔۔ میں اس مرکز تک نہیں پہنچ سکا جو محبّت کا مرکز تھا۔۔۔۔ میں ساجی کی دنیا میں خود کو مکمّل طور پر سپرد نہیں کر سکا۔۔۔۔۔ عقل نے بار بار دامن تھاما ہے۔ میں سطح پر چکّر کاٹتا رہا۔۔۔۔ خود کو چھوڑ دیتا منجدھار میں۔۔۔۔۔
لیکن میں بے ساختہ ہو جانے کی صلاحیتوں سے محروم ہوں۔۔۔۔ میں نے ہمیشہ عقل سے کام لیا اور سوچتا رہا اپنے متعلق۔۔۔۔ اپنے گھر کے بارے میں۔۔۔ اپنے ماحول کے بارے میں۔۔۔۔۔ میں۔ ترجیحات کے بوجھ سے دبا رہا۔۔۔۔۔ اپنے وجود کے پامال ہونے کی فکر۔۔۔۔ شعور وجدان کا دشمن ہے۔ جبلّی قوتوں کا دشمن ہے۔۔۔۔ شعور کے بوجھ سے میرا مرا ہوا وجدان۔۔۔۔۔!!
میں نے اسے جاننے کی کوشش کی کہ ایسی ہے ویسی یے اس لیے پا نہیں سکا۔۔۔۔ اسے ہر پل کھوتا رہا۔۔۔۔ اور ساجی مجھے جاننے کی ہر کوشش سے بعید رہی۔۔۔۔ اس لیے جی سکی اور میں۔۔۔۔۔ سیلف کانشیس مین۔۔۔!! میں بس شروع میں جی سکا جب جبلّت کا غلبہ تھا اور جب شعور نے دخل اندازی کی تو جذبات پرائے ہو گئے۔۔۔ میں نے سب کچھ دانستہ کیا۔۔۔۔۔ سوچ سمجھ کر۔۔۔۔ کچھ بھی دل کی گہرائی سے نہیں تھا۔ سب کچھ دماغ کی اپج تھی اور اس لیے میں اس سے بندھ نہیں سکا۔
میرا دل کیوں بھاری ہو رہا ہے؟ میں اب پہلے کی طرح قہقہے نہیں لگاتا۔ نصیب سے چھیڑ چھاڑ نہیں کرتا۔ بچوں سے ہنسی مذاق نہیں کرتا۔ دفتر سے گھر آتا ہوں اور کمرے میں بند ہو جاتا ہوں۔ ساجی کا چہرہ نگاہوں میں گھومنے لگتا ہے۔ جو ہوا اچھا ہوا تو کیوں مسلسل اس کے بارے میں سوچتا رہتا ہوں؟ جو ہوا اچھا نہیں ہوا تو مداوا کیا ہے۔۔۔؟ کیا مجھے نصیب سے سب کچھ شئیر کرنا چاہیے؟ نصیب کیا سوچے گی؟ اسے صدمہ ہو گا۔ وہ ابھی بھی یہ الزام نہیں بھولتی کہ پٹنہ والوں کے کارن ساجی کھائی میں گری۔۔۔۔ یہ الزام اسے ہمیشہ کچوکے لگاتا ہے۔ اب حقیقت معلوم ہو گی تو اس کی نظروں میں میری کیا وقعت رہ جائے گی۔۔۔؟
اس کی چاہت غلامی کی زنجیر میں بدلنے لگی تھی۔ ہم آہستہ آہستہ ایک دوسرے کے لیئے آبجیکٹ ہوتے جا رہے تھے۔۔۔۔۔۔ آبجیکٹ ہونے کا احساس غلامی کا احساس ہے۔ نجات کی صورت یہی تھی کہ۔۔۔۔۔۔
میں نے اسے اپنی آزادی کے لیے ختم کیا لیکن کیا میں آزاد ہوں۔۔۔۔؟ جسم کے گرداب سے نکل کر میں روح کے عذاب میں مبتلا ہوں۔
کچھ دنوں بعد درجات کا فون آیا۔ وہ مجھ سے ملنا چاہتا تھا۔
درجات بہت بوڑھا لگا۔ اس نے داڑھی رکھ لی تھی۔ چہرے پر گہری تھکن کے آثار تھے لیکن آنکھیں روشن تھیں۔ وہ آنکھیں جن میں کبھی ٹھہرے ہوئے پانی کی مکروہ سی آسودگی ہوا کرتی تھی، ابھی کسی انجانی چمک سے خیرہ تھیں درجات نے بتایا کہ وہ ایک لائبریری قائم کرنا چاہتا ہے۔
