...................... .................

سری نگر میں عمران خان …… مظہر برلاس

مظہر برلاس …..
بدھ کے روز عمران خان نے سینئر صحافیوں سے ملاقات کی۔ سہ پہر کو شروع ہونے والی اس طویل نشست میں کھڑکیوں سے دھوپ نے جھانکا، سائے دراز ہوئے اور پھر تاریکی بھی اتر آئی۔
وزیراعظم اپنی ٹیم کے ہمراہ تھے۔ بہت سوالات ہوئے، جواب بھی خوب آئے مگر ہمارے کچھ اینکرز ایسی ملاقاتوں کو بھی ٹاک شو بنانے کی کوشش کرتے ہیں، بار بار الجھتے ہیں، کہنے کے باوجود الجھاؤ سے باز نہیں آتے۔
وزیراعظم سب سے زیادہ دکھی اس بات پر نظر آئے کہ انٹرنیشنل میڈیا کشمیر کی آواز بن گیا ہے اور پاکستانی میڈیا کشمیر کے بجائے مارچ کو لے آیا ہے۔ عمران خان کا یہ شکوہ درست ہے۔
خواتین و حضرات! مجھے وزیراعظم کی سب باتوں میں سے کشمیر پر ہونے والی گفتگو اچھی لگی کیونکہ کشمیری پاکستان سے محبت کرتے ہیں، پاکستان کا پرچم لہراتے ہیں، پاکستان زندہ باد کے نعرے لگاتے ہیں۔
پوری وادی میں کرفیو ہے مگر جب کرفیو میں نرمی ہوتی ہے تو سرینگر، اننت ناگ، کپواڑہ، بارہ مولا اور دوسرے علاقے پاکستان زندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھتے ہیں۔ سری نگر کو باغات، آبشاروں اور جھیلوں کا شہر کہا جاتا ہے۔
اس شہر کے وسط سے دریائے جہلم گزرتا ہے۔ سرینگر دراصل سنسکرت زبان کے دو لفظوں کا مجموعہ ہے اس کا مطلب ہے دولت کا شہر۔ مگر آج دولت کا یہ شہر قید میں ہے۔
بھارت نے خاص طور پر سرینگر کے پرانے شہر میں زیادہ فوج تعینات کر رکھی ہے۔ سرینگر کا پرانا شہر سات پلوں کے اندر ہے۔ کشمیری زبان میں پل کو کدل کہا جاتا ہے۔ زیرو برج کے علاوہ سرینگر کے پرانے شہر کے گرد جو سات پل ہیں امیرا کدل، حبا کدل، زین کدل، فتح کدل، عیل کدل، نوا کدل اور صفا کدل، انہوں نے سرینگر کو گھیرا ہوا ہے۔
مغل بادشاہ جہانگیر نے کہا تھا کہ اگر زمین پر کوئی جنت ہے تو یہیں ہے مگر افسوس آج یہ جنت قید میں ہے۔ پچھلے دنوں اس قید سے ایک مسلمان عورت نکلی، نسیم میر نامی اس خاتون کے پاس امریکی پاسپورٹ تھا، امریکن پاسپورٹ کی وجہ ہی سے تو یہ نکل پائی ورنہ آج بھی قید میں ہوتی۔
سرینگر سے جونہی یہ خاتون واشنگٹن پہنچی تو میری اس سے ایک سابقہ پاکستانی ایم این اے نے بات کروائی۔ قومی اسمبلی کی اس سابقہ رکن کا نام عارفہ خالد پرویز ہے۔ سرینگر سے آنے والی نسیم میر بتاتی ہیں کہ ’’وہاں صورتحال بہت خراب ہے، کاروبار بند ہیں لوگ گھروں میں قید ہیں، صبح یا شام ایک گھنٹے کیلئے کرفیو میں نرمی ہوتی ہے تو کچھ پتا چلتا ہے میں جب امریکہ آ رہی تھی تو مجھے اپنے گھر سے سرینگر ایئرپورٹ تک کم و بیش تیس ناکے کراس کرنا پڑے، ہر ناکے پر پاسپورٹ، ٹکٹ اور کرفیو پاس دکھانا پڑا، کشمیر واقعی قید میں ہے‘‘۔
نسیم میر کی باتیں درست ہیں کیونکہ بھارت نے سرینگر کے آس پاس جو فوج تعینات کی ہے اس میں تازہ دم دستے ناگا لینڈ سے آئے ہیں، ناگا لینڈ سے آنے والے فوجی ظلم و بربریت کے زیادہ ماہر سمجھے جاتے ہیں۔
