...................... .................

کہاوتیں ….. سرور عالم راز …. حصہ دوم

ت۔کی کہاوتیں
(۱ ) تا تریاق از عراق آوردہ شود، مار گزیدہ مردہ شود : پہلے زمانے میں لوگوں کا خیال تھا کہ سانپ کا زہر ایک دَوا تریاق سے زائل کیا جا سکتا ہے۔ کہاوت کا ترجمہ ہے کہ جب تک عراق سے تریاق لایا جائے گا،سانپ کا کاٹا ہوا آدمی مر چکا ہو گا۔ لفظ عراق، تریاق کا ہم قافیہ ہونے کی وجہ سے لایا گیا ہے اور دُور دَراز کے مقام کی علامت ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ لوگوں کا خیال ہو کہ عراق کا تریاق سب سے اچھا اور زود اثر ہوتا ہے۔ کہاوت کا مطلب یہ ہے کہ جب تک کسی مسئلہ کے حل کے لئے دُور از کار باتیں اور کارروائی کرو گے وہ مسئلہ ہاتھوں سے نکل چکا ہو گا۔ کسی کام میں فضول دیر لگائی جائے تو یہ کہاوت کہی جاتی ہے۔
( ۲ ) تدبیر کند بندہ، تقدیر زَند خندہ : انسان تدبیر کیا کرتا ہے اور تقدیر اُس پر ہنستی رہتی ہے۔ گویا کام کا دارو مدار محض انسان کی تدبیر اور کوشش پر نہیں ہے بلکہ قسمت بھی کوئی قوت ہے جو تدبیر کو ناکام بنا کر اپنے فیصلے الگ ہی دیا کرتی ہے۔
(۳ ) تری آواز مکے اور مدینے : مبارکباد، شکریے اور دعا کے طور پر بولتے ہیں۔یہ ایک شعر کادوسرا مصرع ہے ؎
مؤذن مرحبا بروقت بولا تری آواز مکے اور مدینے
( ۴) تگنی کا ناچ نچا دیا : بری طرح پریشان کیا، عاجز کر دیا۔
(۵) تل اوٹ، پہاڑ اوٹ : یعنی نگاہوں سے اوجھل ہو جانے والی چیز چاہے تل ایسی چھوٹی چیز کے نیچے ہی دب جائے بہت جلد ذہن و دماغ سے ایسے اُتر جاتی ہے جیسے وہ کسی پہاڑ کے پیچھے غائب ہو گئی ہو۔’’ آنکھ اوٹ، پہاڑ اوٹ‘‘ بھی اسی معنی میں کہتے ہیں۔
( ۶) تل دھرنے کی جگہ نہیں : یعنی جم غفیر ہے، آدمی پر آدمی چڑھا ہوا ہے۔
( ۷) تلوار کا زخم بھر جاتا ہے، بات کا نہیں بھرتا : بات کا زخم بھرنے کو ایک عمر چاہئے اور بعض اوقات یہ بھی ناکافی ہوتی ہے۔
(۸) تمھارے نیوتے کبھی نہیں کھائے : نیوتا یعنی دعوت۔ مطلب یہ ہے کہ آپ کے پاس فقط باتیں ہی باتیں ہیں ۔جب وقت پڑتا ہے تو آپ کی تہی دامنی کھل جاتی ہے۔
( ۹) تم روٹھے، ہم چھوٹے : یعنی اگر تم نے ہم سے آنکھیں پھیر لیں تو پھر ہمارا تمھارا ساتھ بھی ختم ہو جائے گا۔
(۱۰) تم اپنے حال میں مست، ہم اپنی کھال میں مست : یہ صبر و شکر کا اظہار بھی ہے اور ایسے شخص کی بات کا جواب بھی جو اپنی دولت کے نشہ میں دوسروں کو کم تر سمجھتا ہو۔
(۱۱) تمباکو کا پِنڈا ہے : پِنڈا یعنی بدن۔ تمباکو کا پنڈا سیاہ فام شخص کو کہتے ہیں۔
( ۱۲ ) تن سکھی تو من سکھی : یعنی اگر تندرستی ہے تو دل بھی بشاش رہتا ہے۔ سالکؔ لکھنوی کا شعر اسی مضمون کو بیان کرتا ہے:
تنگدستی اگر نہ ہو سالکؔ تندرستی بہت غنیمت ہے
(۱۳ ) تن پر نہیں لتّا،مسّی ملے البتہ : لتّا یعنی پھٹا پرانا کپڑا۔مسّی ایک طرح کا سفوف ہوتا ہے جو پہلے زمانے میں عورتیں مسوڑھوں پر ملتی تھیں۔ اس سے مسوڑھے سیاہ ہو جاتے تھے۔ خیال یہ تھا کہ کالے مسوڑھوں میں چمکتے ہوئے دانت خوبصورتی میں اضافہ کریں گے۔ کہاوت کا مطلب یہی ہے کہ مفلسی کاتو یہ حال ہے کہ تن ڈھکنے کو کپڑا میسر نہیں ہے لیکن دنیا کو دکھانے کے لئے مسّی کا سنگھار ضروری ہے۔گویا کہاوت چھچھورے پن کی مذمت کر رہی ہے۔
( ۱۴ ) تندرستی ہزار نعمت ہے : کہاوت کے معنی اور محل استعمال ظاہر ہیں۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ اگر تندرستی نہ ہو تو دنیا کی ہر شے بے معنی اور بے مزا ہو کر رہ جاتی ہے۔ یہ ایک شعر کا دوسرا مصرع ہے ؎
تنگدستی اگر نہ ہو سالکؔ تندرستی ہزار نعمت ہے
( ۱۵) تو بھی رانی میں بھی رانی، کون بھرے پنگھٹ کا پانی : جب کسی کام کی پیروی میں دو آدمیوں کے درمیان اختلاف ہو کہ کون اس کو کرے تو یہ کہاوت بولی جاتی ہے۔ اگر دونوں ہی اس کام کو اپنی حیثیت سے کم جانیں تو وہ کام ہو ہی نہیں سکتا۔ اسی بات کو کہاوت عورتوں کی زبان میں کہہ رہی ہے کہ جب دونوں عورتیں رانی ہیں تو بھلا پنگھٹ پر پانی بھرنے کون جائے گا؟
( ۱۶ ) تو ڈال ڈال، میں پات پات : یعنی میں تجھ سے کم نہیں ہوں،اگر تیرا نام ہر شاخ پر لکھا ہے تو میرا نام ہر پتّے پر لکھا ہوا ہے۔
(۱۷) تَوے کی بوند ہو گیا : جلتے توے پر پانی کی بوند ڈالئے تو وہ فوراً بھاپ بن کر اُڑ جاتی ہے گویا ایک بوند توے کو ٹھنڈا نہیں کر سکتی۔ اسی رعایت سے کہاوت ایسی چیز کے لئے بولی جاتی ہے جو مقدار میں ضرورت سے بہت کم ہو۔
( ۱۸ ) توے کی تیری،ہاتھ کی میری : یعنی جو روٹی ابھی توے پر ہے وہ تیری ہے لیکن جو تیار ہو کر ہاتھ میں آ چکی وہ میری ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ زیادہ فائدہ میرا اور تھوڑا تیرا۔ کہاوت خود غرض شخص کا حال بیان کر رہی ہے۔ اسی سے محل استعمال قیاس کیا جا سکتا ہے۔
(۱۹ ) تھکا اونٹ سرائے کو تکتا ہے : پرانے زمانے میں اونٹ سفر کے لئے عام طور پر استعمال ہوتا تھا۔ ریگستانی علاقوں میں اب بھی ہوتا ہے۔مسافروں کے آرام کے لئے جا بجا سرائے موجود تھیں جہاں کھانا پینا اور رات بسر کرنے کی سہولت کرایہ پر مل جاتی تھی۔ دن بھر سامان اور مسافر لاد کر سفر کرنے کے بعد تھکا ہارا اونٹ جب سرائے دیکھتا ہے تو منھ اٹھا اٹھا کر اسے تکتا ہے کہ اب تھوڑی دیر میں شاید آرام مل سکے گا۔ یہ کہاوت تب کہی جاتی ہے جب کوئی شخص زندگی کا سفر تقریباً مکمل کر چکا ہو اور خود کو موت کے قریب محسوس کرتا ہو۔
(۲۰) تھالی کا بینگن: تھالی میں رکھا ہوا بینگن تھالی کے ڈھال کے رُخ لڑھک جاتا ہے۔ چنانچہ اگر کوئی شخص ہمیشہ حالات کا رخ دیکھ کر اپنے مفاد یا دوسروں کی خوشنودی کے پیش نظر کام کرے تو اس کو’’ تھالی کا بینگن‘‘ کہتے ہیں۔
(۲۱) تھُوک سے ستّّو نہیں سَنتا : تھوک سے بہت تھوڑی مقدار مراد ہے۔ بھنے ہوئے چاولوں یا چنوں کا آٹا ستّو کہلاتا ہے۔غریب آدمی پانی میں گھول کر اور گڑ یا شکر سے اس کو میٹھا کر کے پیٹ بھر لیا کرتے ہیں۔ ستو ساننے کے لئے کافی پانی چاہئے۔مطلب یہ ہے کہ بڑے کام کے لئے کوشش اور محنت بھی ایسی ہی ہونی چاہئے۔
(۲۲) تیل دیکھو، تیل کی دھار دیکھو : یعنی ابھی تم نے دیکھا ہی کیا ہے، بات تو پوری ہونے دو تب معلوم ہو گا۔
(۲۳) تین میں نہ تیرہ میں : یعنی کسی شمار میں نہیں ہیں۔ بے مصرف شخص کے لئے کہا جاتا ہے۔
( ۲۴ ) تیری بات گدھے کی لات : تیری بات ایسی ہی ہے جیسی گدھے کی لات کہ نہ بات سمجھے اور نہ آدمی پہچانے، بس اندھا دھند چلا کرتی ہے۔ محل استعمال معنی سے قیاس کیا جا سکتا ہے۔
( ۲۵ ) تیلی خصم کیا پھر بھی روکھا کھایا : خصم یعنی شوہر۔ تیلی شوہر سے امید ہوتی ہے کہ کھانا تیل میں تَر ملا کرے گا لیکن اگر اس کے ہوتے ہوئے بھی روکھاسوکھاہی ملے تو اس کا ہونا نہ ہونا برابر ہے۔ یعنی غلط کام بھی کیا اور مطلب پھر بھی پورا نہ ہوا۔یہی کہاوت کا مطلب ہے۔
( ۲۶ ) تیتر تو اپنی آئی مرا، تو کیوں مرا بٹیر : اپنی آئی مرا یعنی فطری موت کا شکار ہوا۔ گویا کہ تیتر تو اپنی فطری موت مر گیا لیکن اے بٹیر یہ بتا کہ تجھ کو کیا ہوا تھا جو تو بھی جان سے جاتا رہا؟ یہ کہاوت تب کہی جاتی ہے جب لوگ دوسروں کے مسائل میں خواہ مخواہ الجھ کر اپنے سر مصیبت مول لیتے ہیں اور پھر شکایت کرتے ہیں۔
( ۲۷ ) تیسرے دن مردار حلال : فاقے کی حالت میں انسان کے لئے حرام شے بھی حلال ہو جاتی ہے۔ تین دن فاقوں کی شرط کسی طبی یا سائنٹفک بنیاد پر نہیں قائم ہے۔ چونکہ فاقہ کی مدت کا تعین منظور تھا اس لئے تین دن کی مدت فرض کر لی گئی۔ہو سکتا ہے کہ کوئی کمزور اور بیمار آدمی تین دن کا فاقہ بھی برداشت نہ کر سکے۔ اس صورت میں تین دن سے مراد اتنی مدت ہو گی جتنی میں اُس کی جان جانے کا خطرہ ہو۔ یہ کہاوت تب بولی جاتی ہے جب حالات انسان کو ہر طرح کا کام کرنے پر مجبور کر دیں۔
( ۲۸ ) تین ٹانگ کا گھوڑا ہے : تین ٹانگ کا گھوڑا یعنی ناکارہ۔ یہ کہاوت ناکارہ اور بے فیض آدمی کے لئے کہی جاتی ہے۔
(۲۹ ) تیلی کا تیل جلے، مشعلچی کا دل : یعنی خرچ تو تیلی کا ہو رہا ہے اور دل جل رہا ہے مشعلچی کا جس کا کام صرف مشعل کو اٹھائے پھرنا ہے۔ زحمت اور خرچ کسی کا ہو رہا ہو لیکن اس کی تکلیف اور شکایت کسی لا تعلق شخص کو ہو تو یہ کہاوت کہی جاتی ہے۔
( ۳۰) تیس مار خاں بنتے ہیں : عرف عام میں تیس مار خاں بہت بہادر آدمی کو کہتے ہیں یعنی جو تیس آدمیوں کو مارنے کی ہمت اور طاقت رکھتا ہو۔ یہ فقرہ ایسے شخص کے لئے طنزیہ استعمال کیا جاتا ہے جو ڈینگیں تو بہت مارتا ہو لیکن جس میں دم دُرود بالکل نہ ہو۔
( ۳۱ ) تیل نہ مٹھائی چولھے چڑھی کڑھائی : یعنی کڑھائی تو چولھے پر چڑھا رکھی ہے لیکن اس میں نہ تیل ہے اور نہ دوسرے لوازمات۔ گویا شور اور شیخی تو بہت ہے لیکن اصلیت کچھ بھی نہیں۔یہی کہاوت شیخی خور اور اپنے تئیں تیس مار خاں کے لئے کہی جاتی ہے۔
٭٭٭
ٹ۔کی کہاوتیں
( ۱ ) ٹاٹ کا لنگوٹ، نواب سے یاری : یہ کہاوت اس شخص کے لئے کہتے ہیں جو قلاش ہو لیکن اپنی شیخی میں بڑے لوگوں سے دوستی کا دعویدار ہو۔
(۲) ٹائیں ٹائیں فِش : عوامی بول چال میں ایسے شور و غل کو کہتے ہیں جس کا نتیجہ کچھ نہ نکلے۔
(۳) ٹَٹ پونجیا ہے : ٹَٹ یعنی ٹاٹ یا بوری۔ پونجیا یعنی پونجی والا۔ کہاوت ایک شخص کے بارے میں کہہ رہی ہے کہ اس کی ساری پونجی ٹاٹ کے ایک ٹکڑے پر موقوف ہے گویا وہ از حد مفلس اور قلاش ہے۔
( ۴ ) ٹٹو کو کوڑا اور تازی کو اشارہ : ٹٹو یعنی چھوٹی نسل کا کمزور گھوڑا۔ تازی یعنی اعلیٰ نسل کا گھوڑا۔ ٹٹو کو ہانکنے کے لئے اس کو کوڑا لگانا ہوتا ہے جب کہ تازی گھوڑا مالک کے اشارہ پر چلتا ہے۔ گویا عقل مند کو اشارہ کافی ہوتا ہے جب کہ کم عقل مار سے بھی مشکل سے سمجھتا ہے۔
(۵) ٹکسال باہر ہے : ٹکسال میں جو سکّے ڈھلتے ہیں یا نوٹ چھاپے جاتے ہیں وہ مستند اور سچے ہوتے ہیں اور ملک میں رواج پاتے ہیں۔ ٹکسال باہر کے معنی خلاف رواج یا غیر مستند ہیں۔
(۶) ٹکے گز کی چال : یعنی نہایت سست رفتار۔ اس کو میانہ رَوی اور کفایت شعاری کے معنی میں بھی بولتے ہیں۔ٹکا یعنی ایک روپیہ۔ کہاوت کا مطلب ہے کہ اتنا سست رفتار کہ ایک روپیہ میں صرف ایک گز ہی چلتا ہے۔
( ۷ ) ٹک ٹک دیدم، دَم نہ کشیدم : یہ کہاوت ہندوستانی اور فارسی الفاظ کو ملا کر بنائی گئی ہے۔ مطلب ہے حیرت سے دیکھتے رہ جانا اور دَم نہ مارنا۔
(۸ ) ٹھوکر کھاوے بُدھی پاوے : بُدھی یعنی عقل یا سمجھ۔ ٹھوکر کھا کر ہی سمجھ آتی ہے۔تجربہ بہت بڑا معلم ہے۔
(۹) ٹیڑھے توے کی روٹی : توا اگر ٹیڑھا ہو گا تو روٹی گول اور سڈول نہیں بنے گی۔ بگڑی ہوئی چیز یا کام کے لئے یہ کہاوت بولتے ہیں۔
٭٭٭
ث۔کی کہاوتیں
(۱ ) ثابت نہیں کان،بالیوں کا ارمان : یعنی کان تو کٹے پھٹے ہیں لیکن بالیاں پہننے کا شوق اپنی جگہ ہے۔ مطلب یہ کہ صلاحیت کچھ بھی نہیں لیکن خواب بڑے بڑے ہیں۔
( ۲ ) ثواب نہ عذاب،کمر ٹوٹی مفت میں : یعنی محنت تو بہت کی لیکن سوائے تکلیف کے کچھ حاصل نہ ہوا۔محل استعمال معنی سے ظاہر ہے۔
٭٭٭
ج۔کی کہاوتیں
(۱) جاٹ مرا تب جانئے جب تیرھویں ہو جائے : تیرھویں یعنی کسی کے مرنے کے تیرھویں دِن ہونے والی رسم۔جاٹ بہت سخت جان اور جفا کش مشہور ہیں اس لئے ان کا نام لیا گیا ہے۔ کہاوت کا مطلب ہے کہ جب تک کسی معاملہ کی اچھی طر ح تصدیق نہ ہو جائے اس پر یقین نہیں کر نا چاہئے اور تحقیق جاری رکھنی چاہئے۔ اس کہاوت کے پس منظر میں ایک حکایت بیان کی جاتی ہے۔ ایک جاٹ نے ایک بنئے سے قرض لیا۔وقت کے ساتھ سود کی وجہ سے قرض کی رقم بڑھتی گئی اور جاٹ کسی طرح اسے ادا نہ کر سکا۔ جب بنئے کے تقاضے بہت بڑھ گئے تو اس نے عاجز آ کر اپنی فرضی موت کی خبر بنئے تک پہنچا دی۔ بنیا کف افسوس ملتا رہ گیا۔حادثہ کی تصدیق کے لئے وہ جاٹ کے گاؤں گیا اور اس کے گھر والوں سے تعزیت بھی کر آیا۔سب نے اپنے عزیز کی موت پر بہت رنج کا اظہار کیا۔ اتفاق سے کچھ دنوں کے بعد بنئے کو ایک قریبی گاؤں میں کسی کام سے جانا پڑا۔وہاں اس نے بازار میں اُس جاٹ کو گھومتے پھرتے دیکھا تو بھوچکا رہ گیا۔لوگوں سے گھبرا کر پوچھا تو انھوں نے کہا کہ ’’ شاہ جی ! جاٹ مرا تب جانئے جب تیرھویں ہو جائے۔‘‘
(۲) جان بچی اور لاکھوں پائے : مشکل وقت میں جان بچ جائے تو یوں سمجھئے کہ لاکھوں روپے مل گئے۔ اسی کو ایک اور شکل میں بھی کہا جاتا ہے کہ’’ جان بچی اور لاکھوں پائے، خیر سے بدّھو گھر کو آئے‘‘۔
(۳) جان ہے تو جہان ہے : اگر زندگی ہے تو سب کچھ ہے ورنہ سب بیکار ہے۔کہاوت کا مطلب اور محل استعمال ظاہر ہے۔
( ۴) جان نہ پہچان، بی بی جی سلام : بغیر کسی جان پہچان کے کوئی کسی سے قرابت جتانے لگے اور کسی صلہ کا اُمیدوار ہو تو یہ کہاوت بولی جاتی ہے۔
(۵) جا کو راکھے سائیاں مار سکے نہ کوئے : سائیاں یعنی مالک یا خدا۔ جس کے سر پر اللہ کا سایہ ہو اس کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ اِس کی ایک اور شکل بھی عام ہے یعنی’’ جسے اَللہ رکھے، اُسے کون چکھے؟‘‘
( ۶ ) جاٹ کی بیٹی برہمن کے گھر آئی : ہندوؤں میں جاٹ ذات نیچی اور برہمن اونچی مانی جاتی ہے۔ شادیاں اپنی ذات میں ہی ہوتی ہیں۔ چنانچہ کسی جاٹ کی بیٹی کا برہمن کی بہو بن جانا بہت بڑا سانحہ ہے۔کہاوت کا مطلب یہی ہے کہ نہایت کم حیثیت آدمی کو خوش قسمتی سے بڑے اور با عزت لوگوں کی صحبت نصیب ہوئی۔
( ۷ ) جان جائے پر آن نہ جائے : شریف لوگوں کو اپنی عزت جان سے زیادہ عزیز ہوتی ہے۔جان بھلے ہی چلی جائے لیکن عزت ہر حال میں محفوظ رہنی چاہئے۔
(۸) جب چنے تھے تب دانت نہ تھے، اب دانت ہیں تو چنے نہیں : زندگی میں ہمیشہ دن ایک سے نہیں رہتے۔ اس بات کو ایک مثال واضح کر رہی ہے کہ بچپن میں دانت نہیں تھے تو چنے میسر تھے اور اب جوانی میں منھ میں دانت ہیں تو چنے پاس نہیں ہیں۔
(۹) جتنا گُڑ ڈالو اتنا ہی میٹھا : گُڑ یعنی کچی شکر۔ کوئی چیز بھی ہو اُس میں جس قدر گڑ ڈا لا جائے اُسی قدر وہ میٹھی ہو جاتی ہے۔ اسی طرح ہر کام میں جتنی زیادہ محنت کی جائے اس میں فائدہ اسی مناسبت سے ہو گا۔ محل استعمال ظاہر ہے۔
( ۱۰ ) جتنی دیگ اُتنی کھُرچن : چاول کی دیگ زیادہ پک جائے تو جو چاول جل کر اس کی تلی سے لگ جاتے ہیں ان کو کھرچن کہتے ہیں۔ کہاوت کا مطلب یہ ہے کہ کام جس قدر بڑا ہو گا اسی مناسبت سے اس میں خرابی ہو سکتی ہے۔
( ۱۱) جتنا اوپر اُتنا ہی نیچے ہے : یعنی یہ شخص جس قدر ظاہر میں سیدھا سادا نظر آ رہا ہے اسی قدر باطن میں یہ تیز اور چالاک ہے۔
( ۱۲) جتنی چادر ہو اتنے پانوں پھیلاؤ : یعنی اپنی حیثیت دیکھ کر خرچ کرو اور فضول خرچی سے بچو۔ بے جا اصراف میں نقصان ہی نقصان ہے۔
(۱۳) جتنا بِینو اتنی ہی کرکری (یا کرکل )نکلتی ہے : بازار سے گیہوں، چاول وغیرہ لا کر اس میں سے کنکر، تنکے وغیرہ بینے جاتے ہیں اور اس کو قابل استعمال بنایا جاتا ہے۔ اس غلاظت کو کرکری یا کرکل کہتے ہیں ۔ غلہ کو جتنا بینا جائے اُتنی ہی اس میں سے کرکل نکلے چلی جاتی ہے۔ ایک مناسب وقت کے بعد یہ کام ختم کر دینا چاہئے۔ اسی طرح کسی شخص سے متعلق کوئی تحقیق کی جائے تو جتنے زیادہ آدمیوں سے پوچھا جائے گا اتنی ہی برائیاں ملنے کا امکان ہے۔ علیٰ ہٰذا لقیاس۔
( ۱۴ ) جتنی دیگ اُتنی کھرچن : کام میں نفع اصل مال کی مناسبت سے ہوتا ہے۔ زیادہ مال لگایا جائے گا یا زیادہ محنت کی جائے گی تو فائدہ بھی اسی مناسبت سے زیادہ ہو گا۔کہاوت اسی جانب اشارہ کر رہی ہے
( ۱۵ ) جتنے دم اُتنے غم : قانون قدرت ہے کہ جتنی لمبی زندگی ہو گی اتنے ہی زیادہ رنج اور مسائل بھی ہوں گے۔
( ۱۶ ) جتنے منھ اتنی باتیں : جتنے لوگ ہوتے ہیں اتنی ہی طرح کی باتیں سننے میں آتی ہیں کیونکہ ہر شخص کی الگ رائے ہوتی ہے۔
( ۱۷ ) جدھر رَب، اُدھر سب : آدمی ہر اُس فیصلہ کو قبول کرنے پر مجبور ہے جو قدرت کی جانب سے پیش آتا ہے۔ قانون قدرت سے لڑ کر بجز نقصان کے اَور کچھ حاصل نہیں ہوتا۔
(۱۸) جدھر مولا،اُدھر آصف الدولہ : اَودھ کے نواب آصف الدولہ اپنی داد و دہش کے لئے بہت مشہور تھے۔ ان کے لئے ایک اور کہاوت مستعمل ہے کہ ’’جسے نہ دے مولا، اُسے دے آصف الدولہ۔‘‘ اِس کہاوت کا مطلب یہ ہے کہ آصف الدولہ بھی اللہ کی مرضی کا پابند ہے اور جتنا کسی کی قسمت میں لکھا ہے اس سے زیادہ وہ بھی نہیں دے سکتا۔ اس سلسلہ میں ایک حکایت مشہور ہے کہ ایک غریب آدمی دربار میں حاضر ہوا اور نواب صاحب سے مدد کا خواستگار ہوا۔انھوں نے حکم دیا کہ ایک تھیلی میں روپے اور دوسری میں پیسے بھر کر اس آدمی کے سامنے رکھ دئے جائیں۔ اُس شخص سے ایک تھیلی منتخب کرنے کو کہا گیا۔اس نے جو تھیلی چُنی اس میں پیسے تھے۔نواب صاحب نے کہا کہ ’’بھائی،یہ تمھاری قسمت کہ تم کو پیسے ملے۔ میں کیا کر سکتا ہوں۔جدھر مولا،اُدھر آصف الدولہ۔‘‘
(۱۹) جدھر جلتا دیکھیں اُدھر تاپیں : کچھ لوگ کوئی کام تب ہی کرتے ہیں جب اس میں ان کے لئے فائدہ کی کوئی صورت ہو۔ ان کی مثال ایسے شخص کی ہے جو وہیں ہاتھ تاپنے پہنچ جاتا ہے جدھر آگ جلتی ہوئی دیکھتا ہے چاہے وہ کسی کا گھر ہی کیوں نہ ہو۔
( ۲۰) جس کا کھائے اسی کا بجائے : بجائے یعنی ڈھول بجائے۔ جو احسان کرے اسی کی تعریف اور طرفداری بھی کی جاتی ہے۔ اسی معنی میں ’’ جس کا کھائے اُسی کا گائے‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔
( ۲۱) جس کو نہ دے مولا، اُسے دے آصف الدولہ : لکھنؤ کے بادشاہ نواب آصف الدولہ نہایت مخیر اور فیاض شخص تھے۔ یہ کہاوت اسی حقیقت کا اعتراف ہے کہ نواب آصف الدولہ کے دربار سے کوئی خالی ہاتھ واپس نہیں آتا۔
( ۲۲ ) جس کے پاس نہیں پیسا، وہ بھلا مانس کیسا : دُنیا میں امیروں کی سب عزت کرتے ہیں اور غریب کو کوئی نہیں پوچھتا اور دُنیا اُس کو بھلا مانس بھی ماننے سے انکار کرتی ہے۔
( ۲۳) جس تھالی میں کھائیں اُسی میں چھید کریں : یعنی کسی کے احسان کا بدلہ اپنے محسن کو نقصان یا دکھ پہنچا کر نہیں دینا چاہئے۔ ایسا کرنا جس تھالی میں کھا رہے ہوں اُسی میں چھید کرنے کے برابر ہے۔
(۲۴) جس کی لاٹھی، اُس کی بھینس : بھینس کی ملکیت کے جھگڑے میں بھینس ہمیشہ وہ شخص ہی لے جاتا ہے جس کے ہاتھ میں لاٹھی ہوتی ہے۔ یہ دُنیا طاقت کی دُنیا ہے، کمزوروں کا یہاں گزر نہیں۔ اس کہاوت کے بارے میں ایک قصہ مشہور ہے۔ایک شخص اپنی بھینس لئے جنگل میں سے گزر رہا تھا کہ ایک چور اس کے سامنے آ گیا اور لٹھ تان کر بھینس وہیں اس کے حوالے کر دینے کا حکم دیا۔ اُس شخص نے ڈر کر بھینس کی رسّی چور کے حوالے کی اور گڑ گڑا کر بولا کہ ’’راستہ خطرناک ہے۔ اگر اپنا لٹھ مجھ کو دے دو تو میں خیریت سے گھر چلا جاؤں۔‘‘ بے وقوف چور نے لاٹھی اُس کو دے دی۔ لاٹھی لیتے ہی وہ شخص اُسے تان کر چور پر لپکا کہ ’’یہ بھینس یہیں رکھ دے ورنہ تیرا سر پھاڑ دوں گا۔‘‘ چور نے گھبرا کر بھینس اس کے مالک کے حوالے کر دی اور وہاں سے بھاگ لیا۔
(۲۵) جس کا کام اُسی کو ساجھے، دوسرا بولے تو ڈنڈا باجے : ساجھنا یعنی بھلا لگنا۔ مطلب یہ ہے کہ جس شخص کو جس کام میں مہارت ہے وہی اس کو ٹھیک سے انجام دے سکتا ہے۔ کوئی دوسرا خواہ مخواہ اس میں گھسے گا تو نقصان اٹھائے گا اور کا م بھی خراب ہو گا۔
( ۲۶ ) جس تن لاگے وہی جانے : تن یعنی جسم، لاگے سے مراد تکلیف یا چوٹ ہے۔ یعنی جس پر برا وقت آتا ہے و ہی اس کی زحمت کو خوب سمجھتا ہے۔باہر والوں کو اس کا کم ہی علم ہوتا ہے۔
( ۲۷ ) جسے پیا چاہے وہی سہاگن : جو بیوی اپنے شوہر کی چہیتی ہو گی وہی سہاگن کہلانے کی مستحق ہو گی۔ اسی پر دوسری۔صورتوں کو قیاس کیا جا سکتا ہے جیسے استاد کا چہیتا شاگرد دوسرے شاگردوں کے لئے رشک کا باعث ہوتا ہے۔
(۲۸) جس کے نام کا ظہورا، اُسی کو گھاس کوڑا : ظہورا یعنی شہرت و ناموری۔ مطلب یہ ہے کہ جس شخص کی وجہ سے کسی کام میں ناموری اور شہرت حاصل ہو رہی ہے اس کی ہی کوئی وقعت اور عزت نہیں ہے۔ محل استعمال ظاہر ہے۔
(۲۹) جس نے کی شرم،ا ُس کے پھوٹے کرم : کہاوتوں میں کبھی کبھی الفاظ کا تلفظ بدل دیا جاتا ہے۔ جو لفظ جیسا عوام میں رائج ہوتا ہے اسی طرح کہاوت میں بھی آتا ہے۔ یہاں کرَم کی مناسبت سے شرَم (ر پر زبر کے ساتھ)کہا جائے گا۔ یعنی دُنیا ایسی بے فیض جگہ ہے کہ یہاں جو اپنا حق مانگنے میں جھجھکتا ہے وہ عموماً خالی ہاتھ رہ جاتا ہے جب کہ منھ پھٹ اور بے شرم کو اس کے حق سے زیادہ مل جاتا ہے۔ اسی کیفیت کو شاعر نے یوں نظم کیا ہے ؎
یہ دَورِ مے ہے، یاں کوتاہ دستی میں ہے محرومی جو بڑھ کر ہاتھ میں لے لے یہاں مینا اُسی کا ہے
( ۳۰) جس راہ نہیں چلنا اُس کے کوس کیا گِننا : کوس یعنی دو میل۔ جس راستہ سفر ہی نہیں کرنا ہے اس کے کوس شمار کرنا کوئی معنی نہیں رکھتا۔ چنانچہ جو کام ہمیں کرنا ہی نہیں ہے اس کی تفصیلات جان کر کیا حاصل۔
( ۳۱ ) جس کی دُم اٹھا کر دیکھا وہ نَر نکلا : اگر کسی نزاع میں دونوں فریق اپنی بات کی پخ میں بضد ہو کر کسی قسم کا سمجھوتا کرنے کو تیار نہ ہوں تو یہ کہاوت کا استعمال کی جاتی ہے کہ یہاں تو کسی مفاہمت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ ہر شخص نَر ہے یعنی بر خود غلط اپنی بات پر اَڑا ہوا ہے۔
( ۳۲) جس کے ہاتھ میں ڈوئی، اُسی کے سب کوئی : ڈوئی لکڑی کے بڑے چمچے کو کہتے ہیں۔ڈوئی کھانا پکانے والے کے ہاتھ میں ہوتی ہے اور ہر شخص اسی کی جانب نظر اٹھائے رکھتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جو صاحب اقتدار و اختیار ہوتا ہے اُسی سے لوگ اُمید رکھتے ہیں اور اُسی کے گُن گاتے ہیں۔ کہاوت انسان کی فطری خود غرضی کی جانب اشارہ کر رہی ہے۔
( ۳۳) جلدی کا کام شیطان کا : کام سوچ سمجھ کر اور آگا پیچھا دیکھ کر کرنا چاہئے۔ جلدی میں جو فیصلہ کیا جائے وہ اکثر غلط ہوتا ہے۔
( ۳۴) جل تو جلال تو، آئی بلا کو ٹال تو : مشکل وقت کو ٹالنے کی خاطر بزرگ یہ کلمہ بطور دُعا پڑھتے ہیں۔
(۳۵) جلے پاؤں کی بلی : بلی کا پاؤں جل جائے تو وہ سخت اضطرابی کیفیت میں مبتلا ہو جاتی ہے۔ کسی شخص کو ایک جگہ قرار نہ ہو تو اس کے لئے یہ کہاوت بولی جاتی ہے۔
(۳۶) جُلاہا کیا جانے جَو کاٹ : یعنی جُلاہے کو کیا خبر کہ جَو کی فصل کیسے کاٹی جاتی ہے۔ جب کسی آدمی کے ذمہ ایسا کام کیا جائے جس کا اسے کوئی تجربہ نہیں ہے تب یہ کہاوت بولتے ہیں۔ اس کہاوت سے ایک حکایت منسوب ہے۔ ایک جولاہے نے ایک ساہوکار سے قرض لیا۔وقت گزرتا گیا لیکن وہ اس کو ادا نہ کر سکا اور سود پر سود چڑھتا رہا۔ جب رقم بہت بڑھ گئی تو ساہوکار نے عاجز آ کر اس سے کہا کہ وہ قرض کی ادائیگی میں کچھ کام کر دے۔ چنانچہ جولاہا راضی ہو گیا اور ساہوکار نے اُس کو اپنے کھیت میں جَو کاٹنے کے کام پر بھیج دیا۔ جولاہے نے بھلا جَو کا کھیت کب دیکھا تھا جو وہ فصل کاٹتا۔ وہ اِدھر اُدھر دیکھتا تھا کہ سوت کی طرح کی کوئی چیز نظر آ جائے تو اپنا کام کرے۔ کسی نے اس کی یہ کس مپرسی کا عالم دیکھ کر یہ کہاوت کہی۔
( ۳۷ ) جل کی مچھلی جل میں ہی بھلی : ہر چیز اپنے فطری ماحول میں ہی بھلی معلوم ہوتی ہے، باہر نکل کر وہ بے جوڑ اور نا مناسب لگتی ہے۔کوئی بات معمول کے خلاف کی جائے تو یہ کہاوت بولی جاتی ہے۔
( ۳۸ ) جمعے کو نکاح،ہفتے کو طلاق : یعنی ابھی کام ہوا ہی تھا کہ فساد و نفاق کی نذر ہو گیا۔
(۳۹ ) جمعہ جمعہ آٹھ دن کی پیدائش ہے : یعنی ابھی بچے ہیں،نا تجربہ کاری کا عالم ہے۔
(۴۰) جنگل میں منگل ہونا : منگل ہونا یعنی خوشی منانا۔ جنگل ایسی جگہ کا استعارہ ہے جہاں کوئی جشن دیکھنے والا ہی نہیں ہے۔ کسی غیر معروف مقام پر اگر کوئی غیر معمولی خوشی واقع ہو تب یہ کہاوت کہتے ہیں۔
(۴۱) جنگل میں مور ناچا، کس نے دیکھا : مور اپنی دُم پھیلا کر رقص کرتا ہے تو نہایت خوبصورت معلوم ہوتا ہے۔لیکن اگر وہ جنگل میں ناچے جہاں کوئی دیکھنے والا نہ ہو تو ایسا ناچ کس کام کا؟ چنانچہ اگر کوئی بہت اچھا کام ایسی جگہ کیا جائے جہاں اس کی قدر نہ ہو تو یہ کہاوت بولی جاتی ہے۔
(۴۲ ) جنم جنم کا ساتھ ہے : بچپن کا ساتھ ہے،ایک مدت سے یارانہ یا تعلق خاطر ہے۔
(۴۳) جو گرجتے ہیں وہ برستے نہیں : گرجتے بادلوں کے بارے میں غلط مشہور ہے کہ ان میں بارش نہیں ہوتی۔ اسی مناسبت سے جو آدمی بڑی گھن گرج سے غصہ ظاہر کرے وہ عام طور پر غصہ کر کے ہی رہ جاتا ہے، کرتا کچھ نہیں ہے۔
( ۴۴ ) جوں جوں چڑیا موٹی اُتنی چونچ چھوٹی : یہ عام مشاہدہ ہے کہ اگر چڑیا کھا پی کر موٹی ہو جائے تو اس کی چونچ جسم کے مقابلہ میں چھوٹی معلوم ہوتی ہے۔ اسی مناسبت سے کہاوت کا مطلب یہ ہے کہ چھوٹے دل کے آدمی کو اگر دولت مل جائے تو وہ دولت کے بڑھنے کے ساتھ اتنا ہی کنجوس بھی ہوتا جاتا ہے۔
( ۴۵ ) جو بویا سو کاٹا : جیسا بیج بویا جائے ویسی ہی فصل ہوتی ہے۔ چنانچہ جیسا کام کیا جائے اس کا انجام بھی ویسا ہی ہوتا ہے۔
( ۴۶) جو بِندھ گیا سو موتی : جو چیز کا م آ جائے وہ اچھی۔ ظاہر ہے کہ جو چیز کسی کام نہ آسکے اس کی کوئی قیمت نہیں۔
(۴۷) جوانی اور مانجھا ڈھیلا : پتنگ باز اُبلے اور پسے ہوئے چاولوں میں بہت باریک پسا ہوا شیشہ ملا کر اس کی ’’لُگدی‘‘ بنا لیتے ہیں جس سے پتنگ کی ڈور کو سُوت کر اس پر باریک شیشہ کی دھار لگائی جاتی ہے۔ ایسی ڈور کو مانجھا کہتے ہیں۔ پتنگ بازی کے مقابلہ میں پتنگ باز حریف کی ڈور کو اپنی دھار دار ڈور سے کاٹنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اگر کسی کا مانجھا ڈھیلا ہو یعنی پتنگ کی اُڑان نے اُس کو کھینچ کر کس نہ دیا ہو تو اس کے کٹنے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ اسی مناسبت سے اگر کوئی شخص دیکھنے میں تو جوان و تنومند ہو لیکن ہمت کا کمزور ہو تو اس سے کہتے ہیں کہ’’ جوانی اور مانجھا ڈھیلا؟‘‘ یعنی دیکھنے میں تو اتنے مضبوط ہو لیکن ہمت کا یہ عالم ہے۔
( ۴۸) جویندہ یابندہ : یعنی جو ڈھونڈتا ہے وہی پاتا ہے۔ اپنا مقصد حاصل کرنے کے لئے کوشش اور زحمت ضروری ہے۔ اسی بات کو ایک دوسری کہاوت اس طرح ادا کرتی ہے کہ’’ ڈھونڈے سے تو خدا بھی مل جاتا ہے‘‘۔
(۴۹) جوتیوں میں دال بٹ رہی ہے : یعنی آپس میں جھگڑا اور گالم گلوج ہو رہا ہے۔ یہ کہاوت عام طور پر عزیزوں کے جھگڑے کے وقت کہی جاتی ہے۔ جوتیوں میں دال بٹنے کی منطق معلوم نہیں ہو سکی۔
( ۵۰) جوتے ہل تو پاوے پھل : یعنی محنت رائگاں نہیں جاتی اور اُس کا پھل ہمیشہ ملتا ہے۔
( ۵۱) جو جاگے گا سو پاوے گا، جو سووے گا سو کھوئے گا : کہاوت کے معنی اور محل استعمال ظاہر ہیں۔ کامیابی اسی کو ملتی ہے جو سوچ سمجھ کر کام کرتا ہے۔ جو شخص غفلت اور کاہلی کا شکار ہو اس کو عام طور پر ناکامی کا ہی منھ دیکھنا پڑتا ہے۔
( ۵۲ ) جواب جاہلاں باشد خموشی : یعنی جاہلوں کا جواب خاموشی سے دینا بہتر ہے۔ وہ عقل کی بات سمجھ نہیں سکتے اور اگر تھوڑی بہت سمجھ بھی لیں تو ماننے کو تیار نہیں ہوں گے اس لئے بہتر ہے کہ خاموشی سے کام لیا جائے۔ محل استعمال معنی سے ظاہر ہے۔
(۵۳) جوں کی چال : جوں رینگتی ہے۔ اسی مناسبت سے سست رفتاری کو جوں کی چال کہتے ہیں۔
( ۵۴) جہاں کا مردہ ہوتا ہے وہیں گڑتا ہے : یعنی ہر ایک کو اپنے کئے کا پھل مل کر رہتا ہے۔ برا کرنے والا آخر کا ر اپنے انجام کو پہنچ جاتا ہے۔
( ۵۵) جہاں مرغ نہیں بولتا وہاں کیا صبح نہیں ہوتی : قصہ مشہور ہے کہ ایک گاؤں میں ایک ہی شخص کے پاس مرغ تھا جو روز صبح اذان دیا کرتا تھا۔ ایک مرتبہ گاؤں والوں کی کسی بات سے وہ شخص خفا ہو گیا اور اپنا مرغ بغل میں دبا کر یہ کہتا ہوا وہاں سے چلتا بنا کہ جب کل سے میرا مرغ اذان نہیں دے گا تو گاؤں میں صبح ہی نہیں ہو گی۔کہاوت کا مطلب ہے کہ کوئی کام کسی پر موقوف نہیں ہے اور بہرکیف ہوہی جاتا ہے۔
(۵۶) جہاں گڑھا ہو گا وہاں پانی مرے گا : یعنی جو غلط کار ہو گا لوگ اس کی جانب ضرور انگلیاں اٹھائیں گے۔اسی مناسبت سے کہاوت کا عام مطلب یہ ہے کہ جہاں جو عیب یا کمی ہو گی خلقت اس کی گرفت ضرور کرے گی۔
( ۵۷ ) جہاں چار برتن ہوں کھڑکتے ہی ہیں : یعنی جس جگہ دس پانچ آدمی موجود ہوں گے وہاں اختلاف رائے اور آپس کے جھگڑے ضرور ہوں گے بالکل اسی طرح جیسے چار برتنوں کا آپس میں کھڑکنا فطری بات ہے۔
( ۵۸ ) جہاں دیکھیں تَوا پَرات،وہاں ناچیں ساری رات : تَوا روٹی پکانے میں استعمال ہوتا ہے۔پَرات یعنی بڑا طباق یا طشتری۔گویا جہاں سے کچھ ملنے کی اُمید ہوتی ہے لوگ وہیں مجمع لگاتے ہیں اور وہیں کے گن گاتے ہیں۔ جہاں سے کوئی امید نہ ہو وہاں کوئی کیوں جائے گا۔
( ۵۹) جھوٹے کے آگے سچا مرتا ہے : دُنیا کا دستور ہے کہ جھوٹے آدمی سے سچا آدمی عام طور پر ہار جاتا ہے۔
( ۶۰) جیسے کو تیسا : جو شخص جیسا ہوتا ہے ویسا ہی اُس کے سامنے آتا ہے۔ اس کوجیسی کرنی ویسی بھرنی بھی کہتے ہیں۔اس کہاوت سے متعلق ایک حکایت ہے۔ ایک راجا کا ہاتھی پانی پینے کے لئے روزانہ صبح تالاب پر لے جایا جاتا تھا۔راستہ میں ایک درزی کی دوکان پڑتی تھی۔ ہاتھی روزانہ اس کی دوکان میں اپنی سونڈ بڑھا دیتا اور درزی اسے کیلا یا کھانے کی کوئی اور چیز دے دیتا تھا۔ یہ دوستی کچھ دن ایسے ہی چلتی رہی۔ ایک دن دَرزی کے بجائے اس کا لڑکا دوکان پر بیٹھا تھا۔ ہاتھی نے ہمیشہ کی طرح جب دوکان میں سونڈ بڑھائی تو لڑکے نے شرارت سے کیلا دینے کے بجائے اس میں سوئی چبھو دی۔ ہاتھی تالا ب سے لوٹا تو اپنی سونڈ میں بہت سا پانی بھر لایا اور دوکان میں سونڈ ڈال کر درزی کے لڑکے پر زور سے دھار مارکر اسے شرابور کر دیا۔اس طرح جیسااس لڑکے نے کیا تھا ویساہی اس کے ساتھ ہوا۔
( ۶۱) جیسے کو تیساملا : یہ کہاوت ایک فرضی قصہ پر مبنی ہے۔ ایک لومڑی اور ایک سارس کی دوستی تھی۔ ایک دن لومڑی نے سارس کو اپنے گھر کھانے پر بلایا اور جب وہ آیا تو اس کے سامنے ایک رکابی میں گوشت کا شوربہ رکھ دیا۔ خود تو اپنی رکابی وہ زبان سے لپ لپ کر کے چاٹ گئی لیکن غریب سارس کو ایک بوند شوربہ بھی نصیب نہ ہوا۔ اُس نے لومڑی کا شکریہ ادا کیا اور دوسرے دن اُسے اپنے گھر کھانے پر آنے کی جوابی دعوت دی۔ جب لومڑی وہاں پہنچی تو سارس نے ایک لمبی گردن کی صراحی میں گوشت کا شوربہ اُس کے سامنے رکھ دیا۔ وہ خود تو اپنی صراحی کا شوربہ اپنی لمبی چونچ ڈال ڈال کر پی گیا لیکن لومڑی کو ایک بوند شوربہ بھی نہ ملا۔اسی کو جیسے کو تیساکہتے ہیں ۔
( ۶۲) جیسامنھ ویساتھپڑ : یعنی جیسا فضول یا گھٹیا سوال تھاویسا ہی جواب مل گیا۔ یہ کہاوت جیسا جرم ویسی ہی سزا کے معنی میں بھی مستعمل ہے۔
(۶۳) جیسے منھ میں دانت ہی نہیں ہیں : بچہ کے منھ میں دانت نہیں ہوتے اور اس میں سمجھ بھی بہت کم ہوتی ہے۔ کوئی شخص خود کو لا علم اور معصوم ظاہر کرے جب کہ وہ معاملہ سے واقف ہو تو یہ کہاوت طنزاً بولی جاتی ہے۔
(۶۴) جیسا راجا ویسی پرجا : پرجا یعنی رعایا۔جیسا حاکم ہو گا ویسی ہی اس کی رعایا بھی ہو گی کیونکہ رعایا کو بہر کیف اپنے حاکم کو خوش رکھنا ہے۔ نیک حاکم کی رعایا بھی زیادہ تر نیک ہوتی ہے جب کہ بد قماش حاکم کی رعیت بد نیتی کی طرف مائل ہوتی ہے۔
(۶۵) جیسی کرنی، ویسی بھرنی : یعنی جیسا عمل ہو گا ویسا ہی اس کا نتیجہ بھی سامنے آئے گا۔
( ۶۶) جیب میں نہیں کَھل کی ڈلی، چھیلا پھرے گلی گلی : کَھل یعنی کَھلی یا کولھو کی تلچھٹ جو جانوروں کو کھلائی جاتی ہے۔چھیلا یعنی مغرور اور نمائشی آدمی۔ مطلب یہ ہے کہ جیب تو خالی ہے لیکن گلی گلی شیخی بگھارتے گھوما جا رہا ہے جیسے بہت بڑی اوقات ہو۔ یہ کہاوت چھچھورے آدمی پر طنز ہے۔
( ۶۷) جیتی مکھی نہیں نگلی جاتی : کھانے پینے کی چیز میں مکھی گر جائے تو بہت کراہیت ہوتی ہے۔ کسی کام میں اگر کوئی کریہہ خرابی نظر آ جائے تو اس کا مناسب تدارک کیا جانا چاہئے یا اس سے مکمل احتراز۔ جانتے بوجھتے کام خراب کرنا دانشمندی نہیں ہے۔
(۶۸) جیون دھوپ چھاؤں کا میلا ہے : زندگی کا کوئی اعتبار نہیں ہے کہ یہ ہر وقت بدلتی رہتی ہے۔ کبھی یہاں دھوپ ہوتی ہے اور کبھی چھاؤں یعنی زندگی میں نرم و گرم چلتا ہی رہتا ہے۔
( ۶۹) جیسا دیس ویسا بھیس : آدمی جہاں رہتا ہو وہاں کے حالات سے سمجھوتا کر کے وہیں کے طور طریقے اختیار کر لینا چاہئیں ورنہ ہمیشہ غیر سمجھا جائے گا اور تکلیف اٹھائے گا۔
٭٭٭
چ۔کی کہاوتیں
(۱ ) چاندی کی رِیت نہیں،سونے کی توفیق نہیں : رِیت یعنی دستور۔ یعنی وہ وقت آ گیا ہے کہ دینے دلانے کے لئے چاندی کا دستورنہیں رہا کیونکہ وہ سستی ہوتی ہے اور سونا اتنا مہنگا ہے کہ خریدنے کی ہمت نہیں۔ یہ کہاوت اس وقت کہی جا تی ہے جب کسی کو چھوٹا موٹا تحفہ دینا مناسب نہیں معلوم ہوتا اور مہنگا تحفہ خریدنا اپنی مقدرت میں نہیں ہوتا۔
( ۲ ) چار دن کی چاندنی ہے پھر اندھیری رات : پورا چاند بہت کم وقت کے لئے نکلتا ہے جب کہ اس کے بعد آنے والی اندھیری رات لمبی ہوتی ہے۔ زندگی کی خوشیاں بھی ایسی ہی کم مدت کے لئے ہوتی ہیں اور انسانی مشکلات کی مدت طویل ہوتی ہے۔ کہاوت میں عبرت کے ساتھ یہ تنبیہ بھی ہے کہ زندگی کی چار دن کی چاندنی سے جس قدر لطف اندوز ہوا جا سکے اچھا ہے کیونکہ اس کے بعد معلوم نہیں اندھیری رات میں کیا پیش آئے۔ کسی کی شہرت یا دولت کی بے ثباتی کو ظاہر کرنا ہو تو بھی یہ کہاوت بولتے ہیں۔
( ۳ ) چادر دیکھ کر پیر پھیلاؤ : دیکھئے’’ جتنی چادر ہو اُتنے پانو ٔ پھیلانا چاہئے۔ ‘‘
( ۴ ) چار اَبرو صاف : دنیا کے علائق کو ترک کرنے کی علامت کے طور پر بعض فقیرسر کے بال، ابرو، مونچھیں اور داڑھی منڈا لیتے ہیں۔ اسی کوچار ابرو صاف کرنا کہتے ہیں گویا دنیا چھوڑ دی ہے۔
(۵) چاند پر تھوکنا : اگر چاند کی جانب منھ کر کے تھوکا جائے تو تھوک خود اپنے اوپر ہی آ گرتا ہے۔ گویا یہاں یہ تنبیہ مقصود ہے کہ اپنے سے بڑے شخص کی برائی سے بچنا چاہئے کیونکہ اس کے خراب نتائج برائی کرنے والے شخص کو ہی بھگتنے پڑتے ہیں۔
(۶) چار چاند لگ گئے : یعنی رونق اور شان بڑھ گئی۔
(۷) چاندی کی جوتی : رِشوت کو چاندی کی جوتی کہا جاتا ہے کیونکہ کسی کو رشوت دینا در اصل اس کو جوتے سے مار نے اور بے عزت کرنے کے مترادف ہے۔ چونکہ چاندی کے روپے رشوت میں دئے جا رہے ہیں اس لئے یہ جوتی چاندی کی ہے۔
(۸) چاک اُتر اپھر نہیں چڑھتا : چاک یعنی لوہے کا وہ چکر جو بیل گاڑی کے پہیے پر چڑھایا جاتا ہے۔ چاک ایک مرتبہ اتر جائے تو پھر نہیں چڑھایا جا سکتا۔ اسی مناسبت سے اگر کوئی کام ایسا بگڑے کہ اصلاح کے قابل نہ رہے تو یہ کہاوت بولتے ہیں۔
( ۹) چام پیارا نہیں کام پیارا ہے : چام یعنی چمڑی یا جسم کی کھال۔ لوگوں کو کام عزیز ہوتا ہے نہ کہ کام کرنے والا۔
(۱۰) چپ کی داد خدا کے ہاں : اگر کسی پر ظلم ہو اور وہ صبر سے اُسے برداشت کر لے تو کہتے ہیں کہ اس کی خاموشی کا صلا اللہ کے یہاں ملے گا۔ کمزور اور غریب آدمی کے پاس اس کے سوا اور کوئی چارہ نہیں ہوتا کہ وہ اللہ پر بھروسہ کر کے چپ ہو رہے۔
( ۱ ۱) چپے بھر کوٹھری،میاں محلہ دار : یعنی حیثیت تو اتنی مختصر ہے لیکن باتیں بڑی بڑی ہیں جیسے کسی چھوٹی سی کوٹھری کا مالک خود کو سارے محلہ کے سربراہ کی حیثیت سے پیش کرے۔ محل استعمال معنی سے ظاہر ہے۔
(۱۲ ) چُپ شاہ کا روزہ رکھا ہے : لوگ عقیدتاً مختلف بزرگوں کے نام سے منتوں کے روزے رکھتے ہیں۔ کوئی شخص چپ سادھ لے اور ہر بات کا جواب اس کے پاس خاموشی ہو تو طنزیہ کہتے ہیں کہ اس نے چپ شاہ کا روزہ رکھ چھوڑا ہے۔
(۱۳) چِت بھی میرا،پَٹ بھی میرا،دونوں میرے با پ کے: سکّے کے ایک رُخ کو چِت اور دوسرے کو پَٹ کہتے ہیں۔ کسی معاملہ کا فیصلہ کرنے کے لئے سکّہ اُچھالا جاتا ہے۔اگر فریقین میں سے ایک زیادہ طاقتور ہو تو وہ ہر صورت میں اپنی طاقت کے بل پر جیت جاتا ہے اور علی الاعلان جیتتا ہے۔ کہاوت اسی صورت کو ظاہر کر رہی ہے۔ اسے ’’زبردست کا ٹھینگا سر پر ‘‘ بھی کہتے ہیں۔
( ۱۴) چٹ روٹی پٹ دال : یعنی اِدھر روٹی تیار ہوئی اور اُدھر فوراً دال بھی بن گئی گویا اولتا آخر معاملہ آناً فاناً نمٹ گیا۔
(۱۵) چٹ منگنی پٹ بیاہ : منگنی اور شادی کے درمیان عموماً کچھ دنوں کا وقفہ ہوتا ہے۔ منگنی کے فوراً بعد ہی بیاہ کسی غیر معمولی وجہ کی بنا پر ہوتا ہے۔ چٹ پٹ یعنی فوراً۔ اگر دو کام یکے بعد دیگرے غیر معمولی جلد بازی سے انجام دئے جائیں تو یہ کہاوت بولی جاتی ہے۔
( ۱۶) چراغ سے چراغ جلتا ہے : پرانے زمانے میں گھر چراغ سے روشن کئے جاتے تھے۔ ایک چراغ جلا کر اُس کی لو سے دوسرے جلائے جاتے تھے۔اس پس منظر میں کہاوت کا مطلب یہ ہوا کہ ایک شخص سے فیض اور علم دوسروں تک پہنچتا ہے۔
( ۱۷ ) چرا عاقل کند کارے کہ باز آید پشیمانی : یعنی عقل مند آدمی ایساکام ہی کیوں کرے کہ بعد میں پشیمانی کا سامناکر نا پڑے۔ کہاوت میں تاکید و ترغیب ہے کہ ہر کام آگا پیچھا سوچ کر کرنا چاہئے۔
( ۱۸ ) چراغ گل پگڑی غائب : یعنی لا قانونیت اتنی بڑھ گئی ہے کہ اِدھر اندھیرا ہوا اور اُدھر کسی اور چیز کا تو ذکر ہی کیا سر سے پگڑی بھی چوری ہو گئی۔
(۱۹) چراغ تلے اندھیرا : پرانے زمانے میں گھروں میں رات کو چراغ جلائے جاتے تھے۔ چراغ کے نیچے اندھیرا ہوتا ہے جب کہ وہ سارے گھرکو روشن کرتا ہے۔اسی رعایت سے اگرکسی شخص سے ساری دُنیا کو فیض پہنچے لیکن اس کے قریب کے لوگ محروم رہیں تو یہ کہاوت بولی جاتی ہے۔اس کا پس منظر ایک حکایت بیان کرتی ہے۔ ایک سوداگر سفر کرتا ہوا ایک بادشاہ کے قلعہ کے پاس پہنچا تو رات ہو چکی تھی اور قلعہ کا دروازہ بند کیا جا چکا تھا۔ا س نے قلعہ کی دیوار کے سایہ میں رات گزارنے کی ٹھانی کہ بادشاہ کے ڈر سے یہاں کوئی بدمعاش ہمت نہیں کرے گا۔رات کو چور اس کا سارا سامان چرا کر رفو چکر ہو گئے۔ صبح سوداگر اٹھا تو اپنی بدحالی کی فریاد لے کر بادشاہ کے سامنے گیا۔بادشاہ نے اس سے پوچھا کہ ’’تم قلعہ سے باہر کھلے میدان میں آخر سوئے ہی کیوں ؟‘‘ اُس نے عرض کیا کہ ’’حضور! مجھ کو اطمینان تھا کہ آپ کا اقبال میری حفاظت کرے گا اور کسی کو مجھے لوٹنے کی ہمت نہ ہو گی۔ مجھے خبر نہیں تھی کہ چراغ تلے اندھیرا ہوتا ہے۔‘‘
( ۲۰ ) چرسی یار کِس کے، دم لگایا کھسکے : چرسی یعنی چرس کا نشہ کرنے والے۔ چرسی کسی کے دوست نہیں ہوتے۔ انھیں تو بس چرس کا دم لگانے سے مطلب ہوتا ہے۔ جہاں یہ پورا ہوا پھر وہ کسی کے نہیں۔ یہ کہاوت مطلبی اور خود غرض شخص کے لئے بولی جاتی ہے۔
( ۲۱) چڑھتے سورج کو سب پوجتے ہیں : سورج کی پرستش صبح کے وقت ہی کی جاتی ہے۔ شام کو جب سورج ڈوب رہا ہو تو کوئی اس کو نہیں پوجتا کیونکہ وہ زوال کی نشانی ہے۔ کہاوت کا مطلب یہ ہے کہ ہر آدمی صرف اُسی شخص کا دم بھرتا ہے جس کا ستارہ عروج پر ہو۔ کسی شکست خوردہ اور زوال پذیر شخص کی جانب کوئی آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھتا۔
( ۲۲) چڑھ جا بیٹا سُولی پر، رام بھلی کرے گا : سُولی یعنی پھانسی کا تختہ۔ یہ جملہ لوگ تب کہتے ہیں جب کوئی مشکل کام کرنا ہو لیکن اس کو خود انجام دینے کے بجائے کسی اور کو تیار کرنے کی کوشش کی جائے۔ رام بھلی کرے گا یعنی اَللہ حافظ و ناصر ہے۔
( ۲۳) چشم بد دُور : یہ دُعائیہ فقرہ ہے جو کسی عزیز کو بری نظر سے بچانے کی خاطر کہا جاتا ہے۔
( ۲۴) چکنا گھڑا ہے : چکنے گھڑے پر پانی نہیں ٹھیرتا ہے۔ اسی مناسبت سے بے غیرت آدمی کو چکنا گھڑا کہا جاتا ہے کیونکہ اس پر کسی بات کا اثر نہیں ہوتا۔
(۲۵) چلتی کا نام گاڑی ہے : یعنی جیسے تیسے کام چل ہی رہا ہے سو اِسی پر صبر کر لینا چاہئے۔
( ۲۶) چمڑی چلی جائے دمڑی نہ جائے : چمڑی یعنی بدن کی کھال۔ دمڑی پہلے زمانے میں پیسے کے ایک بہت چھوٹے حصہ کو کہتے تھے۔ اب یہ بے وقعتی کے استعارے کے طور پر بولی جاتی ہے۔ کہاوت میں انتہائی کنجوس آدمی کا ذکر ہے جو ایک دمڑی بھی ہاتھ سے دینے کو تیار نہیں ہے چاہے اس کی پاداش میں اس کی کھال ہی کیوں نہ کھینچ لی جائے۔
( ۲۷ ) چندے آفتاب، چندے ماہتاب : چاند اور سورج کی طرح روشن اور خوب صورت۔
( ۲۸ ) چنڈو خانے کی گپ : یعنی بے پر کی خبر، بے بنیاد بات جیسی چنڈو خانے میں لوگ نشہ میں آ کر کیا کرتے ہیں۔
(۲۹ ) چوری اور سینہ زوری : سینہ زوری یعنی بے حیائی۔ ایک تو چوری کی اور اوپر سے اپنی حرکت پر شرم بھی نہیں آتی۔
(۳۰) چور کو چور ہی سوجھتا ہے : یعنی چور دوسروں کو بھی چور سمجھتا ہے۔ انسان کی فطرت ہے کہ وہ سب کو اپنی ہی طرح سمجھتا ہے۔
( ۳۱) چو مکھی لڑتا ہے : چاروں جانب سے دشمنوں کے حملے کا مقابلہ کرتا ہے۔ لڑنے میں بہت تیز اور بہادر ہے۔
( ۳۲) چوری کا گڑ میٹھا : یوں تو گڑ میٹھا ہوتا ہے لیکن اگر چوری سے حاصل کیا جائے تو کچھ زیادہ ہی میٹھا محسوس ہوتا ہے۔ یعنی جو فائدہ بھی ناجائز طریقہ سے حاصل کیا جائے وہ زیادہ پر لطف لگتا ہے۔
( ۳۳) چور اور لٹھ دو جَنے، ہم باپ پوت اکیلے : جَنے یعنی لوگ۔ جب کوئی شخص اپنے دفاع میں فضول اور بے تکی تاویل پیش کرے تو یہ کہاوت بولی جاتی ہے۔ اس کہاوت سے ایک قصہ منسوب ہے۔ ایک شخص اپنے بیٹے کے ہمراہ کہیں جا رہا تھا۔ایک سنسان جگہ میں اچانک ایک لٹھ بند چور سامنے آ گیا اور دھمکی دے کر اُ س کا سارا سامان چھین لیا۔جب وہ شخص اپنے گاؤں پہنچا اور لوگوں کو قصہ سنایا تو انھوں نے حیرت کا اظہار کیا کہ ایسا کیسے ہو گیا۔اس آدمی نے یہ کہاوت کہی یعنی ’’چور اور اُس کا لٹھ تو دو تھے اور ہم باپ بیٹے اکیلے۔ پھر بھلا دو کے آگے ہم ایک کیا کر سکتے تھے۔‘‘
( ۳۴) چور کو کھٹکے کا ڈر : چوری کرتے وقت چور کے کان کھڑے رہتے ہیں۔ اِدھر ذرا سا کھٹکا ہوا اور اُدھر وہ رفو چکر ہوا۔ یعنی غلط کام کرنے وا لا چوکنا رہتا ہے اور اُس پر ایک اضطراری کیفیت طاری رہتی ہے۔
( ۳۵) چور کے پاؤں کہاں : یہ کہاوت بھی چور کی حالت بیان کر رہی ہے جو ذرا سی آہٹ پا تے ہی بھاگ کھڑا ہوتا ہے۔
(۳۶ ) چُونی بھی کہے مجھے گھی سے کھاؤ : چونی یعنی بھوسی جانوروں کو کھلائی جاتی ہے۔ کوئی شخص اس کو گھی تو کیا کسی چیز سے بھی نہیں کھاتا۔اگر کوئی بے وقعت شخص اس کی اُمید کرے کہ اس کو بھی بڑے لوگوں کے برابر جگہ دی جائے تو یہ کہاوت کہی جاتی ہے۔
(۳۷) چولی دامن کا ساتھ : پہلے زمانے میں خواتین اپنے دوپٹہ کا پلو قمیص کے گلے میں اُڑس لیتی تھیں تاکہ وہ کسی اور چیز میں اُلجھ کر اُن کی بے پردگی کا باعث نہ ہو۔ یہ گویا چولی دامن کا ساتھ ہوا جو انتہائی قربت کی نشانی ہے۔ یہ کہاوت دو چیزوں کی انتہائی قربت کو ظاہر کرتی ہے۔ مثلاً غزل اور محبت کے جذبات کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔
( ۳۸ ) چور کا بھائی اٹھائی گیرہ : اٹھائی گیرہ یعنی جو نظر بچا کر مال لے اُڑے۔ چور اور اٹھائی گیرہ ایک ہی برادری کے فرد ہیں۔ دو بد قماش اور بد اطوار آدمی یکجا ہو جائیں تو یہ کہاوت کہی جاتی ہے۔
(۳۹) چور چوری سے جاتا ہے، ہیرا پھیری سے نہیں جاتا : یعنی پرانی عادتیں اور خاص کر بُری عادتیں آسانی سے نہیں چھٹتی ہیں۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے چور اپنی چوری کی عادت بھلے ہی چھوڑ دے لیکن ادھر اُدھر دیکھنا بھالنا اور موقعے تاڑنا اس سے نہیں چھوٹتا۔ اس کہاوت کے پس منظر کے طور پر ایک حکایت بیان کی جاتی ہے۔ ایک چو رنے آخری عمر میں چوری سے توبہ کر لی اور اللہ کی یاد میں باقی زندگی بسر کرنے کی ٹھانی۔ وہ فقیروں کے ایک گروہ میں شامل ہو گیا اور عبادات میں لگ گیا لیکن چوری کی پرانی عادت رہ رہ کر اس کو پریشان کرتی تھی۔ چنانچہ جب سب فقیرسو جاتے تو راتوں کو وہ اٹھ کر چپکے چپکے ان کی جھولیاں ٹٹولا کرتا تھا۔ ایک دن ایک فقیر کی آنکھ کھل گئی۔ اس نے جو اپنے ساتھی کو جھولیاں ٹٹولتے دیکھا تو یہ کہاوت کہی۔
(۴۰) چور کی داڑھی میں تنکا : روایت ہے کہ ایک قاضی صاحب کے سامنے چوری کا مقدمہ پیش کیا گیا۔ حاضرین میں سے کسی نے چوری کی تھی لیکن کوئی اقبال جرم کے لئے تیار نہیں تھا۔ قاضی صاحب نے اعلان کیا کہ ’’میں ایک ایسی دُعا جانتا ہوں جس کے اثر سے چور کی داڑھی میں خود بخود ایک تنکا پیدا ہو جاتا ہے اور اس طرح اس کو پہچانا جا سکتا ہے‘‘۔ یہ کہہ کر انہوں نے بظاہر نہایت خضوع و خشوع سے کوئی دُعا پڑھنی شروع کی۔ اس دوران میں سب کی نظریں بچا کر ایک شخص چپکے چپکے اپنی داڑھی میں انگلیوں سے کنگھی کرنے لگا جیسے تنکا نکالنے کی کوشش کر رہا ہو۔ قاضی صاحب تو تاک میں تھے ہی لہٰذا فوراً اس شخص کو پکڑ لیا گیا اور اس نے اقبال جرم کر لیا۔ کہاوت کے معنی یہ ہوئے کہ مجرم کے دل کا چور کسی نہ کسی طرح ظاہر ہو ہی جاتا ہے۔
(۴۱) چہ دل اور است دُزدے کہ کفے چراغ دارد : یعنی چور کی ہمت تو دیکھو کہ ہتھیلی پر چراغ لے کر چوری کرنے آیا ہے۔ یہ کہاوت تب کہتے ہیں جب کوئی شخص کھلم کھلا غلط کام کرے اور اسے پکڑے جانے کا کوئی خوف یا شرم نہ ہو۔
( ۴۲) چھکّے چھوٹ گئے : ہمت ٹوٹ گئی، خوف و ہراس پھیل گیا۔
( ۴۳) چھوٹا منھ بڑی بات : یعنی کم حیثیت کا ہوتے ہوئے بڑی بڑی باتیں کرنا۔ یہ فقرہ لوگ انکساری ظاہر کرنے کے لئے بھی استعمال کرتے ہیں ۔عام طور پر یہ کہاوت چھچھورے پن کے اظہار پر کہی جاتی ہے۔
( ۴۴) چھاج تو چھاج بی چھلنی بھی بولیں جس میں بہتر چھید : یہاں چھاج ایک بے وقعت چیز کی علامت ہے۔ چھلنی بھی اتنی ہی بے وقعت ہوتی ہے، ساتھ ہی اس میں بہت سے سوراخ بھی ہوتے ہیں جو اس کی قیمت کو مزید گھٹانے کا استعارہ ہیں۔ یہ کہاوت ایسے وقت بولی جاتی ہے جب کسی معاملہ میں کوئی کم حیثیت آدمی کچھ بولے اور اس کی تائید اس سے بھی زیادہ کمزور شخص کرے۔
(۴۵) چھچھوندر کے سر میں چنبیلی کا تیل : یعنی نکمے یا نا اہل آدمی کو رُتبہ یا اعلیٰ مقام حاصل ہو گیا جس کا وہ مطلق مستحق نہیں تھا۔ یہ ایسی ہے بات ہے جیسے چھچھوندر جیسی کم اصل کے سر میں چنبیلی کا تیل ڈال دیا جائے جو وقت اور پیسے دونوں کا ضیاع ہے۔
(۴۶) چھپے رُستمؔ ہونا : رُستمؔ قدیم ایران کا ایک مشہور پہلوان گزرا ہے۔ اب لفظ رُستم بہادر شخص کا مترادف ہو کر رہ گیا ہے۔ اگر کوئی شخص ایسا بڑا کام کر ے جس کی اس سے امید نہ ہو تو اُسے چھپا رستم کہا جاتا ہے۔
(۴۷) چھٹی کا دودھ یاد آ گیا : بچہ کی پیدائش کے چھٹے دن اس کا سر مونڈا جاتا ہے( مونڈن، عقیقہ)۔ یہ نہیں معلوم کہ یہاں اس دن کا دودھ کیوں مذکور ہے۔ کہاوت کا مطلب ہے کہ بڑی تکلیف اٹھائی یا بہت بڑی آزمائش سے گزرے۔
(۴۸) چھیلی گئی جی سے، پھاپھا کُٹنی کو بھاویں ہی نہیں : چھیلی یعنی کمسن لڑکی۔ کُٹنی یعنی نہایت چال باز اور فریب کار عورت جس کو دوسروں کی لگائی بجھائی میں مزا آتا ہو۔ پھاپھا تحقیر کا لفظ ہے اور عورتوں کی مخصوص زبان ہے۔جی سے گئی یعنی جان سے گئی۔ بھاویں نہیں یعنی بھاتا ہی نہیں۔ کہاوت کا مطلب یہ ہوا کہ بیچاری معصوم لڑکی کی تو زندگی تباہ ہو گئی لیکن ظالم کٹنی کو پھر بھی چین نہیں آیا۔ جب کسی کی فریب کاری سے کسی اَور کا بہت نقصان ہو چکا ہو لیکن پھر بھی وہ اُس کے در پے آزار ہو تو یہ کہاوت بولی جاتی ہے۔
( ۴۹ ) چیونٹی کی موت آتی ہے تو اُس کے پر نکل آتے ہیں : عام مشاہدہ ہے کہ چیونٹی کے پر نکل آئیں تو وہ چراغ کی جانب جاتی ہے اور جل کر مر جاتی ہے۔پَر نکلنا یعنی غرور کا شکار ہونا۔ کسی کے بر ے دن آتے ہیں تو اس میں غرور و تکبر پیدا ہو جاتا ہے اور پھر بہت جلد وہ اپنے کیفر کردار کو پہنچ جاتا ہے۔
( ۵۰) چیل کے گھونسلے میں ماس کہاں : ماس یعنی گوشت۔ یہ اُمید کرنا کہ چیل کے گھونسلے میں گوشت مل جائے گا بے کار بات ہے۔ یہ فقرہ مرزا غالبؔ کے ایک شعر کا دوسرا مصرع ہے۔مشہور ہے کہ مرزا غالبؔ کے چہیتے پوتے ان کی صندوقچی کھول کر اس میں پیسے تلاش کر رہے تھے۔ مرزا صاحب نے یہ دیکھ کر فی البدیہہ شعر کہا کہ ؎
پیسہ دھیلا ہمارے پاس کہاں چیل کے گھونسلے میں ماس کہاں
(۵۱) چیونٹی بھی دبنے پر کاٹ لیتی ہے : چیونٹی ایک نہایت حقیر کیڑا ہے لیکن اگراُسے بھی چھیڑا جائے تو وہ بھی اپنے دفاع میں کاٹ لیتی ہے۔ یعنی کوئی شخص کتنا ہی کمزور ہو اگر اپنے حالات سے عاجز آ جائے تو اپنی مقدرت بھر وہ بھی کچھ نہ کچھ کر بیٹھتا ہے۔
( ۵۲) چیونٹی کے پر نکل آئے : جب چیونٹی کی موت آنے والی ہوتی ہے تو اس کے پر نکل آتے ہیں۔ اسی مناسبت سے کہاوت کا مطلب ہے کہ اب برے دن آ گئے ہیں، انجام برا ہونے والا ہے۔
(۵۳) چیونٹیوں سے بھرا کباب : کباب بذات خود لذیذ اور اچھی چیز ہے لیکن اگر چیونٹیوں سے بھرا ہو تو بیکار اور نقصان دہ ہے۔اسی سے کہاوت کا استعمال قیاس کیا جا سکتا ہے۔
٭٭٭
ح۔کی کہاوتیں
( ۱) حاتم طائی کی قبر پر لات ماردی : پہلے زمانے میں حاتم طائی نامی ایک شخص اپنی سخاوت اور فیاضی کے لئے مشہور تھا۔ اس کا نام وسیع القلبی کے لئے اب استعارہ بن گیا ہے۔ اگر کوئی کسی پر ذرا سا احسان کرے اور ایسے جتائے جیسے اتنا بڑا کام کبھی کسی نے کیا ہی نہیں ہے تو اس کے بیجا تکبر کو حاتم طائی کی قبر پر لات مارنا کہتے ہیں ۔
(۲ ) حاکم کی اَگاڑی اور گھوڑے کی پچھاڑی سے بچنا چاہئے : حاکم کے سامنے بے ضرورت آنا خطرہ سے خالی نہیں ہوتا ہے کیونکہ وہ کسی بات پر بھی خفا ہو سکتا ہے۔اسی طرح گھوڑ ے کے پیچھے کھڑا نہیں ہونا چاہئے کیونکہ وہ کسی وقت بھی دولتّی مار سکتا ہے۔
( ۳ ) حاکم کے تین اور شحنے کے نو : شحنہ یعنی شہر کوتوال۔ حاکم وقت تک رشوت اس کے کارندوں کے توسط سے ہی پہنچتی ہے جو اپنا حصہ پہلے نکال لیتے ہیں یہ حصہ حاکم سے زیادہ ہی ہوتا ہے کیونکہ اور کسی کو علم ہی نہیں ہوتا کہ کتنی رشوت ملی اور کتنی حاکم کو دی گئی۔
(۴ ) حال کا نہ قال کا، روٹی اور دال کا : ایسے ناکارہ اور خود غرض آدمی کے لئے کہا جاتا ہے جو کسی مصرف کا نہ ہو اور جس کو صرف اپنے مطلب کی ہی فکر ہو۔
( ۵) حرام کا مال گلے میں اٹکے : غلط طریقے سے حاصل کیا ہوا مال آسانی سے ہضم نہیں ہوتا۔حرام خور کا ضمیر ملامت ضرور کرتا ہے۔
( ۶ ) حسابِ دوستاں دَر دِل : دوستوں کا حساب کتاب دل میں ہوتا ہے۔زبان پر آ کر یہ حجت اور تلخی کا باعث ہو سکتا ہے۔
( ۷ ) حصہ تیرا تہائی، اتنا برتن کیوں لائی : یہاں ایک فرضی عورت سے خطاب ہے کہ مال غنیمت میں تیرا حصہ تو صرف ایک تہائی تھا، پھر تو اتنا بڑا برتن کیوں لائی ہے؟ جب کوئی اپنے حق سے زیادہ کا طلبگار ہو تب یہ کہاوت کہی جاتی ہے۔
(۸) حقہ پانی بند کرنا : پرانے زمانے میں دستور تھا کہ مہمان کی خاطر تواضع حقہ اور ٹھنڈے پانی سے کی جاتی تھی۔ برادری یا محلہ میں اگر کوئی شخص کسی جرم کا مرتکب ہوتا تو بزرگوں کی پنچایت بیٹھتی اور سزا کے طور پر اس کا حقہ پانی بند کر دیتی۔ اس طرح اس کا سوشل بائیکاٹ ہو جاتا تھا۔ اس کے بعد سب لوگ اس شخص اور اُس کے گھر والوں سے ہر قسم کا رابطہ منقطع کر دیتے تھے۔ جب تک وہ پنچایت کی شرائط پر راضی نہیں ہو جاتے تھے ان کا حقہ پانی بند رہتا تھا۔ گویا اس کہاوت کا مطلب کسی کا مکمل سماجی مقاطعہ یعنی سوشل بائیکاٹ کر دینا ہے۔
( ۹ ) حکم حاکم، مرگ مفاجات : مُفاجات یعنی وہ چیز جو اچانک آ کر پکڑ لے۔ مطلب یہ ہے کہ حاکم وقت کا حکم ایسا ہی ہوتا ہے جیسے اچانک آ جانے والی موت، گویا اس کی تعمیل سے فرار ممکن نہیں ہے۔
( ۱۰ ) حلق سے نکلی خلق میں پہنچی : یعنی جو بات منھ سے نکل جائے وہ آناً فاناً چاروں طرف پھیل جاتی ہے۔یہی بات ایک اور کہاوت منھ سے نکلی،ہوئی پرائی بات میں بھی کہی گئی ہے۔
(۱۱) حلوائی اپنی دہی کو کھٹا نہیں کہتا : کو ئی انسان اپنی برائیاں دوسروں کو نہیں بتاتا ہے۔ یہ ایسی ہی انہونی بات ہے جیسے کوئی حلوائی اپنی دہی کو خود ہی کھٹا بتائے۔ جب کوئی شخص اپنی چیز میں خوبی ہی خوبی بتائے تب یہ کہاوت بولی جاتی ہے۔
( ۱۲ ) حلوائی کی دوکان، دادا جی کی فاتحہ : کوئی شخص مفت ہی کوئی بڑا کام کرا نے کی کوشش کرے تو یہ کہاوت کہی جاتی ہے۔ حلوائی کی دوکان میں اپنا پیسہ نہیں لگا ہوتا گویا تمام مال مفت کا ہوتا ہے اور دادا جی کی فاتحہ استعارہ ہے کسی بڑے اور نیک کام کا۔
(۱۳ ) حور کی بغل میں لنگور : کسی حسینہ کے ہمراہ بد شکل آدمی ہو تو یہ کہاوت کہی جاتی ہے۔
( ۱۴ ) حیلہ رزق، بہانے موت : زندگی میں ہر چیز کسی نہ کسی بہانے ہوتی ہے۔ رزق ملتا ہے تو قدرت اس کا کوئی حیلہ یا بہانہ پیدا کر دیتی ہے اور موت آتی ہے تو اس کا بھی بہانہ ہوتا ہے۔
٭٭٭
خ۔کی کہاوتیں
( ۱) خاک نہ دھول، بکائن کے پھول : بکائن ایک خود رو پودا ہے جس کے پھول کسی کام کے نہیں ہوتے۔ اسی مناسبت سے یہ کہاوت ہے کہ جو بات ہو رہی ہے وہ خاک اور دھول کے برابر بھی نہیں ہے جیسے کہ بکائن کے پھول ہوا کرتے ہیں۔
( ۲) خالہ جی کا گھر نہیں ہے : خالہ کے گھر کو ہر شخص اپنا ہی گھر تصور کرتا ہے۔ کہاوت کا مطلب ہے کہ کام اتنا آسان نہیں ہے جتنا سمجھ رہے ہو۔
( ۳) خالی دماغ شیطان کی کار گاہ ہوتا ہے : آدمی اگر بیکار بیٹھا ہو تو اس کا دماغ فضول اور بے کار خیالات کی آماجگاہ بن جاتا ہے۔ اسی لئے دماغ کو کسی کام میں لگائے رکھنا بہتر ہے۔
( ۴ ) خالی ہاتھ منھ کو نہیں جاتا : جس طرح خالی ہاتھ سے بھوک نہیں مٹتی اسی طرح بغیر اپنے فائدہ کے کوئی کسی کا کام نہیں کرتا۔
( ۵ ) خدا کو دیکھا نہیں ،عقل سے تو پہچانا ہے : ا للہ کو کسی نے نہیں دیکھا البتہ اس کی قدرت اور ربوبیت ہر طرف نظر آتی ہے اور یہ ثبوت عقل مند آدمی کے لئے کافی ہے۔
( ۶ ) خدا دیتا ہے تو چھپّر پھاڑ کر دیتا ہے : یعنی اللہ کی بخشش کا کوئی حساب نہیں ہے۔وہ جس کو چاہتا ہے، جتنا چاہتا ہے دیتا ہے۔
( ۷) خدا گنجے کو ناخن نہ دے : اگر گنجے آدمی کے ناخن بڑھے ہوئے ہوں گے تو وہ سر کھجا کھجا کر زخم کر لے گا۔اس لئے ناخن کا نہ ہونا اس کے حق میں بہتر ہے۔ اسی مناسبت سے اگر ظالم اور بد قمار آدمی کے ہاتھ میں طاقت آ جائے تو وہ کمزوروں پر ظلم کرے گا۔ ایسے شخص کے پاس طاقت کا نہ آنا دوسروں کے لئے نعمت سے کم نہیں۔
( ۸) خدا کی چوری نہیں تو بندے کی کیا چوری : جو کام اللہ سے نہیں چھپایا جائے اس کو بندوں سے چھپانے کی کیا ضرورت ہے۔ اللہ کی چوری سے مراد اُس کے قوانین اور ہدایات کے خلاف کام کرنا ہے۔
( ۹ ) خدا کی لاٹھی میں آواز نہیں ہوتی : ظلم و ستم کی سزا جلد یا بدیر ملتی ضرور ہے اور جب ملتی ہے تو پہلے سے اس کی اطلاع نہیں ہوتی۔ اسی کو لاٹھی کی آواز کہا گیا ہے کہ سزا ملتی ہے تو مجرم کو پتا بھی نہیں چلتا کہ کب اور کیسے ملی۔
( ۱۰ ) خدا کی باتیں خدا ہی جانے : خدا کی باتیں یعنی غیب کی باتیں یا خدا کے فیصلے۔ ان پر انسان کا کوئی اختیار نہیں ہے۔
( ۱۱ ) خدا خود میر سامانست اسباب توکل را : میر سامان یعنی قافلہ والوں کی ضروریاتِ سفر مہیا کرنے والا۔ا للہ خود ایسے لوگوں کے سفر زندگی کا سامان فراہم کر دیتا ہے جو اُس پر توکل کرتے ہیں اور دوسروں کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلاتے۔
(۱۲) خدا شکر خورے کو شکر اور موذی کو ٹکّر دیتا ہے : یعنی اللہ نے ہر چیز کو مقدر کر رکھا ہے۔ جو شخص شکر خور ہو اس کو وہ شکر دیتا ہے اور جو دوسروں پر مظالم کا عادی ہو آخر کار قدرت اس کو سزا دیتی ہے۔ٹکر سے یہاں مراد چوٹ یا سزا ہے۔
( ۱۳ ) خدا دیتا ہے تو چھپر پھاڑ کے دیتا ہے : چھپر پھاڑ کے یعنی بے حساب اور بغیر کسی نمایاں سبب کے۔ کسی کو غیر متوقع طور پر دولت یا کوئی اعلیٰ مقام مل جائے تو یہ کہاوت بولی جاتی ہے۔
(۱۴) خدا لگتی بات : یعنی سچ اور انصاف کی بات۔
(۱۵) خدا کے گھر سے پِھرے : پِھرے یعنی واپس آئے۔ کوئی شخص بال بال موت سے بچ جائے تو اس کے لئے کہتے ہیں کہ خدا کے گھر سے پھر آیا۔
( ۱۶) خربوزے کو دیکھ کر خربوزہ رنگ پکڑتا ہے : آدمی اپنے ہم مشرب ساتھیوں کی نقل کرتا ہے۔ اسی لئے کہا گیا ہے کہ آدمی اپنے دوستوں سے پہچانا جاتا ہے۔
( ۱۷ ) خر عیسیٰ اگر بہ مکہ رَوَد۔ چوں بیا ید ہنوز خر باشد : یعنی حضرت عیسیٰ کا گدھا اگر مکہ معظمہ بھی ہو آئے تو واپسی پر بھی وہ گدھا ہی رہے گا۔ نادان آدمی کا بھی یہی حال ہے کہ کیسا ہی اچھا سبق اس کو دیا جائے وہ نادان ہی رہتا ہے۔استعمال معنی سے ظاہر ہے۔
( ۱۸) خس کم جہاں پاک : یعنی گھاس پھوس کم ہوئے اور دُنیا پاک ہو گئی۔ کوئی نا اہل شخص کسی معاملہ کے بیچ سے نکل جائے تو یہ کہاوت بولتے ہیں۔
( ۱۹) خصم کا کھائے، بھیا کا گائے : یہ کہاوت ایسی عورت کے بارے میں ہے جو خاوند کی کمائی کھاتی ہے لیکن تعریف ہمیشہ اپنے بھائی کی کرتی ہے۔ جب کوئی شخص اپنے محسن کا شکر گزار ہونے کے بجائے نا شکری کرتا ہے یا کسی اور کی بیجا تعریف کرتا ہے تو یہ کہاوت بولی جاتی ہے۔
( ۲۰) خطائے بزرگاں گرفتن خطا ست : یعنی بزرگوں کی غلطی پکڑنا بجائے خود غلط ہے۔ بزرگوں کا احترام ہماری تہذیب کا اہم حصہ ہے اور کہاوت اسی روایت کا اعتراف کر تی ہے۔
( ۲۱) خون سفید ہو گیا ہے : سفید خون بے مروتی کا استعارہ ہے۔ یعنی پرانی قرابتیں بھول کر بیگانگی برتنے لگا ہے۔
( ۲۲) خود رافضیحت،دیگراں را نصیحت : ہر شخص دوسرے لوگوں کو جو نصیحت کرتا ہے خود اُس پر عموماً عمل نہیں کرتا۔ فضیحت یعنی رُسوائی۔ گویا اپنے لئے رُسوائی کو برا نہیں سمجھتا لیکن دوسروں کو نصیحت کرنے سے بھی باز نہیں آتا۔
( ۲۳) خواب خرگوش کے مزے : یعنی مکمل غفلت اور بے حسی۔ اس کہاوت سے ایک کہانی وابستہ ہے۔ ایک کچھوے اور خرگوش میں دَوڑ کا مقابلہ ہوا۔ دَوڑ شروع ہوتے ہی خرگوش چھلانگیں لگاتا ہوا کہیں سے کہیں نکل گیا جب کہ کچھوا آہستہ آہستہ منزل کی جانب چلا۔ کچھ دور جا کر خرگوش نے سوچا کہ’’ ایسی بھی کیا جلدی ہے۔ بھلا کچھوا اپنی جوں کی سی چال سے مجھ کوکیسے شکست دے سکتا ہے۔ کیوں نہ ہیں کہیں ذرا سا لیٹ کر آرام کر لوں۔‘‘ چنانچہ وہ گھاس میں پڑ کر گہری نیند سو گیا۔ کچھوا اپنی رفتار چلتا رہا اور اُس کو پیچھے چھوڑ گیا۔ خرگوش کی آنکھ کھلی تووہ گھبرا کر بے تحاشہ منزل مقصود کی جانب بھاگا لیکن وہاں پہنچ کر دیکھا کہ کچھوا کبھی کا وہاں پہنچ چکا تھا۔
( ۲۴) خود کردہ را در مانے نیست : یعنی اپنے کئے کا کوئی علاج نہیں ہوتا ہے۔ محل استعمال معنی سے ظاہر ہے۔
( ۲۵ ) خوشامد سے آمد ہے : خوشامدی آدمی اپنا کام نکال ہی لیتے ہیں۔اسی معنی میں ایک مصرع یوں ہے ؎ سچ تو یہ ہے کہ خوشامد سے خدا راضی ہے۔
(۲۶) خیالی پلاؤ پکاتے ہیں : خوابوں کی دُنیا میں رہتے ہیں اور زندگی کی حقیقتوں سے نا آشنا ہیں۔
( ۲۷ ) خیرات کے ٹکڑے اور بازار میں ڈکار : کوئی یوں تو قلاش ہو لیکن دنیا دکھانے کے لئے شیخی بگھارے تو یہ کہاوت بولتے ہیں۔
٭٭٭
د۔کی کہاوتیں
(۱ ) دانتوں پسینہ آنا : ظاہر ہے کہ دانتوں میں پسینہ نہیں آ سکتا ہے۔ یعنی یہ کہاوت نہایت مشکل کام سراانجام دینے کا استعارہ ہے، اتنا مشکل کام کہ اسے کرنے سے دانتوں پسینہ آ جائے۔
( ۲ ) داشتہ آید بکار : رکھی ہوئی چیز کام آ جاتی ہے۔ عام تجربہ ہے کہ جس چیز کو بیکار جان کر پھینک دیا جائے اس کی ضرورت دوسرے ہی دن ہوتی ہے۔ کہاوت اسی جانب اشارہ کر رہی ہے۔
( ۳ ) دائی سے کیا پیٹ چھپانا : پہلے زمانے میں زیادہ تر بچے دائی ( midwife ) کی مدد سے گھروں پر ہی پیدا ہوتے تھے۔ کام کی نوعیت کے پیش نظر دائی سے کوئی بات چھپی نہیں ہوتی تھی۔ مطلب یہ ہے کہ راز کی بات ایسے شخص سے چھپانا بے سود و بے معنی ہے جس کو بالآخر وہ کام نمٹانا ہے۔
(۴) دال میں کالا ہونا : دال میں کوئی کالی چیز گر جائے تو اس کی سیاہی صاف نظر آ جاتی ہے۔ اسی نسبت سے یہ کہاوت کسی کام میں شک کے اظہار کے لئے استعمال ہوتی ہے۔ محل استعمال معنی سے ظاہر ہے۔
( ۵ ) دانہ دانہ پر مہر لگی ہے : عقیدہ ہے کہ جوجس کی تقدیر میں ہے وہ اُسے مل کر رہے گا گویا رزق کے دانے دانے پر اللہ نے اس کے نام کی مہر لگا دی ہے۔ اس کہاوت سے ایک لطیفہ بھی منسوب ہے۔ ہندوستان کے آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر ایک دن اپنے آموں کے باغ کی سیر کر رہے تھے۔ مرزا غالبؔ بھی ہمراہ تھے۔ مرزا نوشہؔ ہر درخت کے قریب جا کر آموں کو بہت غور سے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھ رہے تھے۔ بادشاہ ظفرؔ نے دریافت کیا ’’مرزا نوشہ، کیا دیکھ رہے ہو؟‘‘ مرزا غالبؔ نے کہا ’’حضور! بزرگوں نے کہا ہے کہ دانے دانے پر کھانے والے کا نام لکھا ہوتا ہے۔ میں دیکھ رہا ہوں کہ کسی آم پر میرا نام بھی لکھا ہوا ہے کہ نہیں۔‘‘ بادشاہ یہ سن کر ہنس پڑے اور ملازم کو تاکید کی کہ آموں کا ایک ٹوکرا مرزا نوشہ کے گھر پہنچا دیا جائے۔
( ۶ ) دال نہیں گلتی : یعنی بات نہیں بنتی،کام ہونے کی کوئی صورت نہیں نکل رہی ہے۔ محل استعمال معنی سے ظاہر ہے۔
( ۷ ) دانت کاٹی روٹی ہے : کسی کی جھوٹی (یا دانت کاٹی)روٹی کوئی دوسرا مشکل سے ہی کھاتا ہے۔ لہٰذا دانت کاٹی روٹی پکی دوستی اور قربت کا استعارہ بن گئی ہے۔ دو اشخاص میں بہت یارانہ اور بے تکلفی ہو تو یہ کہاوت کہتے ہیں ۔ ایسے دوستوں کے لئے لنگوٹیا یار کی اصطلاح بھی مستعمل ہے یعنی اتنے پکے دوست کہ ایک دوسرے کا لنگوٹ بھی پہننے میں انھیں کوئی عار یا تکلف نہیں ہے۔
( ۸ ) دانت کریدنے کو تنکا نہیں : دانت کریدنے کے تنکے کی کوئی بساط نہیں اور یہاں یہ انتہائی مفلسی کا استعارہ ہے۔کہاوت کا مطلب ہے کہ بے حد مفلسی کا عالم ہے،سب کچھ لُٹ گیا۔
( ۹ ) دبی بلّی چوہوں سے کان کٹواتی ہے : مجبوری بہت بری چیز ہے۔ آدمی حالات سے مجبور ہو جائے تو سب کچھ برداشت کر لیتا ہے۔ کہاوت اس حقیقت کا اعتراف کر رہی ہے۔
( ۱۰ ) دبے مُردے اُکھاڑتا ہے : یعنی ایسی بھولی بسری باتیں نکال نکال کر لاتا ہے جن سے نا اتفاقی اور فسادبڑھ جائے۔ پُرانی رنجشوں اور مناقشات کا شمار ان مُردوں میں ہے۔
( ۱۱) دبنے پر چیونٹی بھی کاٹ لیتی ہے : کمزور آدمی بھی عاجز آ جائے تو وہ بھی لڑنے مرنے پر آمادہ ہو جاتا ہے۔جیسے ننھی سی چیونٹی بھی اگر دب جائے تو کاٹ لیتی ہے۔
( ۱۲ ) دروغ گو را حافظہ نہ باشد : یعنی جھوٹ بولنے والے کے حافظہ نہیں ہوتا۔ اس کے لئے یہ یاد رکھنا مشکل ہو جاتا ہے کہ کس شخص سے کس معاملہ میں کون سا جھوٹ بولا ہے۔
(۱۳) دریا میں رہ کر مگر مچھ سے بیر : کسی مردم آزار شخص کے علاقہ میں رہتے ہوئے اُس سے دشمنی رکھنا دانشمندی نہیں ہے۔ جس طرح دریا میں رہ کر مگر مچھ سے دشمنی میں خطرہ ہے اسی طرح ظالم آدمی کسی وقت بھی نقصان پہنچا سکتا ہے۔
( ۱۴ ) در کارِ خیر حاجتِ ہیچ استخارہ نیست : یعنی نیک کام میں کسی استخارہ کی حاجت نہیں ہوتی۔ استخارہ وہ دُعا ہے جو اہم کام کرنے سے پہلے کچھ لوگ مانگتے ہیں کہ کام کیا جائے یا نہیں اور کیا جائے تو کس طرح؟ کچھ لوگ دو رکعت نماز پڑھ کر اس اُمید میں سو جاتے ہیں کہ خواب میں کوئی اشارہ ملے گا۔ کچھ لوگ آنکھ بند کر کے قرآن پاک کے کسی صفحہ پر انگلی رکھ کر متعلقہ عبارت سے اشارہ نکالنے کی کوشش کرتے ہیں۔کہاوت کا مطلب یہ ہے کہ نیک کام کا انجام تو اچھا ہی ہوتا ہے اس لئے اس میں فکر کی کیا بات ہے؟
( ۱۵ ) دروغِ مصلحت آمیز : یعنی وہ جھوٹ جو کسی مصلحت سے بولا جائے۔ یہ جھوٹ تو ہے لیکن چونکہ اس کا مقصد بھلائی ہے اس لئے یہ برائی میں شمار نہیں ہوتا۔
(۱۶ ) در عمل کوش ہر چہ خواہی پوش : یعنی اپنے کام میں محنت کرو چاہے کپڑے کیسے ہی پہنو۔ گویا اصل اہمیت کام کی ہے ظاہری لباس اور نمود و نمائش کی نہیں ہے۔
(۱۷) دروازہ پر ہاتھی جھولنا : پرانے زمانے میں رئیس لوگ ہاتھی پالنے میں اپنی شان سمجھتے تھے۔ ہاتھی مستی کے عالم میں جھومتا ہے جس کو ’’جھولنا‘‘ کہتے ہیں۔ دروازہ پر ہاتھی جھولنا اَمارت کی نشانی ہے۔
(۱۸ ) دستِ خود دَہانِ خود : اپنا ہاتھ ہے اور اپنا منھ، گویا کسی کی محتاجی نہیں ہے۔
( ۱۹ ) دستر خوان کی مکھی : دستر خوان پر مکھی بن بلائے مہمان کی طرح آ بیٹھتی ہے۔ایسا شخص جو عادتاً عین کھانے کے وقت ٹپک پڑے اور دسترخوان کا شریک بن بیٹھے ’’دستر خوان کی مکھی‘‘ کہلاتا ہے۔
( ۲۰) دل کو دل سے راہ ہوتی ہے : یعنی اگر دو دِلوں میں محبت ہو تو وہ ایک دوسرے کی بات خوب سمجھتے ہیں اور زیادہ تشریح و توضیح کی ضرورت نہیں ہوتی۔
(۲۱ ) دمڑی کی مُنڈیا، ٹکاسر منڈائی : پرانے زمانے میں دمڑی اہل نہایت کم قیمت سکّہ ہوتا تھا۔ ٹکا یعنی ایک روپیہ۔مُنڈیا یعنی سر۔مطلب یہ ہے کہ سر تو ذرا سا ہے اور اس کی حجامت کی قیمت بہت دی جا رہی ہے۔ کسی چیز پر اس کی قیمت سے زیادہ صرف کیا جائے تو یہ کہاوت بولی جاتی ہے۔
( ۲۲ ) دمڑی کی ہانڈی گئی، کتّے کی ذات تو پہچانی گئی : دمڑی کی ہانڈی یعنی تھوڑا سا نقصان۔ مطلب یہ ہے کہ کچھ نقصان تو ضرور ہوا لیکن اسی بہانے اچھے برے انسان کی پہچان ہو گئی۔
(۲۳ ) دمڑی کی گڑیا، ٹکا ڈولی کا : ٹکا یعنی ایک روپیہ۔ دمڑی،پیسہ سے بھی بہت چھوٹا ایک سکہ ہوتا تھا۔ پرانے زمانے میں رئیس زادیاں تفریح کے لئے آپس میں گڑیوں کی شادیاں دھوم دھام سے کیا کرتی تھیں۔ گڑیا دلہن بھی دستور زمانہ کے مطابق چار کہاروں والی ڈولی میں رخصت کی جاتی تھی۔ مطلب یہ ہے کہ ستم ظریفی دیکھئے کہ گڑیا تو دمڑی بھر کی قیمت کی ہے لیکن اس کے لئے مہنگی ڈولی کا اہتمام کیا گیا ہے۔اگر اصل بات چھوٹی سی ہو لیکن اس کے فروعات بہت قیمتی ہوں تو یہ کہاوت بولی جاتی ہے۔
( ۲۴) دماغ ساتویں آسمان پر ہے : یعنی مغرور اور بد دماغ ہے، دوسروں کو خاطر ہی میں نہیں لاتا۔
( ۲۵ ) دن دونی رات چوگنی ترقی ہو : دُعائیہ جملہ ہے جو بزرگ عموماً چھوٹوں کے لئے کہتے ہیں۔ محل استعمال ظاہر ہے۔
( ۲۶) دن کو دن، رات کو رات نہیں جانا : یعنی کوئی کسر نہیں اُٹھا رکھی یہاں تک کہ دن کا چین اور رات کی نیند بھی چھوڑ دی۔
(۲۷) دُنیا اُمید پر قائم ہے : کہاوت کا مطلب اور محل استعمال ظاہر ہیں۔
(۲۸ ) دن میں تارے نظر آ گئے : یعنی انتہائی تکلیف کا سامنا کرنا پڑا۔ سر پر چوٹ لگ جائے تو چند لمحوں کے لئے ایسا ہی لگتا ہے۔
(۲۹) دودھ کے دانت نہیں ٹوٹے : بچوں کے دودھ کے دانت پیدائش کے کئی سال بعد ٹوٹتے ہیں۔ یہاں یہ نا تجربہ کاری اور کم علمی کااستعارہ ہیں یعنی ابھی نا تجربہ کاری کا عالم ہے۔
(۳۰) دولت مند کے سب ہی سالے : دُنیا دولت کی دیوانی ہے۔ سالے بہنوئی کا رشتہ قریبی اور جذباتی ہوتا ہے۔ کہاوت کا مطلب ہے کہ دولت مند کی قربت کا ہر شخص خواہاں ہوتا ہے کیونکہ اس سے فائدہ کی امید ہوتی ہے۔
( ۳۱) دودھوں نہاؤ،پوتوں پھلو : پوتوں پھلو یعنی بیٹوں سے، پھلو یعنی بھرے رہو۔ یہ دُعائیہ جملہ ہے جو بڑی بوڑھیاں چھوٹوں کے لئے کہتی ہیں۔ یعنی تمھارا اقبال اتنا بلند ہو کہ پانی کے بجائے دودھ سے نہایا کرو اور بیٹوں سے تمھارا گھر آباد رہے۔
( ۳۲) دو دِل راضی تو کیا کرے گا قاضی : یعنی اگر دو اشخاص کسی بات پر رضامند ہو جائیں تو کوئی کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتا جیسے دو دِل اگر شادی پر راضی ہو جائیں تو بیچارہ قاضی کیا کر سکتا ہے سوائے اس کے کہ نکاح پڑھا دے۔
( ۳۳) دودھیل گائے کی دو لاتیں بھی سہہ لیتے ہیں : دودھیل یعنی دودھ دینے والی۔ ایسی گائے اگر دو لاتیں بھی مار دے تو مالک طوعاً و کرہاً برداشت کر لیتا ہے۔ اسی طرح اگر کسی شخص سے اپنی کوئی غرض اٹکی ہو تو آدمی اُس کی دو کڑوی باتیں بھی سُن لیتا ہے۔
( ۳۴) دُور کے ڈھول سہانے : ڈھول تاشے کی آواز دُور سے بھلی معلوم ہوتی ہے مگرپاس جائیں تو شور سے کان پھٹنے لگتے ہیں۔ یعنی جو چیز دُور سے اچھی معلوم ہو، ضروری نہیں ہے کہ وہ پاس سے بھی بھلی لگے۔ یہ کہاوت انسان پر بھی صادق آتی ہے کہ چاہے وہ سرسری نظر سے دیکھنے میں کتنا ہی اچھا لگے جب تک اس کو قریب سے نہ پرکھا جائے اس کی اصل معلوم نہیں ہوتی۔
(۳۵) دودھ کا جلا چھاچھ پھونک پھونک کر پیتا ہے : دودھ سے مکھن نکال لیا جائے تو باقی بچاہوا دودھ چھاچھ کہلاتا ہے۔ اگر کسی شخص کا منھ گرم دودھ سے جل جائے تو وہ ٹھنڈی چھاچھ بھی پھونک مار مار کر احتیاط سے پئے گا کیونکہ وہ بھی دودھ کی طرح سفید ہوتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر کسی معاملہ میں کوئی شخص نقصان اٹھائے تو اس سے ملتے جلتے معاملہ میں وہ بہت محتاط رہتا ہے۔
(۳۶) دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی : بازار میں دودھ کی مقدار بڑھانے کے لئے اس میں بے ایمان دوکاندار پانی ملا دیتا ہے۔ اگر کسی طرح اس مرکب سے دودھ اور پانی الگ الگ کر دیے جائیں تو اصل اور اس کی ملاوٹ ظاہر ہو جائے گی۔ اسی طرح اگر کسی معاملہ میں سچ اور جھوٹ ملے ہوں اور انھیں الگ الگ کر دیا جائے تو اصل حقیقت معلوم ہو جائے گی۔ ایک دوسری کہاوت میں اسے ’’ڈھول کا پول کھولنا ‘‘بھی کہتے ہیں ۔ ایک کہانی اس کہاوت سے وابستہ ہے۔ ایک دودھ والا دودھ میں بہت پانی ملا کر گاہکوں کو دھوکا دیا کرتا تھا۔ ایک دن ایک بندر اس کی دوکان میں گھس آیا اور اس کے پیسوں کا ڈبہ اٹھا کر ندی کنارے ایک درخت پر جا بیٹھا۔
دوکاندار نے بہت بہلایا پھسلایا لیکن بندر نے ڈبہ واپس نہ کیا بلکہ اس میں سے روپے نکال نکال کر ندی میں پھینکنے لگا اور پیسے دوکاندار کی طرف۔ ایک شخص یہ تماشہ دیکھ رہا تھا۔اس نے دوکاندار سے کہا کہ ’’بندر ٹھیک تو کر رہا ہے۔ دودھ کے دام تمھاری طرف پھینک رہا ہے اور پانی کے روپے پانی میں۔ یعنی دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی۔‘‘
(۳۷ ) دُودھ دیا سو مینگنیوں بھرا : مینگنی یعنی بکری کا فضلہ۔ کوئی اچھی چیز کسی کو دی جائے اور اس میں خرابی نکل آئے تو یہ کہاوت بولی جاتی ہے۔ اسی پر دوسری مثالیں قیاس کی جا سکتی ہیں۔
(۳۸) :دودھ کی مکھی کی طرح نکال پھینکنا : اگر دودھ میں مکھی گر جائے تو اسے نکال پھینکتے ہیں ۔دودھ کی مکھی یہاں اچھی چیز میں بری چیز کی آمیزش کا استعارہ ہے۔ اسی مناسبت سے اگر کسی شخص کو کہیں سے بیک بینی و دو گوش نکال دیا جائے تو بھی کہتے ہیں کہ دودھ کی مکھی کی طرح نکال پھینکا۔
(۳۹) دوسرے کے پھٹے میں پیر اَڑانا : کسی کے پھٹے کپڑے میں پیر اَڑا یا جائے تو وہ اور پھٹ جاتا ہے۔ کہاوت سے مراد دوسروں کے معاملات میں خواہ مخواہ دخل اندازی ہے۔ ایسا کرنے سے معاملہ کے بہتری کے بجائے بات بگڑ نے کا امکان زیادہ ہے۔
( ۴۰ ) دو میں تیسرا، آنکھوں میں ٹھیکرا : آنکھوں میں ٹھیکرا یعنی کھٹکنے والی چیز۔ اگر دو اشخاص بیٹھے ذاتی گفتگو کر رہے ہوں تو کسی اور کا وہاں آ بیٹھنا مناسب نہیں ہے۔اس کہاوت سے متعلق مرزا غالبؔ کا ایک لطیفہ مشہور ہے جو مرزا نوشہ کے منھ بولے بیٹے زین العابدین خاں عارفؔ کی بہو معظم زمانی بیگم (عرف بُگا بیگم)نے بیان کیا ہے۔بگا بیگم نے مرزا غالبؔ کی زندگی کا آخری دَور دیکھا تھا۔ فرماتی ہیں کہ’’ برسات کے دن تھے، مینہہ بہت برسنے لگا۔ مرزا صاحب بیٹھے بیوی سے باتیں کر تے تھے، میں یوں بیٹھی تھی گاؤ تکیہ کے کونے سے لگی ہوئی۔ کہنے لگے ’’ایک بیوی،دو میں ، تیسرا آنکھوں میں ٹھیکرا۔ بہو ! میں اور میری بیوی بیٹھے ہیں تم کیوں بیٹھی ہو؟‘‘ اس پر میری ساس بولیں ’’ارے توبہ توبہ ! بڈھا دیوانہ ہے۔ اسے تو ٹھٹھے کے لئے کوئی چاہئے۔ اب بہو ہی مل گئی۔‘‘ میں اتنے میں اُٹھ کر کونے میں جا چھپی۔ اب اُنہیں یہ فکر کہ برسات کا موسم اور کیڑے پتنگے کا عالم۔ مجھے ڈھونڈتے پھریں اور کہتے جائیں ’’ مجھے کیا خبر تھی کہ بہو اس بات کا اتنا برا مان جائے گی۔‘‘
(۴۱) دو مُلاؤں کے بیچ میں مُرغی حرام : اگر کوئی کام دو اشخاص کے سپرد کیا جائے توآپس کے جذبۂ مسابقت کے باعث کام میں بہتری کے بجائے خرابی پیدا ہو جاتی ہے۔ اس صورت کی تشبیہ دو مُلاؤں سے دی گئی ہے جو اکیلے مرغی کھانے کے لالچ میں ایک دوسرے کی حلال کی ہوئی مرغی کو حرام کہتے ہیں گویا وہ اگر خود ذبح نہیں کریں گے تو مرغی حلال ہی نہیں ہو گی۔
(۴۲) دور کی کوڑی لانا : پہلے زمانہ میں کَوڑی بھی سکّے کی طرح استعمال ہوتی تھی۔تَب ایک روپے میں چونسٹھ پیسے ہوا کرتے تھے اور ایک پیسے میں پانچ کوڑی۔’’دُور کی کوڑی لانا‘‘ کی وجہ تسمیہ نہیں معلوم ہو سکی۔ البتہ کہاوت کا مطلب ہے بڑے پتے کی بات کہنا، غیر معمولی بات کہنا۔ محل استعمال معنی سے ظاہر ہے۔
(۴۳) دولت اندھی ہوتی ہے : یہ ضروری نہیں ہے کہ دولت صرف مستحق لوگوں کو ہی ملے۔ وہ کسی کو بھی مل سکتی ہے اور ملتی بھی ہے۔ اس کہاوت سے ایک حکایت منسوب ہے۔ مغل بادشاہ تیمورؔ لنگڑا تھا اور اسی لئے تاریخ میں اسے تیمورؔ لنگ کے نام سے یا د کیا جاتا ہے۔ ایک بار اس کے دربار میں ایک اندھا آدمی حاضر ہوا جس کا نام دولتؔ تھا۔ تیمورؔ نے از راہ تمسخر کہا کہ ’’کیا دولت بھی اندھی ہوتی ہے؟‘‘ اُس اندھے نے دست بستہ عرض کی کہ ’’حضور! اگر اندھی نہ ہوتی تو لنگڑے کے پاس کیسے آتی؟‘‘ تیمورؔ اس کی حاضر جوابی سے محظوظ ہوا اور اس کو انعام و اکرام سے نوازا۔
( ۴۴ ) دھوتی کے بھیتر سب ننگے : بھیتر یعنی اندر یا نیچے۔ مطلب یہ ہے کہ کریدا جائے تو ہر شخص میں کوئی نہ کوئی عیب نکل آتا ہے۔
( ۴۵) دھوبی کا کُتا، نہ گھر کا نہ گھاٹ کا : پہلے زمانے میں دھوبی لوگوں کے گھر آ کر ان کے کپڑے دھونے کے لئے ندی یا جھیل کے گھاٹ پر لے جایا کرتا تھا۔ پیشہ کی مناسبت سے دھوبی کی دَوڑ گھر اور گھاٹ کے درمیان ہی ہوا کرتی تھی اور اُس کا کتا بھی اس کے ساتھ کبھی گھر اور کبھی گھاٹ مارا مارا پھرتا تھا۔مطلب یہ ہے کہ جو لوگ خانماں برباد اور بے سرو سامان ہوتے ہیں اُن کو قسمت جہاں لے جائے وہاں جانا پڑتا ہے۔
(۴۶ ) دھوکے کی ٹٹی : اکثر شکاری جنگل میں ایک ٹٹی کے پیچھے چھپ جاتے ہیں اور جب شکار بے علمی میں قریب آتا ہے تو اُس کو مار لیتے ہیں۔ اسے دھوکے کی ٹٹی کہا گیا ہے۔ اِنسانی تعلقات میں بھی لوگ دوسروں سے فائدہ اٹھانے کے لئے ایسی ہی ٹٹی بنا لیتے ہیں۔
( ۴۷ ) دیر آید دُرست آید : یعنی دیر (اطمینان) سے کیا گیا کام دُرست ہوتا ہے کیونکہ اس کی پیروی میں غور وفکرسے کام لیا جاتا ہے۔ ہندی کی ایک کہاوت اسی معنی میں کہی جاتی ہے’’ سہج پکے سو میٹھا‘‘ (جو پھل آہستہ آہستہ پکے وہ زیادہ میٹھا ہوتا ہے)۔
(۸ ۴) دیکھئے اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے : اونٹ بہت بے ڈھب جانور ہے اور اس کہاوت میں مشکل مسئلہ کا استعارہ ہے۔ کہاوت کا مطلب ہے بظاہر مسئلہ نہایت ٹیڑھا ہے۔اب دیکھئے کہ یہ کس طرح سے حل ہوتا ہے۔ایک حکایت اس کہاوت کے بارے میں مشہور ہے۔ ایک کمھار اور ایک سبزی فروش نے مل کر ایک اونٹ کرایے پر لیا۔ سبزی فروش نے اونٹ کے ایک طرف اپنی سبزی ترکاری لاد دی اور کمھار نے اپنے برتن دوسری جانب باند ھ دئے۔ بازار کی طرف جاتے ہوئے اونٹ بار بار منھ گھما کر سبزیوں میں سے کچھ نہ کچھ کھاتا رہا اور سبزی فروش کے نقصان پر کمھارہنستا رہا۔ سبزی فروش بار بار یہی کہتا تھا کہ ’’دیکھئے اونٹ کس کرو ٹ بیٹھتا ہے۔‘‘ جب وہ بازار پہنچے تو اونٹ برتنوں کی کروٹ بیٹھ گیا کیونکہ اُس جانب بوجھ زیادہ تھا اور اس کے لئے اُ س کروٹ بیٹھنا آسان۔کمھار کے بہت سے برتن دب کر ٹو ٹ گئے اور وہ سبزی فروش کا منھ دیکھتا رہ گیا۔
( ۴۹) دیوار کے بھی کان ہوتے ہیں : یعنی بات کرنے میں احتیاط ضروری ہے کیونکہ نا معلوم ذریعوں سے بات آنا فاناً پھیل جاتی ہے جیسے دیواروں نے سن کر دوسروں تک پہنچا دی ہے۔ اسی معنی میں دوسری کہاوتیں بھی ہیں مثلاً نکلی حلق سے، پہنچی خلق تک، منھ سے نکلی ہوئی پرائی بات‘‘ وغیرہ۔
( ۵۰) دیوانہ بکارِ خویش ہشیار : دیوانہ اپنے کام میں ہوشیار ہوتا ہے۔ یعنی ہر شخص اپنے مطلب کی خوب سمجھتا ہے چاہے بظاہر وہ کیسا ہی نادان نظر آئے۔
( ۵۱) دیا ہاتھ، کھانے لگا ساتھ : یعنی کسی کو ذرا سی رعایت دی تو وہ اس سے ناجائز فائدہ اٹھانے لگا۔ اسی معنی میں ایک اور کہاوت ہے کہ’’ انگلی پکڑتے ہی پہنچا پکڑ لیا‘‘۔
٭٭٭
ڈ۔کی کہاوتیں
(۱) ڈنکے کی چوٹ : پرانے زمانے میں جب ٹی وی، ریڈیو وغیرہ نہیں تھے عوام کو سرکاری خبریں اور اعلان ڈنکا (ڈھول) بجا کر شہر کے چوراہوں پر سنایا جاتا تھا۔ڈنکے کی چوٹ یعنی علی الاعلان اور کھلم کھلا، اس طرح کہ سب آسانی سے سن لیں۔
(۲) ڈوبتے کو تنکے کا سہارا : پانی میں ڈوبتا ہوا شخص بے تحاشہ ہاتھ پیر مارتا ہے اور قریب سے ہلکی پھلکی لکڑی (محاور ۃً ایک تنکا)بھی گزرے تو سہارے کے لئے اس کو پکڑ لیتا ہے۔ اسی طرح برے وقت میں آدمی جہاں سے بھی جیسی بھی مدد مل سکتی ہے اُس کو حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
(۳) ڈوبے کٹورا، پِٹے گھڑیال : گھڑیال یعنی بڑا گھنٹا۔ گھڑی کی ایجاد سے پہلے بہت سے مقامات پر وقت کا تعین ایک سوراخ دار کٹورے کی مدد سے کیا جاتا تھا۔ کٹورا پانی کے بڑے برتن میں تیرا دیا جاتا تھا اور وہ آہستہ آہستہ پانی سے بھرتا رہتا یہاں تک کہ ڈوب جاتا۔اُس وقت ایک گھڑیال زور زور سے ایک پہر گزر جانے کے اعلان کے لئے بجا یا جاتا۔ کہاوت اسی روایت سے نکلی ہے کہ ڈوبا تو کٹورا لیکن ہتھوڑے سے گھڑیال کی پٹائی ہو رہی ہے۔ جب غلط کام تو ایک آدمی کرے لیکن اس کی پاداش میں پکڑا کوئی اور جائے تب یہ کہاوت بولی جاتی ہے۔ اسی معنی میں دوسری کہاوتیں بھی ہیں جیسے ’’کرے کوئی،بھرے کوئی‘‘ اور ’’کرے داڑھی والا،پکڑا جائے مونچھوں والا ‘‘ وغیرہ۔
( ۴) ڈھائی دن کی بادشاہت : یعنی ایک مختصر مدت کی نمود و نمائش اور نام آوری۔ یہ کہاوت ایک تاریخی واقعہ سے وابستہ ہے۔
جب مغل بادشاہ ہمایوںؔ کو شیر شاہؔ کے مقابلہ میں شکست ہوئی تو اس نے راہ فرار اختیار کرنے کے لئے جمنا میں اپنا گھوڑا ڈال دیا۔ شومئی قسمت سے گھوڑا ڈوبنے لگا اور بادشاہ کی جان خطرہ میں آ گئی۔ اس وقت نظامؔ نامی ایک سقہ نے اپنی ہوا سے بھری ہوئی مشک کا سہارا دے کر ہمایوںؔ کو حفاظت سے دوسرے کنارے پہنچا دیا۔ جب ہمایوںؔ کی بادشاہت دوبارہ بحال ہوئی تو اس نے نظامؔ سقہ کو منھ مانگا انعام دینے کا وعدہ کیا۔ نظامؔ نے ڈھائی دن کی بادشاہت کی خواہش ظاہر کی اور ہمایوں نے اسے تخت پر بٹھا دیا۔ اپنی اِس مختصر سی حکومت کے دَوران میں اُس نے شہر میں چمڑے کے سکّے چلوا دئے تھے جن کے بیچ میں سونے کی کیل جڑی ہوئی تھی۔
( ۵) ڈھول کے اندر پول : یعنی شان و شوکت کا ڈھنڈورا تو اس قدر ہے لیکن اصلیت کچھ بھی نہیں جیسے ڈھول اندر سے پولا ہوتا ہے۔ محل استعمال معنی سے ظاہر ہے۔
( ۶) ڈھلمل یقین : یعنی ایسا شخص جو گھڑی میں تولہ اور گھڑی میں ماشہ ہو یعنی جو ایک بات قائم نہ رہ سکے۔
( ۷) ڈیڑھ اینٹ کی مسجد الگ بنا لی ہے : یعنی سب قطع تعلق کر کے اپنا حلقہ یا گروہ الگ بنا لیا ہے۔
( ۸ ) ڈیڑھ چاول کی کھچڑی بنائی : یعنی سب سے الگ ہو کر اپنی رائے بنا لی۔
٭٭٭
ر۔کی کہاوتیں
( ۱ ) رات گئی بات گئی : یعنی اب پرانی باتوں کا کیا ذکر۔ جو ہونا تھا سو ہو چکا۔ ایک اور کہاوت بھی اسی معنی میں بولی جاتی ہے کہ
’’ گڑے مُردے اُکھاڑنے سے کیا حاصل؟‘‘
(۲ ) راجا ہوئے تو کیا، وہی جاٹ کے جاٹ : یعنی دولت تو بہت کما لی لیکن پرانی خصلت اور عادتیں ویسی ہی اوچھی کی اوچھی
رہیں۔ کہاوت ایسے نودولتیوں کے لئے بولی جاتی ہے جو مالدار بن کر بھی شرافت اور عالی ظرفی سے بیگانہ ہی رہتے ہیں۔
( ۳) رائی کا پربت (یا پہاڑ) بن گیا : اس کا ذکر اوپر آ چکا ہے۔ دیکھئے’’ رسّی کا سانپ بن گیا‘‘۔
( ۴ ) راجا کس کا یار، جوگی کس کا میت : راجا اور جوگی دونوں اپنی مرضی کے مالک ہوتے ہیں،راجہ اپنی خود مختاری اور قوت کے بل بوتے پر اور جوگی دُنیا سے بے نیازی کے باعث۔ مطلب یہ ہے کہ صاحب اختیار کسی کا دوست نہیں ہوتا۔
( ۵) رانی روٹھے گی، اپنا سہاگ لے گی : یعنی رانی اگر راجا سے روٹھے گی تو اس کا کچھ بگاڑ نہیں سکتی۔ اس کا تو سہاگ ہی راجا سے قائم ہے۔ جب کوئی کمزور آدمی اونچی اونچی باتیں کرے اور اپنا زور دِکھانے کی کوشش میں دھمکی دے تو یہ کہاوت بولتے ہیں کہ ان باتوں سے تو خود تمھارا ہی نقصان ہے۔
(۶) رام نام جپنا، پرایا مال اپنا : یعنی دھوکہ دے کر مذہب کے نام پر لوگوں کا مال ہتھیا لینا۔ کوئی اپنے کو بڑا پارسا دکھائے لیکن اصل مقصد لوگوں کو لوٹنا ہو تو یہ کہاوت کہی جاتی ہے۔
( ۷) رسیدہ بود بلائے وَلے بخیر گذشت : یعنی مصیبت آئی تو تھی لیکن بخیر و خوبی گزر گئی۔اِ س میں اللہ کا شکر بھی مخفی ہے۔ جب کوئی آزمائش کا وقت آ کر بعافیت تمام گزر جائے تو یہ کہاوت کہتے ہیں ۔
( ۸) رسّی جل گئی پربل نہ گیا : رسّی جل بھی جائے تو اس کے بل قائم رہتے ہیں۔یعنی اک دم تباہ و برباد ہو گئے لیکن پرانا غرور اور رعونت اب بھی باقی ہے۔
( ۹) رسّی کا سانپ بن گیا : یعنی بات کا بتنگڑ بن گیا۔ بات کہاں سے کہاں پہنچ گئی۔ رسّی کا سانپ بننا مبالغہ کے لئے کہا گیا ہے۔ اسی معنی میں ’’ سوئی کا بھالا بننا‘‘ اور ’’ رائی کا پربت بننا‘‘ بھی بولا جاتا ہے۔
(۱۰) رَکابی مذہب ہے : رَکابی میں رکھی ہوئی چیز رَکابی کے ڈھال کی جانب چلی جاتی ہے۔ غیر معتبر،ڈھلمل یقین والے آدمی کے بارے میں کہتے ہیں کہ ’’یہ رکابی مذہب کا ہے‘‘ یعنی یہ تو ہوا کے رُخ پر چلتا ہے اور اپنی کوئی رائے نہیں رکھتا۔
(۱۱) رنگ میں بھنگ ڈالنا : یعنی کسی اچھے کام میں خرابی کی صورت پید اکرنا۔ بھنگ کی آمیزش سے مشروب خراب ہو جاتا ہے۔
( ۱۲ ) روئے بغیر ماں بھی دودھ نہیں دیتی : جب تک بچہ بھوک سے روتا نہیں ہے ماں بھی اس کو دودھ نہیں پلاتی۔ گویا جب تک ضرورت مند آدمی اپنی حاجت کا پُر زور اظہار نہ کرے اس کو اس کا حق نہیں ملتا۔
( ۱۳ ) روپئے کو روپیہ کھینچتا ہے : دولت سے ہی مزید دولت پیدا ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امیر لوگ اَور امیر اور غریب زیادہ غریب ہوتے جاتے ہیں۔
(۱۴) رہے نام اللہ کا : صبر و شکر کے لئے یہ فقرہ بولا جاتا ہے۔
( ۱۵ ) رہیں جھونپڑوں میں، خواب دیکھیں محلوں کے : یعنی طاقت و حیثیت میں کچھ نہیں ہیں لیکن دولت مند وں کی سی باتیں کرتے ہیں ۔ جھونپڑوں میں رہ کر محلوں کے خواب دیکھنے سے محل نہیں مل جاتے۔ جب کوئی اپنی اوقات سے بڑھ چڑھ کر بات کرے تو یہ کہاوت بولی جاتی ہے۔
( ۱۶ ) ریوڑی کا کیا اُلٹا، کیاسیدھا : ریوڑی دونوں جانب سے ایک سی ہی ہوتی ہے یعنی اس کا اُلٹا سیدھا نہیں ہوتا۔ کہاوت کا مطلب یہ ہے کہ یہ چیز یا کام ہر طرح سے ایک سا ہی ہے، کسی رُخ ہیر پھیر نہیں ہے،
٭٭٭
ز۔کی کہاوتیں
( ۱ ) زبان آج کھلی ہے کل بند : زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں ہے۔ کیا معلوم کب موت آ جائے۔
(۲ ) زبان خلق کو نقارۂ خدا سمجھو : جس بات پر اکثریت متفق ہو وہ بہت وزن رکھتی ہے جیسے وہ اللہ کی طرف سے کہی جا رہی ہے۔ گویا ہر شخص کا کسی بات پر متفق ہو جانااُس کے صحیح ہونے کی دلیل ہے۔
( ۳) زبان پر کانٹے پڑ گئے : سخت پیاس کا عالم ہے اور زبان خشک ہو کر چبھ رہی ہے۔
( ۴) زبانی جمع خرچ ہے : یعنی باتیں ہی باتیں ہیں۔ کام کرنے کا وقت آئے گا تو شاید نظر بھی نہ آئیں۔
( ۵) زبان سے نکلی آسمان پر چڑھی : ایک بار زبان سے نکلی تو پھر بات پر اختیار نہیں رہ جاتا ہے، چنانچہ بات سوچ سمجھ کر کرنی چاہئے۔ اس معنی میں متعدد کہاوتیں اور بھی ہیں جیسے’’ پہلے بات کو تولو، پھر منھ سے بولو، حلق سے نکلی خلق میں پہنچی، منھ سے نکلی ہوئی پرائی بات‘‘ وغیرہ۔
( ۶ ) زبر دست کا ٹھینگا سر پر : ٹھینگا یعنی کھڑا انگوٹھا جو اہانت اور تحقیر کے لئے دشمن کو دکھایا جاتا ہے۔ ظالم اور زبر دست آدمی اپنی رعونت اور قوت کے اظہار کے لئے ٹھینگا سر کے اوپر کھڑا کر کے دکھاتا ہے۔کہاوت کا مطلب ہے کہ ظالم کی بات ماننی ہی پڑتی ہے۔
( ۷ ) زمین کی کہی،آسمان کی سُنی : اگر کہا کچھ جائے اور سننے والا دانستہ اس کا کچھ اور ہی مطلب لے تو یہ کہاوت بولی جاتی ہے۔ اسی معنی میں ’’کہیں کھیت کی،سنیں کھلیان کی‘‘ بھی مستعمل ہے۔
(۸ ) زمین کا گز ہے : یعنی سیر سپاٹے کا شوقین ہے، کسی وقت نچلا نہیں بیٹھتا۔ یہاں گز استعارہ ہے موصوف کی اس عادت کا۔گویا زمین ناپتا پھرتا ہے۔
(۹) زمیں جنبد، نہ جنبد گلؔ محمد : یعنی چاہے زمین پر کیسے ہی انقلاب کیوں نہ آئیں گلؔ محمد اپنی جگہ سے ہلنے والا نہیں ہے۔ کوئی شخص اتنا ضدّی ہو کہ اپنی بات پر اَڑ جائے تو کوئی دلیل بھی اس پر کارگر نہ ہو تو یہ کہاوت بولتے ہیں۔
( ۱۰) زمین آسمان کا فرق ہے : بہت بڑا فرق ہے۔ اتفاق و اشتراک کی کوئی صورت نہیں ہے۔
(۱۱) زن، زر، زمین سب جھگڑے کی جڑ ہیں : دنیا کے بیشتر جھگڑے عورت (زن)، دولت (زر) یا پھر ملکیت و جائداد (زمین) کی وجہ سے ہوتے ہیں ۔ یہ کہاوت اسی حقیقت کا اعتراف و اظہار ہے۔
( ۱۲ ) زیادہ مٹھائی میں کیڑے پڑ جاتے ہیں : کیڑے پڑنا یعنی برائی کی صورت پیدا ہونا۔ دو اشخاص کے درمیان بہت زیادہ میل ملاپ ہو تو ایک دن دل برائی اور اختلاف کی صورت نکل ہی آتی ہے۔اسی معنی میں ایک اور کہاوت مشہور ہے کہ ’’ قدر کھو دیتا ہے ہر روز کا آنا جانا‘‘۔
٭٭٭
س۔کی کہاوتیں
( ۱) سانچ کو آنچ نہیں : سانچ یعنی سچائی، آنچ یعنی آگ کی گرمی، گزند یا نقصان۔ مطلب یہ ہے کہ سچ کی ہمیشہ ہی جیت ہوتی ہے۔ اس کو نہ چھپایا جا سکتا ہے اور نہ ہی اس کو کوئی گزند پہنچائی جا سکتی ہے۔
( ۲) ساون ہر ے نہ بھادوں سوکھے : ساون کے مہینہ میں بہت بارش ہوتی ہے اور ہر طرف ہریالی دکھائی دیتی ہے۔ بھادوں میں شدید گرمی پڑتی ہے اور ہر چیز سوکھ جاتی ہے۔ کہاوت کا مطلب یہ ہے کہ اِن پر نہ تو ساون میں ہریالی آتی ہے اور نہ یہ بھادوں میں سوکھتے ہیں گویا ہر وقت ایک سا ہی حال رہتا ہے۔
(۳ ) سات ماموؤں کا بھانجہ بھوکا ہی رہتا ہے : یعنی اگر کوئی کام کئی آدمیوں پر چھوڑ دیا جائے تو وہ کبھی نہیں ہوتا کیونکہ ہر ایک دوسرے پر ٹال دیتا ہے۔ اس کی مثال کہاوت ایسے بھانجے سے دیتی ہے جس کے سات ماموں ہوں اور وہ بھوکا رہے کیونکہ ہر ماموں کھلانے کی ذمہ داری دوسروں پر ٹال دیتا ہے۔
(۴) ساون کے اندھے کو ہرا ہی ہراسوجھتا ہے : ساون میں اگر کوئی اندھا ہو جائے تو اس کے دماغ میں آنکھیں جانے سے پہلے کا سر سبز موسم ہی بسا رہتا ہے۔گویا ہر شخص کا نقطہء نظر اس کے حالات کا پابند ہوتا ہے اور وہ ان سے باہر نہیں جا سکتا۔
( ۵) سانپ نکل گیا اب لکیر پیٹ رہے ہیں : یعنی کام کا وقت جب گزر گیا تو شور مچایا جا رہا ہے۔ سانپ گزر جائے تو ریت میں اس کی بنائی ہوئی لکیر کو پیٹنے سے کچھ حاصل نہیں ۔ سانپ کو تو پہلے ہی مار دینا چاہئے تھا۔
( ۶ ) : سارا گھر جل گیا تب چوڑیاں پوچھیں : ایک حکایت ہے کہ ایک عورت نے قیمتی اور خوبصورت چوڑیاں خریدیں ۔ اسے شوق ہوا کہ لوگ اس کی چوڑیاں دیکھیں اور ان کی تعریف کریں۔ چنانچہ وہ بہانے سے لوگوں کے سامنے جا کر ہاتھ نچا نچا کر باتیں بنانے لگی۔ اتفاق سے کسی نے چوڑیوں پر غور نہیں کیا۔ کھسیا کر اُس نے اپنے گھر میں آگ لگا لی اور ہاتھ پھیلا پھیلا کر شور مچانے لگی۔ لوگ آگ بجھانے دوڑ پڑے۔ اس افراتفری میں بھی کسی نے اس عورت کی چوڑیاں نہیں دیکھیں۔ گھر جل کر خاک ہو گیا تو ایک شخص کی نگاہ چوڑیوں پر پڑی اور اس نے اُن کی خوبصورتی کی تعریف کی۔ عورت جھلا کر بولی کہ ’’سارا گھر جل گیا تب چوڑیاں پوچھیں۔‘‘کہانی کی مناسبت سے کوئی شخص اپنی بے جا تعریف کرانے کی خاطر اپنا ہی نقصان کر نے سے بھی باز نہ آئے تو یہ کہاوت بولتے ہیں۔
( ۷) ساجھے کی ہنڈیا چوراہے پر پھوٹتی ہے : ساجھا یعنی شراکت۔ چوراہے پر پھوٹنا یعنی راز کی تمام باتوں کا ہر کس و ناکس کو معلوم ہو جانا۔ ساجھے کے کام میں عام طور پر یہی ہوتا ہے کہ فریقین لڑتے ہیں اور لوگ تماشہ دیکھتے ہیں۔محل استعمال ظاہر ہے۔
(۸) سانس ہے تو آس ہے : جب تک انسان زندہ رہتا ہے اس کی اُمیدیں بھی قائم رہتی ہیں۔ محل استعمال معنی سے ظاہر ہے۔
(۹ ) ساس بہو کی ہوئی لڑائی، کرے پڑوسن ہا تھا پائی : دوسرے کے معاملات میں خواہ مخواہ پیر اَڑانا دانشمندی نہیں ہے بلکہ اس سے مزید مسائل پیدا ہونے کا امکان ہے۔ یہ ایسی ہی بات ہے کہ جھگڑا تو ساس بہو میں ہو رہا ہو اور پڑوسن دخل دے رہی ہو۔کوئی کسی کے معاملہ میں غیر ضروری دخل اندازی کرے تو یہ کہاوت بولی جاتی ہے۔
( ۱۰) سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے : یعنی ایسی دانشمندی سے کام لینا کہ گوہر مقصود بھی حاصل ہو جائے اور کوئی نقصان بھی نہ ہو۔
(۱۱) ساری خدائی اک طرف، جورو کا بھائی اک طرف : جورو یعنی بیوی۔جورو کا بھائی یعنی سالا۔ مشہور ہے کہ ہر شخص بیوی سے مرعوب ہو کر اسی کی طرفداری کرتا ہے حتیٰ کہ اگر ساری دُنیا اُس کے سالے کے خلاف ہو تب بھی وہ بیوی کے خوف سے اپنے سالے کی ہی طرفداری کرے گا۔
(۱۲) ساری رامائن پڑھ گئے،یہ نہیں پتہ کہ سیتاؔ رامؔ کی کون تھی : رامائنؔ( ہندوؤں کی مقدس کتاب) میں بھگوان رامؔ چندر کی بیوی کا نام سیتاؔ ہے۔ اگر کوئی شخص پوری رامائنؔ پڑھ جائے اور اس کو یہ بھی پتہ نہ چلے کہ سیتا،ؔ رامؔ کی کون تھی تو یہ بہت ہی نا لائقی کی بات ہو گی۔ اگر کوئی شخص کسی معاملہ میں بہت دخیل ہو لیکن اس کے کلیدی نکات و واقعات سے ہی ناواقف ہو تو یہ کہاوت بولتے ہیں۔
(۱۳) سات سمندر پار : یعنی بہت دور۔ سات سمندربڑے فاصلے کا استعارہ ہے۔کوئی بہت دور جا بسے تو کہتے ہیں کہ وہ تو سات سمندر پار جا بسا۔
( ۱۴) سامان سو برس کا ہے، پل کی خبر نہیں : یہ کہاوت انسان کی زندگی کی بے ثباتی اور نا پائداری کا ذکر کر رہی ہے۔ معنی اور محل استعمال کہاوت سے ظاہر ہیں۔
( ۱۵ ) سانپ کا کاٹا رسّی سے ڈرتا ہے : اگر کسی چیزسے کسی شخص کو نقصان پہنچے تو وہ اُس طرح کی ہر چیز سے ڈرتا ہے۔اسی بات کو سانپ اور رسّی کی مشابہت سے ظاہر کیا گیا ہے۔
( ۱۶ ) سانپ سونگھ گیا : عوام میں غلط مشہور ہے کہ اگر کسی کو سانپ سونگھ جائے تو اس کی بولنے کی قوت عارضی طور پر ختم ہو جاتی ہے۔ کہاوت کا مطلب یہ ہے کہ بالکل خاموش ہو گیا یا عرف عام میں اُس کی بولتی بند ہو گئی۔
( ۱۷ ) سانپ کے منھ میں چھنچھوندر : عام خیال ہے کہ اگرسانپ چھنچھوندر کو پکڑ لے تو وہ نہ تو اس کو نگل سکتا ہے اور نہ ہی اُگل سکتا ہے۔ سانپ کی اِس کشمکش کی وجہ کا علم نہیں ہو سکا۔ یہاں اشارہ ایسے مسئلہ کی جانب ہے جو کیا جائے تو زحمت کا باعث ہو اور چھوڑ دیا جائے تو بھی مصیبت پیدا کرے۔ یعنی تذبذب اور کشمکش کی کیفیت کا اظہار مقصود ہے۔
( ۱۸ ) سانپ کا پوت سنپولیا : پوت یعنی بیٹا۔ سنپولیا یعنی سانپ کا بچہ۔ جس طرح سانپ کا بچہ بھی چھوٹا سانپ ہوتا ہے اسی طرح برے آدمی کی اولاد بھی بری ہوتی ہے۔ گویا بچوں پر والدین کا اثر ہونا فطری بات ہے۔
( ۱۹ ) سات پوت کا باپ بھوکا مرتا ہے : یعنی سات بیٹوں میں سے ہر ایک یہ فرض کر لیتا ہے کہ آج باپ کسی دوسرے بیٹے کے گھر کھانا کھا لے گا۔ نتیجہ میں کوئی بھی اسے نہیں کھلاتا اور وہ بھوکا رہ جاتا ہے۔
( ۲۰ ) ساجھے کا کام اُتارے چام : چام یعنی کھال۔ ساجھا یعنی شراکت۔ شرکت کا کام ہمیشہ مسائل اور فساد پیدا کرتا ہے کیونکہ اس میں پیسوں کا سوال پیش پیش رہتا ہے اور پیسہ جھگڑے کی جڑ ہے۔ یہاں کھال اُتارنے سے شرکت کے برے نتائج کی طرف اشارہ ہے۔
( ۲۱) ساری عمر بھاڑ ہی جھونکا : ساری عمر محنت کی لیکن کچھ کما کے نہ دیا۔
( ۲۲) ساکھ لاکھ سے اچھی : ساکھ یعنی اعتماد، اعتبار، عزت۔ لاکھ سے مراد لاکھ روپے یا بہت سی دولت ہے۔ مطلب یہ ہے کہ آدمی کا اعتماد اور عزت دولت سے بیش قیمت ہوتی ہے۔
( ۲۳ ) سب دن چنگے،تہوار کے دن ننگے : فضول خرچ آدمی کو جب ضرورت پیش آتی ہے تو اس کے پاس کچھ نہیں ہوتا اور اسے شرمندگی اٹھانی پڑتی ہے۔ کہاوت کا محل استعمال معنی سے ظاہر ہے۔
(۲۴) سب دھان بائیس پنسیری : کلو گرام سے پہلے تولنے کے لئے سیر استعمال ہوتا تھا۔ پانچ سیر کو عوام پنسیری کہتے تھے۔ گویا کہاوت کا مطلب یہ ہے کہ وہ وقت آ گیا ہے کہ اچھا برا ہر طرح کا دھان ایک روپے کا بائیس پنسیری (۱۱۰ سیر) بک رہا ہے۔ اگر کسی میدان عمل میں بھی اچھے برے کی تمیز اُٹھ جائے تو کہتے ہیں کہ’’ سب دھان بائیس پنسیری بک رہا ہے‘‘۔
( ۲۵) سب کتے گئے کاشی تو ہنڈیاکس نے چاٹی : کاشی (بنارس)ہندوؤں کا متبرک شہر ہے۔یعنی جب شہر کے سارے کتے کاشی تیرتھ کو چلے گئے تو آخر یہ ہنڈیا کون چٹ کر گیا؟ اگر کوئی کام خراب ہو جائے لیکن ہر شخص اپنے آپ کو بے گناہ ظاہر کرے تو یہ کہاوت کہی جاتی ہے۔
( ۲۶) سچ تو یہ ہے کہ خوشامد سے خدا راضی ہے : ہر ایک کو اپنی خوشامد اچھی لگتی ہے۔ کہاوت میں عبادت کو خدا کی خوشامد سے تعبیر کیا گیا ہے۔
(۲۷) سر منڈاتے ہی اولے پڑے : ظاہر ہے کہ منڈے ہوے سر پر اولوں سے سخت چوٹ آئے گی۔ کہاوت کا مطلب یہ ہے کہ ابھی کام کی ابتدا ہی کی ہے اور طرح طرح کی مشکلات سامنے آنے لگیں۔
(۲۸) سر ڈھکو تو پیر کھل جاتے ہیں : اگر سوتے وقت چادر سے سر ڈھکیں تو پیر کھُلے رہ جائیں اور پیر ڈھکیں تو سر کھُلا رہ جائے تو چادر یقیناً چھوٹی ہے۔ اسی مناسبت سے جب ایک مسئلہ حل کیجئے اور اس کے نتیجہ میں دوسرا سامنے آ جائے تو یہ کہاوت بولتے ہیں۔
(۲۹ ) سرائے کا کُتا ہر مسافر کا یار : پرانے زمانے میں مسافروں کے لئے راستہ میں جا بجا سرائے بنی ہوتی تھیں جہاں وہ رات کو قیام کر لیتے تھے۔ سرائے کا کتا کھانے کے لالچ میں ہرمسافر کے سامنے دُم ہلاتا گویا اپنی دوستی کا اظہار کرتا۔ جب کوئی شخص مجبوری کی حالت میں ہر ایک کو پر اُمید نظروں سے دیکھے تو یہ کہاوت بولی جاتی ہے۔
( ۳۰) سرخاب کا پر لگا ہے : سرخاب کا خوبصورت پَر لوگ پگڑی یا ٹوپی میں امتیاز ظاہر کرنے کے لئے لگاتے ہیں۔ گویا سرخاب کا پر لگنا غیر معمولی خوبی کا استعارہ ہے۔ یہ کہاوت عام طور سے طنزیہ کہی جاتی ہے کہ’’ اِن میں کون سا سرخاب کا پر لگا ہوا ہے؟‘‘ یعنی ایسی کون سی غیر معمولی خصوصیت ہے جو اتنا اِترا رہے ہیں ؟
(۳۱) سر کھجانے کی فرصت نہیں ہے : عدیم الفرصتی کا اظہار مقصود ہے کہ اتنی بھی فرصت نہیں کہ سر کھجا لیں۔ محل استعمال معنی سے ظاہر ہے۔
(۳۲) سستا روئے بار بار، مہنگا روئے ایک بار : کوئی بھی چیز محض پیسے بچانے کے لئے سستی سے سستی نہیں لینا چاہئے کیونکہ سستی چیز اکثر گھٹیا ہوتی ہے اور بار بار مرمت اور توجہ چاہتی ہے۔ اچھی اور قیمتی چیز کار کردگی میں بہتر ہوتی ہے اور جلدی خراب نہیں ہوتی۔
(۳۳) سفر نمونۂ سقر : سقر یعنی دوزخ یا جہنم۔ کہاوت سفر کو دوزخ کا نمونہ کہہ رہی ہے کیونکہ سفرہمیشہ تکلیف دہ اور صبر آزما ہوتا ہے۔
( ۳۴) سکھ کے سب ساتھی،دُکھ میں نہ کوئے : دُکھ میں بقول کسے آدمی کا سایہ تک اُس کا ساتھ چھوڑ دیتا ہے۔ وقت اچھا ہو تو دوست احباب سبھی گھیر ے رہتے ہیں۔ محل استعمال ظاہر ہے۔
( ۳۵) سگ بباش، برادر خورد مباش : یعنی کتّا بن جا لیکن چھوٹا بھائی مت بن۔ گھر میں چھوٹے بھائی پر ہر شخص حکم چلایا کرتا ہے اور اس کی کوئی نہیں سنتا۔گویا سب سے زیادہ کمزور ہونا بھی ایک لعنت ہے۔
( ۳۶) سنگ آمد و سخت آمد : یعنی ایک تو پتھر آیا، وہ بھی سخت۔ کسی بڑی مصیبت کا سامنا ہو تو یہ کہاوت بولی جاتی ہے۔
( ۳۷) : سونے کا نوالہ کھلاؤ اور شیر کی نگاہ دیکھو : یہ کہاوت بچوں کی اچھی پرورش کا راز بتاتی ہے کہ اگر بچوں کا من بھاتا کھلایا جائے لیکن ان کی نگہ داشت اور تربیت سختی سے کی جائے تو اولاد اچھی نکلتی ہے۔
( ۳۸ ) سو نا اُچھالتے ہوئے چلے جاؤ : یعنی شہر میں اس قدر امن و اَمان اور قانون کی پاسداری ہے کہ سر عام ہاتھ میں سونا لے کر اس کو بغیر کسی تردد یا خوف و خطر کے اُچھالتے چلے جائیے۔
(۳۹) سوت نہ کپاس، جُلاہے سے لٹھم لٹھا : لٹّھم لٹّھا یعنی مار پیٹ، جھگڑا، بے تحاشہ لاٹھی چلانا۔ مطلب یہ ہے کہ سوت اور کپاس تو پاس ہے نہیں اور جلاہے سے جھگڑا ہو رہا ہے۔ جب کوئی شخص بلا وجہ بحث یا دنگا فسادکرے تب یہ کہاوت بولی جاتی ہے۔ اس کے پس منظر کے طور پر کئی حکایتیں بیان کی جاتی ہیں۔ ایک یہاں دَرج کی جاتی ہے۔ ایک ٹھاکر صاحب ایک جلاہے کے گھر پہنچے اور اس سے کہا کہ ’’میرے لئے ایک کرتے کا کپڑا بُن دو۔‘‘ جُلاہے نے کہا کہ ’’ میرے پاس سُوت نہیں ہے۔ آ پ سوت دے دیں تو کپڑا بن دوں گا۔‘‘ ٹھاکر نے جھلا کر کہا کہ ’’ سوت نہیں ہے تو کپاس لے کر کات کیوں نہیں لیتے۔‘‘ جلاہے نے جواب دیا کہ ’’ کپاس بھی نہیں ہے۔میں کیا کروں۔‘‘ ٹھاکر صاحب غصہ میں لاٹھی تان لی، جلاہے نے بھی جواب میں ڈنڈا اُٹھا لیا اور دونوں میں خوب لاٹھی چلی۔
(۴۰) سونے پر سہاگہ : سونے کا رنگ نکھارنے کے لئے سہاگہ (ایک طرح کا کیمیاوی مرکب) استعمال ہوتا ہے۔ کسی بات کی معنویت یا لطف بڑھانے کے لئے کوئی اضافی نکتہ بیان کیا جائے تو اسے سونے پر سہاگہ کہتے ہیں گویا یہ بات تو یوں بھی خوبصورت تھی مگر اب اور بہتر ہو گئی ہے۔
(۴۱ ) سورج خاک ڈالنے سے نہیں چھپتا : جس طرح سورج پر خاک اُچھالنے سے اس کی توانائی میں کوئی فرق نہیں آتا ہے اسی طرح بزرگوں اور اہل حیثیت پر کسی کی اوچھی باتوں کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ کہاوت میں یہ بھی اشارہ ہے کہ جس طرح سورج پر پھینکی ہوئی خاک لوٹ کر خود پھینکنے والے پر آ گرتی ہے اُسی طرح بڑوں کی برائی کرنے والا بھی اپنی زبان درازی اور کم فہمی کا خمیازہ بھگتتا ہے۔
( ۴۲) سو دِن چور کے تو ایک دن شاہ کا : چور آخر کار پکڑ کر کیفر کردار کو پہنچا ہی دیا جاتا ہے۔یعنی برائی کبھی نہ کبھی ظاہر ہو کر رہتی ہے اور پھر برا کرنے والے کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے۔
(۴۳) سویا مرا برابر : سویا ہوا آدمی اسی طرح اپنے گردو پیش سے بے خبر ہوتا ہے جیسے مردہ۔ کہاوت کا یہی مطلب ہے۔
(۴۴) سو سُنار کی، ایک لوہار کی : سُنار اپنے نازک اور باریک کام میں بہت ہلکی ہتھوڑی سے کام لیتا ہے جب کہ لوہار اپنے بھاری کام میں بڑا ہتھوڑا استعمال کرتا ہے۔ اس طرح لوہار کی ایک ضرب سُنار کی سیکڑوں ضربوں کے برابر ہوتی ہے۔ جب کوئی مسئلہ بہت سی نرم باتوں سے حل نہ ہو لیکن ایک پر زور اور سخت بات کام کر جائے تو یہ کہاوت بولی جاتی ہے۔
(۴۵) سولہا سنگھار کرنا : پرانے زمانے میں خواتین مسّی، سرمہ، مہندی، سرخی وغیرہ سنگھار کے لئے استعمال کرتی تھیں۔ زیورات ان کے علاوہ تھے۔ سولہا سنگھار کرنا یعنی بہت اچھی طرح بنناسنورنا۔ یہ نہیں معلوم ہو سکا کہ سولہا سے واقعی سولہا قسم کے لوازماتِ آرائش مقصود ہیں یا یہ محض بھر پورسنگھار کے اظہار کے لئے استعمال کیا گیا ہے۔ گمان اغلب ہے کہ اچھی طرح سنگھار ہی مقصود ہے۔
( ۴۶ ) سوئی کا بھالا بنا دیا : یعنی چھوٹی سے بات کو بڑھا چڑھا کر کہیں سے کہیں پہنچا دیا۔ اس کو’’ بات کا بتنگڑ بنانا‘‘ یا’’ رائی کا پربت بنانا‘‘ بھی کہتے ہیں۔
(۴۷) سہج پکے سو میٹھا : جو پھل شاخ پر ہی پک کر تیار ہو وہ زیادہ لذیذ اور میٹھا ہوتا ہے۔اسی مناسبت سے جو کام بھی صبر کے ساتھ کیا جائے بہتر ہوتا ہے جبکہ وہی کام جلد بازی میں خراب ہو سکتا ہے۔ اسی سے ملتی جلتی ایک اور کہاوت ہے کہ’’ جلدی کا کام شیطان کا‘‘۔ اس کو’’ صبر کا پھل میٹھا‘‘ بھی کہتے ہیں۔
( ۴۸ ) سینگ کٹا کر بچھڑوں میں شامل ہو گئے : سینگ کاٹنے سے بیل، بچھڑا نہیں بن جاتا ہے۔ اپنی اصل عمر چھپا کر کوئی شخص خود کو اگر کم عمر نوجوان ظاہر کرے تو یہ کہاوت کہی جاتی ہے۔ کہاوت میں ہتک اور طنز کا پہلو مخفی ہے کیونکہ لوگ اپنی عمر عموماً کسی گھٹیا مقصد کی خاطر ہی کم بتاتے ہیں۔
(۴۹) سیر کو سوا سیر مل ہی جاتا ہے : کلو گرام سے پہلے ہند و پاک میں سیر استعمال ہوتا تھا۔ یہاں سیر سے مراد ایسا آدمی ہے جس کو اپنی طاقت یا دولت پر غرور ہو۔ ایسا آدمی شیخی میں اکثر بھول جاتا ہے کہ دُنیا میں اس سے بھی زیادہ طاقت ور اور دولت مند لوگ موجود ہیں ۔ زندگی کسی نہ کسی موقع پر اس کو یہ سبق بھی سکھا ہی دیتی ہے۔ محل استعمال معنی سے ظاہر ہے۔
(۵۰) سیدھی انگلی گھی نہیں نکلتا : دودھ کو بلویا جائے تو گھی الگ ہو کر اُ س میں تیرنے لگتا ہے۔ اس کو چکھنے کے لئے ایک انگلی چمچے کی طرح ٹیڑھی کر کے گھی نکالا جاتا ہے۔ اگر دودھ میں انگلی سیدھی ڈال کر کھینچ لی جائے تو گھی نہیں نکلے گا۔ کسی مسئلہ کے حل میں سیدھے سبھاؤ کام نہ چلے اور سختی کی ضرورت نا گزیر ہو جائے تو یہ کہاوت بولی جاتی ہے یعنی اب سختی کرنی ہی پڑے گی۔
( ۵۱) سیّاں بھئے کوتوال، اب ڈر کاہے کا : سیّاں یعنی محبوب یا شوہر جب شہر کوتوال ہو گیا تو گویا خود محبوبہ بھی شہر کی مالک ہو گئی۔ اگر کوئی صاحب دولت و رسوخ کسی شخص کا پشت پناہ ہو جائے تو یہ کہاوت بولی جاتی ہے کہ اب ڈر کس بات کا۔
( ۵۲ ) سینے پر سانپ لوٹ گیا : یعنی بے حد رشک و حسد کا شکار ہوا۔ کسی کے سینہ پر سانپ لوٹ جائے تو وہ انتہائی خوف زدہ تو یقیناً ہو گا لیکن حسد کیوں محسوس کرے گا یہ معلوم نہیں ہو سکا۔
٭٭٭
ش۔کی کہاوتیں
( ۱) شام کے مرے کو کہاں تک روئیے : شام کے وقت اگر کسی کی وفات ہو جائے تو کوئی اس کو رات بھر بیٹھا نہیں روتا ہے یعنی رنج بھی کوئی ہر وقت نہیں کر سکتا۔کچھ دیر کے رونے کے بعد صبر آ ہی جاتا ہے۔
( ۲ ) شترِ بے مہار : مہار یعنی وہ ڈوری جو اُونٹ کی ناک میں اُسے قابو میں رکھنے کے لئے ڈالی جاتی ہے۔ شتر بے مہار ایسا شخص ہو گا جو قابو سے باہر ہو اور جس کو راہ راست پر لانا دُشوار ہو۔
( ۳) شملہ بقدر علم : پگڑی یا صافے کا جو حصہ گردن کے پیچھے لٹکا رہتا ہے شملہ کہلاتا ہے۔ نادان لوگ اس کی لمبائی سے صاحب صافہ کے علم کا اندازہ لگاتے ہیں ۔ یہ کہاوت طنزیہ کہی جاتی ہے۔
( ۴) شود ہم پیشہ با ہم پیشہ دُشمن : یعنی آدمی اپنے ہم پیشہ لوگوں کا دُشمن ہوتا ہے۔ کہاوت اسی حقیقت کی جانب اشارہ کر رہی ہے۔
( ۵) شہر میں اونٹ بدنام : یعنی جو شخص جانا پہچانا اور بڑا ہوتا ہے اس پر ہی سب کی نظر پڑتی ہے اور الزام بھی اسی پر آتا ہے۔
( ۶) شیطان کے کان بہرے : یہ عورتوں کی کہاوت ہے۔ جب وہ کوئی راز کی بات کسی سے کہتی ہیں تو پہلے’’ شیطان کے کان بہرے‘‘ کہہ دیتی ہیں۔ گویا یہ ایک قسم کا ٹوٹکا یا دعائیہ کلمہ ہے کہ یہ بات کوئی غلط شخص نہ سن لے۔
( ۷) شیروں کا منھ کس نے دھویا ہے : بچوں کا دل بڑھانے کے لئے ان سے یہ فقرہ کہا جاتا ہے کہ تم تو ایسے اچھے اور ہمت والے ہو پھر یہ بے ہمتی کیسی۔
( ۸) شیر مادر ہے : یعنی ایسا پاک اور قابل قبول ہے جیسے اپنی ماں کا دودھ۔ جب کوئی شخص ایک نا جائز کام کرے اور اس کو اپنا حق جتائے تو یہ کہاوت طنزیہ بولی جاتی ہے۔
( ۹ ) شیطان کی آنت : یعنی بہت لمبی، لامتناہی۔
( ۱۰ ) شین قاف درست نہیں ہے : جاہل مطلق ہے، اتنا نا اہل ہے کہ صحیح لکھ پڑھ بھی نہیں سکتا۔
(۱۱) شیخ چلّی کے خواب : شیخ چلی پرانی کہانیوں کا ایک فرضی اور مزاحیہ کردار ہے جس کی ہر بات دنیا سے نرالی ہوتی ہے۔ شیخ چلّی کے خواب سے مراد کسی شخص کے ایسے منصوبے ہیں جو نہ صرف ناقابل حصول ہوں بلکہ عجیب و غریب اور مضحکہ خیز بھی ہوں۔
٭٭٭
ص۔کی کہاوتیں
(۱ ) صاد کر دیا : پہلے زمانے میں جب خبر رسانی کے جدید ذرائع موجود نہیں تھے تقریبات کا دعوت نامہ کاغذ پر لکھ کر مہمانوں کی ایک فہرست کے ساتھ کسی خبر رساں (عموماً گھر کے نائی یا نائن )کے ہاتھ مہمانوں کو بھیجا جاتا تھا۔ ہر گھر میں خبر رساں زبانی دعوت سناتا اور وہ کاغذ دستخط کے لئے پیش کرتا۔ مدعو کئے ہوئے گھر کا کوئی بڑا آدمی اس فہرست پر اپنے نام کے آگے تصدیق کے لئے حرف صاد(ص) بنا دیتا تھا۔اس کو صاد کرنا(یعنی دعوت قبول کرنا، تصدیق کرنا)کہتے تھے۔
(۲) صبح کا بھولا شام گھر آئے تو اُسے بھولا نہیں کہتے : یعنی اگر کوئی شخص اپنی غلطی وقت پر مان لے اور اس کی اصلاح کی کوشش کرے تو وہ قابل تعذیر نہیں ہے۔ یہ کیا کم ہے کہ اس کو اپنی کوتاہی کا احساس ہوا۔ کہاوت میں اُسے ایسے شخص کی مثال سے ظاہر کیا گیا ہے جو صبح کو راہ بھول جائے لیکن شام کو اپنے گھر کا راستہ پہچان کر واپس آ جائے۔
(۳) صحیح گئے، سلامت آئے : یعنی جیسے گئے تھے ویسے ہی واپس بھی آ گئے۔
( ۴ ) صورت نہ شکل، بھاڑ میں سے نکل : بد صورت آدمی کے لئے کہتے ہیں۔ اس کی وجہ تسمیہ کا علم نہیں ۔ کہاوتوں میں اکثر الفاظ کو ان کے عوامی تلفظ میں ادا کیا جاتا ہے جیسے یہاں شکل کو کاف پر زبر کے ساتھ نکل سے ہم قافیہ بنا کر ادا کیا گیا ہے۔
٭٭٭
ض۔کی کہاوتیں
ضرب الامثال اشعار : اُردو میں منتخب اشعار کو بطور ضرب الامثال استعمال کرنے کی روایت پرانی بھی اور اپنے نتائج میں نہایت دلکش و دلفریب بھی۔ اچھی اور ٹکسالی نثر بجائے خود اپنا حسن رکھتی ہے۔ مرزا غالبؔ اور محمد حسین آزاد سے لے کر مولانا ابوالکلام آزاد، نیازؔ فتحپوری، جوشؔ ملیح آبادی،مشتاق احمد یوسفی اور ایسے ہی دوسرے ادبا نے نثر نگاری میں اپنے قلم کے جوہر خوب خوب دکھائے ہیں جن کو پڑھ کر دل سے بے ساختہ واہ نکل جاتی ہے۔ اچھی نثر میں اگر فنکاری اور صناعی کے ساتھ منتخب اور برجستہ اشعار کا جادو جگایا جائے تو ایسی نثر اپنی دلکشی اور اثر پذیری میں کہیں سے کہیں پہنچ جاتی ہے۔ یہ ایک مشکل فن ہے اور زبان و بیان پر نہ صرف مکمل عبور چاہتا ہے بلکہ ایسے ادبی اور شعری ذوق کا بھی متقاضی ہے جو ہر ایک کو ودیعت نہیں ہوتا ہے۔ جن لوگوں نے مولانا ابوالکلام آزادؔ کی ’’غبار خاطر‘‘ پڑھی ہے ان کی نگاہ سے اشعار کے ذریعہ نثر کو آسمان پر پہنچانے کے فن کی درجنوں اعلیٰ ترین مثالیں گزری ہیں۔مولانا آزادؔ کتاب میں جا بجا اُردو، فارسی اور عربی کے انتہائی منتخب، خوبصورت اور با موقع اشعار اس طر ح کھپاتے چلے جاتے ہیں کہ قاری ہر لفظ پر عش عش کرتا رہ جاتا ہے۔ کہیں یہ احساس نہیں ہوتا کہ کوئی شعر بھرتی کا یا غیر ضروری ہے۔ مزاح نگاروں میں مشتاق احمد یوسفی نے اس فن کو ایک نئی شکل دے کر درجۂ کمال کو پہنچا دیا ہے۔ وہ اپنی کتابوں میں اُردو اور فارسی کے اشعار اور مصرعوں کو کمالِ صناعی سے الفاظ کے رد و بدل اور ہیرا پھیری سے مزاح کی چاشنی عطا کر تے ہیں اور پھر ان کو اپنی شگفتہ اور جاں افروز نثر میں اس طرح سمو دیتے ہیں کہ نقل پر اصل کا گمان ہوتا ہے۔
ضرب الامثال اشعار نثر میں مختلف حوالوں اور تقاضوں سے استعمال کئے جاتے ہیں۔ کہیں یہ محض زیب داستان کے لئے شامل کئے جاتے ہیں،کہیں نصیحت و تلقین کا پیرایہ اختیار کر لیتے ہیں، کبھی متعلقہ نثر کی توضیح و تشریح میں معاونت کرتے ہیں تو کبھی اس کے متعلقات میں اضافہ کا باعث بن جاتے ہیں۔ اشعار نثر میں شگفتگی، معنویت، شوخی، تنبیہ، حکیمانہ رنگ، رموز تصوف غرضیکہ انسانی تجربات، مشاہدات اور محسوسات کا ہر رنگ و آہنگ پیدا اَور اُجاگر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں بشرطیکہ انھیں ماہرانہ انداز میں استعمال کیا جائے۔ چونکہ اردو کا خمیر فارسی سے مستعار ہے اور اس کی شعری روایت تمام و کمال فارسی ہی کی مرہون منت ہے اس لئے اردو میں فارسی اشعار بھی بکثرت ضرب الامثال کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔ یہاں اُردو اور فارسی کے ایسے ہی متعدد اشعار لکھے جا رہے ہیں۔ فارسی اشعار کا ترجمہ بھی قارئین کی سہولت کے لئے لکھ دیا گیا ہے۔
ہرچند ہو مشاہدۂ حق کی گفتگو بنتی نہیں ہے بادۂ و ساغرکہے بغیر
اتنی بہ بڑھا پاکیِ داماں کی حکایت دامن کو ذرا دیکھ،ذرا بندِ قبا دیکھ
دامِ ہر موج میں ہے حلقۂ صد کامِ نہنگ دیکھیں کیا گزرے ہے قطرہ پہ گہر ہونے تک
جب توقع ہی اُٹھ گئی غالبؔ کیوں کسی کا گلا کرے کوئی
اس سادگی پہ کون نہ مر جائے اے خدا لڑتے ہیں اور ہاتھ میں تلوار بھی نہیں
دیکھنا تقریر کی لذت کہ جو اُس نے کہا میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے
گو میں رہا رہینِ ستم ہائے روزگار لیکن ترے خیال سے غافل نہیں رہا
وہ آئیں گھر میں ہمارے خدا کی قدرت ہے کبھی ہم اُن کو کبھی اپنے گھر کو دیکھتے ہیں
ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن دل کے بہلانے کو غالبؔ یہ خیال اچھا ہے
ہم نے مانا کہ کچھ نہیں غالبؔ مفت ہاتھ آئے تو برا کیا ہے
یہ لاش بے کف اسدِؔ خستہ جاں کی ہے حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا
ہوئے مر کے ہم جو رُسوا،ہوئے کیوں نہ غرقِ دریا نہ کبھی جنازہ اُٹھتا، نہ کہیں مزار ہوتا
ہم کہاں کے دانا تھے،کس ہنر میں یکتا تھے بے سبب ہوا غالب ؔ دُشمن آسماں اپنا
یارب وہ نہ سمجھے ہیں نہ سمجھیں گے مری بات دے اَور دل اُن کو جو نہ دے مجھ کو زباں اَور
مضمحل ہو گئے قویٰ غالبؔ اب عنا صر میں اعتدال کہاں
غم ہستی کا اسدؔ کس سے ہو جُز مرگ علاج شمع ہر رنگ میں جلتی ہے سحر ہونے تک
رنج کا خوگر ہواانساں تو مٹ جاتا ہے رنج مشکلیں اتنی پڑیں مجھ پر کہ آساں ہو گئیں
قید حیات و بند غم اصل میں دونوں ایک ہیں موت سے پہلے آدمی غم سے نجات پائے کیوں
ہستی کے مت فریب میں آ جائیو اسدؔ عالم تمام حلقۂ دام خیال ہے
ہو چکیں غالبؔ بلائیں سب تمام ایک مرگ ناگہانی اور ہے
اُن کے دیکھے سے جو آ جاتی ہے منھ پر رونق وہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچھا ہے
چاہتے ہیں خوب رُویوں کواسدؔ آپ کی صورت تو دیکھا چاہئے
سفینہ جب کہ کنارے پہ آ لگا غالبؔ خداسے کیا ستم و جورِ ناخدا کہئے
نکلنا خلد سے آدم کا سنتے آئے تھے لیکن بڑے بے آبرو ہو کر ترے کوچے سے ہم نکلے
(مرزااسد اللہ خاں غالبؔ)
لگا رہا ہوں مضامینِ نو کے پھر انبار خبر کرو مرے خرمن کے خوشہ چینوں کو
خیالِ خاطر احباب چاہئے ہر دم انیسؔ ٹھیس نہ لگ جائے آبگینوں کو
(میر ببر علی انیسؔ)
اب تو جاتے ہیں بتکدے سے میرؔ پھر ملیں گے اگر خدا لایا
کرے کیا کہ دل بھی تو مجبور ہے زمیں سخت ہے آسماں دور ہے
فقیرانہ آئے صدا کر چلے میاں خوش رہو ہم دُعا کر چلے
(میر تقی میرؔ)
عمر ساری تو کٹی عشقِ بُتاں میں مومن آخری وقت میں کیا خاک مسلماں ہوں گے
یہ عذر امتحانِ جذبِ دل کیسانکل آیا میں الزام اُن کو دیتا تھا،قصور اپنا نکل آیا
الجھا ہے پاؤں یار کا زلفِ دراز میں لو آپ اپنے دام میں صیاد آ گیا
(مومن خاں مومنؔ)
تنگدستی اگر نہ ہوسالکؔ تندرستی ہزار نعمت ہے
(سالکؔ دہلوی)
لوں جان بیچ کر بھی جو فضل و ہنر ملے جس سے ملے، جہاں سے ملے،جس قدر ملے
(اسمٰعیل میرٹھی)
نہ جانا کہ دُنیا سے جاتا ہے کوئی بہت دیر کی مہرباں آتے آتے
(مرزا خاں داغؔ دہلوی)
ہے جستجو کہ خوب سے ہے خوب تر کہاں اب دیکھئے ٹھہرتی ہے جا کر نظر کہاں
اُن کے جاتے ہی یہ کیا ہو گئی گھر کی صورت نہ وہ دیوار کی صورت ہے، نہ در کی صورت
(الطاف حسین حالیؔ)
آئے بھی لوگ، بیٹھے بھی،اُٹھ کر چلے گئے میں جاہی ڈھونڈتا تری محفل میں رہ گیا
(حیدر علی آتشؔ لکھنوی)
نہ چھیڑا ے نکہت باد بہاری راہ لگ اپنی تجھے اٹھکھیلیاں سوجھی ہیں ہم بیزار بیٹھے ہیں
(سیدا نشاؔ)
زمین چمن گل کھلاتی ہے کیا کیا دکھاتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے
(لا اعلم)
جس طرح کی تان سنئے اک نرالا راگ ہے شوقؔ اپنی اپنی ڈفلی، اپنا اپنا راگ ہے
(شوقؔ لکھنوی)
کھاتے تھے اپنی بھوک تو سوتے تھے اپنی نیند مانا قفس میں تھے ہمیں کھٹکا تو کچھ نہ تھا
وقت پیری شباب کی باتیں ایسی ہیں جیسے خواب کی باتیں
(ریاضؔ خیر آبادی)
یہ دَورِ مے ہے،یاں کوتاہ دستی میں ہے محرومی جو بڑھ کر خود اُٹھا لے ہاتھ میں مینا اسی کاہے
(شادؔ عظیم آبادی)
میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر لوگ آتے ہی گئے اور کارواں بنتا گیا
(لا اعلم)
گل پھینکے ہے اَوروں کی طرف بلکہ ثمر بھی اے خانہ برا نداز چمن کچھ تو ادھر بھی
کون ایسا ہے جسے دست ہو دلسازی کا شیشہ ٹوٹے تو کریں لاکھ ہنر سے پیوند
سوداؔ خدا کے واسطے کر قصہ مختصر اپنی تو نیند اڑ گئی تیرے فسانے میں
(مرزا محمد رفیع سوداؔ)
وائے ناکامی متاع کارواں جاتا رہا کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے
تو ہی ناداں چند کلیوں پر قناعت کر گیا ورنہ گلشن میں علاج تنگیِ داماں بھی تھا
(علامہ اقبالؔ)
شکست و فتح نصیبوں سے ہے ولے اے امیرؔ مقابلہ تو دل ناتواں نے خوب کیا
(نواب محمد یار خاں امیرؔ)
آتی ہے صدائے جرسِ ناقۂ لیلیٰ صد حیف کہ مجنوں کا قدم اُٹھ نہیں سکتا
اے ذوقؔ تکلف میں ہے تکلیف سراسر آرام سے وہ ہیں جو تکلف نہیں کرتے
(شیخ ابراہیم ذوقؔ)
طے کر چکا ہوں راہِ محبت کے مرحلے اس سے زیادہ حاجت شرح و بیاں نہیں
(رازؔ چاندپوری)
شاعری کیا ہے دلی جذبات کا اظہار ہے دل اگر بیکار ہے تو شاعری بیکار ہے
زندگی کیاہے؟ عناصر میں ظہور ترتیب موت کیا ہے؟ انھیں اجزا کا پریشاں ہونا
(منشی برج نارائن چکبستؔلکھنوی)
صد سالہ دَورِ چرخ تھا ساغر کا ایک دَور نکلے جو میکدے سے تو دُنیا بدل گئی
(گستاخؔ رامپوری)
بڑے پاک طینت، بڑے پاک باطن ریاضؔ آپ کو کچھ ہمیں جانتے ہیں
(ریاضؔ خیر آبادی)
بیٹھتا ہے ہمیشہ رندوں میں کہیں واعظ ولی نہ ہو جائے
(بیخودؔ بدایونی)
نہ میں سمجھا نہ آپ آئے کہیں سے پسینہ پوچھئے اپنی جبیں سے
(انوارؔ دہلوی)
نہ خنجر اٹھے گانہ تلوار ان سے وہ بازو مرے آزمائے ہوئے ہیں
(نادرؔ لکھنوی)
قسمت کی خوبی دیکھئے ٹوٹی کہاں کمند دو چار ہاتھ جب کہ لب بام رہ گیا
(قائمؔ چاند پوری)
تو و طوبیٰ و ماو قامتِ یار فکر ہرکس بقدر ہمت اوست
ما قصۂ سکندر و دارا نہ خواندہ ایم ازما بجز حکایت مہر و وَفامپرس
(حافظؔ شیرازی)
صائبؔ دو چیز می شکند قدر شعر را تحسین نا شناس و سکوتِ سخن شناس
(صائبؔ)
اے سرو بتو شادم شکلت بفلاں ماند اے گل بتوخورسندم تو بوئے کسے داری
(حسنؔ سنجر ی دہلوی)
ز فرقتا بقدم ہرکجاکہ می نگرم کرشمہ دامن دل می کشد کہ جا ایں جا ست
(نظیریؔ)
( ۱ ) ضرورت کے وقت گدھے کو بھی باپ بنا نا پڑتا ہے : مجبوری کی صورت میں آدمی سب کچھ کرنے کو تیار ہو جاتا ہے۔ گدھے کو باپ بنانا حقیر و نازیبا کام یا بات کی طرف اشارہ ہے کہ ایسا کام بھی کرنا پڑ جاتا ہے۔
( ۲ ) ضرورت ایجاد کی ماں ہے : اگر انسان کو کسی چیز کی انتہائی ضرورت پڑ جائے تو وہ کوئی نہ کوئی شکل اپنی ضرورت رفع کرنے کی نکال ہی لیتا ہے۔
٭٭٭
ط۔کی کہاوتیں
( ۱ ) طاق پہ بیٹھا اُلو، بھر بھر مانگے چُلّو : جب کوئی نا اہل اور ناکارہ آدمی کسی ایسے منصب پر فائز ہو جائے جہاں سے وہ اپنے سے زیادہ اہل لوگوں پر حکم چلائے تو یہ کہاوت بولی جاتی ہے۔
(۲) طباقی کُتا : وہ کتا جو اِدھر اُدھر کھانے کی تلاش میں پھرے طباقی کُتا کہلاتا ہے۔ اس مناسبت سے یہ کہاوت ایسے شخص کے لئے بھی بولی جاتی ہے جو اِدھر اُدھر مفت کھانے کی فکر میں پھرتا ہو۔
( ۳ ) طشت از بام : مکان کی چھت سے دیکھیں تو زمین پر رکھی طشتری صاف نظر آ تی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ بات بالکل صاف اور سب پر ظاہر ہے، اس کو چھپانے سے کچھ حاصل نہیں۔
(۴) طویلے کی بلا، بندر کے سر : طویلہ یعنی جانور باندھنے کی جگہ۔ مطلب یہ ہے کہ جرم کوئی کرے اور پکڑا کوئی اور جائے۔ اس معنی میں ’’ کرے کوئی،بھرے کوئی‘‘ اور ’’ کرے داڑھی والا،پکڑا جائے مونچھوں والا‘‘ بھی بولتے ہیں۔
( ۵) طوطی کی آواز نقار خانہ میں کون سنتا ہے : یعنی کمزور آدمی کی شکایت اور فریاد طاقت ور کے سامنے کوئی قیمت نہیں رکھتی۔
( ۶) طوطی بول رہا ہے : یعنی چاروں طرف شہرت اور غلغلہ ہے۔ بچہ بچہ کی زبان پر ہے۔
٭٭٭
ظ۔کی کہاوتیں
( ۱ ) ظالم کی رسی دراز : مشہور ہے کہ ظالم کی رسّی دراز ہوتی ہے یعنی اس کے ظلم کی مدت طویل ہوتی ہے لیکن بالآخر وہ کیفر کردار کو پہنچتا ہے اور اپنے کئے کا پھل پاتا ہے گویا اسی دَراز رَسّی سے پھانسی پاتا ہے۔
( ۲ ) ظالم کی داد خدا کے گھر : یعنی ظالم کو سزا اللہ ایک نہ ایک دن ضرور دیتا ہے۔
٭٭٭
ع۔کی کہاوتیں
( ۱) عشق است و ہزار بدگمانی : عشق کی جانب سے دُنیا ہمیشہ بد گمان رہتی ہے۔ ایک عشق ہزار بدگمانیاں پیدا کر سکتا ہے۔
( ۲) عشق اور مشک چھپائے نہیں چھپتے : عشق کی علامات اور مشک کی خوشبو کسی طرح چھپائے نہیں جا سکتے اور دُنیا پر ظاہر ہو کر رہتے ہیں۔
(۳) عقل مند ایک ہی سوراخ سے دو بار نہیں ڈسا جاتا : اگر کسی سوراخ میں ہاتھ ڈالا جائے اور کوئی کیڑا کاٹ لے تو عقل کا تقاضا ہے کہ پھر اُس سوراخ میں ہاتھ نہ ڈالا جائے۔ اسی طرح اگر کسی کام یا شخص سے ایک بار نقصان اٹھانا پڑے توایسے کام اور ایسے شخص سے پرہیز دانش مندی کی نشانی ہے۔
(۴) عقل مند کو اشارہ کافی ہوتا ہے : کم عقل کوکسی طرح بھی بات سمجھائیے اس کی سمجھ میں نہیں آتی اور عقل مند ذراسے اشارے میں بات سمجھ جاتا ہے۔یہ کہاوت یہی کہہ رہی ہے۔
(۵) عقل کے ناخن لو : عقل کی بات کرو اَور نادانی چھوڑ و۔
( ۶ ) عقل بڑی کہ بھینس : نادان آدمی کی تنبیہ کی خاطر یہ کہاوت کہی جاتی ہے گویا بغیر سوچے سمجھے کام کرنے پر فکر و عقل کو ترجیح دینے کی اہمیت اس فقرہ سے شرم دلا کر ظاہر کی گئی ہے۔
(۷) عقل ماری گئی ہے : یعنی بے عقل ہو گیا ہے، بدحواسی میں عقل کا استعمال ہی بھول گیا ہے۔ اسے’’ مت ماری گئی ہے‘‘ بھی کہتے ہیں۔
( ۸) عقل گھاس چرنے گئی ہے : اس کا بھی وہی مطلب ہے جو’’ عقل ماری گئی ہے‘‘ کا ہے۔ یہاں طنز و تحقیر کا عنصر غالب ہے۔
( ۹) عمر نوح چاہئے : حضرت نوح ؑ کی عمر بہت لمبی مشہور ہے۔ عمر نوح چاہئے یعنی کسی کام کو کرنے کے لئے بڑی مدت چاہئے۔
(۱۰ ) عید کا چاند ہو گئے : عید کا چاند سال میں ایک بار نظر آتا ہے۔ کوئی شخص کبھی کبھار نظر آ جائے تو یہ کہاوت کہی جاتی ہے اور اس میں خوشی اور شکایت دونوں عناصر موجود ہیں۔
(۱۱ ) عید کا چاند کدھر سے نکل آیا : جب کسی عزیز سے ایک مدت کے بعد اچانک ملاقات ہو جائے تو خوشی اور حیرت کے اظہار کے طور پر یہ کہاوت بولی جاتی ہے۔
( ۱۲ ) عید کا چاند ہو گئے : یعنی عید کے چاند کی طرح عرصہ بعد ہی نظر آتے ہیں۔
٭٭٭
غ۔کی کہاوتیں
( ۱ ) غرور کا سر نیچا : یعنی غرور کی ہمیشہ شکست ہوتی ہے۔ مغرور آدمی رعونت سے سر اونچا کر کے چلنے کا عادی ہوتا ہے۔کہاوت تنبیہ کر رہی ہے کہ بالآخر یہ سر نیچا ہو جائے گا سو غرور سے احتراز بہتر ہے۔
( ۲ ) غرض نکلی آنکھ بدلی : جب تک کسی سے غرض اٹکی ہو، آدمی اُس سے عاجزی اور مصنوعی خوشدلی سے پیش آتا ہے۔ غرض پوری ہوتے ہی اُس کی نظر بدل جاتی ہے۔ کہاوت انسان کی اسی خصلت کی جانب اشارہ کر رہی ہے۔
( ۳ ) غرض کے وقت گدھے کو بھی باپ بنا لیتے ہیں : ہر شخص اپنی غرض کا بندہ ہے اور اپنے مطلب کے لئے خراب سے خراب کام کرنے پر بھی آمادہ ہو جاتا ہے۔ اس خود غرضی کو گدھے کو باپ بنانے کے ذ لیل عمل سے تعبیر کیا گیا ہے۔
( ۴) غریب کو ٹپکے کا ڈر بہت ہوتا ہے : مفلسی بری بلا ہے۔ غریب آدمی کو ہر وقت ڈر رہتا ہے کہ بارش میں اس کی جھونپڑی ٹپکے گی اور اس کو بیٹھنے کے لئے سوکھی زمین بھی نہیں ملے گی۔کہاوت کا مطلب ہے کہ کمزور آدمی کو ذرا ذرا سی بات کا خوف ستاتا رہتا ہے۔
(۵) غریبی اور آٹا گیلا : اگر کسی غریب آدمی کے پاس تھوڑا سا ہی آٹا ہو اور گوندھتے وقت اُس میں ضرورت سے زیادہ پانی پڑ جائے تو وہ کسی کام کا نہیں رہتا۔ گویا ایک تو ویسے ہی غریب تھا اَب اُس پر آٹا گیلا ہونے کی وجہ سے روٹی سے بھی گیا۔ یہ کہاوت اُس وقت استعمال ہوتی ہے جب ایک مشکل سے چھٹکارہ نہ ملے اور اس میں ایک اور مشکل پیدا ہو جائے۔
( ۶) غم نہ داری بُز بخر : بُز یعنی بَکری۔ یعنی اگر تجھ کو کوئی غم نہیں ہے تو ایک بکری خرید لے۔ بکری کی دیکھ بھال بظاہر آسان معلوم ہوتی ہے لیکن در اصل بہت محنت اور وقت چاہتی ہے۔
٭٭٭
ف۔کی کہاوتیں
(۱) فارسی ہے تو واہ واہ : کوئی شخص بغیر سمجھے بوجھے کسی بات کی خواہ مخواہ تعریف کرے تو یہ کہاوت کہی جاتی ہے۔ ایک قصہ مشہور ہے کہ کسی بزرگ کے مزار پر قوالیاں ہو رہی تھیں۔ عقیدت مندوں اور مریدوں کا ہجوم تھا اور لوگ بڑھ چڑھ کر قوالوں سے طرح طرح کی قوالی سنانے کی فرمائش کر رہے تھے۔ ایک جاہل اور کم عقل مرید نے سوچا کہ اگر میں نے کوئی فرمائش نہیں کی تو میری بڑی سبکی ہو گی۔ چنانچہ اس نے بڑھ کر قوال سے فارسی کی کوئی چیز سنانے کی فرمائش کی۔ قوال نے کہا کہ ’’حضور! ابھی میں جو قوالی سنا رہا تھا وہ فارسی کی ہی تو تھی۔‘‘ اس پر اُس مرید نے جیب سے روپے نکال کر قوال کو دیتے ہوئے کہا کہ ’’فارسی ہے تو واہ واہ۔‘‘
( ۲ ) فرعونِ بے سامان ہے : بے حیثیت لیکن مغرور اور بر خود غلط آدمی کے لئے یہ فقرہ استعمال کیا جاتا ہے کہ حیثیت تو کچھ ہے نہیں لیکن رعونت اور طنطنے میں کسی فرعون سے خود کو کم نہیں سمجھتا۔
(۳) فقیر چلا جاتا ہے اور کتے بھونکتے رہ جاتے ہیں : اگر کوئی فقیر آواز لگاتا ہوا آئے اور محلہ کے کُتّے اُ س پر بھونکنے لگیں تو ان کے بھونکنے سے فقیر کا کچھ نہیں بگڑتا۔ یہ کہاوت ایک فارسی کہاوت کا چربہ ہے،’’ آواز سگاں کم نہ کند رِزقِ گدا را ‘‘( کتوں کے بھونکنے سے فقیر کا رزق کم نہیں ہو جاتا ہے)۔ گویا اگر آدمی اپنے کام سے کام رکھے تو اِدھر اُدھر کے شور سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے۔
٭٭٭
ق۔کی کہاوتیں
( ۱) قاضی دُبلے کیوں، شہر کے اندیشے سے : قاضی ٔ شہر سارے شہر کی ذمہ داری سے فکر مند و پریشان رہتا ہے۔ اسی مناسبت سے جس شخص کو اہم ذمہ داریاں دی جائیں وہ عموماً پریشان و فکر مند رہتا ہے کہ کہیں کام بگڑ نہ جائے اور اس کے نام پر دھبہ آئے۔
( ۲ ) قاضی کے گھر کے چوہے بھی سیانے : چالاک آدمی کے گھر کا چھوٹے سے چھوٹا شخص بھی چالاک ہوتا ہے۔
( ۳ ) قافیہ تنگ ہے : یعنی بات نہیں بن رہی ہے یا سوجھ نہیں رہی ہے۔ شاعر کو نئے قافیے نہ سوجھیں تو اس کو قافیہ تنگ ہونا کہتے ہیں۔
(۴) قبر میں پاؤں لٹکائے بیٹھے ہونا : یعنی اتنا بوڑھا ہونا کہ موت بہت قریب ہو۔ اگر کوئی شخص بڑھاپے میں بھی بری عادتوں سے باز نہ آئے تو یہ کہاوت طنزاً اور تنبیہ کے طور پر بولی جاتی ہے۔
(۵) قبر پر قبر نہیں بنتی ہے : یعنی قرض لے کر اس پر مزید قرض نہیں ملتا ہے کیونکہ قرض خواہ مقروض کی حالت سے بخوبی واقف ہوتا ہے۔
( ۶ ) قبر کے مردے اُکھاڑنا : پرانے قضئے اور جھگڑے نکال کر لانا اور فساد کی صورت پیدا کرنا۔
( ۷ ) قدر کھو دیتا ہے ہر روز کا آنا جانا : یعنی کسی شخص سے ضرورت سے زیادہ ملنا ملانا ہو تو بہت جلد اس تعلق میں سرد مہری پیدا ہو جاتی ہے۔ مثلاًکسی کے گھر ملاقات کی غرض سے روزانہ چکر لگایا جائے تو جلد ہی اُس دوست کے دل سے آنے والے کی قدر و قیمت کم ہو جاتی ہے۔کہاوت میں تنبیہ ہے کہ آپس کے تعلقات میں بھی میانہ روی ہونی چاہئے۔
( ۸) قرض مقراض محبت ہے : مقراض یعنی قینچی۔قرض بہت بڑی لعنت ہے اور عموماً قرض خواہ اور مقروض کے درمیان جھگڑے اور رنجش کا باعث ہوتا ہے۔ اسی لئے اسے محبت کی قینچی کہا گیا ہے۔
(۹) قطرہ قطرہ دریا ہوتا ہے : یعنی تھوڑی تھوڑی چیز مل کر بہت ہو جاتی ہے جس طرح بارش کے بے وقعت قطروں سے دریا بھر جاتے ہیں۔ا س کہاوت میں ہدایت ہے کہ کسی اچھے کام کو معمولی نہیں سمجھنا چاہئے کیونکہ اگر ایسے بہت سے کام یکجا ہو جائیں تو تقدیریں بدل سکتی ہیں۔
( ۱۰) قلعی کھل گئی : یعنی تمام راز فاش ہو گیا۔برتن کی قلعی اُتر جائے تو اس کی اصل شکل سامنے آ جاتی ہے۔ کہاوت یہی کہہ رہی ہے کہ ظاہر ی نمود و نمائش اُتر جانے پر انسان کی اصل خصلت و شخصیت سامنے آ جاتی ہے۔
( ۱۱) قول مرداں جان دارد : مردوں کی بات میں جان ہوتی ہے یعنی ان کی زبان کا اعتبار کیا جا سکتا ہے۔
( ۱۲) قہر درویش بر جان درویش : یعنی فقیر کا غصہ خود فقیر کی ہی جان پر اُترتا ہے۔ فقیر اگر کسی پر غصہ کرے بھی تو سننے والا کوئی نہیں ہوتا۔ لہٰذا اس کا غصہ اسی کی جان تک محدود ہو کر رہ جاتا ہے۔
٭٭٭
ک۔کی کہاوتیں
(۱) کان پڑی آواز سنائی نہ دینا : شور و غل کی جگہ اگر کسی سے کچھ کہنا ہو تو اس کے کان کے قریب منھ لا کر بلند آواز میں بات کہی جاتی ہے۔ اس کو’’ کان پڑی آواز‘‘ کہتے ہیں۔ اگر پھر بھی بات سمجھ میں نہ آئے تو یہ کہاوت بولتے ہیں۔
( ۲ ) کانی کوڑی کا بھی نہیں : پہلے زمانے میں کوڑی بھی بازار میں چھوٹے سکے کے طور پر چلتی تھی۔ایک پیسے میں پانچ کوڑیاں ہوتی تھیں۔ اگر کوڑی میں سوراخ ہو تو وہ کا نی کہلاتی ہے اور اس کی کوئی قیمت نہیں رہ جاتی ہے۔کہاوت کا مطلب ہے کہ بالکل بے وقعت اور ناکارہ ہے۔
(۳) کانوں کان خبر نہ ہونا : کانوں کان یعنی کان میں راز داری سے کہہ کر۔ مطلب یہ کہ کسی کو بھی خبر نہ ہونا۔
(۴) کان پر جوں تک نہیں رینگتی : کسی کے کان پر جوں رینگے تواس کو بے چینی ہوتی ہے۔کان پر جوں رینگنے کا احساس نہ ہونا مکمل بے حسی کی نشانی ہے۔ جب کسی شخص پر مسلسل تنبیہ کا کوئی اثر نہ ہو تو یہ کہاوت بولی جاتی ہے۔
( ۵) کاٹو تو لہو نہیں بدن میں : انتہائی شرمندگی یا خوف و ہراس میں آدمی کے ہوش وحواس اُڑ جائیں تو یہ کہاوت استعمال ہوتی ہے۔ اسے’’ خون خشک ہو جانا‘‘ بھی کہتے ہیں۔
(۶ ) کالے آدمی صابن سے گور ے نہیں ہو جاتے : آدمی کی خصلت لاکھ تدبیریں کرنے کے بعد بھی نہیں بدلتی۔ کہاوت اس کی مثال ایسے کالے آدمی سے دے رہی ہے جو صابن سے اپنا رنگ گورا کرنے کی فکر میں ہو۔
(۷ ) کاٹ کھانے کو دوڑتا ہے : یعنی انتہائی غصہ کے عالم میں ہے۔ کہاوت سے پاگل کتے کی خوفناک تصویر سامنے آتی ہے۔
(۸) کام کا نہ کاج کا، دُشمن اناج کا : یہ فقرہ ناکارہ اور مفت خور شخص کے لئے کہا جاتا ہے۔اناج کا دشمن یعنی کھانے پینے کا شوقین۔
(۹ ) کام چور،نوالہ حاضر : یعنی وہ آدمی جو کام کے وقت بہانہ بنا کر غائب ہو جائے لیکن کھانے کے وقت دسترخوان پر آ دھمکے۔
( ۱۰) کاٹھ کی ہانڈی کب تک چولھے پر چڑھی رہے گی : جھوٹی اور غلط بات بہت دنوں تک نہیں چلتی ہے اور آخر کار اُس ڈھول کا پول کھل جاتا ہے، گویا جھوٹی بات لکڑی کی ہانڈی کی طرح ہے جو آگ پر زیادہ دیر تک نہیں چڑھی رہ سکتی۔
( ۱۱ ) کاغذ کے گھوڑے دوڑاتے ہیں : یعنی محض کاغذی کارروائی کرتے ہیں، عملی طور پر کوئی کام نہیں کرتے۔
( ۱۲ ) کاغذ کی ناؤ کب تک چلے گی : یعنی کوئی بے بنیاد اور فضول بات کس طرح قبول کی جاسکتی ہے۔ ایک نہ ایک دن یہ کاغذ کی ناؤ کی طر ح خود ہی ڈوب جائے گی اور لوگوں کو سب حالات معلوم ہو جائیں گے۔ جب کوئی شخص بے بنیاد اور فضول باتیں کرے یا دھوکہ اور فریب سے کام نکالنا چاہے تو تنبیہ کی خاطر یہ کہاوت کہتے ہیں۔
( ۱۳) کابل میں کیا گدھے نہیں ہوتے : یعنی دنیا میں کوئی ایسی جگہ نہیں ہے جہاں کم عقل لوگ موجود نہ ہوں ۔نہ عقل پر کسی کا اجارہ ہے اور نہ بے عقلی پر۔ ہر طرح کا انسان ہر جگہ مل جاتا ہے۔
( ۱۴) کالے کے آگے چراغ نہیں جلتا : عوام میں (غلط)مشہور ہے کہ اگر گھر میں چراغ جل رہا ہو اور ناگ سانپ آ جائے تو وہ پھونک مار کر چراغ کو بجھا دیتا ہے۔ کہاوت کا مطلب یہ ہے کہ ظالم شخص کو ذرا سی نیکی بھی نہیں بھاتی۔
( ۱۵ ) کان کھڑے ہو گئے : خطرہ کا احساس ہوتے ہی جانوروں کے کان کھڑے ہو جاتے ہیں تاکہ وہ چھوٹی سی آواز بھی سُن سکیں۔ کہاوت کا مطلب ہے کہ ہوشیار ہو گئے اور سار ی توجہ ایک جانب مرکوز ہو گئی۔
( ۱۶ ) کان کے کچے ہیں : یعنی بغیر دیکھے بھالے ہر ایک کی بات کا اعتبار کر لیتے ہیں۔
(۱۷ ) کالے کا کاٹا پانی نہیں مانگتا : کالا یعنی ناگ۔ عوام کا (غلط)خیال ہے کہ ناگ کا کاٹا ہوا آدمی اتنی جلد مر جاتا ہے کہ اس کو پانی مانگنے کی بھی مہلت نہیں ملتی۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسے شخص کو مرنے میں کافی وقت لگتا ہے اور اگر فوری طبی امداد مل جائے تو بچ بھی سکتا ہے۔ بہر حال کہاوت میں کالا ظالم اور زبردست شخص کااستعارہ ہے کہ اس کی مار سے آدمی جلد ہی برباد ہو جاتا ہے۔
( ۱۸ ) کان میں تیل ڈالے بیٹھے ہیں : لوگ کان میں تیل ڈال کر روئی کا پھایہ لگا لیتے ہیں ۔ اس سے اور کچھ ہو نہ ہو سنائی ضرور کم دینے لگتا ہے۔ اسی مناسبت سے یہ کہاوت ہے یعنی سننے کو تیار نہیں ہیں۔ محل استعمال معنی سے ظاہر ہے۔
( ۱۹ ) کالا اچّھر بھینس برابر : ا َ چّھر( ہندی اَکچھر)یعنی حرف۔ کہاوت ایسے آدمی کے متعلق ہے جس کے لئے لکھے ہوئے حرف اور بھینس میں کوئی فرق نہیں ہے، یعنی جاہل مطلق، اَن پڑھ۔
(۲۰) کاتا اور لے دوڑی : یعنی اِدھر کرگھے پر کچھ کاتا اور فوراً ہی دوسروں کو دکھانے کو دوڑ پڑے۔ کوئی کام کیا جائے تو دوسروں کو دکھانے سے پہلے اُس کو اچھی طرح جانچ پرکھ لینا چاہئے۔ ’’جلدی کا کام شیطان کا‘‘ بھی اسی معنی میں مشہور ہے۔
( ۲۱) کاٹھ کا اُلّو : یعنی جاہل مطلق، بالکل احمق۔
(۲۲) کاجل کی کوٹھری : اگر کوئی ایسی کوٹھری میں جائے جو کاجل سے بھری ہو تو وہ اُس میں سے کالا منھ لے کر نکلے گا۔چنانچہ کاجل کی کوٹھری سے مراد ایسی جگہ یا معاملہ ہے جہاں سوائے رُسوائی اور بدنامی کے اور کچھ حاصل نہ ہو۔
(۲۳ ) کبھی نہ دیکھا بوریا اور سپنے آئی کھاٹ : بوریا یعنی بورے کا ٹکڑا، کھاٹ یعنی چارپائی۔ مطلب یہ ہے کہ ہمیشہ مفلسی کا ہی عالم رہا لیکن خواب بڑے بڑے دیکھتے ہیں۔
(۲۴) کباب میں ہَڈی : اگر کباب میں ہڈی نکل آئے تو سارا مزا کرکرا ہو کر رہ جاتا ہے۔ اسی مناسبت سے اچھے بھلے کام میں کوئی رکاوٹ پیدا ہو جائے تو یہ کہاوت بولی جاتی ہے۔
( ۲۵ ) کبوتر با کبوتر، باز با باز : یعنی کبوتر، کبوتر کے ساتھ اور باز، باز کے ساتھ (پرواز کرتا ہے)۔ یہ ایک فارسی شعر کا مصرع ہے:
کند ہم جنس با ہم جنس پرواز کبوتر با کبوتر باز با باز
(ہم جنس ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ ہی اُڑتے ہیں۔کبوتر، کبوتر کے ساتھ اور باز، باز کے ساتھ)
( ۲۶ ) کبھی کے دن بڑے کبھی کی راتیں : کہاوت دُنیا اور انسانی زندگی کی مستقل بدلتی ہوئی کیفیت کا ذکر کر رہی ہے کہ ہمیشہ دن ایک سے نہیں رہتے۔ کسی شاعر نے اس حقیقت کو یوں بیان کیا ہے ؎
ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں سکوں محال ہے قدرت کے کارخانے میں
( ۲۷ ) کبھی گاڑی ناؤ پر، کبھی ناؤ گاڑی پر : دُنیا ہمیشہ تغیر پذیر ہے۔ حالات، وقت، لوگ سبھی کچھ بدلتا رہتا ہے۔ کہاوت اسی حقیقت کی جانب اشارہ کر رہی ہے کہ کبھی بیل گاڑی کو ناؤ پر دریا پار لے جانے کے لئے چڑھانا پڑتا ہے اور کبھی ناؤ کو گاڑی پر لادنا پڑتا ہے۔ جیسی ضرورت اور حالات کا تقاضہ ہو اُسی طرح کرنا چاہئے۔
( ۲۸ ) کتّا بھی بیٹھتا ہے تو دم ہلا کر بیٹھتا ہے : کتّا جب بیٹھتا ہے تو عام طور پر دو ایک چکر لگا کر اور دُم اِدھر اُدھر ہلا کر بیٹھتا ہے جیسے وہ اپنی جگہ صاف کر رہا ہو۔ گویا جب کتے کو صفائی کا اتنا خیال ہے تو انسان کو بھی چاہئے کہ بیٹھنے سے پہلے جگہ صاف کر لے۔
( ۲۹) کتے کی دُم بارہ سال نلکی میں رکھی تب بھی ٹیڑھی کی ٹیڑھی : اِ نسان کی فطرت بدلی نہیں جا سکتی۔ تعلیم و تربیت سے اس میں ایک حد تک نرمی اور لچک پیدا ہو سکتی ہے لیکن اس کی اصلیت نہیں بدلتی۔ کہاوت اس کی مثال کتّے کی دُم سے دیتی ہے جو ہمیشہ ٹیڑھی رہتی ہے اور برسوں سیدھی نلکی میں رکھنے کے بعد بھی ٹیڑھی ہی نکلتی ہے۔
( ۳۰) کتے کو گھی نہیں پچتا : تیل کے مقابلہ میں گھی بہتر مانا جاتا ہے۔ پچنا یعنی ہضم ہونا۔مشہور ہے کہ کتّا اگر گھی پی لے تو اس کو بدہضمی ہو جاتی ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ اوچھے آدمی کو اچھوں کی صحبت راس نہیں آتی ہے اور وہ اس کے تقاضے پورے نہیں کر سکتا۔
( ۳۱ ) کچی گولیاں نہیں کھیلی ہیں : کچی گولیاں کھیلتے میں ٹوٹ جاتی ہیں اور اس سے کھلاڑی کی نا تجربہ کاری ظاہر ہوتی ہے۔گویا کچی گولیاں نا تجربہ کاری اور ناعاقبت اندیشی کا استعارہ ہیں۔ کہاوت کا مطلب یہی ہے کہ ایسے نا تجربہ کار نہیں ہیں کہ فاش غلطی کریں۔
(۳۲) کچے گھڑے کی چڑھی ہے : دیسی شراب، خصوصاً تاڑی، گھڑے میں رکھی جاتی ہے۔ کہاوت کا مطلب ہے کہ نشہ میں ہیں۔
( ۳۳) کچھ بسنت کی بھی خبر ہے؟ : یعنی کچھ دُنیا کی بھی خبر ہے ؟ آدمی گھر میں بند رہے تو اسے بسنت کا علم کیسے ہو سکتا ہے۔ یہ کہاوت تب کہی جاتی ہے جب کوئی شخص اپنے اِرد گرد کے حالات سے بے خبر ہو۔
( ۳۴ ) کچھ سونا کھوٹا، کچھ سنار کھوٹا : بگاڑ یا فسادصرف ایک طرف سے نہیں ہوتا ہے۔ دونوں جانب سے ہی کچھ نہ کچھ زیادتی ہوتی ہے۔
(۳۵ ) کریلا اور نیم چڑھا : کریلا اور نیم دونوں کڑوے ہوتے ہیں۔ اگر کریلے کی بیل، نیم کے درخت پر چڑھی ہو تو اس کا کریلا نیم کی کڑواہٹ جذب کر کے (محاورہ کی حد تک ہی سہی! )مزید کڑوا ہو جائے گا۔ اسی طرح کوئی بد دماغ اور غصہ ور شخص دوسرے بد دماغ اور غصہ ور لوگوں کی صحبت میں رہے تو وہ اپنی فطرت اور عادت میں کچھ زیادہ ہی کڑوا اور پختہ ہو جائے گا۔
( ۳۶ ) کر سیوا، کھا میوہ : یعنی خدمت کا صلہ میٹھا ہوتا ہے۔ خدمت سے کوئی مادّی فائدہ نہ ہو تب بھی جو دلی سکون ملتا وہ بڑی نعمت ہے۔
( ۳۷ ) کرے داڑھی والا، پکڑا جائے مونچھوں والا : یعنی غلطی تو ایک آدمی کرے اور اس کی پاداش میں پکڑا جائے کوئی اور ۔ محل استعمال معنی سے ظاہر ہے۔
( ۳۸ ) کرے کوئی بھرے کوئی : یہ کہاوت بھی انہیں معنی میں استعمال ہوتی ہے جس میں ’’کرے داڑھی والا، پکڑا جائے مونچھوں والا ‘‘مستعمل ہے۔
( ۳۹) کس کھیت کی مولی ہے : کم حیثیت آدمی کے لئے یہ کلمہ حقارت سے بولا جاتا ہے کہ بھلا اس کی کیا حیثیت یا اوقات ہے۔
(۴۰) کس برتے پر تتّا پانی : یعنی ایسا کس بات کا غرور ہے کہ زور دکھا رہے ہیں اور خود کو بڑا ظاہر کر تے ہیں۔
( ۴۱ ) کس نہ می پرسد کہ بھیا کون ہو : اس کہاوت کا پہلا حصہ فارسی ہے اور دوسرا اُردو۔ یعنی کوئی نہیں پوچھتا کہ بھائی تم کون ہو؟ گویا کس مپرسی کا عالم ہے۔دنیا کی عام کیفیت ایسی ہی ہے کہ کوئی کسی کو نہیں پوچھتا۔
( ۴۲) کسی کا گھر جلے، کوئی تاپے : یعنی کسی کو کسی کا غم نہیں ہے۔ دنیا کا عام حال یہ ہے کہ کسی کا گھر جلتا ہے تو بجائے ہمدردی اور مدد کرنے کے لوگ اپنے ہاتھ تاپنے کی فکر کرتے ہیں۔
( ۴۳ ) کس کی رہی ہے اور کس کی رہ جائے گی : دُنیا میں کوئی ہمیشہ نہیں رہا اور نہ ہی کبھی رہے گا۔ سب کچھ آنی جانی ہے۔
( ۴۴) کس مرض کی دَوا ہے؟ : کسی کی نا اہلیت کا ذکر مقصود ہو تو یہ کہاوت بولتے ہیں۔ یعنی بیکار ہے، کسی کام کا نہیں۔
( ۴۵ ) کسی کا ہاتھ چلے کسی کی زبان : کوئی شخص غصہ میں مار پیٹ سے کام لیتا ہے اور کوئی صرف زبان سے برا بھلا کہہ لیتا ہے۔
( ۴۶ ) کسی نے پیا دودھ کسی نے پیا پانی،دونوں کو ایک رین گنوانی : رَین یعنی رات۔ وہ دولت مند ہو یا غریب زندگی دونوں کی بہرحال گزر ہی جاتی ہے، ایک کی اچھی اور دوسرے کی نسبتاً خراب۔
( ۴۷ ) کفر ٹوٹا خدا خدا کر کے : یعنی بڑی مشکل سے راضی کیا۔
( ۴۸ ) ککڑی کے چور کو پھانسی نہیں دیتے : یعنی معمولی جرم پرکسی کو سخت سزانہیں دینی چاہئے۔
( ۴۹) کل کے جوگی اور کندھے پر جٹا : جوگی یعنی فقیر،جٹا یعنی وہ لمبی زلفیں جو بعض فقیر بڑھا لیتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ ابھی کچھ کیا بھی نہیں لیکن اپنے کامل فن ہونے کا اعلان کر دیا جیسے کوئی فقیری لیتے ہی نمائش کے لئے جٹا رکھ لے۔ اسی معنی میں جمعہ جمعہ آٹھ دن کی پیدائش بھی بولتے ہیں۔
( ۵۰) کلھیا میں گُڑ پھوڑتے ہیں : کلھیا یعنی مٹّی کی چھوٹی ہنڈیا۔ اس کے اندر ہی اندر گڑ پھوڑا جائے تو کسی اور کو خبر نہیں ہوسکتی۔ کہاوت کا مطلب یہ ہے کہ اندر ہی اندر راز داری کی باتیں ہو رہی ہیں تاکہ کسی کو خبر نہ ہو جائے۔
( ۵۱ ) کل گیا ٹل : جو کام کرنا ہو اس کو ٹالنا نہیں چاہئے۔ کل پر چھوڑا ہو اکام کبھی نہیں ہوتا کیونکہ کل کبھی آتا ہی نہیں ہے۔
( ۵۲) کم خرچ بالا نشین : ایسی چیز کو کہتے ہیں جو قیمت میں کم لیکن شان و شوکت اور تام جھام میں بہت اونچی ہو۔
( ۵۳) کمہار سے بس نہ چلے گدھے کے کان اینٹھے : یعنی جب کسی کا کمھار پر بس نہیں چلتا تو وہ اپنا غصہ غریب گدھے کے کان اینٹھ کر اُتارتا ہے۔ اسی طرح ہر شخص اپنا غصہ اپنے سے کمزور شخص پر ہی اُتارتا ہے۔ یہی حقیقت ایک اور کہاوت میں یوں کہی گئی ہے کہ ’’نزلہ عضو ضعیف پر ہی گرتا ہے‘‘۔
(۵۴) کمبل اوڑھے سے کوئی فقیر نہیں ہو جاتا : جس طرح صرف کمبل اوڑھ لینے سے کوئی فقیر نہیں ہو جاتا اسی طرح اپنی ظاہری صورت یا بھیس بدل لینے سے کسی شخص کی فطرت یا اصلیت نہیں بد ل جاتی ہے۔ اپنے آپ میں بڑی اور بنیادی تبدیلی لانے کے لئے اور بہت سی باتیں بھی کرنی ہوتی ہیں۔
(۵۵) کمبل نہیں چھوڑتا : یعنی کسی طرح چھٹکارہ نہیں مل رہا ہے،جان نہیں چھوٹ رہی ہے۔ اس کے پس منظر میں ایک کہانی ہے۔ ایک شخص دریا کے کنارے کھڑا تھا کہ اس کے سامنے سے ایک کالا کمبل بہتا ہوا گزرا۔مفت کا کمبل حاصل کرنے کی لالچ میں وہ دریا میں کود پڑا اور چاہا کہ کمبل کو کھینچ لائے۔ وہ دراصل ایک کالا ریچھ تھا جو دور سے کمبل کی طرح دکھائی دے رہا تھا۔ ریچھ نے اُس شخص کو دبوچ لیا تو اُس نے شور مچانا شروع کیا۔کنارے سے لوگوں نے پکار کر کہا کہ ’’تو کمبل کو کیوں نہیں چھوڑ دیتا ہے؟‘‘ جواباً اس نے چلا کر کہا کہ ’’بھائی میں تو کمبل کو چھوڑ دوں لیکن کمبل مجھ کو نہیں چھوڑ رہا ہے۔‘‘
( ۵۶) کنویں پر گئے اور پیاسے واپس آئے : یعنی کام کی جگہ تو گئے لیکن کام نہ بنا اور خالی ہاتھ واپس پلٹ آئے۔
( ۵۷) کنویں کے پاس پیاساہی جاتا ہے : یعنی ضرورت مند ہی دوسروں کے پاس حاجت روی کے لئے جاتا ہے۔ دوسرے اس کے پاس اس کی حاجت پوری کرنے کے لئے نہیں آ تے۔
( ۵۸ ) کنّی دبتی ہے : کمزور پڑتے ہیں، دوسروں سے دَبتے ہیں۔کنّی دبنا پتنگ بازی کی اصطلاح ہے۔
( ۵۹) کنّی کاٹ کر نکل گئے : نگاہ بچا کر بالا ہی بالا نکل گئے، سامنے نہیں آئے۔ عام طور پر ایسے آدمی کے بارے میں کہتے ہیں جو اپنی ذمہ داری سے جی چرا کر خاموشی سے اِدھر اُدھر ہو جائے۔ کنّی کاٹنا بھی پتنگ بازی کی اصطلاح ہے۔
( ۶۰ ) کنواں بیچا ہے، کنویں کا پانی نہیں بیچا : اس کہاوت کے پیچھے ایک دلچسپ کہانی ہے۔ ایک شخص نے دوسرے آدمی کے ہاتھ اپنا کنواں فروخت کر دیا۔ جب وہ آدمی کنویں سے پانی کھینچنے آیا تو اُس شخص نے اُس کو یہ کہہ کر روک دیا کہ’’ میں نے کنواں بیچا ہے،کنویں کا پانی تو نہیں بیچا‘‘۔ جھگڑا بڑھا تو کنویں کا خریدار قاضی ٔ شہر کے پاس فریاد لے کر گیا۔ قاضی نے مقدمہ کی رُوداد سُن کر کہا کہ ’’کنویں کا سابق مالک بات تو صحیح کہہ رہا ہے۔ اس نے واقعی کنویں کا پانی نہیں بیچا۔ چنانچہ اس کو عدالت کی طرف سے حکم دیا جاتا ہے کہ وہ دو دن کے اندر کنویں میں سے اپنا پانی نکال لے ورنہ دوسرے کے کنویں میں اپنا پانی رکھنے کا کرایہ دینا ہو گا۔‘‘ یہ سُن کر کنویں کے سابق مالک کے ہو ش اُڑ گئے اور اُس نے اُسی وقت ہاتھ جوڑ کر عدالت اور کنویں کے مالک سے معافی مانگی،کنواں مع پانی کے اس کےسپرد کیا اور اس طرح گلو خلاصی حاصل کی۔ کہاوت ایسی ہی فضول دلیل کی جانب اشارہ کر رہی ہے۔
( ۶۱ ) کند ہم جنس با ہم جنس پرواز : یہ کہاوت ایک شعر کا پہلا مصرع ہے۔ اس کا ذکر پہلے آ چکا ہے:
کند ہم جنس با ہم جنس پرواز کبوتر با کبوتر، با ز با باز
( ہم جنس ہمیشہ اپنے ہی گروہ میں اُڑتے ہیں،کبوتر کبوتروں کے ساتھ اور باز دوسرے بازوں کے ہمراہ پرواز کرتا ہے۔)
( ۶۲ ) کنجوس مکھی چوس : یعنی ایسا کنجوس کہ دودھ میں اگر مکھی گر جائے تواس کو پھینکنے سے پہلے چوس لیتا ہے۔کہاوت میں حقارت اور نفرت کا عنصر غالب ہے۔
(۶۳) کنویں سے نکلے، باولی میں گرے : باولی یعنی وہ بڑا کنواں جس میں پانی تک پہنچنے کے لئے سیڑھیاں بنی ہوتی ہیں۔ کوئی ایک مصیبت سے بمشکل بچے اور فوراً ہی اس سے بڑی مصیبت میں جا پھنسے تو یہ کہاوت بولی جاتی ہے۔ درج ذیل شعر بھی یہی مطلب ادا کرتا ہے:
ایک مشکل سے تو مر مر کے ہوا تھا جینا اور یہ پڑ گئی کیسی مرے اللہ نئی
(۶۴ ) کنواری کو ارمان، بیاہی پشیمان : یعنی کنواری لڑکی کو تو شادی کا بہت ارمان ہوتا ہے لیکن شادی شدہ لڑکی سوچتی ہے کہ کس مصیبت میں پھنس گئی۔گویا جب تک کسی صورت حال کا سامنا نہ ہو اُس وقت تک اس کے مسائل اور مشکلات کا علم نہیں ہوتا۔
(۶۵) کوئلے کی دلالی میں ہاتھ بھی کالے، منھ بھی کالا : آدمی کے پیشے کے نشانات و اثرات اس کی شخصیت اور اطوار میں دَر آ تے ہیں۔ اس کی مثال کوئلوں کی دلالی سے دی جا سکتی ہے کہ اس کام میں ہاتھ اور منھ دونوں کالے ہوتے ہیں۔گویا آدمی کو کام دیکھ بھال کر اختیار کرنا چاہئے۔
( ۶۶) کوڑی کے تین تین : پہلے زمانے میں کوڑی بھی چھوٹے سکے کی طرح بازار میں چلتی تھی۔ ایک پیسے میں پانچ کوڑی ہوتی تھیں چنانچہ کوئی چیز اگر ایک کوڑی میں تین ملیں تو وہ بہت کم قیمت ہوئیں۔ لہٰذا انتہائی بے حیثیت چیز یا شخص کے لئے یہ کلمہ استعمال ہوتا ہے۔ اس میں تحقیر و تضحیک دونوں کا پہلو ہے۔
( ۶۷ ) کوڑیوں کے مول بک گئی : پہلے زمانے میں کوڑی بھی چھوٹے سکے کے طور پر استعمال ہوتی تھی۔ایک پیسہ میں پانچ کوڑیاں ہوتی تھیں گویا قیمت میں نہایت کم۔ چنانچہ کہاوت کا مطلب یہ ہوا کہ کوئی چیز نہایت سستی بک گئی۔
( ۶۸ ) کوئی کسی کی قبر میں نہیں جاتا : ہر شخص اپنے اعمال کا خود ہی جواب دہ ہوتا ہے۔لوگوں کا عقیدہ ہے کہ قبر میں مرحوم سے سوال و جواب کے لئے دو فرشتے منکر و نکیر آتے ہیں۔ کہاوت یہی کہہ رہی ہے کہ سوالوں کا جواب تو مرحوم کو خود ہی دینا ہو گا کیونکہ اس کی قبر میں اور کسی کا گزر نہیں۔
(۶۹) کولھو کا بیل ہونا : کولھو مختلف قسم کے بیجوں سے تیل نکالنے والی دیسی مشین کا نام ہے۔ اس میں لگے ہوئے موسل کو ایک بیل مستقل کولھو کے اِرد گرد گھماتا رہتا ہے۔ بیل کی آنکھوں پر پٹی بندھی ہوتی ہے تاکہ چکرا کے گر نہ جائے۔ چنانچہ کولھو کا بیل نہ صرف دیکھنے سے معذور ہوتا ہے بلکہ ایک بندھے ٹکے چکر میں کولھو کے اِرد گرد گھومنے پر بھی مجبور ہوتا ہے۔ اسی پس منظر میں کولھو کا بیل ایسے شخص کو کہتے ہیں جو بغیر سوچے سمجھے ایک ہی کام کئے چلا جاتا ہے جس کے مقصد سے بھی وہ واقف نہیں ہے ۔
(۷۰) کولھو میں پیلو تو نو من پکا تیل نکلے : کولھو کا ذکر اوپر آ چکا ہے۔ اس میں بیجوں کو پیل کر(دَبا کر) تیل نکالا جاتا ہے۔ اگر کوئی شخص بہت مالدار ہو لیکن اپنی حیثیت کو جان بوجھ کر کم بتائے تواس کے بارے میں یہ کہاوت بولی جاتی ہے کہ یہ وہ نہیں ہے جو ظاہر کر رہا ہے بلکہ یہ تو بڑی حیثیت کا ہے۔ پکے تیل سے مراد اچھا اور صاف تیل ہے۔
( ۷۱ ) کوا چلا ہنس کی چال اپنی بھی بھول گیا : ہنس خوبصورت پرندہ ہوتا ہے اور اس کی چال بھی بڑی بانکی ہوتی ہے۔ بر خلاف اس کے کوّے کی چال بے ڈھنگی ہوتی ہے۔ کوئی شخص اچھوں کی نقل میں وہ کرنا چاہے جس کا وہ اہل نہیں ہے تو اپنی شخصیت یا تو کھو بیٹھے گا یا وہ مضحکہ خیز اور مسخ ہو کر رہ جائے گی۔ یہ کہاوت اسی حقیقت کو ایسے کوے سے تعبیر کرتی ہے جو ہنس بننے کے شوق میں اُس کی چال چلنے کی کوشش کرے اور اپنی فطری چال بھی بھول جائے۔
( ۷۲) کوّے کا بچہ کوّے کو پیارا ہوتا ہے : کوّے کا بچہ اُسی کی طرح کالا اور بد شکل ہوتا ہے لیکن وہ کوے کو عزیز ہوتا ہے۔ اسی طرح اپنی چیز ہر ایک کو پیاری ہوتی ہے خواہ وہ کیسی ہی کیوں نہ ہو۔
( ۷۳ ) کوئلوں کی دلالی میں ہاتھ کالے : برا کام کیا جائے تو اس کا انجام بھی بدنامی یا سزا کی شکل میں بھگتنا پڑتا ہے۔
( ۷۴) کہیں کھیت کی، سنے کھلیان کی : یعنی بات کچھ ہو رہی ہے اور مخاطب سمجھ کچھ اور رَہا ہے۔ کھلیان وہ جگہ ہے جہاں فصل کاٹ کر اکٹھی کی جاتی ہے۔
( ۷۵ ) کہاں راجہ بھوج اور کہاں گنگو تیلی : راجہ بھوج سے مراد صاحب حیثیت شخص ہے جب کہ گنگو تیلی کم حیثیت آدمی کا استعارہ ہے۔ یہ کہاوت تب کہی جاتی ہے جب دو ایسے آدمیوں کا موازنہ کیا جا رہا ہو جو دولت و حیثیت میں ایک دوسرے کی ضد ہوں۔
( ۷۶) کھوٹا بیٹا،کھوٹا پیسا کام آ ہی جاتا ہے : اپنی چیز خواہ وہ خراب اور عیب دار ہی کیوں نہ ہو کبھی نہ کبھی کام دے ہی جاتی ہے۔
( ۷۷) کھیر کھاتے دانت ٹوٹا : یعنی اتنے نازک مزاج ہیں کہ ذراسی بات کی بھی برداشت نہیں ہے جیسے کھیر کھاتے میں کسی کا دانت ٹوٹ جائے۔
( ۷۸) کھسیانی بلی کھمبا نوچے : کسی کی خواہش پوری نہ ہو تو اس کی الجھن کا اظہار اکثر بے تکی باتوں سے ہوتا ہے۔ یہ وہی صورت ہے کہ بلی کھسیا کر کھمبا نوچنے لگتی ہے حالانکہ ایسا کرنے سے اس کو کچھ نہیں ملتا۔
( ۷۹ ) کھلائے کو کوئی نہیں دیکھتا، رُلائے کو دُنیا دیکھتی ہے : اگر کوئی شخص غریب پروری کرے تو شاید ہی کوئی اس کی جانب نظر اٹھا کر دیکھے گا لیکن اگر وہ کسی کو دُکھ پہنچائے تو سب اسے بری نظر سے دیکھنے لگتے ہیں۔ یہ کہاوت بچہ کی پرورش پر بھی صادق آتی ہے کہ بچے کا اچھے سے اچھا کھلائیں پلائیں تو دنیا بے خبر رہتی ہے لیکن ایک بار وہ کسی بات پر رو دے تو ساری نگاہیں اس کی جانب اٹھ جاتی ہیں۔ اسی پر اور صورتیں قیاس کی جا سکتی ہیں۔
(۸۰) کہیں کی اینٹ، کہیں کاروڑا، بھان متیؔ نے کنبہ جوڑا : بے جوڑ اور بے محل باتیں بنا کر خواہ مخواہ اپنی بات کی تاویل نکالی جائے تو یہ کہاوت کہی جاتی ہے۔ بھان متی ایک فرضی کردار ہے جو کہاوت کو پر لطف بنانے کے لئے ایجاد کیا گیا ہے۔
(۸۱) کہنے سے کمہار کبھی گدھے پر نہیں سوارہوتا : کمہار اپنا مال عموماً گدھے پر لاد کر بازار لے جاتا ہے۔واپسی پر اگر اس سے گدھے کی خالی پیٹھ پر بیٹھنے کو کہا جائے تو وہ آناکانی کرتا ہے۔ البتہ اپنی مرضی سے بیٹھنے میں اس کو کوئی عذر نہیں ہوتا۔ یہ کہاوت تب کہی جاتی ہے جب کسی سے ایسا کام کرنے کو کہا جائے جو فی الواقعہ اس کے لئے مخصوص اور آسان ہو لیکن وہ اس سے انکار کر دے۔
( ۸۲) کھائے بکری کی طرح، سوکھے لکڑی کی طرح : بکری ہر وقت کھاتی رہتی ہے۔ کوئی شخص مستقل کھائے لیکن دُبلا ہی رہے تو یہ کہاوت کہی جاتی ہے۔
( ۸۳) کھائیے من بھاتا، پہنئے جگ بھاتا : کوئی جو چاہے کھائے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن کپڑا اگر دُنیا کی پسند کا پہنے تو لوگوں کی نظر میں فوراً آ جاتا ہے۔
( ۸۴) کھچڑی پک رہی ہے : یعنی آپس میں چپکے چپکے مشورے ہو رہے ہیں۔چپکے چپکے رائے زنی کو بھی کھچڑی پکانا کہتے ہیں ۔
( ۸۵ ) کھودا پہاڑ نکلا چوہا : یعنی شور و شغب تو اتنا تھا لیکن دیکھا تو معمولی سی بات نکلی، جیسے پہاڑ کسی بڑی اُمید پر کھودا جائے اور اس میں سے چوہا بر آمد ہو۔ اسی معنی میں یہ شعر بھی استعمال ہوتا ہے:
بہت شور سنتے تھے پہلو میں دل کا جو چیرا تو اِک قطرۂ خوں نہ نکلا
(۸۶) کھچڑی کھاتے پہنچا اُترا : پُہنچا یعنی کلائی۔ یہ کہاوت انتہائی نازک مزاجی کا مذاق اُڑا رہی ہے کہ نزاکت تو دیکھئے کہ کھچڑی کھاتے میں نوالہ اٹھایا تو کلائی میں موچ آ گئی۔ محل استعمال معنی سے ظاہر ہے۔
( ۸۷ ) کھائیں تو جی سے، نہیں جائیں جی سے : یہ کہاوت ایسے شخص کی بابت کہی جاتی ہے جو یہ ضد کرے کہ اگر کوئی کام کرنا ہے تو اچھا کرے گا ورنہ بھوکا ہی رہنا منظور ہے۔
( ۸۸ ) کیا پدّی اور کیا پدّی کا شوربہ : پدّی ایک آؤنس بھرکا نہایت چھوٹا سا پرندہ ہوتا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس میں گوشت ہی کتنا ہو گا اور اس کا شوربہ کتنا بنے گا۔لہٰذا اگر کوئی بہت کمزور آدمی اپنا زور دکھانا چاہے تو یہ کہاوت بولتے ہیں۔ اس میں تحقیرو تضحیک کا پہلو ہے۔
( ۸۹) کے آمدی وَ کے پیر شُدی : یعنی ابھی تمھیں آئے ہوئے دن ہی کتنے ہوئے ہیں کہ پیر و مرشد بن بیٹھے ؟ یہ کہاوت ایسے شخص کے لئے کہی جاتی ہے جو آتے ہی خود کو مالک و مختار سمجھنے لگے۔ اسی مطلب کے لئے ’’جمعہ جمعہ آٹھ دن کی پیدائش ہے‘‘ بھی کہتے ہیں۔
( ۹۰) کیل کانٹے سے درست : یعنی ہر طرح سے آمادہ اور تیار۔
٭٭٭
گ۔کی کہاوتیں
(۱) گاڑھی چھنتی ہے : یعنی بڑے اچھے تعلقات ہیں، خوب نبھتی ہے۔ بظاہر اس کہاوت کی بنیاد یہ معلوم ہوتی ہے کہ بھنگڑ دوست جب بھانگ پیس کر چھانتے ہیں تو ایک دوسرے کے لئے گاڑھی چھانتے ہیں جس میں نشہ زیادہ ہوتا ہے۔
( ۲ ) گائے کو اپنے سینگ بھاری نہیں ہوتے : جس طرح گائے کو اپنے سینگوں کا بوجھ نہیں محسوس ہوتا اسی طرح ماں باپ کو اپنی اولاد کا پالنا کوئی مشکل نہیں ہوتا۔
( ۳ ) گائے نہ بچھی نیند آئے اچھی : جس شخص کے پاس کوئی ذمہ داری نہ ہو وہ آرام اور بے فکری سے سوتا ہے۔ کہاوت اس کی مثال ایسے شخص سے دیتی ہے جس کے پاس نہ گائے ہے اور نہ گائے کا بچہ گویا ہر قسم کی ذمہ داری سے آزاد ہے۔
(۴) گدھے کو نمک دیا تو اُس نے کہا میری آنکھیں دُکھتی ہیں : نادان آدمی سے کوئی کام کی بات کی جائے اور وہ بے تکی باتیں بنائے تو یہ کہاوت کہی جاتی ہے۔
(۵) گدھے ہل چلائیں تو بیل کون خریدے گا : یعنی اگر اوچھے اور کم تر آدمیوں سے کام چل جایا کرے تو شریف اور اچھے آدمیوں کو کون پوچھے گا۔
( ۶) گدھے پر کتابیں لاد دیں : یعنی نا لائق اور کم علم آدمی سے علم و عقل کی باتیں کیں جو اُس کے سر کے اوپر سے گزر گئیں۔
( ۷ ) گدھا دھونے سے بچھیرا نہیں ہو جاتا : گدھے کو کتنا ہی دھوئیں وہ کسی طرح بچھیرا (گائے کا چھوٹا بچہ)نہیں ہو سکتا۔ یہی حال بد خصلت آدمی کاہے کہ اس کو کسی طرح بھی سنوارنے کی کوشش کی جائے وہ سیدھا نہیں ہوتا۔
( ۸) گدھا گھوڑا ایک بھاؤ : جب اچھے برے میں تمیز اٹھ جائے تو یہ کہاوت کہی جاتی ہے۔ یہاں گدھا خراب چیز یا کام کا اور گھوڑا اچھی چیز یا کام کا استعارہ ہے۔ اسی معنی میں ایک اور کہاوت ہے کہ سب دھان بائیس پسیری۔ یعنی ہر قسم کا دھان ایک روپے کا بائیس پسیری بک رہا ہے( پسیری یعنی پانچ سیریا ڈھائی کلو گرام)۔
( ۹) گدھا گیا سو گیا، ساتھ رسّی بھی لے گیا : یعنی کام بھی نہیں ہوا،اوپر سے نقصان الگ ہو گیا۔
( ۱۰) گدھا گھوڑا برابر : یعنی اچھا برا سب برابر۔ اسی معنی میں ’’سب دھان بائیس پنسیری ‘‘ بھی کہتے ہیں۔
(۱۱) گدڑی کا لال : مفلس کا ہونہار اور خوش شکل بچہ۔
( ۱۲ ) گدھا کیا جانے زعفران کی قدر : نا اہل آدمی کو اچھے کام کی قدر نہیں ہوتی جیسے گدھا زعفران کی قدر و قیمت سے ناواقف ہوتا ہے۔
(۱۳) گذر گئی گذران، کیا جھونپڑی کیا میدان : گذران یعنی زندگی یا وقت۔ مطلب یہ ہے کہ زندگی کسی نہ کسی طرح گذر ہی جاتی ہے، چاہے وہ کسی جھونپڑی میں کٹے یا کسی میدان میں آسمان تلے۔ شیخ ابراہیم ذوقؔ کا ایک شعر یہی مطلب یوں ادا کرتا ہے:
اے شمع تیری عمر طبیعی ہے ایک رات ہنس کر گذار یا اُسے رو کر گذار دے
(۱۴) گرو تو گڑ رہ گئے اور چیلا شکر ہو گیا : گرو یعنی استاد، چیلا یعنی شاگرد۔ اگر شاگرد اپنی محنت و اہلیت کی بنا پر اُستاد سے بازی لے جائے تو گویا وہ تو شکر ہو گیا جب کہ اس کا استاد گڑ کا گڑ ہی رہ گیا۔محل استعمال معنی سے ظاہر ہے۔
( ۱۵ ) گڑ ہو گا تو مکھیاں بہت : یعنی دولت ہو گی تو آگے پیچھے پھرنے والوں کی کمی نہیں۔
( ۱۶ ) گُڑ سے مرے تو زہر کیوں دیں ؟ : اگر کوئی کام میٹھی اور نرم بات کہنے سے ہو سکتا ہے تو سخت کلامی یا گھٹیا طریقے استعمال کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ کہاوت یہی کہہ رہی ہے کہ اگر دشمن گُڑ دینے سے مر سکتا ہے توا س کو زہر دینے کی مطلق ضرورت نہیں ہے۔
( ۱۷ ) گُڑ کہنے سے منھ میٹھا نہیں ہوتا : کام کرنے سے ہی ہوتا ہے،محض باتوں سے نہیں ہوتا۔ اس کی مثال ایسا شخص ہے جو منھ سے گُڑ، گُڑ کہتا رہے، کام کچھ نہ کرے اور یہ اُمید رکھے کہ ایسا کرنے سے اس کا منھ میٹھا ہو جائے گا۔
(۱۸) گڑے مُردے اُکھاڑنا : گڑے مردے یعنی بھولی بسری پُرانی باتیں اور الزامات۔ ایسی باتوں کو بار بار دہرانا اور یاد دِلا کر جھگڑے کی بنیاد بنانا دانشمندی نہیں ہے۔
( ۱۹) گُڑ کھائیں ، گلگلوں سے پرہیز : گلگلے گڑ سے بنائے جاتے ہیں ۔ اگر اصل اور بڑی چیز شوق سے اختیار کر لی جائے لیکن اس سے نکلی ہوئی چھوٹی اور کمتر چیزوں سے پرہیز کیا جائے تو یہ بچکانہ بات ہو گی۔ ایسے ہی موقع پر یہ کہاوت کہی جاتی ہے۔
(۲۰) گُڑ نہ دے، گُڑ کی سی بات تو کہہ دے : یہ کہاوت اس وقت بولی جاتی ہے جب کوئی شخص نا گوار لب و لہجہ میں اپنی بات کہے جبکہ وہ اُسے نرمی سے بھی دوسروں کی دل آزاری کئے بغیر کہہ سکتا ہے۔ کہاوت کا مطلب یہی ہے کہ اگر اچھا کام نہیں کر سکتے ہو تو نہ سہی، کم سے کم اچھی بات تو کہہ دو۔
( ۲۱) گندم اگر بہم نہ رسدجَو غنیمت است : یعنی اگر گیہوں میسر نہ ہو تو جَو کو غنیمت سمجھنا چاہئے گویا اگرانسان کی خواہش سے کمتر چیز بھی مل جائے تو اس کی ناقدری نہیں کرنی چاہئے بلکہ اللہ کا شکر ادا کر کے اسے قبول کر لینا چاہئے۔ کبھی کبھی جَو کے بجائے بھُس بھی کہتے ہیں۔
( ۲۲) گناہ بے لذت : ہر گناہ میں کوئی نہ کوئی لذت ہوتی ہے۔ ایسا گناہ جس میں کوئی مزہ ہی نہ ہو گناہ بے لذت کہلاتا ہے گویا اُس کو کرنے سے کیا فائدہ؟
( ۲۳) گنبد کی آواز ہے : کسی گنبد کے نیچے کھڑے ہو کر دی ہوئی آواز باز گشت( گونج) کی صورت میں واپس سنائی دیتی ہے۔ اسی کو گنبد کی آواز کہتے ہیں، یعنی جیساکہو گے ویساہی سنو گے۔
(۲۴) گنگا نہائے ہوئے ہیں : یعنی خود کو بہت نیک اور پارسا ظاہر کر رہے ہیں جیسے ابھی ابھی گنگا نہا کر آئے ہیں۔ ہندوؤں کے عقیدے کے مطابق گنگا میں نہانے سے تمام گناہ دھل جاتے ہیں اور انسان پاک ہو جاتا ہے۔
(۲۵) گنڈے دار ہونا : بر صغیر ہند و پاک میں کم تعلیم یافتہ طبقہ بیماری یا مصیبت سے بچنے کے لئے آج بھی تعویذ اور گنڈوں پر یقین رکھتا ہے۔گنڈہ ایک موٹا دھاگا ہوتا ہے جس میں کوئی مولوی یا پنڈت آیات یا اشلوک پڑھ کر تھوڑے تھوڑے فاصلہ سے گرہ لگا دیتا ہے۔گنڈہ بچہ کی گردن میں بلاؤں سے محفوظ رکھنے کے لئے باندھ دیا جاتا ہے۔ چونکہ گنڈہ میں گانٹھیں ہوتی ہیں اس لئے اگر کوئی کام مسلسل نہ کیا جائے تو اس کو گنڈہ دار کہتے ہیں یعنی رُک رُک کر۔
(۲۶ ) گونگے کا گڑ،کھٹا نہ میٹھا : گونگا شخص اگر گڑ کھائے تو وہ یہ نہیں بتا سکتا کہ اس کا مزاکیسا تھا۔ اسی طرح نادان اور کم عقل سے عقل و دانش کی بات کرنا فضول ہے کیونکہ وہ ان کا فرق نہ سمجھتا ہے اور نہ ہی بتا سکتا ہے۔
( ۲۷ ) گونگے کا خواب : ایسی بات جو کوئی بیان نہ کر سکے۔ گونگا اپنے خواب بتا نہیں سکتا۔
( ۲۸) گھاٹ گھاٹ کا پانی پئے ہوئے ہے : گھاٹ گھاٹ کا پانی یعنی طرح طرح کے تجربے۔ جو شخص بہت تجربہ کار ہو اُس کے بارے میں کہتے ہیں کہ’’ فلاں گھاٹ گھاٹ کا پانی پئے ہوئے ہے‘‘۔
(۲۹) گھی بنائے سالنا، بڑی بہو کا نام : کام کوئی کرے اور نام کسی اور کا ہو تو یہ کہاوت بولی جاتی ہے گویا یہ ایسی ہی بات ہے کہ سالن میں مزا تو در اصل گھی کی بدولت آیا لیکن نام بڑی بہو کا ہوا کہ کیا ہی اچھا کھانا بناتی ہے۔
(۳۰) گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے : ہندوؤں کی مقدس کتاب رامائنؔ کے مطابق رام چندؔر جی کی بیوی سیتاؔ کو لنکا کا راجا راونؔ اغوا کر کے لے گیا تھا۔ اس کی تلا ش میں رامؔ کے ایک سیوک ہنومان جیؔ بھیجے گئے تھے جن کی شکل بندر کی سی تھی۔ ان کو بھی راونؔ نے پکڑ لیا تھا اور سزا کے طور پر ان کی دُم میں تیل سے بھیگا ہوا کپڑا لپیٹ کر اُس میں آگ لگا دی تھی۔ ہنومانؔ نے اسی جلتی ہوئی دُم سے لنکا میں جا بجا آگ لگا کر تباہی کا سامان پیدا کر دیا تھا۔ اسی حوالے سے یہ کہاوت ہے کہ اگر اندرون خانہ راز کسی گھر والے کو معلوم ہوں تو وہ بربادی کا سبب بن سکتا ہے۔ اسی لئے بزرگوں نے کہا ہے کہ راز کی بات راز ہی رہنی چاہئے کیونکہ دیواروں کے بھی کان ہوتے ہیں۔
( ۳۱ ) گھر کے پیروں کو تیل کا ملیدہ : اچھا ملیدہ اچھے گھی سے بنایا جاتا ہے اور تیل کا بنایا ہوا ملیدہ گھٹیا مانا جاتا ہے۔ گھر کے بزرگوں کو تیل کا ملیدہ کھلانا ان کی بے عزتی کرنے کے برابر ہے۔مطلب یہ ہے کہ اپنوں کے ساتھ ہمیشہ اچھا سلوک ہونا چاہئے۔
( ۳۲ ) گھاس پھوس کے ڈھیر میں سوئی ڈھونڈ نا : گھاس پھوس کے انبار میں کھوئی ہوئی سوئی تلاش کرنا جوئے شیر لانے کے برابر ہے۔ اسی طرح خرافات و مکروہات کی فراوانی میں اگر ایک چھوٹی سی اچھائی بھی ہو تو اس کو ڈھونڈ نکالنا آسان کام نہیں ہے۔
( ۳۳ ) گھوڑا گھاس سے آشنائی کرے گا تو کھائے گا کیا : اگر کوئی شخص پیسے کا اتنا عاشق ہو کہ اس کو خرچ کرنے سے انکاری ہو جائے تو اس کے سارے کام رک جائیں گے اور لینے کے دینے پڑ جائیں گے۔ یہ صورت ایسی ہی ہے جیسے گھوڑا گھاس سے ایسی محبت کرے کہ اسے کھانے پر ہی راضی نہ ہو۔ ظاہر ہے کہ وہ جلد ہی فاقوں سے مر جائے گا۔یعنی اپنی گزر بسر کے لئے محنت اور خرچ تو کرنا ہی ہو گا۔کہاوت کا محل استعمال معنی سے ظاہر ہے۔
( ۳۴ ) گھٹا ٹوپ اندھیرا : بہت گہرا اندھیرا، مکمل تاریکی جو گہر ے بادلوں کی وجہ سے ہو جاتی ہے۔
( ۳۵ ) گھر پھونک تماشا دیکھے : ایسے احمق کے متعلق کہا جاتا ہے جو اپنا ہی گھر جلا کر تماشہ دیکھنے کھڑا ہو جاتا ہے۔
(۳۶) گھر کی مُرغی دال برابر : مرغی کا گوشت پکنا امارت اور شان کی نشانی سمجھا جاتا ہے۔ دوسری طرف دال ہے کہ غریب آدمی کی گذر بسر اسی پر ہوتی ہے۔ کسی کے گھر میں مرغیاں پلی ہوئی ہوں تو اس کے لئے مرغی دال کے برابر ہوتی ہے کہ جب جی چاہا پکڑ کر ذبح کی اور پکا لی۔ گویا اگر کسی کو کوئی اچھی چیز ہمیشہ ً میسر ہو تو اس کی وقعت زیادہ نہیں ہوتی ہے۔
(۳۷) گھوڑے بیچ کر سونا : اگر کوئی شخص گھوڑے فروخت کرنے کے لئے بازار لے جائے تو رات میں اس کی نیند حرام ہو جاتی ہے۔ ساری رات اس فکر میں گذرتی ہے کہ کوئی گھوڑا رسی تڑا کر نہ بھاگ جائے یا چوری نہ ہو جائے۔لیکن اگر رات سے پہلے اس کے سب گھوڑے بِک جائیں تو وہ نہایت اطمینان سے سوسکتا ہے۔ گویا کہاوت کے معنی بے فکری کی نیند سونا ہیں۔
ّ(۳۸) گھی کے چراغ جلائے گئے : چراغوں میں عام طور سے تیل جلایا جاتا ہے۔ تیل کی بنسبت گھی مہنگا ہوتا ہے چنانچہ چراغوں میں گھی جلانا بڑی بات ہو گی۔ کہاوت کا مطلب ہے کہ بہت خوشی منائی گئی۔
( ۳۹ ) گھر سکھ تو باہر سکھ : اگر آدمی کے گھر میں سکون و اطمینان ہو تو وہ باہر بھی خوش رہتا ہے۔اگر گھریلو زندگی ہی تکلیف دہ ہے تو اس کو کہیں چین نصیب نہیں ہو سکتا۔
( ۴۰ ) گھر کی آدھی، نہ باہر کی ساری : اپنے گھر کی تھوڑی کمائی باہر کی زیادہ سے بہتر ہوتی ہے۔
( ۴۱ ) گھر کی جورو کی چوکسی کہاں تک : جورو یعنی بیوی یا مالکن، چوکسی یعنی چوکیداری۔ مطلب یہ ہے کہ اگر گھر والے ہی چوری کرنے لگیں تو ان کی نگہبانی اور چوکیداری کرنا بہت مشکل کام ہے۔
( ۴۲) گھر کی کھانڈ کرکری، چوری کا گُڑ میٹھا : کھانڈ یعنی کچی شکر۔ اپنے گھر کی شکر دانتوں میں کرکل کی طرح لگتی ہے لیکن چوری کا گڑ بہت میٹھا معلوم ہوتا ہے۔ یعنی مفت کا مال اور وہ بھی بے ایمانی سے حاصل کیا ہوا زیادہ مرغوب ہوتا ہے۔
( ۴۳ ) گھر میں نہیں دانے،بُڑھیا چلی بھنانے : پرانے زمانے میں چنے، مونگ پھلی وغیرہ بھوننے کے لئے بازار میں ایک تندور ہوتا تھا جس کو بھاڑ کہتے تھے۔ چند پیسے لے کر بھڑ بھونجا (بھاڑ کا مالک)چنے وغیرہ بھون دیا کرتا تھا۔ کہاوت میں ایک بڑھیا کی مثال دی گئی ہے جس کے پاس بھنانے کے لئے کچھ نہیں ہے لیکن وہ پھر بھی بھڑبھونجے کی دوکان پر پہنچ جاتی ہے۔ ظاہر ہے کہ اس سے کچھ حاصل نہیں۔ جب بغیر پوری تیاری کے کوئی کام کرنے کا ارادہ ظاہر کیا جائے تو یہ کہاوت بولی جاتی ہے۔
( ۴ ۴) گئے تھے نماز بخشوانے، روزے گلے پڑ گئے : کوئی رعایت حاصل کرنے کی کوشش کی جائے اور رعایت کے بجائے ایک نئے کام کی ذمہ داری سر تھوپ دی جائے تو یہ کہاوت کہی جاتی ہے۔
( ۴۵) گیا وقت پھر ہاتھ آتا نہیں : جو وقت ہاتھ سے نکل جائے وہ لوٹ کر دوبارہ نہیں آتا اس لئے وقت کی قدر کر نا چاہئے۔
(۴۶) گیدڑ کی موت آتی ہے تو شہر کی جانب بھاگتا ہے : جب انسان پر برا وقت آتا ہے تو وہ کام کرتا ہے جو نہیں کرنا چاہئے جیسے گیدڑ کا برا وقت آتا ہے تو وہ بستی کا رخ کرتا ہے جہاں اس کا مارا جانا یقینی ہوتا ہے۔
ّ( ۴۷) گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے شیر کی ایک دن کی زندگی بہتر ہے : گیدڑ بزدلی اکا استعارہ ہے اور شیر بہادری کا۔ با غیرت انسان اگر ایک دن شیر کی سی زندگی گذار لے تو وہ اس سے بہتر ہے کہ گیدڑ کی طرح سو سال زندہ رہے کیونکہ ایک میں نیک نامی، عزت اور ناموری ہے اور دوسرے میں بدنامی، بے غیرتی اور کم سوادی۔
(۴۸ ) گیلے سوکھے دونوں جلتے ہیں : آگ لگتی ہے تو لکڑی خواہ وہ گیلی ہے خواہ سوکھی جلد یا بدیر جل جاتی ہے۔ اسی طرح مصیبت یہ نہیں دیکھتی کہ کون چھوٹا ہے اور کون بڑا۔ سب ہی اس کا شکار ہوتے ہیں۔
( ۴۹) گیہوں کے ساتھ گھن بھی پس جاتا ہے : گھُن یعنی گیہوں کا کیڑا۔ گیہوں پیسا جائے تو اس کے ساتھ گھُن بھی ضرور پِسے گا۔ یہی حال زندگی اور دُنیا کا ہے کہ ان کی آزمائشوں اور مصیبتوں میں بڑے چھوٹے سب مارے جاتے ہیں ۔
٭٭٭
ل۔کی کہاوتیں
(۱) لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے : ایسا بد خصلت آدمی جو کسی کی بات نہ مانے اور صرف جسمانی زد و کوب سے ہی سیدھا ہو سکے لاتوں کا بھوت کہلاتا ہے۔ محل استعمال معنی سے ظاہر ہے۔
( ۲) لاٹھی ٹوٹے نہ باسن پھوٹے : باسن یعنی برتن۔ یعنی کام بھی بخیر و خوبی ہو جائے اور کوئی نقصان بھی نہ ہو۔ اسی مطلب کو ’’سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے‘‘ سے بھی ادا کیا جاتا ہے۔
(۳ ) لالچ بری بلا ہے : لالچ انسان کو لے ڈوبتی ہے۔ محل استعمال معنی سے ظاہر ہے۔
( ۴) لاد دے،لدا دے، لادنے والا ساتھ دے : یعنی سارا کام کوئی اور پورا کر دے۔ سامان بھی وہ لاد دے، لادنے میں مدد بھی وہ کرے اور چلتے چلتے ایک لادنے والا بھی ساتھ کر دے۔ یہ کہاوت تب بولی جاتی ہے جب کوئی شخص خود کچھ نہ کرے اور یہ اُمید رکھے کہ دوسرے اس کا سارا کام کر دیں گے۔
( ۵ ) لاکھوں میں ایک : منفرد، ممتاز، بے مثال۔
( ۶ ) لاکھ بات کی ایک بات : یعنی بہت بڑی بات،اہم بات، انہونی بات۔
(۷) لاٹھی مارے پانی نہیں ٹوٹتا : پانی میں کتنی ہی لاٹھی ماری جائے وہ جوں کا توں قائم رہتا ہے۔ اسی طرح اگر رشتہ اچھی بنیادوں پر قائم ہو تو دُنیا کی کوئی طاقت اسے توڑ نہیں سکتی ہے۔ کہاوت ایسے ہی مضبوط رشتوں کی جانب اشارہ کر رہی ہے۔
( ۸ ) لاکھ کا ہاتھی لٹ کر بھی سوا لاکھ کا : امیر آدمی کتنا ہی غریب ہو جائے پھر بھی دُنیا میں اس کی ساکھ اور عزت رہتی ہے۔
(۹) لُٹیا ڈوب جانا : لٹیا یعنی چھوٹا لوٹا۔ اگر کنویں سے پانی نکالتے وقت لٹیا ہی ڈوب جائے تو سارا کام خراب ہو جائے گا۔ چنانچہ اس حوالے سے لٹیا ڈوب جانے کا مطلب سب کچھ ملیا میٹ ہو جانا ہے۔
( ۱۰ ) لٹو ہو گئے : عاشق ہو گئے، بری طرح دل آ گیا۔ لٹو کے چکر کی مناسبت سے عشق کو بھی دماغ کاخلل کہاجاتا ہے۔ غالبؔ کہتے ہیں :
بلبل کے کاروبار پہ ہیں خندہ ہائے گل کہتے ہیں جس کو عشق خلل ہے دماغ کا
( ۱۱ ) لڑکوں کا کھیل نہیں ہے : کوئی آسان کام نہیں ہے،بہت دقت طلب بات ہے۔
( ۱۲ ) لڑتوں کے پیچھے، بھاگتوں کے آگے : یعنی بزدل آدمی جو جنگ میں سب سے پیچھے اور بھگدڑ میں سب سے آگے ہوتا ہے۔
(۱۳) لڑائی میں لڈو نہیں بنٹتے : لڑائی میں مار پیٹ اور چوٹ پھیٹ ہونا لازمی ہے۔ اس لئے اس کی شکایت ہی کیا۔ لڑائی میں لڈو تو بنٹنے سے رَہے۔
(۱۴) لکیر کا فقیر ہونا : ایسا فقیرجس نے خیرات مانگنے کی ایک مستقل جگہ یا ریت بنا لی ہو لکیر کا فقیر کہلاتا ہے۔ لکیر کا فقیر ہونا یعنی فرسودہ روایات یا رسوم کا بے سوچے سمجھے پابند ہونا۔
( ۱۵) لکھے عیسیٰ پڑھے موسیٰ : بد خط آدمی کو کہتے ہیں جس کا لکھا ہوا کوئی نہ پڑھ سکے۔
(۱۶) لکھے موسیٰ پڑھے خدا : بد خط آدمی کے لئے یہ کہاوت کہی جاتی ہے۔ اسی معنی میں ’’لکھیں عیسیٰ، پڑھیں موسیٰ‘‘ بھی مستعمل ہے۔
( ۱۷ ) لگ گیا تو تیر نہیں تو تُکا : اگر کام چل گیا تو نام ہو جائے گا اور نہ بھی چلا تو کم سے کم کوشش تو کی۔ تُکا ایسے تیر کو کہتے ہیں جو بغیر نشانہ لئے یوں ہی مار دیا جائے۔ اس کا نشانہ پر بیٹھنا بالکل اتفاقی ہوتا ہے۔
( ۱۸) لنکا میں سب باون گز کے : ہندوؤں کی متبرک کتاب رامائن میں لنکا کا ذکر ہے جہاں کا بادشاہ راوَنؔ تھا اور وہاں کے رہنے والے دیو نما لوگ تھے۔ باون گز کا یعنی بہت لمبا تڑنگا۔ یعنی لنکا میں جس کو دیکھا دیووں کی طرح لمبا تڑنگا تھا۔ کسی جگہ سب ہی لوگ عجیب و غریب عادات و خیالات کے مل جائیں اور سیدھے سادے لوگوں کا وہاں گزر نہ ہو تو یہ کہاوت کہتے ہیں۔
(۱۹) لنگوٹی میں پھاگ کھیلتے ہیں : لنگوٹی مفلسی اور تہی دامنی کااستعارہ ہے۔ یعنی غربت کے عالم میں بھی فضول خرچی سے باز نہیں آتے۔
(۲۰) لوہے کے چنے چبانا : یعنی بے حد مشکل کام کرنا،بڑی مشکلوں سے گزرنا۔
(۲۱) لوہے کو لوہا ہی کاٹتا ہے : بہادر آدمی کو دوسرابہادر آدمی ہی شکست دے سکتا ہے۔
(۲۲ ) لہو لگا کر شہیدوں میں شامل ہو گئے : یعنی برائے نام کام کر کے نیک ناموں اور بہادروں میں شامل ہو گئے۔ اسی مطلب کو انگلی کٹا کر شہیدوں میں داخل سے بھی ادا کیا جاتا ہے۔
(۲۳) لیلیٰ را با چشم مجنوں باید دید : یعنی لیلیٰ کو مجنوں کی آنکھوں سے دیکھنا چاہئے۔ کہتے ہیں کہ لیلیٰ سیاہ فام تھی لیکن مجنوں کا دل اُسی پر آیا ہوا تھا۔ ضروری نہیں کہ جو چیز کسی کو پسند ہو وہ ساری دُنیا کو بھی پسند ہو۔ ہر ایک کی پسند الگ الگ ہوتی ہے۔
( ۲۴) لینا ایک نہ دینا دو : یعنی فضول باتیں کرنا جب کہ کام کرنے کی نیت نہ ہو۔
( ۲۵ ) لینے کے دینے پڑ گئے : یعنی گئے تھے کچھ لیکن معاملہ الٹ گیا اور کچھ دینا ہی پڑ گیا۔ گویا فائدہ کی اُمید پر نقصان ہو گیا۔
( ۲۶) لینے کو مچھلی، دینے کو کانٹا : یعنی جب کچھ لینے کا وقت ہوتا ہے تو نرم ہو جاتے ہیں لیکن جب دینے کی باری آتی ہے تو گرما جاتے ہیں اور سیدھے منھ بات نہیں کرتے۔
٭٭٭
م۔کی کہاوتیں
(۱) مانگے کا اُجالا : یعنی ایسی شہرت یا ناموری جو کسی دوسرے شخص کی کوششوں کی مرہون منت ہو۔ جب اپنی گرہ میں کچھ نہ ہو اور دوسروں کے نام کی آڑ میں نام کمانے کی کوشش کی جائے تو ایسی ناموری مانگے کا اُجالا کہلائے گی۔
( ۲) مالِ عرب پیشِ عرب : یعنی جس کا مال ہے، اُس کی تحویل میں ہی رہنا چاہئے۔
(۳ ) مار کے آگے بھوت بھاگتا ہے : مار پیٹ سے ہر شخص گھبراتا ہے یہاں تک کہ بھوت بھی بھاگ کھڑا ہوتا ہے۔
(۴ ) مارنے والے سے جِلانے والا بڑا : جِلانے والا یعنی خدا۔ کہاوت کا استعمال اس کے معنی سے ظاہر ہے۔
(۵) مان نہ مان، میں تیرا مہمان : اگر کوئی شخص کسی معاملہ میں خواہ مخواہ مداخلت کرے تو یہ کہاوت کہتے ہیں۔
(۶) ماں سے زیادہ چاہے، پھا پھا کُٹنی کہلائے : پھاپھا کٹنی یعنی چالاک اور مکار عورت۔یہ عورتوں کی زبان ہے۔ اگر کوئی شخص کسی کے لئے اس کی ماں سے زیادہ محبت کا اظہار کرے تو یقیناً وہ جھوٹا اور مکار ہے اور اپنا اُلّو سیدھا کرنے کی فکر میں ہے۔
( ۷ ) ماں چیل باپ کوّا : یعنی بچہ ماں باپ دونوں جانب سے ناکارہ ہے۔
( ۸ ) مایا کے ہیں تین نام، پرسو، پرسا، پرسرام : انسان مایا( دولت) کی پرستش کرتا ہے۔ کسی شخص کو دولت مل جائے تو معاشرہ میں اُس کا مقام ا ور حیثیت بدل جاتے ہیں۔ جو شخص پرسوؔ کے حقیر نام سے مشہور تھا اب پرساؔ کہلانے لگتا ہے اور بڑھتے بڑھتے پرسرامؔ ہو جاتا ہے۔
( ۹ ) مارتے کے ہاتھ پکڑ ے جا سکتے ہیں بولتے کی زبان نہیں پکڑی جاتی : کہاوت کے معنی اور محل استعمال ظاہر ہیں۔
(۱۰) ماروں گّھٹنا، پھوٹے آنکھ : یعنی ضرب تو گھٹنے پر لگی ہے اور تم کہہ رہے ہو کہ تمھاری آنکھ پھوٹ گئی۔ یہ کہاوت ایسے وقت استعمال ہوتی ہے جب کہا یا کیا تو کچھ جائے اور فریق اس کا مطلب کچھ اور ہی نکال لے جس کی کوئی تُک ہی نہ ہو۔
(۱۱) ماں سے پوت، نسل سے گھوڑا، بہت نہیں تو تھوڑا تھوڑا : بیٹا تھوڑا بہت ضرور اپنی ماں کی فطرت اور عادت پر جاتا ہے اور اچھی نسل کے گھوڑے میں کچھ نہ کچھ اچھائی ہوتی ہے۔ یہی اس کہاوت کا مطلب ہے کہ ہر اچھائی کے پیچھے کوئی نہ کوئی سبب ہوتا ہے۔
( ۱۲ ) مانگی موت بھی نہیں ملتی : وقت پڑے تو مانگی چیز بھی نہیں ملتی۔
(۱۳) مارے اور رونے نہ دے : یعنی ہر طرح سے مجبور کر رکھا ہے کہ ظالم مارتا بھی ہے اور پھر رونے بھی نہیں دیتا۔
(۴ ۱) مت کرساس برائی، تیرے بھی آگے جائی : جائی یعنی بیٹی۔یہ عورتوں کی کہاوت ہے یعنی تو اپنی ساس کی برائی مت کر کیونکہ تیرے سامنے بھی بیٹی ہے جو کل بیاہی جائے گی اور ساس کے پاس چلی جائے گی۔اس کہاوت کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ اے ساس! تو اپنی بہو کی برائی مت کر کیونکہ تیرے آگے بھی بیٹی ہے۔اِنسان کو دوسروں کی برائی سوچ سمجھ کر کرنی چاہئے کیونکہ کل وہ بھی اسی صورت سے دو چار ہو سکتا ہے۔
( ۱۵ ) متھرا کا چوہا ہے : متھرا ( ہندوؤں کا متبرک شہر) کے پنڈے اور چوہے اپنے مٹاپے کی وجہ سے مشہور ہیں کہ مفت کا کھا کھا کر مستاتے ہیں۔ اسی رعایت سے یہاں موٹے آدمی کو متھرا کا چوہا کہا گیا ہے۔ کہاوت میں تحقیر و تضحیک کا عنصر غالب ہے۔
( ۱۶) مٹی کا مادھو ہے : یعنی بالکل بے وقوف اور نا سمجھ ہے جیسے مٹی کا پُتلا ہو۔
( ۱۷ ) : مجذوب کی بَڑ : بَڑ یعنی بے تکی باتیں۔ فضول اور بیسود بات مجذوب کی بَڑ کہلاتی ہے۔
( ۱۸) مچھلی کے پوت کو کون تیرنا سکھائے : جیسے والدین ہوتے ہیں ویسی ہی اولاد بھی ہوتی ہے۔ اولاد ابتدائی عادات و اطوار اپنے ماں باپ سے ہی سیکھتی ہے۔
( ۱۹ ) محبت بکتی تو کوئی امیر آدمی غریب نہ ہوتا : امیر آدمی پیسے سے تو آسودہ ہوتا ہے لیکن عام طور پر محبت اور دوستی کا پیاساہوتا ہے اور دولت یہ کمی پوری نہیں کر سکتی۔
(۲۰) محرم کی پیدائش ہے : محرم ماتم کے لئے مشہور ہے۔ کوئی شخص اگر ہر بات پر روتا یا شکایت ہی کرتا رہے تو اس کے بارے میں یہ کہاوت بولتے ہیں۔
(۲۱) مدعی سُست، گواہ چُست : کسی معاملہ میں اگر اصلی فریق زیادہ مستعدی نہ دکھائے لیکن اُس کے ساتھی بہت آگے آگے ہوں تو یہ کہاوت بو لی جاتی ہے۔
(۲۲) مرزا پھویا : یعنی انتہائی نازک مزاج شخص۔
(۲۳) مرتا کیا نہ کرتا : یعنی مجبور آدمی سب کچھ کرنے کے لئے تیار ہو جاتا ہے۔
( ۲۴) مردہ بدست زندہ : لا چار اور بے یار و مددگار آدمی جو بالکل دوسروں کے بس میں اس طرح ہو جیسے کوئی مردہ آدمی زندہ لوگوں کے قابو میں ہوتا ہے۔
( ۲۵) مردے پر جیسے سو من مٹی ویسے ہزار من : قبر پر سو من مٹی ڈالیں یا ہزار من، مرنے والے کے لئے یکساں ہے۔ یعنی اگر کوئی کام ہاتھوں سے نکل جائے تو اس میں تھوڑے سے اور بگاڑ سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے۔
(۲۶ ) مرے کے مال کے سب حق دار : مرنے والے کے مال کے بہت سے حقدار پیدا ہو جاتے ہیں جب کہ اس کی زندگی میں بیشتر لوگ اس کو پوچھتے بھی نہیں۔ کہاوت میں انسانی لالچ اور مفت کے مال کی ہوس کی جانب اشارہ ہے۔
( ۲۷) مرگ انبوہ جشنے دارد : انبوہ یعنی گروہ یا مجمع۔ اگر کسی وَبا یا حادثہ میں کثیر تعداد میں لوگ مارے جائیں تو ایک ہنگامہ کی سی صورت پیدا ہو جاتی ہے اور ایک آدمی کی موت پر جو ماتمی صورت ہوتی ہے وہ نظر نہیں آتی۔ کہاوت یہی کہہ رہی ہے کہ کثیر تعداد میں آدمیوں کی موت جشن کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔
( ۲۸) مُردہ جنت میں جائے یا دوزخ میں انھیں حلوے مانڈے سے کام : انسان کی عام خصلت کی جانب اشارہ ہے کہ اسے مرنے والے کے انجام کی فکر نہیں ہوتی بلکہ وہ صرف میت کے بعد جو کھانے کا اہتمام ہوتا ہے اس کی جانب دیکھتا ہے۔ اسی مناسبت سے یہ کہاوت دوسرے انسانی حالات پر بھی صادق آتی ہے کہ کسی کے بھلے برے سے دوسروں کو کوئی سروکار نہیں ہوتا،وہ صرف اپنے فائدے کی راہ ڈھونڈتے ہیں۔
(۲۹) مرضیِ مَولا، از ہمہ اولیٰ : اللہ کی مرضی دوسرے سب لوگوں کی مرضی سے افضل ہے۔ موقعِ استعمال معنی سے ظاہر ہے۔
( ۳۰ ) مشتے نمونہ از خروارے : خروار یعنی بھنڈار۔ مطلب یہ ہے کہ مٹھی بھر چیز بھنڈار میں سے نمونے کے طور پر نکالی گئی ہے۔
( ۳۱ ) مشک آنست کہ خود ببوید نہ عطار بگوید : یعنی اصل مشک وہ ہوتا ہے جو خود خوشبو دے،نہ کہ وہ جس کی تعریف عطار کرے۔ با صلاحیت آدمی کو سفارش اور دوسروں کی پشت پناہی کی ضرورت نہیں ہوتی کیونکہ وہ اپنے ہی بل پر اپنا جائز مقام بنا لیتا ہے۔
(۳۲) مصیبت کبھی تنہا نہیں آتی : انسان پر جب مصیبت آتی ہے تو آگے پیچھے کئی ساتھ ساتھ آتی ہیں۔ آدمی سوچتا ہے کہ بس یہ آخری مصیبت ہے لیکن ایسا ہوتا نہیں ہے۔ اسی صورت حال کا کسی شاعر نے کیا خوب نقشہ کھینچا ہے:
ایک مشکل سے تو مر مر کے ہوا تھا جینا اور یہ پڑ گئی کیسی مرے اَللہ نئی!
( ۳۳) مفت ہاتھ آئے تو برا کیا ہے : کوئی چھوٹی چیز بھی مفت ہاتھ آ جائے تو غنیمت جاننا چاہئے۔کہاوت کا مطلب اور محل استعمال ظاہر ہے۔ یہ مرزا غالبؔ کے ایک شعر کادوسرا مصرع ہے:
ہم نے مانا کہ کچھ نہیں غالبؔ مفت ہاتھ آئے تو برا کیا ہے
( ۳۴ ) مفت کی شراب قاضی کو بھی حلال : مفت کے مال میں کسی کو اعتراض نہیں ہوتا
( ۳۵ ) مکر چکر کی کہانی، آدھا تیل آدھا پانی : مکر چکر یعنی گول مول، دھوکہ فریب۔ آدھا تیل آدھا پانی اسی فریب کاری کی جانب اشارہ ہے کہ بات سیدھی اور سچی نہیں کی جا رہی ہے۔
(۳۶ ) مگر وہ بات کہاں مولوی مدن کی سی : یعنی چیز اچھی ہے لیکن جو بات اس میں ہونی چاہئے وہ نہیں ہے۔مولوی مدّنؔ نامی ایک بزرگ دربار اودھ میں بہت رسوخ رکھتے تھے اور اپنی حق گوئی اور انصاف پسندی کے لئے مشہور تھے۔ یہ فقرہ اکبرؔ الہ آبادی کے ایک شعر کا دوسرا مصرع ہے اور اپنے مزاح میں مولوی صاحب کے متعلق غلط تاثر دیتا ہے کہ ان کی داڑھی بہت شاندار تھی جب کہ اصل موضوع سخن ان کی بیباکی اور صاف گوئی ہے۔شعر یوں ہے ؎
اگر چہ شیخ نے داڑھی بڑھائی سن کی سی
مگر وہ بات کہاں مولوی مدن کی سی
(۳۷) مگر مچھ کے آنسو : جھوٹ موٹ یا دکھاوے کا رونا دھونا۔ معلوم نہیں اس کو مگر مچھ کے آنسو کیوں کہتے ہیں۔
(۳۸ ) ملا کی دوڑ مسجد تک : جس شخص کی جیسی عادت پڑ جائے وہ ویسا ہی کرتا رہتا ہے۔اس کی مثال ملا کی ہے جس کی دُنیا گھر اور مسجد تک محدود ہے چنانچہ اس کی دَوڑ انھیں دو جگہوں کے درمیان رہتی ہے۔
( ۳۹ ) مُلا نہیں ہو گا تو کیا اذان نہیں ہو گی : یعنی اگر مسجد کے ملا صاحب خفا ہو کر چلے جائیں تو کیا اُس مسجد میں اذان ہی نہیں ہو گی؟ مطلب یہ ہے کہ کام کیسا ہی کیوں نہ ہو کسی کے ہونے یا نہ ہونے سے رُک نہیں سکتا۔
( ۴۰ ) ملک خدا تنگ نیست، پائے گدا لنگ نیست : یعنی خدا کا ملک تنگ نہیں ہے اور نہ ہی اِِس فقیر کے پیر میں لنگ ہے۔گویا میں جہاں چاہے اِس دُنیا میں جاسکتا ہوں۔ کسی قسم کی کوئی رُکاوٹ میری راہ میں نہیں ہے۔
( ۴۱) من بھر کا سر ہلا دیا، ٹکے بھر کی زبان نہیں ہلائی : کسی بات کا جواب دینے کے لئے کوئی شخص صرف سر ہلائے لیکن زبان سے کچھ نہ کہے تو یہ کہاوت کہی جاتی ہے۔
(۴۲) منگائی مسّی لے آیا مٹّی : یعنی اتنا احمق کہ ذرا سی بات بھی نہیں سمجھ سکتا۔ اُس سے مسّی منگائی جائے تو وہ مٹّی اٹھا لاتا ہے۔
(۴۳) من چاہے منڈیا ہلائے : مُنڈیا یعنی سر۔ یعنی دل تو چاہ رہا ہے لیکن دُنیا کو دکھانے کے لئے سر کے اشارے سے نہیں کہہ رہا ہے۔ کوئی شخص بظاہر کسی چیز کے لینے سے انکار کرے لیکن در اصل وہ اس کا خواہش مند ہو تو یہ کہاوت کہی جاتی ہے۔
( ۴۴) منھ سے نکلی کوٹھوں چڑھی : یعنی بات اِدھر منھ سے نکلی اور اُدھر دنیا میں مشہور ہوئی جیسے کوٹھے سے اس کا اعلان کیا جا رہا ہو۔ اسی مطلب کو دو اَور کہاوتیں یوں ادا کرتی ہیں کہ’’ منھ سے نکلی ہوئی پرائی بات‘‘ اور ’’ نکلی حلق سے پہنچی خلق تک‘‘۔
(۴۵) منھ سے بولے نہ سر سے کھیلے : یعنی چپ سادھ لی ہے اور کسی بات کا جواب نہ تو زبان سے دیتا ہے اور نہ ہی سر کے اشارے سے کام لیتا ہے۔
( ۴۶) منھ میں دانت نہ پیٹ میں آنت : انتہائی ضعیف اور عمر رسیدہ شخص کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ نہ منھ میں دانت ہے اور نہ پیٹ میں آنت یعنی اتنا بوڑھا ہے کہ نہ تو کھانا ٹھیک سے چبا پاتا ہے اور نہ ہی اس کی آنتیں کھانا ہضم کر سکتی ہیں۔
( ۴۷ ) منھ پر ٹھیکری رکھ لی ہے : ٹھیکری یعنی ٹوٹے گھڑے کا ٹکڑا۔ منھ پر ٹھیکری رکھ لی جائے تو کہی ہوئی بات دوسروں کوسنائی نہیں دیتی۔ گویا منھ پر ٹھیکر ی رکھ لینا چپ سادھ لینے کااستعارہ ہے۔
(۴۸) منھ میں گھُنگھنیاں ڈالے بیٹھے رہنا : گھنگھنیاں ایک طرح کی دانہ دار مٹھائی ہوتی تھی جو منھ میں دیر تک رہتی تھی اور اس کی وجہ سے کھانے والا بات کم ہی کرتا تھا۔ اب تو نظر بھی نہیں آتیں۔ اس محاورہ کا استعمال ایسے شخص پر ہوتا ہے جو جانتے بوجھتے انجان بن کر خاموشی اختیار کر لیتا ہے اور کسی بات کا جواب نہیں دیتا۔ اس کے بارے میں کہتے ہیں کہ ’’وہ تو گھنگھنیاں منھ میں ڈالے بیٹھا ہے۔‘‘
( ۴۹ ) من ترا حاجی بگویم،تو مرا ملا بگو : یعنی میں تجھے حاجی کہہ کر پکارتا ہوں ، تو مجھے مُلّا کہہ کر بُلا۔ یہ باہمی ستائش کی سانٹھ گانٹھ (سازش) ہے تاکہ دُنیا کو مصنوعی شرافت اور زہد کی ٹٹی کی آڑ سے دھوکا دیا جاسکے۔
( ۵۰ ) من آنم کہ من دانم : یعنی میں جیساکچھ ہوں خود ہی جانتا ہوں۔ یہ انکساری اور عجز کی کہاوت ہے۔
( ۵۱) من خوب می شناسم پیران پارسا را : یعنی میں اُن پیروں کو خوب جانتا ہوں جو پارسا بنتے ہیں۔ کوئی شخص اپنے آپ کوبڑا نیک و پارسا ظاہر کرے تو یہ کہاوت کہی جاتی ہے۔اس میں تضحیک و طعنہ کا عنصر نمایاں ہے۔
(۵۲) منھ میں رام بغل میں چھُری : اگر کوئی شخص منھ پر تو چکنی چپڑی باتیں کرے لیکن دل کا بدنیت اور بباطن نقصان کے درپے ہو تو یہ کہاوت کہتے ہیں یعنی منھ سے تو رام کا نام جپ رہا ہے لیکن بغل میں چھری چھپی ہے کہ کب موقع ملے اور کب سینہ میں اتار دے۔
(۵۳) منھ میں لگام نہیں ہے : یعنی زبان پر اختیار یا قابو نہیں ہے، جا و بیجا بولتے ہیں۔
(۵۴) منھ چومتے ہی گال کاٹ لیا : یعنی ذرا سی رعایت دیکھی تو زیادتی پر اُتر آئے۔ یہ چھچھورے پن کی نشانی ہے۔
( ۵۵) منھ بھی اپنا، زبان بھی اپنی : انسان اپنے کہے کا خود ذمہ دار ہوتا ہے۔ اس کہاوت میں تنبیہ کی گئی ہے کہ آدمی کو اپنی زبان پر قابو رکھنا چاہئے اور بے سوچے سمجھے کچھ کہنا نہیں چاہئے۔
( ۵۶ ) منھ کا میٹھا، پیٹ کا کھوٹا : یہ کہاوت ایسے شخص کے لئے کہی جاتی ہے جو بظاہر تو سیدھا سادا معلوم ہو لیکن جس کے دل میں بغض اور دشمنی بھری ہوئی ہو۔
( ۷ ۵) موئے پر سو دُرّے : مُوا یعنی مُردہ۔دُرّا یعنی کوڑا۔کسی کا بڑا نقصان ہو اور اس پر اس کی بے عزتی بھی کی جائے تو گویا موئے پر سو دُرّے لگائے گئے۔ اسی پر محل استعمال قیاس کیا جا سکتا ہے۔
( ۵۸) مو کو نہ تو کو چولھے میں جھونکو : یہ عورتوں کی زبان ہے۔ دو عورتوں میں کسی چیز پر لڑائی ہو رہی ہو اور مقدمہ کسی تیسری کے سامنے پیش کیا جائے تو فیصلہ یہ ہو سکتا ہے کہ’’ نہ یہ چیز تیری ہے اور نہ میری، چولھے میں جھونکو اس کو، جھگڑا کیوں ہو رہا ہے ذرا سی بات پر؟‘‘
( ۵۹) موم کی ناک ہے : یعنی بہت کمزور ہے، جس طرح چاہے موڑ لو۔
(۶۰) مُول سے بیاج پیارا ہوتا ہے : بیاج(سود) پر روپے قرض دینے والے کو مول یعنی اصل رقم کی واپسی کی فکر بالکل نہیں ہوتی بلکہ وہ بیاج وصول کرنے کا خواہشمند رہتا ہے تاکہ قرض کبھی ادا نہ ہو اور سود اِسی طرح ملتا رہے۔
( ۶۱) موئی بھیڑ خواجہ خضر کی نیاز : موئی یعنی مری ہوئی۔ لوگ خیرات یا نیاز میں کم قیمت چیزیں استعمال کرتے ہیں تاکہ خرچ کم ہو لیکن نام بہر حال ہو جائے۔ خواجہ خضر کی نیاز سے مراد نیک کام ہے۔ مری ہوئی بھیڑ حرام ہوتی ہے لیکن کھانے والوں کو تو اس کا علم نہیں ہوتا کہ وہ مری تھی یا ذبیحہ۔ گویا کہاوت اِنسان کی خود غرضی کی جانب اشارہ کر رہی ہے۔
( ۶۲ ) موری کی اینٹ چوبارہ چڑھی : موری یعنی نالی۔ چوبارہ یعنی بلند مقام۔ اگر کوئی نا اہل اور کم سواد آدمی اونچے مقام پر فائز ہو جائے تو گویا نالی کی اینٹ کو چوبارہ کی چنائی میں جگہ دی گئی ہے۔ یہ کہاوت ایسے ہی موقع پر کہی جاتی ہے۔
(۶۳) مونچھ نیچی ہو جانا : اونچی مونچھ عزت و افتخار کی نشانی سمجھی جاتی ہے۔مونچھ نیچی ہو جانا یعنی بے عزتی ہو جانا۔ اس سلسلہ میں ایک کہانی مشہور ہے۔ ایک خان صاحب کی بڑی شاندار تلوار مارکہ مونچھیں تھیں جن کو وہ ہر وقت تاؤ دیتے رہتے تھے۔ ایک دن ان کو بازار میں ایک بنیا نظر آیا جس کی مونچھیں بھی اُنھیں کی طرح تاؤ دار تھیں۔ بھلا ایک میان میں دو تلواریں کس طرح رہ سکتی تھیں ؟ خان صاحب نے غصہ میں آکراُس بنئے سے کہا کہ وہ اپنی مونچھ نیچی کر لے لیکن بنئے نے بلا قیمت ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔ آخر خان صاحب نے اس کو منھ مانگے پیسے بطور رشوت دئے اور بنئے نے اپنی ایک طرف کی مونچھ نیچی کر لی۔ خان صاحب نے جاتے جاتے مُڑ کر دیکھا کہ اُس کی دوسری جانب کی مونچھ پہلے کی طرح ہی اینٹھی ہوئی تھی تو چراغ پا ہو گئے۔ بنئے نے ہاتھ جو ڑ کر عرض کی کہ’’ سرکار ! ہمارا معاہدہ تو مونچھ نیچی کرنے کا تھا۔ اس میں دونوں طرف کی مونچھوں کی شرط تو نہیں تھی۔ اس کو نیچا کرنے کے لئے الگ سے کچھ عنایت کیجئے ‘‘۔ خان صاحب نے اُس کو مزید پیسے دئے اور بنئے نے دوسری مونچھ بھی نیچی کر لی۔ خان صاحب اب مطمئن ہو کر مونچھوں پر تاؤ دیتے ہوئے اپنی راہ چل دئے۔
( ۶۴ ) موئے پر سو دُرّے : مُوا یعنی مر اہوا۔ دُرّہ یعنی کوڑا۔ مرے ہوئے آدمی پر کوڑے لگانے سے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔یہ شقاوت اور ظلم کی نشانی ہے۔ کہاوت کا مطلب ہے مظلوم پر مزید ظلم کرنا۔
( ۶۵) میری جوتی سے : یہ عورتوں کی زبان ہے، یعنی میری بلا سے، یہ اتنی فضول بات ہے کہ اس کی فکر میری جوتی کو بھی نہیں ہے۔
( ۶۶) میاں کی جوتی میاں کے سر : ا گر کوئی شخص دوسروں کی بے عزتی کرے اور وہ لوٹ کراسی کے منھ پر مار دی جائے تو یہ کہاوت بولی جاتی ہے۔ کہاوت میں اہانت اور تحقیر کا پہلو غالب ہے۔
( ۶۷) میری جوتی کی نوک پر : یعنی میری بلا سے، مجھے فکر نہیں۔ یہ کہاوت بھی عورتوں کی زبان میں ہے۔
( ۶۸ ) مینڈکی کو بھی زکام ہوا : مینڈکی پانی میں رہتی ہے اور محاور تاً بھی اس کو زکام لاحق نہیں ہو سکتا۔ چنانچہ اگر کوئی شخص اپنے ساتھ نا ممکن اور انہونی حادثہ پیش آنے کا دعویٰ کرے تو کہتے ہیں کہ مینڈکی کو بھی زکام ہو گیا ہے۔
( ۶۹) میٹھا میٹھا ہپ ہپ،کڑوا کڑوا تھو تھو : ہپ ہپ یعنی شوق سے کھانا اور تھو تھو یعنی ناپسند کر کے تھوک دینا۔ کوئی شخص آسان کام پر تو راضی ہو جائے لیکن محنت سے بھاگے تو یہ کہاوت بولتے ہیں۔
( ۷۰) میراث پدر خواہی، علم پدر آموز : یعنی اگر تو اپنے باپ کی میراث کا خواہاں ہے تو پہلے اس کا سا علم حاصل کر۔ کہاوت کے مخاطب وہ لوگ ہیں جو بزرگوں کے مقام اور حیثیت کی بنیاد پر آگے بڑھنا چاہتے ہیں حالانکہ خود ناکارہ اور نا اہل ہوتے ہیں۔
(۷۱) میرے بیل نے وکالت نہیں پڑھی : فضول باتوں میں پڑ کر وقت ضائع کرنے کے بجائے آدمی کو اپنے کام سے کام رکھنا چاہئے۔ اس کہاوت سے منسوب ایک لطیفہ ہے۔ ایک تیلی کے بیل کی ملکیت کا مقدمہ عدالت میں پیش ہوا۔مخالف وکیل نے تیلی سے جرح کے دوران پوچھا کہ ’’تم کولھو کے بیل کی گردن میں گھنٹی کیوں باندھتے ہو؟‘‘ تیلی نے جواب دیا کہ ’’جب ہم اپنے کسی کام سے اِدھر اُدھر ہو جاتے ہیں تو گھنٹی کی آواز سے معلوم ہوتا رہتا ہے کہ بیل اپنے کام سے لگا ہوا ہے۔‘‘ وکیل نے پوچھا کہ ’’اگر بیل رُک کر کھڑا ہو جائے اور یونہی گردن ہلاتا رہے تو تم کو کیسے پتہ چلے گا؟‘‘ تیلی نے مسکرا کر کہا کہ ’’حضور! میر ے بیل نے وکالت نہیں پڑھی ہے۔‘‘
٭٭٭
ن۔کی کہاوتیں
( ۱ ) ناک پر مکھی نہیں بیٹھنے دیتے : بہت نازک مزاج ہیں، ذرا سی بات کی برداشت نہیں ہے۔
(۲ ) نام بڑ ے اور درشن چھوٹے : دُنیا بھر میں نام و نمود تو بہت ہے لیکن اندر سے کھوکھلے اور کم دل ہیں۔کہاوت کا محل استعمال معنی سے ظاہر ہے۔
( ۳) نادان دوست سے دانا دشمن اچھا : کہاوت کا مطلب صاف ہے اور اسی سے اس کا استعمال قیاس کیا جا سکتا ہے۔
( ۴ ) نادان کی دوستی زیان : دوستی ہمیشہ سمجھدار لوگوں سے کرنی چاہئے۔ نادان کی دوستی سے نقصان پہنچنے کا بہت امکان ہوتا ہے۔
(۵) ناک کا بال ہونا : ناک کے بال اگر نوچ کر نکالے جائیں تو بہت تکلیف ہوتی ہے۔ اگر کوئی شخص کسی دوسرے کے معاملات میں بہت دخیل ہو جائے اور اس کی بات ہر مسئلہ میں مانی جانے لگے تو کہتے ہیں کہ وہ تو فلاں کی ناک کا بال ہے۔
(۶) ناچ نہ آئے، آنگن ٹیڑھا : قصہ مشہور ہے کہ ایک رقاصہ محفل میں ناچ رہی تھی۔ جب لوگوں نے اس کے ناچ کو ناپسند کیا تو اس نے جواباً کہا کہ ’’ میں کیا کروں، اس گھر کا آنگن ہی ٹیڑھا ہے۔ بھلا اچھا ناچ یہاں کیسے ہو سکتا ہے؟‘‘ چنانچہ اب یہ کہاوت ایسے موقع پر استعمال ہوتی ہے جب کوئی اپنی نا اہلیت کی وجہ ایسی بتائے جس کا اُس کام سے مطلق کوئی واسطہ نہ ہو۔
(۷) ناک پکڑو تو جان نکلتی ہے : یعنی بے حد نازک اور کمزور ہیں۔
( ۸ ) نادان سے دوستی جی کا جنجال : کہاوت کے معنی اور محل استعمال ظاہر ہیں۔
(۹) نادر شاہی حکم : نادر شاہؔ دُرانی نے دہلی پر حملہ کے دوران وہاں قتل عام کر وایا تھا۔نادر شاہی حکم یعنی ایسا ظالمانہ حکم جس کی تعمیل لازمی ہے اور جس سے مفر نہیں۔
(۱۰) ناچنے نکلے تو گھونگھٹ کیسا : یعنی جب برے کام کا ارادہ کر ہی لیا ہے تو پھر شرم و حیا کا کیا سوال ہے۔
(۱۱) ناک کٹ گئی : یعنی بڑی بے عزتی ہوئی، بہت رُسوائی کا سامنا کر نا پڑا۔
(۱۲) نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات : یعنی کچھ حاصل نہ ہوا۔ کوئی کام محنت سے کیا جائے اور اس کا نتیجہ کچھ نہ نکلے تو یہ کہاوت بولتے ہیں۔
( ۱۳) نزلہ عضو ضعیف پر ہی گرتا ہے : کمزور آدمی ہی ہمیشہ مصیبت اور خرابی کا شکار ہوتا ہے، بالکل اسی طرح جس طرح نزلہ کا اعصابی اثر اُسی عضو پر ہوتا ہے جو کمزور اور ضعیف ہوتا ہے۔
( ۱۴) نقل کفر کفر نہ باشد : یعنی کسی کے کفر کی نقل کرنے سے کوئی کافر نہیں ہو جاتا ہے کیونکہ اس کا اصل عقیدہ قائم رہتا ہے۔گویا اگر کوئی شخص کسی اَور کی تقلید میں بے سوچے سمجھے کوئی برائی کرے تو اس کا جرم اتنا قابل گرفت نہیں ہوتا جتنا اس کے پیر و مرشد کا ہوتا ہے۔
( ۱۵) نقش بر آب ہے : مٹ جانے والا ہے، بے ثبات ہے جیسے پانی پر بنایا ہوا نقش اُسی وقت غائب ہو جاتا ہے۔
(۱۶) نکٹے کا کھائے، اوچھے کا نہ کھائے : کم ظرف یا اوچھا آدمی اپنے ذرا سے احسان کو بھی بار بار جتاتا ہے۔ لہٰذا اس کااحسان نہیں لینا چاہے۔ کسی عیب دار مثلاً نکٹے شخص کا احسان اٹھانا اوچھے کے احسان سے بدرجہا بہتر ہے۔
(۱۷ ) نکٹے کی ناک نہیں کٹتی : یعنی جو پہلے سے ہی بے عزت اور بے حیا ہو اس کے لئے عزت بے معنی چیز ہے۔
( ۱۸) ننگی کیا نہائے گی،کیا نچوڑے گی : غریب آدمی کی ہر طرح مصیبت ہے۔اس کی مثال ایک ایسی غریب عورت ہے جس کے پاس ایک ہی جوڑا کپڑا ہو۔ اگر وہ کپڑے پہن کر نہائے تو سُکھانے کے لئے ان کو کیسے نچوڑ سکتی ہے کہ پھر اس کی بے پردگی ہو گی۔
( ۱۹ ) ننگے کو کیا ننگ، کالے کو کیا رنگ : یعنی جو شخص برہنہ ہو اُسے برہنگی کا کیا خوف۔جس طرح کالے رنگ پر کوئی اور رنگ نہیں چڑھتا ہے اسی طرح ننگا آدمی بھی اپنی حالت سے بے نیاز رہتا ہے۔ اگر کوئی اپنی عادات و اطوار میں بے غیرت ہو تو اس پریہ کہاوت کہی جاتی ہے۔
( ۲۰ ) نناوے کا پھیر : یعنی دولت کا چکر اور لالچ۔ نناوے سے روپوں کی بڑی تعداد مقصود ہے۔
( ۲۱ ) نو نقد، نہ تیرہ اُدھار : لین دین میں اُدھار ہمیشہ مسئلے پیدا کرتا ہے۔ سب سے اچھا سودا نقد ہوتا ہے۔ کہاوت یہی کہہ رہی ہے کہ نقد اگر نو روپے مل جائیں تو وہ اُدھار کے تیرہ روپوں سے بہتر ہیں۔کل کا کوئی بھروسا نہیں ہے۔
( ۲۲ ) نورُُ علیٰ نور : یعنی مکمل نور، نور ہی نور۔ بہت روشن۔ تعریف کے لئے کہا جاتا ہے۔
(۲۳) نو دو گیارہ ہونا : یعنی بھاگ کھڑے ہونا، رفو چکر ہو جانا۔ یہ نہیں معلوم کہ بھاگ جانے سے نو دو گیارہ کی کیا مناسبت ہے۔
( ۲۴ ) نو سو چوہے کھا کے بلی حج کو چلی : یعنی دُنیا بھر کی برائیاں کر چکے تو اب بڑھاپے میں پارسائی کی سوجھی ہے۔ انسان آخر عمر میں مذہب کی جانب مائل ہوتا ہے اور اپنے پچھلے سارے گناہوں کا کفارہ ادا کرنا چاہتا ہے۔ کہاوت اسی جانب اشارہ کر رہی ہے۔
(۲۵) نہ تین میں ، نہ تیرہ میں : جس شخص کا شمار کہیں نہ ہو یعنی اس کی کوئی اہمیت نہ ہواس کے لئے یہ کہاوت بولی جاتی ہے۔
(۲۶) نہ نو من تیل ہو گا، نہ رادھاؔ ناچے گی : پرانا قصہ ہے کہ ایک مشہور رقاصہ ُاس وقت تک رقص کا مظاہرہ نہیں کرتی تھی جب تک چراغاں کا معقول انتظام نہیں ہو جاتا تھا۔ نو من تیل بے شمار چراغوں کی علامت ہے۔کوئی اگرکسی کام کے لئے ایسی شرط لگائے جس کا پورا کرنا ممکن نہ ہو تو یہ کہاوت دُہرائی جاتی ہے یعنی نہ تو اِن کی یہ فضول شرط پوری ہو گی اور نہ یہ کام کر کے دکھائیں گے۔
( ۲۷ ) نہ رہے بانس، نہ بجے بانسری : کام کی وجہ باقی نہ رہے تو اس کی ضرورت بھی ختم ہو جاتی ہے بالکل اسی طرح جیسے اگر بانس ختم ہو جائیں تو بانسری نہیں بن سکتی۔ اگر کسی چیز کی بنیاد ہی ختم کر دی جائے تو یہ کہاوت بولتے ہیں۔
( ۲۸) نیکی برباد، گناہ لازم : یعنی نیکی کو تو سب لوگ بھول گئے اور الزام اُلٹا ہمارے سر رکھ دیا۔ دُنیا کا یہی دستور ہے کہ نیکی کو کوئی یاد نہیں رکھتا جب کہ بدنامی بخشنے کے لئے ہر ایک آمادہ رہتا ہے۔
( ۲۹) نیم حکیم خطرۂ جان، نیم مُلّا خطرۂ ایمان : اَدھورا علم ہمیشہ خطرناک ہوتا ہے جیسے نیم حکیم سے مریض کی جان جانے کا خطرہ ہوتا ہے اور نیم مُلّا کے علم سے لوگوں کا ایمان خطرے میں پڑ جاتا ہے۔
(۳۰) نیکی کر دریا میں ڈال : دنیا کا دستورہے کہ نیکی تو بھول جاتی ہے لیکن ذراسی برائی ہو جائے تو عمر بھر یاد رکھتی ہے۔ا س لئے کسی کے ساتھ نیکی کر کے اس کے بدلے میں اچھائی کی اُمید بیکار ہے۔ بہتر یہ ہے کہ آدمی نیکی کر کے اسے بھول جائے جیسے کی ہی نہیں تھی گویا نیکی کو دَریا بُرد کر دینا اچھا ہے۔
(۳۱) نیکی اور پوچھ پوچھ : کسی سے کوئی نیکی کرنی ہو تو اس سے پوچھا نہیں جاتا ہے۔ چنانچہ اگر کوئی شخص کسی اچھے کام کا ارادہ ظاہر کرے تو یہ کہاوت بولتے ہیں۔
(۳۲) نیبو نِچوڑ آدمی : قصہ مشہور ہے کہ ایک مفت خور آدمی بازار یا سرائے میں منتظر رہتا تھا کہ کوئی کھانا کھاتا نظر آ جائے۔ جوں ہی وہ کسی ایسے شخص کو دیکھتا تو اس کے پاس بیٹھ کر کہتا ’’ صاحب! یہ آپ کیا روکھا سوکھا کھا رہے ہیں۔ اس کھانے کا اصل مزہ تو تب ہے جب اس میں نیبو نچوڑا جائے‘‘۔ یہ کہہ کر جیب سے ایک نیبو نکال کر کھانے والے کی دال وغیرہ میں نچوڑ دیتا۔ وہ بیچارہ مروتاً اُس مفت خور کو بھی کھانے میں شامل کر لیتا۔ایسے ہی مفت خورے کو نیبو نچوڑ آدمی کہتے ہیں ۔ اسی پر دوسری صورتیں قیاس کی جا سکتی ہیں۔
٭٭٭
و۔کی کہاوتیں
(۱ ) وقت پڑنے پر گدھے کو بھی باپ بنا لیتے ہیں : کسی کا کام اٹک جائے تو وہ مطلب بر آری کے لئے خراب سے خراب قدم اٹھانے کے لئے آمادہ ہو جاتا ہے۔ گدھے کو باپ بنانا اسی جانب اشارہ ہے۔
( ۲ ) ولی کو ولی پہچانتا ہے : ہم جنس ہی اپنے ہم جنس کو پہچانتا ہے۔ یہ کلیہ زندگی کے ہر شعبہ میں صحیح ہے۔ اسی مطلب کی ایک اور کہاوت ہے کہ’’ چور کا بھائی اٹھائی گیرہ‘‘۔
( ۳) وہی مرغے کی ایک ٹانگ : کوئی اپنی ضد پر اَڑ جائے اور کسی طرح بات نہ سنے تو یہ کہاوت کہی جاتی ہے۔ اس سے ایک دلچسپ کہانی وابستہ ہے۔ کسی بادشاہ کے دسترخوان پر مرغ پک کر آیا تو باورچی نے للچا کر ایک ٹانگ ہڑپ کر لی۔ بادشاہ کے سامنے جب ایک ہی ٹانگ پہنچی تو اس نے باورچی سے وجہ دریافت کی۔اُس نے ہاتھ جوڑ کر کہا کہ ’’حضور! اس مرغ کی ایک ہی ٹانگ تھی۔‘‘ بادشاہ نے کہا کہ’’ کہیں مرغ کے ایک ٹانگ بھی ہو ا کرتی ہے؟ مجھے بھی ایسا مرغ دکھانا‘‘۔کچھ دنوں کے بعد بادشاہ سلامت کہیں جا رہے تھے۔ سڑک کے کنارے ایک مرغ ایک ٹانگ پر کھڑا ہوا تھا۔ باورچی نے عرض کی کہ’’ دیکھئے حضور! وہ رہا ایک ٹانگ کا مرغ۔‘‘ بادشاہ نے حکم دیا کہ اسی وقت ڈھول بجایا جائے۔ ڈھول کی آواز سے گھبرا کر مرغ نے اپنی دوسری ٹانگ پروں سے نکالی اور بھاگ لیا۔ بادشاہ نے باورچی کی طرف دیکھا تو اس نے عاجزانہ کہا کہ ’’حضور! اُس دن میرے پاس ڈھول نہیں تھا ورنہ میں بھی بجوا دیتا اور مرغ کی دوسری ٹانگ بر آمد کر لیتا‘‘۔ بادشاہ اُس کی حاضر جوابی پر ہنس پڑا اور اس کو انعام و اکرام سے نوازا۔ یہ کہاوت اب ہٹ دھرمی پر بولی جاتی ہے۔
( ۴ ) وہ دن گئے جب خلیل خاں فاختہ اُڑاتے تھے : یعنی اچھا وقت گزر گیا اور اب آزمائش اور سختی کا زمانہ سر پر پڑا ہے۔یہ کہاوت تب کہی جاتی ہے جب کسی کے اقبال کا زمانہ ختم ہو چکا ہو اور وہ برے دن دیکھ رہا ہو۔کہاوت میں تضحیک کا عنصر ہے۔
( ۵ ) وہم کا علاج حکیم لقمان کے پاس بھی نہیں تھا : روایات میں فرضی حکیم لقمانؔ حکمت میں کمال کے لئے بہت مشہور ہیں۔ لیکن وہ بھی وہم کا علاج نہیں کر سکتے تھے۔ اور آج بھی اس کا کوئی علاج نہیں ہے۔
٭٭٭
ہ۔کی کہاوتیں
(۱ ) ہاتھ بیچے ہیں ، ذات نہیں بیچی : یعنی نوکری تو کی ہے لیکن غلامی اختیار نہیں کی ہے۔
(۲ ) ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں : کوشش نہیں کرتے، کاہلی میں بیٹھے ہوئے ہیں۔
(۳) ہاتھی مر کے بھی سوا لاکھ کا : ہاتھی کی زندگی میں تو اس کی قیمت زیادہ ہوتی ہی ہے، اگر وہ مر بھی جائے تو اس کی لاش بھی بازار میں خاصی بڑی قیمت لاتی ہے۔ گویاکسی دولت مند پر برا وقت آ جائے تو بھی عموماً وہ اک دم بے قیمت نہیں ہو جاتا ہے بلکہ اس کی وقعت، ساکھ اور نام و نمود کسی نہ کسی حد تک قائم رہتی ہے۔
( ۴) ہاتھی سے گنّا نہیں چھینا جاتا : جس طرح ہاتھی سے گنا چھیننا اپنی موت کو دعوت دینا ہے اسی طرح طاقتور اور ظالم شخص سے دشمنی مول نہیں لینی چاہئے۔
(۵) ہاتھی کے پاؤں میں سب کا پاؤں : ہاتھی کے پیر کا نشان جانوروں میں سب سے بڑا ہوتا ہے ا ور ہر دوسرے جانور کے پیر کا نشان اس کے پیر کے نشان میں سما سکتا ہے۔اس کہاوت سے کسی شخص کا اتنا با کمال ہونا مراد ہے کہ دوسروں کے کمال اس کے مقابلہ میں ماند پڑ جائیں۔
( ۶) ہاتھ کنگن کو آرسی کیا ہے : آرسی ایک قسم کی بڑی انگوٹھی ہوتی ہے جو پچھلے زمانے میں عورتیں اپنے انگوٹھے میں پہنا کرتی تھیں۔ اس میں نگ کی جگہ ایک چھوٹی سے گول ڈھکنے دار ڈبیا ہوتی تھی اور ڈھکنے میں ایک گول شیشہ لگا ہوتا تھا جس کے آس پاس خوبصورت نقش و نگار یا رنگین نگ ہوتے تھے۔ عورتیں اس شیشہ میں دیکھ کر اپنا سنگھار درست کیا کرتی تھیں۔ ڈبیا میں عام طور پر مسّی رکھی جاتی تھی۔ مسّی ایک قسم کے سفوف کو کہتے ہیں جس کے لگانے سے مسوڑھے سیاہ ہو جاتے ہیں۔ عورتوں کا خیال یہ تھا کہ کالے مسوڑھوں کے درمیان سفید چمکتے ہوئے دانت خوبصورتی میں اضافہ کریں گے۔ کہاوت کا مطلب یہ ہے کہ ہاتھ میں پہنے ہوئے کنگن کو دیکھنے کے لئے آرسی کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ وہ تو نظروں کے سامنے ہی ہے۔ چنانچہ اسی مناسبت سے اگر کوئی چیز ظاہر اور بالکل سامنے ہو تو یہ کہاوت بولی جاتی ہے کہ اس میں تردد یا بحث کی کیا ضرورت ہے، یہ بات تو بالکل سیدھی سادی ہے۔
( ۷ ) ہاتھی نکل گیا دُم رہ گئی : یعنی بڑا کام تو ہو گیا اب صرف اُس کا چھوٹا سا حصہ رہ گیا ہے۔
( ۸) ہاتھ بھر کی زبان ہے : بہت زبان دراز ہے۔ زبان پر قابو نہیں ہے۔
( ۹ ) ہاتھ دھو کے پیچھے پڑے ہیں : بری طرح پیچھے پڑ گئے، کسی طرح ان سے نجات نہیں ملتی۔
( ۱۰ ) ہاتھ کو ہاتھ پہچانتا ہے : ہم جنس کو ہم جنس ہی پہچانتا ہے۔
( ۱۱) ہاتھوں کے توتے اُڑ گئے : بے انتہا بدحواسی کے اظہار کے لئے کہتے ہیں۔بھو چکا رہ گئے۔
( ۱۲ ) ہاتھ کو ہاتھ نہیں سوجھتا : گھُپ اندھیرا ہے۔
(۱۳) ہاتھ لگاؤ تو رنگ میلا ہوتا ہے : یعنی اتنی حسین کہ ہاتھ لگانے سے ہی رنگ میلا ہو جاتا ہے۔ محل استعمال معنی سے ظاہر ہے۔
(۱۴) ہاتھی کے دانت، کھانے کے اور دِکھانے کے اور : یہ کہاوت ایسے شخص کے لئے بولی جاتی ہے جو کہتا کچھ ہو اور کرتا کچھ اور جیسے ہاتھی کے باہر کے دانت صرف دیکھنے کے لئے ہی ہوتے ہیں لیکن کھانے کے لئے دوسرے دانت منھ کے اندر ہوتے ہیں ۔
(۱۵) ہتھیلی پر سرسوں جمانا : سرسوں کے تیل کو منجمد کرنا نہایت دقت طلب کام ہے کیونکہ اس کا نقطہء انجماد بہت کم ہوتا ہے۔ ظاہر ہے کہ ہتھیلی پر رکھ کر اس کو منجمد کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ یہ کہاوت اُس وقت استعمال ہوتی ہے جب کوئی شخص کسی کام کو اتنے کم وقت میں کرنا چاہتا ہو جس میں وہ نا ممکن ہو۔
( ۱۶) ہر ملکے و ہر رَسمے : ہر ملک کے رسم و رواج جدا جدا ہوتے ہیں ۔ آدمی جہاں رہے وہاں کے حالات سے سمجھوتا کرنا چاہئے۔
( ۱۷) ہر چہ دَر کانِ نمک رفت نمک شُد: یعنی جو بھی نمک کی کان میں گیا وہ نمک (یعنی کان کا حصہ )بن جاتا ہے۔ یہ کہاوت صحبت اور ماحول کے اثر کو نمک کی کان سے تعبیر کر رہی ہے کہ ماحول کے اثرسے فرار ممکن نہیں ہے۔
( ۱۸) ہر کہ آمد عمارت نو ساخت : یعنی جو بھی آیا اس نے نئی عمارت کھڑی کر دی۔ یہ دُنیا کا دستور ہے کہ جو نیا شخص آتا ہے اپنے آس پاس کی چیزوں اور آدمیوں پر اپنا اثر جما نے کی کوشش کرتا ہے۔
( ۱۹ ) ہر فرعونے را موسیٰ : ہر ظالم سے نمٹنے کے لئے قدرت نے کوئی نہ کوئی صورت پیدا کر دی ہے جیسے فرعون کے لئے حضرت موسی ٰ ؑ مبعوث ہوئے تھے۔
( ۲۰) ہزار منھ ہزار باتیں : معنی اور استعمال ظاہر ہیں۔
(۲۱ ) ہلدی لگے نہ پھٹکری اور رنگ چوکھا آئے : کپڑا رنگتے وقت اس میں رنگریز ہلدی اور پھٹکری استعمال کرتے ہیں تاکہ رنگ نکھر آئے۔ کسی خارجی اضافی ذریعہ کے بغیر ہی اگر صحیح کام ہو جائے تو یہ کہاوت بولتے ہیں۔
( ۲۲ ) ہماری بلّی اور ہمیں سے میاؤں : یعنی ہمارا ہی کھاتا ہے اور ہمیں پر غرّاتا ہے۔
( ۲۳ ) ہنستے کے سب ساتھی، روتے کا نا کوئے : دُنیا سکھ کی ساتھی ہے، دُکھ کے دنوں کے ساتھی بہت کم ہوتے ہیں ۔
( ۲۴) ہونہار بِروا کے چکنے چکنے پات : دیہاتی ہندی میں بیری کے پودے کو بِروا کہتے ہیں۔پات یعنی پتّے۔ مطلب یہ ہوا کہ جو بیری کا پودا اچھا ہوتا ہے اس کے پتے بھی چکنے چکنے ہوتے ہیں۔ ہونہار بچے کے جوہر بھی شروع میں ہی ظاہر ہو جاتے ہیں۔
(۲۵) ہوں گے پوت تو پوجیں گے بھوت : پُوت یعنی بیٹا۔ دُنیا میں بیٹی کے مقابلہ میں بیٹے کی زیادہ قدر و قیمت سمجھی جاتی ہے۔ غریبوں میں خاص طور سے بیٹے کی پیدائش پر نسبتاً زیادہ خوشی منائی جاتی ہے۔ کہاوت یہی کہہ رہی ہے کہ کسی کے بیٹے ہی بیٹے ہوں تو بھوت بھی اس کو ڈرانے کے بجائے اُس کی پرستش کرنے آ جاتے ہیں۔ اس کہاوت کے ایک معنی یہ بھی لئے جاتے ہیں کہ اولاد کی اُمید میں بھوت پریت کی پرستش بھی منظور ہے۔
(۲۶) ہوا کے گھوڑے پرسوار ہیں : یعنی واپسی کی جلدی ہے، فوراً جانا چاہتے ہیں۔
٭٭٭
ی۔کی کہاوتیں
( ۱) یار زندہ صحبت باقی : اگر زندہ رہے تو پھر ملاقات ہو گی۔
( ۲ ) یاد اَللہ ہے : یعنی سلام دُعا ہے، جان پہچان یا واقفیت ہے۔
(۳ ) یک جان دو قالب : پکے دوست، آپس میں بڑی محبت کرنے والے۔
( ۴) یک نہ شد دو شد : یعنی ایک نہیں بلکہ دو دو۔ یہ کہاوت تب کہی جاتی ہے جب مصیبت ایک کے بعد ایک آئے۔
( ۵) یہ بھی نہ پوچھا کہ تیرے منھ میں کتنے دانت ہیں : رسمی آؤ بھگت بھی نہیں کی۔معمولی التفات و اکرام بھی نہیں برتا۔
( ۶) یہ وہ گُڑ نہیں جسے مکھیاں کھا جائیں : یہ ایسا مسئلہ نہیں جس سے آسانی سے نمٹ لیں۔ یہ کہاوت کسی آدمی کے لئے بھی کہہ سکتے ہیں جو آسانی سے داؤں پر نہ آتا ہو۔
( ۷) یہ بیل منڈھے چڑھتی نظر نہیں آتی : منڈھے یعنی اوپر۔ مطلب ہے کہ یہ کام ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔
( ۸ ) یہ ٹانگ کھولو تو لاج، وہ ٹانگ کھولو تو لاج : ہر طرح سے رُسوائی ہی رُسوائی ہے۔
(۹) یہ منھ اور مسور کی دال : اس کہاوت سے ایک قصہ وابستہ ہے۔ مغلیہ حکومت کی آخری سانسیں تھیں ۔ بادشاہ وقت کا خزانہ خالی تھا اور سلطنت فقط نام کی ہی رہ گئی تھی۔ شاہی باورچی بھی اِدبار کا شکار ہو کر قسمت آزمانے شہر سے باہر چلا گیا اور ایک راجہ صاحب کے دربار میں جا کر ملازمت کا خواستگار ہوا۔ جب راجہ صاحب کو معلوم ہوا کہ یہ شخص شاہی باورچی رہ چکا ہے تو امتحان کی غرض سے اس کو مسور کی دا ل پکانے کو کہا۔ ساتھ ہی وزیر خزانہ کو حکم دیا کہ باورچی اخراجات کے لئے جتنی رقم مانگے اس کو فراہم کر دی جائے۔ شام کو جب راجہ صاحب کے سامنے مسور کی دا ل آئی تو وہ اتنی لذیذ تھی کہ راجہ صاحب تعریف کرتے ہوئے تھکتے نہ تھے۔ یک لخت ان کو یاد آیا کہ باورچی کبھی شاہان مغلیہ کی خدمت میں رہ چکا تھا۔ گھبرا کر پوچھا کہ’’ اس دال پر کتنے روپئے خرچ ہوئے ہیں ؟‘‘۔ باورچی نے دست بستہ عرض کی’’ حضور! دو پیسے کی دال تھی اور بتیس روپے کے مصالحے‘‘۔ راجہ صاحب کے چھکے چھوٹ گئے۔ فرمایا’’ دو پیسے کی دال میں بتیس روپے کے مصالحے؟ بھلا ایسے کیسے کام چلے گا؟‘‘۔ باورچی نے شاہی آنکھیں دیکھی تھیں۔ اس نے کب ایسی بات سنی تھی۔ اسی وقت جیب سے بتیس روپے اور دو پیسے نکال کر راجہ صاحب کے سامنے رکھے دئے اور یہ کہہ کر چل دیا کہ ’’صاحب یہ رہے آپ کے پیسے۔ یہ منھ اور مسور کی دال!‘‘۔ یہ کہاوت تب استعمال ہوتی ہے جب کوئی شخص ایسی فرمائش کرے جس کا خرچ اٹھانے کی اجازت اس کی کنجوسی نہ دے۔
(۱۰) یہ جا، وہ جا : یعنی دیکھتے دیکھتے فرار ہو گیا۔ اگر کوئی شخص آناً فاناً بھاگ جائے تو یہ کہاوت بولی جاتی ہے۔
٭٭٭
تشکر: مصنف جنہوں نے فائل فراہم کی

جواب لکھیں