...................... .................

گرداب، حصہ اول ۔۔۔ شموئل احمد

سر شام افق پر اُگے تنہا ستارے کی بھی اپنی ایک اداسی ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔!
اس کی آنکھوں مںت اداسی کا کچھ ایسا ہی رنگ تھا اور اگر دھند کا کوئی چہرہ ہوتا ہے تو اُس کا چہرہ بھی۔۔۔۔۔
وہ خوب صورت نہںر تھی۔ خط و خال بھی تکھے نہں تھے۔ پھر بھی ہونٹوں کے خم دلگرت تھے اور آنکھوں مں۔ تنہا ستارے کی جھلملاتی سی اداسی تھی۔ بالائی ہونٹوں کا مرکزی حصّہ دبز تھا جو کنارے کی طرف اچانک باریک ہو گال تھا اور نچلا اندر کی طرفا ک ذرا دھنسا ہوا۔۔۔۔ وہ خاموش رہتی تو لگتا صدیوں سے لب وا نہںن ہوئے اور باتںہ کرتی تو جسےف تتلایں پکڑتی تھی۔ دانت ہم سطح اور سفد تھے۔ آ گے کے دو دانتوں کے درماون ہلکا سا شگاف تھا۔ یہ راہو کا اثر تھا۔۔۔۔۔۔
اور مجھ مںہ ییے خرابی ہے۔۔۔۔۔ آدمی مں فوراً اس کے ستارے ڈھونڈنے لگتا ہوں۔ ایک نقص اور ہے جب کوئی قصّہ بارن کرتا ہوں تو واقعات کا تسلسل ہاتھ سے پھسل جاتا ہے۔ مجھے چاہےے تھا کہ پہلے ساجی کی بابت بتاتا کہ کون تھی اور یہ کہ اس سے تعلّقات کی نوعتت کات تھی؟
اصل مںی مررا تبادلہ ہمشہل چھوٹے شہر مںع ہوتا ہے جہاں ڈھنگ کے اسکول نہں ہوتے لکنر سیہل اور کیشہ کا پٹنہ کے اچھے اسکول مں داخلہ ہو گا ہے۔ نصب بچّوں کو لے کر پٹنہ مںا رہتی ہے اور مںت آتا جاتا رہتا ہوں۔ اکثر چھٹّیوں مںک سب مرہے پاس چلے آتے ہں ۔
مرٹی پوسٹنگ ان دنوں لال گنج مںہ تھی۔ کچھ دن آفس کے کمرے مںپ گذارہ کار۔ پھر معلوم ہوا کہ چوک کے قریب ایک فلٹس خالی ہے تو دیکھنے چلا آیا۔
فلٹر پسند آیا۔ دو کمروں کا فلٹہ تھا۔ ایک چھوٹی سی بالکنی بھی تھی جو مدتان کی طرف کھلتی تھی۔ مدوان کے آخری سرے پر برگد کا ایک پڑل تھا۔ مجھے حرٹت ہوئی۔ گھنی آبادی والے شہر مںس عموماً ایسے پڑا نظر نہںر آتے۔ پڑم گھنا تھا اور اس کی لٹںع نچےد تک جھول رہی تھںے۔ تنے پر سندسور کے گہرے نشانات تھے جو بالکنی سے صاف نظر آ رہے تھے۔ تنے سے لگ کر کچھ مہابر ی جھنڈے رکھے ہوئے تھے۔ پڑہ کی پوجا ہوتی تھی۔ یید وجہ تھی کہ تزای سے بڑھتے ہوئے اس شہر مں پڑ ابھی بھی سلامت تھا۔
بالکنی اچھی لگی۔ وہسکی پنےگ کے لےھ یہ جگہ مناسب تھی۔ مکان مالک نے کرایہ پانچ ہزار بتایا تھا۔ کرایہ معقول تھا اور مراے بجٹ سے زیادہ نہںک تھا لکنک ایک جو فطرت ہوتی ہے مول تول کی۔۔۔۔۔ تو مںج نے فوراً اپنی رائے ظاہر کرنا مناسب نہںی سمجھا ورنہ وہ کرایہ کم نہںھ کرتا۔ جس بالکنی کی وجہ سے فلٹر پسند آیا تھا، اسی پر اعتراض کان۔
’’بالکنی چھو ٹی ہے۔‘‘
’’آپ اسے چھوٹی کہہ رہے ہں۔؟‘‘
’’بالکل۔‘‘
’’دس فٹ لمبی بالکنی چھوٹی نہںا ہوتی۔‘‘
’’چوڑائی مںہ کم ہے۔‘‘ مںک نے شرارت بھری مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔
’’اب آپ کو مکان نہں پسند ہے تو اور بات ہے۔‘‘ مکان مالک جھنجھلا گای۔ اس کی جھنجھلا ہٹ پر مجھے لطف آیا۔
’’اس لحاظ سے کرایہ زیادہ ہے۔‘‘
’’سو روپے کم دیےمج گا۔‘‘
’’چار ہزار۔‘‘
وہ چپ ہو گان۔ مجھے لگا اس پر حاوی ہو رہا ہوں۔ امد بندھی کہ راضی ہو جائے گا۔
’’چار ہزار کم ہوتے ہںل۔‘‘
’’مناسب ہے۔ ٹو لٹے کا بورڈ دیکھ کر یہاں آ گا ورنہ دفتر کے قریب ہی کوئی مکان دیکھتا۔‘‘
’’اب مںھ کا کہوں؟‘‘ اس کے لہجے مںا احتجاج تھا۔ مں مسکرایا اور رقم اس کی طرف بڑھاتے ہوئے خوش دلی سے بولا۔
’’پیگم رکھ لےیت ۔۔۔۔!‘‘ ایک لمحے کے لے سوچا کہ چار ہزار مں راضی نہںک ہوا تو ساڑھے چار ہزار مں ہو جائے گا۔
آدمی سادہ لوح تھا۔ راضی ہو گاے۔ مںگ جب اس کی طرف رقم بڑھا رہا تھا تو اچانک محسوس ہوا کوئی دروازے کی اوٹ سے جھانک رہا ہے۔ ادھر نظر ڈالی۔ چہرہ فوراً چھپ گاا پھر بھی پشا۔نی کی چمکتی ہوئی بندیا صاف جھلک گئی۔
وہاں سے نکل کر نصب کو فون پر بتایا کہ مکان مل گاا ہے، کرایہ چار ہزار ہے اور یہ کہ کل شفٹ کر جاؤں گا۔ نصبر نے سب کی خرںیت سے آ گاہ کار اور پوچھا کہ مں گھر کب آ رہا ہوں؟ مں نے اگلے اتوار کی تاریخ بتائی۔ دوسرے دن ساز و سامان کے ساتھ فلٹآ مںی شفٹ کر گال۔
یہ تن منزلہ عمارت تھی جس مںہ تنے فلٹہ تھے۔ ایک فلٹو نچلی منزل پر تھا جس مںم کوئی وکلں صاحب رہتے تھے۔ بچن والی منزل پر مںا آ گاف تھا اور مکان مالک اوپری منزل پر تھا۔ نچےٹ جو مشترکہ سڑچھی اوپر کی طرف گئی تھی، وہ بچو کی منزل پر ایک چورس سطح پر ختم ہو گئی تیز۔ مرگے فلٹس کے دونوں کمرے کے صدر دروازے اسی سطح پر کھلتے تھے۔ بڈا روم کا ایک دروازہ اندر سائبان مںا کھلتا تھا جس کے نصف حصّے مںب مکان مالک کا کچن تھا۔ سائبان کا باقی حصّہ مرلے تصرّف مں تھا۔ شاید مکان کی تعمرگ ایک بار نہںب ہوئی تھی۔ مں جس حصّے مںم رہتا تھا۔ وہ غالباً پہلے بنا تھا۔ مکان مالک نے اسے سہولت کے مطابق وقتاً فوقتاً بنایا ہو گا۔ کچن سے ہوتی ہوئی ایک دوسری سڑوھی اوپر کی طرف گئی تھی جہاں بڈی روم تھے۔ اس کا بڈے روم مریے بڈں روم کے عنا اوپر واقع تھا۔ مکان مالک سدگھا سڑاھا ں چڑھتا ہوا اپنے کمرے مںے داخل ہوتا جس کا پتا مجھے اس کے قدموں کی چاپ سے ہوتا تھا۔
مررے کمرے مںر سامنے کی دیوار پر ایک چھوٹا سا روشن دان تھا جس سے لگ کر سڑرھی اوپری منزل کی طرف گئی تھی۔ روشن دان مںڑ سمنٹ کی جالی لگی ہوئی تھی جس مںر پرانا اخبار چسپاں تھا۔ اخبار گرد آلود تھا اور اس مںل جگہ جگہ سوراخ ہو گئے تھے اور رنگ پلا ہو گات تھا۔ کمرے مںخ پنکھا چلتا تو اخبار کا کونا پھڑپھڑانے لگتا۔ کچن کی سڑھھامں طے کرتا ہوا کوئی اوپری منزل پر جاتا تو اس کا سر روشن دان کی جالو ں سے نظر آتا۔ مںہ جب بھی بستر پر ہوتا نظر ادھر اٹھ جاتی۔۔۔۔۔ لگتا کوئی جھانک رہا ہے ور ایک دن سامنا بھی ہو گا ۔ مںی سڑھھائں پھلانگ رہا تھا اور وہ خراماں خراماں اتر رہی تھی۔ سڑ ھی جہاں اندر کی طرف مڑی تھی، وہاں اس سے اچانک ٹکرا گار۔ مریے ہاتھ اس کے کولہے سے چھو گئے۔۔۔۔۔ وہ ٹھٹھک گئی اور مںا گھبرا گای۔ در اصل مرھا ہاتھ بہت غلط انداز سے اس کے کولہے سے مس ہوا تھا۔ یہ ٹکّر ایک دم غرس متوقع تھی۔
’’اوہ۔۔۔۔ ساری۔۔۔۔!‘‘ مںا نادم تھا۔
جواب مںھ اس نے پلکں اٹھا کر مر ی طرف دیکھا، آہستہ سے مسکرائی اور نچےب اتر گئی۔۔۔۔ مں اسی طرح سڑاھاتں پھلانگتا ہوا اپنے کمرے مںس آیا۔
وہ کس طرح مسکرائی تھی۔۔۔۔؟ مںا نے گدگدی سی محسوس کی۔ مر ے ہو نٹوں پر بھی مسکراہٹ رینگ گئی۔ مںی بستر پر لٹ گاس اور اس خوشگوار ٹکّر کے بارے مں سوچنے لگا۔ دفعتاً مں۔ نے محسوس کا کہ کوئی دبے پاؤں سڑ ھابں چڑھ رہا ہے۔ قدموں کی ہلکی سی چاپ صاف سنائی دی۔ لگا وہی ہو گی۔ چاہا اٹھ کر دیکھوں لکنو بستر پر ہی پڑا رہا۔ وہی تھی۔ اس نے اچانک آخری سڑ ھی پر چھلا نگ لگائی اور ہنستی ہوئی کاری ڈور مںا گھس گئی۔ مںی مسکرائے بغرا نہںو رہا۔ اس کی ہنسی مںا کھنک تھی۔ زہرہ والی عورتںئ اسی طرح ہنستی ہںد۔ اس دن شام کو یہ دیکھنے کا موقع بھی مل گاا کہ ستارہ زہرہ اس کے زائچے مںا کہاں واقع ہے؟
وہ ستاروں کا حال جاننے آئی تھی۔ ساتھ مںی درجات یین شوہر نامدار بھی تھا۔ اس کے ہاتھ مںح جنم کنڈلی تھی۔ کنڈ لی پولی تھنن مںر لپٹی ہوئی تھی۔ مجھے حر ت ہوئی کہ یہ بات انہںڈ کسےی معلوم ہوئی کہ مںو نجومی بھی ہوں۔ درجات نے بتایا کہ یہ انکشاف مراے ہڈج کلرک نے کال تھا۔ مںم نے کنڈلی پھلاتئی۔ وہ برج سرطان مںہ پدہا ہوئی تھی۔ زہرہ اور راہو ساتویں خانے مںھ تھے۔ زحل دوسرے خانے مںس مشتری کے ساتھ بٹھا تھا۔
’’آپ کھانا دیر سے ختم کرتی ہںل؟‘‘ مںر نے پو چھا۔
اس نے اثبات مں سر ہلایا۔
’’آپ کو آنولے کا مربّہ پسند ہے؟‘‘
اس کی آنکھوں مںے حرنت کا رنگ گھل گات۔
’’کنڈلی مںم یہ بھی ہوتا ہے؟‘‘
’’پوری زندگی کی چھاپ ہوتی ہے۔‘‘
’’آپ بہت پڑھتے ہںک؟‘‘
’’نہںب!‘‘
’’مںں دییھت ہوں آپ ہر وقت پڑھتے رہتے ہںا۔‘‘
’’آپ نے کسےھ دیکھ لاو؟‘‘
’’دروازہ ہر وقت کھلا رہتا ہے۔‘‘
’’جھوٹ۔‘‘
’’کووں؟ جھوٹ کودں۔۔۔؟‘‘
’’آپ روشن دان سے دییھت ہںں۔‘‘
وہ جھنپث گئی۔ اس نے کنکھوھں سے درجات کی طرف دیکھا۔ وہ ہنسنے لگا۔ اس کی ہنسی بہت مدھم اور بہت عجبی تھی۔۔۔۔۔۔ غٹ۔۔۔۔ غٹ۔۔۔۔ غٹ۔۔۔۔۔ جسےد حلق مںج کچھ انڈیل رہا ہو۔ اس کا دہانہ پھلت گا تھا۔ بتینے جھلک گئی تھی اور حلق سے غٹ غٹ کی آواز نکل رہی تھی۔ اس طرح ہنستے ہوئے وہ ہونّق معلوم ہوا۔
’’کچھ اور بتایئے۔‘‘
’’کنڈلی مکمّل نہںو ہے۔‘‘
’’گاؤں کے پنڈت نے بنائی ہے۔‘‘
’’مںڈ خود بناؤں گا اور آگے کا حال بتاؤں گا۔‘‘ مںی نے پچھاہ چھڑانے کے لےئ کہا۔
اصل مںو مجھے درجات سے الرجی محسوس ہو رہی تھی۔ مجھ مںں یہ عبہ ہے۔ مں اکثر کسی شخص سے خوا ہ مخواہ بھی الرجی محسوس کرنے لگتا ہوں۔ خاص کر اُن سے جن کا آئی کوا کم ہے۔ درجات گرچہ آدمی سادہ لوح تھا لکنگ آنکھںر عجبر مند مند سی تھںت۔ آنکھںت روح کی آئنہت دار ہوتی ہںم۔ درجات کی آنکھوں سے نہ روح کا اضطراب جھلکتا تھا نہ انبساط کی کوئی آتی جاتی سی لہر اُن مںح تھی۔ اس کی آنکھوں مں ایک مکروہ قسم کی آسودگی تھی جسےی تالاب مںل ٹھہرے ہوئے پانی کا سکوت۔۔۔۔۔۔
ایسا لگتا تھا یہ شخص زندگی مںا کبھی کسی کرب سے نہںک گذرا۔ اس کی ہنسی جسےی کہرے مںا لپٹی ہوئی تھی۔ آواز اتنی مدھم تھی کہ کمرے مںا بھی مشکل سے سنائی دییں تھی۔
وہ اٹھ گئی۔ جاتے جاتے اس نے حسرت سے کتابوں کی شلفک کی طرف دیکھا۔
جو آنکھںی خواب بنتی ہںا ان مںل دھند ہوتی ہے۔ اس کی آنکھوں مںہ بھی دھند تھی۔ دھند سے پرے انتظار تھا۔ ایک تلاش تھی۔۔۔۔۔ آخر شلف کی طرف اس طرح دیکھنے کا کاک مطلب تھا اور پھر روشن دان سے مجھے گھورتے رہنا۔۔۔۔؟ مجھے حرات ہوئی کہ چالسش کی دہلزی سے گذرتی ہوئی عورت آخر کس مقام مںط اپنے لےت راحت ڈھونڈ رہی تھی؟ روح مںھ اگر ایک بار سنّاٹا قائم ہو جائے تو کبھی نہںی بھرتا۔ اس کی روح مں۔ یناً کوئی خلا تھا جس کی تکملٹ مں وہ سرگرداں تھی۔ مجھے ینیھ تھا کہ تنہائی مںً ملاقات ہوئی تو راز افشا ہو گا اور یہ موقع بیی جلد ہی مل گای۔
اس بار وہ رینو کی کنڈلی دکھانے آئی تھی۔ درجات ساتھ نہںا تھا لکنم سات سال کی رینو کو لے کر آئی تھی۔ اس کی چار بات ں تھں بلکہ پانچ۔۔۔۔۔ پانچویں کا پتا مجھے بعد مں چلا۔ رینو سب سے چھوٹی تھی۔ اس کے ہاتھ مںً رینو کی کنڈلی تھی لکنآ اس کے بارے مںی کچھ نہںس پوچھا۔ وہ صرف اپنے ہی بارے مںو باتں کر رہی تھی۔ مں نے محسوس کاھ وہ ایک بہانے سے آئی ہے۔
’’مرای کنڈلی بنی؟‘‘
’’نہںم۔‘‘
کچھ بتایئے نہ۔۔۔!‘‘
’’کاے؟‘‘
’’کچھ بھی۔‘‘
’’آپ کی زندگی کا باب ختم ہو گای۔‘‘
’’کسےک؟‘‘
’’شادی ہو گئی۔ گھر بس گاخ۔ بچّے ہں ۔‘‘
’’دوست۔۔۔۔!‘‘
’’دوست۔۔۔۔؟‘‘ مںا چونکے بغر نہںا رہا۔
وہ دور خلا مںو تکنے لگی۔ اس کی آنکھوں مںی اداسی کا رنگ گہرا گا تھا۔
اچانک وہ چہکی۔ ’’وہ دیےھخ ۔‘‘
مںا نے بالکنی سے باہر دیکھا۔ برگد کی اوپری شاخ پر ایک بگلا تنہا بٹھاھ تھا۔ اس نے چونچ گردن مںہ چھپا رکھی تھی۔
’’کساہ لگ رہا ہے؟‘‘ وہ اسی طرح چہک کر بولی۔ اس کا چہرہ ایک معصوم سی خوشی سے دمک رہا تھا۔ یہ بات اییگ تھی جسے کسی بچّے کو کوئی عجوبہ نظر آئے اور وہ خوشی سے تالا ں بجائے۔
’’جی چاہتا ہے چپکے چپکے جاؤں اور بگلے کے سفد پروں کو آہستہ سے چھوتی ہوئی گذر جاؤں۔‘‘
مںئ اسے حر ت سے دیکھ رہا تھا۔
’’برسات کے دنوں مںر جب بادل گھر آتے ہںھ تو یہاں سفدے بگلوں کی قطار ہوتی ہے۔ مںم گھنٹوں بیھھ تکا کرتی ہوں۔‘‘یہ بات اس نے بے ساختہ کہی تھی۔ اس کی بے ساختگی بہتے جھرنے کی طرح مترنّم تھی۔ مجھے حرہت ہوئی کہ پا نچ بچّے جننے کے بعد بھی ایک عورت اس طرح معصوم ہو سکتی ہے۔ وہ اپنی داخلتھ مں مری نہںی تھی۔ وہ محسوسات کی اسی سطح پر تھی جہاں پچسی سال قبل رہی ہو گی۔ مںم نے اس منظر کو اس کے ساتھ شئری کا ۔
’’واقعی بہت پاگرا لگ رہا ہے۔‘‘
’’ہے نا۔۔۔۔؟‘‘ وہ اور خوش ہو گئی۔
مںس مسکرایا۔ منظر جساگ بھی تھا، اس کے احساسات کا پاس ضروری تھا۔ وہ تنہا ان لمحوں کو جی رہی تھی۔ درجات نے ایسے احساسات کبھی شئرض نہں۔ کےا ہوں گے۔ اس کی امد بھی اس جسے گاؤدی شخص سے نہںر کی جا سکتی تھی۔ ان لمحوں کو جنےن کی آرزو اُس کی روح مںا تھی اور اس آرزو نے اس کی معصومتو کو برقرار رکھا تھا۔ مجھے چاہےت تھا کہ اس کے قریب بٹھ جاتا اور اس کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں مںھ لے کر آہستہ سے دباتا اور دونوں ایک ٹک لگائے پرندے کو دیکھتے۔ مجھے ینُس تھا وہ برا نہں مانتی لکنس مںس نے خود پر قابو رکھا اور مجھے چاہےم بھی تھا۔ پانچ بچوں والی ماں سے رشتہ استوار کرنا مناسب نہںک تھا۔ مںے خود شادی شدہ تھا دو بچّوں کا باپ۔۔۔۔! نصبو پر کان اثر ہو گا۔۔۔۔؟ پرائی عورتوں کی بو بہت جلد سونگھتی ہے۔ قاںمت ڈھا دے گی۔۔۔۔۔ کہتی ہے ترین قبلےہ کی ہوں۔ مں نے ترین عورتوں کا غصّہ دیکھا ہے۔
بالکنی سے اٹھ کر ہم کمرے مںی آئے۔
’’آپ کاے پڑھتے ہںی؟‘‘ اس نے شلفد پر ایک نظر ڈالی۔
’’کچھ نہںا۔‘‘
’’آپ کی دلچسپی کس موضوع سے ہے؟‘‘
’’مر ی دلچسپی آثارِ قدیمہ مںگ ہے۔‘‘
’’مں آپ کو آثارِ قدیمہ نظر آتا ہوں؟‘‘ مں شرارت سے مسکرایا۔
نہںک تو۔۔۔۔!‘‘ وہ کھلکھلا کر ہنس پڑی اور دیر تک ہنستی رہی۔ یہاں تک کہ اُس کا آنچل ڈھلک گاک۔ مجھے محسوس ہوا کہ اس کی چھاتافں ابھی بھی۔۔۔۔۔۔۔
’’آپ تو رئسچ ہںہ۔‘‘ وہ آ نچل سنبھالتی ہوئی بولی۔‘‘
’’کسےت؟‘‘
’’آپ کو پڑھتے ہوئے دییھت ہوں۔۔۔۔۔ بستر پر دراز۔۔۔۔ ہاتھوں مںڈ کتاب۔۔۔۔ انگلو ں مںم سگریٹ دبی ہوئی۔۔۔۔ خدمت گذار پاؤں دباتے ہوئے۔۔۔۔۔ اچھا لگتا ہے آپ کا یہ روپ۔۔۔۔!‘‘
مںئ خاموش رہا۔ وہ پھر کہں کھو گئی۔ ایک ٹک فرش کو تکنے لگی۔
’’آپ کہںم کھو گئںے۔‘‘ مںپ نے ٹوکا۔
اس نے پھی۔۔ سی مسکرا ہٹ کے ساتھ مر۔ی طرف دیکھا اور حسرت بھرے لہجے مںھ بولی کہ وہ چھٹی جماعت تک پڑھی ہوئی ہے۔ گاؤں کے اسکول مںج پڑھتی تھی کہ شادی ہو گئی۔ اس نے پہلا تلخ تجربہ باکن کاے۔ وہ یہ کہ اسے بتایا گاھ تھا کہ سسرال مںھ لوگ بہت پڑھے لکھے ہںل۔ یہاں آئی تو معلوم ہوا سبھی مڈل فل ہںں۔ خود درجات نے کہا تھا اُس کے پاس کتابوں سے بھری الماری ہے لکن ایک اخبار تک اس گھر مں نہں آتا۔
’’شادی کے بعد پڑھتںا؟‘‘
’’کسےک پڑھتی۔ یہاں ماحول نہںت تھا اور مرای عمر اس وقت محض پندرہ سال تھی۔‘‘
اس کا لہجہ اداس تھا اور مجھے لگا اس کی پلکں‘ بھی نمناک ہںت۔ مںر نے غور سے دیکھا۔ آنکھوں کے گوشے مںل پلکوں پر آ نسو کا ننھا سا قطرہ لرز رہا تھا۔ مجھ مں ہلچل سی ہوئی۔ مرپے جی مں آیا اس کی بھیغو پلکوں پر اپنے ہونٹ رکھ دوں۔ اصل مںا مرشی ایک کمزوری ہے، عورت کے آنسو مجھے بر انگختہ۔ کرتے ہںل۔۔۔۔۔ خصوصاً سسکی لیی ہوئی عورت۔۔۔۔۔۔ اس کے سکڑتے اور پھلتےم ہونٹ۔۔۔۔۔! شاید یہ مرسی سادیت پسندی ہے۔ مجھے ینپر ہو چلا تھا کہ مرہے لےں اس عورت کو چھونا آسان ہے۔ ہر عورت اپنے لا شعور کے نہاں خانوں مںی ایک مثالی مرد کی تصویر سجائے رکھتی ہے۔ وہ اس شخص سے قربت محسوس کرتی ہے جس مںی مثالی شبہن نظر آتی ہے۔ ظاہر ہے درجات مںم یہ خوبایں برائے نام بھی نہں تھںئ اور مجھ مں ۔۔۔۔۔؟ مرجے پاس کتابوں سے بھری شلفل تھی۔ مںن اس کی نظر مں ہرشو تھا۔۔۔۔۔ اعلا درجے کا رئسی۔۔۔۔۔ ایک ہاتھ مںر کتاب۔۔۔ انگلو ں مںا سگریٹ۔۔۔۔ خدمت گذار پاؤں دباتے ہوئے اور جالوںں سے تکتی ہوئی وہ۔۔۔۔!
جس لہجے مںس اس نے یہ منظر با ن کاا تھا وہ معنی رکھتا ہے۔ اس مں حسرت تھی۔۔۔۔۔ اس منظر نامے کا حصّہ بن جانے کی حسرت جو اُس کی زندگی مںہ سراب کی طرح ابھرا تھا اور ییم وہ مقام تھا جہاں مںت اس کی مثالی شبہا مںھ بہت حد تک موجود تھا۔
مںت نے اس کی دلجوئی کی۔ ’’آپ ابھی بھی پڑھ سکتی ہںہ۔‘‘
’’کسے ؟‘‘
’’پرائیویٹ سے امتحان دیےن ۔۔۔۔ مںی پڑھا دوں گا۔‘‘
جواب مںت ایک پھیام سی مسکراہٹ اس کے ہو نٹوں پر پھلپ گئی۔ کچھ بولی نہںب۔ تھوڑی دیر بیھ پھر جاتے جاتےتا کد کر گئی کہ مںی اس کی کنڈلی ضرور بنا دوں۔
نصبر کے کچھ اپنے الفاظ بھی ہںّ۔۔۔۔۔ ’’او ٹکّر لس ۔‘‘، ’’انترا‘‘ اور ’’سنو کی دھوپ۔‘‘
اگلی اتوار کو جب مںے گھر پہنچا تو نصبں سنک کی دھوپ مں گرم کپڑے سکھا رہی تھی۔ پہلے یہ بات مرصی سمجھ سے پرے تھی کہ نصبں ستمبر کی دھوپ کو سنی کی دھوپ کواں کہتی ہے لکنج جب علم نجوم سے شغف ہوا تو جانا کہ یہ اس کا اجتماعی شعور ہے۔ ۱۴؍ اگست کو شمس برج اسد مں داخل ہوتا ہے یینش سنگھ راشی مںک پرویش کرتا ہے اور وہاں تسل دن قاتم کرتا ہے۔ سنگھ راشی سورج کی اپنی راشی ہے جہاں اس کو شرف حاصل ہوتا ہے۔ شاید یین وجہ ہے کہ سورج کی کرنںی اس ماہ مںے زیادہ نوکیا محسوس ہوتی ہں اور نصبج بھی اسی ماہ گرم کپڑے سکھاتی ہے اور اسے سند کی دھوپ کہتی ہے۔ سنگھ کا لفظ صدیوں کے لسانی سفر مں سن مں۔ بدل گاو، لکن نصبپ کچھ پریشان تھی۔ فروزی کہںی بھاگ گئی تھی اور گھر مںا کام کرنے والا کوئی نہںپ تھا۔ گھر فروزی پر منحصر ہے۔ وہ ہم سب کی کمزوری ہے لکنی کمبخت رہ رہ کر بھاگ جاتی ہے اور نصبے اسے پکڑ پکڑ کر لاتی رہتی ہے۔ پچھلی بار کالونی مں کسی کے یہاں رہ گئی تھی۔ اس گھر کی مالکن سے نصبی کی اچھی خاصی تکرار ہو گئی تھی لکنگ اس بار اس کا کہں اتا پتا نہںب تھا۔
’’اپنی خالہ کے یہاں گئی ہو گی۔‘‘ مںا نے اندازہ لگایا۔
’’نہںی! خالہ سے تو وہ لڑ کر آئی تھی۔‘‘
’’پھر۔۔۔۔۔؟‘‘
’’وہ ضرور کسی کے یہاں زیادہ اجرت پر کام کر رہی ہے۔‘‘
نصبی کے لےن اس کو ڈھونڈ نکالنا مشکل نہںا ہے۔ وہ جاسوس رکھتی ہے۔ رحیمن بوا۔۔۔ می ک بوا۔۔۔۔ سونی۔۔۔! اصل مں۔ کالونی کی نوکرانوجں کا پورا کنبہ اُس کے تابع ہے لکنل نصبک بھاگل پور دسہرے کی تعطل۔ مں۔ جانا چاہ رہی تھی۔ مں۔ خوش ہوا۔۔۔۔ نہں چاہتا تھا وہ ابھی لال گنج جائے۔ نصبی مںی سونگھنے کا مادّہ ہے۔
مںی نے کسی طرح دو دن گذارے۔ گھر کا ایک دو چھوٹا سا کام کاو۔ جسےے بجلی بل کی ادائگی۔۔۔۔۔ ٹبل فن کی مرمّت۔۔۔۔! نصب سے بہانا بنایا کہ آفس مںُ ضروری کام ہے اور لال گنج چلا آیا۔ فلٹو مں داخل ہوا تو ساجی بالکونی مں تھی۔ مجھے دیکھتے ہی اندر چلی گئی شاید مسکرائی بھی تھی اور یہ معنی خزس تھا۔ اس کو توقع تھی کہ مں جلد ہی واپس آؤں گا اور جس بے ناتزی سے وہ اندر گئی تھی تو جتا رہی تھی کہ مجھے کاپ۔۔۔۔؟ آ ؤ۔۔۔۔یا۔۔۔۔ جاؤ۔۔۔۔۔!
مںؤ کمرے مں داخل بھی نہںہ ہوا تھا کہ رینو آئی۔
’’انکل! چائے لں گے۔۔۔۔۔؟‘‘
یین۔ وہ مرھے انتظار مںے تھی۔ مںہ خوش ہوا۔ مجھے چائے کی طلب بھی تھی۔ اکبر اس وقت موجود نہںہ تھا۔
چائے لے کر وہ خود آئی۔ اس کے ہونٹوں پر معنی خزی مسکراہٹ تھی جسےھ کہہ رہی ہو ’’کوےں۔۔۔؟ دل نہںف لگا نا۔۔۔؟‘‘
مںی جھنپی رہا تھا لکن فوراً خایل آیا اسے بھی شرمندہ کروں۔ مںا نے شرارت سے پو چھا۔
’’ایک بات بتایئے۔‘‘
’’کاا؟‘‘
’’آپ کو مراا انتظار تھا؟‘‘
ارے نہںے۔۔۔!‘‘
’’آپ جس طرح بالکونی مںت۔۔۔۔؟‘‘
’’مں کمار کا انتظار کر رہی تھی۔‘‘
’’کمار۔۔۔۔؟‘‘
’’مںا انہں؟ کمار کہتی ہوں۔‘‘
مںے نے اسے سر سے پاؤں تک دیکھا۔ اعتراف کروں گا کہ ایک جلن سی محسوس ہوئی۔ اس گا ؤدی کو وہ کمار کہہ رہی تھی۔۔۔۔ اس مڈل فل کو۔۔۔!
’’کہاں گئے آپ کے کمار؟‘‘ مر ے ہونٹوں پر تضحکہ آمزن مسکرا ہٹ تھی۔
’’بابا دھام گئے ہںم۔‘‘
کب گئے؟‘‘
’’جس دن آپ گئے۔‘‘
’’ابھی تو دو دن بھی نہںا ہوئے۔ بھلا آپ کے کمار آج کو ں آئںٹ گے۔ سوموار تو پرسوں ہے۔‘‘
وہ سٹپٹا گئی لکنں جواب کے لے جسےع تاّےر تھی۔
’’وہ باہر جاتے ہںد اور مںں انتظار کرنے لگتی ہوں۔ ان کے بغری کچھ اچھا نہں لگتا۔ بھوک پاہس مر جاتی ہے۔ کچھ کھایا پاے نہںج جاتا۔‘‘
’’جھوٹ۔۔۔۔!‘‘ مںا نے دل مںی کہا۔
وہ یناً جھوٹ بول رہی تھی۔ یہ پروجکشن کا عمل تھا۔ جو بات تھی نہںن وہ بات پرو جکٹپ کرنا چاہ رہی تھی۔ اس کو درجات کا انتظار نہںے تھا۔ کوئی سوال نہںج اٹھتا ہے۔ اس کو معلوم تھا کہ درجات سوموار کو جل چڑھانے کے بعد آئے گا۔ وہ مرجی راہ دیکھ رہی تھی۔ اس وقت اس کے چہرے پر جو خوشی تھی مرای قربت کی خوشی تھی، اس کے ہونٹوں پر پر اسرار مسکرا ہٹ تھی، یہ فاتحانہ مسکراہٹ تھی کہ تم بھاگ کر آ گئے۔ درجات گھر پر نہں تھا۔ وہ تنہا تھی اور آزاد تھی اور مجھ سے گھنٹوں بات کر سکتی تھی۔
چند ساعت پہلے جو جذبۂ رقابت محسوس کر رہا تھا وہ ترّحم مںا بدل گاد۔۔۔۔۔۔۔ بے چاری جتا رہی ہے کہ پتی ورتا ہے اور شوہر کا انتظار کر رہی ہے۔ اس گاؤدی شخص کو کمار کہہ کر خوش ہو رہی ہے۔ کمار اُس کا آئڈیل ہے جو درجات مںا مجروح ہوا ہے اس لے نام بدل دیا۔۔۔۔ کا نام بدل دینے سے شخصتت بدل گئی؟ کس قدر بھرم مںم جی رہی ہے وہ۔۔۔۔؟
’’آپ کھانا کھائںل گے؟‘‘
کو ں تکلّف کر رہی ہں ؟‘‘
’’تکلّف کی کاہ بات ہے۔ آپ کا ملازم تو ہے نہںی۔‘‘
’’ہوٹل تو ہے۔‘‘
’’اچھا نہںٹ لگے گا۔‘‘
’’او کے۔۔۔!‘‘ مں۔ مسکرایا۔ اس کی آنکھوں کی چمک بڑھ گئی۔
وہ اپنے فلٹا مںہ گئی تو مںا نے بھی غسل کاک اورتا زہ دم ہو کر بالکنی مں بٹھا ۔ وہ کھانا لے کر وہں۔ آ گئی۔ اس نے کھانا اپنے لےا بھی لایا تھا۔ مٹر پلاؤ بنایا تھا اور دال مکھانی کے ساتھ آلو پرول کی سبزی۔
’’یہ گنگا جمنی کلچر ہے۔‘‘
’’کا ؟‘‘
’’پلاؤ کے ساتھ دال اور سبزی۔‘‘
’’گوشت چاہےا؟‘‘
’’ایران مںب گوشت رو ٹی اور ہندوستان مںب دال روٹی۔‘‘
پو چھا کہ وہسکی پی سکتا ہوں تو اُس نے اثبات مں سر ہلایا۔ مںا نے الماری سے بو تل نکالی۔ اس نے مروے لےو پگں بنایا۔ مرای نظر اس کی انگلوےں پر پڑی۔۔۔۔ انگلارں لانبی اور مخروطی تھںت۔۔۔۔ جوڑ پر کوئی گرہ نہںب تھی۔۔۔۔۔ ناٹ لست جوائنٹس۔۔۔۔ ایسے ہاتھ کو کرمو نے فلاسفک ہنڈا بتایا ہے۔ ایسے لوگ بہت حسّاس ہوتے ہںہ۔ انہںس کوئی سمجھ نہںج پاتا لکنف مںا سمجھ رہا تھا۔ وہ اوّل درجے کی ہیپو کریٹ تھی۔ کچھ دیر پہلے کہہ رہی تھی کہ کمار کے بغرا کھایا پاو نہں جاتا اور اب مٹر پلاؤ لے کر آئی تھی لکن مرری سوچ غلط بھی ہو سیتا ہے۔ مںن کورں بھول جاتا ہوں کہ کمار اس کا آدرش پرش ہے جو درجات نہںّ ہے۔ کمار مںں ہوں اور مراے ساتھ کھانا کھاتے ہوئے گویا کمار کے ساتھ کھا رہی ہے۔
’’کمار کے نام۔‘‘ مںھ نے پہلے پگس کی پہلی چسکی لی۔
’’تھینکس۔‘‘
وہ مسکرائی۔ ایک نوالہ منھ مں ڈالا اور بالکنی سے باہر دیکھنے لگی۔ باہر ملگجا اندھرکا تھا۔ برگد کا پڑل پر اسرار نظر آ رہا تھا۔ جھنگرا کی آواز مستقل گونج رہی تھی۔ مں۔ نے غور کا ، وہ واقعی آہستہ کھاتی تھی۔۔۔۔۔ پہلے دن زائچہ دیکھ کر کہا بھی تھا۔ اصل مںگ دوسرے خانے مںی برج اسد تھا جو غرا متحرّک برج ہے۔ زحل اور مشتری وہاں موجود تھے۔ دونوں آہستہ رو ستارے ہںی اور زائچے کا دوسرا خانہ خوردنی سے وابستہ ہے۔
مںئ وہسکی کی چسکا۔ں لتےر ہوئے اسے غور سے دیکھ رہا تھا۔ اچانک زلفوں کی ایک لٹ اس کے رخسار پر لہرا گئی۔ مںی نے ہاتھ بڑھا کر اس لٹ کو پچھےغ کر دیا۔ اس نے آنکھ کے گوشے سے مر ی طرف دیکھا۔ مر ی یہ حرکت غرد متوقع تھی۔ شاید وہسکی رنگ لا رہی تھی۔
’’وہ لٹ اٹھکھیلیاں کر رہی تھی۔‘‘ مںچ نے مسکراتے ہوئے کہا۔
وہ زور سے ہنس پڑی۔ آنچل ڈھلک گاک لکنے اس نے آنچل برابر نہںھ کاے۔ اسی طرح ہنستی رہی۔ پھر اس کا لہجہ یکایک بدل گاا۔
’’آپ پچسح سال قبل کوکں نہںہ ملے؟‘‘
مںی نے اسے حردت سے دیکھا۔
وہ خاموش ہو گئی۔ ہو نٹوں کے خم نے کچھ عجبپ انداز اختامر کر لاھ۔ نچلا ہونٹ اک ذرا اندر دھنس گاں اور بالائی حصّہ کچھ اور محراب نما ہو گا ۔
مرنے ذہن مںھ وہی بات گونجی۔۔۔۔ اس عورت کو چھونا آسان ہے۔۔۔۔!
اور وہ گھڑی آ گئی۔
ساون کی جھڑی تھی۔ قمر منزل شرطنج سے گذر رہا تھا۔ شوھ بھکتوں کا مہا کمبھ شروانی ملہن شروع ہو چکا تھا۔ ہر ہر گنگے اور بول بم کے نعروں سے فضا گونج رہی تھی۔ سلطان گنج پر کسرویا خمار چھانے لگا تھا۔ گھنگھروؤں کی رن جھن سے فضا مترنّم تھی۔ بھگت جن جوق در جوق امنڈے چلے آ رہے تھے۔ شون بھگتوں نے سلطان گنج مںج گنگا جل بھرا۔ کنوریا کا ایک جتّھا ہنومان اور بے تال کا روپ دھارن کے چل رہا تھا۔ کچھ گلال اور ابرو اڑاتے چل رہے تھے۔ کچھ جتّھے ایسے بھی تھے جن کے افراد پہلے پہنچ گئے تھے اور گھاٹ کنا رے باقی ساتھو ں کا انتظار کر رہے تھے۔ مل ماس ہونے کی وجہ سے ایک ماس تک چلنے والا ملہس اس بار دو ماس چلے گا۔
مہا پنڈت راون پہلے کانوریا تھے جنہوں نے بابا دھام کا گنگا جل ابھیشیک کاج تھا۔ لنکا ادھی پتی کی ارادھنا سے خوش ہو کر بھگوان بھولے شنکر کلاےش سے لنکا جانے کے لےہ راضی ہو گئے تھے مگر آریا ورت کے بھگتوں کا موہ تااگ نہںا سکے اور داروک بن مںو استھاپت ہو گئے۔ داروک بن مںں ناگشا جواتی لنگ کے وجود کا ذکر پران مںر آیا ہے۔ سمندر منتھن کے بعد دیوتاؤں نے شری ناگشر نا تھ جویتی لنگ کو باسکی ناگ کو سونپ دیا جس سے ناگشے ناگ کا نام باسکی ناتھ پڑا اور یہ دھام باسکی ناتھ دھام کہلانے لگا۔ پورا علاقہ گھنے جنگلوں سے بھرا پڑا تھا۔ یہاں داروکا نام کی راکشسی بھی رہتی تھی۔
بھگوان بھولے ناتھ کو راون داروک سے نہںا لے جا سکا اور وہںد ان کی پوجا ارچنا شروع کی۔ لنکا ادھی پتی با قاعدہ ہری دوار سے گنگا جل کانوریہ مںس ڈھو کر بابا وید ناتھ کا مستک ابھیشیک کرتے تھے۔ کانوریہ پتھ اور ارد گرد کے درجنوں استھل دیو نام سے جانے جاتے ہںت۔۔۔۔۔ شوھ لوک۔۔۔۔ بھوت ناتھ۔۔۔۔ بھول بھلاھں۔۔۔ گر و پربت۔۔۔ رنگیشور۔۔۔۔ مہش مارا۔۔۔۔ ششول بن۔۔۔۔ لچھمن جھولا۔۔۔۔۔ اندر بن۔۔۔۔! کانوریہ پتھ کا زرّہ زرّہ شو۔ ہے اور ہر شے بم۔۔۔ بم۔۔۔۔!
فضا مںر بول بم کے مہا منتر کی گونج ہے۔۔۔۔ بابا مندر کے ٹھکگ پورب مں تری پورہ کا مندر ہے جسے پاروتی کے روپ مں جانا جاتا ہے۔ تری پورہ کے بائںم پہلو مںر ماں جے درگا کی مو رتی ہے۔ بابا مندر شکھر پر پنچ پھول لگے ہوئے ہںّ۔
بھولے ناتھ نشہ کرتے ہںر اور بھوت پریت بھی۔۔۔۔ بھو لے ناتھ وش پی گئے تھے۔۔۔۔ بھگت جن کو بھی کچھ پنات چاہےر۔۔۔۔ گانجے اور بھنگ کے نشے مںے چور۔۔۔۔ روحانتک سے سر شار۔۔۔۔ بھگت جن کانوریہ پتھ پر بڑھتے ہی چلے جا رہے ہں ۔۔۔۔ گرسوا رنگ مں شرابور۔۔۔۔ اپنے بابا وید ناتھ کے درشن کو بے قرار۔۔۔۔۔
درجات کے کندھے سے کانوریہ جھول رہی تھی۔ قدم مسلسل بابا دھام کی طرف بڑھ رہے تھے لکنر عنھ مندر کے قریب اس کو ٹھو کر لگی۔ کانوریہ کے ساتھ اوندھے منھ گرا۔۔۔۔ اور سارا جل زمنن پر الٹ گاھ۔۔۔۔!!
ساجی اداس تھی۔ یہ خبر اس کو موبائل پر معلوم ہوئی۔
’’یہ اپ شگون ہے۔‘‘
’’نہںم۔‘‘
’’پھر؟‘‘
’’بھولے ناتھ نے جل قبول کر لاا۔‘‘
’’کسےل؟‘‘
’’بھگوان نتے دیکھتے ہںر۔‘‘
’’لکنو جل تو الٹ گاک۔‘‘
یہ شطاونی حرکت تھی۔ درجات کا کا قصور۔۔۔۔؟ اور بھولے ناتھ کو اس سے کچھ لنان دینا نہںت ہے۔ وہ سب کے ہںر جن کلّیان کے لےچ وش پی گئے۔۔۔۔!‘‘
’’آپ ہںا تو مجھے سہارا ہے۔‘‘ اس کی پلکوں پر آ نسو کا ننھا سا قطرہ لرز رہا تھا۔ مںے نے اچانک اس کے چہرے کا کٹورہ سا بنایا اور پلکںپ چوم لں ۔ وہ مرتے سنے۔ سے لگ گئی۔۔۔۔۔ جسےک اس کو اسی پل کا انتظار تھا۔ مںی نے اسے بازوؤں مںے بھنچاے اور چومنے کی کوشش کی۔ مجھے اپنے رخسار پر اس کی گرم سانسوں کا لمس محسوس ہوا اور نتھنوں مںچ عجبن سی مہک گھل گئی۔۔۔۔ اوس مں بھگےا ہوئے جنگلی گھاس کی سی مہک۔۔۔۔۔۔ مںس بے قرار ہو گا ۔ اس سے پہلے کہ اس کے لب و رخسار پر اپنے ہونٹ ثبت کرتا، وہ تڑپ کر مر ے بازوؤں سے نکل گئی اور اندر کاری ڈور مںک گھس گئی۔ مں اپنے کمرے مں چلا آیا۔ وہ اس دن پھر نہں آئی۔
مں نے بھی چھٹّی لی اور گھر چلا آیا۔ فروزی مل گئی تھی۔ نصبے نے اسے ڈھونڈ نکالا تھا۔ پوچھا کہاں تھی تو بپھر گئی۔
’’یار کے پاس تھی۔‘‘
’’یار۔۔۔۔؟‘‘
’’ایک ٹمپو والے سے آنکھں لڑا رہی تھی۔‘‘
’’اب تم اس کے دل کی دھڑکنوں پر تو قابض نہںا ہو سکتں ۔‘‘
’’آپ کی ییپ اٹکّر لس بولی مجھے پسند نہںں ہے۔‘‘
’’ا ٹکّر لسک۔‘‘ نصبّ کو وہ ہر بات اٹکّر لسج لگتی ہے جو اس کے اصول کے خلاف ہے۔ فروزی کا موڈ آف تھا لکنھ مںی ہمشہّ اس کی دلجوئی کرتا ہوں۔ گھر مںے ایک آدمی گرم ہو تو دوسرے کو نرم ہونا چاہےا۔ نصبس جب جھلّاتی ہے تو لطف آتا ہے۔ ایسے مںم وہ خوب صورت لگتی ہے اور مں۔ بات کو طول دیتا ہوں۔
’’اس کی شادی کرا دو۔‘‘
’’کلموہی سے کون شادی کرے گا۔‘‘
’’ٹمپو والا۔‘‘
’’وہ اس کے ساتھ کھلے گا شادی نہںخ کرے گا۔‘‘
نصبت فکر مند تھی۔ رات بستر پر آئی تو پھر فروزی کا ذکر چھڑ۔ا۔
’’اس کی پرگنینسی ٹسٹت کراؤں گی۔‘‘
’’ایسا کو ں سو چتی ہو؟‘‘
’’اب آپ سے کا کہوں؟ وہ دو رات اسی کے پاس رہی۔‘‘
نصبت واقعی تناؤ مںں تھی۔ اس کا تناؤ مرری بانہوں مںب ہی ختم ہوتا ہے۔ مںڈ نے اسے سنےر سے لگا کر بھنچاں۔۔۔۔۔۔۔ نصبز نے آنکھںں بند کر لں ۔ مجھے ساجی کی یاد آئی۔۔۔۔۔ جنگلی گھاس کی سی مہک۔۔۔۔ لکنو نصبج کی سانسوں مںآ مہدی کی مہک ہے۔ یہ مشتری کا اثر ہے۔
مں لال گنج لوٹا تو درجات بابا دھام سے آ چکا تھا۔
مسکراہٹ بھی شخصت کی غمّاز ہوتی ہے۔ نچلی منزل پر کوئی جھا جی رہتے تھے۔ ان کی مسکراہٹ مںو برفییا ہواؤں کا لمس تھا۔ وہ اس طرح مسکراتے جسے۔ کوئی ترکش سے تر نکالتا ہے۔ وہ سی بی آئی مںا کلرک تھے۔ آنکھںا ہلکی بھوری اور مونچھںک باریک۔۔۔۔۔ وہ خواہ مخواہ بے تکلّف ہونے کی کوشش کرتے اور مںب دامن بچاتا۔ ان سے ہی معلوم ہوا کہ درجات کی پا نچ باشش ں ہںو لکنا وہ پانچویں کا ذکر نہں کرتا۔
’’ایسا کورں؟‘‘ مں نے پوچھا تھا۔
’’شرم۔۔۔!‘‘
’’کس بات کی شرم؟‘‘
’’یی کہ بٹام ایک بھی پد ا نہں۔ ہوا۔‘‘
’’اس مںت شرم کی کاا بات ہے؟‘‘ مں چڑ گاا۔
وہ مسکرایا اور ایک آنکھ دبائی۔ ’’آ خر کہتی کو ں نہںا کہ پانچ باآن ں ہںش؟‘‘
’’پانچویں کہاں ہے؟‘‘
’’بھائی نے گود لی ہے۔‘‘
جاتے جاتے اس نے ایک بات اور بتائی۔ وہ یہ کہ درجات کی ماں تاڑی پیںا ہے اور ایک ترر مجھ پر بھی چلایا۔ ’’آپ تو یہاں مستی مں ہوں گے۔‘‘
مں خاموش رہا۔ اس شخص سے دامن بچانا بہتر تھا۔
ساجی سے رو بہ رو ہونے کا موقع نہںا مل رہا تھا۔ اس کے یہاں مہمان آئے ہوئے تھے۔ وہ بہ ظاہر مصروف تھی۔ سڑنھابں چڑھتے اترتے ایک دو بار درجات سے علک سلکف ہوئی۔ وہ کچھ بجھا بجھا سا نظر آیا لکن۔ ساجی چہک رہی تھی۔ اس کے قہقہے فلٹل مںس گونج رہے تھے۔ درجات بھی ہنستا ہو گا لکنئ وہ تو ہنستا ہے غٹ۔۔۔۔۔ غٹ۔۔۔۔۔ غٹ۔۔۔۔۔۔!
خدا شکّر خورے کو شکّر دیتا ہے۔ آخر مہمان گئے۔ درجات بھی گا ۔
’’مرکی ماں تھی۔‘‘ ساجی نے بتایا۔
وہ خوش نظر آ رہی تھی۔ گلے مں۔ سونے کا لاکٹ جھول رہا تھا۔ اس نے دائںو ہاتھ کا انگوٹھا لاکٹ کے سرے مںر پھنسا رکھا تھا۔
’’درجات کہاں گئے؟‘‘
’’ماں کو پہنچا نے گئے ہںا۔‘‘
’’بہت خوش ہںچ آپ؟‘‘
’’ماں نے لاکٹ دیا۔‘‘
’’ماں کے آنے کی خو شی نہںا ہے لاکٹ ملنے کی خوشی ہے۔‘‘ مں مسکرایا۔
’’آپ ہر بات کا غلط مطلب کوخں نکالتے ہںھ؟‘‘
’’اور کاب حال ہے؟‘‘
’’اپنی کتا بںل دکھائےا نہ۔‘‘
مںئ اسے شلفا کے پاس لے گا‘۔
’’مجھے تو انگریزی نہںل آتی۔‘‘
’’ہندی پڑھےز۔‘‘
’’یہ کون سی کتاب ہے؟‘‘ اس نے جھک کر ایک کتاب کی طرف اشارہ کام۔ اس طرح جھکنے مںے اس کا شانہ مرہی پٹھس سے چھو گا ۔
اکبر کواڑ کی اوٹ سے دیکھ رہا تھا۔ نصبپ کے مائکے کا ہے۔ اکثر اس طرح دیکھتا ہے اور مجھے اس کی آنکھوں مںھ نصبھ کی آنکھںک نظر آتی ہںا۔ مں نے اسے سگریٹ لانے بھجی دیا۔ ساجی نے شلفھ سے کتاب نکالی۔ ’’یوگ کتھا امرت۔‘‘
’’پڑھے‘۔ دلچسپ کتاب ہے۔‘‘
وہ کتاب الٹ پلٹ کر دیکھنے لگی۔ وہ مر۔ے قریب کھڑی تھی۔ مںے نے اضطراب کی ہلکی سی لہر محسوس کی۔
’’آ یئے! بالکونی مںص بٹھتے ہںا۔‘‘
’’چلے ۔‘‘ وہ خوش ہو گئی اور پھر چہک کر بولی۔
’’مجھے بالکونی مںس بٹھنا اچھا لگتا ہے۔‘‘
’’اور کاا کا اچھا لگتا ہے؟‘‘
’’آپ کا ساتھ۔۔۔!‘‘
’’شکریہ۔‘‘
’’ایک بات کہوں؟‘‘
’’کہےک۔‘‘
’’مںے صرف دوستی چاہتی ہوں۔۔۔۔ اور بس۔۔۔!‘‘
مںط مسکرایا تو وہ بھی مسکرائی اور مربی طرف ایک ادا سے دیکھا۔ مجھے لگا اس کی نظریں کہہ رہی تھںت مںھ تو دوستی چاہتی ہوں تم کاک چاہتے ہو۔۔۔؟ کچھ چاہتے ہو تو آگے بڑھو۔۔۔۔! مںہ نے ایک پل بھی تامّل نہں کاھ اور اچانک اس کو اپنی بانہوں مںر بھر کر زور سے بھنچاک۔۔۔۔۔ اس کی ایڑیاں زمنی سے معلّق ہو گئںی۔۔۔۔۔ وہ مرری بانہوں کے شکنجے مں جھولنے لگی۔۔۔۔ وہ جسےّ سکتے مںم تھی۔۔۔۔ اس کا بدن ڈھلان تھا۔۔۔ وہ ذرا بھی مزاحمت نہںر کر رہی تھی۔۔۔۔۔ مں اسے اسی طرح اٹھائے بستر تک لایا۔
’’دھب۔۔۔۔ دھب۔۔۔۔۔۔‘‘ سڑیھو ں پر کسی کے قدموں کی آواز۔۔۔۔۔ اکبر۔۔۔۔۔؟؟
مںا فوراً اس سے الگ ہو گاہ اور زور زور سے بولنے لگا۔
’’دیےھا ۔۔۔۔ یہ کتاب بہت دلچسپ ہے۔۔۔۔ پڑھ کر بتایئے۔‘‘
اکبر سگریٹ لے کر آیا۔ اس وقت وہ بستر سے اٹھ رہی تھی۔ اس کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا۔ اکبر نے اس کی طرف اس طرح دیکھا جس طرح نصبل ہوتی تو دییھت ۔ مںی نے اکبر سے آنکھںک نہںن ملائںی۔
وہ کتاب لے کر چلی گئی۔
اصل مںب عورت سے تعلّق استوار ہوتا ہے تو بچھ مں لچھمن ریکھا بھی ہوتی ہے جو فوراً عبور نہںت ہوئی تو وقت کے ساتھ گہری ہونے لگتی ہے اور عمر بھر قائم رہتی ہے۔ ییے وہ لمحہ تھا جب مجھے اس لکرس کو مٹا دینا تھا ورنہ یہ تعلّق محض دوستی تک محدود رہتا۔ گرچہ مںا نے پہل اسی دن کی تھی جب درجات کو بابا دھام مںً ٹھو کر لگی تھی لکنل اس کی نوعت کچھ اور تھی۔ اس دن اس کی کانور الٹ گئی تھی۔ یہ نک فال نہںچ تھا۔ وہ تناؤ مںت تھی اور اسے ایک پاپر بھرے لمس کی ضرورت تھی اور مںا نے آہستہ سے اس کی پلکںت چومی تھںی لکنے آج وہ خوش تھی اور مجھ سے دوستی کی خواہش مند تھی اور مجھے پا ر بھری نظروں سے دیکھا تھا۔ مںد اس کی نظروں مںی کمار تھا۔ ایسے مںر تقاضا ییچ تھا کہ کمار اُسے اپنے بازوؤں کے شکنجے مںا۔۔۔۔۔۔۔
مجھے امدی تھی وہ آئے گی۔ درجات گھر سے باہر تھا اور مجھے رات کا انتظار تھا لکنے رات نے ابھی گسوگ بھی نہں بکھرھے تھے کہ اس کے فلٹ مںا خاموشی چھا گئی۔۔۔۔۔ کہں ہلکی سی سرسراہٹ بھی نہں تھی۔ مجھے حروت تھی کہ اس کی چاروں لڑکاوں کہاں مر گئں ؟ وہ ہر وقت چہکتی رہتی تھں ۔ گرچہ بڑی والی منصوبہ کچھ خاموش طبعتک تھی اور پڑھائی مںا لگی رہتی تھی لکنے منجھلی شبّو چنچل تھی اور دھم دھم کرتی ہوئی سڑھھارں اترتی تھی۔ رینو اور منود بھی باتونی تھں ۔ ان کی آواز نچےی تک سنائی دییی تھی لکنی اس وقت فلٹ مںج سوئی کی نوک بھی گرتی تو آواز ہوتی۔ مجھے لگا شاید سب کہںگ باہر ہںٹ لکنا دروازہ اندر سے بند تھا اور کہںک مدھم سا بلب روشن تھا جس کی روشنی دروازے کی دراڑ سے چھن کر آ رہی تھی۔
مںش صحن مں ٹہلنے لگا۔ یہاں سے اس کے بڈ روم کی کھڑکی نظر آتی تھی۔ کمرے مںد نمی تاریی تھی۔ کھڑکی کا پردہ ہوا مںز آہستہ آہستہ ہل رہا تھا۔ یناً کمرے مںد پنکھا چل رہا تھا۔۔۔۔ سب سو گئے کای۔۔۔۔؟ مںہ کمرے مں آیا۔ روشن دان پر نظر ڈالی۔ جالو ں کے پچھےے بھی خاموشی تھی۔ رات کے نو بج گئے۔ کھانے کے بعد اکبر حسب معمول مرھے پاؤں دبا نے لگا۔ مںب نے اوڈ کی ’’بک آف لو‘‘ ہاتھ مںآ لے لی لکن مر ا دل پڑھنے کی طرف مائل نہں تھا۔ مرآی نظر رہ رہ کر روشن دان کی طرف اٹھ رہی تھی۔ جالونں کے پچھے اندھرما تھا۔
دس بج گئے۔ اکبر نچےد سونے چلا گا۔۔ مرنی بے قراری بڑھ گئی۔ مجھے امدن تھی وہ آئے گی۔ مںس کمرے سے صحن اور صحن سے کمرے تک چہل قدمی کر رہا تھا۔ نظر کبھی کھڑکی پر جاتی کبھی روشن دان پر۔ وہسکی کا ایک پگن بنایا اور صحن مںا بٹھگ کر چسکاجں لنے لگا۔ رات عجبی سہانی تھی۔ آسمان مںے تارے چھٹکے ہوئے تھے۔ ہوا مند مند سی چل رہی تھی۔ پڑی کے پتّوں مںب ہلکی ہلکی سی سرسراہٹ تھی جو خامشی کا حصّہ تھی۔ ساڑہ رات کی خاموشی ڈراؤنی ہوتی ہے لکنہ سہانی رات کی خاموشی پر اسرار ہوتی ہے۔ مںت صحن کے فرش پر بٹھاا سگریٹ پھونک رہا تھا اور اس کا انتظار کر رہا تھا۔ اس کے انتظار مںا لطف آ رہا تھا کبھی کھڑکی کی طرف دیکھتا کبھی آسمان کی طرف۔ تاروں بھرا آسمان شہر مںا نظر نہںک آتا لکنہ یہاں کہکشاں تک نظر آ رہی تھی۔
بارہ بج گئے۔۔۔۔ اب آئے گی۔۔۔۔ ییت وقت ہے آ نے کا۔۔۔۔ مںر نے وہسکی کا آخری گھونٹ بھرا اور اپنے پاؤں پھلا ئے۔۔۔۔ اچانک لگا کوئی دبے پاؤں چل رہا ہے۔ مجھے دل کی دھڑکن تزا سی ہوتی محسوس ہوئی۔ کمرے مںے آیا۔۔۔۔ کرسی کھنچد کر روشن دان کے نچےت رکھی اور اس پر کھڑے ہو کر پرے جھانکنے کی کوشش کی۔۔۔۔ ادھر اندھریا تھا۔۔۔ مںئ نے کان بھی دھرے۔۔۔۔ قدموں کی کہںر کوئی چاپ نہںر تھی۔
مجھے عجبک لگا۔ مںر آخر اُس کا اس طرح انتظار کونں کر رہا تھا۔۔۔۔؟ اور مجھے امدے کوںں تھی کہ آئے گی۔۔۔؟ اپنے آپ پر جھنجھلا ہٹ محسوس ہوئی۔ روشنی گل کی اور بستر پر لٹ گا ۔ کچھ دیر کروٹںھ بدلتا رہا پھر اچانک جی مں آیا ٹربو کے پتّے دیکھوں۔۔۔۔؟ کار کہتے ہںس ٹرپو کارڈ۔۔۔۔ Tarot Card۔۔۔۔۔۔
مںr نے پھر روشنی کی۔ ٹرٹو کی گڈّی ہا تھ مںل لی۔ چند ساعت کے لے آنکھں۔ بند کر یکسوئی قلب حاصل کرنے کی کوشش کی۔۔۔۔ گڈّی پھیٹں۔۔۔۔۔ اور ایک پتّا کھنچاک۔
Arcane v…..The lover آرکنو سکس دی لور۔۔۔۔! آدم اور حوّا شجر ممنوعہ کے قریب اور کونپڈ نشانہ باندھتا ہوا۔۔۔۔ مسئلہ ییم تھا۔۔۔۔ مںپ اسی منزل مںe تھا۔۔۔۔ لکنب انجام کا۔ تھا۔۔۔۔؟
مںی نے دوسرا کارڈ کھنچا ۔
’’کوئن آف سورڈ۔۔۔۔۔‘‘ مںل نے تصویر کی معنویت پر غور کا ۔ خاتون پر وقار کے ہاتھ مںو شمشر۔۔۔۔۔ شمشر کی نوک اوپر اٹھی ہوئی۔۔۔۔۔!
یہ مداخلت کا اشارہ تھا۔ ساجی اب آنے والی نہں۔ تھی۔ اسے کوسا۔۔۔۔ روشنی گل کی اور بستر پر لٹ گاّ۔۔۔۔ نندل آ ہی گئی۔
آپ کہںے کمرے مں ہوں اور اچانک سامنے دیوار پر پھول اُگ آئے۔۔۔۔؟
مںے صبح دم حرمان تھا۔۔۔۔۔!
ملکہ شمشرا۔۔۔۔!
مہدی کی خوش بو سے مر ی آنکھ کھلی۔۔۔۔۔۔
نصبہ مجھ پر جھکی مراے رخسار تھپتھپا رہی تھی۔ اس کا چہرہ خوشی سے دمک رہا تھا۔ ہونٹوں پر دل آویز مسکراہٹ تھی اور آنکھوں مں رنگن۔ قمقمے جگمگا رہے تھے۔۔۔۔۔
’’تم۔۔۔۔؟‘‘ مجھے ینی نہںھ آ رہا تھا۔
وہ کھلکھلا کر ہنس پڑی۔
’’اچانک۔۔۔۔!‘‘
’’سوچا آپ کو سر پرائز دوں۔‘‘ وہ بہت خوش نظر آ رہی تھی۔ مںر نے اسے بانہوں مںو کس لاو۔ وہ کسمسائی اور کمرے کی طرف اشارہ کاں۔ مںا نے ادھر دیکھا۔ وہاں کوئی نہںم تھا لکنے روشن دان مںا بندیا چمک رہی تھی۔ مںھ نے نصب کا بوسہ لاو اور اٹھ کر بٹھن گاش۔
’’بچّے۔۔۔۔؟‘‘
’’بالکنی مں ہںئ۔‘‘
’’فروزی بھی آئی ہے؟‘‘
’’نہںز۔ خالہ کے گھر چھوڑ دیا۔‘‘
’’کوںں؟‘‘
’’یہاں اکبر جو ہے۔‘‘
’’شرا اور بکری۔۔۔۔؟‘‘ مںی مسکرایا۔ نصبا بھی مسکرائی۔
نصبر کے مسکرانے کا انداز کلوھں کے چٹکنے جسا ہے۔ اس کے ہونٹ شگفتہ ہںب۔ نصبا مسکراتی ہے تو عارض بھی مسکراتے ہںپ۔ آنکھںن بھی ہنستی ہںی۔ ہونٹ ایک ذرا خم لےت پھلتے ہںک، گالوں مں خففں سا گڈھا پڑ جاتا ہے، آنکھوں مںن قمقمے سے روشن ہو جاتے ہں ۔ اس کی مسکراہٹ کے پس پردہ دھوپ کا اجالا ہوتا ہے۔ شاید اُس کے باطن مں بہت ساری دھوپ ہے جس کی تمازت اس کی شخصت مں جذب سی محسوس ہوتی ہے۔
یہ نصبو کا شفّاف باطن ہے کہ وہ اکثر ٹی ب پیھ کے تجربے سے گذرتی ہے۔ اس نے بتایا وہ بھاگلپور جانے کے لےہ اسٹشنت پہنچی تو اُس کا دل گھبرانے لگا۔ اسے لگا جسےل مںگ بماےر ہوں۔ اس نے فوراً لال گنج کی ٹرین پکڑی اور آ گئی۔
سب سے پہلے اس نے روشن دان پر نال اخبار چپکایا اور مںا نے وہسکی کی بوتل چھپائی۔
اکبر خوش نظر آ رہا تھا۔۔۔۔ روشن دان کی طرف معنی خزا نگاہوں سے دیکھتا اور مسکراتا۔ مں یہ سوچ کر دل ہی دل مںے مسکراتا کہ چند دنوں کی بات ہے، اخبار مں پھر سوراخ ہوں گے۔
ساجی کے کمرے مں۔ کوئی سن گن نہںع تھی۔ حرکت ہوئی کہ کبھی کبھی سب کہاں مر جاتے ہں۔۔ نصبو غسل کرنے گئی تو سڑگھورں پر کسی کے قدموں کی چاپ سنائی دی۔ مریی نظریں روشن دان کی طرفا ٹھ گئںک۔ لگا کاغذ کا کونا آہستہ سے پھڑپھڑایا ہے۔۔۔۔۔ اور اچانک ساجی گلانرے مںں نظر آئی۔ وہ کسی مورتی کی طرح بے جان کھڑی تھی۔ چہرہ ساکہ ہو رہا تھا جسے، قبر سے اٹھ کر آئی ہو۔ وہ بے جان نگاہوں سے مجھے دیکھ رہی تھی۔ لب سلے تھے۔ اکبر اس وقت سودا سلف لانے گا ہوا تھا۔ سی ک اور کیر بالکونی مں وی ڈی او گمہ مں مگن تھے اور نصبا باتھ روم مںس تھی۔۔۔۔ مں نے اسے ایک لمحہ غور سے دیکھا اور پھر نچےگ اترنے کا اشارہ کاں۔ اس مںہ کٹھ پتلی کی طرح حر کت ہوئی۔ مرمے پچھے پچھے آئی۔ مںی نے نچےا کا دروازہ بند کام اور اس کی طرف مڑا اور سنےا سے لگا کر زور سے بھنچات۔۔۔۔ آہستہ سے اس کی پلکںچ چومں ۔ وہاں آنسو کا ایک قطرہ لرز رہا تھا، ہونٹ کپکپا رہے تھے اور بدن کانپ رہا تھا۔ ایک بار پھر چوما، گال تھپتھپائے اور تزہ تزھ سڑرھااں چڑھتا ہوا اپنے کمرے مںا آ گاپ۔
یہ عمل ضروری تھا۔ اب اسے اطمنازن ہو گا کہ اس کی گرفت مںا آئی ہوئی کوئی چزو آزاد ہونا نہںط چاہتی۔
نصبی کو فلٹم پسند نہںی آیا۔ باتھ روم کا ششہم ٹوٹا ہوا تھا۔ ایک کاغذ اس نے وہاں بھی چپکایا۔ صحن مںہ ایک بویام مںی مرچ کا اچار سوکھ رہا تھا۔ نصبا کو اعتراض تھا کہ صحن مالک مکان کے استعمال مںہ بھی ہے۔ صحن کے پرماپٹھ کی اونچائی کم تھی جس سے بے پردگی ہوتی تھی۔ سامنے مکانوں کے بڈک روم تک نظر آتے تھے لکنن نصبس نے زیادہ نکتہ چیست نہںں کی۔ وہ یہاں رہنے نہںن آئی تھی اور مررے لے۔ فلٹہ برا نہںک تھا۔
ساجی شام کو ملنے آئی۔ وہ بہ ظاہر خوش نظر آ رہی تھی۔ سی چ اور کیںں کو اس نے پارر کاے اور چاکلٹ کا پکٹ۔ دیا۔ نصبر سے بے تکلّف ہونے کی کوشش کی لکنچ نصبت برج قوس کی ہے۔ قوسنی عورتںا جلدی گھاس نہں ڈالتںک۔ ساجی سرطان ہے۔ قوس آتشی ہے اور سرطان آبی، پانی اور آگ مں ہم آہنگی نہںا ہو سکتی۔ پانی آگ کو بجھا دے گا یا آگ پانی کو بھاپ بنا کر اڑا دے گی۔
ساجی چلی گئی تو نصبآ نے تبصرہ کاا کہ عورت باتونی ہے۔ مںے نے تبصرے پر تبصرہ کای کہ عورت تو باتونی ہوتی ہی ہے۔ اتنا نصبک کو اکسانے کے لے کافی تھا۔ وہ برہمی کے انداز مںب بولی۔ ’’اب ایسا بھی کاے کہ بات بات پر اپنے پتی کا ذکر۔۔۔۔ مر ے پتی ایسے ہںا تو مرتے پتی ایسے ہں ۔۔۔۔۔! اس کا مطلب ہے کہ اس کا پتی ناقص ہے اور یہ دکھاوا کر رہی ہے کہ بہت پتی ورتا ہے۔‘‘
’’خطرہ۔۔۔۔!‘‘
ملکہ شمشر‘ کی خاصتہ ہے معاملے کی تہہ تک پہنچنا۔۔۔۔۔۔
دونوں کا زیادہ ملنا جلنا منا سب نہںت تھا۔
دوسرے دن نصبی کے تولر تکھے ہو گئے۔
وجہ یہ ہے کہ اس کی ناک مںہ پکھراج کی کنّی والی لونگ ہے جو مںا نے بہت پہلے دی تھی۔ اصل مں مشتری اس کا پد ائشی ستارہ ہے۔ پکھراج مشتری کا منا سب نگنہب ہے۔ ساجی دوسرے دن آئی تو اس نے ٹھکد وییت ہی لونگ پہن رکھی تھی۔۔۔۔ لکنو وہ زیادہ دیر نہںا بیھت ۔ اس کے جانے کے بعد نصب فور اً مجھ سے مخاطب ہوئی۔ ’’عجبز عورت ہے۔ اس نے وییں ہی لونگ پہنی۔‘‘
’’تو کاہ ہوا؟‘‘
’’کل تک اس کے پاس اییا لونگ نہںک تھی۔ اس نے مرےی نقل کی۔‘‘
’’جس کو عقل نہںا ہوتی ہے وہ نقل کرتی ہے۔‘‘
’’آج وہ زیادہ دیر بیھں بھی نہں۔۔۔۔۔۔ وہ دکھانے ہی آئی تھی۔‘‘
’’عجبو بات ہے۔‘‘
’’مجھ سے اپنا مقابلہ کر رہی ہے۔‘‘ نصبر کا موڈ خراب تھا۔
مجھے فکر ہوئی۔ ساجی خود کو نصب۔ سے آئی ڈییٹم فائی کر رہی تھی۔ کا عجب اس جساک لباس بھی زیب تن کرے۔ اگر ایسا ہوا تو نصب بات کی اصلتت تک پہنچ جائے گی اور مجھے فلٹ بدلنا پڑے گا۔ مںا فوراً بازار گا اور ہر ے کی کنّی والی لونگ خریدی۔
’’یہ لو۔۔۔۔!‘‘ مںہ نے لونگ اس کی ہتھیزا پر رکھ دی۔
اس نے مجھے حرہت سے دیکھا۔
’’اگر اس نے پھر نقل کی تو سمجھ لو احمق ہے۔‘‘ مں نے ہنستے ہوئے کہا۔ نصبن خوش ہو گئی۔
مںب نے محسوس کاگ کہ ساجی نصبا سے اپنائتے بڑھا نے کی کوشش کر رہی ہے۔ وہ کچھ نہ کچھ بھجواتی رہتی۔ کبھی مکئی کی بالاوں۔۔۔۔۔ کبھی امرود۔۔۔ کبھی گجر۔ نصبگ کو برا لگتا کہ وہ اتنا کو‘ں کر رہی ہے۔ ساجی کہتی تھی ’’اس کے کھت کا ہے۔‘‘حد تو یہ ہے کہ اس نے ایک بار سنما کا پاس بھی بھجوایا۔ معلوم ہوا اس کا کوئی دیور بسو شری ٹاکزا کا منجرا ہے۔ اسی سے کہہ کر اس نے پاس منگوایا ہے لکنک نصبل نے یہ کہہ کر پاس واپس کر دیا کہ وہ بچوں کی عادت بگاڑنا نہں چاہتی۔
’’آپ نے تو پاس نہں مانگا تھا؟‘‘
’’مں کوکں مانگنے لگا۔‘‘
’’آ خر یہ مہربانا ں کو ں۔۔۔۔۔؟ اس کے تویر چڑھے ہوئے تھے۔
یہ ضروری تھا کہ مںں ساجی کو برا بھلا کہتا ورنہ نصبر اور چڑ جاتی۔
’’احمق عورت ہے۔‘‘
’’وہ ہماری نظروں مںی اچھا بننے کی کوشش کر رہی ہے۔‘‘
’’یینہ وہ اچھی ہے نہںھ۔‘‘ مںش مسکرایا۔
’’مانں کا کرتا ہے؟‘‘
’’مانں دوائی بچتا ہے۔‘‘
’’اور دیور گٹی کپرنی کرتا ہے۔‘‘ نصبر کے لہجے مںا حقارت تھی۔
’’گٹر کپر نہںا منجر ہے۔‘‘
’’اکبر کہہ رہا تھا گٹ کپرا ہے۔‘‘
’’جانے دو۔۔۔۔۔ ہمںا کان؟‘‘
’’گھرانا معمولی ہے۔‘‘
’’لکنا مہذّب ہے۔ زور سے بولنے کی آواز نہںا آتی۔ کوئی جھگڑا سنائی نہںھ دیتا۔ بچّے بھی شور نہںو مچاتے۔‘‘
نصبت چپ رہی۔
’’ہو سکتا ہے مخلص ہو۔ اپنے طور پر تمہاری خاطر کر رہی ہے۔ اپنے کھتئ کی سبزیاں کھلا رہی ہے۔‘‘
نصبت نے نفی مںے سر ہلایا۔ مں نے اسے سوالہ نظروں سے دیکھا۔
’’دکھاوا کر رہی ہے۔ جتانا چاہ رہی ہے کہ صاحب حتں ک ہے جب کہ ہے نہںت۔‘‘
’’ایسا کو ں سوچتی ہو؟‘‘
’’اکبر کہہ رہا تھا سبزیاں بازار سے خرید کر بھجواتی ہے۔‘‘
کو ئن آف سورڈ۔۔۔۔ کبھی تو تلوار ماہن مں رکھا کرو۔۔۔! مجھے ساجی پر غصّہ آ رہا تھا۔۔۔۔۔ ا حمق عورت۔۔۔ پکھراج والی لونگ کواں پہنی۔۔۔؟
ساجی سے بات کرنے کا موقع نہںم مل رہا تھا ورنہ سمجھاتا کنارے رہو۔۔۔۔ نصبی جی ک عورتںت سونگھ کر سب سمجھ جاتی ہںر۔
مجھے موقع مل گاج۔ وہ تجم کا دن تھا۔ بھادوں ماس مں بڑھتے چاند کی تسریی تاریخ جب چاند ہست نچھتّر سے گذرتا ہے۔ اس دن شادی شدہ عورتںا شوہر کی لمبی عمر اور خر۔ و عافتہ کی دعائںر مانگتی ہںر۔ کہتے ہںب پاروتی نے شنکر کو حاصل کرنے کے لےگ گنگا تٹ پر بارہ ورش گھور تپ کاہ۔ تپ مںا ہوا پینص، دھوپ کھاتی اور پتّے چباتی۔ پتّے چبانے سے ہی پاروتی کا نام ’’ارپنا‘‘ پڑا۔ نارد نے پربت راج سے دونوں کے بااہ کی سفارش کی۔ پربت راج راضی ہوئے تو سکھا ں اسے لے کر جنگل چلی گئں ۔ وہاں پاروتی کھوہ مںک رہنے لگی اور ریت کا شوے لنگ بنا کر ارادھنا کی۔ پاروتی کے کٹھور تپ سے خوش ہو کر شور نے بااہ کا وچن دیا۔ پربت راج کو خبر ملی تو خوشی خوشی دونوں کا باپہ رچایا۔
ساجی مجھے سڑبھواں پر مل گئی۔ وہ کریپ سلک کی ساری مںک زیور سے لدی تھی۔ آنکھوں مںے گہرا کا جل تھا۔ ماتھے پر جھومر اور ناک مںو نتھ چمک رہی تھی۔ ہاتھوں مںھ قمقمے والی چوڑیوں کے ساتھ جڑاؤ کنگن کھنک رہے تھے۔ اس روپ مںت مںک نے اسے پہلے نہں دیکھا تھا۔
’’کس کے قتل کا ارادہ ہے؟‘‘ مںں نے مسکراتے ہوئے پو چھا۔
’’آج تج ہے۔‘‘ وہ بھی مسکرائی۔
’’روزہ ہو۔۔۔؟‘‘
اس نے اثبات مںز سر ہلایا تو جھومر ہل گائ۔ پھر آہستہ سے بو لی۔
’’ایک دیا آپ کے نام کا بھی جلاؤں گی۔‘‘
اور مسکراتی ہوئی اوپر چلی گئی۔ مںی نے ایک لہر سی محسوس کی۔۔۔۔ مرسے نام کا دیا۔۔۔۔؟ کمار کے نام کا۔۔۔!
رات تقریباً نو بجے پرشاد لے کر آئی۔۔۔۔۔ طرح طرح کے پکوان۔۔۔۔۔ پھل۔۔۔۔۔ مٹھائا۔ں۔۔۔۔۔ ساتھ مںگ چوڑی اور سند۔ور کی ڈباہ بھی۔ وہ اسی طرح سجی سنوری ہوئی تھی۔ نصب اس کو دیکھ کر مسکرائی۔
’’اللہ خرً کرے۔‘‘
ساجی شرما گئی۔ پھر ہنستی ہوئی بولی۔ ’’آج تجر ہے نہ۔۔۔۔۔‘‘
’’آپ تو دلہن بنی ہوئی ہںئ۔‘‘
’’آج کے دن ہر عورت سجتی ہے اور اپنے سہاگ کے لےح نرجلا ورت رکھتی ہے۔‘‘
کی۔ی اور سیرت اس دلہن کو بڑی دلچسپی سے دیکھ رہے تھے۔ ساجی نے دونوں کے گال چھوئے اور سر پر ہاتھ پھرتا۔
’’مںو بچپن سے ہی ورت رکھتی آ رہی ہوں۔‘‘
’’یہ ہرتا لیکا ورت ہے۔ بتایئے کوںں؟‘‘ مںی نے پوچھا۔
’’نہںر جانتی۔‘‘ وہ جھنپ گئی۔
ہرتا لیکا۔۔۔۔۔ یین ہرت جوڑا لکاگ۔۔۔۔ ہرت معنی ہرن یینا لے کر بھاگ جانا۔۔۔۔۔ ا لیکا معنی سہی ۔۔۔۔ سہا۔تھں پاروتی کا ہرن کر جنگل مںگ لے گئی تھں اور وہاں پاروتی نے شور کے لےا ورت رکھا۔ اس لےن اس ورت کو ہرتا لیکا ورت کہتے ہں ۔‘‘
وہ خاموش رہی۔
پتی لوگ تو نہںھ رکھتے۔‘‘ مںی نے پوچھا۔
’’یہ تو رکھتے ہںے۔ کہتے ہں‘ تم بھوکی ر ہو گی تو مںا کسےک کھاؤں گا۔‘‘
’’بہت پاگر کرتے ہںت آپ سے۔‘‘ مںا مسکرایا۔ جواب مں اُس نے مرای طرف خاموش نظروں سے دیکھا۔
’’یہ رواج اب مردوں مں ہو گاپ ہے۔‘‘
’’باغبان مںج امتاںبھ بچّن نے رکھا تھا۔‘‘ سیتھ بول پڑا۔
’’کاجول نے بھی شاہ رخ خان کے لےت رکھا تھا۔‘‘ کیسہ بھی بول پڑا۔
’’یین ٹی وی کلچر کا اثر ہے۔ اگر امتا۔بھ نہںر رکھتا تو آپ کے پتی مہاراج بھی نہں رکھتے۔‘‘ مںہ نے اُسے چھڑ ا۔
’’اییر بات نہںں ہے۔ وہ ہمشہ سے مراا ساتھ دیتے ہں ۔ بہت پاھرے پتی ہںں۔ مںی خود ایک سکنڈ بھی ان کے بغرا نہں رہ پاتی۔‘‘
’’خدا کرے آپ کی جوڑی سلامت رہے۔‘‘
’’یہ کا ہے؟‘‘ کیہ نے ایک پکوان کی طرف اشارہ کاا۔
’’ٹھکوا ہے۔ خالص گھی کا بنا ہے۔ کھاؤ۔‘‘
’’گھی آپ کے کھتو سے آیا ہو گا۔‘‘ مںت نے مسکراتے ہوئے کہا۔
نصب نے مجھے گھور کر دیکھا۔ اس کی نگاہںھ کہہ رہی تھںا۔ ’’یہ اٹکّر لس بو لی۔۔۔۔۔‘‘
مںب ہنسنے لگا۔ ساجی بھی مسکرائی۔ پھر اس نے ڈبّے سے چوڑی نکالی اور نصبا سے مخاطب ہوئی۔
’’پہن لےسن ۔‘‘
’’ابھی رہنے دیے ا۔‘‘
’’ارے نہںن۔۔۔۔۔ تجس کے دن سہاگن کو نئی چوڑی پہننی چاہےن۔‘‘
ساجی نے اپنے ہا تھ سے چوڑی پہنائی۔ نصبی انکار نہںس کر سکی۔ وہ خوش نظر آ رہی تھی۔ پھر اس نے ہاتھ اٹھا کر سلام کای اور ہنس کر بولی۔
’’ہمارے یہاں نئی چوڑی پہنتے ہںہ تو سلام کرتے ہںس۔‘‘
’’یہ ہے گنگا جمنی کلچر۔ تجچ کے دن چوڑی پہن کر سلام کرنا۔‘‘ مںو نے کہا۔
ساجی کے جانے کے بعد نصبن نے اکبر کو کھانا کاڑھنے کے لےس کہا۔ کھانے کے دوران ساجی سے متعلق کوئی بات نہں ہوئی لکنہ نصبو بستر پر آئی تو بولی۔ ’’چوڑیاں خوب صورت ہںا۔ اب مجھے بھی کچھ دینا پڑے گا۔‘‘
’’ایک اییو ہی لونگ دے دو۔‘‘ مںن نے شرارت بھری مسکراہٹ کے ساتھ ناک کی طرف اشارہ کاں۔
نصبھ نے مجھے گھور کر دیکھا۔ ’’شروع ہو گئے آپ۔۔۔؟‘‘
مںب ہنسنے لگا۔
’’آپ اس کو بھی چھڑک رہے تھے۔‘‘
’’نہںا تو۔۔۔۔!‘‘
’’آپ لوگ عورتوں کی بڑی خوشااں سہہ لتےہ ہںر لکن چھوٹی چھوٹی خوشاڑں گراں گذرتی ہںو۔‘‘
’’کای بات ہوئی؟‘‘
وہ بہت خوش خوش آئی۔ بہت خلوص سے پرشاد دیا اور آپ اس کا کلاس لنےی لگے۔‘‘
’’وہ کسےش؟‘‘
’’ہرتا لکا ورت کے معنی پوچھنے کی کاھ ضرورت تھی؟ بے چا ری شرمندہ ہو گئی کہ خود اپنے پرب کے بارے مںخ کچھ نہں۔ جانتی۔‘‘
’’مجھے کاخ معلوم کہ وہ اتنا بھی نہںع جانتی۔‘‘
نصب۔ مر ی طرف مڑی۔ ہتھیں۔ پر رخسار ٹکایا اور کہنی کے بل ادھ لیبے ہو گئی اور مر ی آنکھوں مںھ جھانکتی ہوئی مسکرائی۔
’’اور جناب گھی کا کھتک سے کای تعلّق؟‘‘
مںی ہنسنے لگا۔
’’آپ ہںن شطابن۔‘‘ نصب۔ بھی ہنسنے لگی۔
نصبن کی یہ ہنسی مںا خوب پہچانتا ہوں اور اس طرح بستر پر اس کے نمھ دراز ہونے کا انداز بھی۔۔۔۔ یہ خود سپردگی کا اشارہ تھا۔
مںن نے روشنی گل کی۔
’’انترا نہںھ مل رہا ہے۔‘‘ نصب۔ آہستہ سے بولی۔
انترا۔۔۔۔ نصبن کا خاص لفظ۔۔۔۔ کسی کام مںس آہنگ محسوس نہںر کرتی تو یین کہتی ہے۔ وہ جب دائں طرف ہوتی ہے تو انترا نہںو ملتا۔
اسے لپٹائے ہوئے مںن نے بائںا طرف کھنچاپ اور نصبو رسپانسو تھی۔
صبح صبح جھا جی ٹپک پڑے۔۔۔۔۔۔
مجھے الجھن ہوئی۔۔۔۔۔ اس وقت آنے کا مقصد کای تھا۔۔۔۔؟
’’سوچا آپ کو بدھائی دے دوں!‘‘
’’کس بات کی بدھائی؟‘‘
’’آپ فیل ک لائے۔‘‘ وہ مسکرائے۔۔۔۔۔ مسکرانے کا وہی انداز۔۔۔۔ ترکش سے تر نکالنے جساھ۔۔۔۔ مجھے عجب لگا۔۔۔۔۔ اس مںس بدھائی دینے کی کا بات تھی؟
’’ابھی تو بھابھی جی رہںج گی نا۔۔۔۔؟‘‘ اس کے پوچھنے کا انداز بھی مجھے طنزیہ معلوم ہوا۔
’’کچھ دن۔۔۔۔ جب تک بچّوں کا اسکول بند ہے۔‘‘
اس نے ایک لمحے کے لے مجھے گھور کر دیکھا۔ پھر ایک آنکھ دبائی اور اوپر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا۔ ’’اور ان کا کام حال ہے۔۔۔؟ خوب کنڈلی دییھر جا رہی ہے۔‘‘
مجھے نفرت کا احساس ہوا۔ نشانہ کہں’ اور تھا۔۔۔۔۔!
اور آخر اس نے ترا چلایا۔
’’مرتے ڈائرکٹر صاحب اکلے رہتے ہں۔۔ فیلوب ساتھ نہں رکھتے لکنن ممک صاحب سرپرائز چکنگس کرتی رہتی ہںت۔ جسے بھابھی جی اچانک پہنچ گئںل تو وہ بھی اسی طرح اچانک پہنچ جاتی ہںں اور خالی کمروں مںو جھانک جھانک کر دییھت ہںگ۔۔۔۔۔ یہاں تک کہ باتھ روم مںا بھی۔۔۔!‘‘ اور پھر اس نے زور کا قہقہہ لگایا۔ ’’ہا۔۔۔ ہا۔۔۔ ہا۔۔۔ ہا۔‘‘
قہقہہ لگاتے ہوئے اس کا منھ مگرمچھ کے دہانے کی طرح کھل گاں تھا اور سارے دانت نمایاں ہو گئے تھے۔
وہ دیر تک نہں بٹھا ۔ مںک نے بھی چائے کے لےھ نہں پوچھا۔
مجھے کان معلوم تھا ساری گفتگو ساجی روشن دان کے پچھے سے سن رہی ہے۔ نصبے غسل کرنے گئی تو ساجی کو مجھ سے بات کرنے کا موقع مل گا وہ بہت غصّے مںن تھی۔ مجھے دیکھتے ہی بولی۔
’’جھا جی کائ کہہ رہا تھا؟‘‘
’’ہم پر شک کرتا ہے۔‘‘
’’یہ کاہ شک کرے گا؟ خود اُس کی بو ی اپنے جٹھ سے پھنسی ہوئی ہے۔‘‘
مںّ مسکرایا۔ ساجی غصّے مںے حسنا لگ رہی تھی۔ لطف لنےے کے لے مں نے آگ مں’ تلر چھڑکا۔
’’کہتا تھا درجات کی ماں تاڑی پید ہے۔‘‘
ساجی تلملا گئی۔ ’’نرک مںں جائے گا سالا۔۔۔۔۔‘‘
مںں ہنسنے لگا۔
سڑںھواں پر کسی کے قدموں کی چاپ سنائی دی۔ ساجی کاریڈور مںے چلی گئی۔ مںج اندر کمرے مںا آ گا ۔
نصبی کا دل یہاں لگ نہں رہا تھا گرچہ ساجی اس کو لبھانے کی کوشش کرتی تھی۔ سی ن اور کیں کی بھی دلجوئی کرتی رہتی لکنن نصبا کو یہ سب پسند نہںک تھا۔ وہ یوں بھی کسی سے ملتی ہے تو احتاجط کے ساتھ کہ فاصلہ مٹتا بھی ہے اور قائم بھی رہتا ہے۔ سیی اور کیوں کو ساجی کی لڑکواں سے زیادہ گھلنے ملنے نہں دییھ تھی۔ کریم کھلنےے کبھی اوپر جاتے تو کچھ دیر مں ہی انہںن نچےت بلا لیی ۔
چھٹّیاں ختم ہو گئںک۔ جانے سے ایک دن قبل ساجی نے شام کھانے پر بلایا۔ اس کے فلٹ مںم جانے کا یہ پہلا اتّفاق تھا۔ اوپر کی سڑنھی جس چوکور سطح پر ختم ہوتی تھی۔ وہ بٹھکا کے طور پر استعمال ہوتی تھی۔ وہاں ایک پرانا صوفہ پڑا تھا۔ دو چار کرساتں بے ترتب رکھی تھںی۔ ان کے درماہن ایک چھوٹی سی مزر بھی تھی جس کا پالش اڑ گا تھا۔ ساجی کی لڑکایں اندر کہں چھپ کر بیھ ہوئی تھںت۔ شاید بڑی والی کچن مںی تھی۔ کبھی کبھی اس کے بولنے کی آواز سنائی دے جاتی۔ درجات بات بات پر اندر جاتا اور پھر آ کر کھڑا ہو جاتا۔ وہ ایک بار بھی مزتبان کی حت آ سے ہمارے درما ن بٹھا نہںن تھا۔ نصبا اور مںی صوفے پر تھے اور سامنے والی کرسو ں پر سی و اور کی بٹھے تھے۔ ساجی بار بار انہںں دلار کر رہی تھی جس سے وہ اکتاہٹ محسوس کر رہے تھے۔ مشکل یہ تھی کہ ہمارے پاس بات کرنے کے لےا کوئی موضوع نہںر تھا۔ آخر کھانا لگا تو سوچا کم سے کم کھانے کی تعریف ضرور کروں گا۔
کھانے مں زیادہ اہتمام نہں تھا۔ مٹر پنرف کی سبزی۔۔۔۔ مچھلی کا سالن، زیرہ رائس اور دال مکھانی۔۔۔۔۔۔۔
مجھے مچھلی کھانے مں ہمشہ۔ کوفت ہوتی ہے۔ اب کانٹا کون نکالے؟ مں نے اپنی مشکل کا اظہار کای تو درجات نے ایک پلٹر مںٹ مچھلی کا سالن لای اور کانٹا نکال کر مجھے پروسا۔ مںا نے محسوس کاہ، نصبت کو درجات کا یہ عمل اچھا نںال لگا۔
مںا نے کھانے کی تعریف کی۔۔۔۔۔۔
لکن گڑ کھا کر پندےی کڑوی ہو گئی۔۔۔۔۔۔
واقعہ ناگوار ہے۔ کھانا ختم ہوا تو ساجی نے نصبو کو نذرانہ پش۔ کاک۔۔۔۔۔ چوڑیاں۔۔۔۔۔ کپڑے اور سونے کا لاکٹ۔۔۔۔۔ کی د اور سیھل کو بھی کپڑے دیے۔۔۔۔۔!
کہنے لگی۔ ’’ہمارے یہاں کی ریت ہے۔۔۔۔۔ گھر سے وداع ہوتے وقت نذرانہ دیا جاتا ہے۔۔۔۔۔۔‘‘
لاکٹ دیکھ کر نصب کے ماتھے پر بل پڑ گئے۔۔۔۔۔!
آپ کواں اتنا مجھ پر خرچ کر رہی ہںھ؟‘‘
’’خرچ کی بات نہں ہے۔ یہ تو وداعی کی رسم ہے۔‘‘
’’معاف کےایھ گا۔۔۔۔۔ مںگ آپ کے گھر سے وداع نہںس ہو رہی ہوں۔ مںا اپنے ہی گھر سے اپنے گھر جا رہی ہوں۔۔۔۔۔۔‘‘ نصبک کا لہجہ ترش ہو گاو۔
ساجی چپ ہو گئی۔ مںج نے محسوس کا فضا مںب تناؤ سا ہے۔
’’مںا چوڑیاں رکھ لیوس ہوں لکن کپڑے اور لاکٹ نہںو لوں گی۔۔۔۔۔ یہ غلط ہے۔ آپ مجھ پر کو۔ں اتنا خرچ کریں گی۔۔۔۔؟‘‘
ساجی کچھ نہںو بولی۔ درجات بھی خاموش کھڑا دیکھتا رہا۔
بہت بد مزگی لےں ہم وہاں سے لوٹے۔ اپنے کمرے مںو آ کر نصب۔ کا غصّہ پھٹ پڑا۔
’’یہ دو کوڑی کی عورت مرنی جگہ خود کو دیکھ رہی ہے۔ اس دن مجھے دکھانے کے لے’ پکھراج والی لونگ پہن کر آ گئی۔ گھر مںی کھانے کے لےے نہں ہے اور بسا ہزار کا لاکٹ گفٹ کر رہی ہے۔
’’احمق ہے۔‘‘ مںر بھی بھلا برا کہنے لگا۔
’’آج مجھے مرےے ہی گھر سے وداعی دے رہی ہے۔ یہ آخر چاہتی کا۔ ہے؟‘‘
’’ایڈیٹ ہے کمبخت!‘‘
’’ما ں کساٹ بھڑوا ہے؟ کھڑا کھڑا ہونّق کی طرح دیکھتا رہتا ہے۔ مجھے تو لگتا ہے یہ ایک دن اپنی بوہی آپ کے حوالے کر دے گا۔‘‘
مجھے دونوں ہی پاگل معلوم ہوتے ہںخ۔‘‘ مںک ہنسنے لگا۔
’’مجھے ان کی نت ٹھکن نہںک معلوم ہوتی۔ آپ مکان خالی کےے۔ ۔‘‘
نصبے کا موڈ دیر تک خراب رہا۔ مںے نے اسے ینلو دلایا کہ مکان بدل لوں گا بلکہ یہاں سے تبادلہ ہی کرا لوں گا۔
صبح ہم پٹنہ کے لے روانہ ہو رہے تھے۔ نصبو اس بات پر ینلو رکھتی ہے کہ گھر سے نکلتے وقت کوئی ناگوار بات ہو جائے تو سفر بھی خراب گذرتا ہے۔ دونوں ما ں بو ی الوداع کہنے نچےف آئے تو نصب خوش دلی سے پش آئی۔ ساجی کے چہرے پر خفّت کے آثار تھے اور مجھ سے آنکھںن چرا رہی تھی اور وہ گاؤدی تو ہمشہخ کی طرح چپ چاپ کھڑا تھا۔
پٹنہ آ کر مں نے ایک ماہ کے لےپ چھٹّی بڑھا دی۔ اکبر کو بھی بلوا لا ۔
مجھے حرکت ہوئی۔۔۔۔۔۔! یہاں مجھے کوئی کام نہںک تھا۔۔۔۔ پھر چھٹّی کوھں بڑھائی۔۔۔۔۔؟ مقصد کاک تھا۔۔۔۔؟ کام نصبپ کو ینکے دلانا چاہتا تھا کہ لال گنج جانے سے مر ی دلچسپی نہں ہے؟ یا ساجی کو جتانا چاہتا تھا کہ مر ی اپنی مصروفاجت ہںہ۔ مںپ گھرکو ترجحا دیتا ہوں۔۔۔؟
پھر بھی مجھے یہ سوچ کر لطف آیا کہ اس کو مر ا انتظار ہو گا۔۔۔ وہ بے قرار ہو گی۔۔۔؟ اس کے پاس مر ا پتا نہںک تھا۔ مںہ نے اپنا فون نمبر بھی اسے نہںی دیا تھا اور اکبر کو بھی بلوا لاآ تھا۔ وہ مرری خرجیت بھی کسی سے دریافت نہں کر سکتی تھی نہ ہی مجھ تک کوئی پغا م پہنچا سکتی تھی۔۔۔۔۔ وہ کوفت مںن مبتلا ہو گی کہ مںھ کہاں گم ہو گاو۔۔۔؟
مں اعتراف کروں گا کہ یہ مرھی سادیت پسندی تھی کہ اسے کوفت مںق مبتلا کر کے مں خوش ہو رہا تھا۔ چھٹّی ختم ہونے سے ایک دن قبل مںہ نے اکبر کو بھج دیا کہ گھر کی صفائی کرا دے۔ دوسرے دن مںچ شام تک وہاں پہنچا۔ بالکونی مںں سنّاٹا تھا۔ اندر فلٹ مںا بھی کوئی شور نںنچ تھا۔ مںل نے اکبر سے اس بابت کچھ پوچھنا مناسب نہں سمجھا۔ مںف کبھی اس قسم کی بات اس سے کرتا بھی نہں تھا۔ مںھ تھکا ہوا تھا۔ دو پگ وہسکی لی اور کھانا کھا کر سو گا ۔
دوسرے دن وہ صبح صبح چائے لے کر آئی۔ مزت پر چائے رکھ کر خاموشی سے بٹھر گئی۔ اداسی اس کی آنکھوں سے صاف ظاہر تھی۔ ہونٹ دائرہ نما ہو رہے تھے۔ نچلا حصہ اندر کی طرف ایک ذرا بھنچار ہوا تھا۔۔۔۔۔۔ ساری اداسی جسے۔ ہونٹوں کے خم مں آ کر ٹھہر گئی تھی۔ مں۔ نے کوئی توجہ نہںر دی بلکہ خشک رویہ اپنایا۔
’’چائے مںک نے پی لی ہے۔‘‘
مںچ نے چائے نہںم پی تھی۔ اکبر سگریٹ لانے گاا ہوا تھا۔ مں اس کا انتظار کر رہا تھا۔
پھر پی لےںک ۔‘‘ وہ آہستہ سے بولی اور ساری کا پلّو مروڑنے لگی۔
’’نہںے!‘‘ مں نے اسی طرح خشک لہجے مں۔ کہا اور پھر یہ سوچے بغری نہںن رہا کہ کاا مںے واقعی ایسا ہوں۔۔۔؟ یہ سوانگ مںی کوچں رچ رہا تھا۔ اس نے مرای طرف عجب نظروں سے دیکھا۔ اس کی آنکھوں مںّ زخمی پرندے کی سی تڑپ تھی۔۔۔۔۔
’’مںں جانتی ہوں آپ مردے دوست نہں۔ ہو سکتے۔‘‘ لہجے مں بلا کی حسرت تھی۔ ہونٹ ایک ذرا خم لےپ کچھ اور سکڑ گئے۔ پلکوں پر آنسوؤں کا قطرہ لرز اٹھا۔۔۔۔ اور یی چزت مرری جبلّت کو ہوا دیی ہے۔ اذیت مںو سکڑے ہوئے ہونٹ۔۔۔ اور لرزتے آنسو۔۔۔۔۔۔ مں نے اسے بازوؤں مںڑ بھنچاٹ۔۔۔۔۔۔ مر۔ے نتھنوں مںز اس کی سانسوں کی تزا بو سرایت کر گئی۔۔۔۔۔ وہی جنگلی گھاس کی سی مہک۔۔۔ مجھ پر جنون سا سوار ہو گای۔۔۔۔ اس کے شانوں پر انگلا ں سختی سے گڑائںس۔۔۔۔۔ وہ درد سے بلبلا اٹھی۔۔۔۔۔ اسے بازوؤں مںپ دبوچے بستر تک آیا۔ اس کی آنںھ۔ج بند تھںی۔۔۔۔ آنسوں کا قطرہ ڈھلک کر رخسار پر رک گاو تھا۔ ہونٹ وا ہو گئے تھے اور جسم پر لرزہ طاری تھا۔ مر ی وحشت بڑھ گئی۔ اس کے ہونٹوں پر اس شدّت سے اپنے ہونٹ ثبت کےس کہ وہ کراہ اٹھی۔ ہونٹوں کا نچلا کنارا زخمی ہو گاث اور خون کی ایک پتلی سی لکرس اُبھر آئی۔ مرتی زبان پر نمک کا ذائقہ رینگ گاآ۔۔۔۔ اسی وقت سڑلھو۔ں پر کسی کے قدموں کی آہٹ۔۔۔۔۔ مںے اسے چھوڑ کر ہٹ گاھ۔ وہ اب بھی کانپ رہی تھی۔ ایک بار اُس نے نظر اٹھا کر مرںی طرف دیکھا اور کاری ڈور مںن چلی گئی۔
اکبر ہی تھا۔ مںس نے اسے کنہھ توز نظروں سے دیکھا۔ وہ خالی ہاتھ آیا تھا۔ جب اس نے کہا کہ سگریٹ کی دکان بند تھی تو مرظا غصّہ اُبل پڑا۔
مں زور سے چخاں۔ ’’آگے کوکں نہںے بڑھ گاپ حرام زادہ۔۔۔؟‘‘
اکبر گھبرا کر نچےو اتر گاے۔
اس کے جانے کے بعد بھی مرںا غصّہ کم نہں ہوا۔ مںا اندر ہی اندر کھول رہا تھا۔ کمبخت کو اسی وقت آنا تھا۔ وہ دوسری بار مخل ہوا تھا۔
اس دن سویرے ہی دفتر چلا گاہ۔ مجھے اپنے روّیے پر افسوس ہو رہا تھا۔ مںم نے ساجی کے ساتھ زیادتی کی تھی۔ مجھے حرمت تھی کہ کبھی کبھی مجھے کای ہو جاتا ہے؟ مں شام کو دفتر سے لوٹا تو فلٹر مںم کوئی چہل پہل نہں۔ تھی۔
رات دس بجے اکبر نچےھ سونے گاد تو مرھی آنکھںے روشن دان پر ٹک گئں لکن وہاں سنّاٹا تھا۔
صبح رینو پوچھنے آئی کہ مںٹ چائے پواں گا یا نہںگ۔ مںل نے خوش دلی سے کہا کہ کل نہںن پی تھی۔ اس لے آج دو پایلی چائے پونں گا۔۔۔۔۔۔
مجھے امدں تھی کہ چائے لے کر وہ خود آئے گی۔ اور وہ آئی۔ اسے دیکھتے ہی مںھ نے معذرت طلب کی۔
’’کل کے روّیے پر مں نادم ہوں۔‘‘
’’مں صرف دوستی چاہتی ہوں۔‘‘ اس نے وہی راگ الاپا۔
’’مں کب دشمنی چاہتا ہوں؟‘‘ مںا بھی مسکرایا۔
’’آپ حد سے گذرنا چاہتے ہںی لکنو مں شادی شدہ ہوں۔‘‘
’’شادی شدہ تو مںر بھی ہوں۔‘‘
’’ہم دوست بن کر ہی رہ سکتے ہںہ۔‘‘
’’دوستی اگر دل سے ہو تو اس مںں جسم بھی شامل ہو جاتا ہے۔‘‘
وہ خاموش رہی۔
’’جسم کے خلوص سے بڑھ کر کوئی خلوص نہںں ہے۔‘‘
وہ کرسی کے ہتّھے پر انگلی سے آڑی ترچھی سی لکر۔یں کھنچی رہی تھی۔ مجھے لگا وہ شش و پنج مںی ہے۔
اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ مںے لے کر آہستہ سے دبایا۔ ’’وعدہ کرتا ہوں ساتھ نبھاؤں گا۔‘‘
اس نے پلکںہ اٹھا کر مر ی طرف دیکھا۔ مں۔ نے اس کو چہرے کا کٹورہ سا بنایا اور پلکںک چوم لںر۔
’’تم مر‘ی ہو۔۔۔۔۔‘‘ مںا جذباتی ہو رہا تھا۔
اس طرح نہںہ۔‘‘ وہ بھی جذباتی لہجے مںھ بولی۔
’’پھر کس طرح۔۔۔۔؟‘‘
اس طرح مجھے گناہ کا احساس ہونے لگتا ہے۔ مں شادی شدہ ہوں۔‘‘
’’پھر کاا کروں۔۔۔۔؟‘‘
’’مجھے سندیور لگاؤ۔‘‘
سندطور۔۔۔!!!مںا نے چونک کر اُس کو دیکھا۔
وہ سنجدطہ تھی۔
’’بھگوان کو حاضر ناظر جان کر مجھے سندکور لگاؤ۔ تب مںں تمہاری ہو سکتی ہوں۔‘‘
مںں خاموش رہا۔
سندطور دان کے بعد مجھے پاپ بودھ نہںن ہو گا۔ مںد خود کو دروپدی سمجھوں گی۔‘‘
مںں مسکرایا۔ ’’کہاں ہے سندچور۔۔۔۔؟‘‘
’’رات دس بجے مراے کمرے مںں آنا۔۔۔۔‘‘
وہ چلی گئی۔ مںر نے گدگدی سی محسوس کی۔۔۔۔۔۔ وقت مناسب تھا۔ اکبر بھی نچےب چلا جائے گا۔۔۔۔۔ لڑکایں بھی کھا پی کر سو رہی ہوں گی۔
یینچ آج شب وصل کی زلفں۔ سنواروں گا۔
مںن نے سارا دن بے قراری مں گذارا۔ شام ہوئی تو بے چیھا بڑھ گئی۔ ایک انجانا سا خوف بھی محسوس ہو رہا تھا۔ عمر کے اس حصّے مں اس قسم کے تعلقات۔۔۔۔؟ بات کبھی تو طشت از بام ہو گی۔ نصبس پر کاو اثر ہو گا؟
کال کہتے ہں ٹرھو کے پتّے۔۔۔۔۔؟
مںل نے ذہن کو ایک نقطے پر مرکوز کاک۔ ٹر۔و کی گڈّی ہاتھ مں لی۔ سائل کی نمائندگی کے لے مجرا آرکنی سے لورز کارڈ کا انتخاب کاے۔ گڈّی پھیٹی اور پتّے پھلا ئے۔ مستقبل کی طرف اشارہ کرتا ہوا آخری پتّا بھی مجرچ آرکن سے تھا۔ دی ڈیول۔۔۔۔! مں ڈیول کی معنویت پر غور کرنے پر مجبور ہوا۔۔۔ کائ محبت اپنے پہلو مںر شطاآن بھی رکھتی ہے۔۔۔۔؟
رات کے دس بج گئے۔ اکبر نچےم سونے چلا گاہ۔ اس کے فلٹا مںر مکمّل خاموشی تھی اور مرپی نگاہںگ روشن دان پر ٹکی تھںچ۔ ساڑھے دس بج گئے لکنو اس کا کہںن پتا نہںہ تھا۔ شاید سو گئی ہو۔۔۔؟ مجھے یاد آیا۔ اس نے بتایا تھا کہ بہت تناؤ مںی اسے نندن آ جاتی ہے۔ وہ یناً تناؤ مںے ہو گی اور اب نند۔ مںا ہے۔۔۔! مںد باہر آیا۔ سڑوھی کے پاس کا صدر دروازہ بند تھا۔ چاہا دستک دوں لکنب پھر سوچا مصلحت اسی مںہ ہے کہ خاموش رہوں۔ یہ بات چبھ رہی تھی کہ اُس نے دس بجے کمرے مںس آنے کے لےا کہا تھا اور خود چنً کی نندا سو رہی تھی اور مںم ماہی بے آب ہو رہا تھا۔۔۔۔۔ صبح اس سے سمجھ لوں گا۔ غصّے مںب دروازہ بند کاں اور کمرے مںل آ کر سگریٹ سلگائی اور روشن دان کی طرف دیکھتے ہوئے دھویں کے مرغولے بنانے لگا۔ وہ اب نہں آئے گی۔۔۔۔۔ سگریٹ کا آخری کش لتے ہوئے مںپ نے سوچا اور روشنی گل کرنے کے لے آگے بڑھا لکنم پھر رک گاے۔ سوئچ بورڈ کے قریب کرسی رکھی تھی۔ وہاں سے کرسی اٹھا کر روشن دان کے نچےگ رکھا اور اس پر چڑھ کر پرے جھانکنے کی کوشش کی۔ وہاں اندھراا تھا۔ یہاں تک کہ سڑپھی کی دیوار تک نظر نہںی آ رہی تھی اور مجھ کو اپنی حماقت پر غصّہ آ گار۔ خود کو ملامت کرتے ہوئے کرسی سے نچےک اترا۔ روشنی گل کی لکنڑ بستر پر لٹنے کے بجائے مںت نے دوسری سگریٹ سلگائی آخر کو ں نہںچ آئی۔۔۔۔؟ مں نے گھڑی کی طرف دیکھا۔ سوا گاٹرہ بجے تھے۔ ابھی وقت ہے۔۔۔۔۔ وہ آدھی رات کے قریب آئے گی۔۔۔ اور اگر نہںن آئی تو۔۔۔۔؟ اور اگر آ گئی تو۔۔۔۔؟ مںے مسکرایا اور سگریٹ کو ایش ٹرے مں مسل کر آنگن مںے آیا۔ گرد سے اٹے آسمان مںی ستارے دور دور تک نہں تھے۔ تنہا چاند آسمان کے وسط مں لہک رہا تھا۔ اگر آ گئی تو بھری چاندنی مںا۔۔۔۔۔۔ اچانک کلک کی آواز ابھری۔۔۔۔ اس کے کمرے مںو روشنی ہوئی تھی۔ مں۔ کمرے مںا آیا اور روشن دان پر نظر کی۔ ہر ے سی اگلتی آنکھںھ۔۔۔۔۔ مرکے دل کی دھڑکن بڑھ گئی۔
کاری ڈور مںک چٹخنی گرنے کی آواز آئی۔ مںں نے دروازہ کھولا اور حرکان رہ گار۔ وہ سج دھج کر کھڑی تھی۔ بنارسی ساری مںی زیب تن۔۔۔۔۔ زیور سے لدی ہوئی۔۔۔۔ ایک دلہن کی طرح۔ مںآ اسے حر ت سے دیکھ رہا تھا۔ وہ خاموش کھڑی تھی۔
’’کاو بات ہے؟‘‘
وہ چپ رہی۔
’’اس روپ مںھ۔۔۔؟ کہںے پارٹی سے آ رہی ہو؟‘‘
وہ پھر بھی خاموش رہی۔ مں۔ مسکرایا اور اس کے نیکلس پر انگلی پھردی۔
’’اس طرح سج دھج کر۔۔۔؟‘‘
اس نے ایک بار پلکںی اٹھا کر دیکھا اور پھر سر جھکا لاہ۔
’’بتاؤ نا کاد بات ہے؟ مںک نے شانے پر ہاتھ رکھتے ہوئے نرمی سے پوچھا۔
اس نے اپنے کمرے مںا چلنے کا اشارہ کا؟۔ مںں پچھے پچھے کمرے مں۔ آیا۔ یہاں مدھم روشنی تھی۔ بستر پر نئی چادر بچھی ہوئی تھی۔ کمرے مںھ آ کر بھی وہ خاموش تھی اور سب کچھ پر اسرار معلوم ہوا۔ وہ بس مجھے تکے جا رہی تھی۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ وہ کسی الجھن مں مبتلا ہے۔ تب مںا نے مسکراتے ہوئے کہا۔
’’خوب صورت لگ رہی ہو۔‘‘
اس نے پلکںئ جھکا لںک اور رندھے ہوئے گلے سے بولی۔
’’مجھے سند ور لگاؤ۔‘‘
’’سندےور؟؟؟؟‘‘
مں مسکرایا۔ ’’اتنی سی بات۔۔۔؟‘‘
’’اتنی سی بات۔۔۔۔؟ تم اسے اتنی سی بات کہتے ہو؟‘‘ وہ تقریباً رو پڑی۔
مں نے اسے غور سے دیکھا۔ اس کے ہونٹوں پر ہلکی سی تھرتھراہٹ تھی اور آنکھوں مںں آنسو جھلک رہے تھے۔ اس فصلےا تک پہنچنے مںس وہ یناً کرب سے گذر رہی ہو گی۔ مجھے اس کی خود فرییم پر ترس آ رہا تھا۔ مںی سوچے بغرق نہںگ رہا کہ یہ عورت یا تو انتہائی چالاک ہے یا بالکل بوکقوف۔ سندنور کے بہانے وہ مجھے متأثر کرنا چاہ رہی ہے کہ اس کے جذبات سچّے ہںت لکنا ایک عدد شوہر والی عورت کے لےہ سندکور دان کاہ معنی رکھتا ہے؟ کاد اس کے بعد وہ گناہ سے بری ہو جائے گی؟ لکنس مرہی سوچ غلط بھی ہو سکتی ہے۔ مں کوسں بھول جاتا ہوں کہ مں کمار ہوں۔ صدیوں سے اس کی روح کی پنہائولں مںو بسا ہوا کمار جو آج اچانک سامنے آ گاج ہے۔ اسے وہ کسی قمتں پر نہںھ کھو سکتی۔ اسے حاصل کرنے کے لےا کسی بھی حد تک جا سکتی ہے۔ مجھے اس سے عبول سی ہمدردی محسوس ہوئی۔ ٹھوڑی پکڑ کر مں نے اس کا چہرہ اوپر اٹھایا۔
’’جان من! بتاؤ کہاں ہے سندوور؟‘‘
اس نے طاق کی طرف اشارہ کا ۔ طاق مں؟ بھگوان شوے کی چھوٹی سی مورتی رکھی ہوئی تھی۔ وہاں پر سند ور کی ایک ڈباا بھی پڑی تھی۔
’’بھگوان کو حاضر ناظر جان کر مجھے سندہور لگاؤ۔‘‘
مںھ نے سندحور کی ڈبار اٹھا لی۔
’’چلو صحن مںح کھلے آسمان کے نچےب سنداور دان کرتا ہوں۔‘‘
’ ’نہںن۔ یہاں۔۔۔۔ بھگوان کے سامنے۔‘‘
’’بھگوان تو ہر جگہ ہے۔ کہںہ بھی لگائں۔ کا فرق پڑتا ہے؟‘‘
وہ خاموش رہی۔ ہاتھ پکڑ کر اُسے صحن مںن لایا۔ چاند آسمان کے وسط مںو لہک رہا تھا۔ مجھے یاد آ گاُ پبلو نرودا نے چاند کو گواہ بنا کر شادی کی تھی۔
ہم چاند کو گواہ بنائںا گے۔‘‘ مںی نے آسمان کی طرف اشارہ کای۔
’’چاند ازل سے پا ر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔‘‘
اس نے چاند کی طرف دیکھا۔
مںچ نے اس کی پلکں۔ چومںے۔ ’’آؤ۔۔۔۔ ہم بھی عہد کریں اور چاند کو اپنا گواہ بنائں ۔‘‘
مںا نے آسمان کی طرف دونوں ہاتھ پھلاائے۔ ’’اے چاند! تو گواہ ہے۔ مںا اس عورت کو اپناتا ہوں۔۔۔۔!‘‘ اور مں نے چٹکی بھر سندگور اس کی مانگ مںا بھر دی۔ اس کی آنکھںو چھلک پڑیں۔
’’مںن تو دروپدی ہو گئی۔‘‘
اس نے اپنا سر مرںے سنے پر رکھ دیا۔
مجھے احساس ہوا کہ مرری وحشت کہں کافور ہو چکی ہے۔۔۔۔۔ چند لمحے پہلے مںن جس آگ مںہ جھلس رہا تھا، اس کی آنچ تک باقی نہں۔ تھی۔ وہ مرںے سنےگ سے لگی کانپ رہی تھی اور مں سرد کھڑا سوچ رہا تھا کہ کای واقعی وہ احساس گناہ مںن مبتلا تھی اور اب دروپدی ہو گئی۔۔۔۔؟ لکنا وہ دروپدی نہںگ ہو سکتی۔ دروپدی ایک بہادر عورت تھی۔ اس نے مرد کی جارحت کے خلاف جنگ کی تھی لکند اس نے مرھی جارحتے کو گلے لگایا تھا اور خود چل کر مرگے پاس آئی تھی۔ پا بجولاں۔۔۔۔ طلائی زنجرگوں مںق لپٹی ہوئی۔ یہ زیور نہں تھے جن سے وہ لدی ہوئی تھی۔۔۔۔۔ یہ زنجرنیں تھں جن مںو وہ جکڑی ہوئی تھی۔ نکلس۔۔۔ چق۔۔۔ کنگن۔۔۔ جھمکے۔۔۔ لونگ۔۔۔ پائل۔۔۔ یہ بڑییاں ہں جنہںک عورت مرد کی غلامی مںا خوشی سے قبول کرتی ہے۔ مرد کی فطرت مںی ہے غلام بنانا اور عورت کی فطرت مںد ہے غلام ہونا۔ غلامی کے بجط عورت کے اجتماعی شعور مںچ پنہاں ہںں۔ وہ کبھی بھی مرد کی بالا دستی سے آزاد نہںت ہو سکتی۔
مںد اسے بازوؤں مںس لے ہوئے فرش پر بٹھس گای۔ گلے مںں نکلس چمک رہا تھا۔ جگہ جگہ سرخ نگنےا جڑے ہوئے تھے۔ مں اسے ایک ٹک دیکھتا رہا۔
’’کار دیکھ رہے ہو۔۔۔؟‘‘ اس نے اپنے بازو مرری گردن مںغ حمائل کر دیے۔ مںی خاموش رہا۔
’’تم مجھے مل گئے ہو۔۔۔۔۔ مجھے کچھ اور نہں‘ چاہےن۔‘‘ وہ مرری گود مںا اور سمٹ گئی۔
مںر اس پر جھکا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نے دونوں ہاتھ چھاتوجں پر باندھ لے اور آنکھںت بند کر لںم۔ مںر نے محسوس کان اس کی چھاتانں ابھی بہت سوکھی نہںد ہںں۔ چاند آسمان کے وسط مںس آ گا تھا۔ ہر طرف گہری خامشی تھی۔ چاند کی کرنں اس کے نمس برہنہ جسم سے لپٹ رہی تھںک۔ اس کا گندمی رنگ مٹ مینک چاندنی مںم اور بھی گندمی ہو گاو تھا۔ گلے مں زیور کی چمک بڑھ گئی تھی۔ نکلس کے سرخ نگنوطں سے چنگاریاں سی پھوٹتی محسوس ہو رہی تھںھ۔ مںگ نے بے اختایر نکلس پر ہاتھ پھرنا عجبی سی تپش کا احساس ہوا۔ ایک بار آسمان کی طرف نظر کی۔ لگا چاند آگ برسا رہا ہے اور اس کا سارا وجود جسےے چاندنی مں تپ رہا ہے۔
اور مجھے اسی جنگلی گھاس کی سی مہک کا احساس ہوا۔ یہ صرف سانسوں مںی نہںد تھی۔ یہ جسم کے مساموں سے بھی پھوٹ رہی تھی اور مر ی سانسوں مںں گھل رہی تھی۔ آہستہ سے اس کے رخساروں کو ہونٹوں سے برش کاٹ۔ اس کے لب و رخسار آگ مںی دہک رہے تھے اور مجھ پر نشہ سا طاری ہو رہا تھا۔ اچانک وہ مر ی طرف متحرّک ہوئی تھی اور پھر مراے کان کی لوؤں کو اپنے دانتوں مںم آہستہ سے دبایا تو مںہ نے سہرن سی محسوس کی۔ مجھے لگا بھری تپش مںی مںب چڑھھ کے درختوں سے ہو کر گذر رہا ہوں۔ وہ سرگوشواں مں کچھ بولی جو سن نہ سکا۔ اس کی آواز خواب مںو کہںب پکارتی سی محسوس ہوئی۔۔۔۔ آنکھںے کھولںو۔ ایک نظر اس کو دیکھا۔ چاندنی مںا دہکتا ہوا اُس کا نمں برہنہ جسم بہت پر اسرار معلوم ہو رہا تھا اور تب اس کو پوری طرح برہنہ دیکھنے کی خواہش نے انگڑائی لی۔ چاند کی روشنی مںچ طلائی زنجربوں سے آراستہ ایک عورت کا برہنہ جسم۔۔۔۔۔۔
مںج نے اسے کپڑوں سے بے نا ز کرنا چاہا۔ وہ مزاحمت کرنے لگی۔
’’نہںر۔۔۔۔ پلزز نہںہ۔۔۔۔!‘‘
لکنر مں بہ ضد تھا۔
’’پلزر نہںن۔۔۔ مں کولڈ ہو جاتی ہوں۔‘‘
’’ضد مت کرو۔‘‘ مجھے غصّہ آ گان۔ ایک جھٹکے مںج اس کی ساری الگ کی، پھر بلوز۔۔۔۔۔
وہ اٹھ کر بٹھد گئی۔
’’پلزم۔۔۔۔۔ مجھے اور عریاں مت کرو۔ مںھ پوری طرح برہنہ نہںل ہو سکتی۔‘‘وہ روہانسی ہو گئی۔
’’بے کار کی ضد مت کرو۔‘‘ مں نے چاہا اسے سایہ سے بھی بے نا ز کر دوں۔ وہ گگھیانے لگی۔
’’ایسا مت کرو۔‘‘
’’کو ں؟‘‘
’’مں کولڈ ہو جاتی ہوں۔‘‘
’’کو ں کولڈ ہو جاتی ہو۔۔۔۔۔؟ کاا پاگل پن ہے؟‘‘ مرگا لہجہ سخت ہو گاس۔
’’پلزک۔۔۔ نہںک۔۔۔ پلز ۔۔۔!‘‘ اس نے چہرہ دونوں ہاتھوں سے چھپا لاج لکن۔ مجھ پر جنون سوار تھا۔
تم نہںہ مانو گی تو مںہ چلا جاؤں گا۔‘‘ بے حد ترش لہجے مںا مں نے دھمکی دی۔
وہ سسک سسک کر رونے لگی۔ مںی نے اسے سایے سے بھی بے نا ز کر دیا۔
وہ چاروں خانے چت لیلگ تھی۔ بھری چاندنی مں برہنہ۔۔۔۔ زیور سے آراستہ۔۔۔۔۔ مںم نے محسوس کاھ وہ آہستہ آہستہ کانپ رہی ہے۔ اس نے چہرہ دونوں ہاتھوں سے اس طرح چھپا لار تھا کہ دونوں چھاتانں کہنی سے ڈھک گئی تھں ۔ پٹی پر ناف کے قریب زچگی کے نشانات بہت واضح تھے۔ جی مںھ آیا انہںٹ چھو کر دیکھوں۔ وہاں پر ہاتھ رکھا۔۔۔۔۔ وہ لرز اٹھی۔ انگلوئں کے پوروں پر مجھے نمی کا احساس ہوا۔ اس کا جسم ٹھنڈا ہو رہا تھا۔ بدن پر پسنےن کی ننھی ننھی بوندیں پھوٹ آئں۔ تھںا۔ وہ مستقل کانپ رہی تھی۔ اچانک اس کی آواز کہں دور سے آتی سنائی دی۔
’’کمار۔۔۔۔ کمار۔۔۔۔ مجھے ننگا مت کرو۔۔۔۔ پلزں۔۔۔۔!‘‘
اور چاندنی دھندلا گئی۔ صحن مں۔ روئے زمن۔ کا سب سے کریہہ منظر چھا گاد۔ خوف سے کانپتا ہوا ایک عورت کا برہنہ جسم۔۔۔۔۔۔!
مںف نے اس کے کپڑے سمٹے۔ اور اُسے گود مںن اٹھا کر کمرے مںد لایا اور بستر پر لٹا دیا۔ وہ اب بھی کانپ رہی تھی۔ مں نے سر سے پاؤں تک اسے چادر سے ڈھک دیا اور سر جھکائے کمرے سے باہر نکل گاُ۔
صبح دیر سے آنکھ کھلی۔ سر بھاری محسوس ہو رہا تھا۔ کھڑکی کھولی تو موسم بدلا سا لگا۔۔۔۔ مغربی کناروں پر گہرے بادل چھائے ہوئے تھے۔ اس طرف سے آنے والی ہواؤں مں دور کہں کہرے کا لمس تھا۔ مں نے خنکی سی محسوس کی اور کھڑکی بند کر دی۔
موبائل بج اٹھا۔۔۔۔ نصب ۔۔۔۔۔؟ دیکھا تو اُسی کا فون تھا۔۔۔ کوئی ٹیان پیھا تو نہںم ہوئی۔۔۔؟ مںا نے دھڑکتے دل کے ساتھ سوچا لکن فروزی کا مسئلہ تھا۔ کسی درزی کے لڑکے نے اسے پسند کاہ تھا۔ نصبں کو لڑکا پسند تھا۔ وہ چاہتی تھی مںا بھی دیکھ لوں اور بات پکّی ہو جائے۔ مںا نے بتایا کہ فرصت ملتے ہی آ جاؤں گا۔
موبائل بند کای تو رات کا منظر نگاہوں مںب گھوم گاا۔ خوف سے کانپتا اُس کا برہنہ جسم اور شطا ن کی طرح اکڑوں بٹھاہ ہوا مںا۔۔۔۔ مجھے یاد آ گا ۔ وہ پسنےہ سے تر تھی اور مںح نے زچگی کے نشان کو چھو کر دیکھا تھا۔ مجھے اسی لج لجے پن کا احساس ہوا۔ لگا پسنے کی نمی مرای انگلو ں کے پوروں پر اب بھی موجود ہے۔ مرسے اندر اُداسی کثفٹ دھویں کی طرح پھلا گئی۔ کھڑکی پھر کھولی۔ بادل کچھ اور سا ہ ہو گئے تھے۔ خنکی بڑھ گئی تھی۔ خنک ہواؤں کے جھونکے کچھ دیر چہرے پر محسوس کرتا رہا۔ پھر چادر لپٹی کر بٹھ گاس اور اکبر کو چائے بنانے کے لےک کہا۔ اتنے مںہ منصوبہ خود چائے لے کر آ گئی۔ وہ پہلی بار مرےے کمرے مںے آئی تھی۔
اس نے بتایا کہ ناشتہ مجھے اوپر ہی کرنا ہے۔ مروا ذہن تعطّل کا شکار تھا۔ مں اس وقت اوپر جانا نہں چاہتا تھا۔ مںئ نے چائے کی پاآلی اس کے ہاتھ سے لے لی لکنا ناشتے سے انکار کائ۔ منصوبہ گئی اور ساجی دندناتی ہوئی کمرے مںے آ گئی۔ گلابی رنگ کی ساری مںب تھی جس پر ریشم سے کام کای ہوا تھا۔ مانگ مںی سندوور کا گہرا نشان تھا لکنی زیور سے لدی نہںپ تھی۔ گلے مںا فقط وہ لاکٹ تھا جو اُس کی ماں نے دیا تھا۔ اس کے بال کھلے تھے۔ شاید اس نے ابھی ابھی غسل کا تھا، اس کی آنکھوں مںھ تفکّر کے ہلکے بادل سے تھے۔
’’ناراض ہو۔۔۔؟‘‘
مںل نے نفی مںھ سر ہلایا۔
’’پھر ناشتہ کویں نہںم کرو گے؟‘‘
’’طبعتن ٹھکن نہںب ہے۔‘‘
’’کاع ہوا؟‘‘ وہ مرہے پہلو مںس بٹھا گئی اور پشاےنی پر ہاتھ رکھ کر دیکھا۔
’ ’ کچھ نہںت۔ بس طبعتھ بھاری ہے۔‘‘
’’غسل کر لو۔ طبعت بحال ہو جائے گی۔‘‘
مں’ خاموش رہا۔
’’کال سوچ رہے ہو؟‘‘
’’مںل نے تمہں ننگا کار۔‘‘
’’اس طرح کو ں سوچتے ہو؟‘‘
’’عورت ہمشہ اسی طرح ننگی کی گئی۔‘‘
’’کمار پلزہ۔۔۔!‘‘
’’مںا تمہارا کمار نہںت ہوں۔ مں دوشاسن ہوں۔‘‘
’’پلزر۔۔۔۔۔ اس طرح نہںں سوچو۔ فریش ہو کر اوپر آ جاؤ۔‘‘وہ مر ے پہلو سے اٹھ کر کرسی پر بٹھر گئی۔ اکبر کے قدموں کی چاپ سنائی دے رہی تھی۔
اکبر چائے لے کر آیا۔ وہ اکبر سے مخاطب ہوئی۔
’’صاحب کا ناشتہ بن رہا ہے۔‘‘
اکبر نے مرلی طرف دیکھا۔ مں خاموش رہا۔
وہ یہ کہتی ہوئی چلی گئی کہ مںش تاّور ہو کر آ جاؤں لکنی مں اسی طرح بٹھا رہا۔ دل غسل کرنے کو بھی نہں چاہ رہا تھا۔ دو چار سگریٹ پھونکے۔ ایک پایلی چائے اور پی۔ آخر اس نے منو۔ کو مجھے بلانے کے لےو بھجا ۔ آفس کا وقت بھی ہو چلا تھا۔ کچھ دیر بعد تازہ دم ہو کر اوپر پہنچا۔ مجھے دیکھ کر وہ خوش ہو گئی لکنک اداسی مجھ پر اسی طرح غالب تھی۔ اس نے بڈن روم مںج بٹھایا۔ مں نے سگریٹ نکالی۔
’’ابھی نہں ۔۔۔۔۔‘‘ اس نے سگریٹ ہاتھ سے لے لی۔
’’ناشتے کے بعد پنا ۔‘‘
ساجی اور نصبد مںم ییر فرق ہے۔ مں نصبن کے سامنے سگریٹ نہںے پی سکتا۔ اسے دھویں کی بو بہت بری لگتی ہے۔ ملونں فاصلے پر بھی وہ سگریٹ کی بو سونگھ لید ہے۔ سگریٹ پنےچ کے بعد مںص اس کے سامنے کلّی کرتا ہوں لکنا ساجی کے ساتھ مجھے آزادی کا احساس ہوتا ہے۔ مں لمبے لمبے کش لگا سکتا ہوں۔ اس کے منھ پر دھویں کے مرغولے چھوڑنے مںی لطف آتا ہے۔
کچن سے رہ رہ کر چھن چھن کی آواز آ رہی تھی۔ منوہ پانی کا گلاس رکھ گئی۔ پھر شبّو آ کر پلٹک سجا گئی۔ مںی نے محسوس کات کہ سبھی لڑکارں ناشتے کی تاےری مںا لگی ہںن۔ ساجی ایک بار بھی نچے کچن مںت نہںل گئی۔ کبھی کبھی وہ سڑےھی کے پاس سے جھانک کر نچے دییھت اور وہںم سے ہدایں دییک۔
ناشتے کے لوازمات وہی تھے جس سے نصبھ کو پرہزم ہے۔ نصب کبھی گھی کے پراٹھے نہںم تلتی۔ یہاں گھی سے تر پراٹھے تھے۔ بھونی کلی ، بسنں کا حلوہ، دہی اور ادرک کا اچار۔۔۔۔۔
’’تم یںر کھایا کرو۔ اکبر کا جھملاس کوبں؟‘‘
مںو خاموش رہا۔
اس نے مجھے شانے سے پکڑ کر جھنجھوڑا۔ ’’کچھ بولو تو۔۔۔۔۔۔‘‘
کام بولوں؟ مں نے پھییے سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔
’’کاے اب بھی دوری ہے؟‘‘
’’کا چاہتی ہو؟‘‘
یہ گھر تمہارا ہے۔ یںاص کھایا کرو۔ الگ کورں کھاؤ گے؟‘‘
’’درجات کو اعتراض ہو گا۔‘‘
’’کوئی اعتراض نہں ہو گا۔‘‘
’’مںئ مناسب نہںں سمجھتا۔‘‘
’’کائ مںا ابھی بھی غرس ہوں؟‘‘ اس کے لہجے مںی واقعی تڑپ تھی۔ مںی نے اس کی آنکھوں مںا دیکھا۔
’’تم نے مجھے سندضور لگایا۔ اب کاب دوری رہی؟‘‘
’’کا چاہتی ہو نصبا کو فراموش کر دوں؟‘‘
’’مں نے کب کہا؟ تم اگر نصب۔ کے نہںو ہو سکتے تو مرہے بھی نہں ہو سکتے۔‘‘
’’پہلے اسی کا ہوں۔‘‘ مر ا لہجہ اچانک خشک ہو گاہ۔
’’جانتی ہوں۔‘‘ وہ رو پڑی۔ پھر اس نے فوراً ہی ساری کے پلّو سے آنکھںب خشک کںم اور پھی ہ سی مسکراہٹ کے ساتھ بولی۔
’’مںن تمہںی نصبڑ سے دور نہںل کر رہی لکنپ مرھا حق تو تم پر بنتا ہے نا۔۔۔۔؟‘‘
مں۔ خاموش رہا۔
منصوبہ چائے لے کر آئی۔
ساجی چپ تھی۔ مجھے ماحول مںر ہلکے سے تناؤ کا احساس ہو رہا تھا۔ اچانک وہ اٹھی اور پانی سے لبالب کٹورہ لے کر آئی۔ پانی کی سطح پر ایک ننھا سا پھول تر رہا تھا۔
مںا نے اسے سوالہی نگاہوں سے دیکھا۔
’’مںئ جانتی ہوں اس کٹورے کی طرح تمہاری زندگی نصبپ کے وجود سے لبریز ہے۔ اس مںا مزید پانی کی گنجائش نہں لکنآ مں کٹورے مںہ پھول کی طرح ترا تو سکتی ہوں۔‘‘ اس کے لہجے مں بلا کی حسرت تھی۔ مںی اسے حرحت سے دیکھ رہا تھا۔ مجھے ین م نہں آ رہا تھا کہ یہ جملہ اس کم علم عورت کے منھ سے ادا ہوا ہے۔
’’اتنا گاےن تم مںہ کہاں سے آیا؟ یہ تصوف کی باتںہ۔۔۔۔۔؟‘‘
’’محبت سب کچھ سکھا دیی ہے۔‘‘
محبت۔۔۔۔؟ کاھ واقعی وہ مرسی محبت مںا گرفتار تھی؟ مںل بس اسے دیکھ رہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ مںک اس کی محبت پر ایمان کوبں نہںہ لاتا؟
اس نے اپنے بازو مرای گردن مںک حمائل کر دیے۔ ’’مجھے اپنے قدموں سے دور نہںپ کرنا کمار۔‘‘ اس کی آواز کہںم دور سے آتی ہوئی سنائی دی۔
’’درجات کب آئے گا؟‘‘
’’کل رات۔۔۔۔۔۔‘‘ اس کا لہجہ خواب ناک ہو گاا۔
ناشتے کے بعد نچےا اپنے کمرے مںا آنے لگا تو بولی۔
’’منوے کو بھجن رہی ہوں۔ ملےو کپڑے دے دینا۔‘‘
’’کس لےت؟‘‘ مںم نے سوالہہ نگاہوں سے دیکھا۔‘‘
دھلنے کے لےد!‘‘
’’اکبر ہے نا۔۔۔۔؟‘‘
’’اکبر۔۔۔۔؟‘‘ وہ بڑی ادا سے مسکرائی۔
’’یہ ذمہ داری اب مرہی ہے۔ مجھے دیکھنا ہے کہ تمہاری تمام چزنیں درست رہتی ہںے۔‘‘
مںت مسکرا کر رہ گار۔ مجھے احساس ہوا کہ تعطّل ایک حد تک زائل ہوا ہے۔ کمرے مںے آیا تو منو آ کر ملےی کپڑے لے گئی۔ تھوڑی دیر بعد دفتر کے لےہ نکل رہا تھا تو ساجی ٹفن کا ڈبّا لے کر آئی۔
’’کا ہے یہ؟‘‘
’’ٹفن۔۔۔۔۔‘‘
’’اس کی ضرورت نہںہ ہے۔‘‘
’’ضرورت ہے۔ تم دیر تک دفتر کرتے ہو۔‘‘
مںل کبھی ٹفن نہںڈ لے گا‘۔‘‘
’’اس لےب نہں لے گئے کہ کسی نے دیا نہں ۔‘‘ اور اس نے مسکراتے ہوئے ڈبّا مراے آفس بگں مں رکھ دیا۔
اکبر سب کچھ خاموشی سے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔!
مںئ دفتر سے ذرا تاخر سے لوٹا۔
مجھے معلوم تھا کہ آج وصل کی دوسری رات ہے۔
وہ رات گامرہ بجے بہت خاموشی سے مراے کمرے مںا داخل ہوئی۔ مں نے دروازہ کھلا رکھا تھا۔ اس کے آنے کا پتا نہںک چلا۔ وہ شاید پنجوں کے بل چل کر آئی تھی۔ اس نے نائٹی پہن رکھی تھی۔ حسب معمول گلے مںو لاکٹ نہںک تھا۔ وہ آتے ہی بستر پر لٹ گئی۔ پائنچے کے قریب نائٹی ایک ذرا اوپر اٹھ گئی۔ ٹخنے نمایاں ہو گئے۔
مںھ نے دیکھا پاؤں مںر پائل بھی نہںے تھے۔
’’آج باتںد کریں گے۔‘‘
’’کی ب باتںک؟‘‘
’’ڈھرب ساری۔ کچھ اپنے بارے مںھ بتاؤ۔‘‘
’’آج پائل نہںن پہنی؟‘‘
’’شور مچاتی۔‘‘ اس نے ہنس کر کہا۔
’’اور نندیا جاگ اٹھتی۔‘‘ مں نے بے ساختہ کہا اور وہ زور سے ہنس پڑی۔
’’ارے۔۔۔۔؟‘‘ مںہ نے اس کے منھ پر ہاتھ رکھ دیا۔
’’جھا جی سن لے گا۔‘‘
’’وہ منھ مںہ پلّو رکھ کر ہنسنے لگی۔‘‘
’’ہمشہن ٹوہ مںک رہتا ہے۔‘‘
’’تم نے کنگن بھی نہں پہنا ہے۔‘‘
’’آدھی رات کو بج اٹھا تو۔۔۔۔۔؟‘‘
اس پر پھر ہنسی کا دورہ پڑ گا۔۔
’’نندیا تو ہے نہںڑ۔ لڑکانں ہی سنتںی۔‘‘
’’لڑکوہں کی نندن بہت پکّی ہے۔ کبھی بچہ رات مں نہں اٹھتںا۔‘‘
’’خرک کوئی سنے یا نہ سنے ہماری باتںک چاند تو سنے۔‘‘ مںم نے کھڑکی کھولی۔ چاند پڑھ کے پچھےی شاخوں مںا اٹکا تھا۔ اس مںا وہی چمک تھی۔
’’چاند ہمں چھپ کر دیکھ رہا ہے۔‘‘
تم کسی سے چھپ کر ملنے کہں جاؤ گے تو چاند سے پوچھوں گی۔‘‘ وہ پٹت کے بل لٹی گئی اور ہتھی ن پر ٹڈ ی ٹکا کر ایک ٹک چاند کی طرف دیکھنے لگی۔
’’یہ شاردا کا گتہ ہے۔ بتاؤ چاند ککر ا سے کہاں ملے جالا۔۔۔۔!‘‘ مںف نے اس کی پشت پر ہاتھ رکھتے ہوئے رکھا۔
’’تمہںپ شاردا کے گت۔ پسند ہںک۔ مجھے بھی پسند ہے۔ خاص کر وہ گتی۔‘‘
’’کون سا؟‘‘
مر ی طرف ہنستی ہوئی نگاہوں سے دیکھا۔ ’’پٹنہ سے ویدا بلائی دے۔۔۔۔۔‘‘
پھر اچانک اس نے اپنا منھ مرتے سنےو مںچ چھپا لاک اور جذباتی لہجے مں بولی۔ ’’مراا وید تو پٹنہ سے آ گاہ۔‘‘
’’تمہں کاک بماآری تھی؟‘‘ مںے نے اسے بازوؤں مںئ بھنچاگ۔
’’مںے پچھلے جنم سے بماار تھی۔‘‘
اور اس نے وہی بات بتائی جو پہلے بتا چکی تھی۔ وہ یہ کہ اسے پڑھنے کا بہت شوق تھا لکنہ اس کی شادی پندرہ سال کی عمر مںے ہی ہو گئی۔ اسے بتایا گان تھا کہ سسرال مں سبھی پڑھے لکھے ہںہ۔ یہاں کتابوں سے بھری الماریاں ہںب لکنس یہاں آئی تو معلوم ہوا سبھی مڈل فلپ ہںب۔ گھر مںر ایک اخبار تک نہںک آتا۔
’’مںن تمہںآ پڑھا دوں گا۔‘‘
’’اب کاں پڑھوں گی۔ شوق مر گاں لکنی مر ی بیمں کو پڑھا دو۔‘‘
’’کون؟ منصوبہ؟‘‘
’’ہاں۔ اس کا سائنس کمزور ہے۔ وہ مٹرڑک مںب ہے۔ تم پڑھا دو گے تو اچھے نمبروں سے پاس کر جائے گی۔‘‘
’’آج منصوبہ چائے لے کر آئی۔ پہلے کبھی نہںر آئی۔‘‘
’’مں نے بھجای تھا، بچّوں کو اب تم سے گھلنا ملنا بھی چاہے‘۔‘‘
’’تمہاری ایک بیپہ اور ہے۔‘‘
اس کے چہرے کا رنگ بدل گا ۔
’’تم سے کس نے کہا؟‘‘
’’جھا جی نے۔‘‘
’’تم اس سے بات کو ں کرتے ہو؟‘‘
’’اگر ایک بیای اور ہے تو کا‘ ہوا؟ اس مںا چھپانے کی کا ضرورت ہے؟‘‘
’’جو چز اب مرںی نہںت ہے اس پر دعویٰ کسےم کر سکتی ہوں؟‘‘
’’یینچ؟‘‘
’’مرنے بھائی نے اسے گود لے لی۔ ان کو اولاد نہں تھی۔‘‘
’’پھر بھی تم کہہ سکتی ہو کہ تمہںر پانچ باہں ں ہںپ۔‘‘
’’مںر کسےب کہہ سکتی ہوں۔ جب وہ ان کی ہو گئی تو مرںی بی پ کہاں رہی؟ جب مں نے دے دیا تو دے دیا۔ اب کو ں سوچوں کہ مرگی پانچ باسیتں ہںا۔‘‘ اس کا لہجہ کچھ بھنّایا ہوا تھا۔
’’تم نے پدےا تو پانچ کےہ۔‘‘
’’تم بھی اوروں کی طرح سوچتے ہو۔‘‘
جھا نے یہ نہں بتایا کہ بھائی نے گود لی ہے۔‘‘
’’وہ فتوری ہے۔ پتا نہںپ اور کا کاک کہتا ہو گا؟‘‘
’’مارو گولی۔ وہ اب مراے پاس آتا بھی نہںی ہے۔‘‘
’’اس سے نہں ملا کرو۔‘‘
’’نہںس ملوں گا۔‘‘ مںچ نے اسے لپٹاتے ہوئے کہا۔
’’ہاں کمار۔ نہں ملنا پلزم۔ وہ ہمارا دشمن ہے۔‘‘
’’دوسرا صدمہ کا گذرا؟‘‘
’’مت پوچھو۔ اس کا اثر تو اَب تک ہے۔‘‘
’’بتاؤ نا۔۔۔۔؟‘‘
مںا کولڈ ہو جاتی ہوں۔‘‘ ’’کوسں؟‘‘
اس نے بتایا کہ اس کے ساتھ وحشاننہ سلوک ہوا۔ شادی کی پہلی رات وہ بھول نہںے سکتی۔ مرد کے ہاتھوں کا پہلا لمس۔۔۔۔۔ درجات نے جب اسے پہلی بار چھوا تو وہ عجبک سی لذت سے ہمکنار ہوئی لکنے اچانک درجات ننگا ہو گال۔ وہ ڈر گئی۔ وہ کسی وحشی کی طرح نظر آ رہا تھا۔ وہ اسے بھی برہنہ ہونے پر مجبور کرنے لگا۔ وہ خوف سے تھر تھر کانپنے لگی۔ اس نے بہت منّت کی کہ ایسا نہ کرے لکن وہ بہ ضد تھا۔ اس کو ننگا کر کے ہی دم لاس اور وہ خوف سے بے ہوش ہو گئی۔ وہ ہوش مںل آئی تو درجات نے اسے نارمل کرنے کی کوشش کی لکن وہ مردے کی طرح بے حس و حرکت پڑی رہی۔ پسنے سے بھی ی۔۔۔۔۔ تھر تھر کانپتی ہوئی۔ درجات نے پھر اسے عریاں کرنے کی کوشش نہںی کی۔
’’اب مجھے تم ملے ہو تو مںہ خوش ہوں۔ مجھے اور کچھ نہںا چاہےس۔‘‘
مں دیر تک خاموش رہا۔
’’کا سوچنے لگے؟
’’مں نے بھی تمہارے ساتھ زیادتی کی۔‘‘
’’تم نے تو مجھے چادر سے ڈھک بھی دیا۔ مجھے مر ے کمرے مںع پہنچایا۔‘‘
’’تم دو بار ننگی کی گئی۔ پہلی بار تمہارے مجازی خدا نے اور دوسری بار محبوب نے۔‘‘
’’ختم کرو یہ سب۔ بس ہم چاند کی باتںی کریں۔‘‘ اس نے ایک نظر چاند کی طرف دیکھا اور پھر سنےھ سے لگ گئی۔
چاند تھوڑا اور نچےو جھک گا تھا۔ مکتی بودھ کے لفظوں مںی چاند کا منھ ٹڑ۔ھا تھا۔
اس نے یہ بھی بتایا کہ درجات کی ایک ہی کڈنی ہے۔ پہلی خراب ہو گئی تو نکلوانی پڑی۔ علاج مںت اس کے نام جو زمن تھی، بک گئی۔ اس دن اس نے خود کو ایک دم بے سہارا محسوس کای تھا۔ ایک دم بے بس۔۔۔۔۔ اگر درجات کو کچھ ہو گای تو وہ کہاں جائے گی۔ اس کا کاا حشر ہو گا؟ وہ پڑھی لکھی بھی نہں ہے کہ کہں نوکری کر لییچ۔ عدم تحفّظ کے گہرے احساس سے وہ بھر گئی تھی۔
مں سوچ رہا تھا کہ ساجی مجھ تک مرسی محبت مںا نہںپ پہنچی ہے۔ عدم تحفّظ کا احساس اسے مر ی بانہوں تک کھنچچ لایا ہے۔ مرہے بازوؤں مںگ وہ محفوظ ہے لکنا کاا مںک بھی اس کے پہلو مںے محفوظ ہوں؟
چاند گواہ ہے کہ مںچ نے اس رات اسے برہنہ نہںم کا ۔
اس نے ایک بات اور بتائی تھی۔ وہ یہ کہ درجات خرنبسہ ہے اور اس کو ہمشہ اذیت ہی پہنچی ہے۔
دوسرے دن مجھے پٹنہ جانا پڑا۔ ہڈ کوارٹر سے فکس موصول ہوا تھا۔ وہاں ارجنٹ مٹنگج تھی۔ مجھے پروجکٹر رپورٹ کے ساتھ بلایا گام تھا۔ مروی اچانک روانگی سے ساجی پریشان ہوئی۔ اس نے شکایت کی کہ درجات آج واپس آ رہا ہے اسی لےی مں جا رہا ہوں۔ اسے سمجھایا کہ معاملہ سرکاری ہے اور مں دو دنوں بعد واپس آ جاؤں گا۔ راستے کے لےک وہ سبزی اور پراٹھے دینا چاہتی تھی لکنے مںے نے سختی سے منع کاا۔ نصبر کو اس کی مہک لگ سکتی تھی۔ کوئن آف سورڈ ٹفن کا خالی ڈبّا بھی سونگھتی ہے۔
مںی گھر پہنچا تو مجھے اچانک دیکھ کر نصب خوش ہو گئی لکنٹ فروزی اداس تھی۔ وجہ پوچھی تو نصبت بھڑک اٹھی۔ پہلے فروزی کو برا بھلا کہا پھر مجھ سے مخاطب ہوئی۔
’’اب کاھ بتاؤں کس قدر بوھقوف ہے یہ؟‘‘
’’کا ہوا؟‘‘
’’درزی کے لڑکے نے اس کو پسند کر لای تھا لکنس ایک دن یہ کالا چشمہ چڑھائے بن ٹھن کر دکان والی گلی مںا پہنچ گئی۔ لڑ کا دکان پر تھا۔ اس کو دکھا دکھا کر کسی سے موبائل پر باتںن کرنے لگی کہ لڑکے کی بہن نے دیکھ لال۔ پھر وہںا گلی مںی کھڑے کھڑے چومنگ بھی کھائی کمبخت نے۔ بس بہن نے رشتہ کاٹ دیا کہ اییی بے شرم لڑکی سے اپنے بھائی کی شادی نہںش ہونے دے گی۔‘‘
مں ہنسنے لگا۔
’’امپریشن بنانے چلی تھی کہ بہت اسمارٹ ہے۔ لڑکے والے کہتے ہںخ کہ بوائے فرینڈ سے بات کر رہی تھی۔‘‘
فروزی بلک پڑی۔ ’’مںک خالہ سے بات کر رہی تھی۔‘‘
’’چپ کمبخت! خالہ سے چشمہ چڑھا کر بات کرتی ہے؟‘‘ نصب نے ڈانٹا۔
مںو نے نصبن کو سمجھایا کہ فروزی مںا زندگی بہت ہے اور زندگی اییپ حماقتوں کے لےپ ورغلاتی ہے۔
مٹنگ دو دن چلی لکنا مجھے کچھ دن رکنا پڑا۔ سیمٹ اور کی د کے امتحانات شروع ہو گئے تھے۔ مناسب تھا کہ مںی کچھ پڑھا دیتا۔ گرچہ وہ ٹو شن لتےد تھے لکنع امتحان کے دنوں مںو مںھ بھی انہں لے کر بٹھتا تھا۔ امتحان ختم ہوا تو ایک دن تفریح بھی ضروری تھی۔ اس دن فلم دییھے گئی۔ ریستوراں مںد کھانا کھایا گا ۔ تھوڑی بہت شاپنگ بھی ہوئی۔ نصبش گھر مںن کفائت شعاری سے کام لینے ہے لکن باہر کھل کر خرچ کرتی ہے۔ اس نے سب کے لےھ کپڑے خریدے۔ اپنے لےن گلابی پرنٹ والی رییمن نائٹی لی۔
گھر رات دس بجے پہنچے۔ نصبل نے وہی نائٹی پہنی۔
’’نائٹی خوبصورت ہے اور تم پر کھل رہی ہے۔‘‘
نصب مسکرائی۔ مںم نے سرگوشویں مںس کہا۔
’’اور مجھ سے کچھ کہہ رہی ہے۔‘‘
’’شروع ہو گئے آپ؟‘‘
’’رسم اجرا۔‘‘
’’نائٹی نہ ہوئی کسی شاعر کی کتاب ہو گئی۔‘‘ اس نے مرلی طرف ادا سے دیکھا اور مں اُس کی یہ نظر خوب پہچانتا ہوں۔
مںر بستر پر آیا تو کمبخت سیل اور کیچا بھی اچھل کر مرمے پاس آ گئے۔
’’آج ابّو کے پاس سوئںہ گے۔‘‘
اپنے کمرے مںآ جاؤ۔‘‘ مںخ نے پھٹکارا۔
دونوں اغل بغل لٹی گئے۔
’’نہںٹ۔ کہانی سنایئے۔‘‘
ہو گئی رسم اجرا۔‘‘ نصبا ہنسنے لگی۔ مںف مسکرایا لکنر دونوں تھکے ہوئے تھے۔ جلد ہی سو گئے۔ مںی نے باری باری سے دونوں کو گود مںک اٹھا کر اُن کے بستر تک پہنچایا۔
مشتری والی عورتںو بستر پر بھی نفاست سے پشں آتی ہںن۔ نصبو کے زائچے مں مشتری قمر کے مرکز مںخ ہے۔ بستر خوشبوؤں سے معطّر تھا۔ وہ اسپرے نہںب عطر استعمال کرتی ہے۔ خس اس کا محبوب عطر ہے۔
مںں ایک دن اور رکا۔ دوسرے دن شام کو لال گنج پہنچا۔ باہر کی بالکنی مںی درجات نظر آیا۔ جھا بھی وہاں موجود تھا۔ دونوں چائے کی چسکا ں لے رہے تھے۔ مںظ نے کپڑے بھی نہںج تبدیل کےل تھے کہ دروازے پر دستک ہوئی۔ درجات چائے کا پاےلہ لےں حاضر تھا۔ خندہ پشاطنی سے اس کا استقبال کائ۔ پوچھا کہ پچھلے دنوں کہاں غائب تھے؟ کہنے لگا کسی عزیز کے ساتھ دلّی گاہ تھا اور آج دو پہر کی فلائٹ سے لوٹا ہوں۔ اس نے ایر لائن سروس پر تبصرہ بھی کاک۔ وہ یہ کہ گو ایئر کی اڑان ایر انڈیا سے بہتر ہے۔ ایر انڈیا والے اب لنچ پکٹ بھی نہںے دیتے ہںئ۔ یہ بات اس نے اس لہجے مںا کہی گویا فلائٹ سے آنا جانا اس کے روز کا معمول ہے۔ مںا نے کوئی پرخاش محسوس نہںو کی۔ مثلاً مںا نے اس طرح نہںے سوچا کہ ’’سالا۔۔۔ گاؤدی ہے تو مڈل فلل لکن ۔۔۔۔۔‘‘
چائے مںا شکّر کم تھی۔ مں نے حسن طلب سے کام لاگ۔
’’شکّر بہت مہنگی ہو گئی ہے شاید۔۔۔۔؟‘‘
’’ہاں! مہنگائی تو بڑھ گئی ہے۔‘‘ درجات نے سرہلاتے ہوئے کہا تو مجھے ہنسی آ گئی۔ جھا بھی ہنس پڑا اور بولا۔
’’ارے چائے مںر شکّر کم ہے۔ یہ شکّر مانگ رہے ہںہ۔‘‘
درجات جلدی سے اندر گان۔ جھا اور مںڑ دیر تک ہنستے رہے۔ پھر اس نے اپنا منھ مرجے کان کے قریب لایا۔
’’اس کی اوقات ہے پلنب مں۔ چلنے کی۔۔۔؟‘‘
’’کو ں؟‘‘ مںا نے سوالہ نظروں سے اسے دیکھا۔
گنش جی جھن جھن والا اپنے علاج کے لےن دلی جا رہا تھا۔ اس کو ایک نوکر کی ضرورت تھی۔ ساتھ اس کو لے گان۔ وہاں دوڑ دھوپ کون کرتا؟‘‘
’’آپ کو سب خبر رہتی ہے۔‘‘
’’مں اس کی نس نس سے واقف ہوں۔ ہر وقت اپنی جھوٹی بڑائی کرتا رہتا ہے۔‘‘
’’آپ باہر کی خبر رکھتے ہںن۔ کچھ اپنے گھر کی خبر بھی رکھا کےا م۔‘‘ مںی نے کچھ چڑ کر کہا۔
جھا نے ناگوار نظروں سے مجھے دیکھا۔
’’آپ کا بھائی ہے نہ گاؤں مں ؟ کبھی گاؤں بھی جایا کےہے ۔‘‘
ساجی نے بتایا تھا کہ اس کی بو ی اس کے بھائی سے پھنسی ہے۔ اس کے پاس رہنا نہںی چاہتی۔
جھا کا چہرہ پلاک پڑ گا ۔ وہ زیادہ دیر نہںر بٹھا ۔ درجات کے آنے سے پہلے چلا گاا۔
منو شکّر کی کٹوری لے کر آئی۔ اس کے پچھے درجات بھی تھا۔ درجات بہت عاجزی سے بولا۔ ’’آپ کا کھانا ہمارے یہاں بن رہا ہے۔‘‘
’’مںا دو دنوں سے آپ کے یہاں ہی کھا رہا ہوں۔‘‘ مںا مسکرایا۔
’’اچھی بات ہے۔‘‘ وہ بھی مسکرایا۔
’’مفت خوری کوئی اچھی چزک تو نہںں۔۔۔۔؟‘‘
’’آپ اییّ بات کرتے ہںک۔ یہ آپ کا گھر ہے۔ آپ یںائ کھایا کے ع ۔‘‘
’’یینا پئنگ گسٹ ۔۔۔۔؟‘‘
’’آپ جو سمجھںر۔‘‘
ساجی بھی آ گئی۔ اس کے ساتھ منصوبہ بھی تھی۔ مں نے پرس سے ایک ہزار کی رقم نکالی اور ساجی کی طرف بڑھاتا ہوا بولا۔
’’یہ رکھ لےت ۔‘‘
’’بھلا کولں؟‘‘ وہ ذرا حربان ہوئی۔ مں نے محسوس کا کہ اس کی یہ حر انی مصنوعی ہے۔
’’مںل پئنگ گسٹ بن گا ہوں۔‘‘
’’تو اس کی کار ضرورت ہے؟‘‘
’’ضرورت ہے۔‘‘ مںگ نے رقم اس کی ہتھیاو پر رکھ دی۔
دونوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ کچھ پس و پشو کے بعد ساجی نے پسےو رکھ لےھ۔
’’مںو یہ کہنے آئی تھی کہ منصوبہ کو پڑھا دیے س۔ اس کا سائنس کمزور ہے۔‘‘
مںے نے منصوبہ کی طرف دیکھا۔ وہ نظریں جھکائے کھڑی تھی۔
’’اچھی بات ہے۔ فرصت ملے گی تو پڑھا دوں گا۔‘‘
شام کے کھانے مںی بہت کچھ تھا۔ مچھلی بھی تھی اور ریڈ لبل وہسکی بھی۔۔۔۔۔ بوتل آدھی سے زیادہ خالی تھی۔۔۔۔ یینم جھن جھن والا کی بچی ہوئی شراب۔
ساجی نے مچھلی کا ایک بڑا سا قتلہ مرہی پلٹک مںی رکھا۔
’’کانٹا نکال دو۔۔۔۔!‘‘ درجات نے ساجی سے کہا۔
ساجی کے ہونٹوں پر زیر لب مسکراہٹ پھلا گئی۔ مں بھی مسکرایا۔ ساجی کانٹا نکالنے لگی۔ درجات نے پگر بنایا۔ ایک پگم کے بعد ہی اس کی آنکھںی لال ہو گئںن۔ مں۔ نے محسوس کام وہ عادی نہںں ہے۔ بس ساتھ دے رہا ہے۔ اسی طرح جھن جھن والا کا بھی ہم پاٹلا بنا ہوا ہے۔۔۔۔۔۔
’’یہ ریڈ لبلم آپ کے لےو ہی رکھی ہوئی تھی۔‘‘ درجات نے دوسرا پگں بناتے ہوئے کہا۔ اس کی زبان مںم ہلکی سی لڑکھڑاہٹ تھی۔
’’مرکے لےا رکھی ہوئی تھی؟ اچھا؟‘‘ مں نے درجات کو گھورتے ہوئے کہا اور ایک نظر ساجی پر ڈالی۔ ساجی نے نظریں چرا لں ۔
’’اس بار دلّی سے جانی واکر لے کر آؤں گا۔ یہاں تو یہ چزھ ملے گی نہں ۔‘‘
مجھ مںر غصّے کی ایک لہر سی اٹھنے لگی۔ یہ گاؤدی مجھے سمجھتا کا۔ ہے جھن جھن والا کی جوٹھی شراب پر اترا رہا ہے۔ ساجی نے مچھلی کا دوسرا قتلہ رکھا۔ اس بار کانٹا خود درجات نے نکالا۔
’’کب جا رہے ہں۔ آپ دلّی۔۔۔؟‘‘
’’ایک دو دن مں پھر جانا ہے۔ اس بار جٹ ایر ویز سے جائںب گے۔‘‘
مںن نے غصّے کو دبانے کی کوشش کی۔ وہ بڑے انہماک سے مچھلی کا کانٹا نکال رہا تھا پھر مرےے لے پگن بنایا۔ وہ دو پگک پر رک گار۔ مںر نے تسر ا ختم کاا۔ کھانے کے بعد مںے اٹھنا ہی چاہتا تھا کہ کسی نے نچےپ سے آواز دی۔ ساجی نے بالکنی سے سڑک کی طرف جھانکا۔
’’منشی جی ہںف۔‘‘
درجات نے بھی جھانک کر دیکھا۔ پھر مجھ سے مخاطب ہوا۔
’’سگریٹ ہے یا لے کر آؤں؟‘‘
’’بس ایک ہی ہے۔‘‘
’’ابھی لے کر آتا ہوں۔‘‘
یہ منشی کون ہے؟‘‘ درجات کے جانے کے بعد مںی نے ساجی سے پوچھا۔
’’جھن جھن والا کا منشی ہے۔ اس نے بلا بھجاک ہے۔ جانے کا پروگرام بنائے گا۔‘‘
مر۔ا دبا ہوا غصّہ ابھرنے لگا۔ ’’یہ درجات مہاشے اس طرح بات کورں کرتے ہںے؟‘‘
’’کس طرح؟‘‘ اس نے سوالہل نظروں سے دیکھا۔
’’جھن جھن والا کی جوٹھی شراب لے کر دلّی سے آئے اور جتا رہے ہں کہ مرتے لےی خریدی ہے۔‘‘
وہ چپ رہی۔
’’ائر انڈیا اور جٹ ائر ویز کی باتںت اس طرح کرتے ہںھ جسےں روز ہی ہوائی جہاز سے سفر کرتے ہںا۔‘‘
اس کے چہرے پر خفگی کے آثار نمایاں ہوئے۔
’’مجھے کاا نہںھ معلوم ہے کہ جھن جھن والا اپنے علاج کے لےی دلّی گام۔ اسے ایک خدمت گار کی ضرورت تھی۔ وہ انہںک اپنا اٹنڈجینٹ بنا کر لے گای۔‘‘
’’بس۔۔۔۔ ہو گا ۔۔۔۔ اب چپ ہو جایئے۔‘‘ اس نے احتجاج کائ۔
’’یہ حضرت اپنے کو وہی دکھاتے ہںچ جو ہںا نہںن۔ بھلا مجھ سے دکھاوا کرنے کی کاھ ضرورت ہے؟‘‘
’’یہ جسےن بھی ہں مرلے پتی ہں ۔ بس۔ مںے کوئی شکایت سننا نہں چاہتی۔‘‘ ساجی پھٹ پڑی۔ اس کی آنکھوں مںں آنسو آ گئے۔
مںج چپ ہو گاج۔ وہ ساری کے پلّو سے اپنے آنسو پونچھ رہی تھی۔۔۔۔!مںم نے اس کو اپنی بانہوں مں کھنچان۔
’’مجھ سے کہتی ہو جھا سے پرہزن کروں اور خود انہںھ بالکنی مں بٹھا کر چائے پلاتی ہو؟‘‘
’’مںھ نے نہںا بٹھایا۔ مر ے پتی نے بٹھایا۔‘‘
’’ان کو منع کونں نہںر کرتں ۔‘‘
’’نہںن کروں گی۔‘‘
’’کوںں؟‘‘
’’مجھے جو کہنا ہے تم سے کہوں گی۔‘‘
’’واہ! کوئی زبردستی ہے؟‘‘
’’ہاں! تمہارے ساتھ ہے زبردستی۔ مں تم سے جھگڑوں گی۔ کسی اور سے نہںت۔‘‘
’’اپنے پتی سے بھی جھگڑو۔‘‘
’’نہںے۔۔۔۔۔ مںت صرف تم سے جھگڑوں گی۔ مجھے جو کہنا ہے تم سے کہوں گی۔ بس!‘‘
مںں خاموش رہا۔
’’تم یہ نہںب دیکھتے کہ وہ تمہارا کتنا خایل رکھتے ہںے؟ مچھلی سے کانٹا نکالا۔۔۔۔۔ سگریٹ لانے گئے۔۔۔۔‘‘ اس کی آواز پھنسی پھنسی سی تھی۔ مں؟ اسے بانہوں مںٹ جکڑے ہوئے تھا۔ مںے نے سرگوشو ں مںت کہا۔
’’آئںے گے کس وقت۔۔۔۔؟‘‘
کم سے کم بسس منٹ۔۔۔۔۔۔‘‘
’’لڑکایں کدھر ہںز۔۔۔۔؟‘‘ مںن نے پھر سرگوشی کی۔
’’سو گئںم۔ یہاں کوئی نہںز آئے گا۔‘‘ اس کا لہجہ خواب ناک تھا۔
۔۔۔۔۔۔ اور بپس منٹ بہت تھے لکن‘ نچےں کا دروازہ کھلا تھا۔۔۔۔۔ پھر خاال آیا کہ کوئی سڑتھادں چڑھے گا تو قدموں کی چاپ سنائی دے گی۔۔۔۔
اور تب وہںس فرش پر۔۔۔۔۔۔۔
اور جبلّت اپنے رنگ نفس۔ بستر سے زیادہ ملے فرش پر نمایاں کرتی ہے۔
مںر اب مزید رکنا نہںب چاہتا تھا۔ اس نے بھی روکنا مناسب نہںئ سمجھا۔
وہاں سے چلے آنے کے کچھ دیر بعد دروازے پر دستک ہوئی۔ درجات سگریٹ لے کر موجود تھا۔
’’سب دکانںل بند تھںں۔ اسٹشنہ سے لاگ ہے۔‘‘
’’شکریہ!‘‘ مںں مسکرایا اور یہ سوچے بغرل نہںگ رہا کہ بے چارے کو کا پتا کہ ابھی ابھی اس کی بووی کے ساتھ۔۔۔۔۔۔۔
مجھے نہںی معلوم درجات سے مجھے الرجی کونں ہے؟
دوسرے دن مجھے اچانک دفتری ضروریات کے تحت پٹنہ جانا پڑا۔ اس بار ساجی سے مل بھی نہںم سکا اور اکبر کو بھی ساتھ لے کر چلا گاے۔ دفتر کے ہی کام سے مجھے پٹنہ سے دلّی بھی جانا پڑ گار۔ لال گنج مر ی واپسی کوئی دس دنوں بعد ہوئی۔
فلٹ مںد داخل ہوتے ہی مںو نے سوچا ساجی ضرور ناراض ہو گی۔ اتنے دنوں تک اس کی کوئی خبر نہںل لی تھی۔ فون سے بھی نہںر بتایا تھا کہ کہاں ہوں، کب آؤں گا۔ منو سڑیھی پر ہی مل گئی۔ معلوم ہوا ممی بماہر ہں ۔ مںت دیکھنے گاّ۔ وہ بستر پر پڑی تھی۔ درجات دوائاکں لانے گا ہوا تھا۔ لڑکواں نے بتایا کہ جس دن مںہ پٹنہ گا تھا، اسی دن اس نے بستر پکڑا تھا۔ مرگی آواز سن کر ساجی نے آنکھںس کھولںہ۔ مریی طرف نقاہت سے دیکھا اور کروٹ بدل لی۔
’’کا۔ ہوا۔۔۔۔؟ اچانک بما ر۔۔۔؟‘‘ مںھ نے پھیوٹ سی مسکراہٹ کے ساتھ پو چھا۔
لڑکاھں ہٹ گئںا۔ مں؟ ساجی کے ساتھ اکلا؟ رہ گاا۔
مںک نے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھوں مں؟ لے کر آہستہ سے دبایا۔ کیلا ہے طبعتی؟
وہ خاموش رہی۔ مں نے محسوس کات اس کی آنکھںق نم ہو گئی ہںو۔
’’مجھے ایک ضروری کام سے جانا پڑا۔ کاک بتاؤں سرکار کی غلامی مںد مجبور ہوں۔‘‘
وہ پھر بھی خاموش رہی۔ مںن نے اس کے رخسار پر ہاتھ پھرھا اور اس کا چہرہ اپنی طرف گھمایا۔ چہرہ زرد ہو رہا تھا۔ آنکھوں کے گرد سااہ حلقے بہت بڑھ گئے تھے۔ وہ نحفے نظر آ رہی تھی۔ اس پر لرزہ سا طاری تھا۔ ساجی کی یہ کتے مجھ مںا شہوت جگا رہی تھی۔ اس وقت وہ دکھ اور نقاہت سے بھری ہوئی تھی اور مجھ مں سمندر شور کر رہا تھا۔ شاید جبلّت کی آنکھںب نہںی ہوتںی۔ جبلّت کے کان بھی نہںت ہوتے۔ مں نے یہ بھی نہں سوچا کہ لڑکایں کبھی بھی آ سکتی ہںھ۔ خود درجات آ سکتا ہے کہ وہ شہر مںک ہی تھا اور کچھ دیر کے لےب ہی گھر سے باہر گات تھا۔ مں نے اُسے بازوؤں مں کس لاو اور پہاڑوں پر جسےں مسلسل بارش کے بعد اچانک دھوپ نکل آئی تھی۔ تز دھوپ مںپ نم جھاڑیوں سے اٹھتی ہوئی مہک۔۔۔۔ شاید جبلّت حواس شامّہ مںو سانس لیلن ہے۔ ساجی کے لب و رخسار سے یہ کیسک مہک اٹھتی ہے کہ ہوش و حواس کھونے لگتا ہوں۔ مںا کسی انجانی قوت کی گرفت مںک تھا۔ کسی نے صحرا سے مجھے پکارا اور مںں نے اس کے کپکپاتے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ ثبت کر دیے۔ وہ مرںے سنےے مں جسےو ایک دم سمٹ گئی۔ اس کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔ مر۔ی انگلاےں زینہ زینہ اس کے جسم پر سرکنے لگں ۔ وہ ذرا بھی مزاحمت نہںڑ کر رہی تھی۔ شاید اُسے اس وقت مرری ضرورت تھی۔ تپتے صحرا مں وہ جسے صدیوں سے بھٹک رہی تھی۔ ازل سے پاوسی اس کی روح۔۔۔۔ مںی گھنے بادل کی طرح اس پر برسا تھا۔ اس کے لب و رخسار۔۔۔۔۔ اس کی گردن۔۔۔۔۔ پٹ ۔۔۔۔۔۔!!
تز۔ بارش۔۔۔
اور قدرت مجھ پر مہربان تھی۔ مںگ اس سے الگ ہوا ہی تھا کہ درجات کمرے مںس داخل ہوا۔ ایک ساعت بھی پہلے اگر آ گا ہوتا تو۔۔۔۔۔۔
درجات نے مجھے دیکھ کر حر ت ظاہر کی۔ پھر سلام کاھ اور بتایا کہ جس دن مںر گاج تھا اسی دن ساجی بماےر پڑی۔ ساجی سرہانے تکہی ٹک کر نمو دراز ہو گئی تھی۔
’’ابھی تو اچھی لگ رہی ہںر۔‘‘ مںس نے مسکرا کر اس کی طرف دیکھا۔ وہ شرما گئی۔ اس کی طبعتی واقعی بحال لگ رہی تھی۔ کچھ دیر بعد مںھ نچےم اتر آیا۔ مں۔ نے غسل کاج اور آفس جانے کی تایری کرنے لگا۔ ساجی ٹفن دینا نہںا بھولی۔
منصوبہ مجھ سے پڑھنے کے لےھ آنے لگی۔ ساجی کی لڑکویں مںن وہ سب سے ذہنو تھی۔
اس دوران مںس نے محسوس کاک کہ ساجی کسی الجھن مںن گرفتار ہے۔ درجات بھی فکر مند نظر آتا تھا۔ وہ ان دنوں گھر مںک ہی رہ رہا تھا۔ ساجی سے اکلےا مںھ بات کرنے کا موقع مجھے نہںظ مل رہا تھا۔ مںک نے منصوبہ سے جاننا چاہا لکنی وہ صرف پڑھائی سے مطلب رکھتی تھی اور ادھر ادھر کی کوئی بات نہںت کرتی تھی۔ مجھے کوفت ہوئی کہ درجات گھر سے باہر کو ں نہںچ جاتا؟ مر ے دفتر جانے تک وہ گھر پر رہتا تھا اور جب مں دفتر سے گھر آتا تو وہ اپنے کمرے مںہ موجود ہوتا۔
ایک دن مںا نے ساجی کی آنکھوں مںا آنسو دیکھے۔ درجات کے چہرے پر بھی الجھن تھی لکنس مںر کچھ پوچھ نہںا سکا۔ دونوں کہںد باہر جا رہے تھے۔ مںی بھول جاتا ہوں کہ معاشرے مںی کچھ لوگ ریڈیو ہوتے ہںو۔۔۔۔؟
کمبخت جھا ایک ضروری بدعت ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ساجی پٹنہ شفٹ کرنا چاہتی ہے اور درجات راضی نہںر ہے۔ اس بات کو لے کر دونوں مں تکرار ہے۔ درجات کی اتنی اوقات نہںت کہ وہاں کے اخراجات پورا کر سکے۔ پوچھنے پر کہ پٹنہ مںی کوےں رہنا چاہتی ہے، اس نے طنز کاک کہ منصوبہ کو پڑھائے گی اور آئی اے ایس بنائے گی۔
شام مں نے منصوبہ کا ذکر نکالا کہ ذہنس ہے۔ اگر بہتر ماحول ملے تو اچھا رزلٹ کرے گی۔
’’منصوبہ کو پٹنہ مں پڑھانے کا ارادہ ہے۔‘‘ساجی بولی۔
’’یہاں کون سا برا اسکول ہے کہ پٹنہ پٹنہ کرتی رہتی ہو۔‘‘ درجات کا لہجہ سخت تھا۔ ساجی چپ ہو گئی۔ مں نے حر۔ت سے اس کو دیکھا۔ ساجی سے اس لہجے مں۔ بات کرتے ہوئے مں۔ نے پہلے کبھی دیکھا نہںا تھا۔ اس کے چہرے پر شرمندگی تھی۔ اس نے یہ امدپ نہںی کی ہو گی کہ درجات مرےے سامنے اس سے اس طرح پشو آئے گا۔ مرما وہاں سے چلا جانا مناسب تھا۔ مںا اٹھنے لگا تو ساجی نے التجا بھری نظروں سے مر ی طرف دیکھا اور مجھے بٹھنے کا اشارہ کاا۔ اس کے چہرے پر دکھ اور بے بسی تھی۔ مںر نے محسوس کاا کہ اس کو اس وقت مریے سپورٹ کی ضرورت ہے۔
’’پٹنہ مںک پڑھائی کا ماحول بہتر ہے اور مٹررک مںو ہی بناود بنتی ہے۔‘‘ مں نے ساجی کی تائدپ کی۔
’’ابھی پٹنہ جا کر کای ہو گا۔ ابھی تو منصوبہ مٹرےک مںر بھی نہںا پہنچی ہے۔‘‘ درجات کے لہجے مں جھلّاہٹ برقرار تھی۔
’’مںم جاہل ہوں۔ مربی بی ا بھی جاہل رہے گی۔‘‘ ساجی کی آنکھوں مںہ آنسو آ گئے۔
’’لال گنج مںا جو پڑھتا ہے وہ جاہل رہتا ہے۔۔۔۔۔؟ اس طرح کواں بولتی ہو۔
’’آج سے مںم کچھ نہںا کہوں گی۔‘‘ ساجی بہت طشل مںا بولی۔
’’ٹھکس ہے۔ پڑھا لو پٹنہ مںج۔‘‘
’’مرکی کون سی بات پوری ہوئی ہے جو آج پوری ہو گی۔ شادی کر کے آئی تو کہا گا کہ مرکے پاس کتابوں سے بھری الماری ہے۔ کاو ضرورت تھی جھوٹ بولنے کی؟ مرہا دل تو کچوٹتا ہے کہ جاہل رہ گئی۔ اب بی ک کا وقت آیا ہے تو کچھ مت بولو۔‘‘ساجی نے درجات کی کمزور نبض پکڑ لی تیت۔ وہ یناً تلملا گاو تھا۔ اس کے چہرے پر کرب کے گہرے آثار اُبھر آئے تھے۔ ساجی سسک سسک کر رونے لگی تو درجات نے ہتھاثر ڈال دیے۔
’’اچھی بات ہے۔ سب کوئی پٹنہ مںھ رہںب گے۔‘‘ درجات کے لہجے مںی شکن تھی۔
’’اییی بات ہے تو مںہ آپ لوگوں کے لے مکان ڈھونڈ دوں گا۔ اب رونا دھونا بند کےیی۔ پلزں۔‘‘
ساجی نے آنسو پونچھے لکنت خاموش رہی۔
’’مں بھی پٹنہ کالج مںش پڑھتا تھا۔ مں نے وہں سے بی اے کا ہے۔‘‘ درجات نے ماحول کو خوشگوار بنانے کے لےے بات کا رخ موڑا۔
’’کس سال آپ نے بی اے کاٹ تھا؟‘‘
’’یہ پٹنہ کالج مںا بہت پہلے پڑھتے تھے۔‘‘ ساجی بول اٹھی۔
مںن مسکرایا۔ ابھی یہ عورت لڑ رہی تھی اور اب سپورٹ کر رہی ہے۔ جی مںج آیا کھری کھری سنا دوں کہ حضرت مڈل فلک ہں تو پٹنہ کالج کسے پہنچ گئے؟ لکنآ مںا نے طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔
’’مر ا تو پٹنہ کالج مںہ داخلہ نہںہ ہو سکا تھا۔ بہت نمبر چاہےو۔‘‘
’’منصوبہ کا اڈمشنن تو وومنسی کالج مںر آرام سے ہو جائے گا۔ یونی ورسٹی مںئ مرےے بہت لوگ ہںن۔‘‘
’’آپ مشہور آدمی ہںل درجات صاحب۔ آپ کی کا بات ہے؟‘‘ مرسے طنز کو ساجی نے محسوس کاپ۔ اس کے چہرے پر تناؤ کا رنگ صاف نمایاں تھا لکن درجات خوش ہو گاپ۔ گاؤدی نے مجھ سے پوچھا۔
‘‘آپ کے لے سگریٹ لا دوں؟‘‘
’’دو پکٹ !‘‘ مں نے چڑ کر کہا۔
درجات کے جانے کے بعد ساجی شکایی لہجے مںر مخاطب ہوئی۔
’’بہت طنز کرتے ہو تم۔‘‘
’’یہ درجات۔۔۔۔؟ احمق دی گریٹ۔۔۔۔؟ یہ بی اے مںر کب پڑھنے لگے۔۔۔۔۔؟‘‘
’’احمق کو ں کہو گے؟‘‘
’’کومں نہںپ کہوں گا؟ ہے مڈل فلٹ اور کہتا ہے پٹنہ کالج سے بی اے کار ہے اور تم ہاں مںو ہاں ملاتی ہو۔‘‘
’’ساجی رو پڑی اور وہی بات دہرائی۔ ’’جو بھی ہںا جسےے بھی ہںگ مر ے پتی ہںر۔‘‘
اور مجھے غصّہ آ گات۔ ’’پتی۔۔۔ پتی۔۔۔ پتی۔۔۔۔ ہر بات مںک پتی۔‘‘
’’ہاں۔۔۔۔ مراے پتی ہںت۔۔۔۔۔‘‘ساجی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ مںر خاموش رہا۔
پھر سسکوںں کے درماتن بولی۔ ’’وہ تس۔ سال سے ییس کہہ رہے ہںس اور مں تسر سال سے سن رہی ہوں اور تم ایک دن بھی نہںت سن سکتے۔‘‘
’’تم سن سکتی ہو۔ وہ تمہارے پتی ہںج مریے نہںب۔ مں‘ کوہں اس جھوٹ کو برداشت کروں۔‘‘
’’تم یہ نہںد دیکھتے، وہ تمہاری کتنی قدر کرتے ہںت، تم سے کتنی محبت کرتے ہںد، تمہں محبت سے کھانا کھلاتے ہںے، تمہارے لےی سگریٹ لاتے ہں اور تم ان کے خلوص کا یہ صلہ دیتے ہو۔‘‘
مںل خاموش رہا۔ مجھے درجات سے نفرت محسوس ہو رہی تھی۔ اس شخص کا سنہا ناکام آرزوؤں کا مسکن ہے۔ ایک ناکام آدمی، کہںا سے ساجی مل گئی۔ جو اس کے جھوٹ کو جی رہی ہے اور خود بھی جھوٹ ہو گئی۔۔۔۔ ایک نمبر کی ہائپو کریٹ۔۔۔۔۔ پتی۔۔۔ پتی۔۔۔ پتی۔۔۔۔ اور خود پرائے مرد سے ہم بستر ہوتی ہے۔
سڑتھوکں پر درجات کے قدموں کی چاپ سنائی دی تو ساجی اٹھ کر باتھ روم مںت چلی گئی۔ درجات دو پکٹس سگریٹ لے کر آیا۔ مںک پسے دینے لگا تو اس نے انکار کاک لکنہ زبردستی اس کی جبہ مںآ پسےں رکھ دیے اور باہر نکل گات۔
اپنے کمرے مں آ کر مںد نے روشنی گل کی اور بالکونی مںں بٹھ کر سگریٹ کے کش لگانے لگا۔
تسے سال سے وہ یہ راگ الاپ رہا ہے اور ساجی خاموشی سے سن رہی ہے۔۔۔۔۔۔ مںس نے دونوں سے عجب سی ہمدردی محسوس کی۔
اسی وقت نصبو کا فون آیا کہ’’ فروزی نے شادی کر لی۔‘‘
مں۔ چونک گاں۔ ’’شادی کر لی یا شادی ہو گئی؟‘‘
’’شادی کر لی۔۔۔۔۔!‘‘ نصبی نے ایک ایک لفظ پر زور دے کر کہا۔
’’اچھا۔۔۔۔۔ یہ حادثہ کب ہوا؟‘‘
’’ایک دن کوئی لڑکا حسنو کی دکان پر مل گار۔ بولا شادی کرو گی؟ یہ راضی ہو گئی۔ دونوں نے مسجد مں نکاح کر لاس۔‘‘
’’اور تم کو خبر نہںں ہوئی؟‘‘
’’نہں ! جس دن ملے اسی دن نکاح کر لاص۔‘‘
’’واہ۔۔۔۔ بالکل فلمی انداز۔۔۔۔۔ ضرور پہلے سے چکّر چل رہا ہو گا۔‘‘
کوئی چکّر نہں۔ تھا جسان کہ نصبا نے بتایا۔ دونوں ایک دوسرے سے انجان تھے، نصبی کو ینید تھا کہ لڑکا اچھا ہے۔ نکاح کے بعد دونوں ملنے آئے تھے۔
نصبب نے لڑکے کو سلامی بھی دی تھی۔ وہ کسی مڈدم رضوی کے اسکول مںی دربانی کرتا تھا۔ نصبک اس شادی سے خوش تھی۔ پوچھنے پر کہ اب یہاں کام کون کرے گا، نصب۔ کا جواب تھا کہ فروزی آن جان کرتی رہے گی، صرف رات مںے نہںا رہے گی۔ پھر بھی جھاڑو برتن کے لےر اس نے میرا بوا سے کہا تھا وہ کسی خادمہ کا انتظام کرے گی لکنھ مںا نے تشویش ظاہر کی کہ کوئی اٹھائی گرتہ ہو گا۔ کہں فروزی کو بچن نہ دے۔
بلّی کی نظر چھیکے پر رہتی ہے۔ مر ی نظر درجات پر تھی کہ کب۔۔۔۔۔۔
اور چھکا ٹوٹا۔۔۔۔۔ وہ جلد ہی جھن جھن والا کے ساتھ دلّی کے لےا روانہ ہوا اور ساجی کی زلفں۔ مرنے شانوں پر پریشاں ہوئںی۔
لکن پٹنہ کو لے کر کچھ پریشان سی نظر آ رہی تھی۔ مریی سمجھ مںک نہںا آ رہا تھا کہ اچانک اس پر پٹنہ مںو رہنے کا خبط کونں سوار ہو گار ہے۔ مںل نے پوچھا۔
’’تم پٹنہ کوہں شفٹ کرنا چاہ رہی ہو؟‘‘
’’تمہاری خاطر۔‘‘
’’مرہی خاطر کورں؟‘‘
’’تمہارا ٹرانسفر کبھی بھی یہاں سے ہو سکتا ہے۔ پھر تم یہاں تو آؤ گے نہں لکنھ تم کہں بھی رہو پٹنہ تو آتے رہو گے۔ وہاں رہوں گی تو تمہارا دیدار تو کر سکوں گی۔‘‘
’’کاہ دیوانگی ہے۔‘‘ مںے ہنسنے لگا۔
’’دیوانی تو ہوں۔‘‘ وہ بڑی ادا سے مسکرائی۔
’’منصوبہ کے لے بھی اچھا رہے گا۔ اس کی پڑھائی راستے پر آ جائے گی۔‘‘
’’منصوبہ کی پڑھائی تو ایک بہانا ہے۔ وہ یہاں بھی پڑھ سکتی ہے لکنس تم تو یہاں رہو گے نہں ۔‘‘
’’پھر بھی مںھ کہںا بھاگا تو نہں جا رہا ہوں اور منصوبہ کے پاس کرنے مں ابھی وقت ہے۔ ابھی سے اتنی جلدی کورں؟‘‘
’’وقت تو دیکھتے دیکھتے گذر جائے گا لکنو زمنت تو ابھی سے تاکر کرنی ہو گی۔ مںا سب کے ذہن مںک یہ بات بٹھا رہی ہوں کہ پٹنہ مںن رہنا ہے۔‘‘
’’اور درجات۔۔۔؟‘‘
’’وہ ابھی راضی نہںے ہںا لکنپ ہو جائںا گے۔‘‘
’’مجھے نہںت لگتا درجات کبھی راضی ہو گا۔‘‘
’’ایک بات بتاؤں؟‘‘
’’کاھ۔۔۔؟‘‘
’’ایک مرد کسی عورت کی محبت مںو گرفتار ہوتا ہے تو اس کی تمام چزتوں سے پاار کرتا ہے۔ اس کی برائیاں بھی عزیز ہوتی ہںر۔ اس کی تمام بدعنوانارں برداشت کرتا ہے اور یہ شخص مجھے دیوانہ وار چاہتا ہے۔ مر ے لے اسے سب کچھ گوارہ ہے۔
’’تمہاری خاطر اسے مں بھی گوارہ ہوں؟‘‘
’’بالکل۔۔۔۔۔ تم انہںک اس لےا عزیز ہو کہ تم مجھے عزیز ہو۔‘‘
’’مجھے خود حرات ہے کہ درجات مجھ سے الرجی کو ں نہں محسوس کرتا۔ اس کو مجھ سے جلن ہونی چاہے ۔‘‘
’’جلن نہںد ہو سکتی۔ جہاں محبت ہے وہاں صرف محبت ہوتی ہے۔ وہاں حسد کی گنجائش نہںر ہوتی۔‘‘
’’مرجی بوسی کی طرف کوئی دیکھے تو اس کی آنکںئش نہ نکال لوں۔۔۔۔۔؟‘‘
وہ ہنسی۔ ’’تم ایسا کر سکتے ہو۔ تم بوری پر قابض ہو اور محبت قبضہ نہں کرتی۔ محبت آزادی دییے ہے۔ کرشن رادھا سے لاکھ بے اعتنائی کریں رادھا کو کوئی فرق نہںا پڑتا۔ وہ کرشن کی محبت مں ہمشہئ سرشار رہے گی۔ رکمنی ہرن پر رادھا کبھی چںو بہ جبںا نہں ہو گی۔ وہ تو خوش ہو گی کہ مررے محبوب کی کوئی منظور نظر ہے۔ وہ تو رکمنی سے بھی پا ر کرے گی۔‘‘
’’مںھ کسی کو لے آؤں تو تمہارا کاں حال ہو گا؟‘‘
’’مںھ اس کا سولہ سنگار کروں گی۔ مںک اس سے جلوں گی نہںہ۔ وہ تمہاری چزئ ہے۔ وہ مجھے عزیز ہو گی مںں نے نصبج سے کوئی جلن نہںہ محسوس کی۔ وہ آئی تو مںہ خوش ہوئی۔ اس کی خاطر داری مں مںگ نے کوئی کمی نہںہ کی۔‘‘
’’مںھ نہںک مانتا۔ وہ آئی تھی تو تمہارا چہرہ اتر گاش تھا۔‘‘
’’عورت کو اس بات کا غم نہںی ہوتا کہ وہ دوسرے کو چاہنے لگا ہے۔ اسے اس بات کی فکر ہوتی ہے کہ وہ اسے اب کم چاہتا ہے۔ تمہںہ یاد ہے کہ جب مں اداس تھی تو تم مجھے نچےس لے گئے تھے اور اپنے سنےس سے لگایا تھا۔۔۔۔۔۔ مں بتا نہںی سکتی مجھے کتنا سکون ملا تھا۔۔۔۔۔ اس لمس کی لذّت مںک بھول نہںب سکتی۔۔۔۔ مجھے احساس ہوا تھا کہ تم مجھ سے محبت کرتے ہو۔‘‘
مں مسکرایا لکنی خاموش رہا۔ مجھے یاد ہے مںس نے ایسا کاو تھا لکنم یہ مر ی محبت نہںی تھی۔ یہ مروی ادا کاری تھی۔ مر ے دل نے نہںا کہا تھا کہ اسے سنےت سے لگا لو۔۔۔ مرمے دماغ نے کہا تھا کہ ایسا کرو تاکہ وہ سمجھے کہ مںہ اس کی دسترس سے باہر نہں۔ ہوں اور ییم ہوا تھا۔
’’دکان کا کاس ہو گا؟‘‘ مںم نے پو چھا۔
’’یہ تو یں ں رہں گے۔ آنا جانا کرتے رہںا گے۔‘‘
’’خرچ تو بہت آئے گا۔‘‘
’’مںچ یہ کونں سوچوں کہ خرچ کہاں سے آئے گا۔ مجھے تمہاری قربت مںب جناک ہے۔۔۔۔ تمہاری قربت مجھے جہاں ملے۔۔۔ مجھے جس حال مںی رکھے۔۔۔۔۔۔‘‘
’’تم نے درجات کو الجھن مںم ڈال دیا ہے۔‘‘
’’کوئی الجھن نہںں۔۔۔۔ وہ مجھ سے محبت کرتے ہں ۔ وہ ساری الجھن سلجھا لںھ گے۔‘‘
اور اس نے مر ے سنےم مںل منھ چھپا لا ۔
’’مں نہںن رہ سکتی تمہارے بغرا۔۔۔۔۔‘‘
وہ سسکانں لنےن لگی اور مرہے نتھنوں مںا وہی پراسرار بو سرایت کرنے لگی۔۔۔۔ مجھے کونں یہ مہک مشتعل کرتی ہے۔ مں اسے ضرور پٹنہ مںس رکھوں گا۔۔۔۔۔
’’اچانک مت چلے جایا کرو۔ مںس بماعر ہو جاتی ہوں۔‘‘
’’نہںن جاؤں گا۔۔۔۔ مریی جان۔۔۔ مر ی بلبل۔۔۔!‘‘
درجات دلّی سے جلد ہی لوٹ گاو۔ اس بار جانی واکر کی بوتل لایا تھا۔ بوتل آدھی خالی تھی۔ وہ یہ سوچ کر خوش تھا کہ مہنگی شراب سے مربی ضاوفت کرے گا۔ اس نے بگخ سے اسنکس کے پکٹ بھی نکالے جو آدھے سے زیادہ خالی تھے۔ گویا بچی ہوئی شراب کے ساتھ بچے ہوئے اسنکسھ بھی سٹے کر لے آیا تھا۔ پھر بھی اس وقت مںو اس سے کوئی پرخاش محسوس نہں کر رہا تھا۔ ایک پگھ کے بعد وہ اپنی اوقات پر چلا آیا۔
’’یہ چز یہاں ملتی نہںپ ہے ورنہ مںت روز ہی آپ کو جانی واکر پلاتا۔‘‘
’’اچھا۔۔۔۔!‘‘ مںں مسکرایا۔ مںی نے سوچا کہ یہ دوسرا پگآ لے لے تو پٹنہ کی بات نکالوں گا لکنی پہلے ساجی بول پڑی۔
’’اس بار پٹنہ مںں چھٹھ کروں گی۔‘‘
’’ایسا کویں؟‘‘ مں نے پوچھا۔
’’یہ بما ر پڑے تھے تو منوتی مانی تھی کہ اچھے ہو جائں گے تو پتل‘ کی سوپ سے اردھ دوں گی۔‘‘
’’تو دے دیں ۔ یہاں بھی چھٹھ مناتے ہںے۔‘‘
’’یہاں گنگا نہںں ہے نا۔۔۔۔۔۔ منوتی گنگا مں اردھ دینے کی ہے۔ اب پٹنہ مں رہوں گی تو وہںٹ چھٹھ مناؤں گی۔‘‘
مر ی نظریں درجات کے چہرے پر تھں ۔ مجھے محسوس ہو رہا تھا کہ وہ پٹنہ کی گفتگو سے دامن بچانا چاہتا ہے۔
’’اچانک پٹنہ مںا رہنے کا خاکل کہاں سے آ گاھ؟‘‘
’’مںپ تو پڑھ نہںن سکی۔ کم سے کم مرےی بی و تو پڑھ لے۔‘‘
’’پٹنہ مںم پڑھنے کا ماحول ملے گا۔‘‘
’’ہم اسی مہنے پٹنہ شفٹ کریں گے۔‘‘درجات پوری طرح نشے مںس تھا۔ مں مسکرایا۔ مںی نے بات آگے بڑھائی۔
’’مر ے ایک دوست کا فلٹٹ خالی ہے۔ اگر آپ رہنا چاہتے ہںط تو مںے اس سے بات کروں گا۔‘‘
’’بات کےمں نا پلز ۔۔۔۔۔ مں۔ منصوبہ کو وہاں پڑھانا چاہتی ہوں۔‘‘ ساجی نے بے اختاںر مرنا ہاتھ پکڑتے ہوئے بہت لجاجت سے کہا۔
’’سمجھ لےںی‘ مکان مل گاک۔‘‘ مںہ مسکرایا۔
’’تب تو چھٹھ بھی وہاں منا لوں گی۔۔۔۔ اب دن ہی کتنے رہ گئے۔۔۔۔۔؟ اگلے ماہ دسہرہ ہے پھر دیوالی پھر چھٹھ۔۔۔۔!‘‘ ساجی چہکتی ہوئی بولی۔
درجات نے اپنے لےے دوسرا پگی بنایا۔ وہ تناؤ مں تھا۔ پٹنہ کے اخراجات کہاں سے پورے کرے گا۔ یہاں تو دوا کی چھوٹی سی دکان تھی۔ کچھ ڈاکٹروں کی دلّالی مںس بھی کما لتاج تھا لکنی پٹنہ مںی کاا کرے گا؟
’’محبت سارے الجھن سلجھا لے گی۔۔۔۔۔۔‘‘ مرنے ذہن مںا ساجی کا جملہ گونجنے لگا اور مںن سوچے بغر۔ نہںٹ رہا کہ کاھ مںک اس عورت کی محبت مںل گرفتار ہوں۔۔۔۔؟ مںی کویں اسے پٹنہ لے جانے پر کمر بستہ ہوں۔۔۔۔۔؟ بوجھ تو مجھ پر ہی پڑے گا۔۔۔۔۔ درجات کی کار حتا۔ رہ جائے گی۔۔۔۔؟ صفر۔۔۔؟ ساجی اتنا بھی نہںہ سوچتی کہ یہ شخص لال گنج مںت تنہا کس طرح زندگی گذارے گا۔۔۔۔؟ خود تو مرہی بانہوں مںہ عشص کرے گی۔۔۔۔۔ ساجی کی حت۔ے ایک داشتہ سے زیادہ کاا ہو گی۔۔۔؟ ایک بوجی کسی کی داشتہ ہو گئی۔۔۔ عورت کی تنزلی کی انتہا ہے۔۔۔ کاڈ محبت عورت کو ڈی گریڈ کرتی ہے۔۔۔۔؟
مں۔ کاا کروں۔۔۔۔؟ اس عورت کا جسم ایک گرداب ہے جس مںک مںج اتر چکا ہوں۔۔۔۔۔!
اور درجات۔۔۔۔؟ درجات ساجی سے محبت کرتا ہے۔ اس کی مجبوری ہے کہ ساجی کا ہر فصلہر قبول کرے۔ وہ اپنی اوقات سمجھتا ہے۔ وہ پٹنہ مںک مکان کا مسئلہ حل نہںج کر سکتا۔ وہ جانتا ہے کہ اس کا حل مر۔ے پاس ہے۔ وہ سمجھتا ہے مںئ ساجی کے قریب آ چکا ہوں اور وہ دور ہوتا جا رہا ہے۔۔۔۔۔ اب وہ مر ے ذریعہ ہی ساجی کو پا سکتا ہے۔
اس نے خوشامد بھرے لہجے مںہ کہا۔
’’آپ اپنے دوست سے بات کے س ۔ وہ اگر راضی ہںے تو ہم لوگ اگلے ماہ شفٹ کر جائںو گے۔‘‘
مرٹا دوست کناڈا مںہ رہتا تھا۔ کنکڑ باغ مںے اس کا ایک تھری بی ایچ کے فلٹ تھا جس کا مںں کئرا ٹکرا تھا۔ مںک نے اسکائپ پر بات کی۔ وہ اس بات پر راضی ہوا کہ فلٹم کا کرایہ ہر ماہ اس کے اکاؤنٹ مںم پابندی سے جمع ہو گا لکن ساجی اس بچا اپنے گاؤں جانا چاہتی تیں۔ معلوم ہوا کہ اس کے بھائی نے کچھ کھتج بچےف تھے جس مںت اس کا بھی حصّہ تھا۔ مجھے سنک سوار ہوئی کہ مں بھی اس کا گاؤں دیکھوں۔ اس بات پر ساجی اچھل پڑی اور گاؤں کی تعریف مںی زمنک و آسمان کے قلابے ملانے لگی۔
’’بہت خوب صورت گاؤں ہے۔۔۔۔۔ پہاڑیوں سے گھرا ہوا۔۔۔ ندی ہے، تالاب ہے۔۔۔۔۔ ہرے بھرے کھت۔۔۔۔۔۔ جنگل۔۔۔! آپ رہں گے تو مزہ آئے گا۔‘‘
’’آپ روز مچھلی کھائں‘ گے۔ ان لوگوں کا اپنا تالاب ہے۔ آپ کے لے مچھلی مار کر لائںز گے۔‘‘ درجات کسی بچّے کی طرح خوش نظر آ رہا تھا اور مجھے حرھت تھی کہ مر‘ے جانے کی درجات کو کوےں خوشی تھی؟ ساجی کی خوشی تو سمجھ مںا آتی تھی لکنا اس گاؤدی کی نفسا ت کو سمجھنا مرجے لےج مشکل تھا۔
’’آپ کو وہ ندی دکھاؤں گی جہاں مںے ترجا کرتی تھی۔‘‘
’’اچھا؟ آپ تر نا بھی جانتی ہںک؟‘‘ مںش نے مصنوعی حرجت سے پو چھا۔
’’مںھ چت بھی تر۔ سکتی ہوں۔‘‘
’’بڑے بڑے ترداک کنارے پر ڈوبتے ہںہ۔‘‘ مںج مسکرایا۔
’’ڈوبنے کا خوف کس کو ہے؟‘‘ وہ بھی مسکرائی۔
معلوم ہوا کہ چھوٹی لائن والی ٹرین سے آدا پور جانا ہے۔ یینی اسٹم انجن والی چھک چھک ٹرین۔ ساجی نے بتایا کہ گاؤں آدا پور سے چار کلون مٹرم جنوب مںل ہے۔ بھاّٹ اسٹشن گاڑی بھجت دیں گے۔۔۔۔ یینج بلں گاڑی۔۔۔۔ وہاں ٹیس س نہں چلتی تھی۔
ہم صبح دس بجے کی ٹرین سے آدا پور کے لے روانہ ہوئے۔ ٹرین مںش سلپرم کلاس نہںس تھا۔ سبھی جنرل ڈبّے تھے۔ ایی گاڑیوں مں۔ عموماً رش ہوتا ہے۔ دوڑ کر گھس جاؤ تو سٹ مل جاتی ہے۔ یا کھڑکی کے رستے اندر رو مال پھنک دیا لکن اس دن اییک بھڑّ نہںت تھی۔ جگہ آسانی سے مل گئی۔ ساجی کھڑکی کے قریب بیھد ۔ مں اس کے بغل مں اور مر ے بغل مںھ درجات۔ سامنے کی برتھ پر ایک نوجوان جوڑا اٹھکھیلیاں کر رہا تھا۔ لڑکی بات بات پر ہنس رہی تھی۔ لڑکا رہ رہ کر اس پر لد جاتا۔ ایسا لگتا تھا، اس کی گود مںے سر رکھ دے گا۔ لڑکی کے ہاتھ ابھی بھی مہندی سے سرخ تھے۔ شاند اُن کی نئی نئی شادی ہوئی تھی۔
گاڑی نے لمبی سی سیاّ دی، بہت سا دھواں اُگلا اور چل پڑی۔ درجات کھڑکی بند کرنے لگا۔ ساجی چلّائی۔
’’کھڑ کی کوّں بند کرتے ہںد؟ پھر کات مزہ آئے گا۔‘‘
’’دھواں اندر آتا ہے۔ آنکھ مںا کوئلہ پڑے گا۔‘‘ درجات نے کھڑ کی کا پٹ گرا دیا۔
ساجی مچلی۔ ’’اٹھائےئ پلزا۔۔۔۔!‘‘
’’ہوا بھی آتی ہے۔‘‘ مںگ مسکرایا۔
’’کھڑکی کا ییا تو لطف ہے۔ باہر کا نظارہ اور ہوا۔‘‘
درجات نے پٹ اوپر کھنچا دیا۔
’’مجھے تو مزہ آ رہا ہے۔ چھک چھک کرتی ٹرین سیار بجاتی۔۔۔ کو۔۔۔ کو۔۔۔ کو۔۔۔۔۔‘‘ مںہ نے سیاد کی نقل کی۔ ساجی ہنسنے لگی۔ درجات بھی مسکرایا۔
’’گاڑی کی یہ سی ہ مںا نے بچپن مںج سنی تھی۔ چھٹّیوں مںی نانی کے یہاں جاتے تھے تو بی این ڈبلو سے جاتے تھے۔ اس مںا اسٹمن انجن لگتی تھی۔‘‘ مںک نے چہکتے ہوئے کہا اور مجھے حرنت ہوئی۔۔۔۔ مںی واقعی خوش تھا۔
اگلے اسٹشنک پر ایک مونگ پھلی بچنے والا چڑھا۔ لڑکے نے پچاس گرام مونگ پھلی خریدی۔ درجات نے خریدی سو گرام۔ مںر نے نمک کی ایک اور پڑیا مانگی اور ہری مرچ بھی۔ درجات نے مونگ پھلی چھلا کر کچھ دانے مرای ہتھییگ پر رکھے۔
’’آپ کھایئے۔‘‘
’’لے ک نہ۔۔۔۔۔۔‘‘ درجات اصر ار کرنے لگا۔
’’مونگ پھلی کا لطف خود سے ہی توڑ کر کھانے مںص ہے۔ انگلوےں مںو دبانے سے جب چٹ کی آواز کے ساتھ خول ٹوٹتا ہے اور دانے ہتھی ک پر گرتے ہں۔ تو فتح کا احساس ہوتا ہے۔‘‘ مںت نے مسکراتے ہوئے کہا۔
واہ۔۔۔۔۔ واہ۔۔۔۔۔ خوب۔ آپ کو ہر جگہ جت کا احساس چاہےن۔‘‘ ساجی زور سے ہنس پڑی۔
ہر جگہ نہں ۔۔۔۔۔ آپ سے تو مں ہار گاا۔‘‘
’’مجھ سے کا۔ ہا رے بھئی؟‘‘ ساجی مصنوعی حر ت سے بولی۔
’’اپنا دل ہارا اور آپ سے بھی۔۔۔۔۔‘‘ مںن نے درجات کی طرف اشارہ کا ۔ درجات مسکرا کر رہ گا ۔ اس نے مونگ پھلی کے کچھ اور دانے مرای ہتھیی’ پر رکھے۔
لڑکے کی آنکھ مںر کوئلہ پڑ گاگ۔ اس نے ایک دو بار آنکھں مں ب پھر ہتھییں سے آنکھ ملنے لگا۔
’’نکلا۔۔۔۔۔؟‘‘ لڑکی نے اس کی آنکھوں مںھ جھانکنے کی کوشش کی۔ لڑکے نے ایک دو بار پلکںا جھپکائںل اور نفی مںں سر ہلایا۔ لڑکی نے آنچل کو مروڑ کر پلندہ سا بنایا اور منھ مںئ رکھ کر پھونک ماری اور لڑکے کی آنکںلا سنکنے لگی۔ ایسا اس نے دو تنپ بار کار۔
’’اب ٹھکن ہے۔‘‘لڑکے نے مسکراتے ہوئے کہا۔ شاید اُس کی آنکھوں سے جلن غائب ہو گئی تھی۔ مںس نے مسکرا کر ساجی کی طرف دیکھا۔
’’بہت پانر ہے دونوں مںل۔‘‘
’’ہونا ہی چاہےہ۔‘‘
’’لکنا وقت کی دھول مں بہت کچھ دھندلا جاتا ہے۔‘‘
ساجی خاموش رہی۔ اس کے چہرے پر اُداسی کا ہلکا سا رنگ چھا گای۔ بہت ممکن ہے مر’ے اس جملے کو اس نے خود سے جوڑا ہو۔
کچھ دیر بعد لڑکا اونگھنے لگا۔ پھر اوپر کی برتھ پر سونے چلا گاچ۔ لڑکی بھی نچےر کی سٹھ پر لمبی ہو گئی۔
’’آپ سونا چاہتے ہںہ؟‘‘ درجات نے مجھ سے پوچھا۔
’’نہںس۔‘‘
’’سونا چاہتے ہں‘ تو اوپر کی برتھ خالی ہے۔ چادر بچھا دیتے ہں ۔‘‘
’’بالکل نہںت۔ مں سفر کا لطف لے رہا ہوں۔ ابھی مونگ پھلی کھائی۔ کوئی اور چز آئے گی تو وہ بھی کھاؤں گا۔ مزہ آ رہا ہے۔ سفر کٹ رہا ہے۔‘‘
اگلے اسٹشنب پر کچھ دبنگ قسم کے لوگ ڈبّے مںا گھس آئے اور سامنے والی برتھ پر بٹھ گئے۔ لڑ کی اٹھ کر بٹھا گئی اور لڑ کے کی طرف بے بسی سے دیکھنے لگی۔ لڑکے نے اعتراض کا۔۔
’’یہاں نہں۔۔۔۔۔۔ یہاں نہںن۔۔۔۔۔۔ آگے جایئے۔ آگے بہت جگہ خالی ہے۔‘‘
دبنگ لال پلا ہو گای۔ ’’کا کہا؟ آگے جایئے۔۔۔؟ آپ لٹ کر جایئے اور ہم بٹھا کر بھی نہں جائںک؟‘‘
دبنگ کا ساتھی لڑکے کے چہرے کے آگے انگلی نچاتے ہوئے دھمکی بھرے لہجے مں بولا۔
’’اب ایک لفظ بھی منھ سے نکالا تو باہر پھنکے دوں گا۔‘‘
دبنگ لڑکی سے اور سٹ کر بٹھب گا ۔ اس کے ساتھی بھی بغل مںی بٹھر گئے۔ لڑکی کھڑکی سے ایک دم سٹ گئی۔ اس کی آنکھوں مںو عدم تحفّظ کا احساس صاف جھلک رہا تھا۔ لڑکا اپنی جگہ جسےل پتھر ہو گای۔۔۔۔۔ وہ بس ایک ٹک بوفی کی طرف دیکھ رہا تھا اور وہ آنکھوں مںک بے بسی لےک اس کو تک رہی تھی۔
مجھے غصّہ آ رہا تھا۔ لڑکا کم سے کم نچےی اتر کر لڑکی کے بغل مںں بٹھب سکتا تھا۔ وہ خود کو کچھ محفوظ تو سمجھتی لکن اس کو سانپ سونگھ گا تھا۔ وہ ایک دم چپ تھا۔ نچےچ بھی نہںل اترا۔ دبنگ نے زیادہ بد تمزھی نہںن کی۔ اگلے اسٹشنن پر ساتھونں کے ساتھ اتر گان۔ اس کے اترتے ہی لڑکا نچے آیا۔ وہ بودی کے بغل مںت بٹھنا چاہ رہا تھا لکنس بوری نے غصّے سے اس کی طرف دیکھا اور اس کو نفرت سے پرے کرتی ہوئی تکھے لہجے مںت بولی۔
’’جایئے۔۔۔۔۔ اوپر بےھلہج۔‘‘
لڑکی گھٹنے مںئ سر دے کر بٹھ گئی۔ لڑکے نے سر جھکا لاب۔
مںک نے درجات کی طرف دیکھا پھر ساجی کی طرف۔۔۔۔۔
چھک چھک گاڑی شام سے اک ذرا پہلے آدا پور پہنچی۔ چھوٹا سا اسٹشنط تھا۔ مغربی کناروں پر پہاڑیوں کا سلسلہ تھا۔ ادھر سے آنے والی ہواؤں مںت خنکی سی تھی۔ ساجی کے بھائی اسٹشنھ آئے تھے۔ وہ دھوتی اور کرتے مںر تھے۔ شانے پر لال رنگ کا گمچھا تھا۔ اس کی شکل ساجی سے کہںد نہںئ ملتی تھی۔ آ دمی ہنس مکھ تھا۔ ہاتھ جوڑ کر پر نام کاس اور بولا:
’’سر۔۔۔۔۔ گاڑی لے کر آیا ہوں۔‘‘
’’بل۔ گاڑی۔۔۔۔؟‘‘ مںد مسکرایا۔
’’جی سر۔۔۔۔۔ کوئی دقّت نہںم۔۔۔۔۔ آ نند آئے گا۔‘‘
’’چلے۔!‘‘ مں نے خوش دلی سے کہا اور اپنا سامان اٹھانے لگا لکنے اس نے اس کا موقع نہںے دیا۔ خود بڑھ کر مرکا سوٹ کس ہاتھ مںٹ لے لان۔
گاڑی سجی ہوئی تھی۔ چچری کی چھت تھی اور ساٹن کا پردہ لگا ہوا تھا۔ بل کی جوڑی بہت خوب صورت تھی۔۔۔۔۔ تنو مند اور سفد ۔۔۔۔۔۔ گلے مں گھنگھروؤں کی لال پیئی مالا۔۔۔۔۔ بل نے ہمںن دیکھ کر گردن ہلائی۔۔۔۔۔ ٹن ٹن کی آواز فضا مںر گونجی۔ مںم نے مسکرا کر ساجی کی طرف دیکھا۔
’’راستے بھر موسیرت سنتے چلںی گے۔‘‘
گاڑی بان نے لالٹنی جلا کر گاڑی کے نچےر لٹکا دی۔ دھول بھرے کچّے راستے پر بل’ گاڑی کا سفر شروع ہوا۔ راستے مں۔ کئی گاڑیاں ملں ۔ سب مںگ لالٹنی لٹکی ہوئی تھی۔ بلہ اپنی دھن مں ٹن ٹن کرتے چلے جا رہے تھے۔ گاؤں کا راستا اُن کا جانا پہچانا تھا۔ پاس سے کوئی موٹر گذرتی تو یہ راستے سے ہٹتے نہں تھے۔ موٹر حاشےا پر اتر کر آگے بڑھ جاتی اور گرد کا غبار سا اٹھتا۔
پہاڑی پر شام کا ستارہ جھلملانے لگا تھا لکنی آ گے بڑھنے پر نگاہوں سے اوجھل ہو گاا۔ ڈوبتے سورج کے پس منظر مںک پہاڑیاں صاف اور دلکش نظر آ رہی تھںڑ۔ بہت دور تک جانے والے اس راستے کے جنوب مںذ پہاڑیاں جسےش اجڑی ہوئی تھںا۔ وہاں ایک دو سوکھے سے درخت خاموش کھڑے تھے لکنڑ مشرق کی طرف پہاڑی کا حصّہ ہری بھری جھاڑیوں سے بھرا تھا۔ دور تک پھیوٹ ہوئی پر فریب وادی پہاڑیوں کے بچے مںں سے جانے والے راستے سے بٹ سی گئی تھی۔ شام کے بڑھتے ہوئے دھندلکے مںا پہاڑیاں کبھی نزدیک معلوم ہوتںا کبھی خواب جی د نظر آتںڑ۔ ملگجے آسمان مںب پرندوں کا آخری غول آشاانے کی طرف لوٹ رہا تھا۔
گاؤں واقعی خوب صورت تھا۔
ایک گھنٹے مںخ گھر پہنچ گئے۔ اندھرھا گہرا گات تھا۔ ہر طرف خامشی تھی۔ کہںر کوئی چہل پہل نظر نہںت آ رہی تھی۔
مجھے باہر کا کمرہ ملا۔ یہاں ششمچ کی چوڑی سی پلنگ تھی جس پر ناریل کا دبزں سا گدّا بچھا ہوا تھا۔
گھر مںچ سبھی سادہ لوح معلوم ہوئے۔ ساجی کی بھابی لمبا سا گھونگھٹ کاڑھے رہتی تھی اور مردے سامنے آنے سے کتراتی تھی۔ ساجی کی ماں بھی سامنے نہںی آئی۔
شام کے کھانے مںھ مچھلی کے ساتھ مہوے کی شراب بھی تھی اور اس کا کریڈٹ درجات نے لال۔
’’مںں نے کہلوایا تھا کہ مچھلی کے ساتھ مہوے کا بھی انتظام کرنا۔‘‘
مںم مسکرایا۔ کای چزا ہے درجات؟ جو ہے نہںھ وہ نظر آتا ہے۔
شراب تزک تھی۔ ایک جانی پہچانی سی بو مریے ارد گرد پھل گئی۔ مں نے ذہن پر زور دیا کہ یہ مہک کیا تھی لکنہ کچھ سمجھ نہں سکا۔ دوسرے پگا مںن نشہ بڑھ گای۔ مہک تز ہو گئی۔۔۔۔ مہک جانی پہچانی تھی۔ نگاہوں کے سامنے ساجی جسے تزت تزن سانسںی لے رہی تھی۔۔۔۔۔
صبح جلد ہی آنکھ کھل گئی۔ ایگ گائے کہںس رمبھا رہی تھی۔
مںد سمجھ رہا تھا کہ سب سے پہلے مرہی نندں کھلی ہے لکنی گھر مںے سبھی اٹھ گئے تھے۔ چائے تا ر تھی۔ ساجی نے مجھے مکان دکھایا۔ مکان بڑا تھا۔ کئی کمرے تھے اور ایک لمبا سا آنگن جس کا فرش مٹّی کا تھا۔ ایک حصّے مںت گوبر سے لپت لگائی ہوئی تھی۔ ایک ٹوٹی ہوئی پلنگ کونے مںے پڑی ہوئی تھی۔
چائے پی کر درجات کے ساتھ باہر نکلا۔ کچھ گائںش مد ان مںم چر رہی تھںے۔ مرد کھتویں کی طرف گامزن تھے۔ پڑ کی شاخوں پر چھوٹی چھوٹی چڑیائںں پھدک رہی تھںد۔ پرندے کھتونں پر منڈرا رہے تھے۔ سرخ چونچ والے طوطے کی قطار اوپر سے گذر گئی۔
کچھ دور پر ایک فارم تھا جو ندی کے سوکھے پاٹ تک پھلاک ہوا تھا۔ فارم کے احاطہ سے بہت باہر پھوس کی ایک جھوپڑی کھڑی تھی۔ درجات نے بتایا کسی دھنّا رام ساہوکار کا فارم ہے۔ درجات کو اس کے دادا تک کی ہسٹری معلوم تھی۔ دادا کو کالے پانی کی سزا ہوئی تھی۔ کئی جگہ سے راستا ندی کے سوکھے پاٹ سے ہو کر جاتا تھا۔ راستے پر بلت گاڑی اور موٹر کے پہیّے کے نشانات تھے۔ فارم سے سٹ کر ایک پگڈنڈی سامنے پہاڑی تک چلی گئی تھی۔ ہم نے پگڈنڈی پکڑی اور پہاڑی کے دامن مںئ پہنچ گئے۔ پہاڑی اونچی اور ایک دم سدڈھی کھڑی تھی۔ شکھر پر سنگ مر مر کا چوبی فرش نظر آ رہا تھا۔ ایسا لگتا تھا چٹّانوں کو کاٹ کر سنگ مر مر کی سلب نصب کی گئی ہے۔
چٹّان تک پہنچنے کے لے پتھر کی سڑ ھی بنی ہوئی تھی۔ درجات نے بتایا کہ اسے دھنّا رام کے دادا نے بنوایا تھا۔ وہ اس چٹّان پر بٹھچ کر جوگ سادھنا کرتا تھا۔ ایک بار کوئی عورت اس کی سادھنا مںٹ مخل ہوئی تھی تو اس نے غصّے مں آ کر اس عورت کو اُٹھا کر کھائی مںس پھنکن دیا تھا جس سے اس کو کالے پانی کی سزا ہوئی تھی۔ مںی سڑاھاچں چڑھتا ہوا سنگ مر مر کے چبوترے تک پہنچا۔ چبوترے کے پچھےو چٹان کا کونا نکلا ہوا تھا اور پچھےن گہری کھائی تھی جس مں مدھم شور کے ساتھ پر نالہ بہہ رہا تھا۔ جگہ بے حد پراسرار تھی۔ فرش پر بٹھتےی ہوئے مجھے خوف سا محسوس ہو۔ اک ذرا غفلت ہو تو آدمی نچےھ کھائی مںت گر سکتا تھا۔
پہاڑی کے اک ذرا اوپر سورج اٹھ آیا تھا اور پہاڑیاں نارنجی رنگ مںی شرا بور ہونے لگی تھںر۔ یہاں سے وہ پگڈنڈی دلفریب معلوم ہو رہی تھی جو جھاڑیوں کے بچر بل کھاتی ہوئی یہاں تک پہنچی تھی۔ فارم کے آس پاس مکان اور مویی نظر آ رہے تھے۔ اچانک عمارت کا دروازہ کھلا اور ایک عورت تپاک سے باہر نکلی اور گوہال کی طرف چلی گئی۔
مںر چبوترے پر کچھ دیر بٹھا ۔ ایک دو سگریٹ پھونکی۔
درجات مجھے دوسرے راستے سے گھر لایا۔ اس نے وہ تالاب دکھایا جو ان لوگوں کا نجی تالاب تھا۔
دو پہر کے کھانے کے بعد وہ ساجی کے بھائی کے ساتھ مچھلی مارنے چلا گا ۔ شام تک نہںک آیا تو مں ساجی کے ساتھ چہل قدمی کے لےھ ندی کی طرف نکل گا ۔
ندی دور تک پھی ب ہوئی تھی۔ ندی کے اوپری حصّے سے ایک ناؤ بہتی آ رہی تھی۔ اس مں لوگ کھچا کھچ بھرے تھے اور ہتھواہ ں سے تال دیتے ہوئے گتی گا رہے تھے۔ گت کے بول صاف سنائی نہںد دے رہے تھے۔ مںے اتنا ہی سمجھ سکا۔ ’’بابا بھولا رے۔۔۔۔۔۔۔‘‘ مں نے آسمان کی طرف دیکھا۔ آسمان پر بادل کا ایک ٹکڑا بھی نہںی تھا۔ صاف شفاف آسمان جسےن کسی گہرے راز سے بھرا تھا۔ مچھوارے جال سمٹک رہے تھے۔ ندی کے اس پار کوئی گا رہا تھا اور سامنے کی پہاڑی سے دو عورتںا لکڑیوں کا گٹھر سر پر لادے نچےی اتر رہی تھںی۔ ان مںت سے ایک ضعفر تھی دوسری جوان۔ دونوں نے ہری لتاؤں سے گٹھر باندھ رکھا تھا اور ایک ہاتھ سے انہںس سنبھالتی نچےر اتر رہی تھںؤ۔ پہاڑی پر کچھ ہی درخت بچے ہوئے تھے۔ ایسا لگتا تھا کہ جلاون کے لےر زیادہ تر درخت کاٹ لے گئے تھے۔ درختوں کی گھنی چھاؤں پہاڑی کے ایک دم اوپر ہی مسّر تھی۔ پہاڑی کے اونچے درختوں کو انسانی ہاتھ چھو نہںا سکے تھے۔ یہ اپنے مکمل قد تک اُگے ہوئے تھے۔ ان کی شاخںے موٹی اور پتّوں سے ڈھکی تھںا۔
ندی کنارے کی چڑھائی چڑھتے ہوئے گہووں کے ہرے بھرے کھتوبں سے لگی ہوئی پگڈنڈی پکڑی۔ ہم جس راستے سے اوپر چڑھ رہے تھے اسی راستے سے ایک گائے نچے اتر رہی تھی۔ پہاڑی پر پہنچ کر مں نے مڑ کر دیکھا۔ پگڈنڈی کھتوگں اور املی کے پڑجوں سے ہوتی ہوئی ایک پرانے شکستہ مندر کو چھوتی گذر گئی تھی۔ یہ ایک زمانے سے چلی آ رہی تھی۔ ہزاروں لاکھوں لوگ اس پر سے گذرے ہوں گے۔ پگڈنڈی گاؤں کی روایت کی امنپ تھی۔ شام کے گہرے سکوت کا لمس اس مںے جذب تھا۔ شمال کی طرف شوو کے ایک پرانے مندر مںے کوئی پجاری آ رتی کر رہا تھا۔ کچھ مقامی لوگ سائکل چلاتے ہوئے مندر کے پاس سے گذر گئے۔ ہم ایک پتھر پر بٹھت گئے۔ ساجی نے گھٹنے پر رخسار ٹکا دیے اور اور سامنے افق کی طرف دیکھنے لگی۔ ساجی کی آنکھوں مںس افق پر اُگے پہلے ستارے کی جھلملاہٹ تھی۔ اس مںے اداسی کا رنگ نہںے تھا۔ اس مں آرتی کی الوہی چمک تھی۔
سورج آہستہ آہستہ مغربی کناروں کی طرف کھسک رہا تھا۔ شفق کی لالی ندی کے پانوجں مںغ گھلنے لگی تھی اور پرندے بھی اپنے آشا نے کی طرف لوٹ رہے تھے۔ ندی اب شانت تھی۔ دن بھر کی روانی کے بعد جسےک چپ سی ہو گئی تھی۔ شام کے سائے ندی کی سطح پر منڈرا رہے تھے۔
ایک اور تارا روشن ہوا۔۔۔۔۔ اندھرھا کچھ اور سرمئی ہو گاپ۔ پرندے پڑیوں پر اترنے لگے۔ سر مئی آسمان کے پس منظر مں درختوں کے کالے سائے سہانے لگ رہے تھے۔ چاند بھی جسےن اگا چاہتا تھا۔
چاند طلوع ہوا۔۔۔۔۔ اونچے درختوں کے درما ن چاند کا عکس آہستہ آہستہ ابھر نے لگا۔ سکوت گہرا گا۔۔ مںے پتھر پر لٹہ گاا۔ ساجی بھی پہلو مںپ دراز ہو گئی۔ ہم آسمان کو نہار رہے تھے۔ تارے ایک ایک کر کے روشن ہو رہے تھے۔ ہر طرف مکمل سکوت تھا اور ہمارا ہاتھ ایک دوسرے کے ہاتھ مں تھا۔ یہ لمس کوئی ہجا ن پدےا نہںھ کر رہا تھا۔ یہ لمس بھی گہرے سکوت کا حصّہ تھا۔ اس مںہ حدّت نہں تھی۔ ایک سرشاری تھی۔ آسمان جسےک اپنے راز منکشف کر رہا تھا اور ہم اس موسینہ کو سن رہے تھے جو خامیک کی موسییا تھی اور آہستہ آہستہ ہماری روح مںر اتر رہی تھی۔۔۔۔ ساجی نے مرھی طرف کروٹ بدلی۔ مںہ نے اپنے بالوں مںی اس کے ہاتھوں کا لمس محسوس کا ۔ مںن نے اس کی آنکھوں مںا جھانکا اور اس کی پلکوں پر آہستہ سے اپنے ہونٹ ثبت کر دیے۔ سکوت گہرا ہو گاے۔ ستاروں مںا روشنی بڑھ گئی۔ جب دناک بنی ہو گی تو ایسا سکوت چھایا ہو گا۔۔۔۔۔ اور ہم ایک ساتھ ایک دوسرے کے پہلو بہ پہلو گہرے سکوت کو اپنی روح مںو اتار رہے تھے۔ کچھ بھی بات نہں کرتے ہوئے۔۔۔۔۔ چپ۔۔۔۔۔۔ خاموش۔ ایک الوہی سکوت کا حصّہ بنے ہوئے تھے اور سب کچھ کتنا پر اسرار تھا۔ فطرت کی غرک مرئی بانہوں مںے ہم ضم تھے۔ جبلّت بھی گم تھی۔۔۔۔۔ کہںم کوئی اشارہ نہںر تھا۔
کسی کتّے کے بھونکنے کی آواز آئی۔ ساجی اٹھ کر بٹھس گئی۔ ہم نے ایک دوسرے کی طرف چونک کر دیکھا۔۔۔۔۔ ہماری آنکھوں مںا حرئت تھی جسےر ہم ایک دوسرے کو پہلی بار دیکھ رہے تھے۔۔۔۔ جسےئ ہمںو حرکت تھی کہ ہم یہاں تک پہنچے کسےد؟
مجھے احساس ہوا کہ اب چلنا چاہےچ۔ اس بات کی فکر بھی ہوئی کہ کوئی ہم پر شک نہ کرے لکنہ ساجی کا بھائی بھی اسی وقت لوٹا۔ وہ بہت خوش تھا۔ مچھلی ہاتھ لگی تھی۔ درجات بار بار مجھ سے کہہ رہا تھا کہ یہ بچوا مچھلی ہے۔ اس مںب ایک ہی کانٹا ہوتا ہے۔ وہ خوش تھا کہ مجھے کانٹا نکالنے مںہ کوئی پریشانی نہںہ ہو گی۔ ساجی کے بھائی نے خود مچھلی تلی اور وہی مہوے کی شراب۔۔۔۔۔۔۔
مںت اسی سرشاری مں تھا۔۔۔۔ حر ت تھی کہ کہںن کوئی مہک نہںگ تھی۔ ساجی تزی تزش سی سانسںھ نہں لے رہی تھی۔
دوسرے دن صبح سویرے ہم نے لال گنج کی چھک چھک گاڑی پکڑی۔
٭٭٭

2
ساجی پٹنہ شفٹ ہوئی تو نو راترا شروع ہو چکی تھی۔
کاج مجھے نصب کو بتا دینا چاہےی تھا کہ ساجی پٹنہ مںک رہ رہی ہے۔۔۔۔؟ ہر گز نہںی۔۔۔! وہ بات کی تہہ تک پہنچ سکتی تھی لکنر مںن کو ں آگ سے کھلر رہا ہوں۔۔۔۔؟ کائ اس کی بھی جبلّت ہوتی ہے کہ خطرے سے کھلون اور گھر پھونک دو۔۔۔۔؟
ساجی خوش تھی۔ لال گنج سے کچھ بھی ڈھو کر لانا اس نے مناسب نہں سمجھا۔ وہ اپنے ’’نئے گھر‘‘ مںس سب کچھ ناھ دیکھنا چاہتی تھی لکن مں۔ نے محسوس کاگ وہ لال گنج کی تمام یادیں ہمشہچ کے لےک مٹا دینا چاہتی ہے۔ وہ پرانے گھر کی ایک نشانی بھی اپنے پاس رکھنا نہںو چاہتی تھی۔ وہ اس بات پر خوش تھی کہ مر ے کندھوں پر اس کا بوجھ ہے۔
ہم بازار کے لےو نکلتے تو درجات ساتھ ہوتا۔ وہ خاموش رہتا۔ کبھی کبھی چزاوں کو الٹ پلٹ کر دیکھتا اور مناسب قمتو طے کرنے کی کوشش کرتا۔ ساجی جس چزٹ پر انگلی رکھ دییت مںو خرید لتا ۔ وہ شاید یہ نہںر سوچتی تھی کہ مجھ سے بے جا خرچ کرا رہی ہے۔ مجھے بھی احساس نہںن تھا کہ پسے لٹا رہا ہوں۔ مںت خود کو بہت خاص آدمی محسوس کر رہا تھا۔ سب سے الگ۔۔۔۔ سب سے طاقت ور۔۔۔۔ بو ی تھوپی ہوئی عورت ہوتی ہے۔ ساجی مجھ پر تھوپی ہوئی نہںت تھی۔۔۔۔ وہ مربی داشتہ تھی۔۔۔۔۔ مروی کرشمہ ساز شخصتئ اُسے کھنچ کر مریے قدموں مںم لے آئی تھی۔ مںم اس کا سو فی صد مالک تھا۔ اس کی تمام خوشو ں کا مرکز۔۔۔۔ مںی چاہتا تو اسے ایک پل مںج خاک مںش ملا سکتا تھا۔ وہ جو بھی تھی مرزے ہی بل بوتے پر تھی اور شاید ساجی بھی کچھ ایسا ہی محسوس کر رہی تھی کہ ایک محبوب رکھتی ہے۔۔۔۔۔ ایک عاشق، جو اس پر دل و جاں لٹاتا ہے۔ وہ بازار مںا اترا کر چلتی اور درجات نوکر کی طرح سامان اٹھائے پچھے پچھے چلتا۔
وہ چوڑیاں بھی خریدنا چاہ رہی تھی۔ مںک نے کہا درجات کی پسند کی چوڑیاں خریدو اور اس نے خریدیں۔ درجات خوش ہو گاا۔ اس نے پو چھا لپ اسٹک بھی لو گی۔۔۔۔؟ مجھے ہنسی آ گئی۔ وہ اس طرح پوچھ رہا تھا جسےی پسےے خود ادا کرتا۔ ساجی نے لپ اسٹک اور پاوڈر بھی لےن۔ ناخن پالش بھی لنال چاہ رہی تھی۔ پالش کا رنگ پرکھنے کے ارادے سے اُس نے شیھے سے سلائی باہر نکالی لکنا اس کی سمجھ مںے نہں آ رہا تھا کہ رنگ کس پر آزمائے۔ مںی نے جھٹ سے اپنا ہاتھ بڑھا دیا۔
’’مرڑے ناخن۔۔۔۔۔۔‘‘
وہ کھل کھلا کر ہنس پڑی۔ مرنی طرف تحسن۔ آمزر نظروں سے دیکھا۔
’’تم چٹکوپں مں۔ مسئلہ حل کرتے ہو۔ ییر فرق ہے تم مںم اور اُن مں ۔۔۔۔۔‘‘ وہ جسےے خوشی مںت جھومتی ہوئی بولی۔ مںن مسکرا کر رہ گا ۔
چار دنوں مںو ضرورت کی سبھی چزشیں خرید لی گئی۔ گھر سج گاں۔ فلٹس مںی دو دروازے تھے۔ ایک دروازہ باہر کے کمرے مںے کھلتا تھا اور دوسرا اندر ڈرائنگ روم مںو۔ باہر کا کمرہ ڈرائنگ روم سے ملحق تھا۔ باقی دو کمرے اندر تھے اور بچگ مںپ ڈائنگ اسپس تھا۔ بالکنی اندر کے کمرے سے لگی تھی جسے ساجی نے اپنا بڈپ روم بنایا۔ دوسرے کمرے مںن لڑکا ں تھںل۔ باہر کا کمرہ مرجے لےا مخصوص تھا۔ اس کمرے مںم ایک بڑا سا وارڈ روب تھا لکنل ساجی نے کتابوں کی ایک الماری بھی خریدی۔ اس کا اصرار تھا کہ لال گنج کی ساری کتابںپ یہاں لا کر سجا دوں۔
مںر اس دوران ساجی کے ساتھ رہا۔ مںم درجات کے جانے کا انتظار کر رہا تھا۔ وہ یہ کہہ کر شام کی گاڑی سے چلا گار کہ نومی کے دن آئے گا۔ آخر اس کو اپنی دکان بھی دییھن تھی۔
اور مںہ نے آزادی سی محسوس کی۔ ساجی بھی جسےت اس کے جانے کا انتظار کر رہی تھی۔ درجات کے جاتے ہی اس نے مجھ سے پو چھا۔
’’وہسکی پود گے۔۔۔۔۔؟‘‘
’’مرسے پاس نہںج ہے۔‘‘
’’ہے نا مردے پاس۔‘‘
’’انڈے ابال دوں۔۔۔۔۔؟‘‘
’’نہںے۔۔۔۔۔ صرف وہسکی۔۔۔۔۔۔‘‘
مںہ اٹھ کر بٹھد گاس۔ کمرے مں۔ روشنی کی اور سارے کپڑے اتار دیے۔ سگریٹ سلگائی اور لمبے لمبے کش لنےا لگا۔ ساجی وہسکی لے کر آئی تو مجھے اس حال مںہ دیکھ کر ہنسنے لگی۔
’’یہ کاھ۔۔۔۔؟‘‘
’’آزادی کا احساس۔۔۔۔!‘‘
’’روشنی تو گل کرو!‘‘ اس نے سوئچ آف کر دی۔
’ ’اندھروے مںک گناہ کا احساس بڑھ جاتا ہے۔
’’کنڈنل جلا لو۔‘‘
’’اب موم بتّی کہاں سے آئے گی؟‘‘
’’لاتی ہوں!‘‘
وہ پھر اندر گئی اور موم بتّی لے کر آئی۔ موم بتّی کی مدھم روشنی مںا کمرے کی فضا پر اسرار ہو گئی۔ اس نے مرمے لے پگم بنایا۔ مر ی طرف گلاس بڑھاتے ہوئے بہت ادا سے مسکراتی ہوئی بولی۔
’’دیکھنا چاہتے ہو۔۔۔۔؟‘‘
’’کات۔۔۔۔؟‘‘ مںل نے ایک گھونٹ بھرتے ہوئے پو چھا۔
اس نے بلوز اُتارا۔ برا ڈھیرا کی اور رخسار کو ہتھیے پر ٹکا کر کہنی کے بل لٹ گئی اور مر ی طرف مسحور کن نگاہوں سے دییھت ہوئی بولی۔
’’دیکھو!‘‘
موم بتّی کی مدھم روشنی مںگ اس کا ڈھلتا ہوا جسم پر اسرار لگ رہا تھا۔ چھاتاتں پر کشش نظر آ رہی تھںا۔ پٹا کے ابھار اور کولہے کے کٹاؤ مں دلکشی تھی۔ مںظ سوچ رہا تھا کہ اُس نے دعوت نظارہ کو ں دیا۔۔۔۔؟ یہ اس کی نرگسیت تھی اور اس کو اس بات کا یناً احساس تھا کہ اس کا ڈھلتا ہوا جسم ابھی بھی کشش رکھتا ہے۔ وہ اییا دلفریب اداؤں سے مجھ مںً اپنی کشش بنائے رکھنا چاہتی تھی۔ مں۔ نے آہستہ سے اس کے پٹی پر ہاتھ پھرًا۔ اس نے آنکھںھ بند کر لںش۔۔۔۔۔
شراب کی کچھ بوندیں اس کے جسم پر ٹپکائںہ۔۔۔۔ پھر جھکا۔۔۔۔۔ اس کا ہاتھ مربے سر پر چلا گاں۔ مںم نے اس کا ہاتھ جھٹک دیا۔
’’مجھے اس بات سے نفرت ہے۔‘‘
’’کس بات سے؟‘‘وہ چونک پڑی۔
’’جب عورت کا ہاتھ مرد کے سر پر چلا جائے۔۔۔۔۔۔‘‘
’’اس مںر نفرت کی کام بات ہے؟‘‘
’’جبلّت کا یہ روحانی پہلو مجھے پسند نہںت ہے۔‘‘
’’نہںّ سمجھی۔۔۔۔؟‘‘
’’تم نہںک سمجھو گی۔۔۔۔ بس مرنے سر پر ہاتھ نہ رکھا کرو۔‘‘
’’ایک بات بتاؤں؟‘‘
’’کا ؟‘‘
’’مجھے تمہارا جسم نہں چاہے‘۔۔۔۔۔ مجھے صرف تم سے محبت ہے۔۔۔۔۔ تم جو ہو۔۔۔۔۔۔۔‘‘
’’مںھ جو ہوں۔۔۔۔؟ کاج ہوں مںک۔۔۔۔؟‘‘
’’جو بھی ہو۔۔۔۔ مجھے تم سے محبت ہے۔‘‘
’’یہ محبت نہںو ہے۔۔۔۔ یہ قبضہ ہے۔۔۔۔۔ تم مجھ پر اپنی حکومت قائم رکھنا چاہتی ہو۔‘‘
’’محبت قبضہ نہںو کرتی کمار۔۔۔ محبت آ زادی دییت ہے۔‘‘
’’لکنت تم مجھے آزاد نہںی دیکھ سکتی اسی لےا تم نے مجھے سندنور لگانے پر زور دیا۔۔۔۔۔ سند ور پہلا قفل ہے جو تم نے مرتے وجود پر لگایا ہے۔‘‘
’’نہںت کمار۔۔۔ مجھے سمجھنے کی کوشش کرو۔۔۔۔ مںو تم سے روحانی محبت کرتی ہوں۔‘‘
’’محبت ہمشہن روحانی ہوتی ہے۔ جسم وسلہ۔ ہوتا ہے۔ جسم سے گذرے بغرہ کوئی روح تک نہں پہنچ سکتا۔‘‘
مںئ نے کچھ اور بوندیں ٹپکائںھ۔۔۔۔۔۔
اس پر جھکا۔۔۔۔۔۔
اس کا ہاتھ پھر مرھے سر پر چلا گائ۔
’’نہںپ۔۔۔!‘‘ مںھ نے اس کا ہاتھ پھر جھٹک دیا۔
’’مجھے اذیت مت پہنچاؤ ساجی۔ مجھے یہ رویّہ پسند نہںن ہے کہ عورت مرد کے سر پر ہاتھ رکھے اور مرد عورت کی پشاےنی پر بوسہ ثبت کرے شاید مجھے تمہارا ہاتھ باندھنا پڑے گا۔‘‘
’’جو جی مںد آئے کرو۔ مںے کچھ نہںب کہوں گی۔‘‘
مںت نے اس کے دونوں ہاتھ پلنگ کی پٹّی سے باندھ دیے۔۔۔۔۔ برا کھول دی ایک نظر اُس کی طرف دیکھا۔ اس کی آنکھںا بند تھںے۔ چہرے پر مزاحمت کے آثار نہںے تھے اور مجھے ایک طرح کی آزادی کا احساس ہو رہا تھا۔۔۔۔۔۔ شاید مںے ساجی کے ساتھ اپنے کسی بھی عمل مںا آزاد ہوں لکن کاا وہ بھی اپنے رویّے مںا آ زاد تھی۔۔۔۔؟
مںا اس کی کمر سے لگ کر اکڑوں بٹھا گاز۔ دوسری سگریٹ سلگائی اور لمبے لمبے کش لنے لگا لکنے اس طرح برہنہ ہو کر اُکڑوں بٹھےت سگریٹ کے کش لگانا مجھے عجبل لگا۔ موم بتّی کی تھرتھراتی لو مںھ مر ا سایہ دیوار پر منعکس تھا۔ دفعتاً مجھے محسوس ہوا کہ مں۔ کوئی بد روح ہوں جس نے ساجی کے جسم مںگ اپنا ڈیرہ جمایا ہے۔ اس کی آنکھںح اسی طرح بند تھںا اور کمرے مںے گہری خاموشی تھی۔ اس کے لب سلے ہوئے تھے اور مر ی نظر ہونٹوں کے خم پر تھی۔ اگر اسے سگریٹ سے ٹارچر کروں تو اذیت کا سارا احساس ہونٹوں کے خم مںی سمٹ آئے گا اور تب مںک۔۔۔۔۔۔۔‘‘
مں نے سگریٹ کی لو اُس کے دائں گال سے سٹا دی۔۔۔۔
’’اف۔۔۔۔۔!‘‘ وہ تڑپ اٹھی۔ درد سے اس کے ہونٹ سکڑ گئے۔۔۔۔۔ ٹھکم اسی انداز مںو جس طرح مں نے تصّور کاں تھا۔ ساری اذیت ہونٹوں کے خم مںی سمٹ آئی تھی اور آنکھوں مںا آنسو چھلک آئے تھے۔ پھر بھی وہ خاموش تھی اور رخسار پر آنسو ڈھلک رہے تھے اور مجھ مںن شہوت جگا رہے تھے۔ مںھ نے سگریٹ بجھا دی لکنم ہاتھ نہںک کھولے۔ اسی حال مںج اُسے بازوؤں مںے دبوچا۔۔۔۔۔۔ اس نے اپنا بدن ڈھلان چھوڑ دیا۔ مرسی جارحتو نے اسے متحرک کام تھا۔ اسے سگریٹ سے جلنے کا دکھ نہں تھا۔ دکھ ہو گا جب مںے اُسے اگنور کروں گا۔ گلا بھی دبا دوں تو اُف نہںت کرے گی لکنر چھوڑ کر چلا جاؤں تو بماےر پڑ جائے گی۔
درجات یہاں نہں تھا۔ لڑکاوں گہری نند مں تھںڑ۔ وہ تھی۔۔۔۔۔ شراب تھی۔۔۔۔ رات تھی۔۔۔۔ اور گناہ کا حوصلہ تھا۔۔۔۔۔۔
شراب کے کچھ اور قطرے۔۔۔۔۔۔۔
مںا نے موم بتّی گل کر دی۔۔۔۔۔۔۔
رات گناہوں کو چھپا لیم ہے۔
گھر آیا تو نصبی راہ دیکھ رہی تھی۔ نصبن کا سامنا ہوتا ہے تو مںں کووں خود کو مجرم سمجھنے لگتا ہوں۔۔۔۔؟
نصبم کو فروزی کی فکر تھی۔ اس کا دولہا شرابی نکلا۔
’’مںت کہتا تھا نہ کہ شرابی کبابی ہو گا۔ ورنہ کوئی اس طرح شادی کرتا ہے۔‘‘
’’اب کاہ بتاؤں جی۔۔۔۔ ایک سوتن بھی ہے۔‘‘
’’یک نہ شد۔۔۔۔۔ دو شد۔۔۔!‘‘ مں ہنسنے لگا۔
معلوم ہوا سوتن نمہ پاگل ہے۔ اس پر مرگی کے دورے پڑتے ہںگ۔ وہ اُسے طلاق دینا چاہتا ہے لکنپ نہںد دے سکتا۔ مہر پچسہ ہزار ہے۔ کہاں سے دے گا۔۔۔۔؟ اور باتںک بھی معلوم ہوئں ۔ مثلاً سوتن نانی کی رشتہ دار ہے۔
کبھی نصبں کو بھی معلوم ہو گا کہ ایک سوتن وہ بھی رکھتی ہے۔
بچّے ملہی گھومنا چاہتے تھے۔ نصبہ کو گربہ دیکھنے کا شوق تھا۔ سپتمی کے روز مندر کے پٹ کھلتے تھے۔ مں نے اس دن اپنا موبائل آف کر دیا۔ ساجی مجھے ضرور ڈھونڈتی۔ درجات یہاں تھا نہںو۔ اسے ملہب دکھانے کون لے جاتا؟ مںو ساجی کے پاس سے ہو کر آیا تھا۔ مجھے اب وقت نبال کو دینا تھا۔
دسہرے کے موقع پر پٹنہ خوب سجتا ہے۔ مںس سر شام سب کو کار مںھ لے کر باہر نکلا۔ مندر کے پٹ کھل چکے تھے۔ سڑکوں پر بھکتوں کا سلااب امنڈ پڑا تھا۔ سارا شہر روشنی سے جگمگا رہا تھا۔ ماں بھگوتی کے گتو فضا مں گونج رہے تھے۔ سیرا مناک کشی مندر دیکھنا چاہتا تھا جس کا ماڈل ڈاک بنگلہ چوک کے پنڈال مںا بنا تھا اور کیگا کی دلچسپی بھی چائنز ٹمپل مں تھی جو گردنی باغ کے پنڈال کی رونق بڑھا رہا تھا۔ شہر مںت ٹریفک کا نظام بدل گا تھا جس کا اعلان اخباروں مںش شائع ہوا تھا۔ کچھ سڑکوں پر گاڑیوں پر پابندی لگا دی گئی تھی۔ کچھ ایک جگہ ون وے ٹریفک کا نظام تھا۔ پولسر کا حفاظتی انتظام بھی پختہ تھا۔ پنڈالوں کے آس پاس کڑی چو کسی برتی جا رہی تھی۔ مجسٹریٹ اور دوسرے افسر تعنا ت تھے۔ سادہ لباس مںو بھی پولس گھوم رہی تھی جس مںس مہلان پولسی کرمی بھی شامل تھی۔ مںی نے پہلے راجہ بازار کا رخ کا ۔ یہاں پنڈال کے قریب چھوٹے چھوٹے بازار لگے تھے۔ طرح طرح کی دکانںس سجی تھںا۔ ایک دکان مٹّی کے کھلونوں کی بھی تھی جس مںم بھڑ نہں تھی۔ کھلونا بچنےت والی بڑھای نے بتایا کہ اب لوگ مٹّی کے سامان نہںں خریدتے۔ کوئی مورتواں کو بھی ہاتھ نہںی لگاتا۔ سیو اور کیمٹ نے مٹّی کے بنکر خریدے۔ نصبت ایک آئنےہ کی دکان مںن گھس گئی۔ یہاں طرح طرح کے آئنےخ تھے۔ قدّ آدم سے لے کر دستی آئینے تک۔ نصبن کو ایک بضوجی آئنہم بھا گاے جس کا فریم بہت خوب صورت تھا۔ حاشےت پر گل داودی کی نقّاشی تھی۔ قمتئ پانچ ہزار تھی لکن نصبھ مول تول کا فن جانتی ہے۔ اس نے آئنہی چار ہزار مں خریدا۔ وہاں سے نکل کر سنگار کی دکان مں گئی۔ وہاں سے بالوں مںی لگانے کے دو تنی طرح کے رِبن، بندی، چوڑی اور سندنور کی ڈبہو خریدی۔ مںخ نے پوچھا یہ سب کس لےِ تو ہنس کر بولی مایا کے لےی۔ اسے چھٹھ مں گفٹ کروں گی۔ مایا ہمارے یہاں پوچھا لگانے کا کام کرتی ہے۔
راجہ بازار کا پنڈال کافی بڑا تھا۔ کالی اور درگا ماں کے ساتھ بھارت ماتا کی پرتما بھی تھی۔ بس فٹ اونچی بھگوان شوا کی جٹا سے نکلتی گنگا ماّی کے ساتھ بھارت ماتا کی مورتی سب کی توجہ کا مرکز تھی۔ کییب اور سیا بہت غور سے مورتوںں کو دیکھ رہے تھے۔ مں، نے بتایا کہ مہا کالی مہا لکشمی اور مہا سرسوتی کے سما گم سے پاروتی یینت بھگوتی شکتی درگا کے روپ مںی ظاہر ہوتی ہے۔ اسر راج کے خاتمہ کے بعد دیوتاؤں نے بھگوتی سے پوچھا تھا آپ ہمں کہاں ملںل گی تو دیوی کا جواب تھا۔
’’مجھے قدرت مںو دیکھو اور فطرت مںا محسوس کرو۔‘‘
ماں درگا اپنے سپتم روپ مںا کال راتری کے نام سے جانی جاتی ہے۔ اس کے جسم کا رنگ گھنے اندھرپے کی طرح ایک دم سایہ ہے۔ سر کے بال بکھرے ہوئے ہںر۔ گلے مںر بجلی کی طرح چمکنے والی مالا ہے۔ ماں کے تنے نتر ہںم جو برہمانڈ کی طرح گول ہںا۔ ان سے برقی لہریں سی نکلتی رہتی ہںر اورسانس کے ہر زیر و بم مں اگنی کی خوف ناک لپٹںس۔۔۔۔۔۔ ان کی سواری گدھا ہے۔ اوپر اٹھے ہوئے دائںھ ہاتھ کی ور مدرا سے سب کو ور دییٹ ہںل۔ دائںت طرف کو نچےٹ والا ہاتھ ابھئے مدرا مںی ہوتا ہے۔ بائںا طرف کے اوپر والے ہاتھ مںی کانٹا اور نچےے والے ہاتھ مںح کٹار ہے۔ کال راتری دیکھنے مںا خوف ناک ہے لکنٹ ہمشہو شبھ پھل دیی ہے۔ اس لےر اس کا دوسرا نام شبھنکاری بھی ہے۔
جے ڈی وومنسم کالج سے لے کر جگ دیو پتھ تک روشنی بکھری ہوئی تھی۔ بی ڈ روڈ پر کھج پورہ مںا وکٹوریہ مموریل کا منظر بھی خوب تھا جسے دیکھ کر سوچے بغرل نہںک رہا کہ غلامی کے اثرات ابھی بھی لا شعور مںب پنہاں ہںی۔ آشاےنہ موڑ اور بیہ روڈ پر پنائی چک جانے والی سڑک کی سجاوٹ کا اپنا الگ ہی رنگ تھا۔ راجہ بازار سے چت کوہرہ پل ہوتے ہوئے گردنی باغ کا نظارہ دیکھا۔ روڈ نمبر دس مںہ ایودھای کے شری رام مندر کی چھٹا آنکھوں کو خر ہ کرتی تھی۔ مندر کی پوری عمارت قمقمے کی روشنی مںی ڈوبی ہوئی تھی۔ اس مندر کو فضک آ باد کے ایک مسلم کاریگر نے بنایا تھا۔ نصب نے یہاں آلو چاٹ کا لطف لاھ۔ سیآ اور کی نے آئس کریم کھائی۔ مںی نے دو چار سگریٹ پھو نکے۔ گردنی باغ سے ہارڈنگ روڈ ہوتے ہوئے اسٹشنی گولمبر پہنچے۔ گاڑی آگے جا نہںی سکتی تھی۔ اسٹشنک کی پارکنگ مںا کار لگائی اور پدےل ہی ڈاک بنگلہ چوک کی طرف چل پڑے۔ رش بڑھ گام تھا۔ پدمل چلنا بھی مشکل تھا۔ شانے سے شانہ چھل رہا تھا۔ پورا شہر روشنی مں نہا رہا تھا۔ ڈھول اور نگاڑے کی بھی آواز گونج رہی تھی۔ بھگتی کے کسٹن بج رہے تھے۔۔۔۔۔ او ماں شرنوں والی۔۔۔۔۔ پوجا پنڈالوں سے نکلنے والی شنکھ کی آواز، گھنٹہ بجنے کا شور اور ہوم وغرہہ کی دھونی کی خوشبو سے فضا معطّر تھی۔ شہر لاوڈ اسپکرھ کے شور مںر ڈوبا ہوا تھا۔
اسٹشنو کے قریب روشنی کے ذریعہ دھارمک منظر پر مبنی جھانکیاں دکھانے کی تایری تھی۔ خوفناک راکشسوں کی مورتا ں بنائی گئی تھںو۔۔۔۔ مہشاسور کے پٹو سے نکلتا ہوا راکشس۔۔۔۔۔ ڈاک بنگلہ چوک پر ڈائنا سور کا نظارہ دیکھنے کو ملا۔ سیوا نے ڈائناسور کو لے کر کئی سوال پوچھے جن کا جواب مںی نہںپ دے سکا۔ چوک کو دلہن کی طرح سجایا گا تھا۔ چھو ٹے چھوٹے بجلی کے قمقموں کے ساتھ ٹووب لا ئٹس را لیکس، ٹوئب لائٹس بریکٹ سرنیز، سبز بلب اور ڈگرے سے پوری سڑک سجی ہوئی تھی۔ ہرلا پلسج کے پاس پنڈال کو منار کشی مندر کی شکل دی گئی تھی۔
اچانک روشنی گل ہو گئی۔۔۔۔۔ ڈاک بنگلہ چوک کے ساتھ شہر کا نصف حصّہ اندھر ے مں ڈوب گای۔ شاید جکّن پورہ کے فڈار مںک خرابی آ گئی تھی۔ ڈاک بنگلہ چوک، جمال روڈ، کدم کنواں، نالا روڈ اور فریزر روڈ کے علاوہ کئی علاقے اندھر ے مںن ڈوبے رہے۔ جنریٹر کا شور بلند ہوا۔ مںص نے گھر لوٹنا مناسب سمجھا۔ لوٹتے ہوئے بورنگ روڈ کے روٹی ریستوراں مںد کھانا کھایا۔ بورنگ روڈ چوراہے پر اُجنگ کا مہا کالشویر مندر کا نظارہ دیدنی تھا۔ گھر آ کر سبھی بستر پر ڈھر ۔۔۔۔ مں تھک گاح تھا۔ نصبن کو اپنی بانہوں مںس لنےئ کا جی نہںہ کر رہا تھا۔ بستر پر آتے ہی نندک کی آغوش مںد تھا۔ نصب۔ مروے سنے مںی سمٹ کر سو گئی۔
اشٹمی کی شام ڈانڈیہ رقص کا اہتمام کرشن ممو ریل ہال مںا تھا۔ نصبم کو گربہ دیکھنے کا شوق تھا۔ مںن ٹال نہں سکتا تھا۔ سوچا ساجی کو آج دن مںن ہی گھما دوں۔
وہاں بارہ بجے پہنچا۔ ساجی آنکھوں مںل آنسو لےر بیھن تھی۔۔۔۔۔ مںم جانتا تھا شکایت کا دفتر کھلے گا۔۔۔۔ اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتی مںص نے بہانہ بنایا کہ نصبا اچانک بماتر پڑ گئی۔ اسے ڈاکٹر کے پاس لے کر جانا پڑا۔ ڈاکٹر نے شام کو پھر بلایا ہے لکنر جواب مںس وہ بس خاموش رہی۔ ایک لفظ بھی کچھ نہں کہا۔ لڑکاتں دوسرے کمرے مںم دبکی ہوئی تھںر۔ گھر مںک موت کا سا سناٹا تھا اور اس کی آنکھوں سے آ نسو بہہ رہے تھے اور مجھے عجبے سی کوفت کا احساس ہوا۔ مجھے لگا مراے گرد ایک زنجرہ سی ہے۔ مںا نے چڑ کر کہا۔
’’مںے اپنی بوای کو بماتر چھوڑ کر تو نہںم آ سکتا تھا۔ شام پھر ڈاکٹر کے پاس جانا ہے۔‘‘
وہ پھر بھی چپ رہی تو مںر جھنجھلا گا ۔ ’’اب نہں بات کرنی ہے تو جاتا ہوں۔ مر ی قسمت ہی خراب ہے۔ کوئی مر ی مجبوری نہںو سمجھتا ہے۔‘‘
وہ رو پڑی۔ ’’کم سے کم فون تو کر دیتے۔‘‘
مں نے اسی طرح جھنجھلاتے ہوئے کہا۔ ’’پریشان تھا۔۔۔۔۔ پریشان۔۔۔۔!‘‘
وہ چپ رہی۔
خر چھوڑو شکوے شکایت۔۔۔۔ چلو باہر نکلتے ہںج۔‘‘
وہ تا ر ہونے کے لےح اپنے کمرے مںو گئی۔ مں۔ سگریٹ پھونکنے لگا۔
مں سب کو لے کر پٹن دیوی مندر کے لےب پٹنہ سٹی کی طرف نکلا۔
صبح سے ہی شردھالووں کی بھڑر جٹنے لگی تھی۔ شکتی کی دیوی اشٹم روپ مں مہا گوری ہے۔ پٹنہ سٹی کا کالی مندر شکتی پوجا اور تانترک سادھنا کا پرانا مرکز ہے۔ یہ مندر کبھی سادھنا کا کندھر تھا۔ سنگ مرمر پر بنی ماں کالی کی مورتی بہت جاذب نظر تھی اور مورتواں کی طرح ماں کی جیبھ باہر نکلی ہوئی نہں تھی بلکہ اظہار تاسّف مں ہونٹ دائرہ نما ہو رہے تھے۔ وہاں کے پجاری نے بتایا کہ قریب دو ہزار سال پہلے بابا مست رام نام کے تانترک نے مندر کی تعمرج کی تھی۔ اس مندر کے پاس سے ہی صدیوں پہلے گنگا بہا کرتی تھی۔ یہ مندر گنگا اور سون ندی کے سنگم پر بنا تھا۔ آبادی نہںک ہونے کی وجہ سے یہاں تانترکوں کا جمگھٹ لگا رہتا تھا۔ بعد مںم یہ شمشان گھاٹ بھی بنا۔ مغل بادشاہ شاہ عالم نے ماتا کے سنگھار کے لےت ہر ے جواہرات موتی جڑے کنگن مکٹ تلوار اور گھنٹہ تحفے مںن دیئے تھے۔ نپا ل نریش رن بہادر شاہ نے اشٹ دھاتو سے بنا وشال گھنٹہ بھی چرنوں مںئ بھنٹ کای تھا جو آج بھی مندر کے احاطے مں ٹنگا تھا۔
سدھ شکتی پٹھو ں مںے بڑی پٹن دیوی اور چھوٹی پٹن دیویوں کا خاص مقام ہے۔ پٹنہ سٹی کے گلزار باغ کے قریب بڑی پٹن دیوی کا مندر ہے۔ پٹن دیوی کی سبھی مورتابں کالے پتھر کی بنی ہوئی تھں ۔ اشوک کال مںی یہاں ماتا کا چھوٹا مندر تھا جس کی بعد مںے توسعک ہوئی۔ مندر کے احاطے مںن ہی یونی کنڈ ہے یہاں ہون کنڈ کے بھسم پاتال مں چلے جاتے ہں ۔ یہ نگر محافظ کے روپ مںم جانی جاتی ہںل۔ حاجی گنج کے قریب چھوٹی پٹن دیوی کا مندر ہے۔ کہتے ہںن بڑی پٹن دیوی مںح ستی کی دائںی جانگھ اور چھوٹی پٹن دیوی مںھ ستی کا پٹ گرا تھا۔ دیوی ستی راجہ دکش کی بیں تھںک۔ ایک بار راجہ دکش یہ م کر رہے تھے جس مںا شوڈ مدعو نہں تھے۔ دیوی ستی شوا کے منع کرنے پر بھی یہے مںن بن بلائے چلی گئی تھںی۔ وہاں اُن کی کوئی خاطر داری نہں ہوئی تو ستی کو بے عزّتی کا احساس ہوا تو ہون کنڈ مںح کود کر جان دے دی۔ شوی کو معلوم ہوا تو آپے سے باہر ہو گئے۔ ستی کی لاش کو کندھے پر رکھ کر تانڈو شروع کاو تو چاروں طرف دہشت پھلت گئی۔ وشنو نے شو کا غصّہ ٹھنڈا کرنے کے لےت ستی کی لاش کو چکر سے کا ٹنا شروع کاے۔ جسم کے اعضا اور لباس جہاں جہاں گرے وہ شکتی استھل بن گئے۔ دیوی پران مںو اکاکون شکتی پٹھ کا ذکر ہے۔ مندر مںز براجمان مورتاوں ستہو جگ کی بتائی جاتی ہں ۔ ہم جب بڑی پٹن دیوی کے مندر پہنچے تو پشپانجلی اور دردر نارائن پرشاد کارج کرم چل رہا تھا جس کی رسم اجرا ہلتھ منسٹر کے ہاتھوں انجام پائی تھی۔ شردھالووں کی خدمت کے لے پٹن دیوی کے قریب سنسکرتی جاگرتی منچ والوں نے اپنا خمہو لگایا تھا۔
ڈھول اور نگاڑوں کے بچھ ماں کی آرادھنا شروع ہوئی۔ پورا شہر بھکتی مئے ہو گاو تھا۔ بھڑی امنڈ پڑی تھی۔ کئی جگہ کماری پوجن بھی ہوا۔ شری بڑی دیوی معروف گنج نند گولہ کھج کلاں گر ہٹّہ چلتی پھرتی دیوی جی، نور الدّین گنج کملا دیوی کچوڑی گلی چیرت ٹال، کتھک تل، کھجور بنّہ، پتاب مبر مندر شیتلا ماتا مندر کالی مندر سمتل سبھی پوجا پنڈا لوں پر شردھالووں کی بھڑا اُمنڈ پڑی۔
مہا اشٹمی کے موقع پر ہزاروں عورتوں نے ماتا کی گود بھری۔ شنکھ ناد اور کرتل دھونی کے بچے ماں پٹنیشوری کی منگل آرتی ہوئی۔ مہا اشٹمی مںل ماں پٹنیشوری کے درشن کا خاص فضٹ ہے۔ مراد پوری ہونے کے لے شردھالو ناریل پھوڑ کر ماتا کو چنری پہناتے ہںو۔ پٹنیشوری کے روپ مںی یہاں سونے سے لدی مہا کالی مہا لکشمی اور مہا سرسوتی چاندی کے تخت پر چھتر کے ساتھ براجمان ہںر۔ مہا اشٹمی کو ناریل اور پنچ موےا ماتا کو بھوگ لگائے جاتے ہںت۔ یہاں کاشی پنچانگ کے مطابق پوجا کا طریق کار اپنایا جاتا ہے۔ کولک منتر کی سدھی کے لے یہ جگہ مشہور ہے۔
لڑکویں کو بھوک لگ گئی تھی۔ مندر سے بائںا طرف کچھ دور پر ایک ہوٹل تھا۔ وہاں گئے۔ لڑکارں چو منگ کھانا چاہتی تھں ۔ مںر نے چومنگ کا آرڈر دیا۔ ساجی نے پاؤ بھاجی منگائی۔ مں اور ساجی ایک ہی پلٹ مںا کھا رہے تھے۔ منصوبہ نے مجھے کنکھووں سے دیکھا۔
ایک ہی پلٹپ مںن کھاتے ہوئے ساجی کا چہرہ خوشی سے دمک رہا تھا لکنک مجھے یہ سب بہت سہانہ نہں لگ رہا تھا۔ مجھے نصبے یاد آ رہی تھی اور بات عجبک تھی کہ اب ساجی پوری طرح مر۔ی دسترس مںی تھی تو مںک اُس کی قربت مںی ایک طرح کی الجھن محسوس کر رہا تھا۔ ساجی نے ایک لڑکے کی طرف اشارہ کاں۔
’’دیکھو کس طرح گھور گھور کر دیکھ رہا ہے۔‘‘
’’دیکھنے دو۔ ملےگ مںھ لوگ دیکھنے کے لےھ ہی آتے ہںھ۔‘‘
’’اس کو سبق سکھانا چاہےو۔‘‘
مںا نے کوئی توجہ نہں۔ دی۔
ہم واپس لوٹے تو شام ہو چلی تھی۔ ساجی بہت لجاجت سے بو لی کہ مںے کچھ دیر رکوں اور چائے پی کر جاؤں لکنا مںا نے اتنی ہی رکھائی سے کہا کہ ڈاکٹر کے ساتھ وقت طے ہے۔
’’چائے پنے مںہ کتنا وقت لگے گا۔ ابھی بنا دیی ہوں۔‘‘
مںت رک گاو۔ اس نے منصوبہ کو چائے بنانے کے لےگ کہا تو مںن مسکرایا۔
’’ابھی تم نے کہا چائے بناتی ہوں لکنے منصوبہ کو بھجی دیا۔‘‘
’’تم نہں سمجھو گے۔‘‘
’’اس مںں سمجھنے کی کا بات ہے۔‘‘
’’عورت کے دل کی تھاہ تک مردوں کی رسائی نہںو ہو سکتی۔‘‘
’’کورں نہ سمجھوں تم کام چور ہو۔‘‘
اس نے تڑپ کر مرتی طرف دیکھا اور پھر روہانسے لہجے مں بولی۔
’’تم پانچ منٹ کے لےم مرھے پاس ہو پھر چلے جاؤ گے۔ مر ے مقدّر مںے تنہائی ہو گی۔ مںی یہ لمحہ کچن مںپ کو ں گنواؤں؟ پانچ منٹ ہی سہی تمہںا نہار تو سکتی ہوں۔‘‘
’’اتنی محبت زہر گھولتی ہے۔‘‘
’’زہر کا پاولہ تو ہونٹوں سے لگا ہی لا ہے۔‘‘
منصوبہ چائے لے کر آئی۔ مں سوچ رہا تھا۔ ساجی کا طویل بوسہ لوں۔۔۔۔ خوش ہو جائے گی اور سمجھے گی مںچ بہت مجبوری مںں جا رہا ہوں۔ ساجی مجھے دل سے چاہتی ہے لکنگ مںا اسے دماغ سے چاہتا ہوں۔ مرہے دل نے نہںد کہا کہ بوسہ لو۔۔۔۔۔ مرھے دماغ نے کہا کہ ایسا کرو تو خوش ہو گی۔۔۔۔۔ یہ محبت ہے یا ذہنی عاّ شی۔۔۔۔؟
چائے پنےم کے بعد مںن نے اس کا طویل بوسہ لاک اور گھر چلا آیا۔
نصبے باہر نکلنے کے موڈ مںی نہںا تھی۔ مںی بھی ٹی وی کھول کر بٹھگ گان۔
مںا نومی کے روز یہ سوچ کر گھر پر ہی رہا کہ درجات آ گا ہو گا۔ ساجی اکیای نہں ہو گی۔ دسویں کو گاندھی مداان مںا راون کو جلانے کی تقریب ہوتی تھی۔ اس دن بہت بھڑر اِکٹھی ہوتی تھی۔ مںم اس روز بھی گھر پر ہی رہا۔ کوئی چار دنوں بعد مںس ساجی سے ملنے پہنچا۔
ساجی کچھ الجھن مںو نظر آئی۔ درجات موجود تھا۔ وہ خندہ پشاونی سے ملا لکنی کہں جانے کے لے جسےپ تامر بٹھا تھا۔ مں نے کچھ رسمی باتںں پوچھںد۔۔۔۔۔ مثلاً کب آئے اور ابھی جانے کی اتنی جلدی کاھ ہے؟
’’دکان کئی دنوں سے بند ہے۔ ان کو بزنس بھی دیکھنا ہے۔‘‘ جواب ساجی نے دیا۔ مںڑ نے محسوس کاک کہ وہ چاہتی ہے درجات جلدی سے دفع ہو۔ مںا بھی ییئ چاہتا تھا۔
’’جانا ہی ہے تو کھانا کھا کر جائےز۔‘‘
’’دو بجے کی بس سے جائںا گے ساتھ۔ منصوبہ اور شبنم بھی۔۔۔۔۔‘‘
بٹوارہ ہو گاد۔۔۔۔۔ دو پاپا کے ساتھ دو ممی کے ساتھ۔‘‘ مںا مسکرایا۔
’’منوب اور رینو کا یہاں اڈمشنت ہو جائے گا۔ منصوبہ اور شبنم مٹراک کے بعد یہاں آ جائںں گی۔‘‘ درجات پھیہا سی مسکراہٹ کے ساتھ بولا۔
’’پھر تو آپ بھی یہاں آ جائںج گے۔‘‘ مںم مسکرایا۔
’’مررا کار ہے؟ آتے جاتے رہںی گے۔‘‘
درجات دو بجے کی بس سے دونوں لڑکو ں کے ساتھ لال گنج چلا گام۔
ساجی کچھ اداس سی نظر آ رہی تھی۔ اس سے پہلے کہ مںم کچھ پوچھتا، خود اس نے اپنی الجھن کا اظہار کاو۔
’’منو اور رینو کا نام کس سکول مں لکھاؤ گے۔۔۔؟‘‘
مںی نے ایک لمحہ لفظ ’’لکھاؤ گے‘‘ کی معنویت پر غور کاس۔۔۔۔ گو یا یہ ذمّہ داری مرھی تھی۔
’’ڈی اے وی اسکول مں۔ داخلہ ہو جائے گا۔ اس کے پرنسپل سے مریی جان پہچان ہے۔‘‘
’’پھر جلدی کرو۔ ان کی پڑھائی راستے پر آ جائے گی۔‘‘
’’ابھی چلوں؟‘‘
’’چلو!‘‘ساجی خوش ہو گئی۔ اس نے رینو اور منور کو تاّنر ہونے کے لے کہا۔ مجھے خود پر غصّہ آ گاے۔ چلنے کی بات کو ں کی؟ جب کہ مریا ارادہ کہں جانے کا قطعی نہںگ تھا لکنو ترھ کمان سے نکل چکا تھا۔ دونوں تاور ہو کر سامنے کھڑی تھںی۔ آ خر انہںو لے کر اسکول پہنچا۔ پرنسپل خندہ پشاکنی سے ملا۔ اڈمشنر فارم مہای کرایا اور پوچھا کہ وہاں کے اسکول کی ٹی سی ہے یا نہںا۔ ساجی ٹی سی لے کر آئی تھی پھر بھی ایک اڑچن تھی فوٹو کی ضرورت تھی۔ فوٹو کسی کا نہںک تھا۔ ہم وہاں سے اسٹوڈیو آئے۔ منوی اور رینو نے پاسپورٹ سائز تصویر کھنچوائی۔ گھر آنے لگے تو ساجی نے بتایا کہ راشن ختم ہو گان ہے۔ دس دنوں کا راشن خریدا۔ اپنے لےے وہسکی بھی لی۔ گھر آیا تو ایک نا معلوم سا غصّہ مرپے اندر دھوئںر کی طرح پھل رہا تھا گویا سارے کنبہ کا بوجھ۔۔۔۔؟ مجھے زنجرل صاف نظر آ رہی تھی جس کا سرا ساجی کے ہاتھوں مںم تھا۔
مجھے وہسکی کی طلب ہوئی۔ ساجی نے روکا۔ ’’شام کو پناک۔۔۔۔۔ ابھی چائے پی لو۔‘‘
ساجی چائے بنا کر لائی۔ ٹی وی آن کا’، بغل مں۔ بٹھر گئی اور پا ر بھری نظروں سے مرای طرف دیکھا۔
’’مجھے بہت اچھا لگتا ہے۔‘‘
نہںی پوچھا۔ ’’کاٹ‘‘؟
’’پوچھو گے نہں کاس اچھا لگتا ہے؟‘‘
مں نے سوالہگ نظروں سے اس کی طرف دیکھا۔
’’جب تم ساتھ ہوتے ہو۔۔۔۔۔‘‘
مں خاموش رہا۔
’’کا بات ہے؟ تم خوش نہںے ہو؟‘‘
’’سوچتا ہوں درجات کا وہاں دل کسےر لگے گا؟‘‘
’’وہ کام مں مصروف رہں گے اور پھر دونوں لڑکامں ان کے ساتھ ہںو۔‘‘
’’تمہاری کمی تو محسوس ہو گی۔‘‘
’’مںہ تو تمہارے لےو آ گئی۔ اب تم خوش نہںپ ہو تو مںی کہاں جاؤں؟‘‘
کا ساجی مراے لےو آئی تھی یا اپنی زندگی جنےہ کے لےر جو درجات کے ساتھ نہںا جی سکتی تھی۔
اس کے چہرے پر اداسی کا رنگ نمایاں ہو گای۔ مجھے لگا وہ احساس جرم سے گذر رہی ہے کہ درجات اس کی وجہ سے نا مکمل سی زندگی جنےل پر مجبور ہو گاھ ہے۔ وہ یناً درجات کے بارے مںس سوچ رہی تھی۔ کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد اچانک بول اٹھی۔
’’یہ کچھ دن آن جان کریں گے پھر ان کا آنا کم ہو جائے گا۔‘‘
گویا سارا منظر اُس کی نگاہوں مںے تھا کہ کس طرح درجات آہستہ آہستہ اس سے بالکل الگ ہو جائے گا۔ مجھے درجات سے ایک طرح کی ہم دردی سی محسوس ہوئی۔
’’پھر سوچنے لگے؟‘‘
’’مںر خوش ہوں۔‘‘ مںا مسکرایا اور اپنی ایک ٹانگ اس کی جانگھ پر رکھ دی۔ وہ پاؤں دبانے لگی۔ پھر اُس نے جھک کر انگوٹھے کو دیکھا اور بولی۔ ’’پاؤں کے ناخن بہت بڑھ گئے ہں ۔‘‘
اس نے منوا کو آواز دی۔ ’’منوک۔۔۔ بٹات مرسا نلک کٹر لانا۔ انکل کے ناخن کاٹنے ہںو۔‘‘
رینو نلل کٹر لے کر آئی۔
’’پاؤں کے جب بھی ناخن کاٹے جاتے ہں ۔ مںب دور دراز کا سفر کرتا ہوں۔‘‘
’’تب تو نہںں کاٹوں گی۔‘‘ وہ رک گئی۔
مںں ہنسنے لگا۔ ’’ابھی سفر کا کوئی ارادہ نہں ہے۔ زیادہ سے زیادہ لال گنج جاؤں گا۔‘‘
’’تم سے ایک درخواست ہے۔‘‘
’’کا ؟‘‘
’’جب لال گنج جاؤ تو یہاں سے ہوتے ہوئے جاؤ اور جب لوٹو تو یہاں سے ہو کر نصبو کے پاس جاؤ۔‘‘
’’اسے تمہارا فرمان سمجھوں؟‘‘
’’فرمان نہںا یہ مرہا حق ہے۔ ایک بات اور۔۔۔۔!‘‘
’’وہ کا ؟‘‘
’’مر ے تہوار مں تم مرتے پاس رہو گے۔ نصب کے تہوار مںر تم نصب کے پاس رہو گے۔‘‘
ساجی مر ی دسترس مںں تھی یا مںب اس کے قبضے مںم تھا؟
مں لال گنج پہنچا تو وہاں ہو کا عالم تھا۔ در و دیوار سے ویرانی سی ٹپک رہی تھی۔ درجات سے ملاقات ہوئی۔ اس کا چہرہ اترا ہوا تھا۔ مجھے دیکھ کر مسکرانے کی کوشش کی
’’کسےر ہںہ سب لوگ؟‘‘
’’آپ کو یاد کرتے ہں ۔‘‘
’’آپ کھانا یہاں کھایئے گا۔‘‘
’’مر ی فکر نہںو کےہو ۔ مں باہر کھا لوں گا۔‘‘
’’نہںک نہں باہر کواں کھایئے گا۔ منصوبہ ہے نہ۔ کھانا بنا لییک ہے۔‘‘
’’آپ پٹنہ کب جائںا گے؟‘‘
منصوبہ کا امتحان ختم ہو گا تو سب لوگ وہں رہںو گے۔‘‘
سب لوگ۔۔۔۔؟ سب لوگ مںو تم نہںں آتے ہو درجات۔۔۔۔۔!
’’آپ جب تک یہاں ہںا منصوبہ کو پڑھا دیے۔ں۔‘‘ درجات کے لہجے مںے خلوص تھا لکنآ آنکھوں مںں بے اطمناونی سی تھی۔ وہ چاہتا تھا منصوبہ اچھا رزلٹ کرے۔ ساجی نے بھی منصوبہ کو پڑھانے کے لےن کہا تھا لکنم اس مںل ساجی کی اپنی غرض چھپی تھی کہ مرنا رشتہ گھر سے مضبوط ہو۔ منصوبہ کی پڑھائی سے اُس کی دلچسپی نہںے تھی۔ ساجی اپنے مقصد کے لےم منصوبہ کا استعمال کر رہی تھی۔ پڑھائی کے بہانے گھر چھوڑ کر پٹنہ چلی گئی اور مقصد پورا ہو گاا تو منصوبہ کو واپس بھجا دیا۔
اور لڑکایں۔۔۔۔۔؟ کاں مںھ ان کا باپ بن کر رہوں گا۔۔۔۔۔؟ مجھے کوفت سی ہوئی۔ کاہ اب یہ مرھی ذمّہ داری ہے؟ یہ بات مںھ نے پہلے کوئں نہںر سوچی۔۔۔۔؟ مںب لڑکوہں کی ذمّہ داری کو۔ں لوں؟ لکنی مجھے نہںں بھولنا چاہئےڑ کہ ساجی نے مر ی محبت کے لےٹ سب کچھ کاہ۔۔۔۔؟ مجھے پانے کے لےہ۔۔۔۔ اور مںی۔۔۔۔؟
اب مرڑا معمول تھا کہ شام کو دفتر سے گھر آتا تو منصوبہ کو لے کر بٹھتا لکنں پڑھاتے وقت کیائ اور سیام کا چہرہ نگاہوں مںل گھوم جاتا۔ سیکن متھا مںر کمزور ہے۔
ساجی کا فون روز ہی آتا تھا۔ مں کہاں ہوں؟ کاو کر رہا ہوں؟ پٹنہ کب آؤں گا۔۔۔۔۔؟ ساجی نے مجھ سے کبھی پوچھا نہںر کہ درجات کسےک ہں ۔ ہو سکتا ہے منصوبہ سے پوچھتی رہتی ہو۔ پٹنہ لوٹتے ہوئے فرمان یاد آیا۔۔۔ پہلے مر ے پاس۔۔۔۔۔۔ مں نے فرمان کی نفی کی پہلے گھر آیا۔
نصبم فروزی کو لے کر دل گرفتہ تھی۔ فروزی کے مااں نے شراب کے نشے مںو اس کی پٹائی کی تھی۔ چوٹ کے نشان چہرے پر موجود تھے۔ آنکھوں کے گرد سا ہ حلقے پڑ گئے تھے۔ گالوں مںے بھی سوجن تھی۔
’’یہ سب کاا ہے فروزی۔۔۔؟ کسےے ہوا۔۔۔۔؟‘‘
’’ہمشہہ مارتا ہے جی۔‘‘ نصبا دکھ بھرے لہجے مں۔ بولی۔
’’اور نانی الگ تنگ کرتی ہے۔‘‘
’’وہ کاا کرتی ہے؟‘‘ مںن جھنجھلا گاہ۔
’’کہتی ہے جب دوسری شادی کی ہے تو مرجی پوتی کو طلاق دو۔‘‘
’’دے دے طلاق۔‘‘
’’کہاں سے دے گا پچس‘ ہزار؟‘‘
’’ایک اور شادی کر لے۔ اس سے پچس ہزار لے کر اس کلموہی کو دے دے۔‘‘ نصبگ بھڑک گئی۔ ’’شروع ہو گئے آپ۔۔۔۔۔۔ ہر وقت اوٹکّر لس۔۔۔۔۔۔۔‘‘
مں۔ ہنسنے لگا۔ نصبر سرئیس تھی۔
’’ہنس رہے ہںل۔ ایک ابلا کا مذاق اڑا رہے ہںع۔‘‘
’’تم بتاؤ کال راستہ ہے؟‘‘ مںڑ بھی سنجد ہ ہو گا‘۔
’’اس کے شوہر کو بلا کر ڈانٹ ڈپٹ کےکرئ۔ سمجھایئے کہ مار پٹ نہں کرے۔‘‘
’’جب پتاش ہے تو نہںر سدھرے گا۔ سب سے اچھا ہے تھانے مںک رپٹ لکھا دے کہ جہز‘ کے لے مار پٹ کرتا ہے۔ پولسچ اس کو درست کر دے گی۔‘‘
’’نہںپ۔۔۔۔۔ تھانہ پولسھ کاہے کرتے ہں ؟‘‘ فروزی روہانسی ہو گئی۔
’’ہائے ری محبت۔۔۔۔۔ کھاتی رہو مار۔۔۔۔۔‘‘ مںی چڑ گاا۔
’’اب نہںش مارے گا۔ معافی مانگ رہا ہے۔‘‘
’’معافی نہںر مانگ رہا ہے۔ مارنے کا لائسنس مانگ رہا ہے۔۔۔۔۔‘‘
’’سمجھے گی خود۔۔۔۔ بومقوف!‘‘ نصبن بھی چڑ گئی۔
مں سیگی اور کیعا کو پڑھانے بٹھس گا ۔ ساجی کے مس کال آتے رہے۔ مں نے جواب نہںر دیا۔ نہں چاہتا تھا اس کو معلوم ہو کہ مںھ نصبگ کے پاس ہوں۔ فون بند بھی نہںر کر سکتا تھا۔ ہڈتکوارٹر سے کبھی بھی کوئی ہدایت جاری ہو سکتی تھی۔
دو تنف دنوں بعد لال گنج کے لےن گھر سے نکلا تو ساجی کے فلٹی کا رخ کای۔
اور مںو ریگ زار مںن سانسںے لے رہا تھا۔ فلٹف مں عجبی سا سنّاٹا تھا۔ دونوں لڑکامں اسکول جا چکی تھںس۔ ساجی کسی آسبر کی طرح کرسی پر بیھتھ ہوئی تھی۔ چہرہ سانہ ہو رہا تھا۔ بال بکھرے ہوئے تھے۔ ہونٹ خشک۔۔۔۔۔۔ آنکںمں ویران۔۔۔۔ مںب نے اسے اس عالم مںل پہلے کبھی نہںی دیکھا تھا۔
’’کاچ بات ہے؟ جوگن بنی ہوئی ہو۔‘‘
ساجی چپ رہی۔
’’ناراض ہو؟‘‘
پھر بھی چپ۔۔۔۔۔
’’کچھ بولو گی؟‘‘ مںگ جھنجھلا گا ۔
ساجی نے مرگی طرف بے جان نگاہوں سے دیکھا۔ اس کی آنکھوں مںک کسی زخمی پرندے کا کرب تھا۔ پلکوں پر آنسوؤں کا ننھا سا۔۔۔۔۔۔
’’بس۔۔۔ رونا شروع۔۔۔۔۔۔ یہ نہںا پوچھو گی کہاں تھا کس حال مںس تھا۔‘‘
’’مجھے کای معلوم؟ نہ فون اٹھاتے ہو نہ فون کرتے ہو تو مجھے کای معلوم؟‘‘
’’آفس کے کام سے باہر جانا پڑا۔ وہاں نٹ ورک پرابلم تھا۔ کسی سے بات نہں۔ ہو سکی۔‘‘
’’کسی طرح میسج تو کر دیتے۔ مںس یہاں بھوت کی طرح اکیہں کس طرح دن گذارتی رہی تمہںی کا پتا؟
’’درجات کو بلا لںا ر۔۔۔۔۔‘‘
’’طنز کرتے ہو۔‘‘ ساجی کے لہجے مںا تڑپ تھی۔
’’طنز کی کا بات ہے۔ وہ آخر پتی ہںپ تمہارے۔‘‘
’’مںز یہاں کسی کے بھروسے نہںو رہ رہی ہوں۔ یہ گھر تم نے لاا ہے۔ تمہارے لے‘ رہ رہی ہوں۔‘‘
’’او کے۔۔۔۔۔ مںں ہی قصور وار ہوں لکنر ابھی تو بھوک لگی ہے۔ کچھ کھانے کو دو گی یا ہوٹل جاؤں؟‘‘
’’یہ ہوٹل ہی تو ہے۔‘‘
’’یہ ہوٹل ہے؟‘‘
’’اور نہںے تو کا‘ ہے۔ ایک دن کے لےہ آتے ہو۔ پسےی دے کر چلے جاتے ہو۔‘‘
مں۔ مسکرایا۔ ’’نصب بھی اسی طرح غصّہ کرتی ہے۔‘‘
’’نصب کے ایسا نصب کہاں سے لاؤں گی۔ وہ بوہی ہے۔ مںچ داشتہ ہوں۔‘‘
’’کاب بکواس ہے؟‘‘
’’مرد عورت کو گھر دیاہ ہے اور اپنا نام نہںس دیتا تو داشتہ ہوتی ہے۔‘‘
’’مںد نے تمہںے سنداور لگایا اور تم خود کو داشتہ کہتی ہو۔‘‘
تم نے یہاں نم پلٹہ تو نہںی لگایا اپنا۔۔۔۔۔؟ اپنا نام تو نہںت دیا۔۔۔۔؟‘‘
’’اور تم کاک سماج سے کہہ سکتی ہو کہ تم دروپدی ہو۔۔۔۔۔ تمہارا ایک پتی اور ہے؟‘‘
ساجی چپ ہو گئی۔ اس کی آنکھوں سے آنسو چھلک پڑے۔ سسکااں لی ک ہوئی بولی۔
’’تم ایک فون بھی نہںھ کر سکتے۔ دوسروں سے تمہاری خرہیت معلوم ہوتی ہے۔‘‘
مجھے احساس جرم ہوا۔ کم سے کم مج بھ تو بھجنا چاہےت تھا۔
مں۔ نے اسے لپٹا لاک۔ ’’اچھا۔۔۔ اچھا۔۔۔۔ اب روز فون کروں گا۔‘‘
’’مس کال کرتے کرتے تھک جاتی ہوں۔ تم جواب بھی نہںا دیتے۔ مج‘‘ بھی نہںک کرتے۔‘‘
’’مر ی جان۔۔۔۔ مرہی بلبل۔۔۔۔۔ مروی پا ری۔۔۔۔۔۔‘‘مںگ نے ساجی کے گالوں پر بوسے ثبت کےے۔ وہ مربے سنےس لگ کر سسکاگں لنے لگی۔
مںج نے اس کے آنسو پونچھے۔ ’’اب رونا دھونا بند کرو۔‘‘
’’تم نہں جانتے تمہارے بغر’ مروی کاہ حالت ہوتی ہے؟‘‘
’’اب تو آ گاک۔ کچھ کھانے کا انتظام کرو۔‘‘
ساجی کچن مںک چلی گئی۔ مںی ڈرائنگ روم مںر ایک کتاب لے کر بٹھی گا لکنی دل نہںھ لگا۔ کتاب الٹ پلٹ کر چھوڑ دی۔ ڈرائنگ روم سے اٹھ کر کمرے مں آیا۔ ایک نظر در و دیوار پر ڈالی۔۔۔۔ شاید مں نے اپنے لے قدن خانہ چن لاں ہے!
ساجی ناشتہ لے کر کمرے مںل آئی۔
’’تم ساری کتابںک یہاں لا کر رکھتے تو مںم بھی پڑھتی۔‘‘
’’یہ پڑھو۔۔۔۔۔ گتار کی تشریح ہے۔‘‘
’’یہ تو انگریزی ہے۔‘‘
’’سکھس لو۔‘‘
’’کہاں سے سکھو ں۔ تم پڑھاتے ہو نہں۔۔‘‘
’’پڑھا دوں گا۔‘‘ مںت مسکرایا۔
مںھ موڈ خراب کرنا نہںں چاہتا تھا۔ گھر سے سوچ کر چلا تھا کہ ساجی کے ساتھ خوشگوار لمحے گذاروں گا۔ بستر پر لٹن کر پھر کتاب ہاتھ مںس لے لی۔ ساجی مرشے پہلو مںر نمے دراز ہو گئی اور مرجے بالوں مںو انگلاںں پھر نے لگی۔ مںش نے الجھن سی محسوس کی۔ مںد اس وقت پڑھنے کے موڈ مںل تھا۔ مجھے یہ سوچ کر کوفت ہو رہی تھی کہ وہ مجھے کبھی تنہا نہںق چھوڑتی ہے۔ جب پڑھنے بٹھتا ہوں تو باتوں مںہ لگا لییں ہے۔
’’مجھے بھی سناؤ کام پڑھ رہے ہو؟‘‘
’’گتاے کا سانکھ فلسفہ۔‘‘
’’وہ کاب ہے؟‘‘ اس نے مرہے سنےے پر سر رکھ دیا۔
’’اب اس طرح پڑھائی ہو گی؟‘‘ مںی مسکرایا۔
’’پھر کس طرح ہو گی؟‘‘ وہ بھی مسکرائی۔
’’شرارت کرتی ہو۔‘‘ مںم نے اسے بازوؤں مںی بھنچا ۔
’’ہو گئی پڑھائی۔‘‘ وہ ہنسنے لگی۔
’’تم یی چاہتی ہو۔‘‘
’’بات کرو نہ۔۔۔۔۔۔‘‘
’’نہں !‘‘
’’کوںں؟‘‘
’’اب اصلی بات ہو گی۔‘‘ مںگ نے اسے لپٹا لاھ۔
’’ابھی نہںا۔‘‘
’’نہںی ابھی۔۔۔۔!‘‘
’’ابھی منوا اسکول سے آئے گی۔‘‘
’’تم پڑھنے نہں دیی ہو تو کای کروں؟‘‘
’’باتں کرو۔‘‘
’’کوئی کام کرو تو کچھ نہںے کروں گا۔‘‘
’’ٹھکی ہے مںو کپڑے دھو لیتں ہوں۔‘‘
ساجی باتھ روم کی طرف گئی۔ مں نے راحت کی سانس لی۔ مں۔ واقعی پڑھنے کے موڈ مں’ تھا لکن۔ پھر آ گئی۔ بستر کے قریب کرسی کھنچھ کر بٹھ گئی۔ مںل نے ادھر توجہ نہںں دی۔ خاموشی سے پڑھتا رہا مجھے لگا وہ ادھر ہی تک رہی ہے۔ مںو نے کنکھودں سے دیکھا۔ اس نے کہنی کو کرسی کے ہتّھے پر ٹکا لاب تھا اور چہرہ ہتھینہ پر جمائے مجھے مسلسل نہار رہی تھی۔ مجھے الجھن سی محسوس ہوئی۔۔۔۔۔ اس طرح کا دیکھ رہی ہے۔۔۔۔؟
اب پڑھنا مشکل تھا۔ مںر سہج محسوس نہںس کر رہا تھا۔ ساجی کی نظریں مجھ مں کچھ ڈھونڈ رہی تھںو۔۔۔۔۔ آخر کاے ہے مجھ مںں جو اس طرح نہارتی رہتی ہے؟ وہ مجھ کو مجھ سے ہی چرا رہی ہے۔ کچھ تو ہے جس سے مں واقف نہںں ہوں لکنا وہ واقف ہے۔ وہ مرھے وجود کے اس جوہر سے آشنا ہے جس تک مرںی رسائی نہںم ہے۔ مروے وجود سے لہریں اٹھ رہی ہںں اور اس کے دل کے نہاں خانوں کو منّور کر رہی ہںں۔ ایک مترنّم فضا سے وہ دو چار ہے۔ ایک موسیہا مجھ سے اس تک پہنچ رہی ہے جسے مںک سن نہںو سکتا۔۔۔۔۔۔ مرہا وجود ایک شے ہے جس سے وہ سرور کسب کرتی ہے۔۔۔۔ مںس ایک شئے ہوں۔۔۔۔ استعمال ہونے کی ایک چز ۔۔۔۔ ایک آبجکٹ۔۔ ہزاروں مں ایک مرما انتخاب ہوا ہے۔ مر ا انتخاب محض اتفاق ہے۔ یہ عشق نہں ہے۔ اگر مںں مکان تلاش کرتا ہوا اس کے گھر نہںر گا ہوتا، اس سے نہں۔ ملا ہوتا تو ایک شئے مںا تبدیل نہںج ہوتا۔ وہ مجھے جو بھی سمجھتی ہو اس سے ہٹ کر بھی مںر کچھ ہوں اور مجھے خود نہںس معلوم کہ کاج ہوں۔۔۔۔ مر ا نہںھ جاننا ایک سچ ہے۔۔۔۔ اس کا جاننا ایک جھوٹ ہے۔۔۔۔!
نہںہ پوچھا اس طرح کاد دیکھ رہی ہو۔۔۔۔؟ کتاب بند کر دی۔ اٹھ کر بٹھج گاں۔ ایک نظر اس کی طرف دیکھا۔ اس کا چہرہ پر سکون تھا۔ ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ تھی۔ آنکھوں مںے ہلکے گلابی ڈورے سے تھے۔۔۔؟ مںک اٹھ کر بالکنی مںی آیا۔ ایک سگریٹ سلگائی اور لمبے لمبے کش لنے لگا۔ ساجی اٹھ کر کچن مںک چلی گئی۔ منور کے اسکول سے آنے کا وقت ہو گاں تھا۔
اسکول سے آتے ہی منوح نے یونفاارم کی فرمائش کی۔ یونفابرم پہلے نہںی آیا تھا۔۔۔۔۔ مجھے کوفت ہوئی۔۔۔۔۔ مںر ایک باپ ہوں! مجھے بازار جانا پڑے گا لکنس یہ جان کر راحت ہوئی کہ یونفا رم اسکول سے ہی ملے گا۔۔۔۔۔ اچھا ہی تھا ورنہ بازار مںک نصب مل سکتی تھی اور قاممت گذر سکتی تھی۔
ساجی کھانا بنانے مںو لگ گئی۔ مں پھر کتاب لے کر بٹھر گات لکنی دل نہںا لگا تو ٹی وی آن کا ۔ جلد ہی اکتاہٹ محسوس ہونے لگی۔ کچھ دیر یوں ہی ہاتھ مںے ریموٹ لےب صوفے پر بٹھا رہا۔ دفعتاً پھکےے پن کے گہرے احساس سے بھر اُٹھا۔۔۔۔۔۔۔
عجبھ بات ہے۔۔۔۔! مںہ خوش کوفں نہںے ہوں۔۔۔۔۔؟؟؟ کار یہ گھر مربا نہں ہے؟ مرمی داشتہ کا گھر ہے۔۔۔۔؟ ساجی مر؟ی داشتہ ہے یا مںو ساجی کا غلام ہوں۔ مجھے پہلے یہاں حاضری دییک ہے۔ شاید مںر ہمشہی کے لےھ ایک بندھن مںہ جکڑا جا چکا ہوں۔ مںح نصبت کو اِگنور کر رہا ہوں۔۔۔۔ لکنی کب تک۔۔۔؟
دن بھر مںن اسی کتڑا مںش مبتلا رہا۔ کھانے کے دوران بھی مں خاموش تھا۔ ساجی بھی خاموش رہی لکنں مجھے حرتت بھی ہو رہی تھی کہ حسب معمول اس نے پوچھا نہں کہ اداس کورں ہوں؟ رات مںر بھی مر ے رویّے مں تبدییٹ نہںپ ہوئی اور ساجی بھی مرتے پہلو مں خاموش پڑی رہی۔
مجھے اس کی خاموشی اچھی لگی۔ گاؤں کی وہ رات یاد آ گئی جب ہم پہاڑی کے چٹّان پر ایک دوسرے کے پہلو مں ضم ایک الوہی سکوت کا حصّہ تھے۔ رات تھی۔۔۔۔۔ خامشی تھی۔۔۔۔۔ اور بے پایاں مسرّت کی بارش تھی۔۔۔۔۔ وہ الوہی مسرّت کا۔ دو بارہ حاصل نہں ہو سکتی؟ مںی نے محسوس کای اس عالم سے گذرنے کی شدید خواہش مر ے دل مںے اس دن سے جاگزیں ہے۔ مں نے آہستہ سے اس کی پلکںح چومںں۔ اس نے اپنا سر مریے سنےز پر رکھ دیا۔۔۔۔ مںت دیر تک اس کو اپنی بانہوں مںن لے۔ پڑا رہا لکنن وہ کتےز پد ا نہںا ہو رہی تھی۔ یہاں مں ایک شعوری کوشش مںز مبتلا تھا اور وہاں یہ کت د خودساختہ تھی۔ ساجی نے سر اٹھا کر مرتی آنکھوں مںک ایک پل کے لےک جھانکا۔۔۔۔ اس کی آنکھوں مںے شہوت اپنے رنگ گھول رہی تھی۔ چھاتو ں کو مرکے سنےم پر دبایا اور ہونٹ مرمے ہونٹوں پر ثبت کر دیے۔۔۔۔۔ مجھے کوفت کا احساس ہوا۔۔۔۔۔ مں نں د چاہتا تھا ہر وقت ایک بد روح کی طرح ساجی کے جسم مںو سما جاؤں۔ مںں آتشںں لمحوں کے ہر دام سے بچنا چاہ رہا تھا۔ مردی سانسںا مرسے قابو مںد تھںھ لکنے اس کی سانسوں کی مہک مجھے جنگلوں کی طرف بلا رہی تھی۔ اس کی چھاتوتں کا لمس آہستہ آہستہ نشہ آور ہو رہا تھا اور مںو اس الوہی مسرّت کے لےو ترس رہا تھا لکنت۔ کمرے مںا گاؤں کی پہاڑی والی فضا نہںد تھی۔۔۔۔۔ چاندنی نہںس تھی۔۔۔۔۔ ٹھنڈی ہواؤں کے جھونکے نہںا تھے۔ رازوں سے بھرا آسمان نہںت تھا۔۔۔۔ لکنھ اس پر آتشںا لمحوں کا غلبہ تھا۔ وہ مجھے کاسنی رنگ سے بھر دینا چاہتی تھی۔ اس نے اپنے جسم سے مجھے پوری طرح ڈھک لات۔۔۔ وہ اب مر ے اوپر تھی۔۔۔۔۔ اب مرسا استعمال ہو گا۔۔۔۔ وہ مجھ سے بوند بوند لذّت کشدے کرتی ہے۔۔۔۔ وہ مجھ پر لٹاتی نہںے ہے۔۔۔۔ وہ مجھ سے حاصل کرتی ہے۔۔۔۔ اپنا جام بھرتی ہے۔۔۔۔ مںت اس کے خالی پن کو بھرتا ہوں۔۔۔۔ مریی صراحی خالی ہو سکتی ہے۔۔۔۔ اس کا جام کبھی بھر نہںذ سکتا۔
کات مںک دلدل مںح اتر رہا ہوں۔۔۔۔۔؟
مںت نے ساجی کو خود سے الگ کا اور اٹھ کر بٹھ۔ گام۔ اس نے مرری طرف ادھ کھلی آنکھوں سے دیکھا۔
’’کام بات ہے؟‘‘
’’کچھ نہںس!‘‘
ایک سگریٹ سلگائی۔
’’اس وقت سگریٹ۔۔۔۔؟‘‘
’’دل چاہا۔۔۔۔۔‘‘
’’وہسکی پوت گے؟‘‘
’’نہںک۔‘‘
’’تمہںی کوئی پریشانی ہے؟‘‘
’’نہںں۔‘‘
’’ایک بات کہوں۔‘‘
’’کہو۔‘‘
’’مروے پاس آؤ تو اپنا دکھ درد سب بھول جاؤ۔‘‘
مںھ چپ رہا۔
’’مںو ہوں تمہارے لے ۔۔۔۔ مجھ سے شئر کرو۔‘‘
’’ایسا کچھ نہںل ہے۔۔۔۔ مں ٹھک۔ ہوں۔‘‘
ساجی چپ ہو گئی۔ مںن بھی خاموش سگریٹ کے کش لگاتا رہا۔ مں۔ نے محسوس کای کہ وہ کڑھ رہی ہے۔
’’ایک بات کہوں ساجی؟‘‘
’’کاو‘‘؟
’’تم مرکا اتنا کئری مت کرو۔ مجھے اکتاہٹ ہوتی ہے۔‘‘
’’عجبم بات ہے۔ تمہںی پا ر سے اکتاہٹ ہوتی ہے۔‘‘
’’یہ پا ر نہںد ہے۔‘‘
’’پھر کا ہے؟‘‘
یہ قابض رہنے کا جذبہ ہے۔‘‘
’’تم بدل گئے ہو۔‘‘
’’تم ہر وقت چپکی رہتی ہو۔۔۔۔ مرای آزادی ختم ہو جاتی ہے۔‘‘
’’تمہارے لے سب کچھ چھوڑا اور تم مجھ سے اکتا گئے۔‘‘ساجی کا لہجہ روہانسی ہو گا’۔
’’اب رو کوےں رہی ہو؟‘‘ مجھے غصّہ آ گا ۔
’’تم مجھے رونے کی بھی آزادی نہںے دیتے۔‘‘
وہ اٹھ کر چلی گئی۔ مںب نے دوسری سگریٹ سلگائی۔ سگریٹ ختم ہونے تک ساجی کمرے مںے لوٹ کر نہںو آئی تو مجھ مں غصّے کی لہر سی اٹھنے لگی۔ اس کے کمرے مںک گای۔ وہ تکےک مںر منھ چھپائے سسکا ں بھر رہی تھی۔
’’اب یہاں کاو کر رہی ہو؟‘‘ مر ا لہجہ تلخ تھا۔
اس نے کوئی جواب نہںی دیا تو مںت نے ہاتھ پکڑ کر کھنچا ۔
’’وہسکی لے کر آؤ۔‘‘
وہ اٹھ کر بٹھہ گئی۔ پلّو سے آنسو پونچھے مںے اپنے کمرے مںھ آ گا ۔ کچھ دیر بعد وہسکی کی بوتل اور کٹورے مں اُبالے ہوئے انڈے لے کر آئی۔
’’پلٹک مںو لے کر نہںو آ سکتی تھی۔‘‘
’’نہںک۔‘‘
’’کٹوری مںت ابالے ہوئے انڈے مجھے پستان کی طرح لگتے ہںل۔‘‘
’’نہںر لاؤں گی پلٹا مںس۔‘‘
’’کوںں؟‘‘
’’کٹوری مںت ہی لاؤں گی۔‘‘
مںس مسکرایا۔
وہ گلاس مںب وہسکی انڈیلنے لگی۔
’’اپنے لےر بھی بناؤ۔‘‘
’’نہںے بناؤں گی۔‘‘
’’کوںں نہںؤ بناؤ گی؟‘‘
’’مجھے ابکائی آتی ہے۔‘‘
’’پناے پڑے گا آج۔‘‘
’’کواں؟ مجھے اتنی بھی آزادی نہںر کہ مں اس چز سے پرہز کروں جو مجھے نقصان پہنچاتی ہے؟‘‘
مںص ہنسنے لگا۔ اس نے ناگوار نظروں سے مجھے دیکھا۔
’’مجھے الزام دیتے ہو کہ آزادی چھنے لی۔‘‘
’’بالکل!‘‘
’’آزادی تو تم نے مرےی چھنی لی۔‘‘
مںص نے وہسکی کا ایک لمبا گھونٹ بھرا اور اسے بانہوں مںی کھنچ لا ۔
’’آزادی چاہتی ہو؟‘‘ مںا اسے بازوؤں مںگ زور سے بھینچتے ہوئے بولا۔
’’دبا دو گلا۔۔۔۔ ہمشہ کے لے آزاد ہو جاؤں گی۔‘‘
مںص اسے بے لباس کرنے لگا۔
’’روشنی تو گل کر دو۔‘‘
نہںا۔۔۔۔ سب کچھ روشنی مںم۔‘‘
’’کمار۔۔۔ پلزھ۔۔۔۔۔۔‘‘ اس کی آواز مخملی ہو گئی۔ آنکھوں مں کاسنی رنگ لہرانے لگا۔
’’تم گل کرو۔‘‘
وہ اٹھی۔ اس کی نظر انڈے کی کٹوری پر پڑی۔
’’یہ کون کھائے گا؟‘‘
’’تم۔۔۔!‘‘
’’چلو۔۔۔ کھاؤ۔۔۔۔۔۔‘‘ وہ اپنے ہاتھ سے کھلانے لگی۔
’’تم بھی کھاؤ۔‘‘ مںی نے انڈے کا نصف حصّہ اس کے منھ مںک ڈال دیا اور گلاس مںا بچی ہوئی شراب ایک ہی سانس مںز پی گار۔
اس نے روشنی گل کی۔۔۔۔۔
’’بہت پاار کرتے ہو۔‘‘ اور اس نے اپنے ہونٹ مرہی گردن پر ثبت کر دیے۔ مرپا نشہ بڑھ گای۔۔۔۔۔۔
دوسرے دن لال گنج کے لے روانہ ہو رہا تھا تو نصبہ کا فون آیا۔‘‘
’’یاد ہے کچھ۔۔۔۔۔؟‘‘
’’کاا۔۔۔؟‘‘
’’آج کا دن۔۔۔۔؟‘‘
’’کا ہوا تھا آج کے دن؟‘‘
’’آپ تو بے مروّت ہںو۔‘‘
’’کچھ بتاؤ نا؟‘‘
’’اندرا گاندھی مری تھی۔‘‘ نصب نے فون بند کر دیا۔ اس کی آواز غصّے سے بھری تھی۔ مجھے یاد آ گا۔ آج شادی کی سالگرہ تھی۔۔۔۔۔ اکتس اکتوبر۔۔۔۔ نصبھ کے لے یہ دن بہت خاص ہوتا تھا۔۔۔۔۔ صبح صبح شکرانے کی نماز پڑھتی۔ مرےی پسند کی ڈش بناتی۔ ہم آوٹنگ کے لےص نکلتے اور رات کا کھانا ریستوراں مںہ کھاتے۔ اس دن گھر بھر کے لےت نئے کپڑے آتے تھے۔ فروزی کو بھی نئے کپڑے ملتے۔ نصب کو اس بات کا افسوس تھا کہ اس کی شادی کا دن اندرا گاندھی کا مرن دن ہو گار۔
مں نے لال گنج جانے کا ارادہ ملتوی کال۔ مںن اب گھر جانا چاہتا تھا۔ ساجی نے سنا تو بہ ظاہر خوش ہوئی۔
’’گفٹ لے کر جاؤ۔‘‘
’’ساتھ ہی شاپنگ کریں گے۔‘‘
’’کات لو گے؟‘‘
’’کچھ ملبوسات۔۔۔۔ کچھ عطریات۔۔۔!‘‘
’’وہ تو خود ایک خوشبو ہے۔‘‘ ساجی بہت ادا سے مسکرائی۔ پھر اچانک مریی گود مں بٹھ۔ گئی۔ بازو گردن مں حمائل کر دیے۔ لب و رخسار پر بوسے ثبت کرنے لگی۔۔۔۔۔۔ گردن کے کنارے کنارے ہونٹوں سے برش کاہ، کان کی لوؤں کو ہونٹوں مںھ دبایا اور مرہی عجب کتو ہو گئی۔ مںب نے اس کو خود سے الگ کرنا چاہا کہ اس وقت مر ا نصبر کے پاس ہونا ضروری تھا لکنب وہ مجھ پر حاوی تھی۔۔۔۔۔ شرٹ کے اندر ہاتھ لے جا کر مر ی چھاتانں سہلانے لگی۔ مجھ پر سرور سا چھانے لگا۔
’’کمار۔۔۔۔!‘‘ اس نے اپنے ادھ کھلے ہونٹ مر ی چھاتویں پر رکھ دیے۔۔۔۔ مجھے سہرن سی ہوئی۔ مرہا ہاتھ بے اختاور اس کی پشت پر چلا گاا۔
اور پھر سرگوشومں مں بولی۔ ’’مر ی جانب سے بھی اس کو پاپر کر لنان۔‘‘
جاؤ۔۔۔۔۔ تمہں نہںی روکتی۔۔۔۔۔ جاؤ۔۔۔۔۔۔‘‘
سرگوشو۔ں نے مجھے نشے مں لا دیا۔ ایک پل کے لےج اس کی آنکھوں مںا جھانکا۔ ان مںر گلابی ڈورے نہںں تھے۔ وہ جذباتی نہںا ہو رہی تھی۔ مجھے لگا اس کی یہ حرکت دانستہ ہے۔
اسے زور سے اپنے بازوؤں مںر دبایا۔ وہ کسمسائی۔
’’نہںا کمار جاؤ۔۔۔۔۔ وہ تمہاری راہ دیکھ رہی ہے۔‘‘وہ مجھے چھوڑ کر اٹھ گئی۔
’’ادھر سنو۔۔۔۔۔‘‘ مںہ نے اس کا ہاتھ پکڑ کر کھنچنا چاہا۔
’’تم جاؤ۔۔۔۔ تمہارا جانا ضروری ہے۔‘‘
’’آؤ نا۔۔۔۔۔۔‘‘ مں بہ ضد تھا لکن وہ دور کھڑی رہی۔
موبائل بج اٹھا۔ نصب۔ تھی۔ مںی نے فوراً کہا۔
’’سب یاد ہے۔ راستے مں۔ ہوں۔ آدھ گھنٹے مں پہنچ جاؤں گا۔‘‘
مںب نے بگا اٹھایا۔ ساجی دروازے تک چھوڑنے آئی۔ دروازے کے قریب اس نے ایک بار پھر مرری گردن مںک اپنی بانہں حمائل کںب، مر ا بوسہ لاو اور خمار آلود لہجے مںے بولی۔
’’جلدی آنا کمار۔ تمہارے بغر رات کٹتی نہںی ہے۔‘‘
گھر پہنچا تو نصبں خوش ہو گئی۔
لکن مںز چڑ ھ کے درختوں کے درماےن سانسں لے رہا تھا۔۔۔۔۔ قمص کے اندر رینگتے ہوئے ساجی کے ہاتھ۔۔۔۔۔
نصب نے شکایت کی کہ مں شادی کی تاریخ بھول جاتا ہوں۔ مںم خاموش رہا۔ حسب معمول ہم بازار گئے۔ ایک دوسرے کی پسند کے کپڑے خریدے۔ دن کا کھانا گھر مںک کھایا۔ شام کو نئے کپڑے مںد گھومنے نکلے۔ مہاراجہ ریستوراں مںغ ڈنر لاک اور دھند مرںے اندر پھیتمہ رہی۔ نصبا چہک رہی تھی اور ساجی کی سرگوشا ں مجھے پکار رہی تھںا۔۔۔۔۔۔
آخر اس نے مجھے ٹوک دیا۔ ’’کاک بات ہے؟ کچھ پریشان نظر آ رہے ہںی؟‘‘
’’نہںھ۔۔۔۔ کچھ نہںو۔‘‘ مںک نے پھیھے سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا اور خوش نظر آنے کی کوشش کی۔
اعتراف کروں گا کہ مرکا دماغ تعطّل کا شکار تھا۔ مںت کسی چزا مںر دلچسپی نہں لے رہا تھا۔ نصب کی باتوں کا ہوں ہاں مںت جواب دیتا۔
اور رات آئی تو زرد پتّوں کی آہٹ لے۔ آئی۔۔۔۔۔ نصب پر شوق تھی اور مںر دھند گزیدہ۔۔۔۔ ساجی مرتے جسم مںا چھپ کر چلی آئی تھی۔۔۔۔۔۔ پرواز کی کوئی چاہ نہںا۔۔۔۔ مہندی کی مہک بے اثر۔۔۔۔ آج شادی کی سالگرہ تھی۔ آج کا دن اس کی زندگی کا سب سے اہم دن تھا۔ آج کے روز وہ مجھ سے ہمشہل کے لےن بندھی تھی۔۔۔۔۔ اور مرزے جذبات سرد ہو رہے تھے۔ گر چہ اس کو بازوؤں مںہ لا بھی لکند بے سود۔۔۔۔ کہںو پتّوں مںہ ہلکی سی سرسراہٹ بھی نہںگ تھی۔۔۔۔ کہںو کوئی چنگاری نہںو۔۔۔۔۔۔ کوئی پر کٹا پرندہ جسےی نچلی شاخ پر ساکت تھا۔۔۔ مجھے لگا ساجی دور کھڑی ہنس رہی ہے۔۔۔۔ یہ ذلّت کی انتہا تھی۔۔۔۔۔
مرری کوئی شعوری کوشش کام نہںہ آئی۔۔۔۔ جبلّت شعور مں۔ نہںا بستی۔۔۔ جبلت خود کار ہوتی ہے۔ نصبں کی سانسں اب مرمی سانسوں کو نہںی مہکا پا رہی تھںی۔۔۔۔ مجھے جنگلی گھاس کی مہک چاہےر۔۔۔۔ اگر نصبس بھی اسی انداز مں پہل کرے۔۔۔۔ مرھے کان کی لوؤں کو اپنے ہونٹوں مںی۔۔۔۔۔ لکنں وہ ایسا نہںی کر سکتی۔ یہ اس کا مزاج نہںا ہے۔ اس نے کبھی پہل نہںا کی ہے لکن ساجی نے بھی کبھی پہل نہں کی ہے۔۔۔۔۔ پھر اس دن کویں۔۔۔۔؟ شاید اُس نے ایسا دانستہ کات تھا کہ مںہ الجھ جاؤں۔۔۔۔۔ پانی مںں بہت گہرا اُتر جاؤں کہ نصبا تک پہنچ نہ سکوں۔ مجھے یاد آئں گے یہ لمحات۔۔۔۔ یہ لمس۔۔۔۔ لذّت کی یہ گراں باری۔۔۔۔۔ کس شدت سے اس نے مرںے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ ثبت کے۔ تھے۔۔۔۔۔۔ مرری چھاتوےں کو مسلسل سہلاتے ہوئے اس کے ہاتھ۔۔۔۔ ساجی نے ایسا پہلے نہںو کار۔۔۔۔ اس نے دماغ سے کام لاس جس طرح مںس لتاؤ ہوں۔ یہ اس کی شعوری کوشش تھی۔ اس نے مرہے پر نوچ لےا اور نصب۔ کے آنگن مںن پھنک دیا۔۔۔۔۔۔۔
مںب اٹھ کر بٹھن گان۔
نصب۔ بھی اٹھ کر بٹھن گئی۔
’’کاے بات ہے؟ آپ کی طبعتد تو ٹھکے ہے۔‘‘
’’مںے ٹھک ہوں۔‘‘ مرعا لہجہ مرا مرا سا تھا۔
نصب۔ نے روشنی کی۔ ’’آپ مجھے بما ر لگ رہے ہںھ۔ بتایئے کاا بات ہے؟‘‘
’’پاےس لگی ہے۔ پانی پلاؤ۔‘‘
نصب۔ پانی لے کر آئی۔ مجھے غور سے دیکھا۔
’’آپ کا چہرہ پلان پڑ گاے ہے۔‘‘
مںب نے گلاس ایک ہی سانس مںغ خالی کر دیا۔
’’ڈاکٹر کو دکھائےک۔ آپ کا چک اَپ ضروری ہے۔‘‘
’’مجھے کچھ نہںا ہوا ہے۔‘‘
’’آئنے مں اپنی صورت دیےھہ ۔۔۔۔ یہ آنکھوں کے گرد سا ہ حلقے۔۔۔۔ پشا۔نی پر ساےہ دھبّے۔۔۔۔ یہ سب کاھ ہے۔۔۔۔؟‘‘
’’روشنی بجھاؤ۔‘‘ مںب بستر پر دراز ہو گار۔ نصب‘ نے روشنی گل کی۔
’’مجھے کمزوری لگ رہی ہے نصبی۔۔۔۔۔ مںن سونا چاہتا ہوں۔‘‘
’’کل آپ کو ڈاکٹر کے پاس لے چلوں گی۔‘‘ نصب نے مرںا سر اَپنے سنےی پر کھنچ’ لا اور مر۔ے بال سہلانے لگی۔ مںن نے راحت کی سانس لی۔ نصبر کے پانر بھرے لمس کی۔ مجھے ضرورت تھی۔
مجھے کب نندی آ گئی یاد نہںس ہے لکنم نصبر شاید دیر تک جاگ رہی تھی۔
صبح باتھ روم مںآ نظر آئنے پر پڑی۔
مرحی شکل سؤر کی۔۔۔۔۔۔
نصب ڈاکٹر کے یہاں چلنے پر مصر تھی۔ سؤر نے ینمں دلایا کہ کچھ نہں ہوا، صرف آفس کا ٹنشنآ ہے جس سے طبعتا کسی طرف مائل نہںی ہوتی۔
دوسرے دن بھی مرکی طبعتی مضمحل رہی۔ رات کا کھانا کھا کر لال گنج کے لےس روانہ ہوا اور راستے مںس ساجی کے فلٹر مںک اتر گاگ۔
وہ اسی حال مںے ملی جیی پچھلی بار تھی۔۔۔۔۔ لباس بے ترتب ۔۔۔ بال کھلے ہوئے۔۔۔۔ بلوز کا اوپری بٹن۔۔۔۔۔۔۔
مںد نے نہںا پوچھا جوگن کواں بنی ہوئی ہو۔۔۔۔؟ دروازہ بند کاب۔ ساجی کو گود مںد اٹھا کر بستر پر لایا۔ وہ مجھ سے چپک گئی۔
’’جلمی کمار۔۔۔؟‘‘ اس کی جان لوفا سرگوشا۔ں۔۔۔۔۔
’’جلمی تو تم ہو۔ چن۔ سے جنے نہں دیی۔ ہو۔‘‘
’’واہ جی واہ۔‘‘
’’وہسکی ہے۔۔۔۔؟‘‘
’’نہںک ہے۔‘‘
’’پھر کاب ہے؟‘‘
’’لے کر کویں نہںھ آئے؟‘‘
’’تم کو ں نہںن لا کر رکھتی ہو؟‘‘
’’واہ جی واہ۔ اب یہ کام بھی کروں۔‘‘
’’کوہں نہں کر سکتی ہو۔‘‘
’’ٹھک ہے۔ یہ کام بھی کروں گی۔‘‘
’’ابھی کہاں سے آئے گی؟‘‘
’’اسٹشنی کے پاس دکان کھلی ہو گی۔‘‘
’’چلو لانے!‘‘
’’چلو۔۔۔۔!‘‘
ساجی چلنے کے لےر تا ر ہو گئی۔ اس نے کپڑے تبدیل کے۔۔ ہلکا سا مک اَپ بھی کان۔ لپ اسٹک کے ساتھ ماتھے پر بندی بھی سجائی۔
’’اس وقت مکے اپ کی کای ضرورت تھی؟‘‘
وہ مسکرائی۔ ’’اپنے کمار کے ساتھ نکل رہی ہوں تو بن ٹھن کر نکلوں گی۔‘‘
اسٹشنی کے لےپ رکشا پکڑا۔ شالی گرام اسٹور کھلا ہوا تھا۔ ساجی بیھل رہی۔ مںا نے اتر کر وہسکی خریدی۔ رکشے پر بٹھنےگ لگا تو اس نے ایک آدمی کی طرف اشارہ کای۔
’’اس آدمی کو دیکھ رہے ہو؟‘‘
’’کا ہوا؟‘‘
’’مجھے گھور گھور کر دیکھ رہا ہے۔‘‘
’’کون۔۔۔۔؟‘‘
’’دیکھو ابھی دیکھ رہا ہے۔ تمہارا بھی ڈر نہںا ہے اس کو۔‘‘
مںا مسکرایا۔ ’’اب رات مںھ لپ اسٹک لگا کر نکلو گی تو لوگ دیںھا گے ہی۔‘‘
’’کسے۔ ندیدے کی طرح دیکھ رہا ہے۔ دو چار گھونسے مںی تو اس کی طبعت‘ ہری ہو جائے گی۔‘‘
اسٹشن’ پر جھگڑنا ٹھک‘ نہںم ہے۔‘‘ مںو نے رکشے والے کو واپس چلنے کے لےٹ کہا۔
مجھے یاد آیا ملےے مںے بھی اس نے ایک لڑکے کو دکھا کر ییک بات کہی تھی بلکہ اس سے لڑنے کے لےک اُکسایا بھی تھا اور آج بھی اکسا رہی تھی۔ شاید وہ چاہتی ہے کہ اس کے لےڑ بچا بازار مںت لوگوں سے جھگڑا مول لوں۔
گھر آتے آتے بارہ بج گئے۔
لکن وہ لمحہ نکل چکا تھا۔ اب وہ بات محسوس نہںب ہو رہی تھی۔ مجھے لگا شاید ایک دو پگہ پنے۔ کے بعد وہ کتںھا طاری ہو۔
مںن نے چار پگا لے ۔۔۔۔ کچھ بوندیں اس کے جسم پر بھی ٹپکائںے۔۔۔۔۔ مجھ پر غنودگی طاری ہونے لگی۔
یاد نہںل ہے۔۔۔۔ کب نند۔ کی آغوش مںم چلا گاو۔۔۔۔۔۔
وہ بااباں تھا جس سے ہو کر گذر رہا تھا۔ بہت تپش تھی۔ سورج سوا نزوے پر تھا۔ تپتی زمنل پر چلتے ہوئے پاؤں مں چھالے پڑ رہے تھے۔
’’پانی۔۔۔۔‘‘ کہںؤ سے آواز آئی۔ مہدی کی ایک باڑھ کے پچھے ایک عورت دلہن کے لباس مںی نمر دراز تھی۔ بال چہرے پر بکھرے ہوئے تھے۔ وہ بار بار اپنے خشک ہونٹوں پر زبان پھرچ رہی تھی۔ مجھے لگا مںب اُسے پہچانتا ہوں۔۔۔۔۔ مجھے دیکھ کر پانی کی فریاد کی۔ کندھے سے جھولتا مشکز۔ہ اس کی طرف بڑھایا۔
اس نے مشکزںہ ہونٹوں سے لگایا لکنی یہ خالی تھا۔۔۔۔۔ جھلّا کر مشکزلہ مر ے منھ پر دے مارا۔۔۔۔۔۔
’’تمہارا مشکز ہ خالی ہے۔ دھکّار ہے تم پر۔‘‘ وہ زور سے چلّائی۔ مر ی نندر ٹوٹ گئی۔
مںٹ اٹھ کر بٹھ گال۔ رات کا پچھلا پہر تھا ساجی بے خبر سوئی تھی۔ ادھ کھلی چھاتو’ں سے بریر۔۔ لپٹا ہوا تھا۔ بریر ت سے کبھی مکمّل بے نارز نہںر ہوتی۔ یہ بھی اس کا کامپلکس ہے۔ بچّالں اگر اٹھ جائںل تو فوراً کپڑے درست کرنے مںی دشواری ہوتی ہے۔ مںٹ نے کمرے مںر روشنی کی۔ کرسی پر اس کی ساری اور بلوز ایک ڈھرے کی صورت پڑے ہوئے تھے۔ ساری کا حصّہ کرسی کے بازو پر جھول رہا تھا۔ کھونٹی پر مرھی پنٹت ٹنگی ہوئی تھی۔۔۔۔ کھونٹی پر ٹنگ جانا جسےج مریا مقدّر ہے۔۔۔۔ اس کے جسم سے ٹنگا ہوا مں ۔۔۔۔۔ کا نصبھ مجھے اس کھونٹی سے کبھی اتار سکے گی۔۔۔۔؟ مںہ یہاں زندگی بھر جھولتا رہوں گا اور نصب۔ زندگی بھر تشنہ لب رہے گی۔
ساجی روشنی گل کرنے پر ہمشہہ اصرار کرتی ہے مگر بے سود۔۔۔ کھڑکی سے چھن کر آنے والی روشنی مںے اس کے خط و خال نمایاں ہو جاتے ہں ۔ ڈھلتی ہوئی چھاتارں اور ان کا ملگجا رنگ۔۔۔۔ مںا پیاً کوٹ اتار پھنکنےھ پر زور دیتا ہوں۔ اس کی نہںا نہں کی تکرار۔۔۔۔ یہ روز کا معمول ہے۔
مںں اسے غور سے دیکھ رہا تھا۔ کی۔ک لگتی ہے سوئی ہوئی عورت۔۔۔۔؟ پٹں کھلا ہوا۔۔۔۔۔ ناف کے حلقے مں لکرکیں سی۔۔۔۔ زچگی کے نشان۔۔۔ پانچ بچّے جنے۔۔۔۔ پھر بھی کمر کے گرد گوشت کی تہہ مجھ مںا ہجامن پدزا کرتی ہے۔
کا۔ مںے اس عورت سے محبت کرتا ہوں۔۔۔۔۔؟ یا ہمارے درماےن محض سکس ہے۔۔۔۔؟ سکس نے مرد کو بھی ادھورا رکھا ہے اور عورت کو بھی۔۔۔۔ ہم دونوں ادھورے ہںس اور ہمںم ملانے والی کڑی ہے سکسض۔۔۔ شاید ہم کسی اور طرح ایک نہں ہو سکتے۔۔۔۔۔؟ ہماری روح مںت سنّاٹا ہے۔۔۔۔۔ ہم اسے پر کرتے ہںک گال سے گال سٹا کر۔۔۔۔۔ جسم سے جسم رگڑ کر۔۔۔ اس احساس کے بعد مر ی شکل کوںں سؤر کی طرح ہو جاتی ہے۔۔۔؟
مں۔ نے تکےا کو اپنی طرف کھنچاں۔۔۔۔ تکےو کے ساتھ اس کا سر بھی کھچ آیا لکن نند۔ نہںت ٹوٹی۔ وہ اسی طرح گہری گہری سانسںم لے رہی تھی۔ وہ نندہ مںل ہوتی ہے تو مںک راحت محسوس کرتا ہوں تب وہ آبجکٹگ ہوتی ہے۔ مںن اپنے طور پر اس کا استعمال کر سکتا ہوں۔ مں چاہوں تو اُسے صرف نہار سکتا ہوں۔۔۔۔ لکنم مں اس کے ساتھ جزوی طور پر آزاد ہوں۔۔۔۔۔ مں اسے بے لباس نہںک کر سکتا۔۔۔۔ چخےس گی۔۔۔۔ یہ کامپلکس اسے درجات نے دیا ہے۔ درجات اس کے دل مںا جگہ نہںج بنا سکا لکن مںن نے بنا لاا ہے پھر بھی مجھے اپنے کا مپلکس کے اندر گھسنے نہںج دے گی۔ یہ اس کی ذات کا خول ہے۔
کھڑکی کے شگاف سے سرد ہوا اندر آ رہی تھی جس مںص بارش کی مہک گھلی ہوئی تھی۔ شاید رات بارش ہوئی ہو۔۔۔۔۔ مں نے کھڑکی کھولی۔ تزی ہوا کا جھونکا آیا۔
کھڑکی پر رکھا ہوا گلاس گر کر ٹوٹ گار۔ اس کی نندف نہںک ٹوٹی لکنی اس نے سہرن سی محسوس کی اور پاؤں سکوڑ لے۔۔۔۔۔۔۔ اس کے پٹں پر ہاتھ پھرنا۔۔۔۔ پی ر کوٹ کا ناڑہ۔۔۔۔ اس نے اچانک آنکھں کھولںت اور مررے ہاتھ پکڑ لےس۔۔۔۔۔۔
’’کاا کرتے ہو؟‘‘
’’کچھ نہںر۔‘‘
’’تم سوئے نہںھ۔۔۔۔؟‘‘
’’گلاس ٹوٹ گاھ ہے۔‘‘
وہ اٹھ کر بٹھل گئی۔
’’کسےس ٹوٹا؟‘‘
’’جسےس دل ٹوٹتا ہے۔‘‘
وہ خاموش رہی۔
’’کرچایں چن لو۔‘‘
وہ جھاڑو لے کر آئی۔ کرچاتں سمٹو کر کوڑے دان مںے ڈالا۔ فرش پر گرے ہوئے پانی کو صاف کال اور مرلے پہلو سے لگ گئی۔ مںڈ خاموش تھا۔ وہ بھی چپ تھی مں کسی قسم کے تناؤ مںے نہںں تھا۔ مںھ بس خاموش رہنا چاہتا تھا۔ مںے سوچ رہا تھا کہ کچھ پوچھے گی تو اٹکّر لس جواب دوں گا مجھے اپنے اس رویّے پر حرہت بھی نہںا تھی لکنر اس نے کچھ پوچھا نہںخ۔۔۔۔ شاید مرلا موڈ بھانپ چکی تھی۔ مںچ نے سگریٹ سلگائی اور دھویں کے مرغولے بنانے لگا۔ اٹھ کر بالکنی مںا آ گاں۔ سگریٹ کا آخری کش لا اور کرسی کھنچی کر ریلنگ کے قریب بٹھھ گا ۔ ہوا مں۔ خنکی تھی۔ ہر طرف مکانوں کی روشنی گل تھی۔ دور سڑک پر کبھی کبھی کسی گاڑی کی ہڈآ لائٹ نظر آ جاتی۔ مجھے نصب کی یاد آ گئی۔۔۔۔ مجھے اس وقت گھر مںک ہونا چاہےٹ۔ سی ر کے امتحانات اب شروع ہوں گے۔ مں نے ایک ماہ سے ان کی پڑھائی نہںن دییھا ہے۔ اس بار لوٹ کر سدےھا گھر جاؤں گا۔۔۔۔۔ نصبا تشنہ لب ہے اور مرےا مشکزہہ خالی ہے۔
’’پانی پو گے؟‘‘۔ وہ پانی کا گلاس لے کر کھڑی تھی۔
’’خون پو ں گا۔‘‘ مجھے غصّہ آ گاو۔
اس کو بھی غصّہ آ گاو۔ اس نے گلاس رکھ دیا۔ گردن اٹھائی اور ایک ہاتھ سے اپنا گلا پکڑ کر بولی۔
’’لو پوو۔۔۔۔!‘‘
وہ اسی طرح کھڑی رہی۔
’’ناٹک بند کرو۔‘‘
’’لے لو مر ی جان مںے کاآ کروں گی جی کر۔‘‘
’’خاموش!‘‘ مرؤا غصّہ بڑھ گا ۔
’’تم خوش نہںر ہو تو۔۔۔۔۔‘‘
مں نے اُسے بازوؤں مںو جکڑ لاڑ۔
’’ایک دم خاموش۔۔۔۔ کچھ نہںا بولو گی۔‘‘
’’اوہ۔۔۔۔ ظالم۔۔۔۔ بے درد۔۔۔۔!‘‘ اس کے لہجے مںش مکمل سپردگی تھی۔
اس کی آواز بہت دھیلم تھی اور مجھے لگا آتشں لمحوں کو مہمزس کرنے کے لے اُس نے یہ لہجہ اختامر کان تھا۔ وہ جانتی ہے کہ مدھم سرگوشازں مجھے برہم کرتی ہںس اور اس دن بھی اس کا عمل دانستہ تھا۔ مجھے لبھا کر چھوڑ دیا تھا۔ مردے پر نوچ لے تھے کہ جاؤ نصبو کے پاس۔۔۔۔ وہاں قوت پرواز نہںی ہو گی مں ہی یاد آؤں گی۔۔۔۔۔۔۔
اور مں نے ذلّت اٹھائی۔۔۔۔۔
تم بھی ذلّت اٹھاؤ۔۔۔۔۔؟
مں نے اسے فرش پر لٹا دیا اور برہنہ کرنے کی کوشش کی۔ اس نے مر ا ہاتھ پکڑ لا ۔
’’کاہ کرتے ہو۔۔۔۔۔‘‘
’’اتارو کپڑے۔‘‘
’’نہںر۔۔۔۔ پلز نہںر۔۔۔۔۔‘‘
’’اتارو۔۔۔۔۔‘‘ مںع نے ایک جھٹکے کے ساتھ اُ سے سایہ سے بے نا ز کر دیا۔
وہ مکمل برہنہ فرش پر پڑی تھی۔۔۔۔۔۔
اس کی آنکھںپ بند تھںم۔۔۔۔۔ وہ آہستہ آہستہ کانپ رہی تھی۔ جسم پسنےر سے بھگ رہا تھا۔
اس کے لب ہلے۔ ’’کمار۔۔۔ کمار۔۔۔۔‘‘
مں گھر سے باہر نکل گاو۔
لال گنج پہنچا۔
درجات کے مکان مںس عزّت کے ساتھ رہ رہا ہوں۔ لڑکاےں مجھ سے گھلی ملی ہں ۔ گھر بھر مریی آسائش کا خا ل رکھتا ہے لکنس درجات اداس ہے۔ وہ اب ہنستا نہں ہے۔ کبھی کبھی ایک پھیتا سی مسکراہٹ ہونٹوں پر نمودار ہو جاتی ہے۔ باتںں اس طرح کرتا ہے جسےے خوش ہے۔۔۔۔۔۔
تم چھوڑے ہوئے مرد ہو درجات۔ تمہں احساس ہونا چاہے۔ کہ مںے ساجی کی زلفوں سے کھلتام ہوں اور تمہںں دودھ مں۔ گری ہوئی مکھی کی طرح نکال پھنکاا ہے۔۔۔۔۔۔؟ تم نے جھانسہ دیا کہ تمہارا خاندان پڑھا لکھا خاندان ہے اور تم لوگ کتا بوں سے بھری الماری رکھتے ہو۔ تم نے ساجی کو شب عروسی مںگ عریاں کاج اور تمہاری نگاہوں کے سامنے ساجی کا کانپتا ہوا برہنہ جسم تھا، پسنےر سے شرابور۔ یہ منظر تمہارے دل پر نقش ہو گا ۔ تمہاری زندگی مںم یہ لمحہ ارتکاز جرم بھی ہے اور آغاز محبت بھی۔ تم نادم ہوئے اور محبت مںت گرفتار بھی۔ ساجی ذللآ ہوئی اور ٹھنڈے بستر مں بدل گئی۔ وہ اسی طرح اپنا احتجاج درج کر سکتی تھی۔ اس نے محسوس کای کہ وہ ننگی کر دینے کی چزن ہے۔۔۔۔!!!
اور مں ۔۔۔۔۔؟
مںر کمار ہوں۔۔۔۔۔۔ ساجی کے جنےر کے لے ایک ضروری بھرم۔۔۔۔۔
وہ اس ہوا کو اپنے پھپھڑںے مںا محسوس کرنا چاہتی ہے جس مںی مںی سانس لتاا ہوں۔ مراا حکم بجا لانے مںر مسرّت محسوس کرتی ہے، مرمے کپڑے دھونا، بستر لگانا، ریزر صاف کرنا، مربے ناخن کترنا۔ وہ چاہتی ہے مںے اس پر بوجھ لادوں۔۔۔۔۔ اور وہ خوشی خوشی سارا کام کرے اور جب مر ی طرف سے کوئی مطالبہ نہںڑ ہوتا۔ مں اس پر کوئی بوجھ نہںب ڈالتا تو اداس ہو جاتی ہے۔ وہ آہستہ آہستہ خود کو مجھ مںی ضم کر رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔ بلکہ ہم دونوں ہی ایک دوسرے مںی ضم ہو رہے ہں اور ییج بات مجھے غلام ہونے کا احساس دلاتی ہے۔ ہم دونوں ہی ایک دوسرے کے غلام ہں ۔ اس کا مطالبہ پورا کرنا مراا فرض ہے۔ مریا فرض ہے کہ اُسے کپڑے دھونے کے لےم کہوں۔۔۔۔ یہ اس کا حکم ہے جو مجھے بجا لانا ہے اور یی وہ بندھن ہے جس سے مںے آزاد ہونا چاہتا ہوں۔ جب کہتا ہوں۔ ’’مرہی بلبل۔۔۔ مر ی ککو۔۔۔۔ مرہی مناا۔۔۔۔۔‘‘ تو خوش ہو جاتی ہے۔ اچھلتی ہے، بھاگتی ہے، بچّوں کی طرح قلقاریاں بھرتی ہے۔۔۔۔۔۔ لکن۔ مرمی سوچ اتنی منفی کوحں ہے؟ مںم اس طرح کواں نہںت سوچتا کہ درجات نے ساجی کو اپنی زندگی جنےر کی آزادی دی ہے اور اس کو خوش دیکھ کر خوش ہے۔ وہ مجھے اس لےج پایر کرتا ہے کہ ساجی مجھے پاار کرتی ہے۔ اس کو وہ ہر چزل عزیز ہے جو ساجی کو عزیز ہے۔ وہ لڑکودں کے بہتر مستقبل کے لے پٹنہ مںخ رہ رہی ہے اور مںز ایک دوست کی طرح تعاون کر رہا ہوں۔ وہ دروپدی کی طرح ہے جس کے دو مرد ہںھ۔ اگر دو مرد کے درمارن کوئی چز۔ مشترک ہے اور وہ دوست کی طرح رہ سکتے ہں تو معاشرے کو کای اعتراض ہے؟ لکنک مںو اس طرح بھی کوےں سوچوں۔۔۔۔؟ کاا مںو اس عورت کے عشق مںک گرفتار ہوں؟ یہ محبت ہے یا شہوت پرستی؟ مںا اس کو ٹارچر کرتا ہوں پھر اس کے ساتھ صحبت کرتا ہوں؟ مرسی سادیت اُس کے لئےھ محرّک ہے اور اس کی مسوچتہ مجھے مزید اذیت کے لےد اُکساتی ہے۔ یہ محبت سے زیادہ نفرت کا رشتہ ہے۔ شاید محبت کی طرح نفرت بھی انسان کو باندھتی ہے۔ وہ اب محبوبہ نہں رہی۔۔۔۔۔ وہ اب اِستعمال ہونے کی چزا ہے۔۔۔۔ مں نے اسے رکھا ہے اپنے استعمال کے لےس۔ کس طرح خوشامد کرتی ہے۔۔۔۔ ابھی مت جاؤ۔۔۔۔۔ کچھ دیر رکو۔۔۔۔۔ کچھ دیر۔۔۔۔۔۔ بس دس منٹ! اس ذرا سے وقفے مںچ وہ عمر بھر کی خوشا۔ں سمٹر لناب چاہتی ہے اور مںچ کساع ہوں کہ اس کی مکمل سپردگی سے الجھن محسوس کرتا ہوں۔ مںا اتنا سکڑا ہوا کولں ہوں۔۔۔۔؟ مجھے کوعں لگتا ہے کہ اس نے مجھے قدں کاٹ ہے۔ مراا المہ یہ ہے کہ مں اس عورت کی قربت مں بھی آزاد نہںی ہوں اور اس سے دور رہ کر بھی آزاد نہںہ ہوں۔ ہم دونوں ہی گرداب مں ہںک۔ وہ اس مں جنا چاہتی ہے۔ مںں اس سے ابھرنا چاہتا ہوں۔ حال دل کوئی چھپا نہں سکتا۔۔۔۔۔ آنکھںا آئنہی ہوتی ہںن۔ درجات کی آنکھوں مںر پہلے ایک مکروہ قسم کی آسودگی ہوا کرتی تھی۔ اب آئنےت کی سطح پر دھند کی ہلکی سی پرت جمی ہوئی ہے۔ شاید درد کی پرتںک اییھ ہی ہوتی ہںت اور مجھے اب اس سے الرجی نہں محسوس ہوتی ہے گرچہ اسی طرح بڑی بڑی باتںں کرتا ہے۔ وہ اب بھی خود کو پٹنہ کالج کا طالب علم بتاتا ہے اور جب کبھی جھن جھن والا کی بچی ہوئی شراب ہاتھ لگتی تو کہتا ہے۔ ’’آپ کے لے ہی خریدی ہے۔‘‘
درجات مر ے ذریعہ ساجی تک پہنچتا ہے۔۔۔۔۔ خود ساجی کے لے وہ ایک جڑ ہے جو موجود نہںک ہو تو ساجی کو کاا فرق پڑے گا لکنا مں موجود نہںے رہوں تو ساجی کو فرق پڑتا ہے۔ مجھے ساجی مںہ اپنی قدریں بکھرتی ہوئی معلوم ہوتی ہںک اور ساجی کو اپنی قدریں مجھ مںا سنورتی ہوئی معلوم ہوتی ہں ۔ محبوب کو جکڑ لاے جائے تو چاہت ختم ہو جاتی ہے۔
دونوں لڑکاجں بھی چپ چپ رہتی ہں۔۔ منصوبہ خود کو پڑھائی مںا غرق رکھتی ہے اور شبنم کچن مںر زیادہ وقت دیین ہے۔ گھر بے رونق لگتا ہے۔ دن تو آ فس مںڑ کٹ جاتا ہے، شام منصوبہ کو پڑھانے بٹھتاہ ہوں لکنن رات بھاری پڑتی ہے، کچھ پڑھنے مںہ بھی دل نہںت لگتا۔
اس کا فون آیا کہ کچھ کتابںں لتاھ آؤں۔ مںک نے کوئی توجہ نہںر دی۔ پٹنہ آیا تو پہلے گھر کا رخ کاک لکنں ہڑتالی چوک پر پہنچ کر بورنگ روڈ کی طرف مڑ گاو اور کچھ دیر مںھ ساجی کے فلٹت مںک موجود تھا اور مجھے حرےت تھی۔ مںد اس طرف آنا نہں چاہتا تھا۔ مرنے قدم خود بہ خود ادھر مڑ گئے تھے۔ شاید مںف نصبا کا سامنا نہںر کرنا چاہتا تھا۔ وہ ڈاکٹر کے یہاں چلنے پر اصرار کر سکتی تھی۔
اس بار ساجی پژمردہ سی نہںں لگی۔ اس کے بال کھلے ہوئے تھے۔ وہ گلابی رنگ کی رییما ساری مں تھی جو مںھ نے اُسے پوجا کے موقع پر گفٹ کا تھا۔ مجھے دیکھتے ہی مسکرائی۔ مںم صوفے پر بٹھس کر جوتے کے تسمے کھولنے لگا۔
ساجی کا جسم قوسنس سا بناتا ہوا مجھ پر جھک آیا۔ اس نے دونوں ہاتھوں سے مر ے چہرے کا کٹورہ سا بنایا اور لب چوم لےھ۔
’’چائے پوا گے؟‘‘
مں نے اثبات مں سر ہلایا۔
’’ابھی لائی۔‘‘
ایک بار پھر چوما اور چوکڑی بھرتی ہوئی کچن کی طرف چلی گئی۔
رینو سے معلوم ہوا کہ ’’ممی کا آج ورت ہے۔‘‘
ساجی چائے لے کر آئی تو مں‘ نے پوچھا۔
’’کس بات کا ورت؟‘‘
’’مں سمباری کرتی ہوں۔‘‘
’’سمباری تو شوک کے لےا کرتے ہںے کہ اچھا پتی ملے۔‘‘
’’مںب شو کی ارادھنا بچپن سے کرتی آئی ہوں۔‘‘
جی مں آیا کہہ دوں۔ ’’اسی لےا پتی کو چھوڑ کر یہاں بیھو ہو۔۔۔۔۔‘‘ لکنر اتنا خر دماغ بھی نہںش ہوں۔ پھر بھی مںت نے طنز کاھ۔
’’شوھ نے خوش ہو کر تمہںی دو دو پتی دیے۔‘‘
وہ خاموش رہی۔
’’ورت کس وقت ٹوٹے گا؟‘‘
’’شام کو سورج ڈھلتے ہی۔‘‘
گھڑی دییھت۔ پانچ بجے تھے۔
’’تم نے کچھ غور نہںھ کا ۔۔۔۔؟ کوئی تبدییں۔۔۔۔؟‘‘
’’کا ۔۔۔۔۔؟‘‘
’’صوفے کی ترتب۔ کی۔ لگی؟‘‘
مں نے دیکھا صوفہ اتر دکھن بچھا ہوا تھا۔ پہلے ترتبی پورب پچھم تھی۔ ٹی وی بھی اتری کنارے پر رکھی ہوئی تھی۔
’’تمہںن پسند نہں ہے تو بدل دوں۔‘‘
’’پسند ہے؟‘‘
یہ کرسی یہاں پر رکھی ہے۔ یہاں سے بٹھی کر تمہںچ دیکھوں گی۔‘‘
’’کاس دیکھو گی؟‘‘
’’بس تمہںد دیکھوں گی۔ تمہںل دیکھنا اچھا لگتا ہے۔‘‘
’’مجھے کسی کا اس طرح گھورنا اچھا نہںی لگتا۔‘‘
’’مجھے اچھا لگتا ہے۔ تم گھر مںح چلتے پھرتے ہو تو اچھا لگتا ہے۔ تمہارا داڑھی بنانا اچھا لگتا ہے۔۔۔۔۔‘‘
مجھے اکتاہٹ ہونے لگی۔
’’تمہارے ساتھ صوفے پر بٹھھ کر چائے پنار اور ٹی وی دیکھنا اچھا لگتا ہے۔‘‘
جی مںہ آیا پوچھوں۔ ’’ بلوز کے بٹن کھولنا اچھا لگتا ہے۔۔۔۔۔۔۔؟‘‘
’’کہںا گھومنے چلو نا۔۔۔۔؟‘‘
’’کہاں جاؤ گی؟‘‘
’’کہںں بھی۔۔۔۔۔۔‘‘
’’پھر کبھی۔‘‘
’’نہں ابھی چلو۔ بہت دنوں سے بند بند ہوں۔۔۔۔ کہںگ دور چلتے ہں ۔ کہںے بںھ گے۔۔۔۔ باتںن کریں گے۔ کسی ریستوراں مںو کافی پئںے گے۔‘‘
’’آج تمہارا ورت ہے۔ پہلے ورت کرو گی یا سرن کرنے جاؤ گی؟‘‘
وہ چپ ہو گئی۔
’’تم لڑکورں کے ساتھ باہر گھوم لا کرو یا درجات آئںس تو اُن کے ساتھ جاؤ۔‘‘
’’مں صرف تمہارے ساتھ جاؤں گی۔‘‘
مجھے الجھن ہوئی۔۔۔۔ اور خود پر حررت بھی۔ یہ عورت مر ی عبادت کرتی ہے اور مںن الجھن محسوس کرتا ہوں۔
وہ مجھے پھر نہار رہی تھی۔۔۔۔۔ اور وہی انداز۔۔۔ رخسار پر ہتھین کو ٹکا لاے اور نظریں مرکوز۔۔۔۔۔۔
مںر ساجی کی آنکھں۔ اپنی پشت پر محسوس کر رہا ہوں۔ مںت جانتا ہوں اُس کی نظریں مرکے لےو محبت سے لبریز ہوتی ہںں۔ وہ مشکل سے ہی مجھ پر کوئی اور نظر ڈال سکتی ہے لکنم مںر مڑ کر اس کی طرف نہں دیکھتا۔ مںی سامنے دیوار پر آویزاں اس فریم کی طرف دیکھتا ہوں جس مںر پرم ہنس رام کرشن کی تصویر ہے۔ ساجی یہ تصویر گاؤں سے لے کر آئی ہے۔ تصویر مںھ پرم ہنس کے ہاتھ آشریواد کی مدرا مںر اٹھے ہوئے ہںل۔۔۔۔۔ ساجی مسلسل گھور رہی ہے۔ پھر قریب آتی ہے۔۔۔۔۔ مرھے بال سہلاتی ہے۔۔۔۔۔ آہستہ سے مجھے چومتی ہے۔۔۔۔۔ لمس مںں حدّت نہںی ہے۔۔۔۔۔۔۔ مجھے کوفت کا احساس ہوتا ہے۔
اس نے پشاانی چومی تو غصّہ آ گا ۔ مںی جسےا معصوم بچّہ ہوں۔ اس کی گود مںی پڑا ہوا۔۔۔۔۔ اس نے سر سہلایا۔۔۔۔ پھر ناخن دیکھے۔۔۔۔۔ ناخن بڑھ گئے ہںا۔۔۔۔ لاؤ کاٹ دوں۔۔۔۔۔! ابھی پوچھے گی۔ ’’کاب سوچ رہے ہو؟‘‘ وہ مجھے مر ی سوچ مںک بھی تنہا چھوڑنا نہںھ چاہتی۔
اور اس نے پوچھا۔
’’کاا سوچ رہے ہو؟‘‘
’’سوچتا ہوں تمہاری ایک ٹانگ اوپر اٹھا دوں۔‘‘
’’اب کچھ نہںت بولوں گی۔‘‘
’’ہاں۔۔۔ ہاں۔۔۔۔ مت بولو۔۔۔۔ تم مجھے کچھ سوچنے بھی نہں دییخ ہو؟ کار سوچ رہے ہو۔۔۔۔؟ کا سوچ رہے ہو۔۔۔؟ تمہں کاص مطلب کا سوچ رہا ہوں۔۔۔؟ مںے نے چخ کر کہا۔ وہ سہم گئی۔ منو اور رینو نے کمرے سے جھانک کر دیکھا۔ ساجی سسکاخں بھرتی ہوئی کمرے مں چلی گئی۔
مںا نے سگریٹ سلگائی اور کمرے مںس ٹہلنے لگا۔۔۔۔ مں یہاں کویں چلا آیا۔۔۔۔؟ مر ا گھر کہرے مںس ڈوب رہا ہے۔۔۔۔!
’’ممی کچھ کھا لے چ ۔۔۔۔!‘‘ رینو کی آواز آئی۔
مجھے ندامت محسوس ہوئی۔۔۔۔ کوجں ڈانٹ دیا۔۔۔ وہ اُپواس مں ہے اور مرھے لےا ہی ہے۔ مںو نے رینو کو پکارا۔ وہ سہمی سہمی سی سامنے کھڑی ہو گئی۔ وہ اس بلّی کے ننھے سے بچّے کی طرح لگ رہی تھی جس کا سامنا کتّے سے ہو گای ہو۔
’’ممی کے کھانے کے لےے کچھ ہے؟‘‘ مںی نے پوچھا۔
’’دن کا چاول ہے اور سبزی۔‘‘
’’چلو کچھ لے آتے ہں ۔‘‘
رینو کو لے کر بازار گاک۔ مٹھائاکں اور پھل خریدے۔ سموسے بھی پک کروائے۔ چار عدد ڈاب بھی لاے۔ گھر آیا تو ساجی کے آنسو خشک ہو گئے تھے لکنا اپنے کمرے مں بت بنی پلنگ پر بیھ۔ ہوئی تھی۔
’’چلو۔۔۔۔ روزہ کھولو۔ وقت ہو گاب ہے۔‘‘
وہ اسی طرح خاموش بیھوق رہی۔ مجھے کوفت محسوس ہونے لگی، جی مںن آیا گھر چلا جاؤں۔ رینو کو پکارا۔
’’رینو بٹےپ۔۔۔۔۔۔ ایک ایک ڈاب تم لوگ بھی لے لو اور ممی کے لےھ پھل اور سموسے لے آؤ۔‘‘
رینو ناشتے کی پلٹو رکھ کر چلی گئی۔
’’لو۔۔۔۔۔!‘‘ مںا نے ڈاب اس کے ہاتھوں مںی دینے کی کوشش کی۔
وہ چپ رہی۔
’’پلز۔۔۔۔۔۔ ساجی۔۔۔۔۔۔‘‘
پھر بھی چپ۔۔۔۔۔
مںر غصّے مں۔ اٹھا اور باہر نکل گای۔۔۔۔۔ اتنی خوشامد۔۔۔۔؟ اب دس دن بعد آؤں گا۔ مجھے اپنا گھر بھی دیکھنا چاہےی۔ مںا تز تزش قدموں سے آؤٹوا سٹنڈآ کی طرف بڑھنے لگا۔ اچانک منوچ دوڑتی ہوئی آئی۔
’’انکل۔۔۔۔ ممی بے ہوش ہو گئی ہں ۔‘‘
’’کسےل بے ہوش ہو گئںے؟‘‘
’’آپ جب باہر نکلے تو ممی بھی گر کر بے ہوش ہو گئںں۔‘‘
’’چلےج نا انکل۔۔۔۔۔!‘‘ منو مرےا ہاتھ پکڑ کر رونے لگی۔ راہ گرا رک کر دیکھنے لگے۔
منو کے ساتھ واپس ہوا۔ وہ چاروں خانے چت بستر پر پڑی تھی۔ رینو سرہانے بیھنے سر سہلا رہی تھی۔ یہ سب نخرہ ہے۔ مجھے روکنے کے بہانے۔۔۔۔ مں نے نفرت سے سوچا۔
’’کاے ہوا ممی کو؟‘‘ مں نے رینو سے پوچھا۔
’’کاے پتا انکل؟ آپ گئے اور ممی بے ہوش ہو گئں‘۔
پاپا کو فون کر دو۔ مںگ انہں؟ لے کر ہسپتال جاتا ہوں۔‘‘
مںپ ایمبولنس کا نمبر ملانے لگا تو ساجی کے جسم مںر جنبش ہوئی۔ اس کے کراہنے کی آواز کمرے مں گونجی تو رینو چلّائی۔
’’انکل۔۔۔۔ ممی ہوش مںن آ رہی ہںگ۔‘‘
مںا نے ساجی کی پشاجنی پر ہاتھ رکھا۔ اس کی پلکوں مں جنبش ہوئی۔ اس نے آنکںی’ کھولں ۔
’’روزہ کھولو۔‘‘ اسے سہارا دے کر بٹھایا۔
رینو نے ڈاب اور ناشتے کی پلٹس آگے بڑھائی۔ ساجی نے مرچی طرف دیکھا۔
’’پوز۔۔۔۔۔‘‘ مںھ نے مسکراتے ہوئے کہا۔
اس نے ڈاب اپنے ہاتھوں مں۔ لے لا‘۔ پھر ایک سپ لی اور مجھ سے اشارے مں پنےو کے لےے کہا۔
ہم ایک ہی ڈاب سے پنے لگے۔
منون ایک بار کمرے مںی آئی اور چلی گئی۔
’’کھانا کاا کھاؤ گے؟‘‘
’’کھانا تم کھا لناا۔ مر؟ا ابھی جانا ضروری ہے۔‘‘
’’رات کو مت جاؤ پلز‘۔۔۔۔۔‘‘
مںو چپ رہا۔
’’رات کو اکلے ڈر لگتا ہے کمار۔۔۔۔۔ پلزہ!مت جاؤ۔‘‘
’’مںت لال گنج مںا رہتا ہوں تو تم کسےھ رہتی ہو؟‘‘
’’صبر رہتا ہے کہ تم یہاں نہںا ہو لکنز اس شہر مںو رہتے ہو تو رات کاٹے نہںن کٹتی ہے۔‘‘
’’آج کاٹ لو۔۔۔۔۔‘‘ مں مسکرایا۔
’’نہںک کمار۔۔۔۔ پلزہ۔۔۔۔ پلز ۔۔۔ رک جاؤ۔‘‘ اس کی آنکھوں سے آنسو رواں ہو گئے۔
’’نہںے جاؤں گا لکنل رونا دھونا بند کرو۔‘‘ مرہے لہجے مںا بزےاری تھی۔ رات آئی اور وحشت کے دروازے کھلتے گئے۔۔۔۔۔ شہوت کی وہی گراں باری۔ دنا ئے ما فہات سے بے خبر۔۔۔۔۔
کای ہے ساجی مںت جو مرےی یہ حالت ہو جاتی ہے۔۔۔۔۔۔۔؟ کاآ نجات کی کوئی راہ نہںس ہے؟
کائ ساجی درجات کے پاس واپس نہںہ جا سکتی۔۔۔۔؟ یہ نا ممکن ہے۔ ساجی اپنی کشتی جلا چکی ہے۔۔۔۔۔ وہ آزاد نہں ہے۔ وہ مرکی قدر مںی ہے۔ درجات نے مجھے موقع فراہم کات۔۔۔۔۔ وہ ایسا کر سکتا تھا۔۔۔۔۔ وہ اس کا مالک تھا لکنف اب مں۔ مالک ہوں۔ وہ مجھے اس لےل نہں۔ چھوڑ سکتی کہ آسودہ ہے بلکہ اس لےف کہ محفوظ نہںں ہے۔ عدم تحفظ کا احساس ناسودگی کے احساس پر حاوی رہتا ہے۔ محبت کی چاہت غلامی کی چاہت نہںی ہے۔ محبت تو آزاد کرتی ہے۔ شہوت غلام بناتی ہے۔ اس غلامی سے نجات کی صورت کای ہے۔۔۔۔۔؟ کوئی صورت نہںہ ہے۔ مجھے نصبج کے پاس ہونا چاہےے۔
صبح سویرے نصبی کے آنگن مں پر کٹے پرندے کی طرح گرتا ہوں۔ نصب خوش ہوتی ہے کہ سرتاج گھر آ گئے اور فکر مند ہوتی ہے کہ چہرہ کہرے مںب ڈوبا ہوا ہے۔۔۔۔؟
مںب نصبا کو سمجھاتا ہوں کہ یہ وقتی ہے لکنچ رات آتی ہے تو نصب کی ہمزاد سرگوشا ں کرتی ہے۔۔۔۔۔۔ ’’کچھ تو ہے کہ یہ شخص تمہاری طرف رجوع نہں ہوتا۔۔۔۔؟ اس کی بانہں ڈھی ت ہںو۔۔۔۔ سانسںع سرد ہںں۔۔۔۔۔۔ آنکھںس تمہں دیکھ کر نہںے مسکراتں۔۔۔۔۔ ہونٹ نہںد تھرتھراتے۔۔۔۔۔ شب وصل کی زلفںں اس سے نہں سنورتںر۔۔۔۔۔؟
اور نصبت مجھ سے کہتی ہے۔
’’کسی حکمک کو دکھا لےہں ۔‘‘
مںر زور سے چختا ہوں۔
’’تجھے ہر وقت شوہر مںک ایک مرد چاہے ۔۔۔۔۔؟ کاک نا مرد سمجھتی ہے مجھے؟ کار حکمن مرای نا مردانگی کا علاج کرے گا؟‘‘
نصبے سہم گئی۔ تکے مںہ منھ چھپا کر سسکالں بھرنے لگی۔
عورت ہمشہج آنسوؤں مں کوہں اسکپ کرتی ہے؟ نصبی کو چاہےن تھا کہ اسی شدّت سے مجھ پر جھپٹتی۔
’’وہ کون چڑیل ہے جو تریا خون چوس رہی ہے؟ ابھی لال گنج جاؤں گی اور اس حرّافہ کی بوٹی بوٹی الگ کر دوں گی۔‘‘
لکنح نصب آنسو بہاتی رہی اور خدا کے آگے گڑگڑاتی رہی۔
’’یا خدا۔۔۔۔۔ رحم کر۔۔۔۔۔ انہںخ کات ہو گاھ ہے مراے معبود۔۔۔۔۔؟‘‘
معبود نے رسّی ڈھلک کر دی ہے نصبم۔۔۔۔۔۔ مہدی کی جگہ محبوب کی گلووں مںا جنگلی گھانس اگ آئی ہے۔ محبوب کا مشکزاہ خالی ہے اور چڑگ کے لمبے درختوں کا سایہ ہے۔
مںر نصب کو منانے کی کوشش کرتا ہوں۔ وہ مان جاتی ہے، اس کے پاس چارہ بھی کاب ہے۔ اس کو احساس ہے کہ مجھے کھو رہی ہے۔ امدا کی موہوم سی کرن بھی تھام لے گی کہ شاید نحوست کے بادل چھٹ جائںت۔
مںن نصبچ کے آ نسو پونچھتا ہوں۔ اسے لپٹائے ہوئے بستر تک لاتا ہوں لکنش ایسے کلمات نہںی کہتا۔۔۔۔۔ مربی جان۔۔۔۔ مر ی بلبل۔۔۔۔ مرںی ککو۔۔۔۔۔ مںن یہ بات دہراتا ہوں کہ مجھے ذہنی تناؤ ہے لکن نصبی کچھ کہتی نہںچ ہے۔ وہ مرہے سنےک سے لگ کر سونے کی کوشش کرتی ہے۔ مںک دل ہی دل مںن عہد کرتا ہوں کہ ساجی سے کچھ دنوں کے وقفے پر ملوں گا۔۔۔۔۔ دس دن پر۔۔۔۔ پہلے نصبہ کے پاس آؤں گا تب ساجی سے ملوں گا۔ اس طرح مںا ساجی کے اثر کو زائل کر سکتا ہوں۔۔۔۔۔
اور مں سوچنے پر مجبور ہوں۔۔۔۔ عورت خود اپنے لے دوزخ تاور کرتی ہے۔ مرد اُس کا حصّہ ہونا نہں چاہتا۔ عو رت مرد کی پسلی مں ضم ہو کر اپنی تکملم کا احساس چاہتی ہے لکن مرد اس نکالے ہوئے حصّے کو قبول کرنے مںم ہمشہم ہچکچاتا ہے۔ ساجی اپنی کشتی جلا چکی ہے اور مجھے بندھن قبول نہں ہے۔ مرشی آزادی سلب ہوتی جا رہی ہے۔ مںل دو ٹکڑوں مںم بٹ رہا ہوں لکنم پہلے کو ں نہں سوچا تھا۔۔۔۔۔؟ اس وقت مجھے کای ہو گار تھا۔۔۔۔۔ تب جبلّت عقل پر حاوی تھی اور اب عقل جبلّت پر حاوی ہے۔ مر ے ساتھ اب شعور ہے۔ مںا دماغ سے کام لے رہا ہوں۔ دماغ کہہ رہا ہے چھوڑو۔۔۔۔ نکلو گرداب سے۔۔۔۔۔ اس وقت مر ی خوشی مستقبل مںا تھی کہ ساجی کے ساتھ شہر محبت بساؤں گا لکنغ شہر محبت مں دھواں آ کر ٹھہر گا ۔ مررا انتخاب قدب خانے کا انتخاب تھا۔ آج مںم نصب کے ساتھ پھر سے آزادی اور سکون کے وہ دنڈ ھونڈ رہا ہوں اور ساجی کمار کی دناھ مںر جناب چاہتی ہے جس کا وجود نہںہ ہے۔۔۔۔ وہ چمکارے گی۔۔۔۔ پا ر کرے گی۔۔۔۔۔ خوشامدیں کرے گی۔۔۔۔ ابھی مت جاؤ۔۔۔۔ کچھ دیر رکو۔۔۔۔ کچھ دیر۔۔۔۔ کہںے گھومنے چلتے ہںت۔۔۔۔ کچھ باتںب کریں گے۔۔۔۔۔ کہںو بںھہ گے۔۔۔۔۔ اپنے آپ مںب کس قدر خالی۔۔۔۔ کس قدر ویران۔۔۔۔ کس قدر غرہ محفوظ۔۔۔۔ اور جب یہ خالی پن بھرے گا۔۔۔۔۔؟ کان مںر اس کے خالی پن کو بھر رہا ہوں۔۔۔۔؟ مں خود خالی ہوں۔۔۔۔ ایک خالی پا۔لہ دوسرے خالی پارلے پر اوندھا رکھا ہوا۔۔۔۔! ہم دونوں ہی ایک دوسرے کے اکلےا پن کو ڈھکنے کی کوشش کرتے ہںا۔ اکلےر پن سے ہمارا رشتہ خوف کا رشتہ ہے۔ ہم جسم سے کھلتے ہںخ اور اسے ختم کرنا چاہتے ہںا لکنہ اکلای پن داخلت مںہ اگتا ہے۔
پاہلے کی شکل مںم اس کی گول پاللہ ناف۔۔۔۔۔؟؟
اور پاہلے کی شکل مں ہوس سے تھرتھراتے مرتے ہونٹ۔۔۔!
دوسرے دن لال گنج کے لےا روانہ ہونے لگا تو نصبو نے مرنے بازو پر امام ضامن باندھا۔
’’وہاں پہنچ کر خرہات کر دیےس گا۔‘‘
مںم نے نصبک کی آنکھوں مںے جھانکا۔۔۔۔۔ مجازی خدا کی خرا و عافت کی دعا مانگتی ہوئی آنکھوں کی پر مقدّس چلمن۔۔۔۔۔ مںف پلکوں پر ستارے ثبت کرتا ہوں۔
کاو مںئ جہاز کا پنچھی ہوں کہ لوٹ کر جہاز پر آتا ہوں۔۔۔۔؟
راستے مںی امام ضامن کھول کر جبپ مںں رکھ لاآ اور لال گنج کی بس پکڑنے کی بجائے ساجی کے فلٹا پہنچ گاھ۔
ساجی صرف ایک ساری مں تھی۔ مںی ساجی کو گھور رہا تھا۔
’’نہانے جا رہی تھی کہ تم آ گئے۔‘‘
اس نے سایہ بھی نہںھ پہنا تھا اور بلوز بھی نہں ۔ اس کے بال کھلے تھے۔ ساری کی باریک تہوں سے اس کا جسم جھانک رہا تھا۔
’’یہ کون سا اسٹائل ہے؟‘‘
’’تمہاری داسی ہوں۔۔۔۔ داسی کے اسٹائل مں ہوں۔‘‘
تو آؤ اپنے سوامی کی ٹانگوں کے بچ۔۔۔۔۔۔
مں نے اسے بانہوں مںی کھنچ۔ لا ۔ مجھ پر نفرت کا غلبہ تھا۔ گرداب مں پھنسے رہنے کا احساس اپنے تئںں نفرت جگا رہا تھا اور اس کے تئں بھی۔۔۔۔۔ کینس عورت ہے یہ ہمشہ سپردگی کے عالم مںف ہوتی ہے۔۔۔۔۔ اور مںن۔۔۔۔؟ مںہ بھی ایک سؤر ہوں۔۔۔۔۔ اپنے آپ سے عہد کات تھا کہ لمبے وقفے پر آؤں گا۔۔۔۔ لکنہ مںی آ گای۔۔۔۔ مں۔ اسی کام کے لےہ آتا ہوں۔۔۔۔۔ ابھی یہ عورت ٹانگںا پسار دے گی اور مںن کھونٹی پر ٹنگ جاؤں گا۔۔۔۔؟ مںل زندگی بھر گرداب سے باہر نہں آ سکتا۔۔۔۔۔!
دفعتاً مجھے محسوس ہوا کہ ایک ریپسٹ کی طرح مںں نے ساجی کو دبوچ رکھا ہے۔ اس کے ہونٹ وا تھے اور آنکھںک ادھ کھلی۔۔۔۔۔ مجھے جسم چاہےا۔۔۔۔ اسے بھی جسم چاہئےپ۔۔۔۔ بچھ جاؤ ٹانگوں کے بچی۔۔۔۔۔
جنگلی گھاس کی مہک تزم ہونے لگی۔۔۔۔۔۔۔ ہم دونوں ہی جڑ ہو گئے۔۔۔۔۔ وہاں سے ہل نہںہ سکے۔۔۔۔۔ وہ زمنم پر لٹک جانا چاہتی تھی۔ اس کے لمبے بال فرش کو چھو رہے تھے۔ مںں گھٹنوں کے بل جھکا۔۔۔۔۔ وہ فرش پر لٹے گئی۔۔۔۔۔۔ مںے آزاد ہوں۔۔۔۔۔ مںی جس طرح چاہوں اس کے جسم سے کھلٹ سکتا ہوں۔۔۔۔۔ اور مر۔ی آزادی نے مجھے گرداب مں ڈبو رکھا ہے۔ گرداب سے باہر مںہ کچھ بھی نہںں ہوں۔۔۔۔۔ مر ا وجود صفر ہو جاتا ہے۔۔۔۔ مر ی طاقت ختم ہو جاتی ہے۔۔۔۔ ایک پر کٹا ہوا پرندہ۔۔۔۔۔۔۔ مںب ساجی کو ایک مخصوص حالت مںو ہی دبوچے رہنا چاہتا ہوں۔ اس کے وجود سے شہوت کی دھار پھوٹتی ہے۔ شہوت کا ایک بہاؤ ہے۔۔۔۔۔ اس سے مر ی طرف اور مجھ سے اس کی طرف۔۔۔۔۔ مں کنڈیشنڈ ہو گا ہوں۔ مرتی عمر گھٹ رہی ہے۔ یہ عورت مجھے مار دے گی۔
مںڈ نے نفرت سے اس کی طرف دیکھا اور اس کے پہلو سے اٹھ گا ۔ ساجی بھی اٹھ گئی۔ اس نے غسل خانے کا رخ کا اور مںا گھر سے باہر نکل گار۔۔۔۔ مںی ساجی سے دور چلا جانا چاہتا تھا۔
مںی لال گنج پہنچا۔
درجات مجھے بماڈر نظر آتا ہے۔
درجات کے چہرے کو غور سے دیکھتا ہوں۔ اندر کی طرف مڑے ہوئے کان۔ ایسے کان غلاموں کے ہوتے ہںو۔ درجات نے آزادی کی ضرورت کبھی محسوس نہںس کی ہو گی لکنآ ساجی کو آزادی دی ہے۔۔۔۔۔ مںے درجات کو سلام کرتا ہوں کہ اس نے ایک عورت سے محبت کی اور اس کو اس کی زندگی جنے کا حق دیا۔ درجات نے مثال پشر کی ہے کہ محبت قبضہ نہںم ہے۔ محبت آزادی دییا ہے۔ محبت سر پر تاج رکھتی ہے اور محبت مصلوب کرتی ہے، شہوت غلامی دیین ہے۔ شہوت کا رشتہ غلامی کا رشتہ ہے۔۔۔۔۔ مر ی شہوت پرستی کا انجام کا ہے؟ زندگی بھر اس عورت کی غلامی۔۔۔۔؟
کاو کہتے ہںا ٹر۔و کے پتّے۔۔۔۔؟
مںو نے غسل کاج۔ خوشبو لگائی۔ ٹرکو کارڈ پر بھی خوشبو کا چھڑکاؤ کاو اور مصلّے پر بٹھر گاا۔ ٹراو کی گدّی ہاتھ مںت لی۔ آنکھںت بند کںپ، حواس خمسہ کو اندرون مںی مرتکز کاا اور بہ آواز بلند پوچھا۔
’’علم و آگہی کی الوہی طاقت۔۔۔۔۔ بتا گرداب سے نجات کا راستہ کاو ہے۔۔۔۔؟‘‘
آنکھ بند کر کے ایک کارڈ کھنچاو۔
آرکند۔۔۔۔ ڈیتھ۔
ساجی کی موت۔۔۔۔۔؟
مںک جسےگ سکتے مں تھا۔۔۔۔۔ موت آخر کس طرح۔۔۔۔؟
دوسرا کارڈ غرقاب کا اشاریہ تھا۔
مںس نے ایک اور کارڈ کھنچا ۔ آرکنّ دی ڈیول۔
بکواس۔۔۔۔ ایسا کچھ نہں ہو گا۔
اسی دن خبر ملی کہ مرچا تبادلہ پٹنہ ہو گاا ہے۔ مں خوش ہوا۔ اب گھر پر وقت دے سکتا ہوں۔۔۔۔۔ نصب۔ کی شکایت دور ہو گی۔۔۔۔۔ اور ساجی۔۔۔۔؟ ٹررو کا ڈیول مسکراتا ہے۔
مںج پٹنہ پہنچا تو نصبص گھر پر نہں تھی لکن فروزی موجود تھی۔ معلوم ہوا چوری کے الزام مںت پولسگ اس کے ماتں کو پکڑ کر لے گئی۔ فروزی حاملہ بھی معلوم ہو رہی تھی۔ نصبہ کے بارے مں بتایا کہ ہائی کورٹ والے مولانا سے ملنے مزار پر گئی ہے۔ مولانا نے بتایا ہے کہ مجھ پر جن ہے۔۔۔۔۔ می ر بوا مولانا کو لے کر گھر پر آئی تھںا۔ مولانا نے مر ا کرتا ناپا اور۔۔۔۔۔۔۔
مں ہنسنے لگا۔ مجھے اس طرح ہنستے ہوئے دیکھ کر فروزی ڈر گئی۔ اس نے سمجھا جن ہنس رہا ہے۔ تب مںے نے زور کا قہقہہ لگایا۔ فروزی ’’اللہ جی‘‘ کہتی ہوئی گھر سے باہر بھاگی۔
مںر نصبں کا بے چیر سے انتظار کر رہا تھا۔ سی اور کیجھ بھی اسکول سے لوٹے نہںں تھے۔
نصبے فکر مند ہو گی۔ اسے ین ل ہے مجھے کوئی آسبک لگ گاو ہے۔ وہ مزار مزار دوڑ رہی ہے لکن مںھ حر ت انگزآ طور پر پر سکون تھا۔ شاید پٹنہ تبادلے کا اثر ہے یا ٹر و کے ڈیتھ کارڈ کا بھی نفسازتی اثر ہو سکتا ہے۔ مںر ایسا محسوس کر رہا تھا کہ گرداب سے باہر نکل رہا ہوں۔ مجھے ساجی سے بھی ملنے کی کوئی بے چیرد نہںو تھی۔ نصبا کو مںس پٹنہ آنے کی خوش خبری سنانا چاہتا تھا اور سکون سے گھر مں رہنا چاہتا تھا۔
نصب آئی تو مجھے دیکھ کر چونک اٹھی۔ اس کے ساتھ سیکی اور کیتی بھی آئے اور پچھے پچھے فروزی بھی۔
’’ایک خوش خبری ہے۔‘‘ مں نے نصبر کے گالوں مں چٹکی لی۔
’’کیے خوش خبری؟‘‘ اس کا چہرہ کھل اٹھا۔ مر ا یہ رویّہ اس کے لے۔ غرا متوقع تھا۔
’’پہلے ایک بوسہ۔۔۔ پھر خوش خبری۔‘‘ مںھ نے نصبں کو اپنی بانہوں مں بھر لات اور پلکوں پر ہونٹ ثبت کر دیے۔
’’اب بتایئے؟‘‘ نصبی ہنستی ہوئی بولی۔
’’مر ا تبادلہ پٹنہ ہو گاے ہے۔‘‘
’’ارے واہ۔۔۔۔۔!‘‘ نصب اچھل پڑی۔ سیہو اور کینہ بھی خوشی سے تالا’ں بجانے لگے۔
’’یہ سب تعویذ کا اثر ہے۔‘‘ نصبت نے پرس سے تعویذ نکالا۔
’’کسا تعویذ؟‘‘
’’کل مولانا صاحب کے پاس گئی تھی۔ انہوں نے ناد علی کا نقش دیا۔ کہنے لگے۔ سب مشکل آسان ہو گی۔ دیےھ ۔ آپ کا ٹرانسفر بھی ہو گاے اور ماشاء اللہ آپ کا چہرہ بھی کھلا ہوا لگ رہا ہے۔‘‘
’’تعویذ سے کچھ نہںا ہوتا۔ اس چکّر مںی مت پڑو۔ بس دفتری الجھن تھی۔ الجھن ختم ہوئی تو سب نارمل ہو گال۔۔۔۔۔‘‘
’’خدا کا شکر ہے۔‘‘
نصبھ نے شکرانے کی نماز ادا کی۔
مںب حر ان تھا۔ کا واقعی راوی چنھ لکھتا ہے؟ زیادہ حرست اس بات پر تھی کہ ساجی کی یاد بالکل نہں آ رہی تھی۔ ایسا لگتا تھا اس کا مر ی زندگی مںت کوئی وجود نہںی ہے۔ اس دوران اس کو فون بھی نہںا کا تھا اور اس کی بھی کوئی مس کال موصول نہںں ہوئی۔ مجھے اس بات کی کسک ضرور تھی کہ اس نے مس کال کوصں نہںد دی۔۔۔۔۔۔؟
دو دن بعد مںی ساجی سے ملنے گاب۔ درجات دونوں لڑکومں کو لے کر آیا ہوا تھا۔ ساجی کا بھائی بھی وہاں موجود تھا۔ مںن نے خوشی کا اظہار کا ۔
’’واہ۔۔۔۔۔ گھر بھر موجود ہے۔‘‘
’’آپ کی کمی تھی۔‘‘ درجات مسکرایا۔
’’آپ کدھر آئے؟‘‘ مںی نے ساجی کے بھائی سے پوچھا۔
’’آپ کو بلانے آیا ہوں۔‘‘
’’کس لے بھئی؟‘‘ مں مسکرایا۔
’’بٹال کی شادی ہے۔ آپ کا آشرکواد ضروری ہے۔‘‘
’’کون سی بٹای؟ ان کی والی؟‘‘ مںو نے درجات کی طرف اشارہ کا ۔
’’جی۔۔۔۔۔‘‘ ساجی کا بھائی مسکرایا۔
’’واہ۔۔۔۔۔ اتنی بڑی ہو گئی؟‘‘
’’گاؤں مںل تو شادی کم عمر مںا ہو جاتی ہے۔‘‘ساجی بولی۔
’’جسےں آپ کی ہو گئی تھی۔‘‘ ساجی جھنپ‘ گئی۔۔۔۔۔۔
’’آپ تھے کہاں اور فون بھی نہںگ کا ؟‘‘ ساجی نے شکایت کی۔
’’آپ کہاں تھں آپ نے بھی فون نہںب کای؟‘‘
’’ممی فون کہاں سے کرتںے؟ فون ہی گم ہو گای تھا۔‘‘ رینو نے بتایا۔
معلوم ہوا کہ ساجی کرانے کی دکان پر فون بھول کر آ گئی تھی۔ آج سودا لانے گئی تو دکان دار نے واپس کاگ۔ مر ے تبادلے کی سب کو خوشی ہوئی۔ ساجی نے وعدہ لار کہ مںا شام اس کے ساتھ گذاروں گا اور دن مں لنچ بھی ساتھ کروں گا۔
مںر سوچ رہا تھا۔ ساجی کس طرح مرے گی۔۔۔۔۔؟ پانی مںی ڈوب کر۔۔۔؟
مجھے حروت ہوئی کہ ٹرسو کارڈ کی پشن گوئی پر اتنا ین۔۔ کوسں ہے؟ یہ ساجی کے لےھ مر ا ڈیتھ وش ہے۔۔۔۔ مں۔ آزادی کا خواہش مند ہوں یا اس کی موت کا۔۔۔۔۔؟ مرئے لا شعور نے ڈیتھ کارڈ پر انگلی رکھوائی ہے۔
ساجی کے بھائی نے مجھے شادی کا دعوت نامہ دیا۔
’’آپ ضرور آئںی گے۔ یہ لوگ تو مراے ساتھ جائںا گی۔ آپ درجات جی کے ساتھ آ جائے گا۔‘‘
مں دعوت نامہ پڑھنے لگا۔
’’چھٹھ نزدیک ہے۔ آپ چھٹھ کے بعد شادی کرتے۔‘‘
’’مہورت نکل آیا تو سوچا ہاتھ پلےا کر دوں۔ چھٹھ مںھ گونا کر دوں گا۔‘‘
’’درجات کب جا رہے ہں۔؟‘‘ مں نے پوچھا۔
’’یہ کچھ دن پہلے آئں گے۔‘‘
ارے۔۔۔۔ تو مںب اتنا قبل آ کر کا کروں گا؟‘‘
’’نہںو۔۔۔۔ آپ کو ہمارے ساتھ چلنا ہے۔‘‘ ساجی مچل کر بولی۔
’’اچھا لگے گا آپ پہلے سے رہںن گے تو۔‘‘
’’مںھ دو دن قبل آؤں گا اور مٹکور کی رسم مں شریک رہوں گا۔‘‘ مں نے وعدہ کر لاج۔
گھر آ کر نصبی کو بتایا کہ درجات کی بڑی لڑکی کی شادی ہے جس کو اُس کے سالے نے گود لی تھی۔ نصبا دعوت نامہ پڑھ کر خوش ہوئی اور شرکت کا ارادہ ظاہر کای۔ گاؤں کی شادی دیکھنے کا اسے شوق تھا۔ سیھن اور کیدپ اس بات پر خوش ہوئے کہ چھک چھک گاڑی کا مزہ لںم گے۔
نصبخ نے لڑکی کے لےہ سلک کی ساری اور ایک لاکٹ خریدا۔ ساجی اور درجات کے لے بھی کپڑے خریدے۔
مںج نے ٹوکا۔ ’’اتنا کرنے کی کاک ضرورت ہے۔‘‘
’’کی چ بات کرتے ہںن آپ؟ وہ بھی تو کچھ کرے گی۔ ہمںخ یونہی واپس نہںا بجا۔ دے گی۔‘‘
’’لا کٹ کوبں؟‘‘
’’آپ کی اٹکّر لس؟ بولی۔۔۔؟ وہ مجھے لاکٹ پہنائے گی اور مںد بے شرم کی طرح پہن لوں اور بدلے مں۔ اسے کچھ نہ دوں۔‘‘
’’لنر دین کا معاملہ ہے۔‘‘ مںن مسکرایا۔ مجھے خوشی تھی کہ وہ پہلے کی طرح فارم مں آ گئی تھی۔ مں۔ بھی خود کو نارمل محسوس کر رہا تھا۔
فروزی کو نصبں نے اس کی خالہ کے یہاں بھجر دیا۔
ہم دو دن قبل گاؤں پہنچے۔ درجات اسٹشنن پر بلک گاڑی کے ساتھ موجود تھا۔ بلن گاڑی کے سفر مںا سی۔ اور کید نے خوب مزے کےں۔ گاڑی ہچکولے کھاتی تو دونوں ہنستے۔
ہمارا خاطر خواہ استقبال ہوا۔ ساجی نے نصبم کی آرتی اتاری اور ٹکہک لگایا۔ درجات نے سب کی تصویریں موبائل مںک قدڑ کں ۔ گھر مہمانوں سے بھرا پڑا تھا۔ اس بار ہمںہ رہنے کے لے اندر ایک بڑا سا کمرہ دیا گان۔ گاؤں کی عورتںھ ہمںق تجسس سے دیکھ رہی تھں ۔۔۔۔ پٹنہ سے آئے ہںا۔ ساجی بہت خوش نظر آ رہی تھی۔ مںی نے پہلے اسے اتنا خوش نہںی دیکھا تھا۔ ہو سکتا ہے نصب کی آمد سے اس کی خوشی دوبالا ہو گئی ہو۔
دوسرے دن مٹکور کی رسم تھی۔ کدال کو تل اور سنداور سے ٹکا۔ کاگ گاے۔ ایک عورت کی پٹھے پر پانچ بار سندپور لگایا گام۔ نصبا بہت دلچسپی سے ساری رسم دیکھ رہی تھی۔ گھر کی عورتںد مٹّی کوڑنے اور پانی بھرنے کے لے باہر نکلںد۔ نصبک بھی ساتھ ہو گئی۔ مںں بھی سیڑن اور کیکے کو لے کر باہر نکلا۔ درجات اور ساجی کا بھائی بھی ساتھ تھا۔ ساجی کے بھائی نے آم کی ایک شاخ توڑی اور سب مہوے کے پڑس کے پاس جمع ہوئے۔ پانچ بار کدال سے مٹی کوڑی گئی اور الگ الگ ٹوکری مںے جمع کی گئی۔ مہوے کی شادی آم کے پڑی سے کرائی گئی۔ ایک عورت نے سب کے آنچل مں ایک مٹھی چنا باندھا۔ نصبک کے آنچل مں بھی چنا باندھا گال۔ عورتوں کے دو گروپ ہو گئے اور گتب گا گا کر سب ایک دوسرے پر گالونں کی بوچھار کرنے لگں ۔ نصبی کو پٹنیہ والی بھوجی سے خطاب کاا گاع۔ رسم کی ادائگی کے بعد عورتںک گتا گاتی ہوئی گھر کی طرف بڑھ گئں ۔ مںک نصب اور سیں کینص کو لے کر پہاڑی کی طرف بڑھ گاس۔ ساجی، درجات اور ساجی کے بھائی بھی ساتھ ہو لےا۔
پہاڑی مررے لےھ کشش رکھتی تھی۔ یہاں کی فضا مں ایک اسرار چھپا تھا۔ خاص کر وہ سنگ مر مر کا چبوترہ جو سب سے اونچے مقام پر نصب تھا۔ نصبے وہاں بٹھہ کر ہواؤں کا لطف لناا چاہتی تھی۔ مںٹ نے بتایا کہ پہاڑی کے پچھےھ کھائیوں کا سلسلہ شروع ہوتا ہے۔ چبوترے پر بہت احتااط سے باھنس ہو گا ورنہ آدمی کھائی مںہ الٹ سکتا ہے۔ نصبی کو کھائی دیکھنے کا تجسّس ہوا۔ سی اور کیدم چبوترے پر بٹھنےو کے لےہ مچلنے لگے۔
’’ادھر خطرہ ہے نصبر۔ تمہںن ادھر جانے نہںط دوں گا۔‘‘
اس کمردے سے کچھ تصویر لتے ہںی۔ کمروہ بھاّک نے مر ے لئےن بر گنج سے منگوایا ہے‘‘ ساجی بول پڑی۔ اس کے ہاتھ مںگ کننھ کا وہی ماڈل تھا جو مںہ نے کبھی نصبے کے لئےن خریدا تھا۔ نصب نے اس بات کو نوٹس کا
’’دیئےر ۔۔۔۔ کمرڑہ بھی ایسا ہی استعمال کر رہی ہے جساا مرصا ہے۔‘‘ نصبہ مجھ سے مخاطب ہوئی۔
’’ہروے کی لونگ کہاں سے لائے گی؟‘‘ مںا نے مسکرا کر جواب دیا۔
’’آپ اس کمرےے کی میکنزم سمجھ لںھ۔‘‘ مں نے ساجی کو قریب بلایا
ساجی مسکراتی ہوئی مرسے پاس آئی۔
تصویر لییے ہوئی اگر ساجی کھائی مںص گر پڑے۔۔۔۔۔؟‘‘ اچانک یہ خاصل مروے ذہن مں بجلی کی طرح کوندا۔۔۔۔۔۔
مں نے مسمرزم کا عمل شروع کای۔۔۔۔ ساجی کی آنکھوں مںں جھانکا اور دل ہی دل مںس چند جملوں کا ورد کاا تاکہ اس کے لا شعور مںب یہ خا ل پو ست ہو جائے۔ اور اسی پل فضا ساکت ہو گئی۔ ہوا تھم گئی۔ پرندے خاموش ہو گئے۔ ماحول کسی گہرے راز سے بھر گات۔
’’تم چبوترے سے تصویر لو گی ساجی۔۔۔۔ چبوترے سے تصویر لو گی۔۔۔۔ چبوترے سے تصویر لو گی۔۔۔۔۔‘‘
’’تم تصویر لیر ہوئی پچھے ہٹو گی۔۔۔۔ پچھےھ ہٹو گی۔۔۔۔ پچھے ہٹو گی۔۔۔۔‘‘
ساجی نے بھی مرےی آنکھوں مں‘ آنکھںھ ڈال دیں۔۔۔ وہ ٹرانس مںے آ گئی تھی۔۔۔۔۔۔۔ مر ا ورد جاری تھا۔۔۔۔ لکنو مجھے لگا وہ ٹرانس سے باہر ہے اور کچھ ترسل۔ کرنا چاہ رہی ہے۔۔۔
’’تم چاہتے ہو مر جاؤں تو مر جاؤں گی۔‘‘
اچانک وہ آہستہ سے مسکرائی اور چبوترے کی طرف بڑھتی ہوئی بولی۔
’’آپ لوگ بٹھا جائںر۔۔۔۔ مںی ایک گروپ فوٹو لیو ہوں۔‘‘
ہم سڑ ھوئں پر بٹھا گئے۔ ساجی کا بھائی اور درجات ایک چٹّان سے لگ کر کھڑے ہو گئے
ساجی نے کمر ہ فوکس کاا۔ پھر ہٹا لای۔ ہمںا سٹ کر بٹھنےچ کا اشارہ کا اور چبوترے پر چڑھ گئی۔
’’وہاں سے نہںک۔۔۔۔۔ نچے آؤ۔۔۔۔۔ نچےپ۔۔۔۔۔۔‘‘ درجات زور سے چلّایا۔
ساجی چبوترے پر کھڑی رہی۔ ایک بار مرکی طرف دیکھا۔
’’ساجی۔۔۔۔ پچھےر ہٹو۔۔۔۔ مکمّل تصویر لو۔۔۔۔ پچھےب ہٹو۔۔۔۔ پچھے ۔۔۔ پچھے ۔۔۔۔۔۔‘‘ مںا خاموش بت بنا دل ہی دل مںو اسے امپریشن بھجچ رہا تھا۔ مرپی نظر اس پر گڑی ہوئی تھی اور فضا مںئ گہری خامشی تھی۔ ساجی نے کمر۔ہ آنکھ سے لگایا۔۔۔۔ ہاتھ سے ہلکا سا اشارہ کاف اور ایک قدم پچھے ہٹی۔
’’نہںں۔۔۔۔ پچھےے نہںل ہٹنا۔۔۔۔۔‘‘ درجات اسے پکڑنے کے لےھ چبوترے کی طرف دوڑا لکنا وہ ایک قدم اور پچھے ہٹی۔۔۔۔۔ اور کہرام مچ گاو۔۔۔۔۔۔ پرندے شور مچاتے ہوئے اڑے۔ ساجی کا بھائی چبوترے کی طرف دوڑا۔۔۔۔ گر گئی۔۔۔ گر گئی۔۔۔۔۔۔
نصب چلّائی ’’ہائے اللہ غضب۔۔۔۔۔۔‘‘
سیب اور کیئی سہم گئے۔۔۔۔۔ درجات نے چبوترے کے کنارے سے کھائی کی طرف جھانکا اور ہذیانی انداز مں۔ چخنے لگا۔۔۔۔۔۔ ’’ساجی پر نالے مںن بہہ گئی۔۔۔۔۔۔‘‘ دونوں پہاڑی سے اتر کر ندی کی طرف بھاگے۔۔۔۔۔ مںگ ایک دم خاموش کھڑا تھا۔۔۔۔ بالکل بت۔۔۔ نصبد مجھے اس حال مںن دیکھ کر ڈر گئی۔
’’یا اللہ۔۔۔۔۔ آپ کا چہرہ کساں ہو گاے ہے۔‘‘
نصبڈ نے مرلے چہرے پر خباثت دییھل ہو گی۔۔۔۔۔۔ سامنے کے دو دانت نوکلےہ ہو کر باہر کی طرف نکلے ہوئے۔۔۔۔۔ وہ خوف سے کانپ رہی تھی۔ سیلے اور کیر اس سے لپٹ کر کھڑے تھے۔
پہاڑی کے دامن مںل شور تھا۔ خبر آگ کی طرح پھلڑ گئی۔ لوگ ندی کی طرف دوڑ رہے تھے۔ ساجی کے گھر سے بھی سب باہر نکل پڑے۔ مںڑ بھی نصب اور سیلہ کیا۔ کو لےڑ ندی کنارے پہنچ گا‘۔ جس کنارے پر سب کھڑے تھے وہاں سے کافی دور پرنالے کا پانی چٹّان سے گذرتا ہوا ندی مںی گرتا تھا۔ سب کی نظر اسی طرف تھی لکنن کچھ نظر نہںہ آ رہا تھا۔ ایک مچھوارہ ناؤ لے کر ندی مںر اتر گاگ۔
اچانک پرنالے کی طرف ایک لاش سی بہتی نظر آئی۔
’’ادھر ہے ادھر۔‘‘ درجات چلّایا۔
مچھوارے ناؤ لے کر ادھر بڑھے۔ لاش کو کنارے لگایا۔ ساجی کا پٹک پھول گاھ تھا۔ ناک سے خون بہتا ہوا رخسار پر ٹھہر گا تھا۔ پشاینی بھی زخمی نظر آ رہی تھی۔
درجات پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا۔
نصبا پر حادثے کا گہرا اثر پڑا تھا۔ وہ خود کو مجرم سمجھ رہی تھی کہ اس گھر کے لےب اس کے قدم منحوس ثابت ہوئے۔ اس کے آتے ہی یہ حادثہ ہوا۔۔۔۔۔ سیمن اور کیتے بھی بت بن گئے تھے۔ مںہ نے محسوس کاہ کہ گھر کے لوگ ہمں اب پسندیدہ نگاہوں سے نہںس دیکھ رہے ہںگ۔ سب ایک ہی بات کہہ رہے تھے۔ ’’فوٹو کھنچنےئ مں گری۔‘‘
’’یہ جو پٹنہ سے آئے ہںہ۔۔۔۔۔ انہںی کے کارن۔۔۔۔۔۔‘‘
درجات ایک ہی بات دہراتا تھا۔ ’’وہ چبوترے پر کوںں چڑھی؟ وہ جانتی تھی ادھر کھائی ہے۔‘‘
نصبا کے لے‘ یہ بات بہت شرم کی تھی کہ وہ نحوست لے کر آئی۔ وہ مسلسل روتی تھی اور مںر خاموش تھا۔ مںی کاھ کہتا؟ مرسے پاس الفاظ نہںر تھے۔ مروا ذہن تعطّل کا شکار تھا۔ نصبا کو سمجھا بھی نہںھ سکتا تھا اور انتم سنسکار سے پہلے وہاں سے نکل بھی نہںا سکتا تھا۔ نصبج جو تحفے لے کر آئی تھی وہ سوٹ کسل مںں ہی پڑے رہ گئے
ہم پٹنہ لوٹے تو درجات اسٹشن الوداع کہنے آیا۔ نصبے نے اسے دلاسہ دیا۔
’’خدا آپ کو صبر جملش عطا کرے۔ ہونی کو کون ٹال سکتا ہے؟‘‘
پٹنہ پہنچ کر نصبآ کے اوسان بحال ہوئے اور مرنے اوسان خطا ہوئے۔ مجھے ایک گہرے خلا کا احساس ہو رہا تھا۔ مںر نے وہ چزن کھو دی جو حاصل نہںر کی تھی۔ نصبخ اسے حادثہ ماننے کے لےے تاخر نہںہ تھی۔ اس کی نظر مںھ یہ خود کشی تھی۔ اس نے ساجی کو ہاتھ کے اشارے سے خدا حافظ کہتے دیکھا تھا پھر وہ پچھےر کی طرف ہٹتی چلی گئی تھی۔۔۔۔۔
آخر ایک دن اس نے مجھ سے جواب طلب کای
’’ساجی نے خود کشی کودں کی؟‘‘
’’کسےی سمجھتی ہو یہ خود کشی تھی؟‘‘
’’اس نے خدا حافظ کے انداز مںا ہاتھ ہلایا اور نچےظ الٹ گئی۔‘‘
’’مں نہںن مانتا۔‘‘
’’ایک بات کہوں؟‘‘
’’کہو۔‘‘
’’وہ آپ سے محبت کرتی تھی۔‘‘
’’کا بکواس ہے؟‘‘ مںل زور سے چخاے۔
لکن نصبب پر سکون تھی۔ سکون بھرے لہجے مںچ بولی
’’مجھ سے شئرب کے س ۔۔۔ مںں آپ سے محبّت کرتی ہوں۔ آپ مررے محبوب ہںک‘‘
’’کاھ محبت خود کشی کے لےن مجبور کرتی ہے؟‘‘
’’وہ جانتی تھی آپ کی نہںب ہو سکتی۔‘‘
’’یہ تو محبت نہںد ہوئی۔ یہ تو قبضہ ہوا۔ قبضہ نہں‘ کر سکی تو ناکامی مںھ جان دے دی۔‘‘
’’سچ سچ بتایئے۔‘‘
’’کا ؟‘‘
’’آپ کے دل مںب اس کے لے کوئی ہمدردی؟‘‘
’’ہمدردی تو تمہارے دل مںک بھی ہے۔ سب کے دل مں ہے۔‘‘
’’مجھے اگر پتا ہوتا کہ وہ آپ پر جان چھڑکتی ہے تو اسے اس طرح مرنے نہںم دییہ۔
’’پھر کاگ کرتی؟‘‘
’’اس کو اپنے ساتھ رکھتی۔‘‘
’’بکواس ہے نصبا۔۔۔۔ بکواس۔‘‘ مںا زور سے چلّایا۔ نصب نے چونک کر مجھے دیکھا۔
’’اس نے لونگ کی پکھراج پہنی تو تم سے برداشت نہںح ہوا۔ لاکٹ گفٹ کرنا چاہ رہی تھی تو تمہارا پارہ آسمان پر چڑھ گار۔ تم اس کو ساتھ کسے۔ رکھ سکتی تھںا؟‘‘
’’اس وقت مںگ کاھ جانتی تھی وہ آپ سے محبت کرتی ہے۔ اس وقت تو مںی نے ییہ سمجھا کہ مجھے نچاو دکھانے کے لےی مجھ سے مقابلہ کر رہی ہے۔‘‘
مں خاموش رہا۔ نصبک مجھے کچھ دیر خاموشی سے دییھت رہی پھر اچانک اٹھی اور مراا سر اپنے سنےھ سے لگا لاک۔
’’خدا آپ کو سکون دے۔‘‘
مجھے اپنی آنکھںن آبدیدہ محسوس ہوئںت۔۔۔۔۔۔
مرھے لئےھ یہ بات زیادہ تکلفں دہ ہے کہ ساجی نے خود کشی کی۔ اس نے ہمشہی کے لئےے مرپے منھ پر تھوک دیا۔۔۔ ’’تم چاہتے ہو مر جاؤں تو مر جاؤں گی۔‘‘
اس نے ضرب کاری لگائی۔۔۔۔ یہ بات مجھے ہمشہی کچوٹتی رہے گی کہ اس نے مر ی اطاعت مںی خود کشی کی۔۔۔ مںھ نے اگر سدےھا قتل کان ہوتا تو مجھے پچھتاوا ہوتا جو وقت کے ساتھ دھندھلا سکتا تھا لکنک اس کی اطاعت نے مجھے جتےت جی قتل کر دیا۔۔۔۔ ایسا زخم دیا جو مرےی روح مںن رستا رہے گا۔۔۔۔ پچھتاوا وقت کے ساتھ ختم ہو جاتا ہے۔ روح کے زخم وقت کے ساتھ ہرے ہوتے ہں ۔
مںں نے ایسا کو ں چاہا۔۔۔۔۔؟ مںج کسی سے کچھ شئرن بھی نہںا کر سکتا۔۔۔۔
مںت نے اس کی محبت کو کبھی بے لوث نہں جانا۔۔۔۔ اس کے دل کے نہاں خانے مں بہت سے نا آسودہ گوشے تھے۔۔۔۔۔ وہ مراے وجود سے انہںک بھرتی تھی۔۔۔ ان کمو ں کی وجہ سے وہ مجھ سے وابستہ ہوئی۔۔۔۔ مجھ مں ضم ہو کر ہی وہ اپنی تکملم کو پہنچ سکتی تھی لکنی مںر نے لا شعوری سطح پر اس سے قربت محسوس نہںھ کی۔ ہم بستری کے لمحوں مںت اس کے چہرے کے نقوش پڑھتا رہا اور مر ی آنکھوں پر تعصّب کا پردہ پڑا رہا۔ ساجی نے مجھ مںے صرف حسن دیکھا۔ مں نے اس مںر صرف عبہ دیکھا۔ وہ عشق کرتی رہی مںف شک کرتا رہا۔ اس کی نگاہوں مںے حسن تھا مرفی نگاہوں مںھ تعصّب تھا۔
بہت با شعور ہو جانا اپنی داخلتن مںم مرنا ہے۔ مں با شعور رہا اس لےع ساجی کی محبت کو محسوس نہںن کر سکا۔۔۔۔ مں سوچتا رہا کہ پھنسا ہوا ہوں۔۔۔۔۔ مںش اس مرکز تک نہںن پہنچ سکا جو محبّت کا مرکز تھا۔۔۔۔ مں ساجی کی دناھ مںش خود کو مکمّل طور پر سپرد نہںں کر سکا۔۔۔۔۔ عقل نے بار بار دامن تھاما ہے۔ مںد سطح پر چکّر کاٹتا رہا۔۔۔۔ خود کو چھوڑ دیتا منجدھار مںہ۔۔۔۔۔
لکنم مںر بے ساختہ ہو جانے کی صلاحتواں سے محروم ہوں۔۔۔۔ مں۔ نے ہمشہل عقل سے کام لات اور سوچتا رہا اپنے متعلق۔۔۔۔ اپنے گھر کے بارے مںش۔۔۔ اپنے ماحول کے بارے مںہ۔۔۔۔۔ مں ۔ ترجحاات کے بوجھ سے دبا رہا۔۔۔۔۔ اپنے وجود کے پامال ہونے کی فکر۔۔۔۔ شعور وجدان کا دشمن ہے۔ جبلّی قوتوں کا دشمن ہے۔۔۔۔ شعور کے بوجھ سے مر۔ا مرا ہوا وجدان۔۔۔۔۔!!
مںد نے اسے جاننے کی کوشش کی کہ اییش ہے ویید یے اس لےے پا نہںہ سکا۔۔۔۔ اسے ہر پل کھوتا رہا۔۔۔۔ اور ساجی مجھے جاننے کی ہر کوشش سے بعد۔ رہی۔۔۔۔ اس لےع جی سکی اور مںش۔۔۔۔۔ سلفے کانشسو منا۔۔۔!! مںد بس شروع مںو جی سکا جب جبلّت کا غلبہ تھا اور جب شعور نے دخل اندازی کی تو جذبات پرائے ہو گئے۔۔۔ مں نے سب کچھ دانستہ کا ۔۔۔۔۔ سوچ سمجھ کر۔۔۔۔ کچھ بھی دل کی گہرائی سے نہںب تھا۔ سب کچھ دماغ کی اپج تھی اور اس لے مں اس سے بندھ نہںّ سکا۔
مرجا دل کووں بھاری ہو رہا ہے؟ مںا اب پہلے کی طرح قہقہے نہںی لگاتا۔ نصب سے چھڑ چھاڑ نہںب کرتا۔ بچوں سے ہنسی مذاق نہںا کرتا۔ دفتر سے گھر آتا ہوں اور کمرے مںچ بند ہو جاتا ہوں۔ ساجی کا چہرہ نگاہوں مںذ گھومنے لگتا ہے۔ جو ہوا اچھا ہوا تو کو ں مسلسل اس کے بارے مں سوچتا رہتا ہوں؟ جو ہوا اچھا نہں ہوا تو مداوا کاج ہے۔۔۔؟ کاا مجھے نصبو سے سب کچھ شئرہ کرنا چاہےو؟ نصب کاا سوچے گی؟ اسے صدمہ ہو گا۔ وہ ابھی بھی یہ الزام نہںچ بھولتی کہ پٹنہ والوں کے کارن ساجی کھائی مںب گری۔۔۔۔ یہ الزام اسے ہمشہت کچوکے لگاتا ہے۔ اب حققتج معلوم ہو گی تو اس کی نظروں مںی مرای کاش وقعت رہ جائے گی۔۔۔؟
اس کی چاہت غلامی کی زنجر؟ مںہ بدلنے لگی تھی۔ ہم آہستہ آہستہ ایک دوسرے کے لئے آبجکٹی ہوتے جا رہے تھے۔۔۔۔۔۔ آبجکٹی ہونے کا احساس غلامی کا احساس ہے۔ نجات کی صورت ییے تھی کہ۔۔۔۔۔۔
مںس نے اسے اپنی آزادی کے لےج ختم کای لکن۔ کاا مںا آزاد ہوں۔۔۔۔؟ جسم کے گرداب سے نکل کر مںے روح کے عذاب مںج مبتلا ہوں۔
کچھ دنوں بعد درجات کا فون آیا۔ وہ مجھ سے ملنا چاہتا تھا۔
درجات بہت بوڑھا لگا۔ اس نے داڑھی رکھ لی تھی۔ چہرے پر گہری تھکن کے آثار تھے لکن آنکھںی روشن تھں ۔ وہ آنکھں جن مںھ کبھی ٹھہرے ہوئے پانی کی مکروہ سی آسودگی ہوا کرتی تھی، ابھی کسی انجانی چمک سے خرکہ تھںے درجات نے بتایا کہ وہ ایک لائبریری قائم کرنا چاہتا ہے۔
’’کین لائبریری؟‘‘ مجھے کچھ حرکت ہوئی۔
’’ساجی کے نام پر لائبریری۔‘‘
مںں خاموش رہا۔
’’اس کو پڑھنے کا بہت شوق تھا۔ مررے یہاں تو ماحول نہں ملا تو کم سے کم اس کے نام سے ایک لائبریری قائم ہو جائے گی تو اس کی آتما کو سکون ملے گا۔‘‘
’’آپ اس سے بہتر خراج عقدئت ساجی کو نہںچ دے سکتے۔‘‘
’’مں چاہتا ہوں آپ لائبریری کا ادگھاٹن کریں۔‘‘
مں۔ نے کوئی جواب نہںب دیا۔
’’نچےا کے فلٹا کو لائبریری بنا دیا ہے۔ ساجی پستکالہل کا بورڈ بھی لگ گاہ ہے۔ کچھ کتابں‘ بھی آ گئی ہںب۔‘‘
مںھ نے الماری سے چک بک نکالی اور اس کی طرف پچاس ہزار کا چکن بڑھاتے ہوئے بولا۔
’’اسے قبول کےر ھ۔ ہماری طرف سے لائبریری کے لےچ ایک حقرا سی رقم۔‘‘
درجات کی آنکھںھ چھلک پڑیں۔
’’یہ چکی آپ اس دن دیں گے تو اچھا رہے گا۔‘‘
کچھ دیر خاموشی رہی۔ پھر درجات نے بہت دکھ بھرے لہجے مںگ پوچھا۔
’’ایک بات سمجھ مںچ نہں آئی۔‘‘
’’کون سی بات؟‘‘
’’ساجی نے آتم ہتّیا کوںں کی؟‘‘
’’کسےی کہہ سکتے ہںا کہ یہ آتم ہتّیا تھی۔‘‘ مریا لہجہ تکھام ہو گاس۔ مجھے یہ بات گوارہ نہںر تھی کہ ساجی کی موت کو خود کشی سے منسوب کاے جائے
’’وہ جانتی تھی کہ پچھےر کھائی ہے۔‘‘
’ یہ تو سبھی جانتے تھے۔‘‘
’’مں جب اسے پکڑنے کے لےت دوڑا تھا تو اس نے مجھے ہاتھ کے اشارے سے روکا۔ اس کی آنکھوں مںے آنسو تھے۔۔۔۔ اور وہ پچھےے ہٹتی گئی۔‘‘
مں چپ رہا۔
’’مں نے کوئی دکھ پہنچایا ہو گا۔ تب ہی تو مر گئی۔‘‘
’’آپ نے کوئی دکھ نہںے پہنچایا درجات۔۔۔۔۔ دکھ مں نے پہنچایا۔‘‘
درجات نے مر ی طرف معصوم نگاہوں سے دیکھا۔
’’مں اس کا قاتل ہوں۔‘‘
’’نہںن جناب۔۔۔۔ اس نے آتم ہتاا کی۔ کوئی دکھ اس کو کھا رہا ہو گا۔‘‘ اس نے سسکوےں بھرے لہجے مںو کہا۔
’’آتم ہتّیا نہںں تھی۔۔۔۔ یہ ہتّیا تھی ہتّیا۔۔۔۔ مںل نے اس کی ہتّیا کی احمق آدمی۔‘‘
مںم نے چخی کر کہا۔ درجات سہم گات۔
’’اس نے مرخی زندگی اجر۔ن کر دی تھی۔ اس لئے اسے ہمشہی کے لئے راستے سے ہٹا دیا۔‘‘
درجات نے کوئی جواب نہں‘ دیا۔ آنسو پونچھے اور اٹھ گاک۔
مںج نے اسے خدا حافظ بھی نہںہ کہا۔
درجات کے جانے کے بعد سنّاٹا اچانک بڑھ گاا۔
ساجی کی آنکھںا جوابی ترسل مںھ چمک رہی تھںو۔
’’تم چاہتے ہو مر جاؤں تو مر جاؤں گی۔‘‘
ٹرجو کارڈ کا ڈیول ہنسنے لگا۔
٭٭٭ جاری ہے

جواب لکھیں