’’کیسی لائبریری؟‘‘ مجھے کچھ حیرت ہوئی۔
’’ساجی کے نام پر لائبریری۔‘‘
میں خاموش رہا۔
’’اس کو پڑھنے کا بہت شوق تھا۔ میرے یہاں تو ماحول نہیں ملا تو کم سے کم اس کے نام سے ایک لائبریری قائم ہو جائے گی تو اس کی آتما کو سکون ملے گا۔‘‘
’’آپ اس سے بہتر خراج عقیدت ساجی کو نہیں دے سکتے۔‘‘
’’میں چاہتا ہوں آپ لائبریری کا ادگھاٹن کریں۔‘‘
میں نے کوئی جواب نہیں دیا۔
’’نیچے کے فلیٹ کو لائبریری بنا دیا ہے۔ ساجی پستکالیہ کا بورڈ بھی لگ گیا ہے۔ کچھ کتابیں بھی آ گئی ہیں۔‘‘
میں نے الماری سے چیک بک نکالی اور اس کی طرف پچاس ہزار کا چیک بڑھاتے ہوئے بولا۔
’’اسے قبول کیجیے۔ ہماری طرف سے لائبریری کے لیے ایک حقیر سی رقم۔‘‘
درجات کی آنکھیں چھلک پڑیں۔
’’یہ چیک آپ اس دن دیں گے تو اچھا رہے گا۔‘‘
کچھ دیر خاموشی رہی۔ پھر درجات نے بہت دکھ بھرے لہجے میں پوچھا۔
’’ایک بات سمجھ میں نہیں آئی۔‘‘
’’کون سی بات؟‘‘
’’ساجی نے آتم ہتّیا کیوں کی؟‘‘
’’کیسے کہہ سکتے ہیں کہ یہ آتم ہتّیا تھی۔‘‘ میرا لہجہ تیکھا ہو گیا۔ مجھے یہ بات گوارہ نہیں تھی کہ ساجی کی موت کو خود کشی سے منسوب کیا جائے
’’وہ جانتی تھی کہ پیچھے کھائی ہے۔‘‘
’ یہ تو سبھی جانتے تھے۔‘‘
’’میں جب اسے پکڑنے کے لیے دوڑا تھا تو اس نے مجھے ہاتھ کے اشارے سے روکا۔ اس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔۔۔۔ اور وہ پیچھے ہٹتی گئی۔‘‘
میں چپ رہا۔
’’میں نے کوئی دکھ پہنچایا ہو گا۔ تب ہی تو مر گئی۔‘‘
’’آپ نے کوئی دکھ نہیں پہنچایا درجات۔۔۔۔۔ دکھ میں نے پہنچایا۔‘‘
درجات نے میری طرف معصوم نگاہوں سے دیکھا۔
’’میں اس کا قاتل ہوں۔‘‘
’’نہیں جناب۔۔۔۔ اس نے آتم ہتیا کی۔ کوئی دکھ اس کو کھا رہا ہو گا۔‘‘ اس نے سسکیوں بھرے لہجے میں کہا۔
’’آتم ہتّیا نہیں تھی۔۔۔۔ یہ ہتّیا تھی ہتّیا۔۔۔۔ میں نے اس کی ہتّیا کی احمق آدمی۔‘‘
میں نے چیخ کر کہا۔ درجات سہم گیا۔
’’اس نے میری زندگی اجیرن کر دی تھی۔ اس لیئے اسے ہمیشہ کے لیئے راستے سے ہٹا دیا۔‘‘
درجات نے کوئی جواب نہیں دیا۔ آنسو پونچھے اور اٹھ گیا۔
میں نے اسے خدا حافظ بھی نہیں کہا۔
درجات کے جانے کے بعد سنّاٹا اچانک بڑھ گیا۔
ساجی کی آنکھیں جوابی ترسیل میں چمک رہی تھیں۔
’’تم چاہتے ہو مر جاؤں تو مر جاؤں گی۔‘‘
میرے دل میں ٹیس سی اٹھی۔۔۔۔
ٹیرو کارڈ کا ڈیول ہنسنے لگا۔
٭٭٭
تشکر: مصنف جنہوں نے اس کی فائل فراہم کی

جواب لکھیں