شوپیاں، اننت ناگ اور کپواڑہ میں حالات پہلے ہی خراب تھے مگر 5اگست کے بعد حالات مزید خراب ہو چکے ہیں۔ سرینگر دولت کا شہر ہے مگر دولت کے شہر میں باغات کاٹے جا رہے ہیں، سیب کی فصل خراب ہو رہی ہے، تجارت نہیں ہو رہی۔ سرینگر کے خراب معاشی حالات نے جموں پر بھی اثرات مرتب کئے ہیں اور آج جموں کے تاجر بھی رو رہے ہیں۔
کشمیر کی سڑکوں پر کس قدر سنسانی ہو گی اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پہلے ہزاروں ٹینکر پٹرول لیکر سرینگر آتے تھے اب صرف دو سے تین ٹینکر آتے ہیں۔ ان حالات کی گواہی انڈین میڈیا دے رہا ہے۔ سرینگر جانے والے اخبارات میں را کا پروپیگنڈہ ہوتا ہے، کشمیری نوجوان ان اخبارات کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
کشمیریوں کا سڑکوں پر سفر کرنا خاصا دشوار ہے، انہیں دہلی آنے کیلئے ہوائی جہاز کا سفر کرنا پڑتا ہے کیونکہ اگر وہ سڑک کے ذریعے سفر کرنے کی کوشش کریں تو جموں، کٹھوعہ اور سامبا کے ہندو علاقوں میں جتھے ان پر حملہ آور ہوتے ہیں۔ سرینگر کے شیخ العالم ایئرپورٹ کا حال بھی پہلے جیسا نہیں۔ پہلے سیاحت کے موسم میں چالیس فلائٹس بھارت کے مختلف شہروں سے آتی تھیں مگر اب صرف آٹھ سے دس فلائٹس آتی ہیں۔
سرینگر کے باسیوں کو بیرونِ ملک جانے کیلئے سرینگر ایئرپورٹ سے دہلی جانا پڑتا ہے کیونکہ سرینگر سے کوئی انٹرنیشنل فلائٹ نہیں ہے۔
سری نگر کے باسی گھروں میں قید ہیں، انٹرنیٹ بند ہے، چند روز پہلے پوسٹ پیڈ فون کھولے مگر انٹرنیٹ کی سہولت نہیں دی گئی۔ بھارتی ریڈیو، ٹی وی پروپیگنڈے میں لگے رہتے ہیں، بھارت تمام تر ٹیکنالوجی کے باوجود ریڈیو پاکستان کی کشمیر سروس روکنے میں ناکام ہو چکا ہے، اسی طرح انڈین پائلٹس کو بھی پاکستانی ترانے سننا پڑتے ہیں۔
کشمیر میں سب سے زیادہ ظلم کشمیر پولیس کرتی ہے،اس پولیس کو فوج کی نگرانی میں سول کپڑے پہنا دیئے گئے ہیں، یہ پولیس کشمیری نوجوانوں کو گھروں سے ڈھونڈتی ہے اور پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت غائب کر دیتی ہے۔
یہ ایکٹ 90ء کی دہائی میں فاروق عبداللہ نے متعارف کروایا تھا، اس ایکٹ کے تحت 2سال تک وکیل اور جیل تک رسائی نہیں ہو سکتی۔ کشمیر کے کئی جوانوں کو اس ایکٹ کے تحت اٹھایا گیا۔ بیس بیس سال سے جوان غائب ہیں مگر قدرت کا انصاف یہ ہے کہ آج فاروق عبداللہ پر یہی پبلک سیفٹی ایکٹ لگا دیا گیا ہے جس سے عام کشمیری خوش ہوا ہے۔
آج کے کشمیری نوجوان کے جذبوں کو عمران خان کی تقریر نے جلا بخشی ہے، کشمیری نوجوان ’اب یا کبھی نہیں‘ پر آ گئے ہیں۔
کشمیری خواتین عمران خان کیلئے دعائیں کرتی ہیں اور کشمیری نوجوان عمران خان کو مسلمانوں کا ہیرو تصور کرتے ہیں، ان کے نزدیک کشمیر کا مقدمہ صرف عمران خان نے پیش کیا ہے۔ بقول ثوبیہ خان نیازی
آنکھوں کا کوئی خواب کبھی مرنے نہیں دیتا
امید کے جگنو کو کبھی ویراں نہیں کرتے

جواب لکھیں

%d bloggers like this: